1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

آیت خاتم النبیین پر قادیانی اعتراضات (اعتراض نمبر۲۵:اھدناالصراط المستقیم)

محمدابوبکرصدیق نے 'ختم نبوت پر اعتراضات کے جوابات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ ستمبر 24, 2014

  1. ‏ ستمبر 24, 2014 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    آیت خاتم النبیین پر قادیانی اعتراضات (اعتراض نمبر۲۵:اھدناالصراط المستقیم)
    قادیانی: ’’ اھدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیہم ۰ فاتحہ‘‘قادیانی استدلال : اے اﷲ ہم کو سیدھا راستہ دکھا ان لوگوں کا راستہ جن پر تونے اپنی نعمت نازل کی۔ گویا ہم کو بھی وہ نعمتیں عطا فرما۔ جو پہلے لوگوں کو تونے عطا فرمائیں۔ اب سوال یہ ہوتا ہے کہ وہ نعمتیں کیا تھیں۔ قرآن مجید میں ہے: یاقوم اذکرو انعمۃ اﷲ علیکم اذجعل فیکم انبیاء وجعلکم ملوکا۰ مائدہ ۳۰‘‘موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا کہ اے قوم تم اپنے خدا کی نعمت کو یاد کرو جب اس نے تم میں سے نبی بنائے اور تم کو بادشاہ بنایا تو ثابت ہوا کہ نبوت اورباد شاہی دونوں نعمتیں ہیں۔ جو خدا تعالیٰ کسی قوم کو دیا کرتا ہے۔ خدا تعالیٰ نے سورۃ فاتحہ میں دعا سکھائی ہے اور خود ہی نبوت کو نعمت قرار دیا ہے اور دعا کا سکھانا بتاتا ہے کہ خدا تعالیٰ اس کی قبولیت کا فیصلہ فرماچکا ہے۔ لہذا امت محمدیہ میں نبوت ثابت ہوئی۔(احمدیہ پاکٹ بک ص ۴۶۷‘۴۶۶ مصنف عبدالرحمن خادم ۱۹۴۵ء آخری ایڈیشن )
    جواب۱:اس آیت میں منعم علیہم کی راہ پر چلنے اور قائم رہنے کی دعا ہے نہ کہ نبی بننے کی۔ جس کے یہ معنی ہیں کہ ان کے طریق عمل کو نمونہ بنائیں۔ جیسا کہ ارشاد خدا وندی ہے :’’ لقد کان لکم فی رسول اﷲ اسوۃ حسنۃ۰ احزاب ۲۱‘‘
    جواب۲:اگر انبیاء کی پیروی سے آدمی نبی بن سکتا ہے تو خدا کی پیروی سے خدا بن جائے گا۔ اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے :’’ ان ھذا صراطی مستقیما فاتبعوں۰ انعام ۱۵۳‘‘کیا گورنر کے راستہ پر چلنے والا گورنر بن جاتا ہے۔ یا چپڑاسی کے راستہ پر چلنے والا چپڑاسی بن جاتا ہے؟۔
    جواب۳:نبوت دعائوں سے نہیں ملا کرتی ۔ اگر نبوت دعائوں سے ملے تو پھر نبوت کسبی ہوجائے گی۔ حالانکہ نبوت وہبی ہے۔ جیسے :’’ اﷲ اعلم حیث یجعل رسالۃ۰ انعام ۱۲۴‘‘
    جواب۴:حضور ﷺ نے بھی یہ دعا مانگی حالانکہ آپ ﷺ اس سے پہلے نبی بن چکے تھے۔ آپ ﷺ کا ہر نماز میں اھدنا الصراط المستقیم کے الفاظ سے دعا کرنا اس امر کی واضح دلیل ہے کہ اس سے حصول نبوت مراد نہیں۔
    جواب۵:تیرہ سو برس میں کوئی نبی نہ ہوا تو کیا کسی کی بھی دعا قبول نہ ہوئی۔ جس مذہب میں کروڑوں آدمیوں کی دعا قبول نہ ہو تو اس کو پھر خیر امت کہلانے کا حق نہیں۔
    جواب۶:اھدنا صیغہ جمع ہے۔ یعنی اﷲ تعالیٰ ہم سب کو نبی بنائے۔ اﷲ تعالیٰ نے مرزا قایانی کی بھی دعا قبول نہ کی۔ اگر مرزا قادیانی کے سب پیروکار نبی بن جاتے تو امت کہاں سے آتی؟۔
    جواب۷:عورتیں بھی یہ دعا کرتی ہیں۔ کیا وہ بھی منصب نبوت پر فائز ہوسکتی ہیں۔ اگر جواب نفی میں ہے تو پھر انہیں یہ دعا کیوں سکھلائی جاتی ہے؟۔ اگر جواب ہاں میں ہے تو یہ تمہارے خلاف ہے۔
