1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

احادیث پر قادیانی اعتراضات ( اعتراض نمبر۳۴:ولاتقولو الانبی بعدہ)

محمدابوبکرصدیق نے 'متفرقات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ ستمبر 28, 2014

  1. ‏ ستمبر 28, 2014 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    احادیث پر قادیانی اعتراضات ( اعتراض نمبر۳۴:ولاتقولو الانبی بعدہ)
    قادیانی:حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں: ’’ قولوا خاتم النبیین ولا تقولوا لانبی بعدہ۰مجمع البحار ص ۸۵ درمنشور ص ۲۰۴ ج ۵‘‘اس سے ثابت ہوا کہ ان کے نزدیک نبوت جاری تھی۔
    جواب۱: حضرت عائشہ صدیقہ ؓکی طرف اس قول کی نسبت صریحاً بے اصل وبے سند ہے۔ دنیا کی کسی کتاب میں اس کی سندمذکور نہیں۔ ایک بے سند قول سے نصوص قطعیہ اور احادیث متواترہ کے خلاف استدلال کرنا سراپا دجل وفریب ہے۔
    جواب۲: رحمت دو عالم ﷺ فرماتے ہیں :’’ انا خاتم النبیین لانبی بعدی۰‘‘اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کا قول:’’ ولا تقولوا لانبی بعدہ۰‘‘ یہ صریحاً اس فرمان نبوی ﷺ کے مخالف ہے۔ قول صحابہ ؓ وقول نبوی ﷺ میں تعارض ہوجائے تو حدیث وفرمان نبوی کو ترجیح ہوگی۔ پھر لانبی بعدی حدیث شریف متعدد صحیح اسناد سے مذکور ہے۔ اور قول عائشہ صدیقہ ؓ ایک موضوع اور بے سند قول ہے۔ صحیح حدیث کے مقابلہ میں یہ کیسے قابل حجت ہوسکتا ہے؟۔
    جواب۳: خود حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے کنزالعمال ص ۳۳ ج ۸ میں روایت ہے:’’ لم یبق من النبوۃ بعدہ شیٔ الا مبشرات۰‘‘اس واضح فرمان کے بعد اس بے سند قول کو حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی طرف منسوب کرنے کا کوئی جواز باقی رہ جاتا ہے؟۔
    جواب۴: قادیانی دجل ملاحظہ ہو کہ وہ اس قول کو جو مجمع البحار میں بغیر سند کے نقل کیا گیا ہے استدلال کرتے وقت بھی آدھ قول نقل کرتے ہیں۔ اس میں ہے :’’ ھذا ناظر الی نزول عیسیٰ علیہ السلام تکملہ۰ مجمع البحارص ۸۵‘‘اگر ان کا یا مغیرہ ؓ کا جوقول :’’ اذا قلت خاتم الانبیاء حسبک ‘‘وغیرہ جیسے آتے ہیں۔ ان سب کا مقصد یہی ہے کہ ان کے ذہن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا مسئلہ تھا۔ یہ نہ کہو کہ آپ ﷺ کے بعد نبی کوئی نہیں۔(آئے گا) اس لئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوگا۔ یہ کہو کہ آپ ﷺ خاتم النبیین یعنی آپ ﷺ کے بعد کوئی شخص نبی بنایا نہیں جائے گا۔ اس لئے عیسیٰ علیہ السلام ممن نبی قبلہ وہ آپ ﷺ سے پہلے نبی بنائے جا چکے ہیں۔
    جواب۵:اس قول میں بعدہ خبر کے مقام پرآیا ہے۔ اور خبر افعال عامہ یا افعال خاصہ سے مخدوف ہے۔ اس لئے اس کا پہلا معنی یہ ہوگا :’’ لانبی مبعوث بعدہ۰‘‘ حضور ﷺ کے بعد کسی کو نبوت نہیں ملے گی۔ مرقات حاشیہ مشکوٰۃ شریف پر یہی ترجمہ مراد لیا گیا ہے جو صحیح ہے۔
    دوسرا معنی :’’ لانبی خارج بعدہ۰‘‘حضور ﷺ کے بعد کسی نبی کا ظہور نہیں ہوگا۔ یہ غلط ہے اس لئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول فرمائیں گے۔ حضرت مغیرہ ؓ نے ان معنوں سے :’’ لاتقولوا لا نبی بعدہ۰‘‘کی ممانعت فرمائی ہے۔ جو سوفیصد ہمارے عقیدہ کے مطابق ہے۔
    تیسرا معنی :’’ لانبی حیی بعدہ۰‘‘حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی زندہ نہیں۔ ان معنوںکوسامنے رکھ کرحضرت عائشہ ؓنے: ’’ لاتقولوا لانبی بعدہ۰‘‘فرمایا۔ اس لئے کہ خود ان سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی روایات منقول ہیں۔
    جواب۶:مرزا قادیانی نے اپنی کتاب آریہ دھرم ص ۵۴ روحانی خزائن ص ۶۰ ج ۱۰ کے حاشیہ پر لکھا ہے :
    ’’ دوسری کتب حدیث (بخاری ومسلم کے علاوہ)صرف اس صورت میں قبول کے لائق ہوں گے کہ قرآن اور بخاری اور مسلم کی متفق علیہ حدیث سے مخالف نہ ہوں۔‘‘
    جب صحیحین کے مخالف مرزا کے نزدیک کوئی حدیث کی کتاب قابل قبول نہیں تو حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی طرف منسوب بے سند قول صحیحین کے مخالف قابل قبول ہوگا؟نیز مرزا نے اپنی تصنیف کتاب البریہ ص ۱۹۹ ‘ روحانی خزائن ص ۲۱۷ ج ۱۳ پر تحریر کیا ہے: ’’ حدیث لانبی بعدی ایسی مشہور تھی کہ کسی کو اس کی صحت میں کلام نہ تھا۔‘‘
    کیا یہ ممکن ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے ایسی مشہور وصحیح حدیث کے مخالف یہ قول ارشاد فرمایا ہو؟۔
    جواب۷: حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کا یہ قول اگر صحیح ہوتا توبھی مرزائیت کے منہ پر جوتا تھا۔ اس لئے کہ بخاری شریف کتاب العلم ص ۲۴ ج ۱ میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے ہی روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ قوم تازہ تازہ ایمان لائی ہے ورنہ میں بیت اﷲ شریف کو توڑ کر اس کے دو دروازے کردیتا۔ ایک سے لوگ داخل ہوتے دوسرے سے نکل جاتے۔ اس حدیث شریف کو لانے کے لئے امام بخاری نے باب باندھا ہے :’’ باب من ترک بعض الا ختیار مخافۃ ان یقصرفہم بعض الناس فیقعو افی اشدمنہ۰‘‘ کہ جب اس بات کا اندیشہ ہو کہ قاصر الفہم خرابی میں مبتلا ہوجائیں گے تو امر مختار کے اظہار کو ترک کردے۔ یہ روایت حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے بخاری شریف میں موجود ہے۔ کوئی شخص لانبی بعدی کی روایت سے قادیانی دجالوں کی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد کا انکار نہ کردے۔ اس لئے امر مختار لانبی بعدی کو آپ نے ترک کرنے کا حکم دیا۔ اس کی شاہدحضرت مغیرہ ؓ کی طرف منسوب وہ روایت ہے جو درمنشور ص ۲۰۴ ج ۵ پر ہے کہ کسی نے حضرت مغیرہ ؓ بن شعبہ کے سامنے خاتم الانبیاء لانبی بعدی کہا۔ تو حضرت مغیرہ ؓ نے فرمایا :’’ حسبک اذا قلت خاتم الانبیاء فانا کنا نحدث ان عیسیٰ خارج فان ھو خرج فقد کان قبلہ وبعدہ۰‘‘
    جواب۸: اب قول عائشہ صدیقہ ؓ اور قول حضرت مغیرہ ؓ کی دونوں مکمل عبارتیں بمع ترجمہ وتشریح ملاحظہ ہوں:
    ’’ وفے حدیث عیسیٰ انہ تقتل الخنزیر ویکسر الصلیب ویزید فے الحلال اے یزید فی حلال نفسہ بان یتزوج ویولد لہ وکان لم یتزوج قبل رفعہ الی السماء فزاد بعد الہبوط فی الحلال فہینذ یومن کل احد من اھل الکتب یتیقن بانہ بشروعن عائشہ قولوا انہ خاتم الانبیاء ولا تقولو الانبی بعدہ وھذا ناظر الی نزول عیسیٰ وھذا ایضالا ینافی حدیث لانبی بعدہ لانہ اراد لانبی ینسخ شرعہ ۰
