1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

احادیث پر قادیانی اعتراضات ( اعتراض نمبر۳۳:لوعاش ابراھیم )

محمدابوبکرصدیق نے 'عقیدہ ختم نبوت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ ستمبر 28, 2014

  1. ‏ ستمبر 28, 2014 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    احادیث پر قادیانی اعتراضات ( اعتراض نمبر۳۳:لوعاش ابراھیم )
    قادیانی:’’ ولو عاش (ابراھیم) لکان صدیقاً نبیائ‘‘ اس سے قادیانی استدلال کرتے ہیں کہ اگر حضور ﷺ کے بیٹے حضرت ابراھیم زندہ رہتے تو نبی بنتے۔ بوجہ وفات کے حضرت ابراھیم نبی نہیں بن سکے ورنہ نبی بننے کا امکان تو تھا۔
    جواب۱: یہ روایت جس کو قادیانی اپنے استدلال میں پیش کرتے ہیں سنن ابن ماجہ ‘ باب ماجاء فی الصلوٰۃ علیٰ ابن رسول اﷲ ﷺ وذکروفاتہ‘ میں ہے۔ روایت کے الفاظ یہ ہیں:
    ’’ عن ابن عباس ؓ لمامات ابراھیم بن رسول اﷲ ﷺ صل رسول اﷲ ﷺ وقال ان لہ مرضعاً فی الجنتہ ولوعاش لکان صدیقا نبیا ولوعاش لعتقت اخوالہ القبط ومااسترق قبطی۰ابن ماجہ ص ۱۰۸‘‘
    {حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب آپ ﷺ کے صاحبزادے ابراھیم کا انتقال ہوا تو آپ ﷺ نے نماز جنازہ پڑھائی اور فرمایا اس کے لئے دودھ پلانے والی جنت میں (مقرر کردی گئی) ہے۔ اور اگر ابراھیم زندہ رہتے تو سچے نبی ہوتے اور اگر وہ زندہ رہتے تو اس کے قبطی خالہ زاد آزاد کردیتا۔}

    (۱)… اس روایت کی صحت پر شاہ عبدالغنی مجددی ؒ نے انجاح الحاجہ علی ابن ماجہ ‘ میں کلام کیا ہے:
    ’’ وقد تکلم بعض الناس فی صحۃ ھذا الحدیث کما ذکر السید جمال الدین المحدث فی روضۃ الا حباب ۰
    انجاح ص ۱۰۸
    ‘‘
    { اس حدیث کی صحت میں بعض (محدثین) نے کلام کیا ہے۔ جیسا کہ روضہ احباب میں سیدجمال الدین محدث نے ذکر کیا ہے۔}

    (۲)…’’ قال ابن عبدالبر ؒ لاادری مامعنی ھذا القول لان اولاد نوح ماکانوا انبیاء ۰
    انجاح ص ۱۰۸
    ‘‘
    {شیخ ابن عبدالبر ؒ کہتے ہیں۔ نہیں معلوم کہ اس قول کا کیا معنی ہے کہ حضرت ابراھیم زندہ ہوتے تونبی بنتے یہ بات اصولاً غلط ہے ۔ کیونکہ یہ کہاں ہے کہ ہر نبی کا بیٹا نبی ہو؟۔ اس لئے کہ حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے نبی نہیں تھے۔}

    (۳)… ’’ وقال الشیخ الد ھلوی ؒ وھذی جراۃٔ عظیمیۃ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔لم یصح۰
    انجاح ص ۱۰۸‘‘
    شیخ عبدالحق دہلوی ؒفرماتے ہیں کہ یہ بہت بڑی زیادتی ہے۔۔۔۔ جو صحیح نہیں۔}

    (۴)… ’’ روی ابن ماجہ بسند فیہ ابوشیبہ ابراھیم بن عثمان العبسی قاضی واسط وھومتروک الحدیث ۰
    انجاح ص ۱۰۸
    ‘‘{اس روایت میں ابوشیبہ ابراھیم بن عثمان العبسی راوی متروک الحدیث ہے۔(یعنی اس کی روایت غیر صحیح ہے۔)}

    (۵)… تقریب التھذیب ص ۲۵ علامہ ابن حجر ؒ نے فرمایا ہے کہ :
    ’’ابوشیبہ ابراھیم بن عثمان العبسی ھومتروک الحدیث۰‘‘