    جواب۸:نبوت اور بادشاہت اﷲ تعالیٰ کی نعمت ہے۔ جیسا کہ سوال میں آیت ذکر کی گئی ۔ اب فرمائیے آپ کے قول کے مطابق مرزا نبی تو بنا مگر بادشاہ نہ بنا تو کیا آدھی دعا قبول ہوئی؟۔
    جواب۹:شریعت اور کتاب بھی اﷲ تعالیٰ کی نعمت ہے بلکہ نعمت عظمیٰ ۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ واذکروا نعمت اﷲ علیکم وما انزل علیکم من الکتاب والحکمۃ۰ بقرہ ۲۳۱‘‘تو پھر قادیانیو! تمہارے ہاں اس پر کیوں پابندی ہے۔ اگر دعا سے نبوت لینی ہے تو پھر نعمت تامہ یعنی تشریعی نبوت لینی چاہئیے۔ تاکہ ڈبل نعمت حاصل ہو۔ حالانکہ اس کے تم بھی قائل نہیں ہو۔
    جواب۱۰:یہ کہ مرزا غلام احمد قادیانی شہادت القران ص ۵۶ روحانی خزائن ص ۳۵۲ ج ۶ میں آیت :’’ اھدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیہم۰‘‘کے تحت لکھتا ہے:
    ’’ پس اس آیت سے بھی کھلے کھلے طور پر یہی ثابت ہوا کہ خدا تعالیٰ اس امت کو ظلی طور پر تمام انبیاء کا وارث ٹھہراتا ہے ۔ تاکہ انبیاء کا وجود ظلی طور پر ہمیشہ باقی رہے اور دنیا ان کے وجود سے کبھی خالی نہ ہو۔‘‘
    اس آیت سے مراد مرزا غلام احمد قادیانی وہ نبی ظلی لیتا ہے جو ہمیشہ ہمیشہ دنیا میں چلے آتے ہیں۔ جن سے دنیا کبھی بھی خالی نہیں رہی۔ (علماء ومجددین ) مگر امت مرزائیہ مرزا قادیانی سے پہلے آنحضرت ﷺکے بعد کسی نبی کو تسلیم نہیں کرتی۔ سو مرزا قادیانی کا مطلب اس کی امت کے مطلب سے بالکل جدا ہے۔ اب وہ خودفیصلہ کریں کہ امت درست کہتی ہے یا ان کا متنبی؟۔
    جواب۱۱:نزول نعمت سے مراد نبوت کا ملنا نہیں۔ کیونکہ یہ نعمت مریم علیہ السلام پر بھی نازل ہوئی۔ فرمایا :’’ واذکروا نعمتی علیک وعلیٰ والدتک۰ المائدہ ۱۱۰‘‘{یعنی (اے عیسیٰ علیہ السلام)میری نعمت کو یاد کر (جو میں نے)تجھ پر اور تیری ماں پر کی۔}
    ایساہی زید بن حارثہ ؓ پر انعام ہوا۔ فرمایا :’’ واذتقول للذی انعم اﷲ علیہ۰ الاحزاب۳۷‘‘{یعنی جب تو اسے جس پر اﷲ تعالیٰ نے انعام کیا کہتا تھا۔}
    اسی طرح سب مسلمانوں پر انعام الٰہی ہوا کہ بھائی بھائی بن گئے:’’وذکرو نعمۃ اﷲ علیکم ۔۔۔۔۔۔ فاصبحتم بنعمتہ اخوانا۰ آل عمران ۱۰۲‘‘پس اس سے نبوت لازم نہیں آتی۔
    جواب۱۲:’’ اھدنا الصراط المستقیم۔۔۔۔۔۔ الخ‘‘ کی دعا منعم علیہ گروہ کی طرح استقامت کی راہ پر گامزن رہنے کی تمنا ہے۔ کیونکہ جو ممکن انعامات ہیں اسی راہ پر ملیں گے۔ مثلاً ہر قسم کے انوار وبرکات اور محبت ویقین کامل اور تائیدات سماویہ اور قبولیت ومعرفت تامہ عزیمت واستقامت کے انعام جو امت محمدیہ ﷺ کے لئے مقرر ہیں۔
    جواب۱۳:اگر نبوت طلب کرنے کی دعا ہے تو غلام احمد قادیانی نبی بن جانے کے بعد یہ دعا کیوں مانگتا تھا۔ کیا اسے اپنی نبوت پر یقین نہ تھا؟۔
    جواب۱۴:مرزا قادیانی نے لکھا:’’اھدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیہم۰‘‘تو دل میں یہی ملحوظ رکھوکہ میں صحابہ اور مسیح موعود کی جماعت کی راہ طلب کرتا ہوں۔(تحفہ گولڑویہ ص ۱۲۴روحانی خزائن ص ۲۱۸ ج ۱۷)
