1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

آیت خاتم النبیین کی تفسیر

محمدابوبکرصدیق نے 'آیاتِ ختم نبوت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جولائی 26, 2014

  1. ‏ جولائی 26, 2014 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    آیت خاتم النبیین کی تفسیر

    ”ماکان محمد ابا احدمن رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین وکان اللہ بکل شیئ علیما۰
    احزاب 40
    “(محمدﷺ باپ نہیں کسی کا تمہارے مردوں میں سے لیکن رسول ہے اللہ کا اور مہر سب نبیوں پر اور ہے اللہ سب چیزوں کو جاننے والا۔)

    شان نزول(نازل ہونے کا سبب)
    اس آیت شریفہ کا شان نزول یہ ہے کہ آفتاب نبوت ﷺ کے طلوع ہونے سے پہلے تمام عرب جن تباہ کن اور مضحکہ خیز رسومات قبیحہ میں مبتلا تھے ان میں سے ایک رسم یہ بھی تھی کہ متبنٰی یعنی لے پالک بیٹے کو تمام احکام واحوال میں حقیقی اور نسبی بیٹا سمجھتے۔ اسی کا بیٹا کہہ کر پکارتے تھے اور مرنے کے بعد شریک وراثت ہونے میں اور رشتہ ناتے اور حلت وحرمت کے تمام احکام میں حقیقی بیٹا قرار دیتے تھے۔ جس طرح نسبی بیٹے کے مرجانے یا طلاق دینے کے بعد باپ کے لئے بیٹے کی بیوی سے نکاح حرام ہے۔ اسی طرح وہ لے پالک کی بیوی سے بھی اس کے مرنے اور طلاق دینے کے بعد نکاح کو حرام سمجھتے تھے۔
    یہ رسم بہت سے مفاسد پر مشتمل تھی۔ اختلاط نسب‘ غیر وراث شرعی کو اپنی طرف سے وارث بنانا‘ ایک شرعی حلال کو اپنی طرف سے حرام قرار دینا وغیر وغیرہ۔
    اسلام جوکہ دنیا میں اسی لئے آیا ہے کہ کفر وضلالت کی بیہودہ رسوم سے عالم کو پاک کردے۔ اس کا فرض تھا کہ وہ اس رسم کے استیصال (جڑ سے اکھاڑنے) کی فکر کرتا۔ چنانچہ اس نے اس کے لئے دو طریق اختیار کئے۔ ایک قولی اور دوسرا عملی۔ ایک طرف تو یہ اعلان فرمادیا:
    وما جعل ادعیاء کم ابناء کم ذٰلکم قولکم باافوٰھکم واللہ یقول الحق وھو یھدی السبیل ادعوھم لاباء ھم ھو اقسط عنداللہ ۰
    احزاب ۴‘۵“
    (اور نہیں کیا تمہارے لئے پالکوں کو تمہارے بیٹے۔ یہ تمہاری بات ہے اپنے منہ کی‘ اور اللہ کہتا ہے ٹھیک بات اور وہی سمجھاتا ہے راہ۔ پکار ولے پالکوں کو ان کے باپ کی طرف نسبت کرکے‘ یہی پورا انصاف ہے اللہ کے یہاں۔)
    اصل مدعا تو یہ تھا کہ شرکت نسب اور شرکت وراثت اور احکام حلت وحرمت وغیرہ میں اس کو بیٹا نہ سمجھا جائے۔ لیکن اس خیال کو بالکل باطل کرنے کے لئے یہ حکم دیا کہ متبنٰی یعنی لے پالک بنانے کی رسم ہی توڑ دی جائے۔ چنانچہ اس آیت میں ارشاد ہوگیا کہ لے پالک کو اس کے باپ کے نام سے پکارو۔
    نزول وحی سے پہلے آنحضرت ﷺ نے حضرت زید بن حارث ؓ کو (جوکہ آپ ﷺ کے غلام تھے) آزاد فرماکر متبنٰی(لے پالک بیٹا) بنالیا تھا اور تمام لوگ یہاں تک کہ صحابہ کرام ؓ بھی عرب کی قدیم رسم کے مطابق ان کو”زید بن محمدؐ“ کہہ کر پکارتے تھے۔
    حضرت عبداللہ ؓبن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ جب آیت مذکورہ نازل ہوئی اس وقت سے ہم نے اس طریق کو چھوڑکر ان کو”زیدؓ بن حارثہ“ کہنا شروع کیا۔
    صحابہ کرام ؓ اس آیت کے نازل ہوتے ہی اس رسم قدیم کو خیر باد کہہ چکے تھے۔ لیکن چونکہ کسی رائج شدہ رسم کے خلاف کرنے میں اعزاء واقارب اور اپنی قوم وقبیلہ کے ہزاروں طعن وتشنیع کا نشانہ بننا پڑتا ہے جس کا تحمل ہر شخص کو دشوار ہے۔اس لئے خدا وند عالم نے چاہا کہ اس عقیدہ کو اپنے رسول ہی کے ہاتھوں عملاً توڑا جائے۔ چنانچہ جب حضرت زید ؓ نے اپنی بی بی زینب ؓ کو باہمی ناچاقی کی وجہ سے طلاق دے دی تو خدا وند عالم نے اپنے رسول ﷺ کو حکم فرمایا کہ ان سے نکاح کرلیں۔ تاکہ اس رسم وعقیدہ کا کلیۃً استیصال ہوجائے۔ چنانچہ ارشاد ہوا:

    فلما قضی زید منھا وطراً زوجنکھا لکیلا یکون علی المؤمنین حرج فی ازواج ادعیاء ھم ۰
    الا حزاب 37“
    (پس جبکہ زید ؓ زینب ؓ سے طلاق دے کر فارغ ہوگئے تو ہم نے ان کانکاح آپ ﷺ سے کردیا۔ تاکہ مسلمانوں پر اپنے لے پالک کی بییوں کے بارے میں ئی تنگی واقع نہ ہو۔)
    آپ ﷺ نے بامر خدا وندی نکاح کیا۔ ادھر جیسا کہ پہلے ہی خیال تھا۔ تمام کفار عرب میں شور مچا کہ لو‘ اس نبی کو دیکھو کہ اپنے بیٹے کی بیوی سے نکاح کربیٹھے۔
    ان لوگوں کے طعنوں اور اعتراضات کے جواب میں آسمان سے یہ آیت نازل ہوئی۔ یعنی:

    ماکان محمد ابا احدمن رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین ۔
    احزاب 40“
    (محمدؐ باپ نہیں کسی کا تمہارے مردوں میں سے لیکن رسول ہے اللہ کا اور مہر سب نبیوں پر۔)
    جس میں یہ بتلادیا گیا کہ آنحضرت ﷺ کسی مرد کے نسبی باپ نہیں تو حضرت زید ؓ کے نسبی باپ بھی نہ ہوئے۔ لہذا آپ ﷺ کا ان کی سابقہ بی بی سے نکاح کرلینا بلاشبہ جائز اور مستحسن ہے۔ اور اس بارے میں آپ ﷺ کو مطعون کرنا سراسر نادانی اور حماقت ہے۔
    ان کے دعوے کے رد کے لئے اتنا کہہ دینا کافی تھا کہ آپ ﷺ حضرت زید ؓ کے باپ نہیں۔ لیکن خدا وند عالم نے ان کے مطاعن کو مبالغہ کے ساتھ رد کرنے اور بے اصل ثابت کرنے کے لئے اس مضمون کو اس طرح بیان فرمایا کہ یہی نہیں کہ آپ ﷺ زید ؓکے باپ نہیں۔ بلکہ آپ ﷺ تو کسی مرد کے بھی باپ نہیں۔ پس ایک ایسی ذات پر جس کا کوئی بیٹا ہی موجود نہیں یہ الزام لگانا کہ اس نے اپنے بیٹے کی بی بی سے نکاح کرلیا کس قدر ظلم اور کجروی ہے۔
    اور اگر کہو کہ آنحضرت ﷺ کے چار فرزند ہوئے ہیں۔ قاسم اور طیب اور طاہر حضرت خدیجہ ؓ سے اور ابراھیم ماریہ قبطیہ ؓ کے بطن سے۔ پھر یہ ارشاد کیسے صحیح ہوگا کہ آپ ﷺ کسی مرد کے باپ نہیں؟۔
    تو اس کا جواب خود قرآن کریم کے الفاظ میں موجود ہے۔ کیونکہ اس میں یہ فرمایا گیا ہے کہ آپ ﷺ کسی مرد کے باپ نہیں اور آپ ﷺ کے چاروں فرزند بچپن ہی میں وفات پاگئے تھے۔ ان کو مرد کہے جانے کی نوبت ہی نہیں آئی۔ آیت میں ”رجالکم“ کی قید اسی لئے بڑھائی گئی ہے۔ بالجملہ اس آیت کے نزول کی غرض آنحضرت ﷺسے کفار ومنافقین کے اعتراضات کا اٹھانا اور آپﷺ کی برا ت اور عظمت شان بیان فرمانا ہے اور یہی آیت کا شان نزول ہے۔ اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے:
    ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین۰
    (لیکن رسول ہے اللہ کا اور مہر سب نبیوں پر۔)
    • Like Like x 4

اس صفحے کی تشہیر