1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

آسمان پر عیسیٰ علیہ اسلام کیا کھاتے / پیتے ہونگے ؟؟

خادمِ اعلیٰ نے 'حیات عیسیٰ علیہ السلام پر شبہات کے جوابات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اگست 16, 2014

  1. ‏ اگست 16, 2014 #1
    خادمِ اعلیٰ

    خادمِ اعلیٰ رکن عملہ ناظم پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    سوال : حضرت عیسیٰ علیہ اسلام آسمانوں میں کیا کھاتے ہوں گے یا پیتے ہوں گے ؟ کہاں رفع حاجت کرتے ہوں گے ؟

    جواب :
    مرزا غلام قادیانی لکھتا ہے کہ :
    ترجمہ " یہ وہی موسیٰ مرد خدا ہے جس کی نسبت قران میں اشارہ ہے کہ وہ زندہ ہے اور ہم پر فرض ہو گیا کہ ہم اس بات پر ایمان لاویں کہ وہ زندہ آسمان میں ماجود ہے اور ان پر موت نہیں آئی اور وہ مردوں میں سے نہیں " ( خزائن جلد 8 صفحہ 69،68 )
    ایک اور جگہ ان کے بارے میں لکھتا ہے کہ :
    ترجمہ " بلکہ حیات کلیم اللہ ( موسیٰ علیہ اسلام ) نص قرآن سے ثابت ہے کیا تو نے قران میں نہیں پڑھا اللہ تعالیٰ کا قول ہے کہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم شک نہ کریں ان سے ملاقات سے یہ آیت موسیٰ علیہ اسلام کے بارے میں نازل ہوئی ، یہ آیت دلیل صریح ہے موسیٰ علیہ اسلام کی حیات پر . اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موسیٰ علیہ اسلام سے ( معراج میں ) ملاقات ہوئی ، اور اگر ( موسیٰ علیہ اسلام فوت شدہ ہوتے ) تو مردے زندوں سے نہیں ملا کرتے ، ایسی آیت تو عیسیٰ علیہ اسلام کے بارے میں نہیں ، بلکہ مختلف مقامات پر ان کی وفات کا ذکر ہے . ( خزائن جلد 7 صفحہ 222،221 )

    تو جناب عالی !
    (1) جو حضرت موسیٰ علیہ اسلام آسمانوں میں کھاتے پیتے ہوں گے وہی حضرت عیسیٰ علیہ اسلام بھی کھاتے پیتے ہوں گے .
    (2)دنیا میں آنے سے پہلے جو خوراک حضرت آدم علیہ اسلام کی تھی وہی خوراک حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کی ہوتی ہوگی ، کیونکہ دونوں ایک دوسرے کے قبیل سے ہیں . ارشاد ربانی ہے کہ " إِنَّ مَثَلَ عِيسَىٰ عِنْدَ اللَّهِ كَمَثَلِ آدَمَ " ( سورۂ العمران 59 )
    بیشک عیسیٰ علیہ اسلام کی مثال اللہ تعالیٰ کے نزدیک آدم کی حالت کی طرح ہے
    (3)خود مرزا غلام قادیانی نے اولیاء اللہ کے لئے روحانی غذا کا اقرار کیا ہے ملاخط کریں
    " اس درجہ پر مومن کی روٹی خدا ہوتا ہے جس کے کھانے پر اس کی زندگی موقوف ہے اور مومن کا پانی بھی خدا ہوتا ہے جس کے پینے سے وہ موت سے بچ جاتا ہے اور اس کی ٹھنڈی ہوا بھی خدا ہی ہوتا ہے جس سے اس کے دل کو راحت پہنچتی ہے " ( خزائن جلد 21 صفحہ 216 )
    ( 4 )قران سے ثابت ہوتا ہے کہ لگا لگایا خوان ( مائدہ ) آسمان سے بنی اسرائیل کی درخواست اور حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کی دعا سے اترا تو پھر آسمانوں میں حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کو کھانا ملنا کیوں محال ہوگا ؟
    ( 5 )علامہ شعرانی الیواقیت والجواہر میں اس سوال کا جواب دیتے ہیں عربی عبارت کا ترجمہ پیش خدمت ہے .
    " اگر کوئی عیسیٰ علیہ اسلام کی بابت یہ سوال کرے کے آسمان پر قیام کے دوران انہیں کھانے پینے سے کیسے استغناء ہوگا جبکہ ارشاد باری ہے کہ ہم نے کوئی جسم ایسا نہیں بنایا جو کھاتا پیتا نہ ہو "
    تو اس کا جواب یہ ہے کہ جو زمین پر رہنے والا ہے اس کے بدن کی قوت کے لئے کھانا بنایا گیا ہے اس لئے کہ اس کے جسم پر گرم اور سرد ہواؤں کا عمل دخل ہے جن سے جسم تحلیل ہوتا ہے . اس اثر پذیر کے پیش نظر قدرت نے کھانے کے عمل کو رکھ دیا باقی جیسے اللہ نے آسمانوں میں اٹھا لیا . بس اس کا وہاں کھانا پینا تسبیح وتہلیل ہے " ( الیواقیت والجواہر جلد 2 صفحہ 229 )
    ( 6 ) حدیث میں مرفوعاََ روایت ہے کہ دجال سے تین برس پہلے قحط پڑے گا . الخ . اس حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ اس وقت جب مسلمانوں کے پاس کھانے پینے کو کچھ نہ ہوا ان کا کیا حال ہوگا ؟؟
    حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