    مسیح موعود کی پچر تو خردجال (مرزا قادیانی)نے خود لگائی ہے۔ لیکن :’’ اھدنا الصراط المستقیم‘‘ کا معنی مرزا کی راہ طلب کرنا نہ کہ مرزا (مسیح موعود )بننا۔ پس مرزا کے اس اقرارسے مرزائیوں کی دلیل کا مرزائیوں کے دلوں کی طرح خانہ خراب ہوگیا۔ اس آیت میں منعم علیہم کی نعمت طلب کرنے کی تعلیم نہیں دی گئی۔بلکہ ان کے راستہ پر چلنے کی دعا سکھلائی گئی ہے۔ انبیاء کا راستہ شریعت ومذہب ہے کہ وہ اس کی پابندی اور اتباع کی طرف لوگوں کو دعوت دیتے ہیں۔ اگر نبوت طلب کرنے کی تعلیم دینی مقصود ہوتی تو :’’ صراط الذین انعمت علیہم ‘‘ کی بجائے :’’ اعطانا ماانعمت علیہم‘‘ ہوتا۔
    جواب۱۵:’’ اھدنا الصراط المستقیم۰‘‘ یہ دعا نبی کریم ﷺ نے بھی مانگی بلکہ یہ دعا مانگنا آپ ﷺ نے امت کو سکھلایا۔ لیکن یہ دعا آپ ﷺ نے اس وقت مانگی جب آپ ﷺ نبی منتخب ہوچکے تھے۔ قرآن مجید آپﷺ پر اترنا شروع ہوچکا تھا۔ ظاہر ہے کہ آ پ ﷺ اس دعا سے نبی نہیں بنے تو پھر اس دعا کا فائدہ؟۔چودہ سو سال میں امت میں سے کسی ایک کی یہ دعا قبول ہوئی یا نہ ۔ اگر ہوئی تو وہ کون ہے جو نبی بنا؟۔ اگردعا قبول نہیں ہوئی تو پھر امت خیر امت نہ ہوئی۔اگر صرف مرزا کی دعا قبول ہوئی تو وہ بھی تیسرا حصہ اس لئے کہ نبوت کے علاوہ بادشاہت بھی نعمت ہے۔ بادشاہت نہ ملی اور نبوت مستقلہ تشریعی وہ بھی نہ ملی۔ صرف غیر تشریعی ملی ۔ تو دعا کا صرف تیسرا حصہ قبول ہوا۔ جب سے آیت نازل ہوئی اس وقت سے لے کر آج تک اربوں لوگوں نے دعا مانگی مگر صرف ایک بار قبولیت ہوئی وہ بھی تیسرا حصہ۔(معاذاﷲ)
    قابل غور
    مرزائیوں کے لاہوری گروپ کے گرو محمد علی نے اپنی نام نہاد تفسیر بیان القرآن ص۵ج۱ میں اس نکتہ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے :
    ’’ یہاں (منعم علیہم میں) نبی کا لفظ آجانے سے بعض لوگوں کو یہ ٹھوکر لگی ہے کہ خود مقام نبوت بھی اس دعا کے ذریعے سے مل سکتا ہے۔ اور گویا ہرمسلمان ہر روز بار بار مقام نبوت کو ہی اس دعا کے ذریعہ سے طلب کرتا ہے۔یہ ایک اصولی غلطی ہے اس لئے کہ نبوت محض موہبت ہے اور نبوت میں انسان کی جدوجہد اور اس کی سعی کو کوئی دخل نہیں۔ ایک وہ چیزیں ہیں جو موہبت سے ملتی ہیں اور ایک وہ جو انسان کی جدوجہد سے ملتی ہیں۔ نبوت اول میں سے ہے۔‘‘
    محمد علی لاہوری کا کہنا ہے کہ :’’ بعض لوگوں کو ٹھوکر لگی ۔ یہ اصولی غلطی ہے۔‘‘ یہ ٹھوکر بعض لوگوں کو نہیں بلکہ محمد علی لاہوری کے چیف گرو مرزا غلام احمد قادیانی کو لگی اور پس اصولی غلطی کا وہ (مرزا قادیانی) ہی مرتکب ہوا ہے۔ چنانچہ ذیل کی عبارت ملاحظہ ہو۔ حقیقت الوحی ص ۱۰۰ خزائن ص ۱۰۴ ج ۲۲ پر مرزا قادیانی نے لکھا ہے:
    ’’افسوس کہ حال کے بعض نادان مسلمانوں نے اپنے اس نبی کریم کا کچھ قدر نہیں کیا۔ اور ہر ایک بات میں ٹھوکر کھائی۔ وہ ختم نبوت کے ایسے معنی کرتے ہیں جس سے آنحضرت ﷺ کی ہجونکلتی ہے نہ کہ تعریف ۔ آنحضرت ﷺ کے نفس پاک میں افاضہ اور تکمیل نفوس کے لئے کوئی قوت نہ تھی۔ اور وہ صرف خشک شریعت کو سکھلانے آئے تھے۔ حالانکہ اﷲ تعالیٰ اس امت کو یہ دعا سکھلاتا ہے: ’’ اھدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیہم۰‘‘ پس اگر یہ امت پہلے نبیوں کی وارث نہیں اور اس انعام میں سے ان کو کچھ حصہ نہیں تو پھر یہ دعا کیوں سکھلائی گئی۔‘‘
    اور متضاد بات کو دونوں (گرواور چیلہ) ٹھوکر قرار دے رہے ہیں۔ کون سچا ہے ؟۔ یہ فیصلہ قارئین پر چھوڑتا ہوں۔
    • Like Like x 1

اس صفحے کی تشہیر