1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

(آزادی مشروط ہے کہ دوسرے کی آزادی میں خلل نہ پڑے)

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ نومبر 23, 2014

  1. ‏ نومبر 23, 2014 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (آزادی مشروط ہے کہ دوسرے کی آزادی میں خلل نہ پڑے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Why not? If you say the man is born free, man is born naked, why wear clothes?
    (جناب یحییٰ بختیار: کیوں نہ پھرے ننگا۔ اگر آپ کہتے ہیں کہ انسان آزاد پیدا ہوا ہے۔ ننگا پیدا ہوا ہے تو کیوں کپڑے پہنے وہ)
    Mirza Nasir Ahmad: Because it is against the right of other people.
    (مرزاناصر احمد: اس لئے کہ دوسروں کے حقوق کی تلفی ہوتی ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Exactly. That means that you can exercise your freedom of religion so long as you do not affect others or deprive others of their rights?
    (جناب یحییٰ بختیار: بالکل ٹھیک! اس کے یہ معنی ہوئے کہ آپ اپنی مذہبی آزادی کا حق استعمال کر سکتے ہیں۔ تاوقتیکہ آپ دوسروں پر اثر انداز نہ ہوں یا دوسروں کو ان کے حق سے محروم نہ کریں)
    Mirza Nasir Ahmad: Quite, quite.
    (مرزاناصر احمد: جی ہاں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Thank you.
    (جناب یحییٰ بختیار: شکریہ)
    Mirza Nasir Ahmad: Quite.
    (مرزاناصراحمد: جی ہاں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Now Sir, if this sect of Hippies who call themselves Christians ....
    (جناب یحییٰ بختیار: اچھا جناب!! اب یہ جو ’’ہیپی‘‘ فرقہ ہے جو اپنے آپ کو عیسائی کہتا ہے۔ میں نے اس بارے میں ایک مضحکہ خیز مثال دی ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: Is it a fact?
    Mr. Yahya Bakhtiar: I am just giving you a ridiculous example.
    (جناب یحییٰ بختیار: میں نے اس بارے میں ایک مضحکہ خیز مثال دی ہے)
    مرزاناصر احمد: میں آپ کو بتاؤں کہ میں نے ۱۹۷۰ء میں ویسٹ افریقہ اور یورپ کا بھی دورہ کیا۔ وہاں مجھ سے یہ سوال انہوں نے کیا کہ Hippies (ہیپی) کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے۔ میں نے انہیں کہا کہ میرے نزدیک تو انسانوں کی سی زندگی وہ نہیں گزارتے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں ان سے نفرت کرتا ہوں۔ یا حقارت کے نگاہ سے دیکھتا ہوں۔ مجھے ان پر رحم آتا ہے95۔ میں دعا کرتا ہوں کہ وہ انسانی اقدار کو سمجھنے لگیں۔ ہماری بنیادی چیز جو اسلام نے ہمیں دکھائی ہے۔ وہ یہ ہے کہ انسان کو پہلے انسانی اقدار سیکھنی چاہی اور ان پر عمل کرنا چاہئے۔ تب روحانی ترقیات کا سوال پیدا ہوتا ہے۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: Now, Sir, all these examples were simply meant to show that freedom of religion, as given, is subject to restrictions, and it may be by law. All I was submitting was that this freedom of religion is subject to restrictions which could be made by law, imposed by law. That was all I was saying.
    (جناب یحییٰ بختیار: تو جناب جس قدر یہ مثالیں دی گئی ہیں۔ اس مدعا سے دی گئی ہیں کہ یہ بتایا جائے کہ مذہبی آزادی جو میسر ہے وہ پابندیوں سے مشروط ہے۔ چاہے وہ پابندیاں قانون کی طرف سے ہوں۔ میرا مفروضہ یہ تھا کہ مذہب پر عمل پیرا ہونے کی آزادی پر قدغن ہے۔ چاہے قانون ضابطہ بنا کر پیش کرے یا قانون ضابطہ پر عمل کرائے۔ میں یہی کچھ کہنا چاہتا تھا)
    Mirza Nasir Ahmad: Very carefully and extremely rationally applied.
    (مرزاناصر احمد: ہاں مگر بہت احتیاط سے عمل کروائے انتہائی معقول طور پر عقلیت کے ساتھ)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Rationally.
    (جناب یحییٰ بختیار: معقول طور پر)
    Mirza Nasir Ahmad: Yes.
    (مرزاناصراحمد: جی ہاں!)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Naturally, because we persume the law is rational, we presume the courts are working honestly and properly. That presumtion is there.
    (جناب یحییٰ بختیار: ظاہر ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں ہی کہ قانون معقول ہوا کرتے ہیں اور ہم نے یہ بھی مان رکھا ہے۔ پہلے سے یہ کچہریاں ایماندارانہ صحیح طور پر اپنا کام کرتی ہیں۔ یہ مفروضہ تو ہم نے تسلیم کر ہی رکھا ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: And we hope that those who execute these laws are also very honest and rational.
    (مرزاناصر احمد: اور ساتھ ہم امید کرتے ہیںکہ جو قانون پر عمل کرواتے ہیں۔ وہ بھی ایماندار اور معقول ہوں گے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Yes, rational and honest, that is presumed.
    (جناب یحییٰ بختیار: بیشک! معقول اور ایماندار۔ یہ مانی ہوئی بات ہے)
    Now. Sir, you have seen the Constitution of Pakistan, In the preamble of the Constitution, the title is called: "The Constitution of the Islamic Republic of Pakistan". That shows what sort of character is aimed at or it has, that will be for anybody to judge. Then in the Preamble, it is stated, among other things, that
    "Wherein the Muslims shall be enabled to order their lives in the individual and collective spheres in 96accordance with the teachings and requirements of Islam as said out in the Holy Quran and Sunnah."
    (اب جناب! آپ نے پاکستان کا دستور دیکھا ہے۔ دستور کی افتتاحیہ تمہید بھی دیکھی ہے۔ دستور کا نام ہے ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان کا دستور‘‘ اس سے پتہ لگتا ہے کہ دستور کی نوعیت کی قسم کیا ہے۔ ہر شخص اپنا فیصلہ کر سکتا ہے تو دستور کی افتتاحیہ تمہید میں دیگر باتوں کے ساتھ یہ الفاظ بھی ہیں۔‘‘ تاکہ مسلمان انفرادی اور اجتماعی دائرہ کار میں اپنی زندگیوں کو تعلیمات وضروریات اسلام کے بموجب گذار سکیں جو کہ قرآن پاک اور سنت نبوی)
    Mirza Nasir Ahmad: And as they believe.
    (مرزاناصر احمد: اور بموجب مسلمانوں کے اعتقاد کے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Naturally every sect is free.
    (جناب یحییٰ بختیار: قدرتی طور پر ہر فرقہ آزاد ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: ہاں Every sect is free.
    (مرزاناصراحمد: کہ ہر فرقہ آزاد ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Every sect as they believe. Now, but that shows, you known, that religion is part of the duty imposed on the legislature to see that the Muslims .......
    (جناب یحییٰ بختیار: ظاہر ہے قدرتی بات ہے۔ ہر فرقہ آزاد ہے۔ بہرحال اس تمہید سے یہ اخذ ہوا کہ مقننہ نے مقننہ پر یہ فرض عائد کیا ہے کہ اس پر نظر رکھے کہ مسلمان …)
    Mirza Nasir Ahmad: That all sects of Muslims.
    (مرزاناصر احمد: مسلمانوں کے سارے فرقے)

اس صفحے کی تشہیر