1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

احتسابِ قادیانیت جلدنمبر 14 (توضیح الکلام فی اثبات حیات عیسی علیہ السلام )

محمدابوبکرصدیق نے 'توضیح الکلام فی اثبات حیات عیسی علیہ السلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ فروری 1, 2015

لڑی کی کیفیت :
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
  1. ‏ جون 30, 2015 #111
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    عقیدہ حیات عیسیؑ اور مجددین امت (امام عبدالرحمن ابن جوزیؒ کا عقیدہ)

    عظمت شان
    قادیانیوں کے نزدیک امام ابن جوزی بھی چھٹی صدی ہجری میں اصلاح عقائد وتجدید دین کے لئے مبعوث ہوئے تھے۔
    (عسل مصفی ج۱ ص۱۶۴)
    امام ابن جوزی نے قادیانیوں کے عقیدہ کا ستیاناس کردیا ہے۔ آپ نے ایک حدیث نبوی بیان کی ہے جو درج ذیل ہے۔
    ’’عن عبداﷲ بن عمرؓ قال قال رسول اﷲﷺ ینزل عیسیٰ ابن مریم الیٰ الارض فیتزوج ویولد لہ ویملک خمساً واربعین سنۃ ثم یموت فیدفن معی فی قبری فاقوم انا وعیسیٰ ابن مریم فی قبر واحد بین ابوبکرؓ وعمرؓ‘‘
    (رواہ ابن جوزی فی کتاب الوفاء مشکوٰۃ ص۴۸۰، باب نزول عیسیٰ علیہ السلام)
    عظمت حدیث:

    ۱…مرزاغلام احمد قادیانی نے اپنی مندرجہ ذیل کتب میں اس حدیث کو صحیح تسلیم کیا ہے۔
    (ضمیمہ آتھم ص۵۳، خزائن ج۱۱ ص۳۳۷، کشتی نوح ص۱۵، خزائن ج۱۹ ص۱۶، نزول المسیح ص۴۷، خزائن ج۱۸ ص۴۲۵، حقیقت الوحی ص۳۰۷، خزائن ج۲۲ ص۳۲۰، ضمیمہ حقیقت الوحی حاشیہ ص۵۱، خزائن ج۲۲ ص۶۷۴، نزول المسیح ص۳، خزائن ج۱۸ ص۳۸۱)
    ۲… مرزامحمود خلیفہ قادیانی نے بھی اس کی صحت کو تسلیم کر لیا ہے۔
    (انوار خلافت ص۵۰)
    ۳… مرزاخدابخش مرزائی نے قادیانیوں کی شہرہ آفاق کتاب عسل مصفی میں نہ صرف اس کی صحت کو ہی تسلیم کیا ہے۔ بلکہ اس حدیث کو مرزاقادیانی پر چسپاں کرنے کی سعی کی ہے۔ یعنی محمدی بیگم کے نکاح پر لگایا ہے۔ لیکن خدا نے انہیں اس میں بھی ناکام رکھا۔ محمدی بیگم نکاح میں نہ آئی۔ ہم اس حدیث کا ترجمہ قادیانی کے اپنے الفاظ میں بیان کرتے ہیں۔
    ترجمہ حدیث ’’یعنی ابن جوزی نے عبداﷲ بن عمرؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ عیسیٰ ابن مریم ایک خاص زمین میں نازل ہوں گے۔ پھر وہ نکاح بھی کریں گے اور ان کے لڑکے بالے بھی ہوں گے اور ۴۵برس تک ٹھہریں گے۔ (یملک کا یہ ترجمہ قادیانی ایجاد ہے۔ یملک کے معنی ہیں بادشاہی کریں گے) پھر فوت ہوں گے اور پھر میری قبر میں دفن ہوں گے۔ پھر میں اور عیسیٰ ابن مریم ایک ہی قبر سے ؓ اور عمرؓ کے درمیان ہے کھڑے ہوں گے۔‘‘
    (عسل مصفی ج۲ ص۴۴۰،۴۴۱)
    میں نے چھٹی صدی ہجری کے مجدد وامام کی روایت سے قادیانیوں کے اپنے الفاظ میں حدیث نبوی پیش کر دی ہے۔ اگر نجات مطلوب ہو تو ضرور تسلیم کر لیں گے۔
    نوٹ: تفصیل اس حدیث کی گزر چکی ملاحظ فرمائیں۔
  2. ‏ جولائی 1, 2015 #112
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    عقیدہ حیات عیسیؑ اور مجددین امت (حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کا عقیدہ)

    عظمت شان
    قادیانیوں نے آپ کو بھی چھٹی صدی ہجری کا مجدد تسلیم کر لیا ہے۔
    ۱… دیکھو (عسل مصفیٰ ج۱ ص۱۶۴)
    ۲… دیکھو (براہین احمدیہ حاشیہ نمبر۴ ص۵۴۶، خزائن ج۱ ص۶۵۲)
    ۳… دیکھو (کتاب البریہ ص۷۳، خزائن ج۱۳ ص۹۱)
