1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

(آزادی مذہب؟)

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ نومبر 2, 2014

  1. ‏ نومبر 2, 2014 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (آزادی مذہب؟)
    37Mr. Yahya Bakhtiar: It is this. Then, Sir, you say, I quote: "Religious freeedom therefore means that everyone is free to specify his religion and no power, no Government can interfere with the exercise of that right".
    (جناب یحییٰ بختیار: آپ کہتے ہیں نہ، میں بعینہ آپ کے الفاظ دہراتا ہوں کہ: ’’مذہبی آزادی کے معنی ہیں کہ ہر ایک شخص اپنے مذہب کی صراحت کرنے میں آزاد ہے اور کوئی طاقت کوئی حکومت اس حق کے استعمال میں دخل نہیں دے سکتی۔‘‘)
    مرزاناصر احمد: جی!
    Mr. Yahya Bakhtiar: This is on page:14. Then, Sir, you further go and say "I proclaim that I am a muslim ....."
    (جناب یحییٰ بختیار: پھر صفحہ نمبر۱۴ پر آپ نے کہا کہ میں مسلمان ہوں)
    مرزاناصر احمد: جی!
    Mr. Yahya Bakhtiar: ".... who can have the right to say that I am not a Muslim? This would be utterly foolish". This is on page:14. Have I quoted you correctly, Sir?
    (جناب یحییٰ بختیار: آپ نے کہا کہ میں مسلمان ہوں۔ یہ جہالت کی بات ہوگی کہ کوئی مجھے غیرمسلم کہے۔ یہ صفحہ نمبر۱۴ پر ہے۔ کیا میں نے آپ کے الفاظ صحیح دہرائے؟)
    مرزاناصر احمد: ہاں! اسی مفہوم کی میں نے بات کی ہے۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: Because I have written it down from here. Then, Sir, having asserted your right of freedom of religion in terms mentioned just now. You have raised a preliminary objection with regard to the competence of the National Assembly or Parliament to declare as to who is a Muslim and who is not a Muslim. You raised this object in your Mahzar Namah.
    (جناب یحییٰ بختیار: کیونکہ اسے میں نے یہاں سے نقل کیا ہے۔ پھر آپ نے ابھی اپنے انداز میں مذہبی آزادی پر زور دیتے ہوئے ایک بنیادی اعتراض اٹھایا کہ قومی اسمبلی یا پارلیمنٹ مجاز نہیں کہ وہ یہ فیصلہ کرے کہ کون مسلمان ہے کون نہیں۔ یہ آپ نے محضرنامہ میں سوال اٹھایا)
    مرزاناصر احمد: ہاں! محضر نامہ۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: Now, Sir, what is the Law, the rule the provision of Constitution, on the basis of which you objected to the jurisdiction of the National Assembly of Parliament ....
    (جناب یحییٰ بختیار: آپ نے کس قانون کے تحت، کس دفعہ کے تحت پارلیمنٹ قومی اسمبلی کے دائرہ کار پر اعتراض کیا ہے)
    38مرزاناصر احمد: ہاں ہاں! نہیں ٹھیک ہے۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: .... You rely on?
    Mirza Nasir Ahmad: I rely on clauses:8 and 20.
    (مرزاناصر احمد: دفعہ۸ اور ۲۰ پر بھروسہ کرتا ہوں)
    ہماری جو Consititution ہے اس کی غالباً دفعہ۸ ہے جو یہ کہتی ہے کہ اس ہاؤس کو یہ اختیار نہیں ہوگا کہ جو اس نے حقوق دئیے ہیں ان میں کوئی کم کرے یا اس کو منسوخ کرے۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: Article 8 and Article 20.
    مرزاناصر احمد: غالباً ۸ ہے، نکالیں۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: And you have also referred to the Declaration of Human Rights of the United Nations?
    (جناب یحییٰ بختیار: آپ نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی دستاویز کا حوالہ دیا ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: Universal Declaration of Human Rights .... that dates from 1948 .... اور جتنی اقوام اس کی ممبر نہیں they became party to that Universal Declaration of Human Rights.
    Mr. Yahya Bakhtiar: Now, Sir, I will not go into greater detail. مرزاناصر احمد: ہاں! نہیں۱؎۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: I will ask a very simple question. Is the Parliament competent to amend Article:8 and Article:20?
