1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

آئینہ قادیانیت

محمدابوبکرصدیق نے 'آئینہ قادیانیت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اپریل 16, 2015

لڑی کی کیفیت :
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
  1. ‏ اپریل 17, 2015 #31
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    قرارداد رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ
    رابطہ عالم اسلامی کا سالانہ اجتماع اپریل ۱۹۷۴ء میں منعقد ہوا۔ مفکر اسلام مولانا ابوالحسن علی ندویؒ، شیخ الاسلام مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ اور دوسرے اکابرین دیوبند اس اجتماع میں نہ صرف موجود تھے۔ بلکہ اس قرار داد کو پاس کرانے کے داعی تھے۔ رابطہ عالم اسلامی نے متفقہ طور پر قادیانیوں کے خلاف قرارداد منظور کی جو دور رس نتائج کی حامل ہے۔ اس سے پوری دنیا کے علمائے اسلام کا قادیانیت کے کفر پر اجماع منعقد ہوگیا۔
  2. ‏ اپریل 17, 2015 #32
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء
    اﷲ رب العزت کے فضل و احسان کے بموجب ۱۹۷۰ء میں جمعیت علمائے اسلام پاکستان کی مثالی جدوجہد سے مفکر اسلام مولانا مفتی محمودؒ ،شیر اسلام مولانا غلام غوث ہزارویؒ، شیخ الحدیث مولانا عبدالحقؒ، مولانا عبدالحکیمؒ، مولانا صدر الشہیدؒ اور دیگر حضرات قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے۔ جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم برسر اقتدار آئے۔ قادیانیوں نے ۱۹۷۰ء میں پیپلز پارٹی کی دامے درمے اور افرادی مدد کی تھی۔ قادیانیوں نے پھر پرپرزے نکالے۔ ۲۹؍مئی ۱۹۷۴ء کو چناب نگر (ربوہ) ریلوے اسٹیشن پر نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طلباء پر قاتلانہ حملہ کیا۔ اس کے نتیجہ میں تحریک چلی۔ اسلامیان پاکستان ایک پلیٹ فارم ’’مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان‘‘ پر جمع ہوئے جس کی قیادت دارالعلوم دیوبند کے مرد جلیل، محدث کبیر مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ نے فرمائی اور قومی اسمبلی میں امت مسلمہ کی نمائندگی کا شرف حق تعالیٰ نے دارالعلوم دیوبند کے عظیم سپوت مفکر اسلام مولانا مفتی محمودؒ کو بخشا۔ یوں قادیانی قانونی طور پر اپنے منطقی انجام کو پہنچے اور ان کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ کہاں قادیانی اقتدار کا خواب اور کہاں چوہڑوں، چماروں میں ان کا شمار۔ اس پوری جدوجہد میں دارالعلوم دیوبند کے فیض یافتگان کی خدمات اﷲ رب العزت کے فضل و کرم کا اظہار ہے۔ غرض دارالعلوم دیوبند کے سرپرست اول حاجی امداد اﷲ مہاجر مکیؒ کی ’’الف‘‘ سے تحفظ ختم نبوت کی جو تحریک شروع ہوئی۔ وہ شیخ الاسلام مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ کی ’’یائ‘‘ پر کامیابی سے سرفراز ہوئی۔
    قومی اسمبلی میں قادیانیوں کے متعلق جو کارروائی ہوئی وہ سب قومی ’’تاریخی دستاویز‘‘ کے نام سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے شائع کردی ہے۔ قومی اسمبلی میں دارالعلوم دیوبند کے فیض یافتگان ہمارے اکابر نے مفکر اسلام مولانا مفتی محمودؒ کی قیادت باسعادت میں قادیانیوں کو جس طرح چاروں شانے چت کیا۔ یہ دستاویز اس پر ’’شاہد عدل‘‘ ہے۔ قادیانیوں نے اسمبلی میں ایک محضر نامہ پیش کیا تھا۔ جس کا جواب مولانا مفتی محمودؒ اور مولانا محمد یوسف بنوریؒ کی نگرانی میں مولانا محمد تقی عثمانی اور مولانا سمیع الحق نے لکھا۔ حوالہ جات مولانا محمد حیاتؒ اور مولانا عبدالرحیم اشعرؒ نے فراہم کئے اور قومی اسمبلی میں اسے مفکر اسلام قائد جمعیت مولانا مفتی محمودؒ نے پڑھا۔