    ۴… دیکھو (حقیقت النبوۃ ص۲۰۱)
    حضرت شیخ قدس سرہ العزیز اپنی مشہور کتاب (غنیۃ الطالبین ج۲ ص۵۵) میں فرماتے ہیں۔
    ’’والتاسع رفعہ اﷲ عزوجل عیسیٰ ابن مریم الیٰ السماء‘‘
    (بحوالہ استدلال الصحیح فی حیات المسیح ص۷۲)
    ’’اور نویں بات، یہ کہ اٹھالیا اﷲتعالیٰ نے عیسیٰ ابن مریم کو آسمان کی طرف۔‘‘
    ناظرین! کروڑہا مسلمانان عالم کے پیرو مرشد اور قادیانیوں کے تسلیم کردہ امام الزمان حیات عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ کیسے صاف صاف الفاظ میں بیان فرمارہے ہیں۔ اب بھی کوئی نہ سمجھے تو ان سے خدا سمجھے۔
  3. ‏ جولائی 1, 2015 #113
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    عقیدہ حیات عیسیؑ اور مجددین امت (امام ابن جریرؒ کا عقیدہ)

    عظمت شان
    ۱… ’’ابن جریر رئیس المفسرین ہیں۔‘‘
    (آئینہ کمالات اسلام ص۱۶۸، خزائن ج۵ ص ایضاً)
    ۲… ’’ابن جریر نہایت معتبر اور آئمہ حدیث میں سے ہے۔‘‘
    (چشمہ معرفت ص۲۵۰، خزائن ج۲۳ ص۲۶۱ حاشیہ)
    ۳… امام جلال الدین سیوطیؒ قادیانی جماعت کے مسلم امام ومجدد امام جریرؒ کی شان میں فرماتے ہیں:
    ’’اجمع العلماء المعتبرون علیٰ انہ لم یؤلف فی التفسیر مثلہ‘‘
    (اتقان ج۲ ص۳۲۵، مؤلفہ سیوطیؒ)
    قارئین! ہم آپ کے سامنے اس شان کے امام ومحدث ومفسر کی کلام پیش کرتے ہیں۔
    ۱… ہم امام ابن جریر کی روایت سے حدیث معراج درج کر آئے ہیں۔ جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے زمین پر اتر کر دجال کو قتل کرنے کا اعلان کر رہے ہیں۔
    ۲… ہم قادیانیوں کے امام ومجدد صدی ہشتم حافظ ابن حجر عسقلانی کے حوالہ سے ابن جریر کی روایت درج کر آئے ہیں۔ جس میں انہوں نے حضرت عبداﷲ بن عباسؓ کا عقیدہ حیات عیسیٰ علیہ السلام بیان کیا ہے۔
    ۳… ہم امام جریر کی ایک روایت سے ایک حدیث درج کر آئے ہیں۔ جس میں رسول کریمﷺ یہود کو فرماتے ہیں:
    ’’ان عیسیٰ لم یمت‘‘
    یعنی عیسیٰ علیہ السلام بے شک فوت نہیں ہوئے۔
    ’’وانہ راجع الیکم قبل یوم القیامۃ‘‘
    اور تحقیق وہ ضرور تمہاری طرف قیامت سے پہلے پہلے واپس آئیں گے۔ مفصل بحث اس حدیث کی حدیث کی بحث میں دیکھیں۔
    ۴… ہم بحوالہ درمنثور مصنفہ امام جلال الدین سیوطیؒ امام ابن جریر کی روایت سے ایک حدیث درج کر آئے ہیں۔ جس میں رسول کریمﷺ نصاریٰ کو فرماتے ہیں۔
    ’’الستم تعلمون ان ربنا حی لا یموت‘‘
    یعنی کیا تم نہیں جانتے کہ ہمارا رب زندہ ہے وہ نہیں مرے گا۔
    ’’وان عیسیٰ یأتی علیہ الفناء‘‘
    اور تحقیق عیسیٰ علیہ السلام ضرور فوت ہوں گے۔ نصاریٰ نے تصدیق کی اور کہا ’’بلیٰ‘‘ یعنی کیوں نہیں۔
    ۵… ’’وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن‘‘ کی بحث میں امام موصوف فرماتے ہیں۔
    ’’اما الذی قال لیؤمنن بمحمد قبل موت الکتابی ممالا وجہ لہ لانہ اشد فسادا مماقیل لیؤمنن قبل موت الکتابی لانہ خلاف السیاق والحدیث فلا یقوم حجۃ بمحض الخیال فالمعنی لیؤمنن بعیسیٰ قبل موت عیسیٰ‘‘
    (ابن جریر ج۶ ص۲۳ ملخص)
    ’’اور جو کہتا کہ ’’لیؤمنن بہ قبل موتہ‘‘کے معنی ’’اہل الکتاب‘‘ اپنی موت سے پہلے محمدﷺ پر ایمان لے آتا ہے ۔ یہ بالکل بلادلیل ہے۔ کیونکہ ’’کتابی کی موت سے پہلے‘‘ معنی کرنے سے سخت فساد لازم آتا ہے۔ کیونکہ یہ معنی کلام اﷲ اور حدیث نبوی کے خلاف ہیں۔ پس محض خیالی باتوں سے دلیل قائم نہیں ہوا کرتی۔ معنی ’’لیؤمنن بہ قبل موتہ‘‘ کے یہ ہیں کہ اہل کتاب حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے پہلے ضرور ان کی رسالت کو قبول کر لیں گے۔‘‘
