1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

آیت ولوتقول علینا سے مرزاقادیانی کا غلط استدلال اور اس کا رد

عبیداللہ لطیف نے 'دعوتی سیکشن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جولائی 30, 2017

  1. ‏ جولائی 30, 2017 #1
    عبیداللہ لطیف

    عبیداللہ لطیف رکن ختم نبوت فورم

    عنوان :۔ آیت ولوتقول علینا سے مرزاقادیانی کا غلط استدلال اور اس کا رد
    تحریر :_ عبیداللہ لطیف

    قرآن مقدس میں الله رب العزت فرماتاہے کہ.
    (( ولو تقول علینا بعض الاقاویل o لاخذنامنہ بالیمین o ثم لقطعنامن الوتین o)).
    ترجمہ از تفسیر صغیر :اور اگر یہ شخص ہماری طرف جھوٹا الہام منسوب کر دیتا خواہ ایک ہی ہوتا تو ہم یقیناً اس کو دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے اور اس کی رگ گردن کاٹ دیتے ( سورة الحاقہ :44 تا 46 ) .
    قطع نظر اس بات کے کہ میاں بشیرالدین محمود ابن مرزا غلام احمد کادیانی کی طرف سے کیا گیا ان آیات کا ترجمہ درست ہے یا غلط ہم یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ آنجہانی مرزا غلام احمد کادیانی ان آیات کریمہ سے کیا استدلال کرتا ہے چنانچہ مرزا غلام احمد کادیانی رقمطراز ہے کہ
    " صاف ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آیت لو تقول علینا کو بطور لغو نہیں لکھا جس سے کوئی حجت قائم نہیں ہو سکتی اور خدا تعالیٰ ہر ایک لغو کام سے پاک ہے پس جس حالت میں اس حکیم نے اس آیت کو اور ایسا ہی اس دوسری آیت کو جس کے یہ الفاظ ہیں اذاً لاذقناک ضعف الحیوةوضعف الممات محل استدلال پر بیان کیا ہے تو اس سے ماننا پڑتا ہے کہ اگر کوئی شخص بطور افتراء کے نبوت اور مامور من الله ہونے کا دعویٰ کرے تو وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ نبوت کے مانند ہرگز زندگی نہیں پائے گا ورنہ یہ استدلال کسی طرح صحیح نہیں ٹھہرے گا اور کوئی زریعہ اس کے سمجھنے کا قائم نہیں ہو گا کیونکہ اگر خدا پر افتراء کر کے اور جھوٹا دعویٰ مامور من الله کا کر کے تئیس برس تک زندگی پا لے اور ہلاک نہ ہو تو بلاشبہ ایک منکر کے لیے حق پیدا ہو جائے گا کہ وہ یہ اعتراض پیش کرے کہ جبکہ اس دروغگو نے جس کا دروغگو ہونا تسلیم کر کے تئیس برس تک یا اس سے زیادہ عرصہ تک زندگی پا لی اور ہلاک نہ ہوا تو ہم کیونکر سمجھیں کہ ایسے کاذب کی مانند تمہارا نبی نہیں تھا ایک کاذب کو تئیس برس تک مہلت مل جانا صاف اس بات پر دلیل ہے کہ ہر ایک کازب کو ایسی مہلت مل سکتی ہے تو پھر لوتقول علینا کاصدق لوگوں پر کیونکر ظاہر ہو گا اور اس بات پر یقین کرنے کے لیے کون سے دلائل پیدا ہوںگے کہ آںحضرت صلی اللہ علیہ وسلم افتراء کرتے تو ضرور تئیس برس کے اندر اندر ہلاک کیے جاتے لیکن اگر دوسرے لوگ افتراء کریں تو وہ تئیس برس زیادہ مدت تک بھی زندہ رہ سکتے ہیں اور خدا ان کو ہلاک نہیں کرتا "۔
    ( اربعین نمبر 4 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 430,431 )