    جناب ذوالفقار علی بھٹو کے بعد جنرل محمد ضیاء الحق برسراقتدار آئے۔ ان کے زمانہ میں پھر قادیانیوں نے پر پرزے نکالے۔ ایک بار ووٹنگ لسٹوں کے حلف نامہ میں تبدیلی کی گئی۔ اس زمانہ میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے سیکریٹری جنرل مولانا محمد شریف جالندھریؒ بھاگم بھاگ جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سیکریٹری جنرل مفکر اسلام مولانا مفتی محمودؒ کے پاس راولپنڈی پہنچے۔ حضرت مفتی صاحبؒ ملٹری ہسپتال میں پائوں کے زخم کے علاج کے سلسلہ میں زیر علاج تھے۔ اس حالت میں حضرت مفتی صاحبؒ نے جنرل ضیاء الحق کو فون کیا۔ آپ کی للکار سے اقتدار کا نشہ ہرن ہوا اور وہ غلطی درست کردی گئی۔ وہ غلطی نہ تھی۔ بلکہ حقیقت میں قادیانیوں سے متعلق قانون کو نرم کرنے کی پہلی چال تھی۔ جسے دارالعلوم دیوبند کے ایک فرزند کی للکار حق نے ناکام بنادیا۔
    ۱۹۸۲ء میں جنرل ضیاء الحق کے زمانہ اقتدار میں پرانے قوانین کی چھانٹی کا عمل شروع ہوا (جو قانون کہ اپنا مقصد حاصل کرچکے ہوںان کو نکال دیا جائے) اس موقع پر ابہام پیدا ہوگیا کہ قادیانیوں سے متعلق ترمیم بھی منسوخ ہوگئی ہے۔ اس پر ملک کے وکلاء کی رائے لی گئی۔ اڑھائی سو وکلاء کے دستخطوں سے مجلس تحفظ ختم نبوت نے روزنامہ جنگ میں اشتہار شائع کرایا۔ مولانا قاری سعیدالرحمن مہتمم جامعہ اسلامیہ کشمیر روڈ صدر راولپنڈی، مولانا سمیع الحق صاحب مہتمم جامعہ حقانیہ، اکوڑہ خٹک جنرل صاحب کو ملے۔ ان کی کابینہ میں محترم جناب راجہ ظفرالحق وفاقی وزیر تھے۔ ان کے مشورہ سے جنرل صاحب نے ایک آرڈی نینس منظور کیا اور قادیانیوں سے متعلق ترمیم کے بارے میں جو ابہام پایا جاتا تھا۔ وہ دور ہوا اور اسلامیان پاکستان نے اطمینان کا سانس لیا۔ اس آرڈی نینس کو اس وقت بھی آئینی تحفظ حاصل ہے۔
  3. ‏ اپریل 17, 2015 #33
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    تحریک ختم نبوت ۱۹۸۴ء
    جناب بھٹو کے زمانہ میں پاس شدہ آئینی ترمیم پر قانون سازی نہ ہوسکی۔ جنرل ضیاء الحق کے زمانہ میں قادیانی خواہش تھی کہ کسی طرح یہ ترمیم منسوخ ہوجائے۔ اس کے لئے وہ اندرون خانہ سازشوں میں مصروف تھے۔ قادیانی سازشوں اور اشتعال انگیز کارروائیوں سے مسلمانوں کے رد عمل نے تحریک ختم نبوت ۱۹۸۴ء کی شکل اختیار کی۔ شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ اور مفکر اسلام مولانا مفتی محمودؒ اﷲ کو پیارے ہوچکے تھے۔ اب اس نئی آزمائش میں دارالعلوم دیوبند کے زعماء خواجہ خواجگان حضرت مولانا خان محمد صاحبؒ، قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن، مولانا مفتی احمد الرحمنؒ، مولانا محمد اجمل خانؒ، مولانا عبیداﷲ انورؒ، پیر طریقت مولانا عبدالکریم بیرشریفؒ، مولانا محمد مراد ہالیجویؒ، مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ، مولانا محمد شریف جالندھریؒ، مولانا میاں سراج احمد دینپوری، مولانا سید محمد شاہ امروٹیؒ، مولانا عبدالواحدؒ، مولانا منیر الدینؒ کوئٹہ، ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، مولانا حبیب اﷲ مختارشہیدؒ، مولانا محمد لقمان علی پوریؒ، مولانا عزیزالرحمن جالندھری، مولانا ضیاء القاسمیؒ، مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ، مولانا سید امیر حسین گیلانیؒ، ایسے ہزاروں علمائے حق نے تحریک کی قیادت کی اور اس کے نتیجہ میں قادیانیوں کے متعلق پھر قانون سازی کے اس خلاء کو پر کرنے کے لئے امتناع قادیانیت آرڈی نینس منظور ہوا۔