    (جناب یحییٰ بختیار: میں ایک بہت ہی سادہ سوال کرتا ہوں۔ کیا پارلیمنٹ دفعہ۸ اور دفعہ۲۰ میں تبدیلی کی مجاز ہے؟)
    مرزاناصر احمد: Constitution (آئین) کیا کہتا ہے؟
    Mr. Yahya Bakhtiar: Yes, by two-thirds majority they can amend; through a particular procedure they can amend. I am not saying .... I am coming to that .... but I am just suggesting a simple proposition.
    (جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں! دو تہائی اکثریت کے ذریعہ ایک خاص طریقہ کار سے وہ اس کو تبدیل کر سکتے ہیں۔ میں اس پر ایک سادہ سا سوال سامنے رکھتا ہوں)
    39مرزاناصر احمد: یہ جو ہے ناں …
    Mr. Yahya Bakhtiar: They should not do it, that is different, but I am just saying, is the Parliament not competent to repeal Article:8 altogether and Article:20 altogethter?
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ۱؎ ہاں، نہیں۔ کیا مطلب؟ حواس باختگی؟
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    (جناب یحییٰ بختیار: میں جانتا ہوں کہ ان کو اب نہیں کرنا چاہئے۔ ہرگز نہیں کرنا چاہئے۔ یہ دوسری بات ہے۔ مگر قانونی طور پر وہ دفعہ:۸ اور دفعہ:۲۰ کو منسوخ کرنے کے مجاز ہیں)
    مرزاناصر احمد: میں اس کا جواب دینا چاہتا ہوں اگر اجازت دیں تو۔ یہ پارلیمنٹ ہماری جو ہے، یہ نیشنل اسمبلی، یہ سپریم لیجسلیٹو باڈی ہے اور اس کے اوپر کوئی پابندی نہیں سوائے ان پابندیوں کے جو یہ خود اپنے پر عائد کرے۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: That is what I wanted to know.
    مرزاناصر احمد: ہاں! ہاں!!
    Mr. Yahya Bakhtiar: They could do it.
    مرزاناصر احمد: نہیں! اور انہوں نے اپنے اوپر یہ پابندی عائد کی ہے۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: I appreciate that they should not do it, they ought not to do it; that is different. But they are legally competent to do it, to repeal Article:20 and to repeal Article:8. or any other provision?
    مرزاناصر احمد: ہاں! ہاں!! ٹھیک ہے۔ وہ تو میں نے بھی یہی کہا ہے ناں کہ اس کی سپریم لیجسلیٹو باڈی کی حیثیت ہے۔ ان کے اور کوئی اور ایجنسی نہیں ہے جو پابندی لگا سکے۔ لیکن کچھ پابندیاں اس سپریم لیجسلیٹو باڈی نے خود اپنے پے لگائی ہیں۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: With that I agree.
    (جناب یحییٰ بختیار: میں اس سے اتفاق کرتا ہوں)
    مرزاناصر احمد: ہاں! ان کی طرف میں اشارہ کر رہا ہوں۔
    40Mr. Yahya Bakhtiar: Those are of political nature, religious nature, but not of consitutional nature.
    (جناب یحییٰ بختیار: سیاسی طرز کے ہونے میں اور مذہبی طرز کے نہ کہ آئینی طرز کے)
    مرزاناصر احمد: ہاں! ہاں!! نہیں، میرا اسی طرف اشارہ ہے۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, now I come back to your address. I am not going to quote a lot from it because this is very important from my point of view to clarify the position. In your address, the same address, Sir, on page:12, you say:

    "The Constitution of Pakistan in which our Prime Minister takes great pride and which according to his declaration, establishes for Pakistan a high position in the eyes of the world and augments its respect and honour provided in Article:20 as follows:
    "(a) Every citizen shall have the right to profess, practise and propagate his religion, and
    (b) Every religious denomination and every sect thereof shall have the right to establish, maintain and manage its religious institutions."
    (Page:12)
    After that you referred to the pages of the Constitution from where you have quoted. Now, here I may respectfully ask you, Sir, have you reproduced the whole of the Article or have you forgotten part of this Article?