    تکلمہ مجمع البحار ص ۸۵‘‘
    {حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قصہ میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول کے بعد خنزیر کو قتل کریں گے۔ اور صلیب کو توڑیں گے اور اپنے نفس کی حلال چیزوں میں اضافہ کریں گے یعنی نکاح کریں گے اور آپ کی اولاد ہوگی ۔ کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے آسمان پر اٹھائے جانے سے پہلے نکاح نہیںفرمایا تھا۔ آسمان سے اترنے کے بعد نکاح فرمائیں گے۔ (جو لوازم بشریت سے ہے) پس اس حال کو دیکھ کر ہر شخص اہل کتاب میں سے ان کی نبوت پر ایمان لے آئے گا اور اس بات کا یقین کرے گا کہ عیسیٰ علیہ السلام بلاشبہ ایک بشر ہیں۔ خدا نہیں جیسا کہ نصاریٰ اب تک سمجھتے رہے۔ اور عائشہ صدیقہ ؓ سے جو یہ منقول ہے کہ وہ فرماتی تھیں کہ آپ ﷺ کو خاتم النبیین کہو اور یہ نہ کہو کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں۔ ان کا یہ ارشاد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کو پیش نظر رکھ کر تھا۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دوبارہ دنیا میں آنا حدیث لانبی بعدی کے منافی نہیں کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول کے بعد حضور ﷺ ہی کی شریعت کے متبع ہوں گے۔ اور لانبی بعدی کی مراد یہ ہے کہ کوئی ایسا نبی نہ آئے گا جو آپ کی شریعت کا ناسخ ہو۔}
    اور اسی قسم کا قول حضرت مغیرہ ابن شعبہ ؓسے منقول ہے:
    ’’ عن الشعبی قال قال رجل عند المغیرۃ بن شعبۃ صلی اﷲ علی محمد خاتم الانبیاء لانبی بعدہ فقال المغیرہ بن شعبۃ حسبک اذا قلت خاتم الانبیاء فانا کنا نحدث ان عیسیٰ علیہ السلام خارج ھو خرج فقد کان قبلہ وبعدہ۰
    تفسیر درمنشور ص ۲۰۴ج ۵‘‘
    { شعبی ؒ سے منقول ہے کہ ایک شخص نے حضرت مغیرہ ؓ کے سامنے یہ کہا کہ اﷲ تعالیٰ رحمت نازل کرے محمد ﷺ پر جو خاتم الانبیاء ہیں اور ان کے بعد کوئی نبی نہیں۔ حضرت مغیرہ ؓ نے فرمایا خاتم الانبیاء کہہ دنیا کافی ہے۔ یعنی لانبی بعدہ کہنے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ ہم کو یہ حدیث پہنچی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام پھر تشریف لائیں گے۔ پس جب وہ آئیں گے تو ایک ان کا آنا محمد ﷺ سے پہلے ہوا اور ایک آنامحمد ﷺ کے بعد ہوگا۔}
    پس جس طرح مغیرہ ؓ ختم نبوت کے قائل ہیں مگر محض عقیدہ نزول عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کی حفاظت کے لئے لانبی بعدی کہنے سے منع فرمایا اسی طرح حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے ختم نبوت کے عقیدہ کو تو خاتم النبیین کے لفظ سے ظاہر فرمایا اور اس موہم لفظ کے استعمال سے منع فرمایا کہ جس لفظ سے عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے خلاف کا ابہام ہوتا تھا۔ ورنہ حاشایہ مطلب ہر گز نہیں کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ حضور ﷺ کے بعد کسی قسم کی نبوت کو جائز کہتی ہیں۔
    عجیب بات ہے کہ مرزائی صاحبان کے نزدیک ایک مجہول الاسناد اثر تو معتبر ہوجائے اور صحیح اور صریح روائیوں کا دفتر معتبر نہ ہو۔ اصل بات یہ ہے کہ جو لفظ ان کی خواہش کے مطابق کہیں سے مل جائیں ۔ وہ تو قبول ہے اور جو آیت اور حدیث خواہ کتنی صریح اور صاف کیوں نہ ہو وہ نہ مقبول :’’ افکلما جاء کم رسول بھالاتھوی انفسکم استکبرتم۰‘‘اور یہ پھر حضرت عائشہ صدیقہ ؓ وحضرت مغیرہؓ دونوں کے اقوال سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے مسئلہ کے پیش نظر ہیں۔ ان کے مطمع نظر کو قادیانی نظر انداز کردیتے ہیں۔ قرآن مجید نے اس یہودیانہ قادیانی تحریف کے مدنظر کیا سچ فرمایا:’’ افتؤمنون ببعض الکتاب وتکفرون ببعض۰ بقرہ ۸۵‘‘
    مرزائی مفسر کی شہادت
    محمد علی لاہوری بیان القرآن میں لکھتے ہیں:
    ’’ اور ایک قول حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کا پیش کیا جاتا ہے جس کی سند کوئی نہیں:’’ قولوا خاتم النبیین ولاتقولوا لانبی بعدہ۰‘‘ خاتم النبیین کہو اور یہ نہ کہو کہ آ پ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں اور اس کایہ مطلب لیا جاتا ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓکے نزدیک خاتم النبیین کے معنے کچھ اور تھے اور کاش وہ معنی بھی کہیں مذکور ہوتے۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے اپنے قول میں ہوتے۔ کسی صحابی ؓ کے قول میں ہوتے۔ نبی کریم ﷺ کی حدیث میں ہوتے مگر وہ معنی دربطن قائل ہیں اور اس قدر حدیثوں کی شہادت جن میں خاتم النبیین کے معنی لانبی بعدی کئے گئے ہیں ایک بے سند قول پر پس پشت پھینکی جاتی ہیں۔ یہ غرض پرستی ہے خدا پرستی نہیں کہ رسول اﷲ ﷺ کی تیس حدیثوں کی شہادت ایک بے سند قول کے سامنے رد کی جاتی ہے۔ اگر اس قول کوصحیح مانا جائے تو کیوں اس کے معنی یہ نہ کئے جائیں کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کا مطلب یہ تھا کہ دونوں باتیں اکٹھی کہنے کی ضرورت نہیں خاتم النبیین کافی ہے۔ جیسا کہ حضرت مغیرہ بن شعبہؓ کا قول ہے کہ ایک شخص نے آپ کے سامنے کہا :’’ خاتم النبیین ولا نبی بعدہ۰‘‘تو آپ نے فرمایا کہ خاتم الانبیاء تجھے کہنا بس ہے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ آ پ کا مطلب ہو کہ جب اصل الفاظ خاتم النبیین واضح ہیں تو وہی استعمال کرو یعنی الفاظ قرآنی کو الفاظ حدیث پر ترجیح دو۔ اس سے یہ کہاں نکلا کہ آپ الفاظ حدیث کو صحیح نہ سمجھتی تھیں؟۔ اور اتنی حدیثوں کا مقابل اگر ایک حدیث ہوتی تو وہ بھی قابل قبول نہ ہوتی۔ چہ جائیکہ صحابی ؓ کا قول جو شرعاً حجت نہیں۔‘‘(بیان القرآن ص ۱۱۰۳‘۱۱۰۴ ج ۲)
    قادیانی سوال
    اگر اس قول عائشہ صدیقہ ؓ کی سند نہیں تو کیا ہوا تعلیقات بخاری کی بھی سند نہیں۔
    جواب : یہ بھی قادیانی دجل ہے ورنہ فتح الباری کے مصنف علامہ ابن حجر ؒ نے الگ ایک مستقل کتاب تصنیف کی ہے۔ جس کا نام تعلیق التعلیق ہے۔ اس میں تعلیقات صحیح بخاری کو موصول کیا ہے۔