    ناظرین فرمائیے! اس سے بڑھ کر دلیل آپ کے سامنے اور کیا بیان کروں کہ قادیانیوں کی تصدیق درتصدیق ثم درتصدیق سے حیات عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت دیتا جارہا ہوں۔ ’’فالحمد ﷲ رب العالمین‘‘
    ۶… امام ابن کثیرؒ مجدد صدی ششم کی تفسیر سے امام ابن جریر کا ایک قول نقل کر آئے ہیں۔ جس میں دونوں امام پر زور الفاظ اور دلائل سے حیات عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت دے رہے ہیں۔ قابل دید ہے۔
    ۷… امام ابن جریر اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں:
    ’’واولی ہذا الا قوال بالصحۃ عندنا قول من قال معنی ذالک انی قابضک من الارض ورافعک الیّ لتواتر الاخبار عن رسول اﷲﷺ‘‘
    (تفسیر طبری ج۳ ص۲۹۱)
    ’’(انی متوفیک الخ کے متعلق) اقوال مفسرین میں سے ہمارے نزدیک یہ سب سے اچھا ہے کہ اس (متوفیک) کے معنی یہ ہیں۔‘‘ میں (اے عیسیٰ علیہ السلام) تجھے زمین سے اپنے قبضہ میں لینے والا ہوں اور تجھے اپنی طرف اٹھانے والاہوں۔ کیونکہ اس بارہ میں رسول کریمﷺ کی احادیث تواتر تک پہنچی ہوئی ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوکر دجال کو قتل کریں گے۔ ۴۰،۴۵سال تک دنیا میں رہ کر فوت ہوں گے۔
    ۸… امام ابن جریر اپنی تفسیر میں ’’انی متوفیک‘‘ کی بحث میں حضرت ابن جریج رومیؒ کا قول اپنی تصدیق میں اس طرح پیش کرتے ہیں۔
    ’’عن ابن جریج قولہ انی متوفیک ورافعک الیّٰ ومطہرک من الذین کفروا قال فرفعہ ایاہ الیہ توفیہ ایاہ وتطہیرہ من الذین کفروا‘‘
    (تفسیر طبری ج۳ ص۲۹۰)
    ’’حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توفی سے مراد ان کا رفع جسمانی اور کفار سے علیحدگی ہے۔‘‘
    ۹… پھر امام موصوف اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں اور حضرت ابن عباسؓ کا عقیدہ حیات مسیح دلائل سے ثابت کرتے ہوئے ایک روایت درج کرتے ہیں۔ وہ روایت ذیل میں درج ہے۔
    ’’عن سعید ابن جبیر عن ابن عباسؓ وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ قال قبل موت عیسیٰ‘‘
    (تفسیر طبری ج۶ ص۱۸)
    ’’حضرت سعید ابن جبیر تابعی حضرت ابن عباسؓ سے روایت کرتے ہیں کہ فرمایا آپ نے ’’وان من اہل الکتاب‘‘ کے معنی ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے اہل کتاب ان پر ایمان لے آئیں گے۔‘‘
    ۱۰… حضرت امام ابن جریرؒ نے حضرت کعبؓ سے یہ روایت نقل کی ہے۔
    ’’عن کعب قال لما رای عیسیٰ قلۃ من اتبعہ وکثرۃ من کذبہ شکیٰ الیٰ اﷲ فاوحی اﷲ الیہ انی متوفیک رافعک الیّ وانی سابعثک علی الاعور الدجال فتقتلہ‘‘
    (رواہ ابن جریر تفسیر طبری ج۳ ص۲۹۰)
    ’’حضرت کعبؓ فرماتے ہیں کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی امت کی قلت اور منکرین کی کثرت کو دیکھا تو اﷲتعالیٰ کے دربار میں شکایت کی۔ اﷲتعالیٰ نے ان کی طرف یہ وحی کی کہ اے عیسیٰ علیہ السلام میں تجھے اپنے قبضہ میں لینے والا ہوں اور اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور یقینا تجھے دجال کانے کے خلاف بھیجوں گا اور تو اسے قتل کرے گا۔‘‘ تلک عشرۃ کاملۃ!