    یہ آرڈی نینس اس وقت قانون کا حصہ ہے۔ اس سے یہ فوائد حاصل ہوئے:
    ۱… قادیانی اپنی جماعت کے چیف گرو یا لاٹ پادری کو امیر المومنین نہیں کہہ سکتے۔
    ۲… قادیانی اپنی جماعت کے سربراہ کو خلیفۃ االمؤمنین یا خلیفۃ المسلمین نہیں کہہ سکتے۔
    ۳… مرزا غلام احمد قادیانی کے کسی مرید کو معاذاﷲ ’’صحابی‘‘ نہیں کہہ سکتے۔
    ۴… مرزا قادیانی کے کسی مرید کے لئے ’’رضی اﷲ عنہ‘‘ نہیں لکھ سکتے۔
    ۵… مرزا غلام احمد قادیانی کی بیوی کے لئے ’’ام المؤمنین‘‘ کا لفظ استعمال نہیں کرسکتے۔
    ۶… قادیانی اپنی عبادت گاہ کو مسجد نہیں کہہ سکتے۔
    ۷… قادیانی اذان نہیں دے سکتے۔
    ۸… قادیانی اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہہ سکتے۔
    ۹… قادیانی اپنے مذہب کو اسلام نہیں کہہ سکتے۔
    ۱۰… قادیانی اپنے مذہب کی تبلیغ نہیں کرسکتے۔
    ۱۱… قادیانی اپنے مذہب کی دعوت نہیں دے سکتے۔
    ۱۲… قادیانی مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح نہیں کرسکتے۔
    ۱۳… قادیانی کسی بھی طرح اپنے آپ کو مسلمان شمار نہیں کرسکتے۔
    ۱۴ … غرض کہ کوئی بھی شعائر اسلام استعمال نہیں کرسکتے۔
    بحمدہٖ تعالیٰ اس قانون کے منظور ہونے سے قادیانی جماعت کا سالانہ جلسہ جسے وہ ظلّی حج قرار دیتے تھے۔ پاکستان میں اس پر پابندی لگی۔ قادیانی جماعت کے چیف گرو، لاٹ پادری مرزا طاہر کو ملک چھوڑ کر لندن جانا پڑا۔ اس تمام تر کامیابی و کامرانی کے لئے ’’ابنائے دارالعلوم دیوبند‘‘ نے جو خدمات سرانجام دیں ان کو کوئی منصف مزاج نظر انداز نہیں کرسکتا۔ اس قانون کے نافذ ہوتے ہی قادیانیوں کے لئے ’’نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن‘‘ والا قصہ ہوگیا۔
  4. ‏ اپریل 17, 2015 #34
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    مقدمات
    ۱… قادیانیوں نے وفاقی شرعی عدالت میں اس قانون کو چیلنج کردیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ کے حکم پر کیس کی تیاری اور پیروی کے لئے شہید مظلوم حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ، حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ، حضرت مولانا عبدالرحیم اشعرؒ پر مشتمل جماعت نے لاہور ڈیرے لگادیئے۔ ملتان عالمی مجلس کے مرکزی کتب خانہ سے بیسیوں بکس کتب کے بھر کے لاہور لائے گئے۔ فوٹو اسٹیٹ مشین کا اہتمام کیا گیا۔ جامعہ اشرفیہ لاہور کی لائبریری اس کیس کی پیروی کے لئے جامعہ کے حضرات نے وقف کردی۔ ۱۵؍ جولائی سے ۱۲؍ اگست ۱۹۸۴ء تک اس کی سماعت جاری رہی۔ حضرت امیر مرکزیہؒ اور خانقاہ رائے پور کی روایات کے امین حضرت اقدس سید نفیس الحسینیؒ اور مفکر اسلام علامہ ڈاکٹر خالد محمود بھی تشریف لاتے رہے۔ لاہور کی تمام جماعتوں نے بھرپور حصہ لیا اور بالکل بہاولپور کے مقدمہ کی یاد تازہ ہوگئی۔ اﷲ رب العزت نے اپنے فضل و کرم سے نہایت ہی کرم کا معاملہ فرمایا۔ ۱۲؍ اگست ۱۹۸۴ء کو جب فیصلہ آیا تو قادیانیوں کی رٹ خارج کردی گئی۔ کفر ہار گیا۔ اسلام جیت گیا۔ تفصیلی فیصلہ جسٹس فخر عالم نے تحریر کیا۔

