1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

آیت خاتم النبیین پر قادیانی اعتراضات (اعتراض نمبر۱۳:وآخرین منھم لما یلحقوابھم)

محمدابوبکرصدیق نے 'عقیدہ ختم نبوت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ ستمبر 21, 2014

  1. ‏ ستمبر 21, 2014 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    آیت خاتم النبیین پر قادیانی اعتراضات (اعتراض نمبر۱۳:وآخرین منھم لما یلحقوابھم)

    قادیانی:’’ طائفہ قادیانیہ چونکہ ختم نبوت کا منکر ہے۔ اس لئے قرآن مجید کی تحریف کرتے ہوئے آیت :’’ھوالذی بعث فی الامیین رسولا منھم یتلوا علیھم آیاتہ ویزکیھم ویعلمھم الکتاب والحکمۃ وان کانوا من قبل لفی ضلال مبین وآخرین منھم لما یلحقوا بھم ۰ جمعہ ۲‘۳‘‘کو بھی ختم نبوت کی نفی کے لئے پیش کردیا کرتے ہیں۔ طریق استدلال یہ بیان کرتے ہیں کہ جیسے امیین میں ایک رسول عربی ﷺ مبعوث ہوئے تھے اس طرح بعدکے لوگوں میں بھی ایک نبی قادیان میں پیدا ہوگا۔(معاذاﷲ)
    جواب۱:مرزا قادیانی تحریر کرتا ہے :’’خدا وہ ہے جس نے امیوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو ان پر اس کی آئتیں پڑھتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اورانہیں کتاب اور حکمت سکھلاتا ہے۔ اگرچہ وہ پہلے اس سے صریح گمراہ تھے اور ایسا ہی وہ رسول جو ان کی تربیت کررہا ہے ۔ ایک دوسرے گروہ کی بھی تربیت کرے گا جو انہی میں سے ہوجاویں گے۔۔۔۔۔۔‘‘
    گویا تمام آیت معہ اپنے الفاظ مقدرہ کے یوں ہے :’’ ھوالذی بعث فی الامیین رسولا منھم یتلوا علیھم آیاتہ ویزکیھم ویعلمھم الکتاب والحکمۃ ویعلم آخرین منھم۔۔۔۔۔۔‘‘یعنی ہمارے خالص اور قابل بندے بجز صحابہ ؓ کے اور بھی ہیں جن کا گروہ کثیر آخری زمانہ میں پیدا ہوگا۔ اور جیسی نبی کریم ﷺ نے صحابہ ؓ کی تربیت فرمائی۔ ایسا ہی آنحضرت ﷺ اس گروہ کی بھی باطنی طور پر تربیت فرمائیں گے۔(آئینہ کمالات اسلام ص ۲۰۸ ‘ ۲۰۹ خزائن ص ۲۰۸‘۲۰۹ ج ۵)
    ماحصل عبارت کا یہ ہے کہ بہ اقرار مرزا قایانی اس آیت سے یہ ثابت نہیںہوتا کہ آخرین منھم میں بھی کوئی نبی مبعوث ہوگا۔ بلکہ وہ آیت کا مطلب یہ بتاتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جیسے پہلے لوگوں کی تعلیم وتربیت کا انتظام اپنے ذمہ رکھا تھا ویسے ہی بعد کے لوگوں کی تعلیم وتربیت بھی آنحضرت ﷺ ہی فرمائیں گے۔ نہ یہ کہ کوئی اور نبی آئے گا جو قادیان سے پیدا ہوکر ان کا ذمہ دار ہو اور وہ ان کا نبی بنے گا۔
    جواب۲: بیضاوی شریف میں ہے : ’’ وآخرین منھم عطف علی الامیین اوالمنصوب فی یعلمہم وھم الذین جاؤا بعد الصحابۃ الیٰ یوم الدین فان دعوتہ وتعلیمہ یعم الجمیع‘‘ {آخرین کا عطف امیین یا یعلمہم کی ضمیر پر ہے۔اور اس لفظ کا زیادہ کرنے سے آنحضرت ﷺ کی بعثت عامہ کا ذکر کیا گیا۔ کہ آپ ﷺ کی تعلیم ودعوت صحابہ ؓاور ان کے بعد قیامت کی صبح تک کے لئے عام ہے۔}
