1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

آیت خاتم النبیین پر قادیانی اعتراضات (اعتراض نمبر۲۴:حتیٰ یمیزالخبیث من الطیب )

محمدابوبکرصدیق نے 'متفرقات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ ستمبر 24, 2014

  1. ‏ ستمبر 24, 2014 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    آیت خاتم النبیین پر قادیانی اعتراضات (اعتراض نمبر۲۴:حتیٰ یمیزالخبیث من الطیب )
    قادیانی: ’’ ماکان اﷲ لیذر المومنین علیٰ ماانتم علیہ حتیٰ یمیز الخبیث من الطیب وماکان اﷲ لیطلعکم علیٰ الغیب ولکن اﷲ یجتبی من رسلہ۰ آل عمران ۱۷۹‘‘
    استدلال : خدا تعالیٰ ہر مومن کو اطلاع علی الغیب نہیں دیتے بلکہ اپنے رسولوں میں سے جس کو چاہے گا بھیجے گا۔(مرزائی پاکٹ بک ص ۴۵۰)
    جواب۱:آیت مذکورہ بالا میں ’’ بھیجے گا ‘‘کس لفظ کا ترجمہ ہے۔ اس آیت میں یہ لفظ قطعاً نہیں البتہ اطلاع علیٰ الغیب کی خبر ہے۔ جو غیر نبی کو بھی تمہارے نزدیک ہوتی رہتی ہے۔( بحوالہ براہین احمدیہ ہر چہار حصص حصہ اول ص ۳۱۵) پر لکھا ہے کہ :
    ’’ یہ بھی ان کو معلوم رہے کہ تحقیق وجود الہام ربانی کے لیے جو خاص خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتا ہے اورامور غیبیہ پر مشتمل ہوتا ہے۔ ایک اور بھی راستہ کھلا ہے اور وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ امت محمدیہ میں جو سچے دین پر ثابت اور قائم ہے۔ ہمیشہ ایسے لوگ پیدا کرتا ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ملہم ہوکر ایسے امور غیبیہ بتلاتے ہیں۔ جن کا تبلانا بجز خدائے وحدہ لاشریک کے کسی کے اختیار میں نہیں۔‘‘
    اور اسی کتاب کے صفحہ۸۰ پر مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ :
    ’’ وحی رسالت بوجہ عدم ضرورت منقطع ہے۔‘‘
    نیز رسلاً میں عموم ہے اور قادیانیوںکا دعویٰ خاص کا ہے۔ لہذا تقریب نام نہ ہونے کی وجہ سے ان کی دلیل باطل ٹھہری ۔نیز یجتبیمیں اﷲ فاعل ہے جس سے مستقل نبی کا چننا ثابت ہوتا ہے۔جبکہ قادیانی لوگ مستقل نبی کے آنے کے قائل نہیں۔
    جواب۲:نیز حکیم نور الدین نے مرزا غلام احمد قادیانی کی وفات پر یہی آیت پڑھ کر بیان کیا کہ یہ مؤمنوںکا امتحان اور جانچنا ہے اور دوسرے امتیاز بین المخلصین والمنافقین ہے۔لہذا اس آیت سے صرف ابتلا مراد ہے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کی موت پر تم کو آزمائش میں ڈالا گیا۔‘‘(ریویو آف ریلیجنز بابت جون ‘ جولائی ۱۹۰۸ء ص ۲۲۵ ج ۷)
    حکیم نور الدین نے اس آیت کو کسی نبی کے آنے پر استدلال کرکے نہیں پڑھا تھا تاکہ اجرائے نبوت ثابت ہو۔
    جواب۳:تمہارا یہ کہنا کہ تمیز پہلے ہوچکی تھی بھی غلط ہے۔ کیونکہ سورۃ توبہ میں اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ جو نزول کے اعتبار سے آخری ہے:
    ’’ من اھل المدینۃ مردوا علی النفاق لاتعلمھم نحن نعلمھم سنعذبھم مرتین یردون الیٰ عذاب غلیظ ۰ توبہ ۱۰۲‘‘ آل عمران آیت ۱۱۹ میں ہے:’’ واذا لقوکم قالوا آمنا واذا خلوا عضوا علیکم الانامل من الغیض۰‘‘ تو یہ تمیز مومنوں ومنافقوں میں ہوکررہے گی ۔ اﷲ تعالیٰ ہر ایک کو نہیں بتائے گا۔ اپنے نبی کو بتائے گا اور تمیز ہوگی۔
    جواب۴:اجتباء کا معنی کسی لغت کی کتاب میں ’’ بھیجنا ‘‘ نہیں۔ آیت کا ترجمہ یہ ہے :
    {اور اﷲ ایسا نہیں کہ مومنوں کو اس حالت پر چھوڑ دے جس پر (آئے گروہ کفار ومنافقین) تم ہو (بلکہ خدا انہیں اس حالت سے بلند کرنا چاہتا ہے) یہاں تک کہ ناپاک کو پاک سے الگ کردے۔ (اور مومنین سے ہر قسم کی ایمانی اور عملی کمزوریاں دور کردے) اور اﷲ ایسا بھی نہیں کہ تم کو (اپنی ہدایات وقوانین کے )غیب پر اطلاع دے لیکن اﷲ تعالیٰ اپنے رسولوں میں سے جسے چاہتا ہے (اس مرتبہ پر) فضیلت بخشتا ہے۔(جیسا کہ محمد رسول اﷲ ﷺ کو چنا) سو تم اﷲ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائو اگر تم ایمان لائو اور تقویٰ اختیار کرو تو تمہیں بڑا اجر ملے گا۔ }
    گویا اس آیت میں رسولوں کے سلسلہ کو جاری رکھنے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔
    جواب۵: سوال کرنے والوں نے کہا تھا کہ ہمیں فرداً فرداً غیب پر کیوں اطلاع نہیں دی جاتی؟۔ جواب میں فرمایا‘ یہ رسول کا کام ہے۔ آئندہ بعثت رسل کے متعلق نہ کسی نے سوال کیا نہ جواب دیا گیا۔
    جواب۶: یہ کہنا کہ آئندہ رسول آئے گا یہ مطلب رکھتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے ذریعہ خبیث وطیب میں امتیاز نہیں ہوا۔ حالانکہ قرآن مجید فرماتا ہے : یحل لھم الطیبات ویحرم علیہم الخبائث۰ الاعراف ۱۵۷‘‘ ’’جاء الحق وزھق الباطل ان الباطل کان زھوقا۰ بنی اسرائیل ۸۱‘‘ حق آگیا اور باطل ہلاک ہوگیا ۔ بے شک باطل ہلاک ہونے والا ہی تھا۔ پس حق وباطل میں حضور ﷺ کے ذریعہ امتیاز قائم ہوچکا ہے۔ اس لئے اب کسی اور رسول کی ضرورت نہیں رہی۔
    اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ ایسا نہیں کہ وہ مدعیان ایمان کو اسی طرح (منافق ومخلص مومن ملے جلے) ہی رہنے دے۔ حتیٰ کہ وہ بدباطن منافق اور مخلص مومن کے درمیان بالکل تمیز قائم کردے گا۔ چنانچہ تمیز کلی تبوک تک مکمل ہوگئی۔ مخلص مومن لوگ باقی رہ گئے اور منافق چھٹ گئے۔ حتیٰ کہ منافقین کے نام لے لے کر مسجد نبوی سے اٹھادیاگیا تھا۔
    • Like Like x 1

اس صفحے کی تشہیر