    ۲… قادیانیوں نے اس فیصلہ کے خلاف وفاقی شرعی عدالت کی اپیل بینچ سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی۔ اﷲ رب العزت نے فضل فرمایا۔ ۱۲؍ جنوری ۱۹۸۸ء سپریم کورٹ اپیل بینچ نے اس اپیل کو بھی مسترد کردیا۔ اسی طرح قادیانیوں نے لاہور، کوئٹہ، کراچی ہائی کورٹس میں کیس دائر کئے۔ تمام جگہ ان کو ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑا۔ قادیانی ان تمام مقدمات کی اپیل سپریم کورٹ آف پاکستان میں لے کر گئے۔ حق تعالیٰ شانہ نے یہاں بھی فیض یافتگان دارالعلوم دیوبند کو توفیق بخشی۔ اس کی پیروی کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بزرگ رہنما حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ، مولانا عزیزالرحمن جالندھری، مولانا علامہ احمد میاں حمادی، شہید اسلام مولانا محمد عبداﷲؒ، قاری محمد امینؒ، مولانا محمد رمضان علویؒ، شیخ القرآن مولانا غلام اﷲ خانؒ کے جانشین مولانا قاضی احسان احمدؒ، مولانا عبدالرؤفؒ اور اسلام آباد ، راولپنڈی کے تمام ائمہ و خطباء نے ایمانی جرأت و دینی حمیت کا مظاہرہ کیا۔ یوں ۳؍ جنوری ۱۹۹۳ء کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے پانچ جج صاحبان پر مشتمل بینچ نے قادیانیوں کے خلاف فیصلہ دیا۔
    بحمدہٖ تعالیٰ ان تمام فیصلہ جات پر مشتمل کتاب ’’قادیانیت کے خلاف اعلیٰ عدالتوں کے فیصلے‘‘ شائع شدہ ہے۔ جس میں دیگر تفصیلات ملاحظہ کی جاسکتی ہیں۔

