1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

آسمانی نکاح یا دجل و فریب

Muhammad Muhammai نے 'ختم نبوت فورم کے استعمال کا طریقہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جون 3, 2016

  1. ‏ جون 3, 2016 #1
    Muhammad Muhammai

    Muhammad Muhammai رکن ختم نبوت فورم

    آسمانی نکاح یا دجل و فریب
    قسط۔ 1
    وہ بہت سی بیماریوں کا مجموعہ تھا۔ اس اک بچپن بس اتنا ہی تھا کہ اسے اس کے گھر والے مردہ خیال کرتے تھے۔ جو کچھ کھانے کے لئے ضد کرتا تھا اور جب گڑ وغیرہ پر بھی راضی نہ ہوتاتو اس کی والدہ تنگ آکر کہتی پھر راکھ کھالواور وہ روٹی پر راکھ ڈال کر کھانا شروع کردیتا۔ اس سے یہ مت اخذ کیجئے کہ وہ بہت فرمانبردار بچہ تھا اگر ہوتا تو والدہ کی بات پہلے ہی مان لیتااتنی ضد کیوں کرتا، اصل میں اس بچے کے دماغ کے کچھ پیچ ڈھیلے تھے بچپن سے ہی، بات ہوتی کچھ اور وہ سمجھتا کچھ اور۔ بھولنے کی بھی شدید بیماری تھی اسے، اس کی ایک مثال دیکھئے کہ جب وہ عمررسیدہ ہوگیا اور پیشاب نہ رکھنے والی بیماریوں نے شدت اختیار کی تو وہ استنجا کے ڈھیلے جیب میں لئے پھرنے لگا۔ گڑ سے چونکہ بچپن سے ہی محبت تھی لہٰذہ اکثر گڑ اس کی جیب میں ہوتا تھا۔ بعض اوقات یوں ہوتا کہ کہ وہ بھول کر گڑ کی جگہ استنجا کے ڈھیلے منہ میں رکھ لیتا۔ موضوع لمبا ہورہا ہے اور ایسی بہت سی مثالیں ہیں ، مگر اصل کہانی ہے آسمانی نکاح کی ۔
    وہ شخص مرزا غلام احمد جس کے دعوے تو بے شمار تھے مگر فی الحال اس کے دعووں سے بحث نہیں، 50 سال سے زائد اس کی عمر تھی، اس کی حالت اس قدر خراب تھی کہ ہر گھنٹے میں اسے کئی کئی مرتبہ بیت الخلاء جانا پڑتا تھا۔ اس چیز نے اسے تھکا ڈالا تھا۔ اس کا جسم کمزور ہوگیا تھا۔(اور قارئین کرام سے معذرت کے ساتھ) وہ خود کہتا تھاکہ اس میں قوت مردمی مفقود تھی۔ اس قوت کو سہارا دینے کے لئے خود اور حکیم نورالدین سے نئے نئے ٹوٹکے بنواتا تھا جس میں افیون جیسی نشہ آور چیزوں کا استعمال ہوتاتھا۔ مرزا غلام قادیانی خود بھی حکمت میں ٹانگ اڑاتا تھا جس کے سبب اس کی بیٹی کی جان پر بن آئی تھی۔
    ایک دن مرزا کی نظر اچانک ایک کمسن لڑکی پر پڑی، چونکہ خاندانی تعلقات تھے اس لئے آنا جانا لگا رہتا تھا۔ وہ لڑکی جس کا نام محمدی بیگم تھا اور اس کے والد کا نام احمد بیگ تھا مرزا کو اتنا بھاگئی کہ اسے بے چین کرکے رکھدیا۔ اب اکثر وہ اس فکر میں غلطاں و پریشاں رہتا کہ کسی طرح وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوجائے اور اس لڑکی سے ا س کا نکاح ہوجائے، لہٰذہ اسی فکر میں وہ دن رات گذارنے لگا کہ کب کوئی سنہری موقع ہاتھ آئے اور وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوجائے۔ اپنی اس پریشانی کے حل کے لئے اس کے دماغ میں طرح طرح کے شیطانی منصوبے آتے، غالبا ایسی ہی پریشانیوں نے اسے ٹانک وائن کا عادی بنادیا تھا ، جب سے اس نے محمدی بیگم کو دیکھا تھا اسے راتوں کو نیند نہ آتی تھی، راتوں کو مدہوش ہوکر اور اس نیک بچی کے تصور میں کھوکر وہ گذار دیتا تھا۔
    دن گذرتے رہے اور مرزا کے جذبات سلگتے رہے، اس کا آتش عشق مزید بھڑکتا رہا۔ اسے اصل میں موقع کی تلاش تھی کوئی ایسا مناسب موقع کہ وہ اپنے دل کی بات احمد بیگ سے کرکے کسی طرح قائل کرسکے۔ آخر ایک دن اس کے دروازے پر دستک ہوئی، بتانے والے نے بتایا کہ احمد بیگ آئے ہیں، احمد بیگ کا نام سن کر بے اختیار مرزا کی باچھیں کھل گئیں، مدہوش آنکھیں جو اکثر و بیشتر افیون اور ٹانک وائن سے بند رہتی تھیں یکلخت چمک اٹھیں، اور منہ سے رال ٹپکنے لگی۔ اسے یوں لگا کہ اس کے دلہا بننے کا وقت آچکا ہے۔ فورا اٹھا اور آگے بڑھ کر احمد بیگ سے بغلگیر ہوگیا۔ اسے انتہائی عزت و اکرام سے بٹھایا۔۔۔
    احمد بیگ صاحب فرمائیے کیسے تشریف آوری ہوئی؟ مجھے حکم کرتے میں خود چلاآتا آپ کے دولت کدے پر، آپ نے خوامخواہ اتنی تکلیف کی۔ مرزا قادیانی نے لجالجت سے پوچھا۔
    مرزا صاحب اصل میں کچھ پریشانی ہے سوچا کہ شاید آپ مدد کردیں ، صرف آپ کی رضامندی اور دستخط چائیے ہمیں، ہمارا حق جو زمین کا ایک ٹکڑا ہے مل جائے گا۔ احمد بیگ نے مدعا بیان کرتے ہوئے کہا۔
    جی جناب، حکم کریں، حاضر ہوں، لیکن اس کے لئے میں پہلے استخارہ کرونگا پھر جواب دونگا۔ مرزا قادیانی نے عیارانہ مسکراہٹ سے جواب دیا، وہ محسوس کرنے لگا تھا کہ اب کھیل اس کے ہاتھ میں ہے اور وہ آسانی سے اپنی بات منوالے گا۔
    دیکھ لیں مرزا صاحب، آپ کی مرضی، میں کب حاضر ہوجاؤں؟ احمد بیگ نے استفسار کیا۔
    میں آپ کو خود بلوالونگا میرے عزیز ، آپ فکر مت کریں۔ مرزا قادیانی نے تسلی دیتے ہوئے کہا۔ وہ دل ہی دل میں آئندہ کا پروگرام بنا چکا تھا۔
    چلیں ٹھیک ہے، اب مجھے اجازت دیجئے۔ خدا حافظ۔ احمد بیگ نے اٹھتے ہوئے کہا۔
    کچھ چائے وغیرہ پیتے جائیں۔ مرزا نے رسمی سے لہجے میں کہا۔
    نہیں بس ابھی کچھ کام ہیں جانا پڑے گا پھر کبھی سہی۔ احمد بیگ نے جواب دیا ور دروازے کی طرف مڑ گیا۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    چند دن بعد مرزا قادیانی نے بندہ بھیج کر احمد بیگ کو بلوالیا۔
    جی مرزا صاحب ! میرے کام کا کیا بنا؟ احمد بیگ نے متفکرانہ لہجے میں پوچھا۔
