1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

احادیث پر قادیانی اعتراضات ( اعتراض نمبر۳۴:ولاتقولو الانبی بعدہ)

محمدابوبکرصدیق نے 'ختم نبوت پر اعتراضات کے جوابات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ ستمبر 28, 2014

  1. ‏ ستمبر 28, 2014 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    احادیث پر قادیانی اعتراضات ( اعتراض نمبر۳۴:ولاتقولو الانبی بعدہ)
    قادیانی:حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں: ’’ قولوا خاتم النبیین ولا تقولوا لانبی بعدہ۰مجمع البحار ص ۸۵ درمنشور ص ۲۰۴ ج ۵‘‘اس سے ثابت ہوا کہ ان کے نزدیک نبوت جاری تھی۔
    جواب۱: حضرت عائشہ صدیقہ ؓکی طرف اس قول کی نسبت صریحاً بے اصل وبے سند ہے۔ دنیا کی کسی کتاب میں اس کی سندمذکور نہیں۔ ایک بے سند قول سے نصوص قطعیہ اور احادیث متواترہ کے خلاف استدلال کرنا سراپا دجل وفریب ہے۔
    جواب۲: رحمت دو عالم ﷺ فرماتے ہیں :’’ انا خاتم النبیین لانبی بعدی۰‘‘اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کا قول:’’ ولا تقولوا لانبی بعدہ۰‘‘ یہ صریحاً اس فرمان نبوی ﷺ کے مخالف ہے۔ قول صحابہ ؓ وقول نبوی ﷺ میں تعارض ہوجائے تو حدیث وفرمان نبوی کو ترجیح ہوگی۔ پھر لانبی بعدی حدیث شریف متعدد صحیح اسناد سے مذکور ہے۔ اور قول عائشہ صدیقہ ؓ ایک موضوع اور بے سند قول ہے۔ صحیح حدیث کے مقابلہ میں یہ کیسے قابل حجت ہوسکتا ہے؟۔
    جواب۳: خود حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے کنزالعمال ص ۳۳ ج ۸ میں روایت ہے:’’ لم یبق من النبوۃ بعدہ شیٔ الا مبشرات۰‘‘اس واضح فرمان کے بعد اس بے سند قول کو حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی طرف منسوب کرنے کا کوئی جواز باقی رہ جاتا ہے؟۔
    جواب۴: قادیانی دجل ملاحظہ ہو کہ وہ اس قول کو جو مجمع البحار میں بغیر سند کے نقل کیا گیا ہے استدلال کرتے وقت بھی آدھ قول نقل کرتے ہیں۔ اس میں ہے :’’ ھذا ناظر الی نزول عیسیٰ علیہ السلام تکملہ۰ مجمع البحارص ۸۵‘‘اگر ان کا یا مغیرہ ؓ کا جوقول :’’ اذا قلت خاتم الانبیاء حسبک ‘‘وغیرہ جیسے آتے ہیں۔ ان سب کا مقصد یہی ہے کہ ان کے ذہن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا مسئلہ تھا۔ یہ نہ کہو کہ آپ ﷺ کے بعد نبی کوئی نہیں۔(آئے گا) اس لئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوگا۔ یہ کہو کہ آپ ﷺ خاتم النبیین یعنی آپ ﷺ کے بعد کوئی شخص نبی بنایا نہیں جائے گا۔ اس لئے عیسیٰ علیہ السلام ممن نبی قبلہ وہ آپ ﷺ سے پہلے نبی بنائے جا چکے ہیں۔
    جواب۵:اس قول میں بعدہ خبر کے مقام پرآیا ہے۔ اور خبر افعال عامہ یا افعال خاصہ سے مخدوف ہے۔ اس لئے اس کا پہلا معنی یہ ہوگا :’’ لانبی مبعوث بعدہ۰‘‘ حضور ﷺ کے بعد کسی کو نبوت نہیں ملے گی۔ مرقات حاشیہ مشکوٰۃ شریف پر یہی ترجمہ مراد لیا گیا ہے جو صحیح ہے۔
    دوسرا معنی :’’ لانبی خارج بعدہ۰‘‘حضور ﷺ کے بعد کسی نبی کا ظہور نہیں ہوگا۔ یہ غلط ہے اس لئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول فرمائیں گے۔ حضرت مغیرہ ؓ نے ان معنوں سے :’’ لاتقولوا لا نبی بعدہ۰‘‘کی ممانعت فرمائی ہے۔ جو سوفیصد ہمارے عقیدہ کے مطابق ہے۔