    (جناب یحییٰ بختیار: اب میں دوبارہ آپ کے خطبے کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ میں قانون کے الفاظ نہیں نقل کرتا۔ لیکن میری نظر میں صورتحال کا واضح کرنا بہت ضروری ہے۔ اپنے خطبہ میں وہی خطبہ صفحہ۱۲ پر آپ کہتے ہیں کہ بروئے دستور پاکستان جس پر ہمارے وزیراعظم صاحب بہت فخر کرتے ہیں اور بقول ان کے اس کی وجہ سے پاکستان کو دنیا کی نظر میں اعلیٰ پوزیشن حاصل ہے اور اس کی عزت ووقار زیادہ ہوا ہے۔ اس کی دفعہ۲۰ درج ذیلمیں موجود ہے: ’’ہر شہری کو حق حاصل ہوگا کہ وہ اپنے مذہب پر اعتقاد رکھے۔ اس پر عمل کرے اور تبلیغ کرے اور ہر مذہبی فرقہ یا مسلک کو حق حاصل ہوگا کہ وہ اپنے مذہبی ادارے قائم کرے یا برقرار رکھے یا ان کو چلائے۔ صفحہ نمبر۱۲‘‘ اس کے بعد آپ نے دستور کے صفحات سے چند قول نقل کئے ہیں۔ میں یہاں پر مؤدبانہ طریقہ سے آپ سے پوچھتا ہوں جناب کہ کیا آپ نے پوری اس دفعہ کو دوبارہ بیان کیا ہے یا اس دفعہ کا کچھ حصہ آپ بھول گئے؟۱؎)
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ۱؎ گویا مرزاناصر حوالہ دینے میں اپنے فن خیانت وکتربیونت کا مظاہرہ کرتا ہے۔
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    مرزاناصر احمد: میں نے اس کا وہ ابتدائی حصہ چھوڑ دیا ہے جو ہر ذہن میں Understood (مستحضر) ہے۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: I am grateful. That part ....
    (جناب یحییٰ بختیار: شکریہ! وہ حصہ…)
    Mirza Nasir Ahmad: "Subject to Law and morality."
    (مرزاناصر احمد: قانون اور اصول اخلاق کی شرط پر)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Yes. That means that freedom of religion is subject to law, public order and morality. That part is conceded then?
    (جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں! مطلب یہ ہے کہ مذہب کی آزادی مشروط ہے۔ قانون اخلاقیات اور امن عامہ پر۔ یہ بات تسلیم ہے نا؟)
    41Mirza Nasir Ahmad: Of course, it is there.
    (مرزاناصر احمد: یہ تو ظاہر ہے کہ ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Therefore, you take it for granted. That is why you did not mention it. But then, Sir, you proceed further and you say in your address immediately after what I have quoted just now:
    "In other words this constitution which is a source of pride for us, guarantees to every citizen of Pakistan his religion, that is to say the religion which he and not. Mr. Bhutto or Mufti Mahmood or Mr. Moudoodi .... chooses for himself. Whatever religion a citizen chooses, that is his
    religion, and he can announce it, this constitution gives him the right to announce whether he is Muslim or not, and if he announces that he is a Muslim then this Constitution, of which the People's Party is proud and of which we are also proud because of this Article, gurantees to every citizen to announce that being a Muslim, he is a Wahabi or Ahl-e-Hadis, or Ahl-e-Quran or Bralvi or Ahmadi. This is the meaning of religious freedom".
    I unquote, Sir.
    (جناب یحییٰ بختیار: کیونکہ آپ اس کو تسلیم شدہ سمجھتے ہیں۔ اس لئے آپ نے اس کا ذکر نہیں کیا۔ پھر اس کے بعد جناب آگے بڑھے اور ساتھ ہی اپنے خطاب میں جو الفاظ فرمائے وہ دہراتا ہوں: ’’یہ دستور بہ الفاظ دیگر ہمارے لئے باعث فخر ہے کہ وہ پاکستان کے ہر شہری کے لئے اس کے مذہب کی ضمانت دیتا ہے۔ یعنی ہر شہری جو مذہب چاہے اپنے لئے خود منتخب کرے نہ کہ مسٹر بھٹو یا مفتی محمود یا مسٹر مودودی۔ شہری جو مذہب بھی چاہے اپنے لئے پسند کر ے۔ وہی اس کا مذہب ہے اور وہ اپنے مذہب کا اعلان کر سکتا ہے۔ یہ دستور ہر شہری کو حق دیتا ہے کہ وہ اعلان کرے کہ مسلمان ہے یا نہیں اور اگر وہ اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کرے تو پھر یہ دستور جس پر پیپلزپارٹی کو فخر ہے اور جس دستوری دفعہ پر مجھے بھی فخر ہے۔ جس میں ہر شہری کو ضمانت دی گئی ہے کہ وہ اعلان کر سکتا ہے کہ بحیثیت مسلمان وہ وہابی ہے یا اہل حدیث یا اہل قرآن یا بریلوی یا احمدی۔ یہ معنی ہوتے ہیں مذہی آزادی کے۔‘‘)
    Mirza Nasir Ahmad: To my mind ....