    خود آنحضرت ﷺ بھی فرماتے ہیں :’’انا نبی من ادرک حیا ومن یولد بعدی‘‘صرف موجودین کے لئے نہیں بلکہ ساری انسانیت اور ہمیشہ کے لئے ھادی ﷺ برحق ہوں۔
    جواب۳:القرآن یفسر بعضہ بعضاً کے تحت دیکھیں تو یہ آیت کریمہ دعائے خلیل کا جواب ہے۔سیدناابراھیم علیہ السلام نے بیت اﷲ کی تعمیر کی تکمیل پر دعا فرمائی تھی :’’ ربنا وابعث فیھم رسولا منھم یتلوا علیھم آیتک ویعلمھم الکتاب والحکمۃ ویزکیھم۰بقرہ ۱۲۹‘‘
    اب زیر بحث آیت :’’ھوالذی بعث فی الامیین رسولا منھم یتلوا علیہم آیاتہ ویزکیھم ویعلمھم الکتب والحکمۃ وان کانوا من قبل لفی ضلال مبین وآخرین منھم لما یلحقوابھم۰‘‘ میں اس دعا کی اجابت کا ذکر ہے۔ کہ دعائے خلیل کے نتیجہ میں وہ رسول معظم ان امییوںمیں مبعوث فرمایا لیکن صرف انہیں کے لئے نہیں بلکہ جمیع انسانیت کے لئے جو موجود ہیں ان کے لئے بھی جو ابھی موجود نہیں لیکن آئیں گے قیامت تک‘ سبھی کے لئے آپ ﷺ ہادی برحق ہیں۔ جیسے ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’ یا ایھا الناس انی رسول اﷲ الیکم جمیعا‘‘ یا آپ ﷺ کا فرمانا :’’ انی ارسلت الی الخلق کافۃ‘‘لہذا مرزا قادیانی دجال قایان اور اس کے چیلوں کا اس کو حضور ﷺ کی دو بعثتیں قرار دینا ۔ یا نئے رسول کے مبعوث ہونے کی دلیل بنانا سراسر دجالیت ہے۔ پس آیت کریمہ کی رو سے مبعوث واحد ہے اور مبعوث الیھم موجود وغائب سب کے لئے بعثت عامہ ہے۔
    جواب۴: رسولاً پر عطف کرنا صحیح نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ جو قید معطوف علیہ میں مقدم ہوتی ہے اس کی رعایت معطوف میں بھی ضروری ہے۔ چونکہ رسولاً معطوف علیہ ہے فی الامیین مقدم ہے۔ اس لئے فی الامیین کی رعایت وآخرین منھم میں بھی کرنی پڑے گی۔ پھر اس وقت یہ معنی ہوں گے کہ امیین میں اور رسول بھی آئیں گے۔ کیونکہ امیین سے مراد عرب ہیں۔ جیسا کہ صاحب بیضاوی نے لکھا ہے :’’فی الامیین ای فی العرب لان اکثرھم لایکتبون ولا یقرون‘‘ اور لفظ منھم کا بھی یہی تقاضا ہے ۔ جب کہ مرزا عرب نہیں تو مرزائیوں کے لئے سوائے دجل وکذب میں اضافہ کے استدلال باطل سے کوئی فائدہ نہ ہوا۔
    جواب۵:قرآن مجید کی اس آیت میں بعث کا لفظ ماضی کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اگر رسولاً پر عطف کریں تو پھر بعث مضارع کے معنوں میں لینا پڑے گا۔ ایک ہی وقت میں ماضی اور مضارع دونوں کا ارادہ کرنا ممتنع ہے۔
    جواب۶: اب آئیے دیکھئے کہ مفسرین حضرات جو قادیانی دجال سے قبل کے زمانہ کے ہیں ۔ وہ اس آیت کی تفسیر میں کیا ارشاد فرماتے ہیں:
    ’’قال المفسرون ھم الا عاجم یعنون بہ غیر العرب ای طائفہ کانت قالہ ابن عباس وجماعۃ وقال مقاتل یعنی التابعین من ھذہ الامۃ الذین یلحقون باوائلھم وفی الجملۃ معنی جمیع الا قوال فیہ کل من دخل فی الا سلام بعد النبی ﷺالی یوم القیامۃ فالمراد باالا میین العرب وباالآخرین سواھم من الامم۰ تفسیر کبیر ص ۴ جز۳ (مصر)‘‘{حضرت ابن عباس ؓ اور ایک جماعت مفسرین کہتے ہیں کہ آخرین سے مراد عجمی ہیں۔ (یعنی آپ ﷺ عرب وعجم کے لئے معلم ومربی ہیں) اور مقاتل کہتے ہیں کہ تابعین مراد ہیں۔ سب اقوال کا حاصل یہ ہے کہ امیین سے عرب مراد ہیں۔ اور آخرین سے سوائے عرب کے سب قومیں جو حضور ﷺ کے بعد قیامت تک اسلام میں داخل ہوں گے وہ سب مراد ہیں۔}
    ’’ وھم الذین جاؤا بعد الصحابۃ الیٰ یوم الدین ۰تفسیر ابومسعود ‘‘{آخرین سے مراد وہ لوگ ہیں جو صحابہ ؓ کے بعد قیامت تک آئیں گے۔ (ان سب کے لئے حضور ﷺ ہی نبی ہیں۔)}
    ’’ ھم الذین یأتون من بعدھم الیٰ یوم القیامۃ ۰ کشاف ص ۱۸۵ج۳‘‘
    جواب۷:بخاری شریف ص ۷۲۷ج ۲ مسلم شریف ص ۳۱۲ ج۲ ترمذی شریف ص ۲۳۲ج ۲ مشکوٰۃ شریف ص۵۷۶ پر ہے:
    ’’عن ابی ھریرۃ ؓقال کنا جلو ساعندالنبی فانزلت علیہ سورۃ الجمعۃ وآخرین منھم لما یلحقوا بھم قال قلت من ھم یا رسول اﷲ فلم یراجعہ حتیٰ سال ثلثا وفینا سلمان الفارسی وضع رسول اﷲ ﷺ یدہ علی سلمان ثم قال لوکان الا یمان عندالثریا لنالہ رجال او رجل من ھو لائ‘‘{حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں ہم نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر باش تھے کہ آپ ﷺ پر سورۃ جمعہ نازل ہوئی۔ وآخرین منھم لما یلحقوا بھم تو میں نے عرض کی یا رسول اﷲ ﷺ وہ کون ہیں ۔ آپ ﷺ نے خاموشی فرمائی۔ حتی کہ تیسری بار سوال عرض کرنے پر آپ ﷺ نے ہم میں بیٹھے ہوئے سلمان فارسی ؓپرہاتھ رکھ دیااور فرمایا اگر ایمان ثریا پر چلا گیا تو یہ لوگ (اہل فارس) اس کو پالیں گے۔ (رجال یارجل کے لفظ میں راوی کو شک ہے مگر اگلی روایت میں رجال کو متعین کردیا)}
    یعنی عجم یا فارس کی ایک جماعت کثیرہ جو ایمان کو تقویت دے گی اور امور ایمانیہ میں اعلیٰ مرتبہ پر ہوگی۔ عجم وفارس میں بڑے بڑے محدثین ‘ علمائ‘ مشائخ‘ فقہائ‘ مفسرین مقتدائ‘ مجددین وصوفیا‘ اسلام کے لئے باعث تقویت بنے۔ آخرین منھم لما یلحقوا بھم سے وہ مراد ہیں ۔ابن عباس ؓ وابوہریرہ ؓ سے لے کر ابو حنیفہ ؒ تک سبھی اسی رسول ہاشمی ﷺ کے در اقدس کے دریوزہ گرہیں۔ حاضر وغائب‘ امیین وآخرین سب ہی کے لئے آپ ﷺ کا در اقدس ﷺ وا ہے آئے جس کا جی چاہے۔ اس حدیث نے متعین کردیا کہ آپ ﷺ کی نبوت عامہ وتامہ وکافہ ہے۔ موجود وغائب عرب وعجم سب ہی کے لئے آپ ﷺ معلم ومز کی ہیں۔ اب فرمائیے کہ آپ ﷺ کی بعثت عامہ کا ذکر مبارک ہے یا کسی اور نئے نبی کے آنے کی بشارت؟۔ ایسا خیال کرنا باطل وبے دلیل دعویٰ ہے۔
    • Like Like x 2

اس صفحے کی تشہیر