1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

آیت خاتم النبیین پر قادیانی اعتراضات (اعتراض نمبر۹: یٰبنی آدم امایاتینکم )

محمدابوبکرصدیق نے 'ختم نبوت پر اعتراضات کے جوابات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ ستمبر 16, 2014

  1. ‏ ستمبر 16, 2014 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    آیت خاتم النبیین پر قادیانی اعتراضات (اعتراض نمبر۹: یٰبنی آدم امایاتینکم )
    قادیانی:
    ’’ یبنی آدم اما یاتینکم رسل منکم یقصون علیکم آیاتی فمن اتقیٰ واصلح فلاخوف علیھم ولاھم یحزنون۰
    اعراف ۳۵‘‘
    یہ آیت آنحضرت ﷺ پر نازل ہوئی۔ لہذا اس میں حضور ﷺ کے بعد آنے والے رسولوں کا ذکر ہے۔ آپ ﷺ کے بعد بنی آدم کو خطاب ہے۔ لہذا جب تک بنی آدم دنیا میں موجود ہیں اس وقت تک نبوت کا سلسلہ جاری ہے۔
    جواب۱ :
    اس آیت کریمہ سے قبل اسی رکوع میںتین بار ’’ یابنی آدم ‘‘ آیا ہے۔ اور اول ’’ یابنی آدم ‘‘ کا تعلق ’’ اھبطو ابعضکم لبعض عدولکم‘‘ سے ہے۔ اھبطوا کے مخاطب سیدنا آدم علیہ السلام وسیدہ حوا ہیں۔ لہذا اس آیت میں بھی آدم علیہ السلام کے وقت کے اولاد آدم کو مخاطب بنایا گیا ہے۔پھر زیر بحث آیت نمبر ۳۵ ہے۔ آیت نمبر۱۰ سے سیدنا آدم علیہ السلام کا ذکر شروع ہے۔ اس تسلسل کے تناظر میں دیکھا جائے تو دو رکوع سے پہلے جو مضمون چلا آرہا ہے اس کی ترتیب وتنسیق خود ظاہر کرتی ہے کہ جب آدم وحوا کو اپنے اصلی مسکن (جنت) سے عارضی طور پر جدا کیا گیا تو ان کی مخلصانہ توبہ وانابت پر نظر کرتے ہوئے مناسب معلوم ہوا کہ اس حرمان کی تلافی اور تمام اولاد آدم کو اپنی میراث آبائی واپس دلانے کے لئے کچھ ہدایات دی جائیں۔ چنانچہ ھبوط آدم کا قصہ ختم ہونے کے یا بنی آدم قد انزلنا علیکم لباسا سے خطاب شروع کرکے تین چار رکوع تک ان ہی ہدایات کا مسلسل بیان ہوا ہے۔ تو حقیقت میں یہ خطاب اولین اولاد آدم علیہ السلام کو ہے۔ اس پر قرینہ اس کا سباق ہے ۔ تسلسل اور سباق آیات کی صراحۃً دلالت موجود ہے کہ یہاں پر حکایت حال ماضیہ کے طور پر اس کو حکایت کیا گیا ہے ۔ نون ثقیلہ گرچہ مستقبل کے لئے ہے تو اولین اولاد آدم سے اﷲ تعالیٰ کا یہ وعدہ تھا۔ اس وعدہ کا ایفاء یوں ہوا۔
    ’’ ولقد ارسلنانوحا الیٰ قومہ ۰ اعراف ۵۹‘‘
    ’’ والیٰ عاد اخاھم ھودا۰ اعراف ۶۵‘‘
    ’’ والیٰ مدین اخاھم صالحا۰ اعراف ۷۳‘‘
    ’’ ولوطا اذقال لقومہ ۰اعراف ۸۰‘‘
    ’’والیٰ مدین اخاھم شعیبا ۰ اعراف ۸۵‘‘
