1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

آیت : أَيْنَمَا تَكُونُوا يُدْرِكْكُمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنْتُمْ فِي بُرُوجٍ مُشَيَّدَةٍ ۗ

خادمِ اعلیٰ نے 'آیات مریم و عیسیٰ علیھما السلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اگست 12, 2014

  1. ‏ اگست 12, 2014 #1
    خادمِ اعلیٰ

    خادمِ اعلیٰ رکن عملہ ناظم پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    آیت : أَيْنَمَا تَكُونُوا يُدْرِكْكُمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنْتُمْ فِي بُرُوجٍ مُشَيَّدَةٍ ۗ
    یعنی جس جگہ تم ہو اسی جگہ موت تمیں پکڑے گی .اگرچہ تم بڑے مرتفع برجوں میں بھی بودوباش اختیارکرو .
    (النساء ٧٨ )


    قادیانی استدال :

    اس آیت میں صریح ثابت ہوتا ہے کے موت اور لوازم موت ہر جگہ جسم خاکی پر وارد ہوتے ہیں .یہی سنت اللہ ہے اور اس جگہ بھی استثناء کے طور پر کوئی ایسی عبارت بلکہ کوئی ایسا کلمہ بھی نہیں لکھا گیا ہے جس سے مسیح باہر رہ جاتا پس بلاشبہ یہ اشارہ النص بھی مسیح ابن مریم کی موت پر دلالت کر رہے ہیں موت کے تعاقب سے مرد زمانہ کا اثر ہے جو صعف اور پیروی یا ارضی و آفات مخبرالی الموت تک پہچانا ہے اس سے کوئی نفس مخلوق خالی نہیں (ازالہ صفحہ ٦٢٢ روحانی خزائن جلد ٣ صفحہ ٤٣٦ )
    الجواب
    یہاں بھی مرزے قادیانی نے تحریف قرانی کا ارتکاب کر کے غلط نتیجہ کشید کرنے کی نہ مرد کوشش کی ہے اس لئے سب سے پہلے آیت کے صحیح معنی و مہفوم پر نظر کرنا ضروری ہے اپ صلی اللہ علیہ وسلم جب صحابہ اکرام رضی اللہ عنہ کے ساتھہ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے کفار مکہ نے حملہ کرنے کا پروگرام ترتیب دیا ..اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار کے مقابلے کی تیاری کا حکم فرمایا تو بعض کمزور طبع حضرات یا منافقین نے جنگ سے جی چرانا چاہا ان کی تنبیہ کے لئے یہ آیات نازل ہوئیں کئی رکوع اسی مضمون سے متلعق نازل ہوۓ ان میں یہ آیات کریمہ بھی ہے " کہ جنگ میں جانے سے جی چرا کر تم موت سے نہیں بچ سکتے موت تو کہیں بھی آ سکتی ہے ..اگرچہ بلند و بالا برجوں میں کیو نہ رہو پھر بھی موت آے گی " اب اس آیت میں موت کا آنا لازمی ہے اس کا بیان ہو رہا ہے یہ کہاں ہے کے عیسیٰ علیہ اسلام فوت ہو گئے ؟؟

    تمام اہل اسلام کا عقیدہ ہے کے تمام مخلوق کیطرح عیسیٰ علیہ اسلام پر بھی موت آئے گی بحث اس میں یہ ہے کے وہ اس وقت زندہ ہے یا فوت ہو گئے ..مرزے قادیانی کا موقف ہے کے وہ فوت ہو گئے اس آیت میں ایک لفظ بھی ایسا نہیں جس سے ثابت ہو کے وہ فوت ہو گئے .پس مرزے کا یہ دجل اور تحریف ہے مرزے کے دل کا چور بھی مرزا کو ملامت کرتا تھا کے تم غلط استدلال کر رہے ہو اس لئے مجبوراََ اسے کہنا پڑھا "یہ اشارہ النص بھی مسسیح بن مریم کی موت پر دلالت کر رہے ہیں " مرزے نے غلط کہا اس میں اشارہ النص نہیں بلکہ مرزا قادیانی کی "شرارۃالنفس " نے اسے اس تحریف پر مجبور کیا ہے .

