1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

احادیث پر قادیانی اعتراضات ( اعتراض نمبر۴۱: انا العاقب)

محمدابوبکرصدیق نے 'متفرقات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ ستمبر 28, 2014

  1. ‏ ستمبر 28, 2014 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    احادیث پر قادیانی اعتراضات ( اعتراض نمبر۴۱: انا العاقب)
    قادیانی: حدیث ’’ انا العاقب والعاقب الذی لیس بعدہ نبی ۰‘‘میں نبوت کی نفی راوی کا اپنا خیال ہے۔
    جواب : یہ غلط ہے جس کسی نے کہا ہے خود اس کا یہ خیال ہے ورنہ حدیث میں کوئی تفریق نہیں۔ عاقب کے یہ معنی خود رسول اﷲ ﷺ نے کئے ہیں۔ چنانچہ حافظ ابن حجر ؒ فرماتے ہیں:
    ’’ وفی روایۃ سفیان بن عینیۃ عندالترمذی وغیرہ بلفظ الذی لیس بعدی نبی ۰فتح الباری ص ۳۱۳ ج ۱۴‘‘ {سفیان بن عینیۃ کی مرفوع حدیث میں امام ترمذی وغیرہ کے نزدیک یہ لفظ ہیں۔ میں عاقب ہوں‘ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔}
    لہذا ثابت ہوا کہ عاقب کی تفسیر میں جو الفاظ وارد ہیں وہ کلمات مرفوع ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے خود ہی فرمائے ہیں۔
    (حدیث عاقب کی تشریح از ملا علی قاری ملاحظہ ہو کتاب جمع الوسائل فی شرح الشمائل حصہ دوم ص ۱۸۳ باب ماجاء فی اسماء رسول اﷲ ﷺ)
    ’’ والعاقب الذی لیس بعدہ نبی قیل ھذا قول الزھری وقال العسقلانی ظاہرہ انہ مدرج لکنہ وقع فی روایۃ سفیان بن عینیۃ عندالترمذی ای فی الجامع بلفظ الذی لیس بعدی نبی۰‘‘ لہذا ثابت ہوا کہ عاقب کی تفسیر میں جو الفاظ الذی لیس بعدہ نبی وارد ہیں وہ کلمات مرفوع ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے خود ہی ارشاد فرمائے ہیں۔
    مزید برآں شمائل کی شرح (جو جمع الوسائل شرح الشمائل مصری ملاعلی قاری کے حاشیہ پر چڑھی ہوئی ہے)کرتے ہوئے علامہ عبدالرئوف المناوی المصری نے متن میں ’’ بعدی ‘‘ کو نقل فرمایا ہے۔
    اسی طرح چوتھی صدی کے مشہور محدث حافظ ابن عبدالبرؒ نے روایت مذکور پوری نقل فرمائی ہے:
    ’’ قال ۔۔۔۔۔ وانا الخاتم ختم اﷲ بی النبوۃ وانا العاقب فلیس بعدی نبی۰کتاب الا ستعیاب برحاشیہ اصابہ۰ مطبوعہ مصر ص ۳۷ ج ۱‘‘{آنحضرت ﷺ نے فرمایا میں خاتم ہوں اﷲ نے نبوت میرے ساتھ ختم کردی ہے اور میں عاقب ہوں ۔ پس میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔}
    اسی طرح چھٹی صدی کے مشہور محدث قاضی عیاضؒ بھی لکھتے ہیں :’’ وفی الصحیح انا العاقب الذی لیس بعدی نبی ۰ کتاب الشفامطبوعہ استنبول ص ۱۹۱ ج ۱‘‘{یعنی آپ ﷺ نے فرمایا کہ میںعاقب ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔}
    ایسا ہی تفسیر خازن (سورۃ صف )میں ہے :’’ انا عاقب الذی لیس بعدی نبی۰‘‘(ص ۷۱ ج ۷ طبع مصر ۱۳۴۹ھ) ان کتابوں (شفاء کتاب الاستیعاب ‘ خازن ‘ فتح الباری اور شرح الشمائل)میں لفظ بعدی موجود ہے۔ جس سے ثابت ہے کہ یہ تفسیر نبوی ہے۔
    قادیانی اعتراض نمبر۱
    صحاح ستہ جو حدیث کی معتبر کتابیں ہیں ۔ ان میں یوں نہیں آیا ۔ لہذا حجت نہ ہے۔
    جواب : صحاح ستہ میں سے جامع ترمذی میں یوں ہی موجود ہے۔ چنانچہ ترمذی ابواب الاستیذان والا دب ‘ باب ماجاء فی اسماء النبی میں حدیث صحیح مرقوم ہے :’’ وانا عاقب الذی لیس بعدی نبی ۰‘‘ (دیکھو ترمذی مطبوعہ مصر ص ۱۳۷ ج ۲ طبع ۱۳۹۲ھ ومطبع مجتبائی دہلی ص ۱۰۷ ج ۲ طبع ۱۳۲۸ھ ومطبوعہ مجیدی پریس کانپور ص ۱۱۲ ج ۲)
    اعلان: ترمذی مطبوعہ ہند کے بعض نسخوں میں (مطبوعہ احمدی وغیرہ) میں اس مقام پر بعدہ غلط طبع ہوگیا ہے۔ ناظرین سے التماس ہے کہ ترمذی کے اس مقام کو درست کرلیں۔ اور بجائے بعدہ کے بعدی بنالیں۔ محدثین شارحین نے بھی ترمذی کے حوالہ سے بعدی نقل کیا ہے۔(دیکھو فتح الباری پ ۱۴ ص۳۱۳ ۔ اسی طرح زرقانی نے شرح مؤطا میں حوالہ ترمذی بعدی نقل کیا ہے۔ ص ۲۷۲ ج ۴ مطبوعہ مصر)
    تشریح لفظ عاقب از علامہ ابن قیم ؒ
    ’’ والعاقب الذی جاء عقب الا نبیاء فلیس بعدہ نبی فان العاقب ھوالا خر فھو بمنزلۃ الخاتم ولھذا سمی العاقب علی الا طلاق ای عقب الا نبیاء جاء عقبہم۰ زاد المعاد ج ۱ ص ۳۳‘‘

    • Like Like x 1

اس صفحے کی تشہیر