1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

آیت نمبر 1 (خَاتَمَ النَّبِيِّين)

الصارم المسلول نے 'اجرائے نبوت پر پیش کردہ آیات کی حقیقت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اگست 15, 2014

  1. ‏ اگست 15, 2014 #1
    الصارم المسلول

    الصارم المسلول رکن ختم نبوت فورم

    آیت خاتم النبیین ﷺ کی تفسیر

    جواب نمبر 1

    [​IMG]

    مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَٰكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ ۗ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا (احزاب۔40)
    ترجمہ: ''محمدﷺ باپ نہیں تمہارے مردوں میں سے لیکن رسول ہے اللہ کا اور مہر سب نبیوں پر اور
    ہے اللہ سب چیزوں کا جاننے والا۔''

    شان نزول:-

    اس آیت شریفہ کا شان نزول یہ ہے کہ آفتاب نبوت کے طلوع ہونے سے پہلے تمام عرب جن مضحکہ
    خیز اور تباہ کن رسومات قبیحہ میں مبتلا تھےان میں سے ایک رسم یہ بھی تھی کہ متبنی یعنی لیپالک بیٹے کو
    تمام احکام و احوال میں حقیقی اور نسبی بیٹا سمجھتے تھے۔ اور اسی کا بیٹا کہہ کر پکارتے تھے۔ اور مرنے کے
    بعد باپ کے لئے بیوی سے نکاح حرام ہے اسی طرح وہ لیپا لک کی بیوی سے بھی نکاح کو حرام قرار
    دیتے تھے وغیرہ وغیرہ۔
    اسلام جو کہ دنیا میں اسی لئے آیا ہے کہ کفر و ضلالت کی بیہودہ رسوم سے عالم کو پاک کرے۔ اس کا
    فرض تھا کہ وہ اس رسم کو بھی جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی فکر کرتا۔ چنانچہ اس نے اس کے لئے دو طریق
    اختیار کئے۔ ایک قولی اور دوسرا عملی۔ ایک طرف تو یہ اعلان فرما دیا۔

    وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ۚ ذَٰلِكُمْ قَوْلُكُم بِأَفْوَاهِكُمْ ۖ وَاللَّهُ يَقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِي السَّبِيلَ ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ
    هُوَ أَقْسَطُ عِندَ اللَّهِ (احزاب 5-4)

    ترجمہ: ''اور نہیں کیا تمہارے لیپالکوں کو تمہارے بیٹے، یہ تمہاری بات ہے اپنے منہ کی، اور اللہ کہتا ہے
    ٹھیک بات اور وہی سمجھتا ہے راہ، پکارو لیپالکوں کو ان کے باپ کی طرف نسبت کر کے یہی پورا انصاف
    ہے اللہ کے یہاں۔''

    اصل مدعا یہ تھا کہ شرکت نسب اور شرکت وراثت اور احکام حلت و حرمت وغیرہ میں اس کو بیٹا نہ
    سمجھا جائے۔ چناچہ اس آیت میں ارشاد ہو گیا کہ لیپالک کو اس کے باپ کے نام سے پکارو۔
    نزول وحی سے پہلے آنحضرت ﷺ نے حضرت زید بن حارث رضي الله عنه کو (جو کہ آپٖﷺ کے
    غلام تھے) آزاد فرما کر متبنی بیٹا بنا لیا تھا اور تمام لوگ یہاں تک کہ صحابہ کرام بھی عرب کی قدیم رسم
    کے مطابق ان کو زید بن محمد کہہ کر پکارتے تھے۔
    حضرت عبد بن عمر رضي الله عنه فرماتے ہیں کہ جب آیت مزکورہ نازل ہوئی اس وقت سے ہم نے اس
    طریق کو چھوڑ کر ان کو زید بن حارثہ کہنا شروع کر دیا۔
    صحابہ کرام اس آیت کے نازل ہوتے ہی اس رسم قبیح کو خیر باد کہہ چکے تھے۔ لیکن چونکہ کسی رسم و
    رواج کے خلاف کرنے میں اعزاء و اقارب اور اپنی قوم و قبیلہ کے ہزاروں طعن و تشنیع کا نشانہ بننا پڑتا
    ہے جس کا تحمل ہر شخص کو دشوار ہے۔ اس لئے خداوند عالم نے چاہا کہ اس عقیدہ کو اپنے رسول ہی کے
    ہاتھوں عملا توڑا جائے۔ چنانچہ حضرت زید رضي الله عنه نے اپنی بیوی زینب رضي الله عنها کو باہمی ناچاقی
    کی وجہ سے طلاق دے دی تو خداوند عالم نے اپنے رسولﷺ کو حکم فرمایا کہ ان سے نکاح کر لیں۔
    تاکہ اس رسم و عقیدہ کا کلیتہ استیصال ہو جائے۔ چنانچہ ارشاد ہوا۔

