1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

احادیث نبویہ سے مغالطہ دہی کے جوابات ( مغالطہ نمبر:۷ ابن عربی کی پیش گوئی)

محمدابوبکرصدیق نے 'قادیانی شبہات اور ان کے جوابات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اکتوبر 18, 2014

  1. ‏ اکتوبر 18, 2014 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    رکنیت :
    ‏ جون 29, 2014
    مراسلے :
    15,772
    موصول پسندیدگیاں :
    3,123
    نمبرات :
    113
    جنس :
    مذکر
    پیشہ :
    بائیومیڈیکل انجینیئر
    مقام سکونت :
    لاہور
    احادیث نبویہ سے مغالطہ دہی کے جوابات ( مغالطہ نمبر:۷ ابن عربی کی پیش گوئی)
    ابن العربی رحمۃُ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ مسیح ’’خاتم الاولاد‘‘ ہوگااور اس کے ساتھ اس کی بہن پیدا ہوگی۔
    (شرح فصوص الحکم ص۸۳)
    یہ بات مرزا قادیانی میں پائی جاتی ہے۔
    تصحیح… اصل پیش گوئی ابن العربی رحمۃُ اللہ علیہ کی اس طرح ہے کہ آخر زمانہ میں ایک لڑکا پیدا ہوگا۔ جو بنی نوع انسان میں خاتم الاولاد ہوگا اور اس کے بعد کوئی لڑکا یا لڑکی جہاں میں پیدا نہ ہوگی۔ مرزا قادیانی اس پیش گوئی کو ان الفاظ میں بیان کرتا ہے: ’’ہم مناسب دیکھتے ہیں کہ اس جگہ شیخ کی اصل عبارت نقل کر دیں اور وہ یہ ہے: ’’وعلیٰ قدم شیث یکون آخر مولود یولد من ہذا النوع الانسانی وھو حامل اسرارہ۰ ولیس بعدہ ولد فی ہذا النوع فہو خاتم الاولاد۰ وتولد معہ اخت لہ فتخرج قبلہ ویخرج بعدہا یکون رأسہ عند رجلیہا۰ ویکون مولدہ بالصین ولغتہ لغت بلدہ۰ ویسری العقم فی الرجال والنساء فیکثر النکاح من غیر ولادۃ۰ ویدعوہم الیٰ اﷲ فلا یجاب‘‘ یعنی کامل انسانوں میں سے آخری کامل ایک لڑکا ہوگا۔ جو اصل مولد اس کا چین ہوگا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ ’’قوم مغل‘‘ اور ’’ترک‘‘ میں سے ہوگا اور ضروری ہے کہ عجم میں سے ہوگا، نہ عرب میں سے، اور اس کو وہ علوم اور اسرار دئیے جائیں گے۔ جو شیث کو دئیے گئے تھے، اور اس کے بعد کوئی اور ولد نہ ہوگا، اور وہ خاتم الاولاد ہوگا۔ یعنی اس کی وفات کے بعد کوئی کامل بچہ پیدا نہیں ہوگا، اور اس فقرہ کے یہ بھی معنی ہیں کہ وہ اپنے باپ کا آخری فرزند ہوگا اور اس کے ساتھ ایک لڑکی پیدا ہوگی جو اس سے پہلے نکلے گی اور وہ اس کے بعد نکلے گا۔ اس کا سر اس دختر کے پیروں سے ملا ہوا ہوگا۔ یعنی دختر معمولی طریق سے پیدا ہوگی کہ پہلے سر نکلے گا اور پھر پیر اور اس کے پیروں کے بعد بلاتوقف اس پسر کا سر نکلے گا۔ (جیسا کہ میری ولادت اور میری توأم ہمشیرہ کی اسی طرح ظہور میں آئی) اور پھر بقیہ ترجمہ شیخ کی عبارت کا یہ ہے کہ اس زمانہ میں مردوں اور عورتوں میں بانجھ کا عارضہ سرایت کرے گا۔ نکاح بہت ہوگا۔ یعنی لوگ مباشرت سے نہیں رکیں گے۔ مگر کوئی صالح بندہ نہیں ہوگا… اور پیش گوئی میں یہ بھی الفاظ ہیں کہ اس کے بعد یعنی اس کے مرنے کے بعد نوع انسان میں علت عقم سرایت کرے گا۔ یعنی پیدا ہونے والے حیوانوں اور وحشیوں سے مشابہت رکھیں گے اور انسانیت حقیقی صفحۂ عالم سے مفقود ہو جائیں گے۔ وہ حلال کو حلال نہیں سمجھیں گے اور نہ حرام کو حرام۔ پس ان پر قیامت قائم ہو گی۔‘‘