    (۶)… ہدایہ اور فتاویٰ عالمگیری کے مترجم علامہ امیر علی نے تقصیب التقریب میں ترمذی جلد۱ صفحہ ۱۹۹
    کتاب الجنائر کے حوالہ سے ابوشیبہ ابراھیم کے بارہ میں تحریر کیا ہے کہ وہ منکرالحدیث ہے۔
    (تقریب ص ۲۵)

    (۷)… تذکرۃ الموضوعات ص ۲۳۳پر ابوشیبہ ابراہیم بن عثمان کو متروک کہا ہے اور لکھا ہے کہ شعبہ نے اس کی تکذیب کی ہے۔

    (۸)… موضوعات کبیر کے ص ۵۸ پر ہے :
    ’’ قال النووی فی تھذیبہ ھذا الحدیث باطل وجسارۃ علی الکلام المغیبات وفجازفۃ وھجوم علی عظیم۰‘‘
    {امام نووی ؒنے تہذیب الاسماء میں فرمایا ہے کہ یہ حدیث باطل ہے۔ غیب کی باتوں پر جسارت ہے۔ بڑی بے تکی بات ہے۔}

    (۹)…مدارج النبوۃ ص ۲۶۷ ج ۲ شیخ عبدالحق دہلوی ؒ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صحت کو نہیں پہنچتی۔ اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ اس کی سند میں ابوشیبہ ابراھیم بن عثمان ہے جو ضعیف ہے۔