    ۖ فَلَمَّا قَضَىٰ زَيْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنَاكَهَا لِكَيْ لَا يَكُونَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ حَرَجٌ فِي أَزْوَاجِ أَدْعِيَائِهِمْ (احزاب۔37)
    ترجمہ: '' پس جب کہ زید (زینب) سے طالاق دے کر فارغ ہو گئے تو ہم نے ان کا نکاح آپ ٖﷺ سے
    کر دیا تاکہ مسلمانوں پر اپنے لے پالک کی بیویوں کے بارے میں کوئی تنگی واقع نہ ہو۔''

    آپ ﷺ نے بامر خداوندی نکاح کیا۔ ادھر جیسا کہ پہلے ہی خیال تھا۔ تمام کفار عرب نے شور مچایا کہ
    لو اس نبی کو دیکھو کہ اپنے بیٹے کی بیوی سے نکاح کر بیٹھے۔ ان لوگوں کے طعنوں اور اعتراضات کے جواب
    میں آسمان سے یہ آیت نازل ہوئی:

    ''مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَٰكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ''
    جس میں یہ بتایا گیا کہ حضرت محمدﷺ کسی بھی مرد کے نسبی باپ نہیں تو حضرت زید رضي الله عنه کے
    بھی نسبی باپ نہ ہوئے۔ لہٰذا آپﷺ کا ان کی سابقہ بیوی سے نکاح کر لینا بلاشبہ جائز اور مستحسن ہے اور
    اس بارے میں آپﷺ کو مطعون کرنا سرار نادانی اور حماقت ہے۔
    ان کے دعوے کے رد کے لئے اتنا کہہ دینا کافی تھا کہ آپ ﷺ حضرت زید رضي الله عنه کے باپ نہیں۔
    لیکن خداوند عالم نے ان مطاعن کو مبالغہ کے ساتھ رد کرنے اور بے اصل ثابت کرنے کے لئے اس مضمون
    کو اس طرح بیان فرمایا کہ یہی نہیں کہ آپﷺ زید رضي الله عنه کے باپ نہیں۔بلکہ آپﷺ تو کسی
    بھی مرد کے باپ نہیں۔ پس ایک ایسی ذات جس کا کوئی بیٹا ہی موجود نہیں یہ الزام لگانا کہ اس نے اپنے بیٹے
    کی بیوی سے نکاح کر لیا کس قدر ظلم اور کج روی ہے۔
    اور اگر کہو کہ آنحضرتﷺ کے چار فرزند ہوئے ہیں۔ قاسم اور طیب اور طاہر حضرت خدیجہ رضي الله عنهما
    سے اور ابرہیم ماریہ قبطیہ رضي الله عنها کے بطن سے۔ پھر یہ ارشاد کیسے صحیح ہوگا کہ آپﷺ کسی مرد کے
    باپ نہیں؟
    تو اس کا جواب خود قرآن کریم کے الفاظ میں موجود ہے۔ کیونکہ اس میں یہ فرمایا گیا ہے کہ آپﷺ کسی
    مرد کے باپ نہیں اور آپ ﷺ کے فرزند بچپن میں ہی وفات پا گئے تھے۔ ان کو مرد کہے جانے کی نوبت
    ہی نہیں آئی۔ آیت میں ''رجالکم'' کی قید اس لئے بڑھائی گئی ہیں۔ بالحملہ اس آیت کے نزول کی غرض
    آنحضرتﷺ سے کفار و منافقین کے اعتراضات کا اٹھانا اور آپ ﷺ کی براؑت اور عظمت شان فرمانا ہے
    اور یہی آیک کا شان نزول ہے۔ اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے ''ولکن رسول اللہ و خاتم النبیین'' لیکن رسول ہے
    اللہ کا اور مہر سب نبیوں پر۔
    مدیر کی آخری تدوین : ‏ اگست 15, 2014
    • Like Like x 1
    • Winner Winner x 1
  2. ‏ اگست 15, 2014 #2
    الصارم المسلول