    تیسرا معنی :’’ لانبی حیی بعدہ۰‘‘حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی زندہ نہیں۔ ان معنوںکوسامنے رکھ کرحضرت عائشہ ؓنے: ’’ لاتقولوا لانبی بعدہ۰‘‘فرمایا۔ اس لئے کہ خود ان سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی روایات منقول ہیں۔
    جواب۶:مرزا قادیانی نے اپنی کتاب آریہ دھرم ص ۵۴ روحانی خزائن ص ۶۰ ج ۱۰ کے حاشیہ پر لکھا ہے :
    ’’ دوسری کتب حدیث (بخاری ومسلم کے علاوہ)صرف اس صورت میں قبول کے لائق ہوں گے کہ قرآن اور بخاری اور مسلم کی متفق علیہ حدیث سے مخالف نہ ہوں۔‘‘
    جب صحیحین کے مخالف مرزا کے نزدیک کوئی حدیث کی کتاب قابل قبول نہیں تو حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی طرف منسوب بے سند قول صحیحین کے مخالف قابل قبول ہوگا؟نیز مرزا نے اپنی تصنیف کتاب البریہ ص ۱۹۹ ‘ روحانی خزائن ص ۲۱۷ ج ۱۳ پر تحریر کیا ہے:’’ حدیث لانبی بعدی ایسی مشہور تھی کہ کسی کو اس کی صحت میں کلام نہ تھا۔‘‘
    کیا یہ ممکن ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے ایسی مشہور وصحیح حدیث کے مخالف یہ قول ارشاد فرمایا ہو؟۔
    جواب۷: حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کا یہ قول اگر صحیح ہوتا توبھی مرزائیت کے منہ پر جوتا تھا۔ اس لئے کہ بخاری شریف کتاب العلم ص ۲۴ ج ۱ میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے ہی روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ قوم تازہ تازہ ایمان لائی ہے ورنہ میں بیت اﷲ شریف کو توڑ کر اس کے دو دروازے کردیتا۔ ایک سے لوگ داخل ہوتے دوسرے سے نکل جاتے۔ اس حدیث شریف کو لانے کے لئے امام بخاری نے باب باندھا ہے :’’ باب من ترک بعض الا ختیار مخافۃ ان یقصرفہم بعض الناس فیقعو افی اشدمنہ۰‘‘ کہ جب اس بات کا اندیشہ ہو کہ قاصر الفہم خرابی میں مبتلا ہوجائیں گے تو امر مختار کے اظہار کو ترک کردے۔ یہ روایت حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے بخاری شریف میں موجود ہے۔ کوئی شخص لانبی بعدی کی روایت سے قادیانی دجالوں کی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد کا انکار نہ کردے۔ اس لئے امر مختار لانبی بعدی کو آپ نے ترک کرنے کا حکم دیا۔ اس کی شاہدحضرت مغیرہ ؓ کی طرف منسوب وہ روایت ہے جو درمنشور ص ۲۰۴ ج ۵ پر ہے کہ کسی نے حضرت مغیرہ ؓ بن شعبہ کے سامنے خاتم الانبیاء لانبی بعدی کہا۔ تو حضرت مغیرہ ؓ نے فرمایا :’’ حسبک اذا قلت خاتم الانبیاء فانا کنا نحدث ان عیسیٰ خارج فان ھو خرج فقد کان قبلہ وبعدہ۰‘‘
    جواب۸: اب قول عائشہ صدیقہ ؓ اور قول حضرت مغیرہ ؓ کی دونوں مکمل عبارتیں بمع ترجمہ وتشریح ملاحظہ ہوں:
    ’’ وفے حدیث عیسیٰ انہ تقتل الخنزیر ویکسر الصلیب ویزید فے الحلال اے یزید فی حلال نفسہ بان یتزوج ویولد لہ وکان لم یتزوج قبل رفعہ الی السماء فزاد بعد الہبوط فی الحلال فہینذ یومن کل احد من اھل الکتب یتیقن بانہ بشروعن عائشہ قولوا انہ خاتم الانبیاء ولا تقولو الانبی بعدہ وھذا ناظر الی نزول عیسیٰ وھذا ایضالا ینافی حدیث لانبی بعدہ لانہ اراد لانبی ینسخ شرعہ ۰ تکلمہ مجمع البحار ص ۸۵‘‘{حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قصہ میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول کے بعد خنزیر کو قتل کریں گے۔ اور صلیب کو توڑیں گے اور اپنے نفس کی حلال چیزوں میں اضافہ کریں گے یعنی نکاح کریں گے اور آپ کی اولاد ہوگی ۔ کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے آسمان پر اٹھائے جانے سے پہلے نکاح نہیںفرمایا تھا۔ آسمان سے اترنے کے بعد نکاح فرمائیں گے۔ (جو لوازم بشریت سے ہے) پس اس حال کو دیکھ کر ہر شخص اہل کتاب میں سے ان کی نبوت پر ایمان لے آئے گا اور اس بات کا یقین کرے گا کہ عیسیٰ علیہ السلام بلاشبہ ایک بشر ہیں۔ خدا نہیں جیسا کہ نصاریٰ اب تک سمجھتے رہے۔ اور عائشہ صدیقہ ؓ سے جو یہ منقول ہے کہ وہ فرماتی تھیں کہ آپ ﷺ کو خاتم النبیین کہو اور یہ نہ کہو کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں۔ ان کا یہ ارشاد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کو پیش نظر رکھ کر تھا۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دوبارہ دنیا میں آنا حدیث لانبی بعدی کے منافی نہیں کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول کے بعد حضور ﷺ ہی کی شریعت کے متبع ہوں گے۔ اور لانبی بعدی کی مراد یہ ہے کہ کوئی ایسا نبی نہ آئے گا جو آپ کی شریعت کا ناسخ ہو۔}
    اور اسی قسم کا قول حضرت مغیرہ ابن شعبہ ؓسے منقول ہے:
    ’’ عن الشعبی قال قال رجل عند المغیرۃ بن شعبۃ صلی اﷲ علی محمد خاتم الانبیاء لانبی بعدہ فقال المغیرہ بن شعبۃ حسبک اذا قلت خاتم الانبیاء فانا کنا نحدث ان عیسیٰ علیہ السلام خارج ھو خرج فقد کان قبلہ وبعدہ۰تفسیر درمنشور ص ۲۰۴ج ۵‘‘{ شعبی ؒ سے منقول ہے کہ ایک شخص نے حضرت مغیرہ ؓ کے سامنے یہ کہا کہ اﷲ تعالیٰ رحمت نازل کرے محمد ﷺ پر جو خاتم الانبیاء ہیں اور ان کے بعد کوئی نبی نہیں۔ حضرت مغیرہ ؓ نے فرمایا خاتم الانبیاء کہہ دنیا کافی ہے۔ یعنی لانبی بعدہ کہنے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ ہم کو یہ حدیث پہنچی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام پھر تشریف لائیں گے۔ پس جب وہ آئیں گے تو ایک ان کا آنا محمد ﷺ سے پہلے ہوا اور ایک آنامحمد ﷺ کے بعد ہوگا۔}
    پس جس طرح مغیرہ ؓ ختم نبوت کے قائل ہیں مگر محض عقیدہ نزول عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کی حفاظت کے لئے لانبی بعدی کہنے سے منع فرمایا اسی طرح حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے ختم نبوت کے عقیدہ کو تو خاتم النبیین کے لفظ سے ظاہر فرمایا اور اس موہم لفظ کے استعمال سے منع فرمایا کہ جس لفظ سے عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے خلاف کا ابہام ہوتا تھا۔ ورنہ حاشایہ مطلب ہر گز نہیں کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ حضور ﷺ کے بعد کسی قسم کی نبوت کو جائز کہتی ہیں۔
