1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

"اجعلني نبي تلك الأمة" روایت اور قادیانی دجل کا جواب

اسامہ نے 'احادیثِ ختم نبوت ﷺ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اگست 14, 2019 2:52 شام

  1. ‏ اگست 14, 2019 2:52 شام #1
    اسامہ

    اسامہ رکن ختم نبوت فورم

    "اجعلني نبي تلك الأمة" روایت اور قادیانی دجل کا جواب



    از
    محمد اسامہ حفیظ



    روایت


    ثنا أَبُو أَيُّوبَ الْخَبَائِرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا رَبَاحُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ مُوسَى بْنَ عِمْرَانَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْشِي ذَاتَ يَوْمٍ فِي طَرِيقٍ، فَنَادَاهُ الْجَبَّارُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: يَا مُوسَى فَالْتَفَتَ يَمِينًا وَشِمَالًا فَلَمْ يَرَ أَحَدًا، ثُمَّ نَادَاهُ الثَّانِيَةَ: يَا مُوسَى بْنَ عِمْرَانَ، فَالْتَفَتَ يَمِينًا، وَشِمَالًا فَلَمْ يَرَ أَحَدًا، فَارْتَعَدَتْ فَرَائِصُهُ، ثُمَّ نُودِيَ الثَّالِثَةَ: يَا مُوسَى بْنَ عِمْرَانَ، إِنِّي أَنَا اللَّهُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا. فَقَالَ: لَبَّيْكَ، وَخَرَّ لِلَّهِ سَاجِدًا. فَقَالَ: ارْفَعْ رَأْسَكَ يَا مُوسَى بْنَ عِمْرَانَ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: يَا مُوسَى، إِنِّي أَحْبَبْتُ أَنْ تَسْكُنَ فِي ظِلِّ عَرْشِي يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلِّي. يَا مُوسَى، فَكُنْ لِلْيَتِيمِ كَالْأَبِ الرَّحِيمِ، وَكُنْ لِلْأَرْمَلَةِ كَالزَّوْجِ الْعَطُوفِ. يَا مُوسَى، ارْحَمْ تُرْحَمْ. يَا مُوسَى، كَمَا تَدِينُ تُدَانُ. يَا مُوسَى، نَبِّئْ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنَّهُ مَنْ لَقِيَنِي وَهُوَ جَاحِدٌ لِمُحَمَّدٍ أَدْخَلْتُهُ النَّارَ وَلَوْ كَانَ خَلِيلِي إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى كَلِيمِي. فَقَالَ: إِلَهِي وَمَنْ أَحْمَدُ؟ فَقَالَ: يَا مُوسَى، وَعِزَّتِي وَجَلَالِي، مَا خَلَقْتُ خَلْقًا أَكْرَمَ عَلَيَّ مِنْهُ، كَتَبْتُ اسْمَهُ مَعَ اسْمِي فِي الْعَرْشِ قَبْلَ أَنْ أَخْلُقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ بِأَلْفَيْ أَلْفِ سَنَةٍ. وَعِزَّتِي وَجَلَالِي، إِنَّ الْجَنَّةَ لَمُحَرَّمَةٌ عَلَى جَمِيعِ خَلْقِي حَتَّى يَدْخُلَهَا مُحَمَّدٌ وَأُمَّتُهُ. قَالَ مُوسَى: وَمَنْ أُمَّةُ مُحَمَّدٍ؟ قَالَ: أُمَّتُهُ الْحَمَّادُونَ، يَحْمَدُونَ صُعُودًا وَهُبُوطًا وَعَلَى كُلِّ حَالٍ، يَشُدُّونَ أَوْسَاطَهُمْ،، وَيُطَهِّرُونَ أَطْرَافَهُمْ، صَائِمُونَ بِالنَّهَارِ، رُهْبَانٌ بِاللَّيْلِ، أَقْبَلُ مِنْهُمُ الْيَسِيرَ، وَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ بِشَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ. قَالَ: إِلَهِي اجْعَلْنِي نَبِيَّ تِلْكَ الْأُمَّةِ. قَالَ: نَبِيُّهَا مِنْهُمْ. قَالَ: اجْعَلْنِي مِنْ أُمَّةِ ذَلِكَ النَّبِيِّ. قَالَ: اسْتَقْدَمْتَ وَاسْتَأْخَرُوا يَا مُوسَى، وَلَكِنْ يَا مُوسَى سَأَجْمَعُ بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ فِي دَارِ الْجَلَالِ "