    (مرزاناصر احمد: میرے خیال کی رو سے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Yes. I am just asking whether I am quoting you correctly?
    (جناب یحییٰ بختیار: میں پوچھتا ہوں کیا میں نے آپ کے الفاظ صحیح نقل کئے ہیں؟)
    مرزاناصر احمد: جی ہاں۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: I am not going to ask you questions because first we finish with quotations and then I will ask you questions.
    (جناب یحییٰ بختیار: ابھی میں سوال شروع نہیں کرتا۔ پہلے تمام حوالہ جات ختم کرلیں۔ پھر میں آپ سے سوالات کروں گا)
    مرزاناصر احمد: ہاں! نہیں، ٹھیک ہے۱؎۔
    42Mr. Yahya Bakhtiar: Then, Sir, you further say: "Today, the meaning of religious freedom is that every man has a right to decide for himself whether he is a Muslim or not, whether he is a Christian or not, whether he is a Jew or not, or whether he is a Hindu or not, whether he is a Budhist or not, whether he is an a-theist or not. It is for each individual to say which religion he belongs to and no power on earth and not all the powers of the world combined can deprive him of this right."
    So, Sir, according to you this right, the way you have put it ....
    (جناب یحییٰ بختیار: تو جناب آپ آگے فرماتے ہیں: ’’آج مذہبی آزادی کے معنی یہ ہیں کہ ہر شخص کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنے لئے فیصلہ کرے کہ وہ مسلمان ہے یا نہیں۔ عیسائی ہے یا نہیں۔ یہودی ہے یا نہیں۔ بدھ مت ہے یا نہیں۔ ملحد ہے یا نہیں۔ دہریہ ہے یا نہیں۔ اس لئے ہر فرد کو حق حاصل ہے کہ وہ اظہار کرے کہ میں کس مذہب سے متعلق ہوں۔ کوئی زمینی طاقت بلکہ جہاں بھر کی مجتمع قوتیں اس کو اپنے حق سے محروم نہیں کر سکتیں۔ تو آپ کی نظر میں یہ حق جس طور پر آپ نے پیش کیا ہے اس کے معنی ہوتے ہیں کہ یہ حق مطلقاً قطعی غیرپابند بلا محدود غیر مشروط مستند ہے اور دھرتی پر کوئی طاقت اس میں مداخلت نہیں کر سکتی۔‘‘)
    Mirza Nasir Ahmad: .... is inalienable.
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ۱؎ کیا ہوگیا؟ حواس باختگی یا سٹی گم ہوگئی، قادیانی خود فیصلہ کریں۔
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    Mr. Yahya Bakhtiar: .... is absolute, unrestricted, unqualified, unconditional; no power on earth can interfere.
    مرزاناصر احمد: یہاں یہ Confusion پیدا نہیں ہونا چاہیئے۔ دماغ میں یہاں پریکٹس کی بات نہیں ہے، اعلان کی بات ہے اور یہ Absolute Right ہے کہ کوئی شخص یہ کہے کہ میں مسلمان ہوں یا نہیں ہوں۔ Law, morality, Public order اس وقت آتے ہیں جس وقت وہ اپنے عقائد کے مطابق کچھ مظاہرے کرتا ہے۔ Mainfestation of his creed کرتا ہے۔ لیکن جہاں تک پروفیشن کا سوال، یہ کہے گا کہ میں مسلمان ہوں یا نہیں ہوں، یہ Absolute Right ہے ہر انسان کا۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: Now, Sir, you have used the words in the speach and I pointedly draw your attention to them; they are:
    "He has the right to say, to specify, to proclaim, to decide, to announce ...."