    • Like Like x 1
  2. ‏ مارچ 6, 2015 #2
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    مکمل قول یہ ہے:
    (واضح ہو کہ کتاب مختلف الحدیث لابن قتیبہ الدینوری صفحہ 236 میں حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا کے قول ہذا کی توجیہہ بالفاظ ذیل منقول ہے۔)
    واماقول عائشۃ قولوالرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ولاتقولوالانبی بعدہفانھا تذہب الیٰ نزول عیسی علیہ السلام ولیس ہذا من قولھا ناقضاََ لقول النبی صلی اللہ علیہ وسلم لانبی بعدہ لانہ اراد لانبی بعدی یمسخ ماجئت بہ کما کانت الانبیاء علیہم السلام تبعت بالنسخ وارادت ہی لاتقولواان المسیح لاینزل بعدہ۔
  3. ‏ مارچ 24, 2015 #3
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر غلط الزام اور اس کا جواب
    مولانا محمد نافع ،محمد ی شریف جھنگ
    مرزائی امت حضرت صدیقہ کا قول (قولوا انہ خاتم الانبیاء ولا تقولوا لا نبی بعدہ)پیش کرکے آپ کااجرائے نبوت کے عقیدہ کے ساتھ متفق ہونا ثابت کرتے ہیں، ان لوگوں کا اپنے زعم میں یہ بڑا مایہ ناز استدلال ہے اس پر بہت کچھ حاشیہ آرائی کی جاتی ہے۔