    احمد بیگ صاحب میں نے یہی عرض کرنے کے لئے اپ کوزحمت دی ہے۔ مرزا غلام احمد نے مسکراتے ہوئے کہا۔ مسکراتے ہوئے مرزا کی ذیادہ چھوٹی والی آنکھ بند ہوجاتی تھی۔
    جی تو بتائیے پھر کیا ہوا میرے کا م کا؟ احمد بیگ نے مضطرب لہجے میں پوچھا۔
    ارے آپ تو میرے بزرگ ہیں، ایک دیندار اور اچھے آدمی ہیں، یوں سمجھئے کہ آپ کا کام ہوگیا ہے۔ مگر میری ایک عرض ہے امید ہے کہ آپ میری سعادتمندی کو مدنظر رکتھے ہوئے اس پر غور فرمائینگے اور میری مراد بر آئیگی۔ مرزا غلام احمد نے عیارانہ مسکراہٹ سے کہا۔
    آپ کہیئے غلام احمد میں سن رہا ہوں اگر لائق التفات ہوئی تو ماننے میں کوئی حرج نہیں۔ احمد بیگ نے متفکر ہوتے ہوئے کہا۔ (وہ الجھ گیا تھا کہ آخر بات کیا ہوگی۔اور اسے یہ بھی معلوم تھا کہ یہ عیار اور کذاب5 کے 50 لے گا)۔
    جی وہ بات کچھ یوں ہے کہ کہ۔ مرزا غلام احمد نے ہکلاتے ہوئے کہا۔
    آپ گھبرائیے نہیں کھل کر بات کیجئے، مجھے سننے اورسمجھنے دیجئے کہ اصل معاملہ کیا ہے۔ آپ مجھ سے کیا چاہتے ہیں۔ احمد بیگ نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا گو کہ اندر سے وہ بھی بے چین ہوگیا تھا۔
    میرے عزیز میرے بزرگ احمد بیگ صاحب، اصل میں مجھے الہام ہوا تھا سوچا آپ کو بتادوں اور اس الہام سے آپ کا گہرا تعلق ہے۔ غلام احمد نے ایک طویل سانس لیتے ہوئے کہا، آخر دل کی بات زبان پر آگئی تھی۔
    کیا مطلب، کیسا الہام اور الہام بھی آپ کواور وہ بھی میرے متعلق۔ میں کچھ سمجھا نہیں، کہنا کیا چاہتے ہو کھل کر کہو۔ احمد بیگ نے ہنکارا بھرتے ہوئے کہا۔ اس کے لہجے میں سختی سی آگئی تھی۔
    اصل میں مجھے الہام ہوا ہے کہ میرا نکاح ایک خوش بخٹ گھرانے میں ہوگا اور جہاں میرا نکاح ہوگا ان پر خوش بختی کے در کھلیں گے اور ان پر مشکلیں آسان ہوجائیں گیں۔غلام احمد نے مزید کھلتے ہوئے کہا۔
    غلام احمدکہنا کیا چاہتے ہو کھل کر کہو۔صاف بات کرو۔ احمد بیگ نے درشت لہجے میں جواب دیا۔
    وہ جی وہ جی۔ اصل میں مجھے الہام ہے کہ میرا نکاح اگر حمد بیگ چاہے تو اس کی بیٹی سے ہوجائے گا۔ یہ الہام ہے میری ذاتی رائے نہیں۔ غلام احمد نے لرزتے ہوئے لہجے میں کہا وہ احمد بیگ کی حالت سے کانپ اٹھا تھا۔
    غلام احمد تم نے اپنی شکل دیکھی ہے نہ تو تم میں صورت ہے اور نہ ہی سیرت، جھوٹ تم بولتے ہو، شراب تم پیتے ہو، بھنگ اورافیون کا استعمال تم کرتے ہو، عیاری مکاری تم میں کھوٹ کھوٹ کر بھری ہوئی ہے، دھوکے باز تم ہو، ہر قسم کی دماغی و جسمانی بیماریاں تم یں بھری ہیں اور میری پھول سی بیٹی سے نکاح کی بات کرتے ہو، تم میں شرم و حیاء نا م کی نہیں۔ تم نے جرائت کیوں کر کی ایسی بات کرنے کی۔ احمد بیگ نے غصے سے لرزتے ہوئے لہجے میں کہا۔
