1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

آیت: وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا کا مطلب سمجھائیں ۔ جزاک اللہ

Ryan نے 'اجرائے نبوت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اگست 9, 2014

  1. ‏ اگست 9, 2014 #1
    Ryan

    Ryan رکن ختم نبوت فورم

    وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ ۚ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
    اور دوسروں کے لیے بھی انہیں میں سے جو اب تک ان سے نہیں ملے۔ اور وہی غالب باحکمت ہے
    Surah Juma 62:3
    Kiya is Ayat ka mutalba yah he ke Hujur Akhiri me Fir se Nazil hinge ?
    مدیر کی آخری تدوین : ‏ اگست 9, 2014
  2. ‏ اگست 9, 2014 #2
    محمود بھائی

    محمود بھائی پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    اس آیت کا ہرگز یہ مطلب نہیں۔
  3. ‏ اگست 9, 2014 #3
    Ryan

    Ryan رکن ختم نبوت فورم

    Fir kiya mutalba he Hadis aur Mustanad Tafasir se Bataiye plz
    آخری تدوین : ‏ اگست 9, 2014
  4. ‏ اگست 9, 2014 #4
    محمود بھائی

    محمود بھائی پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    امیین پر عطف ہے یعنی بَعَثَ فِیْ اَ خِرِ یْنَ مِنْھُمْ اَخَرِ یْنَ سے فارس اور دیگر غیر عرب لوگ ہیں جو قیامت تک آپ ﷺ پر ایمان لانے والے ہونگے، بعض کہتے ہیں کہ عرب و عجم کے وہ تمام لوگ ہیں جو عہد صحابہ کرام کے بعد قیامت تک ہوں گے چنانچہ اس میں فارس، روم، بربر، سوڈان، ترک، مغول، کرد، چینی اور اہل ہند وغیرہ سب آجاتے ہیں ۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہم کی نبوت سب کے لیے ہے چنانچہ یہ سب ہی آپ ﷺ پر ایمان لائے۔ اور اسلام لانے کے بعد یہ بھی منہم کا مصداق یعنی اولین اسلام لانے والے امیین میں سے ہوگئے کیونکہ تمام مسلمان امت واحدہ ہیں ۔ اسی ضمیر کی وجہ سے بعض کہتے ہیں کہ آخرین سے مراد بعد میں ہونے والے عرب ہیں کیونکہ منہم کی ضمیر کا مرجع امیین ہیں ۔
    وَّاٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ ۭ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيم، آخرین کے لفظی معنی ” دوسرے لوگ “ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ کے معنی جو ابھی تک ان لوگوں یعنی امیین کے ساتھ نہیں ملے ، مراد ان سے وہ تمام مسلمان ہیں جو قیامت تک اسلام میں داخل ہوتے رہیں گے (کماروی عن ابن زید و مجاہد و غیر ہما) اس میں اشارہ ہے کہ قیامت تک آنے والے مسلمان سب کے سب مومنین اولین یعنی صحابہ کرام ہی کے ساتھ ملحق سمجھے جائیں گے ، یہ بعد کے مسلمانوں کیلئے بڑی بشارت ہے (روح)
    لفظ آخرین کے عطف میں دو قول ہیں ، بعض حضرات نے اس کو امیین پر عطف قرار دیا ہے، جس کا حاصل یہ ہوتا ہے کہ بھیجا اللہ نے اپنا رسول امیین میں اور ان لوگوں میں جو ابھی ان سے نہیں ملے ، اس پر جو یہ شبہ ہوتا ہے کہ امیین یعنی موجودین میں رسول بھیجنا تو ظاہر ہے ، جو لوگ ابھی آئے ہی نہیں ان میں بھیجنے کا کیا مطلب ہوگا ، اس کا جواب بیان القرآن میں یہ دیا ہے کہ ان میں بھیجنے سے مراد ان کیلئے بھیجنا ہے کیونکہ لفظ فی عربی زبان میں اس معنے کے لئے بھی آتا ہے ۔
    • Like Like x 1
    • Winner Winner x 1
  5. ‏ اگست 9, 2014 #5
    Ryan

    Ryan رکن ختم نبوت فورم

    Magar ye log to is Ayat ki Tafsir me Hadis pesh karte he aur batate he ke SALMAN FARSI ki nasl se Ek Farsi Paida hoga aur wo Hi Buruzi Muhammad hoga aur wo Mirza ji he...iske baare me bhi aap kuchh farmaae :)
  6. ‏ اگست 9, 2014 #6
    محمود بھائی