    واضح ہوکہ کتاب مختلف الحدیث لابن قتیبہ الدینوری صفحہ۲۳۶میں حضرت صدیقہ کے قول ہذا کی توجیہہ بالفاظ ذیل منقول ہے:

    واماقول عائشۃ قولوا لرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ولاتقولوالانبی بعدہ فانھا تذہب الی نزول عیسٰی علیہ السلام ولیس ہذا من قولھاناقضا لقول النبی صلی اللہ علیہ وسلم لانبی بعدہ لانہ اراد’’لانبی بعدی‘‘ یمسخ ماجئت بہ کما کانت الانبیاء علیہم السلام تبعث بالنسخ وارادت ہی لا تقولوان المسیح لاینزل بعدہ۔

    اس کا مفہوم ہے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے جو یہ مروی ہے کہ آپ نے فرمایاکہ حضورعلیہ السلام کو خاتم النبیین کہو اور یوںنہ کہوکہ آپ علیہ السلام کے بعد کوئی نبی نہیں تو آپ رضی اللہ عنہا کے اس فرمان کا تعلق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول سے ہے اور یہ قول آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث’’لانبی بعدی‘‘ کے خلاف نہیں ہے کیونکہ آپ علیہ السلام کا مطلب یہ ہے کہ ایساکوئی نبی نہیں آئے گا جو میری شریعت کو منسوخ کردے جیساکہ انبیاء علیہم السلام سابق شرع کو منسوخ کرنے کے لیے مبعوث کیے جاتے تھے، جب کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا مطلب یہ ہے تم یہ نہ کہو حضرت مسیح علیہ السلام بھی نہ آئیں گے (بلکہ وہ آئیں گے)

    یہ واضح رہے کہ یہ مذکورہ قول درمنثور ج ۵ ص ۲۰۵ میں تحت آیت خاتم النبیین اور مجمع البحار ج ۵کے تکملہ ص۵۰۲ بلاسند واسناد درج ہے۔قادیانیوں نے مذکورہ قول نقل کرتے وقت اس کو سیاق وسباق سے کاٹ کراپنے مقصد کے موافق الفاظ ذکر کیے ہیں۔ اس کا ماقبل اور مابعد ذکر کرنے میں ان کو خسارہ تھا، اس لیے ترک کر دیا گیا ہے۔اس لیے ہم ذرا تفصیل کے ساتھ تکملہ مجمع البحارکی عبارت مذکورہ کو نقل کرتے ہیں، تاکہ خودصاحب کتاب کی زبان سے مطلب واضح ہو جائے ۔