    الصارم المسلول رکن ختم نبوت فورم

    خاتم النبیّین کی قرانی تفسیر:-

    اب سب سے پہلے دیکھیں کہ قرآن مجید کی رو سے اس کا کیا ترجمہ و تفسیر کیا جانا چائیے چنانچہ ہم دیکھتے
    ہیں کہ لفظ ''ختم'' کا مادہ قرآن مجید میں سات مقامات پر استعمال ہوا ہے۔
    1- خَتَمَ اللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ ۔ (بقرہ۔7)
    ''مہر کردی اللہ نے ان کے دلوں پر۔''

    2- خَتَمَ عَلَىٰ قُلُوبِكُم ۔ (انعام۔46)
    ''اور مہر کردی تمہارے دلوں پر۔''

    3- خَتَمَ عَلَىٰ سَمْعِهِ وَقَلْبِهِ - (الجاثییہ۔23)
    ''مہر کردی اس کے کان پر اور دل پر۔''

    4- الْيَوْمَ نَخْتِمُ عَلَىٰ أَفْوَاهِهِمْ - (یٰسین۔65)
    ''آج ہم مہر لگا دیں گے ان کے منہ پر۔''

    5- فَإِن يَشَإِ اللَّهُ يَخْتِمْ عَلَىٰ قَلْبِكَ - (الشوریٰ۔124)
    ''سو اگر اللہ چاہے مہر کر دے تیرے دل پر۔''

    6- رَّحِيقٍ مَّخْتُومٍ - (مطففین۔25)
    ''مہر لگی ہوئی''

    7- خِتَامُهُ مِسْكٌ - (مطففین۔26)
    ''جس کی مہر جمتی ہے مشک پر۔

    ان ساتوں مقامات کے اول و آخر، سیاق و سباق کو دیکھ لیں ختم کے مادہ کا لفظ جہاں کہیں استعمال ہوا ہے
    ان تمام مقامات پر قدر مشترک یہ ہے کہ کسی چیز کو ایسے طور پر بند کرنا۔ اس کی ایسی بندش کرنا کہ باہر
    سے کوئی چیز اس میں داخل نہ ہوسکے۔ اور اندر سے کوئی سی چیز باہر نہ نکالی جا سکے۔ وہاں پر ختم کا لفظ
    استعمال ہوا ہے مثلا پہلی آیت کو دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کافروں کے دلوں پر مہر کردی۔
    کیا معنی؟ کفر ان کے دلوں سے باہر نہیں نکل سکتا۔ اور باہر سے ایمان انکے دلوں میں داخل ہی نہیں
    ہو سکتا۔ تو فرمایا، ختم اللہ علی قلوبھم ۔
    اب زیر بحث آیت خاتم النبییّن کا اس قرانی تفسیر کے اعتبار سے ترجمہ کریں تو اسکا معنی ہوگا کہ رحمت
    دو عالم ٖﷺ کی آمد پر حق تعالیٰ نے انبیاء علیہم السلام کے سلسلہ پر ایس بندش کردی، مہر لگا دی کہ اب
    کسی کو نہ اس سلسلے سے نکالا جاسکتا ہے اور نہ کسی نئے شخص کو سلسلہ نبوت میں داخل کیا جاسکتا ہے۔
    فھو المقصود ۔
    آخری تدوین : ‏ اگست 15, 2014
    • Like Like x 1
    • Winner Winner x 1
  3. ‏ اگست 15, 2014 #3
    الصارم المسلول