    ’’ ولقد جاء تھم رسلھم باالبنیت ۰ اعراف ۱۰۱‘‘
    ’’ ثم بعثنا من بعدھم موسیٰ بایاتنا الیٰ فرعون وملأہ۰ اعراف ۱۰۳‘‘
    ’’ الذین یتبعون الرسول النبی الامیی الذی یجدونہ مکتوبا عندھم فی التوراۃ والا نجیل ۰ اعراف ۱۵۷‘‘
    یہاں انجیل کے ضمن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر ہے۔
    ’’ قل یا ایھا الناس انی رسول اﷲ الیکم جمیعا۰ الذی لہ ملک السٰموت والارض۰ اعراف ۱۵۸‘‘
    آپ ﷺ کے تمام انسانوں کی طرف مبعوث ہونے کا ذکر ہے۔ جس سے ثابت ہے کہ آپ ﷺ کی نبوت ہر قوم اور ہر زمانہ کے لئے ہے۔ اس میں آپ ﷺ کا ذکر مبارک ہوا۔ آگے ہے : ’’ومن قوم موسیٰ امۃ یھدون باالحق۰ اعراف ۱۵۹‘‘
    آ پ ﷺ کے ذکر کے بعد قرآن مجید نے پھر موسیٰ علیہ السلام کا ذکر دوبارہ شروع کردیا۔ آپﷺ کے ذکر کے بعد پرانے نبی کا ذکر کرنا اس پر دال ہے کہ حضور ﷺ کے بعد اور کسی نئے نبی کا آنا مقدر نہیں ورنہ اس کا ذکر ہوتا۔ علاوہ ازیں یہ بھی ثابت ہوا کہ یابنی آدم میں رسولوں کے مبعوث کرنے کا جوذکر تھا۔ وہ حضرت نوح علیہ السلام سے شروع کرکے آپ ﷺ کی ذات گرامی پر ختم کردیا۔ تفسیر القرآن بالقرآن کی رو سے ثابت ہوا کہ اس آیت میں بنی آدم اولین مراد ہیں نہ کہ حضور ﷺ کے بعد کے بنی آدم۔
    جواب۲ :
    قرآن مجید کے اسلوب بیان سے یہ بات ظاہر ہے کہ آپ ﷺ کی امت اجابت کو ’’یا ایھا الذین آمنوا‘‘سے مخاطب کیا جاتا ہے۔ اور آپ ﷺ کی امت دعوت کو:’’ یاایھاالناس‘‘ سے خطاب ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں کہیں بھی آپ ﷺکی امت اجابت کو یابنی آدم سے خطاب نہیں کیا گیا۔ یہ بھی اس امر کی دلیل ہے کہ آیت بالا میں حکایت ہے حال ماضیہ کی۔

    ضروری وضاحت
    ہاں البتہ ’’یابنی آدم ‘‘ کی عمومیت کے حکم میں آپ ﷺ کی امت کے لئے وہی سابقہ احکام ہوتے ہیں۔ بشرطیکہ وہ منسوخ نہ ہوگئے ہوں۔ اگر وہ منسوخ ہوگئے یا کوئی ایسا حکم جو آپ ﷺ کی امت کو اس عمومیت میں شمول سے مانع ہو تو پھر آپ ﷺ کی امت کااس عموم سے سابقہ نہ ہوگا۔
    جواب۳ :
    کبھی قادیانی کرم فرمائوں نے یہ بھی سوچا کہ بنیآدم میں تو ہندو‘ عیسائی‘ یہودی ‘ سکھ‘ سبھی شامل ہیں۔کیا ان میں سے نبی پیدا ہوسکتا ہے۔ اگر نہیں تو پھر ان کو اس آیت کے عموم سے کیوں خارج کیا جاتا ہے؟۔ ثابت ہوا کہ خطاب عام ہونے کے باوجود حالات وواقعات وقرائن کے باعث اس عموم سے کئی چیزیں خارج ہیں۔ پھر بنیآدم میں تو عورتیں ‘ہیجڑے بھی شامل ہیں۔ تو کیا اس عموم سے ان کو خارج نہ کیا جائے گا؟ ۔ اگر یہ کہا جائے کہ عورتیں وغیرہ تو پہلے نبی نہ تھیں اس لئے وہ اب نہیں بن سکتیں تو پھر ہم عرض کریں گے کہ پہلے رسول مستقل آتے تھے۔ اب تم نے رسالت کو اطاعت سے وابستہ کردیا ہے۔ تو اس میں ہیجڑے وعورتیں بھی شامل ہیں۔ لہذا مرزائیوں کے نزدیک عورتیں وہیجڑے بھی نبی ہونے چاہیئں۔