    محمود بھائی پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    آپ خود ہی یہ حدیث دیکھ لیں اس میں تو کسی بزوری کا ذکر نہیں ہے ۔:)
    سیدنا ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ پر سورۂ جمعہ نازل ہوئی، جب آپ اس آیت پر پہنچے : (وَّاٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ) [ الجمعۃ : ۳ ] تو میں نے عرض کی، اے اللہ کے رسول! یہ کون لوگ ہیں؟ آپ نے کوئی جواب نہ دیا، یہاں تک کہ میں نے تین بار یہی سوال کیا۔ اس وقت ہم لوگوں میں سلمان فارسی ؓ بھی بیٹھے ہوئے تھے، تو آپ نے اپنا ہاتھ ان پر رکھا اور فرمایا : ’’اگر ایمان ثریا (ستارے) پر بھی ہوتا تو تب بھی ان لوگوں (یعنی اہل فارس ) میں سے کئی آدمی اس تک پہنچ جاتے۔‘‘ یا یہ فرمایا : ’’ان لوگوں میں سے ایک آدمی اس تک پہنچ جاتا۔‘‘ [ بخاری، کتاب التفسیر، باب قولہ : ( وآخرین منھم لما یلحقوا بھم ) : ٤۸۹۷۔ مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ، باب فضل فارس : ۲۳۱؍۲۵٤٦]
    • Agree Agree x 1
    • Winner Winner x 1
  7. ‏ اگست 9, 2014 #7
    Ryan

    Ryan رکن ختم نبوت فورم

    Aur Ahle Faras me se ek Shakhsh Aayega jo Iman surayya Tare par par bhi pahunch jata....

    To isse kiya Farsi shakhsh Murad he....?

    Aur kiya Mirza Ji Farsi the ?

    Kyonki ye log bolte he ke is hadis me Farsi se Murad Mirza ji he...!

    Ab aap is baare me bhi thodi Rahnumai Farmae !

    Jazakallah :)
  8. ‏ اگست 9, 2014 #8
    محمود بھائی

    محمود بھائی پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    پہلی بات تو یہ ہے کہ اس حدیث میں یہ بات واضح نہیں کہ ایک آدمی کی بات ہے یا کئی آدمیوں کی کیونکہ حدیث میں دونوں کا ذکر ہے
    ( : ’’اگر ایمان ثریا (ستارے) پر بھی ہوتا تو تب بھی ان لوگوں (یعنی اہل فارس ) میں سے کئی آدمی اس تک پہنچ جاتے۔‘‘ یا یہ فرمایا : ’’ان لوگوں میں سے ایک آدمی اس تک پہنچ جاتا)
    تو جب دونوں چیزوں کا احتمال ہو گیا تو کسی ایک پر اصرار کرنا مشکل ہے ۔
    تفسیر مظہری میں اس حوالے سے ایک نوٹ لکھا ہے وہ ملاحظہ فرمائیں
    میں کہتا ہوں‘ یہ حدیث دلالت کر رہی ہے کہ فارس کے کچھ آدمی بھی ایسی فضیلت کے حامل ہوں گے کہ ان کا شمار ان (برگزیدہ) لوگوں میں ہوگا جو آیت : وآخرین منھم میں مراد ہیں۔ آیت کے عموم کا اقتضاء یہ نہیں ہے کہ صرف اہل فارس مراد ہوں۔
    حضورؐ نے جو رجال من ھؤلآءِ ابناء فارس فرمایا‘ شاید ان سے مراد ہوں نقشبندی سلسلہ کے اکابر‘ نقشبندیہ اکابر بخارا اور سمرقند کے باشندے تھے اور طریقت میں ان کی نسبت حضرت سلمان فارسیؓ سے ہے کیونکہ ان کا انتساب حضرت جعفر صادق سے ہے اور حضرت جعفر کا تعلق قاسم بن محمد سے اور قاسم کی نسبت حضرت سلمانؓ سے ہے اور حضرت سلمان کا طریق تعلق حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے اور حضرت ابوبکر کا تعلق رسول اللہ ﷺ سے ہے۔
    بہرحال ظلی بروزی کا کوئی تصور دور دور تک اس حدیث میں موجود نہیں ۔
    • Like Like x 2
    • Winner Winner x 1
  9. ‏ اگست 9, 2014 #9
    Ryan

    Ryan رکن ختم نبوت فورم

    Jaza kallah

    Aapki tahqiq se bahut fayda pahunch...

    Allah aap ko Kamyab kare Amin
    • Like Like x 2
  10. ‏ اگست 9, 2014 #10
    مبشر شاہ

    مبشر شاہ رکن عملہ منتظم اعلی

    ایک مرتبہ اپنا یہ سوال دارالافتاء ختم نبوت سے بھی کر دیں تاکہ شرعی رہنمائی مل جائے کیوں کہ مفتیان کرام بھی آپ کے سوالات کے منتظر ہیں :)
    • Like Like x 1

اس صفحے کی تشہیر