    حضرات! ہم بخوف طوالت امام موصوف کی صرف دس روایات پر ہی اکتفار کرتے ہیں۔ ورنہ آپ کی تفسیر میں بے شمار اقوال حیات عیسیٰ علیہ السلام کے ثبوت میں درج ہیں۔
  4. ‏ جولائی 1, 2015 #114
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    عقیدہ حیات عیسیؑ اور مجددین امت ( حضرت امام ابن تیمیہ حنبلیؒ کا عقیدہ)

    عظمت شان :
    ۱…حضرت امام ابن تیمیہؒ کو قادیانی جماعت نے ساتویں صدی ہجری کا مجدد وامام تسلیم کر لیا ہے۔
    (عسل مصفی ج۱ ص۱۶۴)
    ۲… مرزاغلام احمد قادیانی خود حضرت امام ابن تیمیہؒ کے علو مرتبت کے قائل تھے۔ چنانچہ مرزاقادیانی لکھتے ہیں: ’’فاضل ومحدث ومفسر ابن تیمیہ… جو اپنے وقت کے امام ہیں۔‘‘
    (کتاب البریہ حاشیہ ص۲۰۳، خزائن ج۱۳ ص۲۲۱)
    حضرات! مرزاقادیانی کی تحریرات سب کی سب کذب وافتراء سے بھری پڑی ہیں۔ چنانچہ میں نے ’’کذبات مرزا‘‘ کے نام سے ایک الگ رسالہ انعامی تین ہزار روپیہ تالیف کیا ہے۔ جس کا پہلا حصہ شائع ہوچکا ہے۔ اس میں مرزاقادیانی کی دو سوصریح کذب بیانیاں جمع کی گئی ہیں۔ آج حیات عیسیٰ علیہ السلام کے سلسلہ میں مرزاقادیانی کا ایک ایسا جھوٹ درج کرتا ہوں کہ صرف یہی جھوٹ مرزاقادیانی کا غیرمتعصب قادیانی کی توبہ کے لئے کافی محرک ثابت ہوگا۔ مرزاقادیانی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ امام ابن تیمیہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے قائل ہیں۔
    (کتاب البریہ ص۲۰۳ حاشیہ، خزائن ج۱۳ ص۲۲۱)
    اب میں ناظرین کے سامنے امام موصوف کی کلام پیش کرتا ہوں تاکہ مرزاقادیانی کے کذب ودجل کی قلعی خود بخود کھل جائے۔
    ۱… ’’وکان الروم والیونان وغیرہم مشرکین یعبدون اہیاکل العلویۃ والاصنام الارضیۃ فبعث المسیح رسلہ یدعونہم الی دین اﷲ تعالیٰ فذہب بعضہم فی حیاتہ فی الارض وبعضہم بعد رفعہ الی السماء فدعو ہم الی دین اﷲ‘‘
    (الجواب الصحیح ج۱ ص۱۱۵،۱۱۶)
    ’’روم اور یونان وغیرہ میں اشکال علویہ وبتان ارضیہ کو پوجتے تھے۔ پس مسیح علیہ السلام نے اپنے نائب بھیجے جو ان کو دین الٰہی کی طرف دعوت دیتے تھے۔ پس بعض تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زمینی زندگی میں گئے اور بعض حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اٹھائے جانے کے بعد گئے۔ پس انہوں نے لوگوں کو خدا کے دین کی طرف دعوت دی۔‘‘
    ۲… ’’وثبت ایضاً فی الصحیح عن النبیﷺ انہ قال ینزل عیسیٰ ابن مریم من السماء علی المنارۃ البیضاہ شرقی دمشق‘‘
    (الجواب الصحیح ج۱ ص۱۷۷)
    ’’اور صحیح میں یہ بھی ثابت ہے کہ رسول کریمﷺ نے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام آسمان سے دمشق کی جامع مسجد کے شرقی سفید منارہ پر اتریں گے۔‘‘
    ۳… ’’والمسلمون واہل الکتاب متفقون علی اثبات مسیحین مسیح ہدی من ولد داؤد ومسیح ضلال یقول اہل الکتاب انہ من ولد یوسف ومتفقون علی ان مسیح الہدیٰ سوف یأتی کما یأتی مسیح الضلالۃ لکن المسلمون والنصاری یقولون مسیح الہدیٰ ہو عیسیٰ ابن مریم وان اﷲ ارسلہ ثم یأتی مرۃ ثانیۃ لکن المسلمون یقولون انہ ینزل قبل یوم القیامۃ فیقتل مسیح الضلالۃ ویکسر الصلیب ویقتل الخنزیر ولا یبقی دینا الا دین الاسلام ویؤمن بہ اہل الکتاب الیہود والنصاریٰ کما قال تعالیٰ (وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ والقول الصحیح الذی علیہ الجمہور قبل موت المسیح وقال تعالیٰ انہ لعلم للساعۃ)‘‘