    (جناب یحییٰ بختیار: جناب آپ نے اپنی تقریر میں جو الفاظ استعمال کئے ہیں جن پر میں خصوصی طور پر آپ کی توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ الفاظ یہ ہیں۔ متعلقہ شخص کو حق ہے اظہار کا، صراحت سے بیان کرنے کا، باضابطہ اعلان کرنے فیصلہ کرنے کا، اعلان کرنے کا…)
    مرزاناصر احمد: ہاں! یہی وہی ہے، Profess کے معنی کئے ہیں میں نے اپنی طرف 43سے۔ One might agree with or not.
    Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, as I said before ....
    مرزاناصراحمد: اس کا تعلق پریکٹس سے آجاتا ہے ناں۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: .... that he ....
    مرزاناصراحمد: اس میں پریکٹس میں نے نہیں کہا۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: But you profess something; if you think you are a Muslim, if you believe you are a Muslim. Nobody can .....
    (جناب یحییٰ بختیار: لیکن یہ بات آپ کی ماننے کے قابل ہے۔ مگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ مسلمان ہیں۔ اگر آپ اعتقاد رکھتے ہیں کہ آپ مسلمان ہیں تو پھر کسی کو…)
    مرزاناصر احمد: وہ ٹھیک ہے۔ آپ کی بات درست ہے۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: I am submitting that if you announce, then that means either a speech is called for as you write ....
    (جناب یحییٰ بختیار: اگر آپ اس کا اعلان کر دیتے ہیں تو اس کے معنی ہیں کہ یا تو کسی تقریر کی ضرورت ہے جیسا کہ آپ لکھتے ہیں)
    مرزاناصر احمد: یہ اعلان کرتا ہے آدمی کہ میں مسلمان ہوں۔
    جناب یحییٰ بختیار: اعلان کرتا ہے یا لکھتا ہے۔
    مرزاناصر احمد: یا لکھتا ہے۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: I means some action ....
    (جناب یحییٰ بختیار: مطلب ہے کوئی عمل…)
    مرزاناصراحمد: ہاں! ہاں!!
    Mr. Yahya Bakhtiar: .... to express ....
    (جناب یحییٰ بختیار: اظہار کرنے کے لئے…)
    Mirza Nasir Ahmad: Expression of one's belief.
    (مرزاناصر احمد: اپنے عقیدہ کے اظہار کے لئے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: .... one's belief so that ....
    44Mirza Nasir Ahmad: Not practice on it.
    Mr. Yahya Bakhtiar: When belief is expressed, even there you claim, to this extent, I mean ....
    (جناب یحییٰ بختیار: جب کسی اعتقاد کا اظہار کیا جائے تو بقول آپ کے دعوے کے اس اظہار کی حد تک کوئی مداخلت نہیں ہونی چاہئے نہ حکومت کی طرف سے)
    مرزاناصراحمد: ہاں! ہاں!! To that extent.
    Mr. Yahya Bakhtiar: .... that there should be no interference by the State ....
    Mirza Nasir Ahmad: To my mind.
    Mr. Yahya Bakhtiar: .... or any body?
    (جناب یحییٰ بختیار: اور نہ کسی شخص کی طرف سے)
    مرزاناصر احمد: میں اس پر… میرا یہی ایمان ہے۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: So, Sir, if anybody declares that he is a Muslim, a Christian, a Budhist, no one should question his announcement or declaration?
    (جناب یحییٰ بختیار: تو جناب اگر کوئی اعلان کرتا ہے کہ وہ مسلمان ہے، عیسائی ہے، بدھ مت ہے تو کیا اس کے اس اعلان پر کوئی شخص اعتراض نہ کرے)
    Mirza Nasir Ahmad: No wordly authority.
    (مرزاناصر احمد: کسی دنیاوی اتھارٹی کو مداخلت کا حق نہیں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: .... is authorised or empowered to question that. His word should be accepted for this.
    (جناب یحییٰ بختیار: وہ جو کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوں۔ اس کو ہمیں مسلمان کہنا پڑے گا)
    مرزاناصر احمد: ہاں! وہ جو کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوں۔ اس کو مسلمان ہمیں کہنا پڑے گا۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, but Sir, there are some further complications in my mind.
    (جناب یحییٰ بختیار: میرے ذہن میں ابھی کچھ پیچیدگیاں ہیں)
    مرزاناصر احمد: ہاں! جب وہ آئیں گے، ہم وہاں… When we reach that.
