1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

آیت خاتم النبیین پر قادیانی اعتراضات (اعتراض نمبر۲۱:لیستخلفنھم فی الارض)

محمدابوبکرصدیق نے 'عقیدہ ختم نبوت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ ستمبر 24, 2014

  1. ‏ ستمبر 24, 2014 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    آیت خاتم النبیین پر قادیانی اعتراضات (اعتراض نمبر۲۱:لیستخلفنھم فی الارض)

    قادیانی:’’وعداﷲ الذین آمنوا منکم وعملوا الصالحات لیستخلفنھم فی الارض کمااستخلف الذین من قبلھم ولیمکنن لھم دینھم الذی ارتضی لھم۰النور۵۵‘‘اس سے ثابت ہوا کہ حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت دائود علیہ السلام کی طرح خلیفے یعنی غیر تشریعی نبی ہوں گے۔
    جواب۱:اس کا مطلب یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ مسلمانوں کو سلطنت عنایت کرے گا نہ یہ کہ نبی خلیفہ ہوں گے ورنہ دوسری آیت کا کیا جواب ہے؟۔ کہ:’’عسٰی ربکم ان یھلک عدوکم ویستخلفکم فی الارض۰ الاعراف ۱۲۹‘‘{قریب ہے تمارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کردے اور تمہیں زمین کا بادشاہ بنادے۔}
    اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ تم سب کو غیر تشریعی نبی بنادے گا۔اور جگہ آتا ہے :’’ھوالذی جعلکم خلٰئف فی الارض ورفع بعضکم فوق بعض درجت لیبلوکم فیمااتاکم۰ انعام ۱۶۶‘‘{وہ ذات پاک ہے جس نے تم کو دنیا میں جانشین بنایا اور بعض کے بعض پردرجات بلند کئے۔ تا کہ اس نے جو کچھ تمہیں دیا ہے اس میں آزمائش کرے۔}
    اس کا بھی ہر گز یہ مطلب نہیں کہ اﷲ تعالیٰ انہیں غیر تشریعی نبی بنائے۔ تفسیر معالم التنزیل میں لیستخلفنھم کا معنی لکھتے ہیں: ’’ ای لیورثنہم ارض الکفار من العرب والعجم فجعلہم ملوکا سادتھا وسکانھا۰‘‘ یعنی مسلمانوں کو کافروں (عرب ہوں یا عجمی) کی زمین کا وارث بنائے گا۔ اور ان کو بادشاہ اور فرماں روا اور وہاں کا باشندہ بنادے گا۔ نہ یہ مطلب ہے کہ غیر تشریعی نبی بنادے گا۔ نیز یہی آیت تو ختم نبوت پر دال ہے۔ کہ حضور ﷺ کے بعد نبوت کا سلسلہ اب بند ہے۔ آگے خلفاء ہی ہوں گے۔ پھر یہ کہ وعدہ خلافت بھی ا س سے ہے جو مومن بھی ہو اور اعمال صالحہ کرنے والا بھی ہو۔ کیا صحابہ کرام ؓ ان دونوں صفات سے موصوف نہ تھے؟۔اگر تھے تو نبوت تشریعی یا غیر تشریعی کا دعویٰ انہوں نے کیوں نہ کیا۔ اور اگر جواب نفی میں ہے تو یہ قرآن عظیم کے بھی خلاف ہے۔ کیونکہ قرآن شاہد ہے کہ صحابہ کرام ؓ کی جماعت ان دونوں صفات سے موصوف تھی اور بعض صحابہ کرام ؓ خلیفہ بھی بنے مگر پھر بھی نبوت غیر تشریعی کا دعویٰ ان سے ثابت نہیں ہے۔
    جواب۲:مرزائیو ! اپنے پیر ومرشد کی خبر لو کہ وہ اس آیت میں خلفاء سے کیا مراد لیتا ہے؟۔ چنانچہ خود مرزا قادیانی اس آیت سے ایسے خلیفے مراد لیتا ہے جس کا مصداق خلفاء راشدین ہیں۔ چنانچہ مندرجہ بالا آیت کے تحت مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ :
    (۱)… ’’ نبی تو اس امت میں آنے سے رہے۔ اب اگر خلفاء بھی نہ آویں اور وقتاً فوقتاً روحانی زندگی کے کرشمے نہ دکھلاویں تو پھر اسلام کی روحانیت کا خاتمہ ہے۔‘‘(شہادۃ القرآن ص ۶۰ روحانی خزائن ص ۳۵۵ ج ۶)
    (۲)… ’’ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اس نبی کریم کے خلیفے وقتاً فوقتاً بھیجتا رہوں گا اور خلیفہ کے لفظ کو اس اشارہ کے لئے اختیار کیا گیا ہے کہ وہ نبی کے جانشین ہوں گے۔‘‘ (شہادۃ القران ص ۴۳ خزائن ص ۳۳۹ج۶)