    (جواب الصحیح ج۱ ص۳۲۹)
    ’’مسلمان اور اہل کتاب یہود ونصاریٰ دو مسیحوں کے وجود پر متفق ہیں۔ مسیح ہدایت داؤد کی اولاد میں سے ہے اور اہل کتاب کے نزدیک مسیح الضلالت یوسف کی اولاد میں سے ہے اور اس بات پر بھی متفق ہیں کہ مسیح ہدایت عنقریب آئے گا۔ جبکہ آئے گا مسیح الدجال، لیکن مسلمان اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ مسیح ہدایت حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ہیں کہ خدا نے ان کو رسول بنایا اور پھر دوبارہ وہی آئیں گے لیکن مسلمان یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ قیامت سے پہلے اتریں گے اور مسیح الدجال کو قتل کریں گے اور صلیب کو توڑیں گے اور خزیر کو قتل کریں گے اور کوئی دین باقی نہ رہے گا۔ مگر دین اسلام، یہود اور نصاریٰ ان کی رسالت پر ایمان لائیں گے۔ جیسا کہ اﷲتعالیٰ فرماتا ہے: ’’وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ‘‘ یعنی تمام اہل کتاب حصرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے ان پر ایمان لے آئیں گے اور قول صحیح جس پر جمہور امت کا اتفاق ہے وہ یہ ہے کہ ’’موتہ‘‘ کی ضمیر عیسیٰ علیہ السلام کی طرف پھرتی ہے۔ اس کی تائید اس آیت سے بھی ہوتی ہے۔ ’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘ یعنی عیسیٰ علیہ السلام قیامت کی نشانی ہے۔‘‘
    ۴… ’’اذا نزل المسیح ابن مریم فی امتہ لم یحکم فیہم الا بشرع محمدﷺ‘‘
    (الجواب والصحیح ج۱ ص۳۴۹)
    ’’جب مسیح ابن مریم علیہ السلام آنحضرتﷺ کی امت میں نازل ہوں گے تو شرح محمدی کے مطابق حکم کریں گے۔‘‘
    ۵… ’’وان اﷲ اظہر علی یدیہ الایات وانہ صعد الی السماء کما اخبر اﷲ بذالک فی کتابہ کما تقدم ذکرہ‘‘
    (کتاب بالا ج۲ ص۱۸۶)
    ’’اور اﷲتعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ پر معجزات ظاہر کئے اور تحقیق وہ آسمان کی طرف چڑھ گئے۔ جیسے کہ اﷲتعالیٰ نے اپنی کتاب مقدس میں خبر دی ہے۔ جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔‘‘
    ۶… ’’وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ وہذا عند اکثر العلماء معناہ قبل موت عیسیٰ وقد قیل قبل موت الیہودی وہو ضعیف کما قیل انہ قبل موت محمدﷺ وہو اضعف فانہ لواٰمن بہ قبل الموت لنفع ایمانہ بہ فان اﷲ یقبل التوبۃ العبد مالم یغرغر لم یکن فی ہذا فائدۃ فان کل احد بعد موتہ یؤمن بالغیب الذی کان یجحدہ فلا اختصاص للمسیح بہ ولانہ قال قبل موتہ ولم یقل بعد موتہ ولا نہ لا فرق بین ایمانہ بالمسیح وبمحمد صلوات اﷲ علیہما وسلامہ والیہود الذی یموت علی الیہودیۃ فیموت کافرا بمحمد والمیسح علیہما الصلوٰۃ والسلام ولا نہ قال وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ وقولہ لیؤمنن بہ فعل مقسم علیہ وہذا انما