    وفی حدیث عیسٰی انہ یقتل الخنزیر و یکسر الصلیب ویزید فی الحلال ای یزید فی حلال نفسم بان یتزوج ویولد لہ وکان لم یتزوج قبل رفعہ الی السماء فزاد بعد الہبوط فی الحلال فحیئنذ یومن کل احد من اھل الکتاب یتیقن بانہ بشر۔وعن عائشہ قولو انہ خاتم الانبیاء ولاتقولو لانبی بعدہ وہذا ناظراً الی نزول عیسیٰ وہذا ایضاً لا ینافی حدیث لانبی بعدی لانہ اراد لا نبی ینسخ شرعہ۔

    (تکملہ مجمع البحار طبع ہند صفحہ۸۵)

    یعنی عیسیٰ علیہ السلام نزول کے بعد خنزیر کو قتل کریں گے اور صلیب کو توڑ ڈالیں گے اور حلال چیزوں میں زیادتی کریں گے یعنی نکاح کریں گے اور ان کی اولاد ہوگی، آسمان کی طرف چلے جانے سے پہلے انہوںنے شادی نہیں کی تھی ان کے آسمان سے اترنے کے بعد حلال میں اضافہ ہوا ۔ (بیاہ شادی سے اولاد ہوگی)اس زمانے ہر ایک اہل کتاب ان پر ایمان لائے گا، یقینا یہ بشر ہیں(یعنی خدا نہیں ہیں جب کہ عیسائیوں نے عقیدہ گھڑرکھاہے)اورصدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین کہو اور یہ نہ کہو کہ آپ کے بعد کوئی نبی آنے والے نہیں،یہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا فرمان(لاتقولوا لا نبی بعدہ)اس بات کے مدنظرمروی ہے۔ کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے اور یہ نزول عیسی علیہ السلام حدیث شریف لانبی بعدیکے مخالف نہیں ہے اس لیے کہ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ایسا نبی نہیں آئے گا جو آپ کے دین کا ناسخ ہو(اور عیسیٰ علیہ السلام دین محمدی کی اشاعت اور ترویج کے لیے نازل ہوں گے نہ کہ اس دین کو منسوخ کرنے کے لیے )

    تکملہ مجمع کی تمام عبارت پر نظر کرنے سے صاف ظاہر ہو رہاہے صدیقہ کالانبی بعدہکہنے سے منع فرمانے کا مقصد صرف یہ ہے کہ نزول عیسیٰ علیہ السلام قیامت سے پہلے یقینا ہوگا اور حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی آنے والانہیں کے الفاظ سے ان کے عموم کے اعتبار سے عوام کو شبہ اور وہم کو دور کرنے کے لیے حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بعض اوقات ایساکہنے سے منع فرمایا ہے۔

    ثالثاً: حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ امت مسلمہ کے متفقہ عقیدہ کے موافق ختم نبوت کی قائل اور اس اجماعی عقیدہ اور اتفاقی مسئلہ پر خود انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح روایات بیان فرمائی ہیں۔

    (۱)پہلی روایت: عن عائشۃ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال لایبقی بعدی من النبوۃ شیٔ الاالمبشرات قالوا یارسول اللہ! ماالمبشرات؟ قال :الرویا الصالحۃ یراھا الرجل اوتری لہ۔

    (مسند احمد ص۱۲۹ج۶ورواہ البیہقی فی شعب الایمان وکنز العمال بروایۃ خطیب ج۸ص۳۳ )

    ترجمہ: حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ میرے بعد کچھ بھی نبوت باقی نہیں رہی، ہاں صرف مبشرات باقی رہ گئے ہیں۔ لوگوں نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! مبشرات کیاچیز ہیں ؟توآپ نے فرمایا:’’ اچھے خواب ہیں آدمی ان کو خود دیکھتاہے یا اس کے حق میں کوئی دوسرا آدمی ہی دیکھتاہے۔‘‘

    (۲)دوسری روایت: عن عائشۃ قالت قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انا خاتم الانبیاء ومسجدی خاتم مساجد الانبیائ۔

    (کنزالعمال بحوالہ الدیلمی وابن النجاروالبزار)

    ترجمہ: حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہانے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ میں تمام نبیوںکو ختم کرنے والا ہوں اور میری مسجد کے بعد کسی دوسری نبی کی مسجد نہیں ہوگی۔‘‘

    ختم نبوت کی ان احادیث کو خود عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاروایت کرتی ہیں دوسرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی طرح کسی تاویل وتشریح کے بغیر ذکر کرتی ہیں تو اس کا صاف مقصد یہ ہے حضرت ام المومنین اس مسئلہ پر مہر تصدیق ثبت کررہی ہیں کہ ہر قسم کی نبوت کا دروازہ بند ہوچکاہے تشریعی، مستقل یاغیرمستقل۔