    الصارم المسلول رکن ختم نبوت فورم

    خَاتَمَ النَّبِيِّين کی نبوی تفسیر:-

    آنحضرت ﷺ نے خاتم النبییّن کی تفسیر ''لا نبی بعدی'' کے ساتھ وضاحت سے فرما دی۔
    آپﷺ کی معروف حدیث شریف جس کا آخری جملہ ہے ''انا خاتم النبییّن لا نبی بعدی''
    اس کا حوالہ اور اس کی وضاحت آگے آرہی ہے سر دست یہاں فریق مخالف کے سامنے اس کے گرو مرزا
    قادیانی کے ایک حوالہ پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ مزا لکھتا ہے۔
    ''

    قول اللہ عزوجل: مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَٰكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ ،الا تعلم ان الرب الرحیم
    المتفضل سمّی نبیّناﷺ خاتم الانبیاء بغیر استثناء ،وفسّرہ نبینا فی قولہہ لا نبی بعدی ببیان واضح للطالبین۔

    ''
    (حمامتہ البشریٰ خ ص 200 ج 7)

    [​IMG]

    دیکھئے کس طرح مرزا قادیانی صراحت اور وضاحت کر رہا ہے کہ خاتم النبیّین کی تفسیر حضورﷺ نے واضح
    بیان کے ساتھ لا نبی بعدی سے کردی ہے۔ لیکن حیرت کہ قادیانی گروہ نہ اپنے گرو گھنٹال مرزا کا ترجمہ مانتا
    ہے اور نہ رحمت دو عالم ﷺ کے ترجمہ و تفسیر کو ماننے کے لئے آمادہ ہے۔
    فیا للعجب!
    • Winner Winner x 1
  4. ‏ اگست 15, 2014 #4
    الصارم المسلول

    الصارم المسلول رکن ختم نبوت فورم

    خَاتَمَ النَّبِيِّين کی تفسیر صحابہ کرام سے:-

    حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین اور تابعین رحمہم اللہ کا مسئلہ ختم نبوت کے متعلق کیا موقف تھا۔
    خاتم النبیّین کا ان کے نزدیک کیا ترجمہ تھا؟ اس کے لئے مفتی محمد شفیع ؒ کی کتاب ختم نبوت کامل کے تیسرے
    حصہ کا مطالع فرمائیں۔ یہاں پر صرف دو صحابہ کرام کی آراء مبارکہ درج کی جاتی ہیں۔
    امام ابو جعفر ابن جریر طبری ؒ اپنی عظیم الشان تفسیر ص 11 ج 22 ، میں حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے
    خاتم النبیّین کی تفسیر میں روایت فرماتے ہیں:

    ''عن قتادہ ولکن رسول اللہ و خاتم النبیّین ای آخرھم''
    حضرت قتادہ کا یہ قول شیخ جلال الدین سیوطی ؒ نے تفسیر در منثور میں عبد الرزاق اور عبد ابن حمید اور ابن منذر
    اور ابن ابی حاتم سے بھی نقل کیا ہے۔ (در منثور ص 204 ج 5)
    اس قول نے یہ بھی صاف وہی بتلا دیا جو ہم قرآن عزیز اور احادیث سے نقل کر چکے ہیں خاتم النبیّین کے معنی آخر النبیّین کے ہیں۔ کیا اس میں کہیں تشریعی، غیر تشریعی، ظلی، بروزی کی کوئی
    تفصیل ہے؟ نیز عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرآت ہی اس آیت میں ''ولکن نبیا ختم النبیّین''
    ہے جو خود اسی معنی کی طرف ہدایت کرتی ہے جو بیان کئے گئے۔ اور سیوطیؒ نے در منثور میں بحوالہ عبدبن حمید
    حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے۔