    احمد بیگ صاحب، یہ میری ذاتی رائے نہیں بلکہ میرے خدا نے مجھے کہا ہے سو میں نے کہدیا۔ مرزا قادیانی نے جواب دیا۔
    کیا مطلب خدا نے؟ یہ کیسی بات کررہے ہو، کئیں نشے میں تو نہیں ہو غلام احمد؟ احمد بیگ نے مشکوک لہجے میں کہا۔
    نہیں جناب میرے خدا یلاش نے مجھ پر یہ الہام کیا ہے کہ آپ ہی کے گھر میں میرا عقد ہوگا۔ مرزا قادیانی نے شرمسار لہجئے میں جواب دیا۔
    یلاش، یہ کس کا اور کیسا نام ہے۔ یہ تمھارا کونسا بھگوان نکل آیا یکدم، لگتا ہے تمھارے مراق کا علاج نہیں ہوپایا ابھی تک۔ اب تو سدھر جاؤ۔ احمد بیگ نےکہا، ان کا لہجہ ابھی تک شدید غصے بھرا تھا۔
    میں سچ کہہ رہا ہوں میرے خدا یلاش نے، جس کا ایک نام کالا اور کالو بھی ہیں نے مجھے الہام کیا تھا اور کہا تھا کہ تمھارا کام اس شرط پر ہوسکتا ہے کہ تمھاری لڑکی کا نکاح مجھ سے کردیا جائے۔ غلام احمد نے جھجکتے ہوئے جواب دیا۔
    ہاہاہاہاہا ، تم کتنے مسخرے ہو غلام احمد جیسی تمھاری شکل ہے ویسی ہی تمھاری عقل ہے، جیسے تم جھوٹے ایسے ہی تمھارے یہ سارے خدا جھوٹے۔ اپنی حالت دیکھو، حلیہ تمھارا سکھوں والا ہے، تمھیں اتنی فرصت نہیں کہ کم از کم اپنی مونجھیں ہی سنت کے مطابق رکھو، بالکل کسی جنگلی کی طرح لگ رہے ہو، اور کبھی نہا بھی لیا کرو تمھارے جسم کی بدبو سے دماغ پھٹا جارہا ہے۔ احمد بیگ نے کرہات بھرے لہجے میں کہا۔
    آپ انھیں گالیاں دیں، مجھے گالیاں دیں، مجھے ذلیل کریں، گلیوں میں گھسیٹیں، مجھے جوتے ماریں، کتا کہیں، جو کہیں مجھ پر لعنتیں بھیجیں، مگر خدا کے لئے میری بات مان لیں، میری لاج رکھ لیں۔ غلام احمد ڈھٹائی سے منمناتے ہوئے بولا۔
    غلام احمد تم کتنے خصیص اور کم بخت ہو، تمھیں حیاء نہیں آتی، اگر تم کوئی شریف النفس یا سلیم الفطرت انسان ہوتے تو بھی میں سوش لیتا۔ اگر تم مسلمانوں سے وفادار ہوتے تو بھی کوئی بات تھی، تمھارے باپ غلام مرتضیٰ اور تمھارے بھائی غلام قادر نے کیا کیا تھا مسلمانؤں کے خلاف جنگ میں ، مجھے اچھی طرح یاد ہے، اور تم سب ہی غدار ہو مسلمانوں سے ، کوئی خوبی ہو تو گنواؤاپنی ، جھوٹ درجھوٹ تمھاری فطرت ہے، اور وہ کون سی بیماری ہے جو تم میں نہیں، تم ذرا خود پر غور تو کرو، کیا تم اس قابل ہو کہ میں تمھیں اپنا داماد بناؤں؟ احمد بیگ نے غصیلے لہجے میں کہا۔
    آپ گھر جاکر سوچ لیں پھر ہی کوئی فیصلہ کریں۔ اگر آپ کوزمین چائیے تو بتادیں اور زمین پانے کے لئے آپ کو میری شرط ماننا ہوگی۔ مرزا قادیانی نے تیور بدلتے ہوئے کہا۔


    جاری ہے۔
    آخری تدوین : ‏ جون 3, 2016
    • Like Like x 2

اس صفحے کی تشہیر