    رابعاً: یہ مرزائی امت کے استدلال کے متعلق نرالے اصول ہیں۔ ایک طرف تو حضرت صدیقہ کی طرف جو مجہول الاسناد قول منسوب ہے، معتبر ومستند مانا جارہاہے اور اس کو بڑے آب وتاب کے ساتھ ہمیشہ پیش کیاجاتاہے اور باوجود تلاش کے اس قول کی صحیح تخریج صحیح اسناد کے ساتھ مرزائیوں کو تاحال نہیں مل سکی۔دوسری طرف صحیح احادیث مرفوعہ کا ذخیرہ جس میں ختم نبوت روز روشن کی طرح واضح ہے ناقابل قبول ہے سچ یہ ہے کہ:

    جوچاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

    ناظرین کرام کو معلوم ہونا چاہیے کہ قادیانی جماعت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث صحیحہ کے متعلق یہ عقیدہ رکھتی ہے جوحدیث ان کے مسلک کے موافق ہواس کو تسلیم کرلیا جائے اور جو روایت قادیانی مذاق کے خلاف واقع ہواس کو رد کردیاجائے۔

    مندرجہ ذیل حوالہ جات میں مرزا صاحب نے اس مسئلہ کو بڑا صاف کردیاہے۔

    اول: اور جوشخص حکم ہوکر آیاہے اس کو اختیار ہے کہ حدیثوں کے ذخیرہ میں سے جس انبار کو چاہے خدا سے علم پاکر قبول کرے اور جس ڈھیر کو چاہے خداسے علم پاکر رد کرے۔
    (حاشیہ تحفہ گولڑویہ ص۱۰ )

    دوم: اور ہم اس کے جواب میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر بیان کرتے ہیں کہ میرے اس دعوے کی دلیل حدیث بنیاد نہیں بلکہ قرآن اور وحی ہے جو میرے اوپر نازل ہوئی ہاں تائید طور پر ہم وہ حدیثیں بھی پیش کرتے ہیں جوقرآن شریف کے مطابق ہیں اور میری وحی کے معارض نہیں اور دوسری حدیثوں کو ہم ردی کی طرف پھینک دیتے ہیں۔
    (اعجاز احمدی ص۳۰)

    حضرات!! مرزائیوں کے نزدیک حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پاک کو قبول اور رد کرنے کا معیار یہ ہے جو مرزا صاحب نے مذکورہ عبارت میں واضح کردیاہے۔استدلال حدیث کے معاملہ میں مرزائیوں کے لیے یہی اصل الاصول ہے دوسری کوئی صحیح سے صحیح حدیث ان کے ہاں قابل قبول نہیں۔ عوام کی آگاہی کے لیے یہ تحریر کردیا ہے یادرہے کہ مذکورہ بالا تفصیل کے ساتھ حضرت صدیقہ کا نظریہ جہاں واضح ہواہے وہاں ساتھ ہی صاحب مجمع البحار کا مسلک بھی اپنی جگہ بالکل صاف ہے ان کا دوسراا عتقاد جمہور اہل اسلام کے خلاف ہرگز نہیں ہے یہ مرزائیوں کا کمال ہے عبارتی ہیر پھیر کرکے انہوںنے اپنی ہمنوائی میں متعد دحضرات کو شمار کرلیاہے۔

    استدراک:

    حضرت ام المومنین کے پیش نظر یہ بات تھی کہ لانبی بعدی کے ظاہر عموم کی وجہ سے عوام نزول عیسی اور اس حدیث کو تضاد نہ سمجھ لیں اس لیے احتیاطا انہوں نے لا نبی بعدہ کہنے سے منع فرمایا۔ا سی قسم کا ایک قول حضرت مغیرہ بن شعبہ سے منقول ہے۔

    عن الشعبی قال قال رجل عندہ المغیرۃ بن شعبۃ محمد خاتم الانبیاء لانبی بعد ہ فقال المغیرۃ بن شعبۃ حسبک اذا قلت خاتم الانبیاء فاناکنا نحدث ان عیسی علیہ السلام خارج فان ہوخرج فقد کان قبلہ وبعدہ۔
    (تفسیر درمنثورج۵ ص۲۰۴)

    ترجمہ: شعبی سے منقول ہے کہ ایک شخص نے حضرت مغیرہ کے سامنے یہ کہا کہ اللہ رحمت نازل کرے محمدصلی اللہ علیہ وسلم پرجو خاتم الانبیاء ہیں اور ان کے بعد کوئی نبی نہیں حضرت مغیرہ نے فرمایا خاتم الانبیاء کہہ دینا کافی ہے یعنی لانبی بعدہکہنے کی ضرورت نہیں کیونکہ ہم کو یہ حدیث پہنچی ہے کہ عیسی علیہ السلام پھر تشریف لائیں گے پس جب وہ آئیں گے تو ایک ان کا آنا محمدصلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے ہوا اور ایک آنا حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہوگا۔

    پس جس طرح مغیرہ ختم نبوت کے قائل ہیں مگر محض عقیدہ نزول عیسیٰ بن مریم کی حفاظت کے لیے لانبی بعدی کہنے سے منع فرمایااسی طرح حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ختم نبوت کے عقیدے کو تو خاتم النبیین کے لفظ سے ظاہر فرمایا اور اس موہم لفظ کے استعمال سے منع فرمایاکہ جس لفظ سے عیسی علیہ السلام کے نزول کے خلاف کا ابہام ہوتاتھا اور حاشا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ حضرت عائشہ صدیقہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی قسم کی نبوت کو جائزکہتی ہیں۔