    ''عن الحسن فی قولہہ و خاتم النبیّین قال ختم اللہ النبیّن بمحمدﷺ وکان آخر من بعث''
    (در منثور ص 204 ج 5)
    حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے آیت خاتم النبیّین کے بارے میں یہ تفسیر نقل کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے
    تمام انبیاء علیہم السلام کو محمدﷺ پر ختم کردیا اور آپﷺ ان رسولوں میں سے آخری ہیں جو اللہ کی طرف
    سے مبعوث ہوئے۔
    کیا اس جیسی وضاحتوں، صراحتوں کے بعد بھی آیت میں کسی شک یا تاویل کی گنجائش ہے؟
    یا ظلی، بروزی وغیرہ کی تاویل چل سکتی ہے؟ نہیں اور ہر گز نہیں۔
    آخری تدوین : ‏ اگست 15, 2014
    • Winner Winner x 1
    • Bad Spelling Bad Spelling x 1
  5. ‏ اگست 15, 2014 #5
    الصارم المسلول

    الصارم المسلول رکن ختم نبوت فورم

    • خاتم النبیین اور اصحاب لغت

    [​IMG]

    خاتم النبیین (''ت'' کی زبر یا زیر) کے معنی کے سلسلہ میں قرآن و حدیث کی تصریحات اور صحابہ و تابعین اور
    ائمہ سلف سے بھی صرف نظر کر لی جائے اور فیصلہ صرف لغت عرب پر رکھ دیا جائے۔ تب بھی لغت عرب
    یہ فیصلہ دیتا ہے کہ آیت مزکورہ کی پہلی قراؑت پر دو معنی ہو سکتے ہیں۔ آخر النبیین اور نبیوں کے ختم کرنے
    والے۔ اور دوسری قرآت پر ایک معنی ہو سکتے یعنی آخر النبیین۔
    لیکن اگر حاصل معنی پر غور کیا جائے تو دونوں کا خلاصہ صرف ایک ہی نکلتا ہے۔ اور بلحاظ مراد کہا جا سکتا ہے
    کہ دونوں قراؑتوں پر آیت کے معنی لغتہ یہی ہیں کہ آپ ﷺ سب انبیاء کے آخر ہیں۔ آپﷺ کے بعد
    کوئی نبی پیدا نہیں ہو سکتا۔ جیسا کہ تفسیر روح المعانی میں بتصریح موجود ہے۔
    '' والخاتم أسم آلة لما يختم به كالطابع لما يطبع به فمعنى
    خاتم النبيين الذي ختم النبيون به ومآله آخر النبيين
    '' (روح المعانی ص 59 ج 7)
    اور خاتم بالفتح اسم آلہ کا نام ہے جس سے مہر لگائی جائے۔ پس خاتم النبیین کا معنی یہ ہوں گے
    ''وہ شخص جس پر انبیاء ختم کئے گئے'' اور اس معنی کا نتیجہ بھی یہی آخر النبیین ہے۔
    اور علامہ احمد معروف بہ ملا جیون میں اپنی تفسیر احمدی میں اسی لفظ کے معنی کی تفسیر کرتے ہوئے لکھا ہے۔
    ''
    والمال علی کل توجیہ ھو المعنی الآخر ولذالک فسّر صاحب المدارک قراؑتہ عاصم بالآخر و صاحب البیضاوی کل
    القراؑتین بالآخر
    ''
    اور نتیجہ دونوں صورتوں میں بالفتح و بالکسر صرف آخر ہی کے معنی ہیں۔ اور اسی لئے صاحب تفسیر مدارک نے
    قرآت عاصم یعنی بالفتح کی تفسیر آخر کے ساتھ کی ہے اور بیضاوی نے دونوں قراؑتوں کی یہی تفسیر کی ہے۔
    خداوند عالم ائمہ لغت کو جزاء خیر عطا فرمائے کہ انھوں نے صرف اس پر بس نہیں کی کہ لفظ خاتم کے معنی کو
    جمع کر دیا۔ بلکہ تصریحا اس آیت شریفہ کے متعلق جس پر اس وقت ہماری بحث ہے صاف طور پر بتلا دیا کہ
    تمام معانی خاتم میں لغتہ محتمل ہے اس آیت میں صرف یہی معنی ہو سکتے ہیں کہ آپ ﷺ سب انبیاء کے
    ختم کرنے والے اور آخری نبی ہیں۔
    خدائے علیم و خبیر ہی کو معلوم ہے کہ لغت عرب پر آج تک کتنی کتابیں چھوٹی بڑی اور معتبر و غیر معتبر
    لکھی گئیں۔ اور کہاں کہاں اور کس صورت میں موجود ہیں۔ ہمیں نہ ان سب کے جمع کرنے کی ضرورت ہے
    اور نہ یہ کسی بشر کی طاقت ہے۔ بلکہ صرف ان چند کتابوں سے جو عرب و عجم میں مسلم الثبوت اور قابل
    استدلال سمجھی جاتی ہیں ''مشتے نمونہ از خزوارے'' ہدیہ ناظرین کر کے یہ دکھلانا چاہتے ہیں کہ لفظ خاتم بالفتح
    اور بالکسر کے معنی میں سے ائمہ لغت نے آیت مزکورہ میں کون سے معنی تحریر کئے ہیں۔
    • Winner Winner x 1
    • Bad Spelling Bad Spelling x 1
  6. ‏ اگست 15, 2014 #6
    الصارم المسلول