    قادیانی روایت کے آخری الفاظ
    إِلَهِي اجْعَلْنِي نَبِيَّ تِلْكَ الْأُمَّةِ. قَالَ: نَبِيُّهَا مِنْهُمْ.
    پیش کر کے کہتے ہیں دیکھئے حضرت موسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام نے خواہش کی کہ مجھے امت محمدیہ کا نبی بنا دیا جائے تو جواب ملا اس امت کا نبی اس میں سے ہو گا۔اس سے ثابت ہو امت محمدیہ میں ایک نبی پیدا ہو گا۔


    جواب نمبر 1

    قادیانی امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب خصائص کبریٰ کا حوالہ دیتے ہیں لیکن اس کتاب میں روایت کی سند موجود نہیں ہے۔اس روایت کی سند امام ابوبکر بن ابی عاصم کی کتاب "السنة" میں موجود ہے۔
    (السنة صفحہ 305 ،306)


    سند

    ثنا أَبُو أَيُّوبَ الْخَبَائِرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا رَبَاحُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ
    (السنة صفحہ 305)


    اس سند کا پہلا راوی ابو ایوب الجبائری ہے
    (1)ابن الجنید کہتے ہیں "کان یکذب"
    (2) امام رازی کہتے ہیں "متروک الاحادیث"
    (3) امام نسائی کہتے ہیں "لیس بشئ"
    (4) امام ابن عدی کہتے ہیں "له احاديث منكرة"
    (5) امام الازدي کہتے ہیں "معروف بالكذب"

    (الضعفاء و المتروكون لابن الجوزي جلد 2 صفحہ 20 رقم 1527)

    اس سند کا دوسرا راوی ہے سعید بن موسی الازدی
    امام الذھبی اور ابن حجر العسقلانی کہتے ہیں "اتهمه ابن حبان بالوضع"
    امام ابن حجر العسقلانی تو اس روایت کو جو قادیانیوں نے پیش کی ہے اسے "موضوع" بھی کہتے ہیں۔
    (میزان الاعتدال جلد 2 صفحہ 159
    لسان المیزان جلد 4 صفحہ 77)

    کتاب السنة پر علامہ ناصر الدین البانی صاحب کی تحقیق بھی ہے وہ اس روایت کے بارے میں کہتے ہیں
    إسناده ضعيف جدا بل موضوع
    (السنة صفحہ 306)

    جواب نمبر 2

    قادیانیوں نے جو روایت پیش کی ہے اگر اسے صحیح بھی مان لیا جائے پھر بھی قادیانیوں کا دعویٰ ثابت نہیں ہوتا۔ روایت سے صرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے امت محمدیہ کے فضائل سن کر خواہش ظاہر کی کہ اللہ مجھے اس فضیلت والی امت کا نبی بنا دے اللہ نے فرمایا کہ اس کا نبی اس میں سے ہوگا یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے خواہش کی کہ مجھے اس شان اور فضیلت والے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی بنا دے روایت کے مطابق اللہ نے فرمایا آپ کا وقت پہلے ہے ان کا وقت بعد میں یعنی آپ ان سے پہلے ہوئے ہیں وہ آپ بعد میں ہوں گے۔
    اگر قادیانی اب بھی کہتے ہیں کہ یہ روایت صحیح ہے اور رسول اللہ صلی اللہ وسلم کا فرمان ہے تو ذرا جواب دیں کہ مرزا صاحب نے لکھا ہے کہ
    قرآن شریف سے ثابت ہے کہ ہر ایک نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں داخل ہے۔
    (روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 300)
    اس روایت کے مطابق حضرت موسیٰ علیہ السلام نے خواہش کی کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ وسلم کا امتی بنا دیا جائے لیکن ان کی بات قبول نہیں کی گئی۔ مرزا صاحب کہتے ہیں ہر نبی جن میں حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی شامل ہیں رسول اللہ صلی اللہ وسلم کے امتی ہیں۔مرزا صاحب کا یہ قول اس روایت کے خلاف ہے اگر یہ روایت آپ کے نزدیک صحیح اور رسول اللہ صلی اللہ وسلم کی حدیث ہے تو مرزا صاحب کے بارے میں کیا کہیں گے؟

اس صفحے کی تشہیر