    مرزائی مفسر کی شہادت:
    محمد علی لاہوری اپنے بیان القرآن میں لکھتے ہیں:
    اور ایک قول حضرت عائشہ کا پیش کیاجاتاہے جس کی سند کوئی نہیں قولوا خاتم النبیین ولاتقولوالانبی بعدہ خاتم النبین کہو او ریہ نہ کہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں اور اس کا یہ مطلب لیاجاتا ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ کے نزدیک خاتم النبیین کے معنی کچھ اور تھے اور کاش وہ معنی بھی کہیں مذکور ہوتے۔ حضرت عائشہ کے اپنے قول میں ہوتے، کسی صحابی کے قول میں ہوتے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث میں ہوتے مگروہ معنی در بطن کے قائل ہیں اور اس قدر حدیثوں کی شہادت جن میں خاتم النبیین کے معنی لانبی بعدی کیے گئے ہیں ایک سند قول پر پس پشت پھینکی جاتی ہے یہ غرض پرستی ہے خدا پرستی نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تیس حدیثوں کی شہادت ایک بے سند قول کے سامنے رد کی جاتی ہے، اگر اس قول کو صحیح مانا جائے تو کیوں اس کا معنی یہ نہ کیے جائیں کہ حضرت عائشہ کا مطلب یہ تھا کہ دونوں باتیں اکٹھی کہنے کی ضرورت نہیں خاتم النبیین کافی ہے جیساکہ مغیرہ بن شعبہ کا قول ہے کہ ایک شخص نے آپ کے سامنے کہا ’’خاتم الانبیاء ولانبی بعدہ‘‘ توآپ نے فرمایا خاتم الانبیاء تجھے کہنا بس ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کا مطلب ہوکہ جب اصل الفاظ خاتم النبیین واضح ہیں تو وہی استعمال کرو یعنی الفاظ قرآن کو الفاظ حدیث پر ترجیح دو، اس سے یہ کہاں نکلا کہ آپ الفاظ حدیث کو صحیح نہ سمجھتیں تھیں اور اتنی حدیثوں کے مقابل اگر ایک حدیث ہوتی تو وہ بھی قابل قبول نہ ہوتی چہ جائیکہ صحابہ کا قول ہو۔
    (بیان القرآن ج۲ص۱۱۰۳،۱۱۰۴)

    فائدہ: حضرت ام المومنین نے حفظ ماتقدم کاخیال فرماتے ہوئے جو بات فرمائی وہ بہت سے اکابرین نے اپنے اپنے انداز میں لکھی ہے مثلا:

    ۱: علامہ زمخشری آیت خاتم النبیین کی تشریح کرتے ہوئے کہتے ہیں
    (فان قلت)کیف کان آخرالانبیاء وعیسیٰ ینزل فی آخرالزمان(قلت)معنی کونہ آخرالانبیاء انہ الانبیااحد بعدہ وعیسی ممن نبی قبلہ وحین ینزل ینزل عاملا علی شریعۃ محمد مصلیا الی قبلتہ کانہ بعض امتہ۔
    (کشاف جلد ۲ص۵۴۲ مطبوعہ مصطفیٰ البابی مصر ۱۳۶۷ھ ۱۹۴۸ئ)

    ترجمہ: اگر تو کہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح آخری نبی ہوسکتے ہیں درانحالیکہ عیسی علیہ السلام آخری زمانہ میں نازل ہوں گے۔میں کہتاہوں کہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے کا معنی یہ ہے کہ ان کے بعد کوئی نیا نبی نہیں بنایاجائے گا اور عیسی علیہ السلام آپ سے پہلے نبی بنائے گئے اور وہ جب نازل ہوں گے تو حضورعلیہ السلام کی شرعیت پر عمل کریں گے، آپ کے قبلہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھیں گے گویا کہ آپ کے امتی ہوں گے۔

    ۲: حافظ ابن حزم رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں :

    ھذا مع سماعہم قول اللہ تعالی ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین وقول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لانبی بعدی فکیف یستجیز مسلم ان یثبت بعدہ علیہ السلام نبیا فی الارض حاشا ما استثناء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی الآثار المسندۃ الثابتۃ فی نزول عیسی ابن مریم علیہ السلام فی آخر الزمان ۔

    اللہ تعالیٰ کا فرمان’’ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین‘‘اور حضورعلیہ السلام کا ارشاد’’لانبی بعدی‘‘سن کر کوئی مسلمان کیسے جائز سمجھ سکتاہے کہ حضورعلیہ السلام کے بعد زمین میں کسی نبی کی بعثت ثابت کی جائے سوائے نزول عیسی کے آخری زمانہ میں جو رسول اللہ ﷺ کی صحیح احادیث مسندہ سے ثابت ہے۔

    چند فوائد:

    (۱) حضرت عائشہ وحضرت مغیرہ بن شعبہ کی طرف سے لانبی بعدی کے معنی کاانکار نہیں کیا گیا۔ یہ ایک ایسی واضح بات ہے کہ اس کے لیے کسی بحث کی ضرورت نہیں، محدثین سے لانبی بعدی کے ساتھ لا نبوۃ بعدی کے الفاظ روایت صحیح سے ثابت ہیں سو وہ اس کا معنی یہ کرتے ہیں کہ آپ کے بعد کوئی نبی پیدا نہ ہوگا۔فالمعنی انہ لایحدث بعدہ نبی لانہ خاتم النبیین السابقین۔
    (مرقات ج۵ص۵۶۴طبع قدیم)

    (۲) لانبی بعدیکا مطلب یہ ہے کہ ہر وہ شخص جس پر لفظ نبی بولا جائے اور وہ اس نام سے لوگوں کے سامنے آئے اور اس نام سے اسے ماننا ضروری ہو وہ آپ کے بعد پیدا نہیں ہوسکتا ۔ لا کا لفظ جب نکرہ پر داخل ہو جیسے لا الہ الا اللہ میں تو وہ عموم اور استغراق کا فائدہ دیتا ہے پس حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی تشریعی یا غیر تشریعی نبی پیدا نہیں ہوسکتا ۔

    جب نکرہ نفی کے تحت آئے تو اس میں نفی عام ہوتی ہے لیکن اس عام کا پھیلائو محاورات عرب کے مطابق ہوگا اگر کوئی کسی کو نصیحت کرتے ہوئے کہے کہ یہیں جتنے عمل کرسکتے ہو کر لو موت پر سب عمل ختم ہوجائیں گے اور عربی میں کہتے ہیں لاعمل بعد الموت تو اس میں لا نفی عام کی دلالت یہ ہوگی کہ موت کے بعد کوئی کسی قسم کا عمل نہ ہو سکے گا یہ نہیں کہ پچھلے کیے اعمال بھی سب ختم ہوگئے من یعمل مثقال ذرۃ خیرا یرہپچھلے اعمال سب باقی ہوں گے اور آخرت میں سب سے آگے آئیں گے جس طرح لا عمل بعد الموت میں پچھلے اعمال کی نفی نہیں لانبی بعدی میں پچھلے انبیاء میں کسی کی حیات کی نفی نہیں۔
    ( عقیدۃ الامۃ فی معنی ختم النبوۃ ص 143مع تغییر یسیر)

    لا نبی بعدہ کا صحیح معنی :

    لانبی بعدہ میں بعدہ خبر کے مقام پر آیا ہے اور خبر افعال عامہ یا خاصہ میں سے ہے اور محذوف ہے اس کے معنی تین طرح ہوسکتے ہیں

    (۱) لانبی مبعوث بعدہ ؛ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہوگا مرقات شرح مشکوۃ میں یہی ترجمہ مراد لیا گیا ہے جو کہ صحیح ہے

    (۲) لانبی خارج بعدہ ؛حضورعلیہ السلام کے بعد کسی نبی کا ظہور نہیں ہوگا یہ معنی غلط ہے اس لیے کہ حضرت عیسی علیہ السلام قرب قیامت میں نزول فرمائیں گے حضرت مغیرہ نے انہی معنوں کے اعتبار سے لاتقولوالانبی بعدہ میں ممانعت فرمائی ہے جوسوفیصد ہمارے عقیدہ کے مطابق ہے۔

    (۳) لانبی حی بعدہ۔ اس معنی کے اعتبار سے حضرت عائشہ نے لاتقولوالانبی بعدہ میں ممانعت فرمائی ہے اس لیے کہ خود ان سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی روایت منقول ہیں اور ان کے نزدیک حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابھی زندہ ہیں جو آسمان سے نزول فرمائیں۔

    دوالزامی جوابات:

    ۱: مرزا قادیانی نے لکھاہے
    ’’دوسری کتب حدیث صرف اس صورت میں قبول لائق ہوں گے کہ قرآن اور بخاری اورمسلم کی متفق علیہ حدیث سے مخالف نہ ہوں۔
    (آریہ دھرم مندرجہ روحانی خزائن ج۱۰ص۶۰)

    جب صحیحین کے مخالف مرزا کے نزدیک کوئی حدیث کی کتاب قابل قبول نہیں تو حضرت عائشہ کی طرف منسوب بے سند قول جو بخاری ومسلم کے علاوہ کتابوں میں ہے کیونکر قابل قبول ہو گا۔

    ۲: مرزاقادیانی نے لکھاہے:’’آنحضرت نے باربار فرمادیاتھاکہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور حدیث لانبی بعدی ایسی مشہور تھی کہ کسی کو اس کی صحت میں کلام نہ تھا۔
    (کتاب البرص۱۹۹روحانی خزائن ج۱۳ ص۲۱۷)

    سوال یہ ہے کہ کیایہ ممکن ہے کہ حضرت عائشہ نے ایسی مشہور صحیح حدیث کے خلاف کچھ فرمایا ہو؟؟؟

اس صفحے کی تشہیر