1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

آیت خاتم النبیین پر قادیانی اعتراضات (اعتراض نمبر۲۶:اﷲیصطفی من الملائکۃ)

محمدابوبکرصدیق نے 'متفرقات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ ستمبر 24, 2014

  1. ‏ ستمبر 24, 2014 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    آیت خاتم النبیین پر قادیانی اعتراضات (اعتراض نمبر۲۶:اﷲیصطفی من الملائکۃ)

    قادیانی:’’اﷲ یصطفی من الملائکۃ رسلا ومن الناس۰ حج ۷۵‘‘
    مرزائی استدلال: یصطفی مضارع ہے جو حال اور استقبال اور استمرار کے لئے ہے۔ مراد یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ فرشتوں اور انسانوں سے رسول چنتا ہے۔ اور چنتارہے گا۔ یہ آیت حضور ﷺ پر نازل ہوئی ثابت ہوا کہ حضور ﷺ کے بعد بھی نبی آئیں گے۔ حضور ﷺ واحد ہیں اور رسل جمع ہے۔ واحد پر جمع کا اطلاق نہیں ہوسکتا۔
    جواب۱:اس آیت میں کوئی ایسا لفظ نہیں جس سے ثابت ہو کہ حضور ﷺ کے بعد نبی معبوث ہوسکتے ہیں۔بلکہ اﷲ تعالیٰ نے اپنا قانون بیان فرمایا ہے کہ وہ فرشتوں میں سے رسول چنتا ہے۔ جو اﷲ تعالیٰ کا پیغام انبیاء علیہم السلا م پر لاتے ہیں اور انسانوں میں سے رسول چنتا ہے جو انسانوں میں اس کلام الٰہی کی تبلیغ کرتے تھے۔ اس سنت قدیم کی رو سے اب بھی یہ رسول بھیجا ہے۔ اس آیت سے پہلے معبود ان باطلہ کی تردید ہے کہ اگر وہ معبود حقیقی ہوتے تو وہ بھی اپنے رسول مخلوق کی طرف بھیجتے ۔
    جواب۲:یہ کسی جاہل کا ہی عقیدہ ہے کہ ہر مضارع استمرار کے لئے ہوتا ہے۔ اس آیت میں صیغہ مضارع فعل کے اثبات کے لئے ہے نہ کہ استمرار وتجدد کے لئے جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا :’’ ھوالذی ینزل علیٰ عبدہ آیات بینت۰ الحدید ۹‘‘ یہاں بھی مضارع ہے کیا اس سے بھی لازم آتا ہے کہ اس میں استمرار ہو اور ہمیشہ قیامت تک کے لئے قرآن نازل ہوتا رہے ؟۔
    مرزا جی کا الہام
    ’’یریدون ان یروا طمشک ‘‘کہ بابو الٰہی بخش چاہتا ہے کہ تیسرا حیض دیکھے یا کسی پلیدی یا ناپاکی پر اطلاع پائے مگر خدا تعالیٰ تجھے اپنے انعامات دکھلائے گا جو متواتر ہوں گے۔ اور تجھ میں حیض نہیں بلکہ وہ بچہ ہوگیا ہے جو بمنزلہ اطفال اﷲ کے ہے۔ (تمتہ حقیقت الوحی ص ۱۴۳ روحانی خزائن ص ۵۸۱ ج ۲۲) یہاں بھی مضارع ہے کیا مرزا کا حیض قیامت تک چلتا رہے گا۔ اور بابو الٰہی بخش اسے ہمیشہ قیامت تک دیکھتے رہیں گے؟۔
    درحقیقت اس آیت میں یصطفی زمانہ استقبال کے لئے نہیں بلکہ حکایت ہے حال ماضیہ کی۔ جیسے باری تعالیٰ کا ارشاد ہے: فریقاً کذبتم وفریقا تقتلون۰ بقرہ ۸۷‘‘اس کے یہ معنی نہیں کہ اے یہود یو! حضرت محمد ﷺ کے بعد جو نبی آئیں گے تم ان کو قتل کرو گے بلکہ حکایت ہے حال ماضیہ کی یا جیسے :’’اذ یرفع ابراھیم القواعد‘‘ میں بھی حکایت ہے حال ماضیہ کی ۔(دیکھو تفسیر بیضاوی)
    جواب۳:فرمایا :’’ اﷲ یصطفی من الملائکۃ رسلا ومن الناس‘‘ فرشتوں میںیا انسانوں سے رسول ہوں گے۔ مرزا قادیانی نہ تو فرشتے ہیں اور نہ انسان ہیں۔ کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ:
    کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں
    مرزا جی تو کسی حالت میں نبی نہیں بنتے۔ خود مرزا صاحب ہماری تائید کرتے ہوئے لکھتے ہیں :’’ ایک عام لفظ کو کسی خاص معنے میں محدود کرنا صریح شرارت ہے۔‘‘(نورالقران نمبر۲ص۶۹ روحانی خزائن ص ۴۴۴ ج ۹)
    جواب۴:آیت بالا کا قادیانی ترجمہ ملاحظہ ہو: لکھتے ہیں اﷲ یصطفی کا مطلب یہ ہے کہ عندالضرورت خدا تعالیٰ رسول بھیجتارہے گا۔(مرزائی تبلیغی باکٹ بک ص ۴۵۰) پہلی بات تو یہ ہے کہ ’’ عندالضرورت ‘‘ آیت کے کس لفظ کا ترجمہ ہے؟۔ حالانکہ مرزا قادیانی نے لکھا کہ:’’ اب رسولوں کی ضرورت نہیں۔وحی رسالت بوجہ عدم ضرورت منقطع ہے۔‘‘ (براہین احمدیہ ہرچہار حصص حصہ اول حاشیہ ص ۲۱۵ خزائن ص ۲۳۸ ج ۱)
    اور اسی طرح ازالہ اوہام ص ۲۵۳ خزائن ص۴۳۲ ج ۳ میں بھی لکھا ہے کہ:’’ وحی رسالت تابقیامت منقطع ہے۔‘‘
    جواب۵:بایں وجہ استدلال مرزائیہ باطل ہے کہ لفظ ’’رسلاً‘‘ کے اندر عموم ہے جس میں نبی اور رسول ومجدد ومحدث سب شامل ہیں۔ جیسا کہ مرزانے آئینہ کمالات ص ۳۲۲ خزائن ص ۳۲۲ ج ۵ پر لکھا ہے :’’ رسول کا لفظ عام ہے جس میں رسول اور نبی اور محدث داخل ہیں۔‘‘
    ایسے ہی ایام الصلح ص ۱۹۵ خزائن ص ۴۱۹ ج ۱۴ حاشیہ پر لکھا ہے کہ :’’رسولوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجے جاتے ہیں۔ خواہ وہ نبی ہوں یا رسول یا محدث یا مجدد ہوں۔‘‘
    اسی طرح شہادت القرآن ص ۲۸ خزائن ص ۳۲۳ ج ۶ پر ہے :’’رسل سے مراد مرسل ہیں خواہ وہ رسول ہوں یا نبی ہوں یا مجدد ہوں۔‘‘
    سو ظاہر ہے کہ مرزائیوں کا دعویٰ فرد خاص کا ہے۔ دلیل میں عموم ہے لہذا تقریب تام نہ ہونے کی وجہ سے استدلال باطل ہے تو دلیل ‘ دلیل نہ ٹھہری۔
    جواب۶:نیز چننے والے نبیوں کے اﷲ تعالیٰ ہی ہیں۔ اصطفی فعل خدا وندی ہے اور اﷲ تعالیٰ کا چنا ہوا مستقل نبی ہوتا ہے جیسا کہ آل عمران آیت نمبر۳۳میںالفاظ قرآن ہیں:’’ان اﷲ اصطفی آدم ونوحاً وآل ابراھیم وآل عمران علی العالمین۰‘‘ اس آیت میں مستقل نبیوں کا ہونا مسلم ہے تو ویسے اﷲ تعالیٰ کا چننا آپ کے عقیدہ کے خلاف ہے۔ (مباحثہ راولپنڈی ص ۱۷۵)
    جواب۷:خدا تعالیٰ کی مشیت پر ہے ۔ جس طرح اس نے ایک وقت تک کتابیں بھیجیں اسی طرح رسول بھیجے ۔ اب اگر وہ کتابیں نہ بھیجے یا رسول نہ بھیجے اور نبوت ختم کردے تو اس پر کوئی الزام نہیں آتا۔سیاق کلام بتاتا ہے کہ آیت میں ان لوگوں کے خیال کی تردید ہے جو انسانوں کو الوہیت کا مقام دیتے ہیں۔ فرمایا معززترین گروہ تو انبیاء ورسل کا ہے۔ مگر وہ بھی الوہیت کے اہل نہیں یا بطور اصول فرمایا گیا کہ اﷲ تعالیٰ انسانوں اور ملائکہ کو رسالت کا منصب تو دیتا ہے مگر خدائی نہیں دیتا۔ تم کیوں ان کی طرف خدائی منسوب کرتے ہو؟۔ سیاق کلام کے ساتھ مذکورہ ترجمہ پر غور کرلیا جائے تو قایانی استدلال باطل ہوجائے گا۔ :’’یا ایھا الناس ضرب مثل۔۔۔۔۔۔۔ ترجع الامور۰ الحج ۷۳‘۷۴‘‘ {اے لوگو ایک مثال بیان کی جاتی ہے اسے غور سے سنو۔ وہ جنہیں تم اﷲ کے سوا پکارتے ہو ایک مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتے۔ گو وہ سب اس کے لئے اکھٹے ہوجائیں۔ اور اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین کر لے جائے تو اسے اس سے چھڑا نہیں سکتے۔ طالب اور مطلوب دونوں کمزور ہیں۔ انہوں نے اﷲ تعالیٰ کو نہیں پہچانا جیسا کہ پہچاننے کا حق ہے۔ یقینا اﷲ طاقتور غالب ہے۔ اﷲ فرشتوں اور انسانوں میں سے رسولوں کا اصطفاء کرتا ہے ۔ اﷲ سمیع وبصیر ہے۔ وہ جانتا ہے کہ جو ان کے آگے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے اور اﷲ ہی کی طرف سب کام لوٹائے جائیں گے۔}
