1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

آیت خاتم النبیین پر قادیانی اعتراضات (اعتراض نمبر۵ :خاتم المحدیثن )

محمدابوبکرصدیق نے 'عقیدہ ختم نبوت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ ستمبر 16, 2014

  1. ‏ ستمبر 16, 2014 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    آیت خاتم النبیین پر قادیانی اعتراضات (اعتراض نمبر۵ :خاتم المحدیثن )

    قادیانی :
    حضرت شاہ عبدالعزیز ؒکے لئے خاتم المحدیثن بعض حضرات کے لئے خاتم المفسرین کے الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں اور وہ سب مجازی معنوں میں مستعمل ہیں تو خاتم النبیین بھی مجاز پر محمول کیا جائے گا۔
    جواب اول:
    خاتم المحدیثن ‘ خاتم المحققین ‘ خاتم المفسرین وغیرہ انسان کا کلام ہے۔ جس کو کل کی کچھ خبرنہیں کہ کل کیا ہونے والا ہے۔کتنے آدمی پیدا ہوں گے‘ کتنے مریں گے‘ کتنے عالم ہوں گے‘ کتنے جاہل ہوں گے‘ کتنے محدث ومفسر بنیں گے‘ اور کتنے آوارہ پھریں گے۔ اس لئے اس کو کوئی حق نہیں کہ وہ کسی کو خاتم المحدثین کہے۔ اگر کہیں کسی کے کلام میں ایسے الفاظ پائے جائیں تو سوائے اس کے چارہ نہیں کہ اسے مجاز یا مبالغہ پر محمول کیا جائے۔ ورنہ یہ کلام لغو اور بے معنی ہوجائے گا۔ لیکن کیا عالم الغیب ذات کے کلام کو بھی اس پر قیاس کیا جائے گا؟ جس کے علم محیط سے کوئی چیز باہر نہیں اور جو اپنے علم واختیار کے ساتھ انبیاء کرام کو مبعوث فرماتا ہے۔ پس علیم وخبیر اور قدوس وحکیم ذات کے کلام پاک میں کسی ذات کے متعلق خاتم النبیین کا لفظ جو ارشاد کیا گیا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ اس کے حقیقی معنی مراد نہ لئے جائیں جو کہ بلاتکلف بنتے ہیں اور ان کو چھوڑکر مجاز ومبالغہ پر حمل کرنا صریحاً ناجائز ہے۔ الغرض انسان کے کلام میں ہم مجبور ہیں کہ ان کلمات کو ظاہری معنی سے پھیر کر مبالغہ یا مجاز پر محمول کریں۔ مگر خدائے قدوس کے کلام میں ہمیں اس کی ضرورت نہیں اور بلا ضرورت حقیقی معنی کو چھوڑ کر مجاز کی طرف جانا اصول مسلم کے خلاف ہے۔
    امام غزالی ؒ فرماتے ہیں:
    ’’ولیس فیہ تاویل ولا تخصیص ومن اوّلہ بتخصیص فکلامہ من انواع الہذیان لا یمنع الحکم بتکفیرہ لانہ مکذب لھذا النص الذی اجتمعت الامۃ علیٰ انہ غیر ماول ولا مخصوص۰ الاقتصاد‘‘{آیت خاتم النبیین میں نہ کوئی تاویل ہے نہ تخصیص۔ اور جو شخص اس میں کسی قسم کی تخصیص کرے اس کا کلام ہذیان کی قسم سے ہے اور یہ تاویل اس کو کافر کہنے کے حکم کے لئے کافی ہے۔ کیونکہ وہ اس آیت (خاتم النبیین) کی تکذیب کررہا ہے جس کے متعلق امت کا اجماع ہے کہ وہ ماؤل یا مخصوص نہیں۔}
    الغرض چونکہ قرآن عزیز اور احادیث نبویہ اور اجماع صحابہ اور اقوال سلف نے اس کا قطعی فیصلہ کردیا کہ خاتم النبیین اپنے حقیقی معنی پر محمول ہے ۔ نہ اس میں مجاز ہے نہ کوئی مبالغہ اور نہ تاویل وتخصیص۔ اب اسے کسی مجازی معنی پر محمول کرنے کے لئے قیاس کے اٹکل پچوچلانا جائز نہیں۔
    مخفی نہ رہے کہ حق تعالیٰ کے ارشاد ’’ ولکن رسول اﷲ وخاتم النبیین‘‘ کو عوام الناس کے قول فلاں خاتم محققین ہے۔ پر قیاس کرنا انتہائی جہالت ونادانی کا کرشمہ ہے۔ کیونکہ اول تو یہ مقولہ ایک عامی محاورہ ہے جو تحقیق پر مبنی نہیں۔ بہت سے محاورات مقامات خطابیہ میں استعمال ہوتے ہیں جن کا مدار تحقیق پر نہیں ہوتا۔ بخلافت ارشاد خدا وندی کے کہ وہ سراسر تحقیق ہے اور حقیقت واقعیہ سے سر مومتجاوز نہیں بلکہ قرآن کریم کے وجوہ اعجاز میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس کے ایک کلمہ کی جگہ مخلوق دوسرا کلمہ نہیں لاسکتی۔ کیونکہ اس مقام کے حق اور حقیقت غرض کی گہرائی کا احاطہ انسانی طاقت سے خارج ہے۔