    مرزا غلام احمد کادیانی اپنی بات کی مزید وضاحت کرتے ہوئے " لکھتا ہے کہ میں باربارکہتا ہوں کہ صادقوں کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا زمانہ نہایت صحیح پیمانہ ہے اور ہرگز ممکن نہیں کہ کوئی شخص جھوٹا ہو کر اور خدا پر افتراء کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ نبوت کے موافق یعنی تئیس برس تک مہلت پا سکے ضرور ہلاک ہو گا "_
    ( اربعین نمبر 4ص 5 مندرجہ روحانی خزائن ج 17 ص 434 ).
    مندرجہ بالا تحریروں سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہو چکی ہے کہ مولوی غلام احمد کادیانی آیت " ولوتقول علینا " سے یہ استدلال کرتا ہے کہ ہر مدعی نبوت دعویٰ کرنے کے بعد اگر تئیس سال یا اس سے زیادہ عرصہ زندہ رہا تو وہ اپنے اس دعویٰ میں سچا ہو گا اور اگر اسے تئیس برس سے پہلے موت آگئی تو وہ کذاب ہو گا . آئیے ہم قرآن کریم سے ہی مرزا غلام احمد کادیانی کا اس آیت سے یہ استدلال کرنا کہ کوئی بھی کذاب مدعی نبوت اپنے دعوی نبوت کے بعد تئیس سال تک زندہ نہیں رہ سکتا کو غلط ثابت کرتے ہیں
    محترم قارئین ! اگر ہم اس آیت سے مرزاقادیانی اور اس کی امت کے اس استدلال کو درست سمجھ لیں تو نتیجہ یہ نکلے گا کہ ایک مفتری کو دنیا میں ہی عذاب شروع ہو گیا جبکہ اس کے برعکس اللہ تعالی اپنی پاک کتاب قرآن مجید میں فرماتا ہے
    ومن اظلم ممن افتری علی اللہ کذباً او قال او حی الیّ فلم یوح الیہ شیءومن قال سانزل مثل ماانزل اللہ و لوتری اذالظالمون فی غمرات الموت والملائکة باسطوا ایدیھم اخرجواانفسکم الیوم تجزون عذاب الھون بما ک۔تم تقولون علی اللہ غیر الحق ( سورة الانعام آیت نمبر 93)
    ترجمہ از تفسیر صغیر :۔ اور اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہو سکتا ہے جو جان بوجھ کر اللہ پر جھوٹ باندھے یا یہ کہے کہ مجھ پر وحی (نازل) کی گئی ہے حالانکہ اس پر وحی (نازل) نہ کی گئی ہو اور (اسی طرح) اس شخص سے (زیادہ ظالم کون ہو سکتا ہے) جو کہتا ہے کہ جو کچھ اللہ نے اتارا ہے میں بھی یقینًا ویسا ہی ( کلام ) اتاردوں گا ۔ اور اگر تو (اس وقت کو) دیکھے جبکہ ظالم موت کی تکالیف میں مبتلا ہوں گے اور فرشتے (یہ کہتے ہوئے ) اپنے ہاتھ پھیلا رہے ہوں گے کہ اپنی جانیں نکالو ۔ جو کچھ تم اللہ کے متعلق ناحق کہتے تھے اور جو تم اس کی آیتوں کے بارے میں تکبر سے کام لیتے تھے اس کے سبب سے تمہیں آج رسوائی کا عذاب دیا جائے گا (تو تجھے ایک عبرت ناک نظارہ نظر آئے گا )

    یہ آیت برملا اعلان کر رہی ہیں کہ مفتری الی اللہ کی سزا موت کے وقت شروع ہوتی ہے نہ کہ دنیا میں لہذا آنجہانی مرزا غلام احمد کادیانی اور اس کے پیروکاروں کا اس آیت سے استدلال بھی غلط ثابت ہوا ۔
  2. ‏ ستمبر 30, 2017 #2
    Mujahid ali

    Mujahid ali رکن ختم نبوت فورم

    ماشااللہ عبیداللہ بھائ جزاک الله

اس صفحے کی تشہیر