    جواب۸:اگر اس طرح استمرارتجددی مراد لینا جائز ہے تو ذیل کی آیات میں کیسے استمرار لیا جائے گا:
    (۱)… ’’ کذالک یوحی الیک والی الذین من قبلک اﷲ العزیز الحکیم۰ شوریٰ ۲‘‘ {اﷲ جو عزیزو حکیم ہے اسی طرح تیری طرف اور ان کی طرف جو تجھ سے پہلے ہوئے وحی کرتا ہے۔}
    (۲)… ’’ان اﷲ یامٔرکم ان تؤدوا الامانات الیٰ اھلھا۰نساء ۵۸‘‘ {اﷲ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ اپنی امانتیں ان کے سپرد کرو جو ان کے اہل ہیں۔}
    (۳)… ’’ یحکم بھا النبیون الذین اسلموا۰ المائدہ ۴۴‘‘ {یعنی اسی کے مطابق نبی جو فرمانبردار تھے فیصلہ کرتے تھے۔}
    اب کیا آنحضرت ﷺ کی طرف وحی آئندہ بھی نازل ہوگی۔ کیا آمانات کے متعلق آئندہ بھی احکام نازل ہوں گے۔ کیا تورات کے مطابق آئندہ بھی نبی فیصلے کیا کریں گے؟۔
    جواب۹: استمرارتجددی کے لئے اصول حسب ذیل ہے:’’ وقد تفید الاستمرار التجددی بالقرائن اذا کان الفعل مضارعا‘‘ (قواعداللغۃ العربیہ) یعنی استمرار تجددی کا اندازہ قرائن سے لگایا جاتا ہے۔ اور بعد خاتم النبیین ‘ارسال رسل کے لئے توکوئی قرینہ نہیں۔ البتہ اس کے خلاف تمام قرآن مجید قرینہ ہے۔
    جواب۱۰:ضرورت نبوت کے مقتضیکون کون سے اسباب ہیں؟۔
    (۱)… جبکہ کتاب اﷲ اصلاً مفقود ہوجائے۔
    (۲)… جبکہ کتاب اﷲ محرف ومبدل ہوجائے۔
    (۳)… جبکہ احکام الٰہی میں سے کوئی حکم بوجہ مختص باالقوم ہونے یا مختص باالزمان ہونے سے قابل تنسیخ ہو یا کوئی نیا حکم آنا ہو۔
    (۴)… جبکہ شریعت میں ابھی تکمیل کی ضرورت ہو۔
    (۵)…جبکہ الگ الگ امتوں اور الگ الگ ملکوں کے لئے الگ الگ نبی ہوں اور ساری دنیا کے لئے ابھی ایک نبی نہ آیا ہو۔
    (۶)… جبکہ اس کتاب کے ہمیشہ تک محفوظ رہنے کا وعدہ الٰہی نہ ہو۔
    (۷)… جبکہ اس نبی کا فیض روحانی بندہو جائے اور اس دین میں کامل انسان بنانے کی طاقت نہ رہے۔
    قارئین پر واضح ہوچکا ہوگا کہ اجرائے نبوت کے مذکورہ تقاضوں میں سے کوئی بھی ایسا تقاضا باقی نہیں رہ گیا ہے جس کی تکمیل کے لئے کسی اور نبی کی بعثت کی ضرورت ہو۔ لہذا ختم نبوت میں کوئی شبہ باقی نہیں رہ جاتا۔
    جواب۱۱: اگر رسل جمع ہے تو ملائکہ بھی جمع ہے۔ کیا بہت سے فرشتے وحی لایا کرتے ہیں؟ نہیں ہر گز نہیں۔ بلکہ صرف حضرت جبرائیل علیہ السلام۔ مرزا قادیانی نے لکھا ہے۔
    (الف)…’’ رسولوں کی تعلیم اور اسلام کے لئے یہی سنۃ اﷲ قدیم سے جاری ہے۔ وہ جو بواسطہ جبرائیل علیہ السلام کے اور بذریعہ نزول آیات ربانی کلام رحمانی کے سکھلائے جاتے ہیں۔‘‘(ازالہ ص ۵۸۴ خزائن ص ۴۱۵ ج ۳)
    (ب)… ’’ کیونکہ حسب تصریح قرآن کریم رسول اسی کو کہتے ہیں جس نے احکام وعقائد دین جبرائیل کے ذریعہ حاصل کئے ہوں۔‘‘(ازالہ ص ۵۳۴ خزائن ص ۳۸۷ ج ۳)
    پس جب پیغام رساں فرشتہ کو باوجود واحد ہونے کے جمع کے صیغہ سے ذکر کیا گیا ہے تو پھر حضرت نبی کریم ﷺ (واحد) پر اس کا اطلاق کیوں ناجائز ہے؟۔
    • Like Like x 1

اس صفحے کی تشہیر