1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

آیت خاتم النبیین پر قادیانی اعتراضات ( اعتراض نمبر۲۹:ولا تنکحوا ازواجہ)

محمدابوبکرصدیق نے 'ختم نبوت پر اعتراضات کے جوابات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ ستمبر 28, 2014

  1. ‏ ستمبر 28, 2014 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    آیت خاتم النبیین پر قادیانی اعتراضات ( اعتراض نمبر۲۹:ولا تنکحوا ازواجہ)
    قادیانی:’’ ولا تنکحوا ازواجہ من بعدہ ابدا۰ احزاب ۵۳‘‘{اور نہ نکاح کرو اس نبی ﷺ کی بیویوں سے اس کی وفات کے بعد کبھی۔}
    قادیانیوں کی طرف سے سب سے زیادہ مضحکہ خیز استدلال اس آیت کی بنا پر کیا گیا ہے۔ کہ اب اگر آنحضرت ﷺ کے بعد سلسلہ نبوت ختم ہوگیا ہے تو کوئی نبی نہ آئے گا۔ نہ اس کی وفات کے بعد اس کی بیویاں زندہ رہیں گی۔ اور نہ ان کے نکاح کا سوال ہی زیر بحث آئے گا۔ اب اگر اس آیت کو قرآن سے نکال دیا جائے تو کونسا نقص لازم آتا ہے۔۔۔ ورنہ ماننا پڑتا ہے ۔۔۔کہ آنحضرت ﷺ کے بعد سلسلہ نبوت جاری ہے۔ اور قیامت تک انبیاء کی ازواج مطہرات ان کی وفات کے بعد بیوگی ہی کی حالت میں رہیں گی۔ کیونکہ رسول اﷲکا لفظ نکرہ ہے جس میں ہر رسول داخل ہے۔
    جواب۱:رسول اﷲکا لفظ معرفہ ہے اور یہاں بھی وہی رسول اﷲ مراد ہے جس کا اس سورۃ میں کئی بار ذکر آچکا ہے۔ جیسے :
    ’’لقد کان لکم فی رسول اﷲ اسوۃ حسنۃ ۰ احزاب ۲۲‘‘{تمہارے لئے رسول اﷲ ﷺ میں اسوئہ حسنہ ہے۔}
    ’’ قالو ھذا ماوعدنا اﷲ ورسولہ۰ احزاب۲۱‘‘{مومنوں نے کہا یہی ہے جس کا اﷲ نے اور اس کے رسول ﷺ نے وعدہ دیا تھا۔}
    ’’ ولکن رسول اﷲ وخاتم النبیین۰ احزاب ۴۰‘‘{مگر اﷲ کا رسول اور آخری نبی ہے۔}
    ’’ ان کنتن تردنا اﷲ ورسولہ ۰ احزاب ۲۹‘‘{اگر تم اﷲ اور اس کے رسول ﷺ کوچاہتی ہو۔}
    اور وہی رسول اﷲ مراد ہے جس کے متعلق کتب حدیث میں ہزار ہا مرتبہ یہ الفاظ آتے ہیں:’’ قال رسول اﷲ ﷺ‘‘ کیا کوئی بندہ جاہل یہ کہہ سکتا ہے کہ قال رسول اﷲ ﷺ نکرہ ہے۔ تو اس سے مراد مرزا قادیانی ہے۔ معاذاﷲ
    جواب۲:نحو کا مسلمہ قاعدہ ہے کہ اضافت معنوی نکرہ کو معرفہ بنادیتی ہے۔ جیسے عندہ زید ‘ لفظ رسول ‘ اﷲ کی طرف مضاف ہوکر معرفہ ہوگیا ۔ فرمایا :’’ محمد رسول اﷲ والذین معہ۰ فتح ‘‘
    جواب۳: یہ کہنا کہ اب کوئی نبی نہ آئے گا تو اس آیت کی کیا ضرورت ہے ایسا ہی ہے جیسے کوئی یہ کہہ دے کہ :
    (۱)… آدم علیہ السلام کے بے ماں باپ یا عیسیٰ علیہ السلام کے بے باپ ہونے کا ذکر قرآن سے نکال دئیے جانے کے قابل ہے۔ کیونکہ اب کوئی اس طرح پیدا نہیں ہوتا اور نہ ہوگا۔
    (۲)… یا یہ کہے کہ :’’ فلما قضی زید منھا وطراً زوجنکھا۰‘‘ سے ظاہر ہے کہ آئندہ رسول بھی منہ بولے بیٹے کی مطلقہ سے شادی کیا کریں گے۔ ورنہ اس آیت کو نکال دیا جائے۔
    جواب۴: قرآن مجید میں اس آیت کے باقی رکھنے کی ضرورت یہ تھی کہ امراء وفات پر عرب معاشرت میں ان کی ازواج سے شادی کرنا فضیلت میں شمار ہوتا تھا۔ اور قرآن نے سورۃ نور میں بیوائوں سے نکاح کا حکم دیا ہے۔ قرآن نے صریح حکم دیا کہ حضور ﷺ کی ازواج سے نکاح نہ کیا جائے۔ وہ آخری امہات المومنین ہیں اور آپ ﷺ بوجہ خاتم النبیین ہونے کے آخری ’’باپ‘‘ ہیں۔اگر یہ حکم مذکور نہ ہوتا تو اس فضیلت کے حصول کے لئے کوشش کرتے۔ اس سے امت میں فتنہ وفساد پیدا ہوتا اور ازواج مطہرات کی پوزیشن بجائے امت کی معلمات دین ہونے کی معمولی بھی نہ رہتی۔ اس لئے اس تاریخی حکم کا تا قیامت باقی رکھنا ضروری تھا۔ تاکہ معلوم ہوکہ یہ خواتین مقدسہ آخری مائیں ہیں اور حضور اقدس ﷺ آخری باپ ہیں۔
    جواب۵: یہ آیت مبارکہ حضور سرورکائنات ﷺ کی شان وفضیلت کا اظہار کرتی ہے جو کہے کہ اسے نکال دو۔ وہ حضور ﷺ کی فضیلت کو مٹانے والا ہے ۔ اس لئے ملعون کافر وجہنمی ہے۔ وہ یہود کا مثیل ہے کل ایسے خبیث کہیں گے کہ قرآن مجید سے گذشتہ انبیاء علیہ السلام کے قصص نکال دینے چاہئیں۔ کیونکہ وہ انبیاء گزر چکے ہیں۔ جیسا کہ لعین قادیانی نے کہا :

    ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو
    اس سے بہتر غلام احمد ہے
    (درثمین اردوص۵۳‘خزائن ص۲۴۰ج۱۸‘رافع البلاء ص۲۴)
    جو ایسی بیہودہ تحریف کرے اس سے متعلق لعین قادیانی نے کہا :
    ’’ تحریف ‘تغیر کرنا بندروں اور سؤ روں کا کام ہے۔‘‘ (اتمام الحجۃ ص ۱۵‘۱۴‘ روحانی خزائن ص ۲۹۱ج ۸)
    • Like Like x 1

اس صفحے کی تشہیر