1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

آیت خاتم النبیین پر قادیانی اعتراضات (اعتراض نمبر۱۴:واذاخذاﷲ میثاق النبیین)

محمدابوبکرصدیق نے 'عقیدہ ختم نبوت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ ستمبر 24, 2014

  1. ‏ ستمبر 24, 2014 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    آیت خاتم النبیین پر قادیانی اعتراضات (اعتراض نمبر۱۴:واذاخذاﷲ میثاق النبیین)

    قادیانی: کبھی کبھی آیت :’’واذ اخذاﷲ میثاق النبیین لما آتیتکم من کتاب وحکمۃ ثم جاء کم رسول مصدق لما معکم لتؤمنن بہ ولتنصربہ ۰ آل عمران۸۰‘‘اور آیت :’’ واذ اخذنا من النبیین میثاقھم ومنک ومن نوح الآیہ۰احزاب۷‘‘سے بھی استدلال کیا کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ سب انبیاء سے حتی کہ آنحضرت ﷺ سے بھی ایک رسول کے آنے کا واقعہ پیش کرکے اس کی تصدیق کرنے کا اور اس رسول کو ماننے کاوعدہ لیا جارہا ہے۔ وہ رسول کون ہوگا جو سب انبیاء اور آنحضرت ﷺ کے بعد آنے والا ہے۔ وہ مرزا غلام احمد قادیانی ہی ہے۔ نعوذباﷲ
    جواب۱:ہر دو آیات میں جس چیز کا خدا تعالیٰ انبیاء سے وعدہ لے رہے ہیں وہ الگ الگ چیزیں ہیں۔ پہلی آیت لیں تو ایک بہت عظیم الشان نبی کی تصدیق کا وعدہ لیا جارہا ہے جو آیت بتلارہی ہے کہ وہ نبی اعلیٰ منصب رکھتا ہوگا۔ جس کے لئے اﷲ تعالیٰ انبیاء کرام سے تاکیدی طور پر اس پر ایمان لانے کا وعدہ لے رہے ہیں۔اور جس کی امداد کے لئے سخت تاکید فرمائی جارہی ہے ۔وہ تو آنحضرت ﷺ ہی ہوسکتے ہیں۔
    مرزا قادیانی جیسے دجال کو اس میثاق ووعدہ کا مصداق ٹھہرانا جس قدر بعیداز عقل ونقل ہے اس قدر دنیا میں اور کوئی ظلم ہی نہیں ہوسکتا۔ پھر خود مرزا قادیانی بھی اس :’’ ثم جاء کم رسول‘‘ سے مراد آنحضرت ﷺ کو سمجھتا ہے۔ ملاحظہ ہو:
    ’’ اور یاد کر جب خدا نے تمام رسولوں سے عہد لیا کہ جب میں تمہیں کتاب وحکمت دوں گا اور پھر تمہارے پا س آخری زمانہ میںمیرا رسول آئے گا۔ جو تمہاری کتابوں کی تصدیق کرے گا۔ تمہیں اس پر ایمان لانا ہوگا۔ اور اس کی مدد کرنی ہوگی۔۔۔۔۔ اب ظاہر ہے کہ انبیاء تو اپنے اپنے وقت پر فوت ہوچکے ہیں۔ یہ حکم ہر نبی کی امت کے لئے ہے۔ کہ جب وہ رسول ظاہر ہو تو اس پر ایمان لائو۔ (حقیقت الوحی ص ۱۳۰‘۱۳۱ خزائن ص ۱۳۳‘۱۳۴ ج ۲۲)
    جب مرزا قادیانی نے اس کا مصداق رحمت دو عالم ﷺ کی ذات اقدس کو قرار دیا اور مرزئیوں کی لن ترانی کو مرزا نے درخور اعتنا نہیں سمجھا تو پھر ہم مرزائیوں کو کیوں گھاس ڈالیں؟۔
    دوسری آیت میں تبلیغ واشاعت احکامات الہیہ پر وعدہ لئے جانے کا تذکرہ ہے۔
    جواب۲:’’ثم جاء کم ‘‘ کے الفاط غور طلب ہیں۔ ان میں نبی کریم ﷺ کا تمام انبیاء کرام کے بعد تشریف لانے کو لفظ ( ثم )کے ساتھ اداکیا گیا ہے۔ جو لغت عرب میں تراخی کے لئے آتا ہے۔جب کہا جاتا ہے کہ :’’ جاء نی القوم ثم عمر‘‘تو لغت عرب میں اس کا یہی مفہوم ومعنی سمجھا جاتا ہے کہ پہلے تمام قوم آگئی پھر کچھ تراخی (مہلت) کے بعد سب کے آخر میں عمر آیا۔ لہذا :’’ ثم جاء کم رسول ‘‘کے معنی یہ ہوں گے کہ تمام انبیاء کے آنے کے بعد سب سے آخر میں آنحضرت ﷺ تشریف لائے۔یہ تو ختم نبوت کی دلیل ہوئی اور قادیانیت کے لئے نشترجان۔
    جواب۳: تمام مفسرین کرام اورامت نے : ’’ ثم جاء کم رسول‘‘سے مراد رحمت دو عالم ﷺ کی تشریف آوری کو اس کا مصداق قرار دیا ہے۔ تفسیر ابن کثیر ص ۱۷۷ ‘ تفسیر جامع البیان ص ۵۵ سے سیدنا علی المرتضی ؓ اور سیدنا ابن عباس ؓ کے حوالہ سے اس کی تفسیر یہ منقول ہے:
    ’’مابعث اﷲ نبیا من الانبیاء الا اخذ علیہ المیثاق لئن بعث اﷲ محمدا وھوحیی لیؤمنن بہ ولینصرن وآصرہ ان یاخذالمیثاق علی امۃ لئن بعث محمد وھم احیاء لیومنن بہ ولینصرنہ ۰‘‘{اﷲ رب العزت نے جس نبی کو بھی مبعوث فرمایا اس سے یہ عہد لیا کہ اگر تمہاری زندگی میں اﷲ نے نبی کریم ﷺ کو مبعوث کیا تو ان پر ضرور ایمان لائیں اور ان کی مدد کریں۔ اس طرح اﷲ تعالیٰ نے ہر اس نبی کو (جسے مبعوث کیا) حکم دیا کہ آپ اپنی امت سے پختہ عہدلیں کہ اگر اس امت کے ہوتے وہ نبی(آخرالزماں)تشریف لائیں تو وہ امت ضرور ان پر ایمان لائے اور اس کی نصرت کرے۔}
    رسول کا لفظ نکرہ تھا مگر حضرت علی ؓ وابن عباس ؓ نے اس کی تخصیص کرکے اس سے انکار کی گنجائش باقی نہ چھوری۔
    جواب۴:’’ ربنا وابعث فیھم رسولا۰ ھوالذی بعث فی الامیین رسولا۰ لقد جاء کم رسول من انفسکم۰ قد انزلنا الیکم ذکرا رسولا۰‘‘ان آیات میں بھی رسول نکرہ ہے۔ اگر ان کی تخصیص کرکے ان کا مصداق محمد عربی ﷺ کو لیا جاتا ہے تو :’’ جاء کم رسول ‘‘ میں کیوں نہیں لیا جاتا؟۔
    • Like Like x 1

اس صفحے کی تشہیر