    ۳… اسی طرح قادیانیوں نے جوہانسبرگ افریقہ میں ایک مقدمہ دائر کیا۔ حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی، حضرت مولانا مفتی زین العابدینؒ، حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ، حضرت مولانا عبدالرحیم اشعرؒ، ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ، علامہ ڈاکٹر خالد محمود، مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ، مولانا منظور احمد الحسینیؒ نے اس کی پیروی کے لئے وہاں کے سفر کئے۔ یہ فیصلہ بھی قادیانیوں کے خلاف ہوا۔
  5. ‏ اپریل 17, 2015 #35
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    بیرون ممالک
    امتناع قادیانیت قانون کے نافذ ہوتے ہی قادیانی جماعت کے بھگوڑے چیف گرو مرزا طاہر نے لندن کو اپنا مستقر بنایا۔ ابنائے دارالعلوم دیوبند وہاں بھی پہنچے۔ سالانہ عالمی ختم نبوت کانفرنس برطانیہ ۱۹۸۵ء سے ہر سال تسلسل کے ساتھ منعقد ہوتی رہی ہے۔ پاکستان ، ہندوستان، عرب، افریقہ و یورپ سے علمائے کرام اور ابنائے و فضلائے دارالعلوم دیوبند تشریف لاکر اس کانفرنس سے خطاب کرتے ہیں۔ اسی طرح برطانیہ میں مستقل طور پر قادیانیت کے احتساب کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اپنا مستقل دفتر قائم کردیا ہے۔ جہاں سے ختم نبوت کے تحفظ کا فریضہ سرانجام دیا جارہا ہے۔ امریکہ، افریقہ، یورپ کے کئی ممالک ایسے ہیں۔ جہاں مستقل بنیادوں پر قادیانیت کے خلاف کام ہورہا ہے اور وہ تمام ترکام بحمدہٖ تعالیٰ ابناء دارالعلوم دیوبند سرانجام دے رہے ہیں۔ ہندوستان میں دارالعلوم دیوبند کے زیر اہتمام عظیم الشان ختم نبوت کانفرنسوں کے علاوہ تربیتی کورسز کا سلسلہ شروع ہے۔ کتب، لٹریچر کی اشاعت و تقسیم ہورہی ہے اور اس کام کے لئے دارالعلوم دیوبند میں ہی ’’کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت‘‘ قائم کردی گئی ہے۔
  6. ‏ اپریل 17, 2015 #36
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    علمائے دیوبند کی خدمات کے آثار و نتائج
    اکابر دیوبند کی مساعی اور ’’مجلس تحفظ ختم نبوت‘‘ کے مقاصد و خدمات کا مختصر ساخاکہ آپ کے سامنے آچکا ہے۔ اب ایک نظر ان آثار و نتائج پر بھی ڈال لینا چاہئے جو جماعت کی جہد مسلسل اور امت اسلامیہ کے اتفاق و تعاون کے نتیجہ میں وقوع پذیر ہوئے:

    اوّل…
    پاکستان کی قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا۔ علاوہ ازیں قریباً تیس اسلامی ممالک قادیانیوں کو کافر‘ مرتد‘ دائرہ اسلام سے خارج اور خلاف قانون قرار دے چکے ہیں۔
    دوم…
    ختم نبوت کی تحریک پاکستان میں کامیاب ہوئی تو پوری دنیا پر قادیانیوں کا کفر و نفاق واضح ہوگیا۔ اور دنیا کے بعید ترین ممالک کے مسلمان بھی قادیانیوں کے بدترین کفر سے واقف ہوگئے۔
    سوم…
    بہاولپور سے ماریشس جوہانسبرگ تک کی بہت سی عدالتوں نے قادیانیوں کے غیر مسلم اقلیت ہونے کے فیصلے دیئے۔
    چہارم…
    مجلس تحفظ ختم نبوت کی تحریک نے نہ صرف پاکستان کو بلکہ دیگر اسلامی ممالک کوقادیانیوں کے غلبہ اور تسلط سے محفوظ کردیا اور تمام دنیا کے مسلمان قادیانیوں کو ایک سازشی اور مرتد ٹولہ سمجھ کر ان سے محتاط اور چوکنا رہنے لگے۔
    پنجم…
    بے شمار لوگ جو قادیانیوں کے دام ہمرنگ زمین کا شکار ہوکر مرتد ہوگئے تھے۔ جب ان پر قادیانیت کا کفر کھل گیا تو وہ قادیانیت کو چھوڑ کر دوبارہ دامن اسلام سے وابستہ ہوگئے۔
    ششم…
    ایک وقت تھا کہ مسلمانوں کا ملازم پیشہ نوجوان طبقہ قادیانیوں سے بے حد مرعوب تھا۔ چونکہ قادیانی پاکستان میں اعلیٰ مناصب پر قابض تھے۔ اس لئے وہ ایک طرف اپنے ماتحت عملے میں قادیانیت کی تبلیغ کرتے اور دوسری طرف اچھے مناصب کے لئے صرف قادیانیوں کا انتخاب کرتے۔ اس سے مسلمانوں کے نوجوان طبقہ کی صریح حق تلفی ہوتی تھی اور بہت سے نوجوان اچھی ملازمت کے لالچ میں قادیانی مذہب کے ہمنوا ہوجاتے تھے۔ اب بھی اگرچہ کلیدی آسامیوں پر بہت سے قادیانی فائز ہیں اور ملازمتوں میں ان کا حصہ مسلمانوں کی نسبت اب بھی زیادہ ہے۔ مگر اب قادیانیوں کے سامنے مسلمان نوجوانوں کا احساس کمتری ختم ہورہا ہے اور نوجوانوں کی طرف سے مطالبے ہورہے ہیں کہ قادیانیوں کو ان کی حصہ رسدی سے زیادہ کسی اور ادارے میں نشستیں نہ دی جائیں۔
    ہفتم…
    قیام پاکستان سے ۱۹۷۴ء تک ’’ربوہ‘‘ مسلمانوں کے لئے ایک ممنوعہ قصبہ تھا۔ وہاں مسلمانوں کے داخلہ کی اجازت نہیں تھی‘ حتی کہ ریلوے اور ڈاک خانہ کے سرکاری ملازموں کے لئے قادیانی ہونے کی شرط تھی۔ لیکن اب ’’ربوہ‘‘ کی سنگینی ٹوٹ چکی ہے۔ وہاں اکثر سرکاری ملازم مسلمان ہیں۔ ۱۹۷۵ء سے مسلمانوں کی نماز باجماعت بھی ہوتی ہے اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے مدارس و مساجد دفتر و لائبریری قائم ہیں۔
    ہشتم…
    قادیانی اپنے مردوں کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے پر اصرار کیا کرتے تھے‘ لیکن اب مسلمانوں کے قبرستان میں ان کا دفن کیا جانا ممنوع ہے۔
    نہم…
    پاسپورٹ‘ شناختی کارڈ اور فوجی ملازمتوں کے فارموں میں قادیانیوں کو اپنے مذہب کی تصریح کرنا پڑتی ہے۔
    دھم…
    پاکستان میں ختم نبوت کے خلاف کہنا یا لکھنا تعزیری جرم قرار دیا جاچکا ہے۔
    یازدھم…
    سعودی عرب‘ لیبیا اور دیگر اسلامی ممالک میں قادیانیوں کا داخلہ ممنوع ہے اور انہیں ’’عالم کفر کے جاسوس‘‘ قرار دیا جاچکا ہے۔
    دوازدھم…
    مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کے خلاف لب کشائی کی پاکستان میں اجازت نہیں تھی‘ مگر اب صورت حال یہ ہے کہ قادیانی اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہہ سکتے۔
    سیزدھم…
    قادیانی جو بیرونی ممالک میں یہ پروپیگنڈہ کیا کرتے تھے کہ: پاکستان میں قادیانیوں کی حکومت ہے اور دارالخلافہ ’’ربوہ‘‘ ہے۔ وہ اس جھوٹ پر نہ صرف پوری دنیا میں ذلیل ہوچکے ہیں‘ بلکہ خدا کی زمین اپنی فراخی کے باوجود ان پر تنگ ہورہی ہے۔ حتی کہ قادیانی سربراہ کو لندن میں بھی چین نصیب نہیں۔ ربوہ کانام مٹ کر اب ’’چناب نگر‘‘ ہے۔ آج قادیانی شہر کا نام مٹا ہے تو وہ وقت آیا چاہتا ہے جب قادیانیت کا نشان بھی مٹے گا۔ انشاء اﷲ العزیز!