یکون فی المستقبل فدل ذالک علی ان ہذا الایمان بعد اخبار اﷲ بہذا ولو ارید قبل موت الکتابی لقال وان من اہل الکتاب الا من یؤمن بہ لم یقل لیؤمنن بہ وایضاً فانہ قال وان من اہل الکتاب وہذا یعم الیہود والنصاریٰ فدل ذالک علی ان جمیع اہل الکتاب الیہود والنصاریٰ یؤمنون بالمسیح قبل موت المسیح وذالک اذا نزل اٰمنت الیہود والنصاریٰ بانہ رسول اﷲ لیس کاذباً کما یقول الیہودی ولا ہو اﷲ کما تقولہ النصاریٰ‘‘
    (الجواب الصحیح ج۲ ص۲۸۳،۲۸۴)
    ’’وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ! اس کی تفسیر اکثر علماء نے یہ کی ہے کہ مراد ’’قبل موتہ‘‘ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے اور یہودی کی موت سے پہلے بھی کسی نے معنی کئے ہیں اور یہ ضعیف ہے جیسا کہ کسی نے محمدﷺ کی موت سے پہلے بھی معنی کئے ہیں اور یہ اس سے بھی زیادہ ضعیف ہے۔ کیونکہ اگر ایمان موت سے پہلے لایا جائے تو نفع دے سکتا ہے۔ اس لئے کہ اﷲتعالیٰ توبہ قبول کرتا ہے۔ جب تک کہ بندہ غرغرہ تک نہ پہنچا ہو اور اگر یہ کہا جائے کہ ایمان سے مراد ایمان بعد الغرغرہ ہے تو اس میں کوئی فائدہ نہیں۔ اس لئے کہ غرغرہ کے وقت وہ ہر ایک امر پر جس کا کہ وہ منکر ہے۔ ایمان لاتا ہے۔ پس مسیح علیہ السلام کی کوئی خصوصیت نہ رہی اور ایمان سے مراد ایمان نافع ہے (کیونکہ تمام قرآن شریف میں ایمان انہیں معنوں میں استعمال ہوا ہے کہیں ایمان سے مراد ایمان غیر نافع نہیں لیاگیا۔ پس مطابق اصول قادیانی کے امر متنازعہ فیہ میں کسی لفظ کے معنی وہی صحیح ہوں گے جو معنی تمام قران میں لئے گئے ہوں گے۔ ایمان سے مراد ایمان نافع ماننا ضروری ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ بے شمار یہودی وعیسائی کفر پر مر رہے ہیں۔ ابوعبیدہ) اس لئے کہ اﷲتعالیٰ نے ’’قبل موتہ‘‘ فرمایا ہے۔ نہ بعد موتہ اگر ایمان بعد غرغرہ مراد ہوتا تو بعد موتہ فرماتا۔ کیونکہ بعد موت کے ایمان بالمسیح یا بمحمد ﷺ میں کوئی فرق نہیں ہے اور یہودی یہودیت پر مرتا ہے۔ اس لئے وہ کافر مرتا ہے۔ مسیح علیہ السلام اور محمدﷺ سے منکر ہوتا ہے اور اس آیت میں ’’لیؤمنن بہ‘‘ مقسم علیہ ہے۔ یعنی قسمیہ خبر دی گئی ہے اور یہ مستقبل ہی میں ہوسکتا ہے۔ (نیز جس خبر پر قسم کھائی جائے وہ مضمون بلاتاویل قابل قبول ہوتا ہے۔ اس میں تاویل کرنا حرام ہوتا ہے۔ جیسا کہ خود قادیانی اپنی کتاب (حمامتہ البشریٰ ص۱۴، خزائن ج۷ ص۱۹۲ حاشیہ) پر لکھتا ہے۔ ابوعبیدہ) پس ثابت ہوا۔ یہ ایمان اس خبر کے بعد ہوگا اور اگر موت کتابی کی مراد ہوتی تو اﷲتعالیٰ یوں فرماتے۔ ’’وان من اہل الکتاب الا من یؤمن بہ‘‘ اور ’’لیؤمنن بہ‘‘ نہ فرماتے اور نیز ’’وان من اہل الکتاب‘‘ یہ لفظ عام ہے۔ ہر ایک یہودی ونصرانی کو شامل ہے۔ پس ثابت ہوا کہ تمام اہل کتاب یہود ونصاریٰ مسیح علیہ السلام کی موت سے پہلے مسیح علیہ السلام پر ایمان لائیں گے اور یہ اس وقت ہوگا جب مسیح علیہ السلام اتریں گے تمام یہود ونصاریٰ ایمان لائیں گے کہ مسیح ابن مریم اﷲ کا رسول کذاب نہیں۔ جیسے یہودی کہتے ہیں اور وہ خدا نہیں جیسا کہ نصاریٰ کہتے ہیں۔‘‘
    عبارت بالا کے آگے یہ عبارت ہے۔
