1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

آیت خاتم النبیین پر قادیانی اعتراضات (اعتراض نمبر۱۱:یاایھاالرسل کلوامن الطیبات)

محمدابوبکرصدیق نے 'عقیدہ ختم نبوت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ ستمبر 21, 2014

  1. ‏ ستمبر 21, 2014 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    آیت خاتم النبیین پر قادیانی اعتراضات (اعتراض نمبر۱۱:یاایھاالرسل کلوامن الطیبات)
    قادیانی :’’ یا ایھا الرسل کلوا من الطیبات واعملوا صالحا۰ مومنون ۵۱‘‘ یہ آیت آپ ﷺ پر نازل ہوئی ۔ حضور ﷺ واحد ہیں مگر رسل جمع کا صیغہ ہے۔ پس ثابت ہوا کہ حضور ﷺ اور آپ ﷺ کے بعد آنے والے رسول مراد ہیں۔ جن کو یہ حکم ہے کہ میرے رسولو ! پاک چیزیں کھائو اور نیک عمل کرو۔ ورنہ کیا خدا تعالیٰ وفات شدہ رسولوں کو حکم دے رہا ہے؟ کہ اٹھو پاک کھانے کھائو اور نیک کام کرو۔ (احمدیہ پاکٹ ص ۴۶۷)
    تبلیغی پاکٹ کے مصنف سے زیادہ ایک مرزائی سردار عبدالرحمن مہر سنگھ نے کمال کیا ہے۔ اس نے بھلوال ضلع سرگودھا سے ایک اشتہار نکالا ہے۔ جس کے جواب کے لئے بیس ہزار انعامی چیلنج کا اعلان ہے۔ اشتہار کا عنوان ہے :’’ پاک محمد نبیوں کا بادشاہ‘‘ اس میں اجرائے نبوت کے دلائل دیتے ہوئے مندرجہ بالا آیت بھی پیش کی ہے۔ جس کی تمہید اس نے اس طرح ذکر کی ہے کہ:
    ’’ آنحضرت ﷺ سے بیشتر کے انبیاء کی طرز زندگی خوراک ‘ پوشاک وغیرہ سادہ ہوا کرتی تھی۔ اکثر نبی جو اور کھجور پر گزارہ کیا کرتے تھے۔ مگر زمانہ مستقبل میں آنے والے رسولوں کوفرمایا:’’ یا ایھا الرسل کلوا من الطیبات۰‘‘اے آنے والے رسولو! تمہارے زمانہ میں بے شمار پیسٹری اور مٹھائیاں اور نفیس اکل وشرب کی چیزیں طیار ہوں گی۔ پر تم ان میں سے پاک اور ستھری چیزیں کھایا کرنا جو کچھ تم کرو گے میںخوب جانتا ہوں۔ اﷲ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ زمانہ مستقبل میں گونا گوں مٹھائیاں اور ٹوسٹ تیار ہوں گے۔ یہ حکم حضور کو حضرت آدم ‘ نوح ابراھیم ‘ یوسف ‘ ادریس علیہم السلام کے لئے نہیں دیا گیا تھا کہ قبروں سے اٹھو اور نہا دھوکر پاک اور طیب چیزیں کھایا کرو ۔ کیونکہ وہ ہزاروں سال سے بہشت میں مزے کررہے ہیں۔ پس یہ حکم آنے والے امتی نبیوں کے متعلق آنحضرت ﷺ پر نازل ہوا تھا۔‘‘(اشتہار مذکورہ ص ۲)
    جواب ۱:سورۃ مومنون کے دوسرے رکوع سے اس آیت کریمہ تک انبیاء سابقین کا ذکر ہے۔ سب سے آخر میں حضرت مسیح علیہ السلام کا ذکر ان الفاظ میں فرمایا:
    ’’ وجعلنا ابن مریم وامہ واٰوینھما الیٰ ربوۃ ذات قرار ومعین۰ مومنون ۵۰‘‘اس سے اگلی آیت نمبر ۵۱ میں فرمایا :’’ یا ایھا الرسل کلوامن الطیبات واعملو ا صالحا۰ مومنون ۵۱‘‘{ہم نے مسیح علیہ السلام اور ان کی والدہ کو بڑی نشانی بنایا۔ اور ہم نے ان دونوں کو ایک ایسی بلند زمین پر لے جاکر پناہ دی جو بوجہ غلات میوہ جات ہونے کے ٹھہرنے کے قابل اور شاداب تھی۔ اے میرے پیغمبرو ! تم اور تمہاری امتیں نفیس چیزیں کھائو اور نیک کام کرو۔ اور میں تم سب کے کئے ہوئے کاموں کو خوب جانتا ہوں۔}
    اگلی آیت نمبر ۵۲ میں فرمایا :’’ وان ھذہ امتکم امۃ واحدۃ وانا ربکم فاتقون۰ مومنون ۵۲‘‘{اور ہم نے ان سب سے یہی کہا کہ یہ ہے تمہارا طریقہ وہ ایک ہی طریقہ ہے۔(اور حاصل اس طریقہ کا یہ ہے )میں تمہارا رب ہوں۔ سو تم مجھ سے ڈرتے رہو۔}