    Mr. Yahya Bakhtiar: Supposing a person knowingly, with ulterior motive, for some material gain, falsely declares that he is a Christian when in fact he is not, or he is a Muslim when in fact he is not ....
    (جناب یحییٰ بختیار: فرض کریں کہ ایک شخص عمداً کسی مخفی مقصد کے لئے کسی مادی فائدہ کے لئے جھوٹا اعلان کر دیتا ہے کہ وہ عیسائی ہے۔ جب کہ وہ حقیقتاً نہیں ہے یا کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوں جب کہ واقعتہً وہ مسلمان نہیں تو کیا ایسی صورت میں بھی آپ یہی خیال کریں گے؟)
    45Mirza Nasir Ahmad: He is not?
    Mr. Yahya Bakhtiar: .... do you still think that ....
    Mirza Nasir Ahmad: How we are going to find out that he is a hypocrite?
    (مرزاناصراحمد: لیکن آپ کیسے پتہ چلائیں گے کہ وہ دغابازی کر رہا ہے؟)
    Mr. Yahya Bakhtiar: But if we can find out, then we can interfere. If he falsely does it?
    (جناب یحییٰ بختیار: (اگر اس کی منافقت) ہم معلوم کر لیں۔ تب تو ہم مداخلت کر سکتے ہیں)
    مرزاناصر احمد: اگر وہ Hypocrite اور اسلام، قرآن کریم یہ کہتا ہے کہ تم نے پھر بھی اس کو مسلمان کہنا ہے۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: Now, Sir, I am just asking you that if I personally know a person that he is a Muslim, but for some worldly gain ....
    (جناب یحییٰ بختیار: جناب میرا سوال یہ ہے کہ آپ فرض کیجئے کہ میں ایک شخص کو جانتا ہوں کہ وہ مسلمان ہے لیکن دنیا کے کسی مفاد کے لئے…)
    Mirza Nasir Ahmad: Aaa, aaa.
    Mr. Yahya Bakhtiar: .... for some advantage ....
    مرزاناصراحمد: ہوں۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: .... he falsely declares himself to be a Christian ....
    (جناب یحییٰ بختیار: کسی مطلب کے لئے وہ اپنے کو عیسائی کہے…)
    مرزاناصراحمد: جی۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: .... do you think, we still should not interfere because he has announced it? That is his freedom?
    (جناب یحییٰ بختیار: تو آپ کا کیا خیال ہے کہ ایسے شخص کے ساتھ دخل اندازی نہیں کرنی چاہئے۔ محض اس بناء پر کہ اس نے عیسائی ہونے کا اعلان کر دیا ہے اور ایسا اعلان کرنے سے وہ آزاد ہے)
    مرزاناصراحمد: آپ نے کہا: ’’میں جس کو جانتا ہوں۔‘‘ اگر تو مثلاً میں جانتا ہوں…
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, no, I mean میں اور آپ anybody.
    46مرزاناصراحمد: نہیں! میں نے اسی واسطے میں کو اپنے اوپر لے لیا۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں۔
    مرزاناصراحمد: نہیں۔ میں نہیں کہہ رہا تھا۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: I know him personally.
    مرزاناصراحمد: اگر میں Personally نہیں جانتا ہوں تو میرا کوئی حق نہیں ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: آپ کو کوئی حق نہیں ہے؟
    مرزاناصراحمد: بالکل نہیں حق میرا۔ یہ تو بڑا فساد پیدا ہو جائے۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: Now, I am not giving the example. Sir, of a man who is about to be killed and to save his life, he says, "I am a Muslim" or "I am a Christian" or supposing a religions fanatic is going to kill some one because he does not belong to his faith ....
    (جناب یحییٰ بختیار: میں ایک ایسے شخص کی مثال دیتا ہوں جو عنقریب مارا جانے والا ہے اور وہ اپنی جان بچانے کے لئے کہہ اٹھتا ہے کہ میں مسلمان ہوں یا میں عیسائی ہوں یا فرض کریں کوئی مذہبی متعصب شخص کسی کو جان سے مارنے والا ہے۔ کیونکہ وہ اس کا ہم عقیدہ نہیں…)
    مرزاناصر احمد: ہوں۔ یا؟
    Mr. Yahya Bakhtiar: I know that is permissible. I am not taking that example.