    ’’والمحافظۃ علی ہذا العموم اولی من ان یدعی ان کل کتابی لیؤمنن بہ قبل ان یموت الکتاب فان ہذا یستلزم ایمان کل یہودی ونصرانی وہذا خلاف الواقع وھو لما قال وان من ہم الا لیؤمنن بہ قبل موتہ ودل علیٰ ان المراد بایمانہم قبل ان یموت ہو علم انہ ارید بالعموم عمومہ من کان موجوداً حین نزولہ ای لا یختلف منہم احد عن الایمان بہ لا ایمان من کان منہم میتا وہذا کما یقال انہ لا یبقی بلد الا دخلہ الدجال الامکۃ والمدینۃ ای فی المدائن الموجودۃ حینئذاٍ وسبب ایمان اہل الکتاب بہ حینئذاٍ ظاہر فانہ یظہر لکل احد انہ رسول یؤید لیس بکذاب ولا ہو رب العالمین فاﷲ تعالیٰ ذکر ایمانہم بہ اذا نزل الیٰ الارض فانہ تعالیٰ لما ذکر رفعہ الی اﷲ بقولہ تعالیٰ ان متوفیک ورافعک الیّٰ وھو ینزل الی الارض قبل یوم القیامۃ ویموت حینئذا خبر بایمانہم بہ قبل موتہ‘‘
    (الجوب الصحیح ج۲ ص۲۸۴)
    ’’اس عموم کا لحاظ زیادہ مناسب ہے۔ اس دعویٰ سے کہ موتہ سے مراد موت کتابی ہے۔ کیونکہ یہ دعویٰ ہر ایک کتابی، یہودی ونصرانی کے ایمان کو مستلزم ہے اور یہ خلاف واقع ہے۔ اس لئے کہ جب اﷲ تعالیٰ نے یہ خبر دی کہ تمام اہل کتاب ایمان لائیں گے تو ثابت ہوا کہ اس عموم سے مراد عموم ان لوگوں کا ہے۔ جو حضرت مسیح علیہ السلام کے نزول کے وقت موجود ہوں گے۔ کوئی بھی ایمان لانے سے اختلاف نہ کرے گا۔ اس عموم سے مراد وہ اہل کتاب جو فوت ہوچکے ہیں نہیں ہوسکتے۔ یہ عموم ایسا ہے جیسا یہ کہا جاتا ہے کہ کوئی شہر ایسا نہیں ہوگا مگر یہ کہ دجال اس میں ضرور داخل ہوگا۔ سوائے مکہ اور مدینہ شریف کے۔ پس شہروں سے مراد یہاں صرف وہی شہر ہیں جو دجال کے وقت موجود ہوں گے۔ (جو اس سے پہلے صفحہ ہستی سے مٹ چکے ہوں گے وہ مراد نہیں ہوسکتے) اور اس وقت ہر ایک یہودی ونصرانی کے ایمان کا سبب ظاہر ہے۔ وہ یہ کہ ہر ایک کو معلوم ہو جائے گا کہ مسیح علیہ السلام رسول اﷲ مؤید بتائید اﷲ ہے۔ نہ وہ کذاب ہے نہ وہ خدا ہے۔ پس اﷲتعالیٰ نے اس ایمان کا ذکر فرمایا ہے۔ جو حضرت مسیح علیہ السلام کے نازل ہونے کے وقت ہوگا۔ سب اہل کتاب مسیح علیہ السلام کی موت سے پہلے ان پر ایمان لائیں گے۔‘‘
    ۸… ناظرین! عربی عبارتیں کہاں تک نقل کرتا جاؤں۔ اب میں صرف اردو ترجمہ پر ہی اکتفا کرتا ہوں۔ جس کو عربی عبارتوں کا شوق ہو۔ وہ ’’الجواب الصحیح لمن بدل دین المسیح‘‘ منگوا کر ملاحظہ فرمالیں۔
    عبارت بالا کے بعد یہ عبارت ہے۔
    ’’صحیحین میں وارد ہے کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ قریب ہے کہ ابن مریم اترین گے۔ حاکم، عادل، پیشوا، انصاف کرنے والا۔ صلیب کو توڑیں گے۔ خنزیر کو قتل کریں گے۔ جزیہ موقوف کریں گے (اور آیت قرآنی ’’وما قتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لہم وان الذین اختلفوا فیہ لفی شک منہ مالہم بہ من علم الا اتباع الظن وما قتلوہ یقینا بل رفعہ اﷲ الیہ وکان اﷲ عزیزاً حکیما‘‘) اس آیت میں بیان ہے کہ اﷲتعالیٰ نے مسیح علیہ السلام کو زندہ آسمان پر اٹھالیا اور قتل سے بچا لیا اور بیان فرمایا کہ مسیح علیہ السلام کی موت سے پہلے پہلے اہل کتاب ان پر ایمان لائیں گے… اور لفظ ’’توفی‘‘ لغت عرب میں اس کے معنی ’’پورا لینا‘‘ اور ’’قبضہ میں لینا‘‘ ہے اور یہ تین طرح ہوسکتا ہے۔