    " ان کو کفایت کرے گا وہ کھانا جو آسمان والوں کو کفایت کرتا ہے یعنی تسبیح وتقدیس ".
    • Like Like x 1
    • Winner Winner x 1
  2. ‏ جنوری 18, 2015 #2
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں میں ہیں تو وہاں کھاتے کیا ہوں گے؟
    جواب…
    ۱… جب آدمی عالم دنیا سے عالم بالا میں پہنچ جاتا ہے۔ تو پھر اس پر وہاں لوازمات روحانیہ طاری ہوجاتے ہیں اور دنیاوی عوارض اس کو لاحق نہیں ہوتے۔ یوں سمجھیں کہ اِس دنیا میں جسم غالب۔ اس جہاں میں روح غالب، جسم مغلوب۔ لہٰذا عیسیٰ علیہ السلام کو وہاں کے حالات کے مطابق روحانی غذا ملتی ہے۔ پس وہ کیا کھاتے ہوں گے؟ یہ اشکال باقی نہ رہا۔
    ۲… اصحاب کہف کا تین سو سال تک بغیر کھائے پیئے زندہ رہنا خود قرآن کریم میں مذکور ہے :
    ’’و لبثوا فی کھفھم ثلٰث مائۃ سنین و ازادادو تسعا (الکہف:۲۵)‘‘
    ۳… حدیث میں ہے کہ رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب دجال ظاہر ہوگا تو شدید قحط ہوگا اور اہل ایمان کو کھانا میسر نہ آئے گا۔ اس پر صحابہؓ نے عرض کیا کہ یارسول اﷲ! اس وقت اہل ایمان کا کیا حال ہوگا؟
    آپﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’یجزئھم مایجزی اہل السماء من التسبیح والتقدیس‘‘ یعنی اس وقت اہل ایمان کو فرشتوں کی طرح تسبیح وتقدیس ہی غذا کا کام دے گی۔
    (مشکوٰۃ ص ۴۷۷)
    ۴… اور حدیث میں ہے کہ نبی اکرمﷺ کئی کئی دن کا صومِ وصال رکھتے اور یہ فرماتے : ’’ایکم مثلی انی ابیت یطعمنی ربی ویسقینی‘‘ (بخاری ج۲ ص۱۰۱۲) تم میں کون شخص میری مثل ہے کہ جو ’’صوم وصال‘‘ میں میری برابری کرے۔ میرا پروردگار مجھے غیب سے کھلاتا ہے اور پلاتا ہے۔ یہ غیبی طعام میری غذا ہے۔ معلوم ہوا کہ طعام و شراب عام ہے۔ خواہ حسی ہو یا غیبی ہو۔ لہٰذا وماجعلنھم جسدالا یاکلون الطعام سے یہ استدلال کرنا کہ جسم عنصری کا بغیر طعام و شراب کے زندہ رہنا ناممکن ہے غلط ہے۔ اس لئے کہ طعام و شراب عام ہے کہ خواہ حسی ہو یا معنوی۔
    ۵… حضرت آدم علیہ السلام کی جنت میں آسمانوں پر خوراک دنیوی نہ تھی۔ نیز حضرت مسیح علیہ السلام نفخہ جبرئیل سے پیدا ہونے کے باوجود جبرئیل امین کی طرح تسبیح و تہلیل سے زندگی کیوں نہیں بسر فرماسکتے؟
    ’’کماقال تعالی: ان مثل عیسیٰ عند اﷲ کمثل اٰدم (آل عمران:۵۹)‘‘
    جو آدم علیہ السلام آسمانوں پر کھاتے تھے وہی عیسیٰ علیہ السلام کھاتے ہیں۔
    ۶… حضرت یونس علیہ السلام کا شکم ماہی میں بغیر کھائے پئے زندہ رہنا قرآن کریم میں صراحتاً مذکور ہے۔ ان کے بارے میں حق تعالیٰ کا ارشاد: ’’فلولا انہ کان من المسبّحین للبث فی بطنہ الی یوم یبعثون (الصفت:۱۴۳،۱۴۴)‘‘
    اس پر صاف دلالت کرتا ہے کہ یونس علیہ السلام اگر مسبّحین میں سے نہ ہوتے تو اسی طرح قیامت تک مچھلی کے پیٹ میں ٹھہرے رہتے اور بغیر کھائے پئے زندہ رہتے۔
    • Like Like x 1
  3. ‏ مارچ 17, 2015 #3
    مبشر شاہ

    مبشر شاہ رکن عملہ منتظم اعلی

    میرے حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں میں زندہ موجود ہیں
    • Like Like x 1

اس صفحے کی تشہیر