    جواب۴ :
    اگر’’ یا بنی آدم امایاتینکم رسل ‘‘سے رسولوں کے آنے کا وعدہ ہے تو ’’اما یاتینکم منی ھدی‘‘ میں وہی یاتینکم ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ نئی شریعت بھی آسکتی ہے۔تو مرزائیوں کے عقیدہ کے خلاف ہوا۔ کیونکہ تمہارے نزدیک تو اب تشریعی نبی نہیں آسکتا۔ کیونکہ خود مرزا نے کہا:’’ رسول کا لفظ عام ہے۔ جس میں رسول اور نبی اور محدث داخل ہیں۔‘‘ (آئینہ کمالات ص ۳۲۲ خزائن ص ۳۲۲ ج ۵) اگر کہا جائے کہ ’’ قلنااھبطوا منھا جمیعا ‘‘ قرینہ ہے کہ ہبوط آدم کے وقت کے لئے یہ آیت مخصوص ہے تو ہم عرض کریں گے کہ ’’ یابنی آدم ‘‘ قرینہ ہے کہ یہ حکم اولین اولادآدم کو تھا۔ اس میں آپ ﷺ کی امت کوخطاب نہیں کیا گیا۔ بلکہ حکایت حال ماضیہ کی گئی ہے۔
    جواب۵ :
    نمبر1:
    اما حرف شرط ہے۔ جس کا تحققضروری نہیں۔ یاتینکم مضارع ہے اور ہر مضارع کے لئے استمرار ضروری نہیں ۔جیسا کہ فرمایا ’’ اما ترین من البشر احدا‘‘ کیا حضرت مریم قیامت تک زندہ رہیں گی اور کسی بشر کو دیکھتی رہیں گی؟۔ مضارع اگرچہ بعض اوقات استمرار کے لئے آتا ہے ۔ مگر استمرار کے لئے قیامت تک رہنا ضروری نہیں۔ جو فعل دو چار دفعہ پایا جائے اس کے لئے مضارع استمرارسے تعبیر کرنا جائزہے۔ اس کی ایک مثال گزر چکی۔
    نمبر۲:
    یہ ہے :’’ انا انزلنا التوراۃ فیھا ھدی ونور یحکم بھا النبیون۰‘‘
    ظاہر ہے کہ تورات کے موافق حکم کرنے والے گزر چکے۔ آپ ﷺکی بعثت کے بعد کسی کو حتیٰ کہ صاحب تورات کو بھی حق حاصل نہیں اس کی تبلیغ کا۔
    نمبر۳ :
    ’’ واوحی الی ھذا القرآن لانذرکم ومن بلغ ۰‘‘
    چنانچہ حضور ﷺ ایک زمانہ تک ڈراتے رہے مگر اب بلاواسطہ آپ کی انذاروتبشیرمسدود ہے۔
    نمبر۴:
    ’’ وسخرنا مع داؤد الجبال یسبحن والطیر۰‘‘
    تسبیح دائود کی زندگی تک ہی رہی پھر مسدود ہوگی مگر ہر جگہ صیغہ مضارع کا ہے۔

    جواب۶ :
    (۱)…… ’’ اما یاتینکم منی ھدی۰ بقرہ‘
    (۲)…… ’’ واما ینسینکم الشیطان فلا تقعد بعدالذکریٰ مع القوم الظالمین۰ انعام ۶۸‘‘
    (۳)……’’فاما تشقفنھم فی الحرب فشرد بھم من خلفھم لعلھم یذکرون۰ انفال ۵۷‘‘