    ان آیات میں حکایت ماضیہ کے ضمن میں یہ بتلانا مقصود ہے کہ پاک چیزیں ‘ نفیس اشیاء کا استعمال کرو: ان ھذہ امتکم امۃ واحدہ‘‘یعنی اصول دین کا طریق کسی شریعت میں مختلف نہیں ہوا۔ گو یاانبیاء کرام علیہم السلام کو اپنی امتوں کے لئے نمونہ بننے کے لئے رزق حلال وطیب اور اپنا کردار صالح اپنانے کا ارشاد ہورہا ہے۔ تو اصل حکم امتوں کو دینا مقصود ہے۔ قرینہ آیت نمبر ۵۴ ہے۔ جس میں فرقہ بازی کے ارتکاب پر تنبیہ کی گئی ہے۔ ظاہر ہے کہ تفرقہ کا شکار امت ہوتی ہے نہ کہ انبیاء علیہم السلام : ’’فافہم وکن من الشاکرین‘‘
    جواب۲ :’’ عن ابی ہریرۃ ؓ قال قال رسول اﷲ ﷺ ان اﷲ طیب لایقبل الا طیبا وان اﷲ امرالمؤمنین بما امربہ المرسلین ۰ فقال یا ایھا الرسل کلوامن الطیبات واعملوا صالحا وقال اﷲ تعالیٰ یا ایھا الذین آمنوا کلوامن الطیبات مارزقناکم ۰ مسلم شریف کتاب البیوع باب الکسب وطلب الحلال‘ مسند احمد ص ۳۲۸ ج ۲‘ ابن کثیر ص ۲۴۷ ج ۳‘‘ {حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ پاک ہے۔ اور سوائے پاکیزگی کے کچھ قبول نہیں کرتا۔ بے شک اﷲ تعالیٰ مومنین کو وہی حکم دیاہے ۔ جو اس نے انبیاء کرام کو دیا تھا ۔ کہ اے رسولو! کھائو پاک چیزیں اور عمل صالح کرو۔ اور ایسا ہی مسلمانوں کو فرمایا اﷲ تعالیٰ نے کہ اے ایمان والو! کھائو پاک رزق سے جومیں نے تمہیںعطا کیا ہے۔}
    اب نفس آیت کے مفہوم کو سمجھیں کہ اﷲ تعالیٰ نے حضرت مریم اور ان کے صاحبزادے کو ایک اونچے محفوظ مقام ‘ شاداب جگہ پر جگہ دی ۔ اس واقعہ کے بیان کے بعد اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ (حضرت مسیح ہوں یااور رسول ) ہم نے ان سب کوحکم دیا تھا کہ پاک چیزیں کھائو۔ اور اچھے عمل کرو جو کچھ تم کرتے ہو میں اس کو جانتا ہوں۔ یہ سب لوگ امت واحدہ تھے۔ اورمیں تم سب کارب ہوں اور مجھ سے ڈرو۔ مگر اس تاکید کے باوجود انبیاء کے متبعین نے دین الٰہی میں پھوٹ ڈال دی اور ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔ اور ہر فرقہ اپنی جگہ خوش خرم کہ ہم حق پر ہیں:’’ فتقطعوا امرھم بینھم زبرا کل حزب بمالدیہم فرحون۰ مومنون ۵۳‘‘آگے آپ ﷺ کو حکم ہے کہ :’’ فذرھم فی غمرتھم۰ مومنون ۵۴‘‘ ان کو اس مدہوشی میں چھوڑدیں وقت معین تک۔ یعنی موت تک یا قیامت تک کہ بالآ خر میرے پاس آئیں گے ۔ اپنے کئے کی پائیں گے۔ (معلوم ہوا کہ آپ ﷺ کے بعد قیامت تک نبوت نہیں) اس لئے تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ انا والساعۃ کھاتین‘‘
    غرض یہ کہ آیات اپنے مطلب کو صاف صاف ظاہر کررہی ہیں۔ کہ یہ امر ہر ایک رسول کو اپنے اپنے وقت پر ہوتا رہا ہے ۔ فتقطعوا کی آیت نے تو بالکل بات واضح کردی کہ ان امتوں کا ذکر ہے جن پہلی امتوں نے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا تھا۔گذشتہ واقعہ کی خبر وحکایت بیان کی گئی ہے نہ کہ آنے والے رسولوں کا ذکر ہے؟۔
    جواب۳ : مرزا صاحب آنحضرت ﷺ کے بعد صرف ایک ہی رسول یعنی اپنے آپ کوہی صحیح مانتے ہیں۔ اسی طرح مرزا محمود اور بشیر احمد بھی آپ ﷺ کے بعد صرف ایک ہی نبی یعنی مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کے قائل ہیں۔ تو پھر ایک کے لئے :’’ یا ایھا الرسل ‘‘ جمع کا صیغہ کیوں استعمال کیا گیا؟علاوہ ازیں اگر یہ کہا جائے کہ اس آیت میں آنحضرت ﷺ اور بعد والا مرزا بھی معاذاﷲ مراد ہے تو پھر بھی تشنیہ کا صیغہ چاہئیے تھا نہ کہ جمع کا۔ الغرض کسی بھی احتمال پر قادیانی مفہوم صحیح ثابت نہیں ہوسکتا۔
    نوٹ:حضرت ابویسار سلمی کی روایت:’’ یا بنی آدم‘‘ کی بحث میں گذر چکی ہے۔وہ اس مسئلہ پر ضرور دیکھ لی جائے۔
    • Like Like x 1

اس صفحے کی تشہیر