    ان حوالہ جات میں واضح طور پر تسلیم کیا گیا ہے کہ امت محمدیہ ﷺ کی اصلاح وتربیت کے لئے کوئی نبی معبوث نہیں ہوگا بلکہ انبیاء کی بجائے مجدد اور روحانی خلیفے یعنی وارثان محمد ﷺ آتے رہیں گے۔
    (۳)… ’’ قرآن نے اس امت میں خلیفوں کے پیدا ہونے کا وعدہ کیا ہے۔۔۔۔۔ ایک زمانہ گزرنے کے بعد جب پاک تعلیم پر خیالات فاسدہ کا ایک غبارپڑجاتا ہے۔ اور حق خالص کا چہرہ چھپ جاتا ہے ۔ تب اس خوبصورت چہرے کو دکھلانے کے لئے مجدد اور محدث اور روحانی خلیفے آتے ہیں۔۔۔۔۔ مجددوں اور روحانی خلیفوں کی اس امت میں ایسے ہی طور سے ضرورت ہے جیسا کہ قدیم سے انبیاء کی ضرورت پیش آتی رہی ہے۔‘‘(شہادۃ القرآن ص ۴۳‘۴۴ روحانی خزائن ص ۳۳۹‘۳۴۰ ج ۶)
    مگر افسوس کہ مرزا صاحب نے بہت جلد قرآن کی اس تعلیم کو بھلا دیا اور خود نبوت کے مدعی بن بیٹھے۔
    نوٹ:مرزا قادیانی کی ان تمام عبارتوں سے ثابت ہوا کہ جیسے حضرت ابوبکرصدیق ؓخلیفہ تھے اور وہ آنحضرت ﷺ کے جانشین تھے لیکن نبی نہ تھے۔ اسی طرح آنحضرت ﷺ کی امت میں خلفاء ہی آیا کریں گے نبی ہر گز نہیں آئیں گے۔
    جواب۳:(الف)… ’’ وعداﷲ الذین آمنوا منکم۰‘‘سے صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالیٰ علیہم اجمعین کی تخصیص ہے۔ موعود لھم صحابہؓ ہیں ورنہ منکم نہ فرمایا جاتا۔
    (ب)… استخلاف فی الارض سے مراد زمین کی حکومت اور سلطنت ہے۔ جیسا کہ دوسری آیت شریف میں ہے:’’ویستخلفنکم فی الارض۰ الاعراف ۱۲۹‘‘مرزا حکمران تو کجا غلام ابن غلام تھا۔
    (ج)… تمکین دین ہوگی۔ لعین قادیانی انگریزی عدالتوں کی خاک چھانتا رہا۔
    (د)… خوف کے بعد امن ہوگا۔ غلام قادیانی بوجہ خوف اپنی حفاظت کے لئے حفاظتی کتارکھتا تھا۔
    ’’ ڈاکٹر محمد اسماعیل نے مجھ سے بیان کیا کہ مسیح موعود (مردود قادیانی) نے اپنے گھر کی حفاظت کے لئے ایک دفعہ گدی کتا بھی رکھا تھا۔ وہ دروازے پر بندھا رہتا تھا۔ اور اس کا نام شیرو تھا۔‘‘(سیرت المہدی ص ۲۹۸ج ۳)
    (ھ)…:’’ لایشرکون بی شیاء ‘‘جبکہ مرزا مشرک تھا۔
    (الف)… ’’انت منی بمنزلۃ ولدی۰‘‘ (حقیقت الوحی ص ۷۶ خزائن ص ۸۹ ج ۲۲)
    (ب)… حیات عیسیٰ علیہ السلام کے عقیدہ پر پچاس سال سے زائد عرصہ قائم رہا۔ پھر اس کو شرک قرار دیا۔ تو پچاس سال سے زائد عرصہ مشرک رہا۔
    (ج)… مسلم شریف میں ہے : ’’من حلف بغیر اﷲ فقد اشرک‘‘ جبکہ مرزا قادیانی کہتا ہے:
    تیرے منہ ہی کی قسم ہے میرے پیارے احمد
    تیری خاطر سب بار اٹھا یا ہم نے
    (درثمین اردو ص ۱۴آئینہ کمالات اسلام ص۲۲۵)
    جواب۴:سرالخلافۃ ص ۱۶ خزائن ص ۳۳۶ ج ۸ پر مرزا نے یہ آیت اور دیگر چند آیات لکھ کر ان آیات کے متعلق لکھتا ہے:’’فاالحاصل ان ھذہ الا آیات کلھا مخبر عن خلافۃ الصدیق ولیس لہ محمل آخر‘‘یہ آیات صدیق اکبر ؓ کی خلافت پر دال ہیں۔ ان کا کوئی دوسرا محمل نہیں۔‘‘
    حدیث:…’’ عن ابی ھریرۃ ؓیحدث عن النبی ﷺ کانت بنواسرائیل تسوسھم الا نبیاء کلما ھلک نبی خلفہ نبی وانہ لانبی بعدی وستکون خلفاء فتکثر۰بخاری ص ۴۹۱ ج ۱‘ مسلم ص ۱۲۶ج ۲‘‘{حضرت ابوہریرہ ؓ آنحضرت ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بنی اسرائیل کی سیاست خود ان کے انبیاء کیا کرتے تھے۔ جب کسی نبی کی وفات ہوتی تھی تو ان کے بعد دوسرا نبی آجاتا تھا۔ لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ البتہ خلفاء ہوں گے اور بہت ہوں گے۔}
    • Like Like x 1

اس صفحے کی تشہیر