    (۴)……’’ واما نرینکم بعض الذی نعدھم اونتوفینکم فاالینا مرجعھم۰ یونس ۴۶‘‘
    (۵)…… ’’اما یبلغن عندک الکبر احدھما اوکلاھما فلا تقل لھما اف ولا تنھر ھما ۰ بنی اسرائیل ۲۳‘‘
    (۶)……’’فاما ترین من البشر احدا فقولی انی نذرت لرحمن صوما۰ مریم ۲۶‘‘
    (۷)…… ’’ اما ترینی ما یوعدون رب فلا تجعلنی فی القوم الظالمین۰مومنون ۹۳‘‘
    (۸)…… ’’ واما ینز غنک من الشیطان نزغ فاستعذبااﷲ ۰ سجدہ ۳۶‘‘
    (۹)…… ’’ فاما نذھبن بک فانا منھم منتقمون ۰ زخرف ۴۱‘‘
    (۱۰)…… ’’ فاما نرینک بعض الذی نعدھم۰‘‘

    تلک عشرۃ کاملۃ
    ان تمام آیات میں’’اما ‘‘ مضارع موکدنون ثقیلہ پر داخل ہے۔ اور معنی حرف شرط کے ’’ اگر ‘‘ ہیں۔ ثابت ہوا کہ مرزائی معنی ’’ ضرور‘‘ آئیں گے۔یہ نحو عربی واصطلاح قرآنی کے لحاظ سے غلط اور خود ساختہ ہیں۔ اور اما یاتین کے معنی اگر آئیں تمہارے پاس رسل‘ معنی صحیح ہیں۔اور یہ خطاب ’’ یابنی آدم ‘‘ سے اولاد آدم علیہ السلام کو ہے۔ یعنی اس خطاب کی ابتداء آدم علیہ السلام سے ہے۔ نہ کہ مصطفی ﷺ سے جو ظاہر نص سے ثابت ہے۔
    جواب۷ :
    آیت زیر بحث میں ہے ’’ یقصون علیکم آیاتی ‘‘ تو معلوم ہوا کہ آنے والے رسول شریعت لائیں گے۔ جیسا کہ ’’ نحن نقص علیک احسن القصص ‘‘ سے ثابت ہے۔ تو مرزائیوں کے دعویٰ کے یہ آیت بھی خلاف ہوئی کہ کیونکہ ان کے نزدیک تو اب صاحب شریعت نبی نہیں آئیں گے۔ چنانچہ مرزا صاحب بھی شریعت کے اجراء کے قائل نہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ :’’میں حضور ﷺ کو خاتم الانبیاء حقیقی معنوں سے سمجھتا ہوں اور قرآن کو خاتم الکتاب تسلیم کرتا ہوں۔‘‘
    (سراج منیر ص ۴ خزائن ص ۶ ج ۱۲)
    جواب۸ :
    درمنشور ج ۳ ص ۸۲ میں زیر بحث آیت ھذا لکھا ہے:
    ’’یا بنی آدم اما یاتینکم رسل منکم الایۃ۰ اخرج ابن جریر عن ابی یسار السلمی فقال ان اﷲ تبارک وتعالیٰ جعل آدم وذریۃ فی کفہ فقال یا بنی آدم اما یاتینکم رسل منکم یقصون علیکم آیاتی۰ ثم نظر الیٰ الرسل فقال یا ایھا الرسل کلوا من الطیبات واعلموا صالحا۰‘‘
    {ابی یسار سلمی سے روایت ہے کہ اﷲ رب العزت نے سیدنا آدم علیہ السلام اور ان کی جملہ اولاد کو (اپنی قدرت ورحمت کی) مٹھی میں لیا اور فرمایا’’یابنی آدم اما یاتینکم رسل منکم۔۔۔۔۔ ۔۔۔ الخ‘‘ پھر نظر (رحمت) رسولوں پر ڈالی تو ان کو فرمایا کہ’’ یا ایھا الرسل۔۔۔ ۔۔۔ الخ ‘‘ غرض یہ کہ عالم ارواح کے واقعہ کی حکایت ہے۔}

    مرزائی عذر