    الصارم المسلول رکن ختم نبوت فورم

    مفردات القرآن:-

    یہ کتاب امام راغب اصفہانی ؒ کی وہ عجیب تصنیف ہے کہ اپنی نظیر نہیں رکھتی۔ خاص قرآن کے لغات کو نہایت عجیب
    انداز سے بیان فرمایا ہے۔ شیخ جلال الدین السیوطی ؒ نے اتقان میں فرمایا ہے کہ لغات قرآن میں اس سے بہتر کتاب
    آج تک تصنیف نہیں ہوئی۔ آیت مزکورہ کے متعلق اس کے الفاظ یہ ہیں۔
    ''
    وخاتم النبيين لأنه ختم النبوة، أي تممها بمجيئه صلى الله عليه وسلم''
    آنحضرت ﷺ کو خاتم النبیین اس لئے کہا جاتا ہے کہ آپ ﷺ نے نبوت کو ختم کردیا یعنی آپ ﷺ
    نے تشریف لاکر نبوت کو تمام فرما دیا۔



    • Winner Winner x 1
    • Dumb Dumb x 1
  7. ‏ اگست 15, 2014 #7
    الصارم المسلول

    الصارم المسلول رکن ختم نبوت فورم

    المحکم لا بن سیدہ:-

    عرب کی وہ معتمد کتاب ہے جس کو علامہ سیوطی ؒ نے ان معتبرات میں شمار کیا ہے جن پر قرآن کے بارے میں اعتماد
    کیا جاسکے۔
    ''
    وخاتم كل شيء: عاقبته وآخرته ؛ از لسان العرب ۔
    اور خاتم اور خاتمہ ہر شے کے انجام اور آخر کو کہا جاتا ہے۔
    • Dumb Dumb x 1
  8. ‏ اگست 15, 2014 #8
    الصارم المسلول

    الصارم المسلول رکن ختم نبوت فورم

    تہذیب الازہری:-

    اس کو بھی سیوطی ؒ نے معتبر لغات میں شمار کیا ہے۔ اس میں لکھا ہے۔
    '' والخاتَم والخاتِم من اسماء النبي صلى الله عليه وسلم وفي التنزيل العزيز
    :" ما كان محمد أبا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين ای آخرھم ؛ از لسان العرب
    ''