    مرزا کا کہنا "موت اور لوازم موت ہر جگہ جسم خاکی پر وارد ہوتے ہیں " یہاں مرزا کو یاد رکھنا چاہیے کے جس طرح مسلمان و کافر امتی اور نبی کی کفیت موت میں فرق ہے اس طرح زمین پر رہنے والے اور آسمان پر رہنے والے اجسام کے لوازم موت یا اثرات میں بھی فرق ہے سیدنا عیسیٰ علیہ اسلام نفحہ جبرئیل علیہ اسلام سے پیدا ہوۓ . اس لئے آسمان پر قیام فرشتوں کی طرح ان کے جسم مبارک پر اثرات کے مرتب کا فرق ظاہر و باہر ہے ..مرزا کا مرشد ابلیس بھی اگر اب تک زندہ ہے تو اس کے جسم پر اثرات و لوازم موت میں مرزا کی نسبت تفاوت ہے .تو زمین پر رہنے والوں اور ساکنان سماء کا اجسام پر لوازم موت کے تفاوت و اثرات سے انکار نہیں کرنا چاہیے .

    " اور زمانہ سے جسم پر لوازم موت وارد ہوتے ہیں " یہ صرف مرزے قادیانی کا عقیدہ نہیں بلکے کفار مکہ ،مادہ پرست ، منکرین بعثت بھی یہی کہتے ہیں " و قالوا ماھی الا حیاتنا الدنیا نموت ونحیی وما یھلکنا الا الدھر (جاثیہ ٢٤ ) وہ (کفار )کہتے تھے کے ہمیں دنیوی زندگی ہی کافی ہے ہم مرتے اور پیدا ہوتے ہیں اور حوادث زمانہ ہی ہمیں ہلاک کرتے ہیں .
    کفار مکہ ومنکرین بعثت حوادث زمانہ کو موت اور لوازم موت سمجھتے تھے .یہی راگ آج مرزا قادیانی الاپ رہا ہے جبکہ موت مسلمانوں کے نزدیک صرف اور صرف مشیت الہی" یفعل ما یشاء " اور" مشیت" ' ذات باری تعالیٰ کی مرضی و منشاء پر منحصر ہے کوئی ماں کے پیٹ سے مردہ برآمد ہوا ،کوئی چند ساعات ،کوئی چند سال ،کوئی چند صدیاں ، جس کو جتنا چاہے زندہ رکھے یہ خالق کی مرضی پر منحصر ہے جب چاہے جسے موت دے عیسیٰ علیہ اسلام ابھی زندہ ہیں ان کی وفات کا وقوع کا اس آیت میں اشارہ یا شائبہ تک نہیں .پس جبکہ مرزا اخسرالدنیا و اخراۃ کا مصدق ہے

    مرزا نے اپنی غلط برآری کے لئے آیت میں تحریف کر کے اشارہ النص ثابت کرنا چاہی . جبکہ " صراصۃ النص بل رفعھ اللھ " (قرآن ) " ان عیسیٰ لم یمت " (حدیث ) " ان ینزل فیکم " (حدیث ) کی مجودگی میں اس بات پر دلیل ہے کے مرزے قادیانی نے یہاں بھی تحریف سے کام لیا .

    یدر ککم الموت ..یہ مضارع ہے .موت تم کو پائے گی نہ کے پا چکی ..مضارع کو ماضی میں لینا ،عیسیٰ علیہ اسلام جن کی تخصیص منقولی ثابت ہو چکی ان کو عموم میں ثابت کرنا .قادیانی دجل کا شہکار ہے .
    • Dumb Dumb x 1

اس صفحے کی تشہیر