    (۱۰)… ابوشیبہ ابراھیم بن عثمان کے بارہ میں محدثین کی آراء یہ ہیں۔ ثقہ نہیں ہے۔
    حضرت امام احمد بن حنبل ؒ ‘ حضرت امام یحییٰ ‘ حضرت امام دائود ؒ۔
    منکر حدیث ہے حضرت امام ترمذی ؒ
    متروک الحدیث ہے حضرت امام نسائی ؒ
    اس کا اعتبار نہیں حضرت امام جوزجانی ؒ
    ضعیف الحدیث ہے حضرت امام ابوحاتم ؒ
    ضعیف ہے اس کی حدیث نہ لکھی جائے ۔ اس نے حکم سے منکر حدیثیں روایت کی ہیں۔ تہذیب التہذیب ص ۱۴۵‘۱۴۴ ج۱ ‘ (یاد رہے کہ زیر بحث روایت بھی ابوشیبہ نے حکم سے روایت کی ہے۔)
    ایسا راوی جن کے متعلق آپ اکابر امت کی آراء ملاحظہ فرماچکے ہیں۔ اس کی ایسی ضعیف روایت کو لے کر قادیانی اپنا باطل عقیدہ ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ ان کو معلوم ہونا چاہئیے کہ عقیدہ کے اثبات کے لئے خبرواحد (اگرچہ صحیح کیوں نہ ہو بھی) معتبر نہیں ہوتی ۔ چہ جائیکہ کہ عقائد میں ایک ضعیف روایت کا سہارالیا جائے۔ یہاں تو بالکل ’’ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا‘‘ والی بات ہوگی۔
    جواب۲:اور پھر قادیانی دیانت کے دیوالیہ پن کا اندازہ فرمائیں کہ اسی متذکرہ روایت سے قبل حضرت ابن اوفی ؓ کی ایک روایت ابن ماجہ نے نقل کی ہے جو صحیح ہے ۔ اس لئے کہ امام بخاری ؒ نے بھی اپنی صحیح بخاری میں اسے نقل فرمایا ہے جو قادیانی عقیدہ اجراء نبوت کو بیخ وبن سے اکھیڑ دیتی ہے۔
    اے کاش ! قادیانی اس ضعیف روایت سے قبل والی صحیح روایت کو پڑھ لیتے جو یہ ہے :
    ’’قال قلت لعبداﷲ ابن ابی اوفی ؓ رائیت ابراھیم بن رسول اﷲ ﷺ قال مات وھو صغیر ولوقضی ان یکون بعد محمد ﷺ نبی لعاش ابنہ ابراھیم ولکن لانبی بعدہ ۰ ابن ماجہ باب ماجاء فی الصلوٰۃ علی ابن رسول اﷲ ﷺ ۰ وذکر فاتہ ص ۱۰۸‘‘
    {اسماعیل راوی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداﷲ ابن اوفی ؓ سے پوچھا کہ کیا رسول اﷲ ﷺ کے بیٹے ابراھیم کو آپ نے دیکھا تھا؟۔ عبداﷲ ابن اوفی ؓ نے فرمایا کہ وہ (ابراھیم) چھوٹی عمر میں انتقال فرماگئے اور اگر حضور ﷺ کے بعد کسی کو نبی بننا ہوتا۔ تو آپ ﷺ کے بیٹے ابراھیم زندہ رہتے۔ لیکن آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔}
    یہ وہ روایت ہے جسے اس باب میں ابن ماجہ سب سے پہلے لائے ہیں۔ یہ صحیح ہے اس لئے کہ حضرت امام بخاری ؒ نے اپنی صحیح کے باب ’’ من سمی باسماء الانبیائ‘‘ میں اسے مکمل نقل فرمایا ہے۔ دیکھئے (بخاری ج ۲ ص ۹۱۴)
    اب آپ ملاحظہ فرمائیں کہ یہ صحیح روایت جسے ابن ماجہ متذکرہ باب میں سب پہلے لائے اور جس کو امام بخاری ؒنے اپنی صحیح بخاری میں روایت کیا ہے اور مرزا قادیانی نے اپنی کتاب شہادت القرآن ص ۴۱ روحانی خزائن ص ۳۳۷ ج ۶ پر ’’ بخاری شریف کو اصح الکتب بعدکتاب اﷲ ‘‘ تسلیم کیا ہے۔اگر مرزائیوںمیں دیانت نام کی کوئی چیز ہوتی تو اس صحیح بخاری کی روایت کے مقابلہ میں ایک ضعیف اور منکر الحدیث کی روایت کو نہ لیتے۔ مگر مرزائی اور دیانت یہ دو متضاد چیزیں ہیں۔
    اب ملاحظہ فرمائیے کہ حضرت عبداﷲ ابن اوفی ؓ یہ کیوں فرماتے ہیں کہ اگر حضور ﷺ کے بعد کسی کو نبی بننا ہوتا ۔تو آپ ﷺ کے بیٹے ابراھیم زندہ رہتے۔ گویا حضرت ﷺ کے صاحبزادہ کا انتقال ہی اس لئے ہوا کہ آپ ﷺ کے بعد کسی کو نبی نہیں بننا تھا۔ یہ اس لئے فرمایا کہ رحمت دو عالم ﷺ کے بعد اگر آپ ﷺ کے بیٹے ابراھیم زندہ رہتے اور جوانی کی عمر کو پہنچتے تو دو صورتیں تھیں۔