    خاتم بالکسر اور خاتم بالفتح دونوں نبی کریمﷺ کے ناموں میں سے ہیں اور قرآن عزیز میں ہے کہ
    نہیں ہے محمدﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ لیکن اللہ تعالیٰ کے رسول اور خاتم النبیین
    یعنی آخری نبی ہیں۔
    اس میں کس قدر صراحت کے ساتھ بتلایا گیا کہ خاتم بالکسر اور خاتم بالفتح دونوں آنحضرتﷺ کے
    نام ہیں۔ اور قرآن مجید میں خاتم النبیین سے آخر النبیین مراد ہے۔ کیا ائمہ لغت کی اتنی تصریحات
    کے بعد بھی کوئی مصنف اس معنی کے سوا اور کوئی معنی تجویز کرسکتا ہے؟

    • Bad Spelling Bad Spelling x 1
  9. ‏ اگست 15, 2014 #9
    الصارم المسلول

    الصارم المسلول رکن ختم نبوت فورم

    لسان العرب:-

    لغت کی مقبول کتاب، عرب و عجم میں مستند مانی جاتی ہے۔ اس کی عبارت یہ ہے:

    ''خاتِمهم و خاتَمهم آخرهم عن اللحياني ومحمد صلى الله عليه وسلم خاتم الأنبياء عليه وعليهم الصلاة والسلام ''

    خاتم القوم بالکسر اور خاتم القوم بالفتح کے معنی آخرالقوم ہیں اور انھیں معانی پر لحیانی سے نقل کیا جاتا ہے
    'محمد ﷺ خاتم الاانبیاء یعنی آخرالانبیاء ہیں۔
    اس میں بھی بوضاحت بتلایا گیا کہ بالکسر کی قرآت پڑھی جائے یا بالفتح کی ہر صورت میں خاتم النبیین اور
    خاتم الانبیاء کے معنی آخرالنبیین اور آخرالانبیاء ہوں گے۔
    لسان العرب کی اس عبارت سے ایک قاعدہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ اگرچہ لفظ خاتم بالفتح اور بالکسر دونوں کے
    بحیثیت نفس لغت بہت سے معانی ہو سکتے ہیں لیکن جب قوم یا جماعت کی طرف اس کی اضافت کی جاتی ہے تو
    اس کے معنی صرف آخر اور ختم کرنے والے کے ہوتے ہیں۔ غالبا اسی قاعدہ کی طرف اشارہ کرنے کے لئے
    لفظ خاتم کو تنہا نہیں۔ بلکہ قوم اور جماعت کی ضمیر کی طرف اضافت کے ساتھ بیان کیا ہے۔
    لغت عرب کے تتبع (تلاش) کرنے سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ لفظ خاتم بالکسر یا بالفتح جب کسی قوم یا
    جماعت کی طرف مظاف ہو تو اس کے معنی آخر ہی کے ہوتے ہیں۔ آیت مذکورہ میں بھی خاتم کی اضافت
    جماعت ''نبیین'' کی طرف ہے۔ اسی لئے اس کے معنی آخر النبیین اور نبوں کے ختم کرنے والے کے علاوہ
    اور کچھ نہیں ہو سکتے۔ اس قاعدہ کی تائید تاج العروس شرح قاموس سے بھی ہوتی ہے۔
    وھو ھذا
    • Dumb Dumb x 1
  10. ‏ اگست 15, 2014 #10
    الصارم المسلول

    الصارم المسلول رکن ختم نبوت فورم

    تاج العروس:-

    تاج العروس شرح قاموس (للعلامہ الزبیدی) نے لحیانی سے نقل کیا ہے:
    '' ومن أسمائه صلى الله تعالى عليه وسلم الخاتم والخاتم وهو الذى ختم النبوة بمجيئه''
    اور آنحضرت ﷺ کے اسماء مبارکہ میں سے خاتم بالکسر اور خاتم بالفتح بھی ہے اور خاتم وہ شخص
    ہے جس نے اپنے تشریف لانے سے نبوت کو ختم کردیا ہو۔
    • Bad Spelling Bad Spelling x 1

اس صفحے کی تشہیر