1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

اجماع بھی دراصل دلیل ختم نبوت ہے

محمدابوبکرصدیق نے 'متفرقات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ ستمبر 15, 2014

  1. ‏ ستمبر 15, 2014 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    اجماع بھی دراصل دلیل ختم نبوت ہے

    درحقیقت اجماع کا شرعی حجتوں میں داخل ہونا اور اس امت کے لئے مخصوص ہونا خود بھی ہمارے زیر بحث مسئلہ ختم نبوت کی روشن دلیل ہے۔ جیسا کہ صاحب توضیح لکھتے ہیں:
    ’’وما اتفق علیہ المجتہدون من امۃ محمد ﷺ فی عصر علیٰ امرفھذامن خواص امۃ محمد علیہ الصلوٰۃ والسلام فانہ خاتم النبیین لاوحی بعدہ وقد قال اﷲ تعالیٰ الیوم اکملت لکم دینکم ولاشک ان الا حکام التی تثبت بصریح الوحی بالنسبۃ الی الحوادث الواقعۃ قلیلۃ غایۃ القلۃ فلو لم تعلم احکام تلک الحوادث من الوحی الصریح وبقیت احکامھا مھملۃ لا یکون الذین کا ملا فلا بد ان یکون للمجتھدین ولا یۃ استنباط احکا مھا من الوحی۰توضیح مصری ص ۴۹ ج ۱ ‘‘ {اور وہ حکم جس پر محمد ﷺ کی امت کے مجہتدین کا کسی زمانہ میں اتفاق ہوجائے اس کا واجب التعمیل ہونا اس امت کی خصوصیات میں سے ہے۔ کیونکہ آپﷺ خاتم النبیین ہیں۔ اور آپ ﷺ کے بعد کسی پر وحی نہیں آئے گی اور ادھر یہ اشارہ خدا وندی ہے کہ ہم نے تمہارا دین کامل کردیا ہے اور اس میں بھی شک نہیں بلکہ جو احکام صریح وحی سے ثابت ہوئے ہیں وہ بہ نسبت روز مرہ کے پیش آنے والے واقعات کے نہایت قلیل ہیں۔ پس جب ان واقعات کے احکام وحی صریح سے معلوم نہ ہوئے (اب اگر اجماع وقیاس کو حجت نہ بنایا جائے )اور شریعت میں ان واقعات کے متعلق احکام نہ ہوں تو دین کامل نہیں رہتا۔ اس لئے ضروری ہے کہ اس امت کے مجتہدین کو وحی(رہنمائی) سے ان احکام کے استنباط کرنے کا حق حاصل ہو۔}
    الغرض جس طرح قرآن وحدیث سے احکام شرعیہ ثابت ہوئے ہیں اسی طرح بتصریح نصوص قرآن وحدیث اور باتفاق علمائے امت اجماع سے قطعی احکام ثابت ہوتے ہیں۔ البتہ اس میں چند درجات ہیں۔ جن میں سب سے مقدم اور سب سے زیادہ قطعی اجماع صحابہ کرام ؓ ہے۔ جس کے متعلق علمائے اصول کا اتفاق ہے کہ اگر کسی مسئلہ پر تمام صحابہ کرام ؓ کی آراء بالتصریح جمع ہوجائیں تو وہ بالکل ایسا ہی قطعی ہے جیسا کہ قران مجید کی آیات ۔ اور اگر یہ صورت ہوکہ بعض نے اپنی رائے بیان فرمائی اور باقی صحابہ کرام ؓ نے اس کی تردید نہ کی بلکہ سکوت اختیار کیا۔ تو یہ بھی اجماع صحابہ کرام ؓ میں داخل ہے اور اس سے جو حکم ثابت ہو وہ بالکل ایسا ہی قطعی ہے جیسے احادیث متواترہ کے احکام قطعی ہوتے ہیں۔
    بلکہ اگر غور سے کام لیا جائے تو تمام ادلہ شرعیہ میں سب سے زیادہ فیصلہ کن دلیل ہے اور بعض حیثیات سے تمامحججشرعیہ پر مقدم ہے۔ کیونکہ قرآن وسنت کے مفہوم ومعنی متعین کرنے میں آراء مختلف ہوسکتی ہیں۔ اجماع میں اس کی بھی گنجائش نہیں۔ چنانچہ حافظ حدیث علامہ ابن تیمیہ تحریر فرماتے ہیں:
    ’’واجماعھم حجۃ قاطعۃ یجب اتبا عھا بل ھی اوکد الحجج وھی مقدمۃ علیٰ غیرھا ولیس ھذا موضع تقریر ذالک فان ھذا الا صل مقرر فی موضعہ ولیس فیہ بین الفقھاء ولا بین سائر المؤمنین الذین ھم المؤمنون خلاف ۰ اقامۃ الدلیل ص ۱۳۰ج۳‘‘{اور اجماع صحابہ حجت قطعیہ ہے اس کا اتباع فرض ہے بلکہ وہ تمام شرعی حجتوں سے زیادہ موکد اور سب سے مقدم ہے۔ یہ موقع اس بحث کے پھیلانے کا نہیں۔ کیونکہ ایسے موقعے (یعنی کتب اصول) میں یہ بات باتفاق اہل علم ثابت ہوچکی ہے۔ اور اس میں تمام فقہاء اور تمام مسلمانوں میں جو واقعی مسلمان ہیں کسی کا بھی خلاف نہیں۔}
    • Like Like x 2

اس صفحے کی تشہیر