    دوم
    یہ کہ اس فقرہ کے قائل نے خود بھی تحقیق کا ارادہ نہیں کیا۔ کیونکہ نہ تو اسے غیب کا علم ہے اور نہ وہ پردہ مستقبل میں چھپی ہوئی چیزوں سے باخبر ہے۔ کہ دوام کی رعایت رکھ کر بات کہتا۔ بخلاف باری تعالیٰ کے کہ اس کے لئے ماضی ومستقبل یکساں ہیں۔
    سوم
    یہ کہ یہ فقرہ ہر شخص اپنے گمان کے موافق کہتا ہے۔ اور ایک ہی زمانے میں متعدد لوگ کہتے ہیں اور انہیں ایک دوسرے کے قول کی کوئی خبر نہیں ہوتی۔ بلکہ ایک شخص اس اطلاع کے باوجود کہ اس زمانے میں دیگر اصحاب کمال بھی موجود ہیں۔ اس لفظ کا اطلاق کرتا اور قطعی قرینہ پر اعتماد کرتا ہے۔ کہ دوسرے لوگ خود مشاہدہ کرنے والے ہیں ۔ اس لئے میرے سامعین ایک ایسی چیز کے بارے میں ۔ جسے وہ خود اپنی آنکھوں سے دیکھتے اور اپنے کانوں سے سنتے ہیں۔ میرے کلام کی وجہ سے غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہوں گے۔
    چہارم
    یہ کہ ہر شخص کی مراد بس اس کے اپنے زمانہ تک محدود ہوتی ہے۔ مستقبل سے اسے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔
    پنجم
    یہ کہ اس قادیانی دجال کے خیال کے مطابق نعوذباﷲ آئندہ آنے والے ہر نبی پر ایک اعتبار سے خاتم کا اطلاق کرسکتے ہیں۔
    اندریں حالت آیت کے مضمون کا کوئی حاصل اور نتیجہ ہی نہیں نکلتا۔

    ششم
    یہ کہ جس صورت میں کہ (دجال قادیان کے بقول) خاتم کے معنی مہر لگانے والا کے لئے جائیں تو اس صورت میں اگر حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کا زمانہ تمام انبیاء کرام سے مقدم ہوتا۔ جب بھی آپ ﷺ خاتم بالمعنی المذکور ہوتے۔ حالانکہ یہ قطعاً بے معنی بات ہے ۔ ایسی حالت میں مقدام المحققین بولتے ہیں۔ نہ کہ خاتم المحققین ۔
    ہفتم
    یہ کہ اس تقدیر پر حضرت خاتم النبیین ﷺ کو امت مرحومہ کے ساتھ کوئی زائد خصوصی تعلق باقی نہیں رہ جاتا۔ حالانکہ آیت کا سیاق یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کو امت کے ساتھ ابوت کے بجائے خاتم نبوت کا علاقہ ہے۔ اور شاید آنحضرت ﷺ کی نرینہ اولاد اسی واسطے نہیں رہی تاکہ آپﷺ کے بعد نبوت کی طمع بکلیمنقطع ہوجائے۔آیت کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ سے علاقہ ابوت مت تلاش کرو۔ بلکہ اس کی جگہ علاقہ نبوت ڈھونڈو اور وہ بھی ختم نبوت کا علاقہ۔ اور آپ ﷺ کی نرینہ اولاد کے زندہ نہ رہنے میں یہ اشارہ تھا کہ آپ ﷺ کے بعد سلسلہ نبوت باقی نہیں رہے گا۔ جیسا کہ بعض صحابہ مثلاً عبدا ﷲابن اوفی ؓ اور ابن عباس ؓ کے الفاظ سے سمجھا جاتا ہے۔ دیکھئے شرح مواہب جلد ثالث۔ ذکر ابراھیم اور وراثت نبوت کے لئے جامع البیان اوائل سورۃ مریم معہ حاشیہ اور مواہب لدینہ میں خصائص کی بحث دیکھئے۔
    غرض یہ کہ محاورۂ عامیہ‘ تحقیقی کلام نہیں۔ بلکہ تساہل اور تسامح پر مبنی ہے۔ اور اس کے نظائر احیاء العلوم( مصنفہ امام غزالی ؒ) کے ’’ باب آفات لسان‘‘ میں ملاحظہ کیے جائیں۔ نیز جو کلام انہوں نے فخریہ القاب ۔ مثلاً شہنشاہ پر کیا ہے اسے بھی ملاحظہ کیے جائیں۔ اور ممدوحین کے روبروان کی تعریف وتوصیف کی ممانعت معلوم ہی ہے۔ پس یہ محاورات نہ تو تحقیقی ہیں اور نہ شرعی ہیں۔ (اس نوعیت کے غیر ذمہ دارانہ القاب ومحاورات تو کیا شرعی ہوتے ہیں۔) چہ جائیکہ شارع علیہ السلام نے برہ نام کو بھی پسند نہیں فرمایا(کہ اس میں تزکئیہ وتوصیف کی جھلک تھی۔)