    (جناب یحییٰ بختیار: میں یہ مثال اس لئے پیش کر رہا ہوں)
    مرزاناصر احمد: یا ان کی In question ہے جو کہ Clerical Court نے کی۔ ایک وقت میں اور اس وقت جو انہوں نے فیصلہ کیا، عیسائی Clergy نے، وہ یہ تھا کہ اس کو تم Stake پر Burn کر دو، Rather roast him on the fire اور اﷲتعالیٰ آپ ہی فیصلہ کرے گا۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, no, I am not taking the case of even that person who, in order to save his life, makes a false declaration. Suppose he is a Christian ....
    (جناب یحییٰ بختیار: (لیکن) میں اس شخص کی مثال لے رہا ہوں جو اپنی جان بچانے کے لئے ایک جھوٹا بیان دیتا ہے اور فرض کریں…)
    47مرزاناصر احمد: نہیں۔ یہاں بھی وہی… میں بھی یہی مثال دے رہا ہوں۔ تو انہوں نے کہا کہ اگر وہ اپنی زندگی محفوظ کرنے کے لئے Protestant ہونے کے باوجود Roman Catholic ہونے کا اعلان کرے، اس اعلان کے بعد بھی اسے Burn کردو اور اس فیصلے کو خدا پر چھوڑو کہ اس کو جنت میں جانا چاہئے یا دوزخ میں۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, yes I am not giving that example. But I am just ....
    (جناب یحییٰ بختیار: میں صرف مثال دے رہا ہوں…)
    Mirza Nasir Ahmad: That is one of the very extreme examples in this case.
    (مرزاناصر احمد: آپ کی مثال اس معاملہ میں ایک انتہائی نوعیت کی مثال ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, but there, Sir, if a person has to save his life, it is permissible to tell a lie to save his life, I think?
    (جناب یحییٰ بختیار: تو جناب! اگر شخص کو اپنی جان بچانی ہے تو کیا اپنی جان بچانے کے لئے اس کو جھوٹ بولنا روا نہیں؟)
    Mirza Nasir Ahmad: I don't think.
    (مرزاناصر احمد: میں نہیں سمجھتا)
    Mr. Yahya Bakhtiar: I mean, i don't know, Some time you sacrifice the truth in the very interest of truth. If a man is innocent and somebody is going to kill him just because he does not belong to his faith, and I say no he is not that belongs to that caste or to that religion. It happened near Khuzdar. There was a policeman, near about 1965 or that time, there was a policeman travelling in a bus and some of those people, travelling people, got hold of that bus along with others. The policeman was not in uniform but they found the uniform packed up in the bus. The policeman and other people were taken away with the intention to kill them. One of the Maulvis there who khew that this man was a policeman, took oath on Quran and said, "I know that he is not a policeman" to save his life. Do you think that man committed a crime by telling a lie?
    (جناب یحییٰ بختیار: بعض وقت سچ کی خاطر سچ کو قربان کرنا پڑتا ہے۔ فرض کریں ایک آدمی ہے جو بیگناہ ہے۔ مگر ایک شخص اس کے قتل کے در پے ہے کہ وہ دوسرے مذہب کا ہے اور اس جیسا اعتقاد نہیں رکھتا۔ اسی نوعیت کا ایک واقعہ خضدار کے علاقہ میں پیش آیا۔ وہاں پولیس کا ایک سپاہی تھا۔ یہ واقعہ شاید ۱۹۶۵ء کا ہوگا یا اس کے لگ بھگ۔ وہ شخص بس میں سفر کر رہا تھا۔ لوگوں نے بس کو مع سواریوں کے اغوا کر لیا۔ پولیس والا یونیفارم میں نہیں تھا۔ تو دیگر سواریوں کے ساتھ اس کو بھی جان سے مارنے کے لئے لے گئے۔ وہاں ایک مولوی موجود تھا جو اس شخص کو پہچانتا تھا کہ یہ پولیس والا ہے۔ اس نے قرآن شریف پر قسم کھا کر کہا کہ میں جانتا ہوں کہ یہ پولیس والا نہیں ہے۔ یہ بات اس نے اس کی جان بچانے کے لئے کہی۔ اب آپ بتائیں آپ کے خیال میں اس شخص نے جھوٹ بول کر کوئی جرم کیا)
    مرزاناصر احمد: نہیں نہیں۔
    48Mr. Yahya Bakhtiar: I am just saying this that some time one may do it. But I am not taking these examples. Sir, I am going to come to earth and take very simple example.