    نمبر۱: یہ کہ وہ نبی بنتے یا نمبر۲: نبی نہ بنتے۔
    اگر نبی بنتے تو یہ آپ ﷺ کی ختم نبوت کے منافی تھا۔ اگر نبی نہ بنتے تو سوال پیدا ہوسکتا تھا کہ حضرت ابراھیم علیہ السلام کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام نبی ‘ حضرت یعقوب علیہ السلام کے بیٹے حضرت یوسف علیہ السلام نبی‘ تو آپ ﷺ کا بیٹا کیوں نبی نہیں؟۔گویا آپ ﷺ کے بیٹے نبی بنتے تو ختم نبوت پر حرف آتا۔ نبی نہ بنتے تو رحمت دو عالم ﷺ پر اعتراض آتا۔ اﷲ رب العزت کی حکمت بالغہ نے آپ ﷺ کے صاحبزادوں کا بچپن میں اس لئے انتقال کردیا کہ نہ آپ ﷺ کی ختم نبوت پر حرف آئے اور نہ آپ ﷺ کی ذات پر۔ گویا ابراھیم کا انتقال ہی ختم نبوت کی وجہ سے تھا۔ آپ ﷺ کے بعد کسی شخص کو نبی نہیں بننا تھا۔
    لیجئے ایک اور روایت انہیں حضرت عبداﷲ بن اوفی ؓ سے مسند احمد ج ۴ ص ۳۵۳ کی ملاحظہ فرمائیے:
    ’’ حدثنا ابن ابی خالد قال سمعت ابن ابی اوفی ؓ یقول لوکان بعدالنبی ﷺ نبی مامات ابنہ ابراھیم۰‘‘
    {ابن ابی خالد فرماتے ہیں کہ میں نے ابن ابی اوفی ؓ سے سنا فرماتے تھے کہ حضرت رحمت دو عالم ﷺ کے بعد کوئی نبی ہوتا تو آپ ﷺ کے بیٹے ابراھیم فوت نہ ہوتے۔}
    حضرت انس ؓ سے سدی ؒ نے دریافت کیا کہ حضرت ابراھیم کی عمر بوقت وفات کیا تھی؟۔ آپ نے فرمایا کہ :
    ’’ ماملاء معہدہ ولو بقی لکان نبیاً لکن لم یبق لئن نبیکم آخر الانبیائ۰‘‘
    { وہ تو گہوارہ کو بھی پورانہ بھر سکے (یعنی بچپن میں ہی انتقال ہوگیا اور )اگر وہ باقی رہتے تو نبی ہوتے لیکن اس لئے باقی نہ رہے کہ تمہارے نبی آخری نبی ہیں۔
    (تلخیص التاریخ الکبیر لابن عساکر ص ۲۹۴ ج ۱)}
    ’’ قال ابن عباس ؓ یرید لولم اختم بہ النبیین لجعلت لہ ابنا یکون بعدہ نبیا وروی عن عطاء عن ابن عباس ؓان اﷲ تعالیٰ لما حکم ان لانبی بعدہ لم یعطہ ولداذکرا یصیر رجلا ۰ کذافی المعالم التنزیل ص ۱۷۸ ج ۳‘‘
    {حضرت عبداﷲ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ کی مراد یہ ہے کہ اگر نبیوں کا سلسلہ ختم نہ کرتا تو آپ ﷺ کے لئے صاحبزادہ ہوتا۔ جو آپ ﷺ کے بعد نبی ہوتا۔ عطاء سے ہے کہ جب اﷲ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے بعد نبوت کو بند کرنے کا فیصلہ فرمادیا تو آپ کو بیٹا نہیں دیا جوجوانی کو پہنچے۔}
    اس روایت نے واضح کردیا کہ ابراھیم کی وفات ہی اس لئے ہوئی کہ آپ ﷺ کے بعد کسی کو نبی نہ بننا تھا۔
    اب ان صحیح روایات جو بخاری ‘ مسند احمد اور ابن ماجہ میں موجود ہیں ان کے ہوتے ہوئے ایک ضعیف روایت کو جس کا جھوٹا اور مردود ہونا یوں بھی ظاہر ہے کہ یہ قرآن کے نصوص صریحہ اور صدہا احادیث نبویہ کے خلاف ہے۔ اسے صرف وہی لوگ اپنے عقیدے کے لئے پیش کرسکتے ہیں جن کے متعلق حکم خدا وندی ہے :
    ’’ ختم اﷲعلیٰ قلوبھم وعلیٰ سمعھم وعلیٰ ابصارھم غشاوۃ۰‘‘
    قادیانی اعتراض: اس روایت کی شہاب علی البیضاوی اور موضوعات میں ملاعلی قاری نے تصحیح کی ہے۔
    جواب۲: شہاب علی البیضاوی یا حضرت ملاعلی قاریؒ کی تصحیح آئمہ حدیث ابن حجر عسقلانی ؒ ‘ حافظ ابن عبدالبر ؒ اور امام نووی ؒ کے مقابلہ میں کوئی تقدیم نہیں رکھتی۔ یہ تمام آئمہ حدیث اس روایت کو ضعیف اور باطل قرار دیتے ہیں۔ اور پھر موضوعات میں حضرت ملا علی قاری ؒ نے بھی ان آئمہ کی اس حدیث کے بارے میں جرح کو نقل کیا ہے۔ اس لئے شہاب علی البیضاوی ہوں یا حضرت علی القاری ؒ ان کی تصحیح وتعدیل پر جرح مقدم ہوگی اور پھر جبکہ جرح بھی آئمہ حدیث نے کی ہو جن کی ثقاہت پر حضرت ملاعلی قاری ؒ بھی سردھنتے ہوں۔