    خصوصی نوٹ:
    موضوع کی مناسبت اور سوال کی نوعیت کے پیش نظر صرف علمائے دیوبند کی خدمات دربارہ تحفظ ختم نبوت کا تذکرہ کیا ہے ورنہ تمام علمائے کرام چاہے وہ بریلوی ہوں یا اہلحدیث‘ سب اس محاذ پر ایک دوسرے کے شانہ بشانہ رہے۔ سب نے اس محاذ پر گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی شائع کردہ کتاب ’’تحریک ختم نبوت۱۹۵۳ئ‘‘ ’’تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ئ‘‘ (تین جلدیں) ان میں تمام مکاتب فکر کے اکابر کی سنہری خدمات کا تفصیلی تذکرہ کیا گیا ہے۔
  7. ‏ اپریل 22, 2015 #37
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات مبارکہ کے بارے میں اسلام، یہودیت، مسیحیت اور مرزائیت کا نقطہ نظر

    سوال11 … سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات مبارکہ کے بارے میں اسلام، یہودیت، مسیحیت اور مرزائیت کا نقطہ نظر واضح کریں؟
    جواب …

    اسلام کا نقطہ نظر، دربارہ حیات عیسیٰ علیہ السلام
    عقیدئہ ختم نبوت کی طرح حیات عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے رفع و نزول کا عقیدہ بھی اسلام کے بنیادی عقائد اور ضروریات دین میں شامل ہے۔ جو قرآن کریم کی نصوص قطعیہ، احادیث متواترہ اور اجماع امت سے ثابت ہے اور جس کو علمائے امت نے کتب تفسیر، شروح احادیث اور کتب علم کلام میں مکمل توضیحات و تشریحات کے ساتھ منقح فرمادیا ہے۔
    حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اسلامی عقیدہ
    حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق اسلامی عقیدہ یہ ہے کہ وہ حضرت مریم کے بطن مبارک سے محض نفخہ جبرائیل سے پیدا ہوئے۔ پھر بنی اسرائیل کے آخری نبی بن کر مبعوث ہوئے۔ یہود نے ان سے بغض و عداوت کا معاملہ کیا۔ آخر کار جب ایک موقع پر ان کے قتل کی مذموم کوشش کی۔ تو بحکم خداوندی، فرشتے ان کو اٹھاکر زندہ سلامت آسمان پر لے گئے اور اﷲتعالیٰ نے ان کو طویل عمر عطا فرمادی اور قرب قیامت میں جب دجال کا ظہور ہوگا اور وہ دنیا میں فتنہ وفساد پھیلائے گا۔ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ قیامت کی ایک بڑی علامت کے طور پر نازل ہوںگے اور دجال کو قتل کریں گے۔ دنیا میں آپ کا نزول ایک امام عادل کی حیثیت سے ہوگا اور اس امت میں آپ جناب رسول اﷲﷺ کے خلیفہ ہوں گے، اور قرآن و حدیث (اسلامی شریعت) پر خود بھی عمل کریں گے اور لوگوں کو بھی اس پر چلائیں گے۔ ان کے زمانہ میں (جو اس امت کا آخری دور ہوگا) اسلام کے سوا دنیا کے تمام مذاہب مٹ جائیں گے اور دنیا میں کوئی کافر نہیں رہے گا۔ اس لئے جہاد کا حکم موقوف ہوجائے گا۔ نہ خراج وصول کیا جائے گا اور نہ جزیہ، مال وزر اتنا عام ہوگا کہ کوئی دوسرے سے قبول نہیں کرے گا۔ نزول کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام نکاح بھی فرمائیں گے اور ان کی اولاد بھی ہوگی۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ہوجائے گی اور مسلمان آپ کی نماز جنازہ پڑھ کر حضور اقد سﷺ کے روضہ اقدس میں دفن کردیں گے۔ یہ تمام امور احادیث صحیحہ متواترہ میں پوری وضاحت کے ساتھ بیان کئے گئے ہیں۔ جن کی تعداد ایک سو سے متجاوز ہے ۔
    (تفصیل کے لئے دیکھئے التصریح بما تواتر فی نزول المسیح)

    اسلامی عقیدہ کے اہم اجزاء یہ ہیں

    1. حضرت عیسیٰ علیہ السلام اﷲتعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور وہی مسیح ہدایت ہیں۔ جن کی بشارت کتب سابقہ میں دی گئی ہے۔ وہ سچے نبی کی حیثیت سے ایک مرتبہ دنیا میں مبعوث ہوچکے ہیں۔
    2. یہود بے بہبود کے ناپاک اور گندے ہاتھوں سے ہر طرح محفوظ رہے۔
    3. زندہ بجسد عنصری آسمان پر اٹھالئے گئے۔
    4. وہاں بقید حیات موجود ہیں۔
    5. قیامت سے پہلے اس کی ایک بڑی علامت کے طور پر بعینہٖ وہی مسیح ہدایت (حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام) نزول فرماکر مسیح ضلالت (دجال) کو قتل کریں گے۔ ان سے الگ کوئی اور شخص ان کی جگہ مسیح کے نام سے دنیا میں نہیں آئے گا۔
    سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق یہودیوں کا نقطہ نظر

    یہودیوں کا عقیدہ یہ ہے کہ مسیح ہدایت ابھی نہیں آیا اور عیسیٰ بن مریم علیہما السلام نامی جس شخص نے اپنے آپ کو مسیح اور رسول اﷲ کہا ہے۔ (نعوذباﷲ) وہ جادو گر اور جھوٹا دعویٰ نبوت کرنے والا تھا۔ اسی لئے یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بغض و عداوت کا معاملہ کیا اور ان کو قتل کرنے اور سولی پر چڑھانے کا منصوبہ بنایا۔ بلکہ ان کے بقول یہ منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچادیا۔ جیسا کہ ارشاد ہے: ’’وقولھم انا قتلنا المسیح عیسیٰ بن مریم رسول اﷲ (نسائ:۱۵۷)‘‘
    ’’اور ان کے اس کہنے پر کہ ہم نے قتل کیا مسیح عیسیٰ مریم کے بیٹے کو جو رسول تھا اﷲ کا۔‘‘

    (ترجمہ شیخ الہندؒ)
    دعویٰ قتل عیسیٰ بن مریم میں تو تمام یہود متفق ہیں۔ البتہ ان میں ایک فرقہ یہ کہتا ہے کہ قتل کئے جانے کے بعد اہانت اور تشہیر کے لئے عیسیٰ علیہ السلام کو سولی پر لٹکایا گیا، اور دوسرا فریق کہتا ہے کہ سولی پر چار میخ کئے جانے کے بعد عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کیا گیا۔
    (محاضرہ علمیہ نمبر ۴ ص ۴ از حضرت قاری محمد عثمان صاحب)

    سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق مسیحی نقطئہ نظر

    اور نصاریٰ کا متفقہ عقیدہ ہے کہ مسیح ہدایت آچکے ہیں اور وہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام ہیں۔ اس کے بعد ان میں دو فرقے بن گئے:

    1. ایک بڑا فرقہ یہ کہتا ہے کہ ان کو یہود نے قتل کیا۔ سولی پر چڑھایا۔ پھر اﷲتعالیٰ نے زندہ کرکے ان کو آسمان پر اٹھالیا اور سولی پر چڑھایا جانا۔ عیسائیوں کے گناہوں کا کفارہ ہوگیا۔ اسی لئے عیسائی صلیب کی پوجا کرتے ہیں۔
    2. دوسرا فرقہ یہ کہتا ہے کہ بغیر قتل و صلب کے اﷲتعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھالیا۔
    پھر یہ دونوں فرقے بالاتفاق اس بات کے قائل ہیں کہ مسیح ہدایت عین قیامت کے دن جسم ناسوتی یا جسم لاہوتی میں خدا بن کر آئیں گے اور مخلوق کا حساب لیں گے۔
    حاصل یہ کہ تمام یہود اور نصاریٰ کی بڑی اکثریت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت الصلیب کی قائل ہے اور یہود وتمام نصاریٰ کو ایک مسیح ہدایت کا انتظار ہے۔ یہود کو تو اس وجہ سے کہ ابھی یہ پیشین گوئی پوری نہیں ہوئی اور نصاریٰ کو اس لئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے دن برائے فیصلہ خلائق خدا کی شکل میں آنے والے ہیں۔

    (محاضرہ علمیہ نمبر ۴ ص ۴)

    حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق قادیانی عقائد

    مرزا قادیانی نے کتب ’’ازالہ اوہام، تحفہ گولڑویہ، نزول مسیح اور حقیقت الوحی‘‘ وغیرہ میں جو کچھ لکھا ہے۔ اس کا خلاصہ مرزا بشیر احمد ایم اے قادیانی نے اپنی کتاب ’’حقیقی اسلام‘‘ میں تحریر کیا ہے۔ چنانچہ وہ لکھتا ہے کہ: ’’اس بحث کے دوران میں (مرزا قادیانی) نے مندرجہ ذیل اہم مسائل پر نہایت زبردست روشنی ڈالی۔
    یہ کہ حضرت مسیح ناصری دوسرے انسانوں کی طرح ایک انسان تھے۔ جو دشمنوں کی شرارت سے صلیب پر ضرور چڑھائے گئے۔ مگر اﷲتعالیٰ نے ان کو اس لعنتی موت سے بچالیا اس کے بعد وہ خفیہ خفیہ اپنے ملک سے ہجرت کرگئے۔

    1. اپنے ملک سے نکل کر حضرت مسیح آہستہ آہستہ سفر کرتے ہوئے کشمیر میں پہنچے اور وہیں ان کی وفات ہوئی۔ (۸۷ برس کے بعد) اور وہیں ان کی قبر (سری نگر کے محلہ خانیار میں، ناقل) موجود ہے۔
    2. کوئی فرد بشر اس جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر نہیں جاسکتا۔ اس لئے مسیح کے زندہ آسمان پر چلے جانے کا خیال بھی باطل ہے۔
    3. بے شک مسیح کی آمد ثانی کا وعدہ تھا۔ مگر اس سے مراد ایک مثیل مسیح کا آنا تھا نہ کہ خود مسیح کا۔
    4. یہ کہ مثیل مسیح کی بعثت کا وعدہ خود آپ (مرزا قادیانی) کے وجود میںپورا کیا گیا اور آپ ہی وہ مسیح موعود ہیں۔ جس کے ہاتھ پر دنیا میں حق صداقت کی آخری فتح مقدر ہے۔ خود مرزا غلام احمد قادیانی نے قسم کھاکر لکھا ہے: ’’میں وہی مسیح موعود ہوں۔ جس کی رسول اﷲﷺ نے ان احادیث صحیحہ میں خبردی ہے۔ جو صحیح بخاری اور مسلم اور دوسری صحاح میں درج ہیں۔ وکفیٰ باﷲ شھیدا ‘‘(حقیقی اسلام ص:۲۹،۳۰)
لڑی کی کیفیت :
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

اس صفحے کی تشہیر