    عجیب بات ہے کہ مرزائی صاحبان کے نزدیک ایک مجہول الاسناد اثر تو معتبر ہوجائے اور صحیح اور صریح روائیوں کا دفتر معتبر نہ ہو۔ اصل بات یہ ہے کہ جو لفظ ان کی خواہش کے مطابق کہیں سے مل جائیں ۔ وہ تو قبول ہے اور جو آیت اور حدیث خواہ کتنی صریح اور صاف کیوں نہ ہو وہ نہ مقبول :’’ افکلما جاء کم رسول بھالاتھوی انفسکم استکبرتم۰‘‘اور یہ پھر حضرت عائشہ صدیقہ ؓ وحضرت مغیرہؓ دونوں کے اقوال سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے مسئلہ کے پیش نظر ہیں۔ ان کے مطمع نظر کو قادیانی نظر انداز کردیتے ہیں۔ قرآن مجید نے اس یہودیانہ قادیانی تحریف کے مدنظر کیا سچ فرمایا:’’ افتؤمنون ببعض الکتاب وتکفرون ببعض۰ بقرہ ۸۵‘‘
    مرزائی مفسر کی شہادت
    محمد علی لاہوری بیان القرآن میں لکھتے ہیں:
    ’’ اور ایک قول حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کا پیش کیا جاتا ہے جس کی سند کوئی نہیں:’’ قولوا خاتم النبیین ولاتقولوا لانبی بعدہ۰‘‘ خاتم النبیین کہو اور یہ نہ کہو کہ آ پ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں اور اس کایہ مطلب لیا جاتا ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓکے نزدیک خاتم النبیین کے معنے کچھ اور تھے اور کاش وہ معنی بھی کہیں مذکور ہوتے۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے اپنے قول میں ہوتے۔ کسی صحابی ؓ کے قول میں ہوتے۔ نبی کریم ﷺ کی حدیث میں ہوتے مگر وہ معنی دربطن قائل ہیں اور اس قدر حدیثوں کی شہادت جن میں خاتم النبیین کے معنی لانبی بعدی کئے گئے ہیں ایک بے سند قول پر پس پشت پھینکی جاتی ہیں۔ یہ غرض پرستی ہے خدا پرستی نہیں کہ رسول اﷲ ﷺ کی تیس حدیثوں کی شہادت ایک بے سند قول کے سامنے رد کی جاتی ہے۔ اگر اس قول کوصحیح مانا جائے تو کیوں اس کے معنی یہ نہ کئے جائیں کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کا مطلب یہ تھا کہ دونوں باتیں اکٹھی کہنے کی ضرورت نہیں خاتم النبیین کافی ہے۔ جیسا کہ حضرت مغیرہ بن شعبہؓ کا قول ہے کہ ایک شخص نے آپ کے سامنے کہا :’’ خاتم النبیین ولا نبی بعدہ۰‘‘تو آپ نے فرمایا کہ خاتم الانبیاء تجھے کہنا بس ہے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ آ پ کا مطلب ہو کہ جب اصل الفاظ خاتم النبیین واضح ہیں تو وہی استعمال کرو یعنی الفاظ قرآنی کو الفاظ حدیث پر ترجیح دو۔ اس سے یہ کہاں نکلا کہ آپ الفاظ حدیث کو صحیح نہ سمجھتی تھیں؟۔ اور اتنی حدیثوں کا مقابل اگر ایک حدیث ہوتی تو وہ بھی قابل قبول نہ ہوتی۔ چہ جائیکہ صحابی ؓ کا قول جو شرعاً حجت نہیں۔‘‘(بیان القرآن ص ۱۱۰۳‘۱۱۰۴ ج ۲)
    قادیانی سوال
    اگر اس قول عائشہ صدیقہ ؓ کی سند نہیں تو کیا ہوا تعلیقات بخاری کی بھی سند نہیں۔
    جواب : یہ بھی قادیانی دجل ہے ورنہ فتح الباری کے مصنف علامہ ابن حجر ؒ نے الگ ایک مستقل کتاب تصنیف کی ہے۔ جس کا نام تعلیق التعلیق ہے۔ اس میں تعلیقات صحیح بخاری کو موصول کیا ہے۔
    • Like Like x 1

اس صفحے کی تشہیر