    (جناب یحییٰ بختیار: اب میں ایک دوسری سادہ سی مثال لیتا ہوں)
    مرزاناصراحمد: جی! ہاں جی وہ لے لیں پھر۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: Now, Sir, supposing, as we have a lot of difficulties in getting admission in college these days. You khow that, so we take a medical College for instance Dow Medical College, Karachi, has got 200 seats. Now there are about a thousand Muslim boys, all first divisions, contesting for these 200 seats. But out of them, 10 are reserved for Minorities, Christians, Hindus, Parsis. Out of 10, say 6 are reserved for Hindus, 3 are also one First Divisioners, so they contest among themselves; 3 are reserved for Christians, one for parsi. There is also First Divisioners Parsi and he will go and take that seat. Now, among the Christians, there are 6/7 candidates and there are 3 seats but there is only one Second Divisioner Christian and the rest are Third Divisioners. Now I want to get into that college. I have got a First Division, but not a very high First Division. If I put it in my admission from: "Yahya Bakhtiar ---- Christian", now you think the Principal of the college, knowing very well, should not interfere.
    (جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں! جناب آج کل کالجوں میں داخلے کے لئے بڑی بڑی دشواریاں آتی ہیں۔ آپ جانتے ہیں ایک میڈیکل کالج کی مثال لیجئے۔ سمجھئے ڈاؤ میڈیکل کالج ہے جس میں ۲۰۰ سیٹیں ہیں اور فرض کریں امیدوار ہزار مسلمان لڑکے ہیں جو کہ سب فرسٹ ڈویژن پاس ہیں۔ ان ۲۰۰ میں سے ۱۰ سیٹیں اقلیتوں کے لئے ریزرو ہیں جیسے ہندو، عیسائی، پارسی۔ ان ۱۰سیٹوں میں سے ۶ ہندوؤں کے لئے ہیں اور یہ بھی فرسٹ ڈویژن ہیں۔ آپس میں ان میں مقابلہ ہے اور ۳ سیٹیں عیسائیوں کے لئے ریزرو ہیں اور ایک پارسی کے لئے اور یہ سب فرسٹ ڈویژن ہیں اور امیدوار ۷/۶ ہیں اور سیٹ ۳ ہیں۔ مگر صرف ایک سیکنڈ ڈویژن عیسائی ہے۔ باقی سب تھرڈ ڈویژن پاس ہیں اور کالج میں داخلہ چاہتے ہیں۔ فرض کریں کہ میرا فرسٹ ڈویژن ہے مگر اونچے نمبر سے فرسٹ ڈویژن نہیں ہے تو اگر میں اپنے داخلہ فارم میں لکھتا ہوں کہ یحییٰ بختیار مذہب عیسائی۔ تو کیا سمجھتے ہیں پرنسپل یہ سب جانتے ہوئے مداخلت نہ کرے گا)
    Mirza Nasir Ahmad: You have got no right to declare your Christianity.
    (مرزاناصر احمد: آپ کو ایسے کہنے کا حق نہیں پہنچتا)
    Mr. Yahya Bakhtiar: I have no right but I am deceiving, I am cheating, I am falsely declaring that what I say, because I know that this is a fundamental right and nobody on earth can interfere and why should I not take advantage? Do you think the world is not full of thieves?
    (جناب یحییٰ بختیار: حق تو نہیں پہنچتا مگر میں دھوکہ دے رہا ہوں۔ جھوٹ، دغابازی یہ سوچ کر کر رہا ہوں کہ یہ میرا بنیادی حق ہے کہ جو چاہوں کہوں۔ کوئی مداخلت نہیں کر سکتا۔ تو کیوں نہ اس بات سے فائدہ اٹھاؤں۔ کیا دنیا دغابازوں سے نہیں بھری ہوئی ہے؟)
    مرزاناصر احمد: آپ دوسرے end پر بات کر رہے ہیں۔ میں اس end پر بات کر رہا ہوں۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, Sir, I am .......
    49مرزاناصراحمد: میں یہ کہہ رہا ہوں کہ آپ کو کوئی حق نہیں پہنچتا۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: I am asking ....
    (جناب یحییٰ بختیار: میں یہ کہہ رہا ہوں…)

اس صفحے کی تشہیر