    (تریاق القلوب ص۱۵۸،۱۵۹، خزائن ج۱۵ ص۴۸۲،۴۸۳)
    سچ ہے کہ ایک جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے لئے کئی جھوٹ بولنے پڑتے ہیں۔
    ۱… مرزا قادیانی نے رجل فارس بننے کے لئے اپنا ’’فارسی النسل‘‘ ہونا بیان کیا۔
    ۲… پھر اس پیش گوئی کو دیکھا تو ’’چینی الاصل‘‘ ہونے کی کہانی وضع کی۔
    ۳… پھر ہمشیرہ کے ساتھ پیدا ہونے کی کہانی بیان کی۔
    ۴… لیکن اﷲ تعالیٰ کی شان بے نیازی پر قربان جائیں کہ مرزا قادیانی کا لکھنا! کہ شیخ ابن عربی رحمۃُ اللہ علیہ کی پیش گوئی میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ: ’’اس کے بعد یعنی اس کے مرنے کے بعد نوع انسان میں علت عقم سرایت کرے گی۔‘‘
    اب ہمارے نزدیک تو ایک بزرگ کا یہ قول ہے جس کی شریعت میں کوئی اہمیت نہیں۔ جس کی عقیدہ کے باب میں ذرہ برابر وقعت نہیں۔ لیکن ’’شیخ الحدیث مولانا عبدالغفور صاحب آف سجاول‘‘ کے بقول مرزا قادیانی اس عادی مجرم کی طرح کہ جس کی جگہ… خالی دیکھی اس پر بیٹھ گیا۔ مرزا قادیانی نے اس پیش گوئی پر خود کو فٹ کرنے کے لئے کہانی تیار کی مگر اس پیش گوئی کے یہ الفاظ قابل غور ہیں۔ ’’اس کے بعد یعنی اس کے مرنے کے بعد نوع انسان میں علت سقم سرایت کرجائے گی۔ یعنی پیدا ہونے والے حیوانوں اور وحشیوں سے مشابہت رکھیں گے اور انسانیت حقیقی صفحۂ عالم سے منقود ہوجائیں گے۔ وہ حلال کو حلال نہیں سمجھیں گے اور نہ حرام کو حرام۔‘‘
    اب اگر مرزا قادیانی جیسا کہ وہ خود کہتا ہے کہ میں اس پیش گوئی کا مصداق ہوں تو موجودہ قادیانی خلیفہ ’’طاہر ومسرور‘‘ سمیت سب مرزا کے مرنے کے بعد پیدا ہوئے۔ اس طرح موجودہ تمام قادیانی بھی سب مرزا قادیانی کے مرنے کے بعد پیدا ہوئے تو مرزا قادیانی کے مرنے کے بعد علّت عقم پیدا ہوتی۔ لہٰذا:
    ۱… مرزائی خلیفہ سمیت تمام قادیانی حیوان ہیں۔
    ۲… مرزائی خلیفہ سمیت تمام قادیانی وحشی ہیں۔
    ۳… مرزائی خلیفہ سمیت تمام قادیانی انسان حقیقی نہیں۔
    ۴… مرزائی خلیفہ سمیت تمام قادیانی حلال کو حلال نہیں سمجھتے۔
    ۵… مرزائی خلیفہ سمیت تمام قادیانی حرام کو حرام نہیں سمجھتے۔
    مرزا قادیانی کے حق میں اگر یہ پیش گوئی سچی ہے تو پھر فتویٰ بالا بھی قادیانی قبول فرمائیں۔
    لیکن فتویٰ قبول کرنے کے بعد بھی مشکل پیش آئے گی کہ ان موجودہ مرزائیوں پر قیامت قائم نہ ہوئی۔ مرزا قادیانی پھر بھی جھوٹے کا جھوٹا۔ استاذ! لا ہاتھ کیسی کہی!

اس صفحے کی تشہیر