    الحاوی للفتاوی ص ۹۹ ج ۲ پر حضرت عبداﷲ بن اوفی ؓ سے روایت کے الفاظ یہ ہیں:
    ’’ توفی وھو صغیر ولوقضی ان یکون بعد محمد ﷺ نبی لعاش ولکنہ لانبی بعدہ۰‘‘
    {(حضرت ابراھیم)بچپن میں فوت ہوگئے اگر آنحضرت ﷺ کے بعد کسی شخص کا نبی بننا مقدر (جائز) ہوتا تو وہ زندہ رہتے۔ لیکن (زندہ اس لئے نہیں رہے کہ)آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں(بننا تھا)}
    اور الحاوی للفتاوی ص ۹۹ ج ۲ پر ایک اور روایت حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ :
    ’’ ولوبقی لکان نبیا ولکن لم یبقی لان نبیکم آخر الانبیائ۰‘‘
    {اگر وہ زندہ رہتے تو نبی ہوتے لیکن وہ زندہ اس لئے نہیں رہے کہ آنحضرت ﷺ آخرالا نبیاء ہیں۔}
    الحاوی کے مصنف علامہ جلال الدین سیوطی ؒ ہیں۔ جن کو قادیانی نویں صدی کا مجدد مانتے ہیں اور جن کے متعلق مرزا نے لکھا ہے کہ:
    ’’ انہوں نے حالت بیداری میں ۷۵ مرتبہ رحمت دو عالم ﷺ سے حدیثوں کی صحت کرائی تھی۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص ۱۵۱‘روحانی خزائن ص ۱۷۷ ج ۳)
    غرض حضرت علامہ جلال الدین سیوطی ؒ نے ان تمام روایات کو جمع کرنے کے بعد ان کا جو جواب تحریر کیا ہے ۔ اے کاش ! قادیانیوں کے لئے ہدایت کا باعث بن جائے۔جو یہ ہے:
    ’’ حافظ ابن حجر اصابہ میں فرماتے ہیں کہ یہ روایت میں نہیں جانتا۔ اس کا کیا مطلب ہے؟ ہر چند کہ یہ تین صحابہ سے مروی ہے (لیکن غلط ہے) اس لئے کہ صحابہ کرام ؓ کے متعلق یہ خیال نہیں کیا جاسکتا کہ انہوں نے ایسی بات کہی ہو۔ علامہ جلال الدین فرماتے ہیں (اگر یہ صحیح ہوتی تو)قضیہ شرطیہ ہے اس کا وقوع لازم نہیں۔‘‘
    (الحاوی الفتاوی ج ۲ ص ۱۰۰)
    جواب۳:اگر یہ روایت کہیں سند صحیح سے مذکور بھی ہوتی ‘تو بھی واحد ہونے کی وجہ سے احادیث صحیحہ متواترہ کے خلاف ہونے کے باعث قابل توجیہ یا قابل رد تھی۔ جیسا کہ مدارج النبوۃ میں حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی ؒ فرماتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ یہی کہا جائے گا کہ اگر رحمت دو عالم ﷺ کے بعد نبوت جاری ہوتی اور ابراھیم زندہ رہتے تو ان میں نبی بننے کی صلاحیت تھی۔‘‘
    (ص۷۷۹ طبع دہلی)
    مگر چونکہ آپ ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہے صلاحیت ہونے کے باوجود نبی نہیں بن سکتے۔ جیسا کہ حضرت عمر ؓ کے متعلق معروف روایت ہے :’’ لوکان بعدی نبی لکان عمر ؓ۰‘‘حضرت عمر ؓمیں باالقوۃ نبی بننے کی صلاحیت موجود تھی۔ مگر آپ ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کے باعث باالفعل نبی نہیں بن سکے۔
    جواب۴: اس میں حرف لو قابل توجہ ہے ۔ اس لئے کہ جیسے :’’ لوکان فیھما الھۃ الا اﷲ لفسدتا۰‘‘لو عربی میں محال کے لئے آتا ہے۔ اس روایت میں بھی تعلیق باالمحال ہے۔ لوعاش ابراھیم بعد تقدیر موت کے حیات محال ہے اورتعلیق علی المحال ‘ محال ہوتا ہے۔ پس بعد تقدیر موت کے حیات ابراھیم محال ہے۔ لہذا ان کا نبی ہونا بھی محال ہوا اور اس پر جو بھی معلق کیا جائے خواہ فی نفسہ ممکن بھی ہوتا تو بھی محال ہوتا۔ کیونکہ معلق علی المحال بھی محال ہے۔ پس اگر اس کی سند صحیح بھی ہوتو بھی یہ ممتنع الوقوع ہے۔
    • Like Like x 1

اس صفحے کی تشہیر