    ہشتم
    یہ کہ لفظ ختم کا مدلول یہ ہے کہ خاتم کا حکم وتعلق اس کے ماقبل پر جاری ہوتا ہے۔ اور سابقین اس کی سیادت وقیادت کے ماتحت ہوتے ہیں۔ جس طرح کہ بادشاہ موجودین کا قائد ہوتا ہے۔ نہ کہ ان لوگوں کا جو ہنوز پر دہ عدم میں ہوں اور اس کی سیادت کا ظہور اور اس کے عمل کا آغاز رعایا کے جمع ہونے کے بعد ہوتا ہے۔ نہ کہ اس سے پہلے ۔ گویا اجتماع کے بعد کسی قوم کا کسی کی آمد کے لئے منتظر اور چشم براہ ہونا اس امر کا اظہار ہے کہ معاملہ اس کی ذات پر موقوف ہے۔ بخلاف اس کی برعکس صورت کے کہ (قائد آئے اور چلا جائے اور ماتحت عملہ اس کے بعد آئے۔ اس صورت میں کسی قرینے سے اس امر کا اظہار نہیں ہوتا ۔ بلکہ اس پیشرو کی برتری اور سیادت کا تصور)محض ایک معنوی اور ذہنی چیز ہے۔ (جس کا خارج میں کوئی اثرونشان نہیں ہوتا۔ نہ اس پر کوئی دلیل وبرہان ہے۔) یہی وجہ ہے کہ عاقب‘ حاشر اور مقفی جو سب آنحضرت ﷺ کے اسمائے گرامی ہیں مابعد کے لحاظ سے نہیں(بلکہ ماقبل کے لحاظ سے ہیں۔ جیسا کہ ان کے معانی پر غور کرنیسے بادنیٰ تامل معلوم ہوسکتا ہے ) اور خاتمیت سے یہ مراد لینا کہ چونکہ آ پ ﷺ کی نبوت بالذات ہے اور دوسروں کی نبوت بالعرض۔ لہذا آپ ﷺ سے استفاد ہ کے ذریعہ اب بھی نبوت مل سکتی ہے۔ خاتمیت کا یہ مفہوم غلط ہے کیونکہ مابالذات اور مابالعرض کا ارادہ فلسفہ کی اصطلاح ہے۔ نہ تو یہ قرآن کریم کا عرف ہے ۔ نہ زبان عرب ہی اس سے آشنا ہے۔ اور نہ قرآن کریم کی عبارت میں اس کی جانب کسی قسم کا اشارہ یا دلالت موجود ہے۔ پس اس آیت میں ’’ استفادہ نبوت ‘‘ کا اضافی مضمون داخل کرنا محض خود غرضی اور مطلب براری کے لئے قرآن پر زیادتی ہے۔ البتہ سنت اﷲ یہی واقع ہوئی ہے کہ ختم زمانی کا منصب عالی اسی شخصیت کے لئے تجویز فرمایا گیا جو قطعی طور پر امتیازی کمال میں سب سے فائق تھی اور تمام سابقین کو اس کی سیادت وقیادت کے ماتحت رکھا گیا۔
    اور انبیاء کرام کو نبوت پیدا کرنے کے لئے نہیں بھیجا جاتا (کہ مہر لگا لگا کر نبی پیدا کریں) بلکہ سیادت وقیادت اور سیاست وریاست کے لئے مبعوث کیا جاتا ہے۔ قوم نماز کے لئے پہلے جمع ہو تو اس کے بعد امام مقرر کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ یہی محمل ہے حق تعالیٰ کے ارشاد :’’ یوم ندعوا کل اناس بامامھم‘‘ کا پہلی امتوںمیں انبیاء کرام تکمیل کار کے لئے رسولوں کے ماتحت ہوتے تھے۔
    چنانچہ موسیٰ علیہ السلام کی دعا ہے :’’ اشددبہ ازری واشرکہ فی امری‘‘نیز موسیٰ علیہ السلام کی درخواست کے جواب میں ارشاد خدوندی ہے :’’ سنشد عضدک باخیک ‘‘ اور حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کے مقام میں کمال کا کوئی جزوباقی نہیں چھوڑا گیا (بلکہ کار نبوت کی تکمیل من کل الوجوہ آپ ﷺ کی ہی ذات گرامی سے کرادی گئی۔ لہذا اب کوئی منصب باقی نہ رہا جس کے لئے کسی نئے نبی کو مبعوث کیا جاتا۔ چنانچہ آپ ﷺ کی شان تو یہ ہے۔)

    حسن یوسف دم عیسیٰ یدبیضاداری
    آنچہ خوباں ہمہ دار ند توتنہاداری

    آخری تدوین : ‏ ستمبر 16, 2014
    • Like Like x 2

اس صفحے کی تشہیر