    اس آیت میں حضور ﷺ کے زمانہ کے بعد بنیآدم کو ہی خطاب ہے۔ جیسے ’’یابنی آدم خذوا زینتکم عند کل مسجد‘‘اس میں مسجد کا لفظ ہے اور یہ لفظ محض امت محمدیہ ہی کی عبادت گاہ کے لئے وضع کیا گیا ہے۔
    الجواب
    امم سابقہ کے لئے بھی لفظ مسجد مستعمل ہوا ہے۔ جیسا کہ ’’ قال الذین غلبوا علیٰ امرھم لنتخذن علیھم مسجدا۰ کہف‘‘
    جواب۹ :
    باالفرض والتقدیر اگر اس آیت کو اجرائے نبوت کا مستدل مان بھی لیا جائے تب بھی مرزا غلام احمد قیامت کی صبح تک نبی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ کیونکہ وہ بقول خود آدم کی اولاد ہی نہیں۔ اور یہ آیت تو صرف بنی آدم سے متعلق ہے۔ اس نے خود اپنا تعارف بایں الفاظ کرایا ہے۔ ملاحظہ فرمائیے:
    کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں
    ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار
    (براہین احمدیہ پنجم خزائن ص ۱۲۷ ج ۲۱)
    اب اگر وہ بنیآدم میں سے تھا جیسا کہ ہمارا اس کے بارے میں ابھی تک یہی خیال ہے تو پھر اس نے اپنی آدمیت کا انکار کرکے سفید جھوٹ بولا ہے۔ اور جھوٹا آدمی نبی نہیں بن سکتا۔ اور اگر واقعی وہ دائرہ آدمیت سے خارج تھا (یعنی اولاد شیطان تھا) تو پھر’’ یا بنی آدم۔۔۔۔۔۔ الخ‘‘کی آیت سے اس کی نبوت ثابت ہی نہیں کی جاسکتی۔ اس لئے مرزائیوں کا اجرائے نبوت کے لئے یہ دلیل پیش کرنے کی کوشش کرنا سراسر سعی لاحاصل ہے۔

    شعر میں تاویل
    مذکورہ بالا شعر میں مرزائی یہ تاویل کرتے ہیں کہ دراصل ہمارے حضرت صاحب بہت زیادہ متواضع اور منکسر المزاج تھے۔ اس لئے کسر نفسی کی بنا پرانہوں نے یہ شعر کہہ دیا ۔ اس سے اپنا اصلی تعارف کرانا مقصود نہ تھا۔ لہذا یہ شعر ہماری بحث سے خارج ہونا چاہئیے۔
    تاویل کا تجزیہ
    پہلی بات تو یہ ہے کہ کوئی عقل مند آدمی ایسی تواضع نہیں کرتا کہ اپنے آدمی ہونے کا ہی انکار کردے۔ اور ساتھ میں اپنے کو ’’ بشر کی جائے نفرت‘‘ (شرم گاہ) قرار دے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ جو شخص متواضع ہوتا ہے وہ ہر جگہ اپنی تواضع اور کسر نفسی کا اظہار کرتا ہے۔ یہ نہیں کہ ایک جگہ تو اپنے کو آدمیت سے ہی خارج کردے اور دوسری جگہ اپنے کو دنیا کا سب سے عظیم المرتبت انسان قرار دے۔ لیکن اس الٹی منطق کا ارتکاب مرزا صاحب ایک جگہ نہیں ‘بے شمار جگہ کرتے ہیں۔ چند ایک ان کی نام نہاد تواضع کے نمونے ملاحظہ ہوں۔ جو مرزائیوں کی مذکورہ تاویل کا منہ چڑا رہے ہیں۔ دیکھئے :
