1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

اجماع امت کے حوالہ جات اور خلاصہ بحث

محمدابوبکرصدیق نے 'ختم نبوت پر اعتراضات کے جوابات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ ستمبر 15, 2014

  1. ‏ ستمبر 15, 2014 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    اجماع امت کے حوالہ جات اور خلاصہ بحث
    (۱)…علامہ علی قاری ؒ شرح فقہ اکبر میں لکھتے ہیں:
    ’’دعوی النبوۃ بعد نبینا ﷺ کفر بالا جماع۰ شرح فقہ الاکبر ص ۲۰۲‘‘{ ہمارے نبی ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا بالاجماع کفر ہے۔}
    (۲)…حجتہ الا سلام امام غزالی ؒ ’’الاقتصاد‘‘ میں فرماتے ہیں:
    ’’ ان الا مۃ فھمت بالا جماع من ھذا اللفظ ومن قرائن احوالہ انہ افھم عدم نبی بعدہ ابدا۔۔۔۔۔۔ وانہ لیس فیہ تاویل ولا تخصیص فمنکر ھذا لایکون الا منکر الا جماع ۰ الا قتصاد فی الا عتقاد ص ۱۲۳‘‘{بے شک امت نے بالا جماع اس لفظ (خاتم النبیین) سے یہ سمجھا ہے کہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ آپ ﷺکے بعد نہ کوئی نبی ہوگا اور نہ رسول۔ اور اس پر اجماع ہے کہ اس لفظ میں کوئی تاویل وتخصیص نہیں۔ پس اس کا منکر یقینا اجماع امت کا منکر ہے۔}
    (۳)…حضرت قاضی عیاض ؓنے اپنی شہرہ آفاق کتاب الشفاء میں خلیفہ عبدالملک بن مروان کے عہد خلافت کا واقعہ نقل کیاہے کہ ان کے زمانہ میں حارث نامی ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیاتو خلیفہ نے وقت کے علماء (جوصحابہ کرام ؓ وتابعینؒتھے)کے فتویٰ سے اسے قتل کردیا۔ اور سولی پر چڑھایا۔ قاضی عیاض صاحب ؒ اس واقعہ کو نقل کرکے لکھتے ہیں:
    ’’ وفعل ذالک غیر واحد من الخلفاء والملوک باشباھم واجمع علماء وقتھم علی صواب فعلم والمخالف فی ذالک من کفر ھم کافر۰ شفا ص ۲۵۷‘۲۵۸ج۲‘‘{اور بہت سے خلفاء وسلاطین نے ان جیسے مدعیان نبوت کے ساتھ یہی معاملہ کیا ہے۔ اور اس زمانہ کے علماء نے ان سے اس فعل کے درست ہونے پر اجماع کیا ہے۔ اور جوشخص ایسے مدعیان نبوت کی تکفیر میں خلاف کرے وہ خود کافر ہے۔}
    (۴)…قاضی عیاض ؒاپنی کتاب شفاء میں اسی اجماع کی تصریح ان الفاظ میں فرماتے ہیں:
    ’’لانہ اخبر ﷺ انہ خاتم النبیین لانبی بعدہ واخبر عن اﷲ تعالیٰ انہ خاتم النبیین وانہ ارسل کافۃ للناس واجمعت الامۃ علی حمل ھذا الکلام علیٰ ظاھرہ وانہ مفھومہ المراد بہ دون تاویل ولاتخصیص فلا شک فی کفر ھؤ لأ الطوائف کلھا قطعا اجماعا وسمعا ۰ شفاء قاضی عیاض ؒ ص ۲۴۷ج۲ مطبوعہ مصر‘‘{اس لئے کہ آپ ﷺ نے خبر دی ہے کہ آپ ﷺ خاتم النبیین ہیں اور آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔ اور اﷲ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبر دی ہے کہ آپ ﷺ انبیاء کے ختم کرنے والے ہیں۔ اور اس پر امت کا اجماع ہے کہ یہ کلام بالکل اپنے ظاہری معنوں پر محمول ہے ۔اور جو اس کا مفہوم ظاہری الفاظ سے سمجھ میں آتا ہے وہ ہی بغیر کسی تاویل یا تخصیص کے مراد ہے۔ پس ان لوگوں کے کفر میں کوئی شبہ نہیں۔ جو اس کا انکار کریں اور یہ قطعی اور اجماعی عقیدہ ہے۔}
    (۵)…اور علامہ سید محمو د آلوسی ؒ مفتی بغداد اپنی تفسیر روح المعانی میں اسی اجماع کو الفاظ ذیل میں نقل فرماتے ہیں:
    ’’ ویکون ﷺ خاتم النبیین مما نطقت بہ الکتاب وصدعت بہ السنۃ واجمعت علیہ الا مۃ فیکفر مدعی خلافہ ویقتل ان اصرا۰ روح المعانی ص ۳۹جزء ۲۲‘‘{اور آنحضرت ﷺ کا خاتم النبیین ہونا ان مسائل میں سے ہے جس پرکتاب( بلکہ تمام آسمانی کتابیں) ناطق ہیں۔ اور احادیث نبوی ﷺ اس کو بوضاحت بیان کرتی ہیں۔ اور تمام امت کا اس پر اجماع ہے۔ پس اس کے خلاف کا مدعی کافر ہے ۔ اگر توبہ نہ کرے تو قتل کردیا جائے۔}
    (۶)…اور اسی مضمون کو علامہ ابن حجر مکی ؒ نے اپنے فتاویٰ میں اس طرح بیان فرمایا ہے:
    ’’ومن اعتقد وحیابعد محمد ﷺ کفر باجماع المسلمین‘‘{اور جو شخص آنحضرت ﷺ کے بعد کسی وحی کا معتقد ہو وہ باجماع مسلمین کافر ہے۔}
    (۷)…کتاب الفصل فی الملل والنحل پر ہے:
    ’’ صح الا جماع علیٰ ان کل من حجر شیاء صح عندنا باالا جماع ان رسول اﷲ ﷺ بہ فقد کفر‘‘{رسول اﷲ ﷺ سے کسی چیز (مسئلہ) کے اجماعی طور پر ثابت ہوجانے سے اس کا انکار کرنے والا بھی بالاجماع کافر ہے۔}
    خلاصہ بحث:
    (۱)… مسئلہ ختم نبوت قرآن مجید کی ننانوے آیات بینات سے ثابت ہے۔
    (۲)… مسئلہ ختم نبوت دو سو دس احادیث مبارکہ سے ثابت ہے۔
    (۳)… مسئلہ ختم نبوت تواتر سے ثابت ہے۔
    (۴)… مسئلہ ختم نبوت اجماع امت سے ثابت ہے۔
    (۵)… مسئلہ ختم نبوت پر امت کا سب سے پہلا اجماع منعقد ہوا۔
    (۶)… مسئلہ ختم نبوت کے لئے بارہ سو صحابہ کرام ؓ نے جام شہادت نوش فرمایا۔ جس میں سات سو قرآن مجید کے حافظ وقاری اور بدری صحابہ کرام ؓ تھے۔
    (۷)… مسئلہ ختم نبوت کی وجہ سے اﷲ رب العزت نے امت کو اجماع کی نعمت سے نوازا۔
    (۸)… مسئلہ ختم نبوت کی وجہ سے رحمت دو عالم ﷺ پر نازل شدہ وحی قرآن مجید کی حفاظت کا اﷲ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا۔
    (۹)… ختم نبوت کے تحفظ کی پہلی جنگ کے بعد قرآن مجید کو جمع کرنے کا صدیق اکبر ؓ کے زمانہ میں امت نے اہتمام کیا۔
    (۱۰)… ختم نبوت کے منکر یعنی جھوٹے مدعی نبوت سے اس کے دعویٰ نبوت کی دلیل طلب کرنے والا بھی کافر ہے۔ نیز یہ کہ جھوٹے مدعی نبوت اور اس کے پیروکاروں کی شرعی سزا قتل ہے۔
    (۱۱)…دنیا میں کہیں کسی آسمانی کتاب کے حافظ موجود نہیں۔ جبکہ قرآن مجید کے حافظ وقاری ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں ہیں۔ یہ اس لئے کہ پہلی کتب عارضی ومحدود دور کے لئے تھیں۔ قرآن مجید قیامت کی صبح تک کے لئے ہے۔ اس اعتبار سے تو اصحاب صفہؓ سے لے کر اس وقت تک دنیا کے ہر خطہ میں حافظ وقاری ختم نبوت کی دلیل ہیں۔
    (۱۲)… مسیحی قوم اپنی عبادت گاہوں کوفروخت کرکے دوسرے مقاصد (دکان ومکان)کے لئے استعمال کرتی ہے۔ جہاں مسجد بن جائے امت محمدیہؐ اس جگہ کو دوسرے مقصد کے لئے استعمال نہیں کرسکتی۔ پہلے انبیاء کی شریعت محدود وقت کے لئے ‘ان کی عبادت گاہیں بھی محدود وقت کے لئے۔ آپ ﷺ کی نبوت قیامت تک کے لئے تو مساجد بھی قیامت تک کے لئے ۔ اس اعتبار سے دیکھیں تو مسجد نبوی ؐسے لے کر کائنات کے ہرخطہ کی ہر مسجد ختم نبوت کی دلیل نظر آتی ہے۔
    ان تمام امور پر نظر کریں تو گویا پورا دین ختم نبوت کے گرد گھومتا نظر آتا ہے۔
    • Like Like x 2

اس صفحے کی تشہیر