    (۱)…؎ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو
    اس سے بہتر غلام احمد ہے
    (دافع البلاء خزائن ص ۲۴۰ ج ۱۸)
    استاذ محترم حضرت مولانا محمد حیات ؒ فاتح قادیان نے یہ شعر اس طرح بدلا ہے:
    ابن ملجم کے ذکر کو چھوڑو
    اس سے بدتر غلام احمد ہے
    ابن ملجم حضرت علی ؓ کا قاتل ہے۔
    (۲)…؎روضئہ آدم کہ تھا نا مکمل اب تلک
    میرے آنے سے ہوا کامل بجملہ برگ وبار
    (براہین احمدیہ پنجم خزائن ص ۱۴۴ ج۲۱)
    (۳)…؎کربلائے است سیر ہر آنم
    صد حسین است درگریبانم
    (۴)…؎آدمم نیز احمد مختار
    در برم جامہ ہمہ ابرار
    (۵)…؎آنچہ داد است ہر نبی راجام
    داد آں جام رامرا بتمام
    (۶)…؎انبیا گرچہ بودہ اند بسے
    من بعر فان نہ کمترم زکسے
    (نزول المسیح ص ۹۹ خزائن ص ۴۷۷ ج ۱۸)
    خود ہی سوچئے۔ کیا کوئی ہوشمند انسان ایسے متکبر اور گھمنڈی کو منکسر المزاج کہہ سکتا ہے؟۔ مرزا قادیانی نے کہا کہ :’’کربلائے ایست سیر ہرآنم‘‘مرزا کے بیٹے مرزامحمود قادیانی نے اس پر یہ رنگ چڑھایا :
    ’’ حضرت مسیح موعود (مرزا مردود) نے فرمایا کہ میرے گریبان میں سوحسین ہیں۔ لوگ اس کے یہ معنی سمجھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ میں سوحسین کے برابر ہوں۔ لیکن میں کہتا ہوں کہ اس سے بڑھ کر اس کا مفہوم یہ ہے کہ سو حسین کی قربانی کے برابر میری ہر گھڑی کی قربانی ہے۔ وہ شخص جو اہل دنیا کی فکروں میں گھلا جاتا ہے جو ایسے وقت میں کھڑا ہوتا ہے جبکہ ہر طرف تاریکی اور ظلمت پھیلی ہوئی ہے۔ اور اسلام کا نام مٹ رہا ہے۔ وہ دن رات دنیا کا غم کھاتا ہوا اسلام کو قائم کرنے کے لئے کھڑا ہوتا ہے۔ کون کہہ سکتا ہے کہ اس کی قربانی سو حسین کے برابر نہ تھی۔ پس یہ تو ادنی سوال ہے کہ حضرت مسیح موعود امام حسین کے برابر تھے یا ادنی۔‘‘
    (خطبہ محمود مندرجہ اخبار الفضل قادیان ۲۶ جنوری ۱۹۲۶ئ)
    اب قادیانی تبائیں کہ کیا یہ منکسرالمزاجی تھی؟۔
    (۲)… ’’ کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں‘‘
    اگر یہ عاجزی ہے تو تمام مرزائی اجتماعی طور پر مرزا قادیانی کی سنت پر عمل کرکے عاجزی کریں اور اعلان کریں کہ وہ آدم زاد نہیں۔
    (۳)… ’’ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار‘‘
    تو انسان کی جائے نفرت دو مقام ہیں۔ مرزا ئی وضاحت کریں کہ وہ کونسی جگہ تھا۔
    (لاحول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم۰)
    • Like Like x 2

اس صفحے کی تشہیر