    (۱)قبض فی النوم (سلانا)۔ (۲)قبض فی الموت (مارنا) اور (۳)قبض الروح معہ البدن (بمعہ جسم اوپر اٹھا لینا) پس مسیح علیہ السلام کی توفی تیسری قسم کی ہے۔ یعنی روح اور جسم دونوں کے ساتھ اٹھائے گئے۔ ان کا حال اہل زمین کی طرح نہیں۔ زمین کے بسنے والے کھانے، پینے، پیشاب پاخانہ کی طرف محتاج ہیں اور مسیح علیہ السلام کو اﷲتعالیٰ نے قبضہ میں لے لیا اور وہ دوسرے آسمان پر رہیں گے۔ اس وقت تک کہ نازل ہوں گے زمین کی طرف۔ ان کا حال کھانے، پینے، پہننے اور سونے اور بول وبراز میں زمین پر بسنے والوں کی طرح نہیں ہے۔‘‘
    ۹… ’’قلت وصعود الآدمی ببدنہ الیٰ السماء قد ثبت فی امر المسیح عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام فانہ صعد الی السماء وسوف ینزل الی الارض ہذا مما یوافق النصاریٰ علیہ المسلمین فانہم یقولون ان المسیح صعد الی السماء ببدنہ وروحہ کما یقول المسلمون ویقولون انہ سوف ینزل الی الارض ایضاً کما یقول المسلمون وکما اخبر بہ النبیﷺ فی الاحادیث الصحیحۃ… وان نزولہ من اشراط الساعۃ کما دل علی ذالک الکتاب والسنۃ‘‘
    (الجواب الصحیح ج۴ ص۱۶۹،۱۷۰)
    ’’میں (امام ابن تیمیہؒ) کہتا ہوں کہ آدمی کا جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر چڑھ جانا یقینا مسیح کے بارہ میں پایۂ ثبوت کو پہنچ چکا ہے۔ پس وہ آسمان پر چڑھ گئے اور عنقریب زمین پر اتریں گے اور نصاریٰ بھی اس بیان میں مسلمانوں سے موافق ہیں۔ وہ بھی مسلمانوں کی طرح یہی کہتے ہیں کہ مسیح علیہ السلام جسم کے ساتھ آسمان پر چڑھ گئے اور عنقریب زمین پر اتریں گے۔‘‘
    ۱۰… ’’وعیسیٰ ابن مریم علیہ السلام اذا نزل من السماء انما یحکم فیہم بکتاب ربہم وسنۃ نبیہم‘‘
    (زیارت القبور ص۷۵)
    ’’اور عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام جب آسمان پر سے نازل ہوں گے تو وہ قرآن کریم اور سنت نبویﷺ کے مطابق حکم دیں گے۔‘‘
    ۱۱… ’’والنبیﷺ قد اخبرہم ینزل عیسیٰ من السماء‘‘
    (زیارت القبور ص۷۵)
    ’’اور نبیﷺ نے مسلمانوں کو خبر دی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتریں گے۔‘‘ (نہ کہ ماں کے پیٹ سے نکلیں گے) یہ مرزاقادیانی کے اپنے الفاظ ہیں۔ ابوعبیدہ!
    حضرات! میرے اقتباسات کے مطالعہ سے شاید آپ تھک گئے ہوں گے۔ مرزاقادیانی کے دجل وفریب کی وسعت اور گہرائیوں کا بھی اندازہ لگائیں کہ باوجود ابن تیمیہ کی ان تصریحات کے بھی ہانکے جاتا ہے کہ ’’ایسا ہی فاضل ومحدث ومفسر امام ابن تیمیہؒ وابن قیم جو اپنے اپنے وقت کے امام ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے قائل ہیں۔‘‘
    (کتاب البریہ حاشیہ ص۲۰۳، خزائن ج۱۳ ص۲۲۱)
    کیا اب مجھے اجازت ہے کہ مرزاقادیانی کا صریح جھوٹ وافتراء ثابت ہو جانے کے بعد مرزاقادیانی کا اپنا فتویٰ ان کی شان میں لکھ دوں۔
    ۱… ’’دروغ گوئی کی زندگی جیسی کوئی لعنتی زندگی نہیں۔‘‘
    (نزول المسیح ص۲، خزائن ج۱۸ ص۳۸۰)
    ۲… ’’ظاہر ہے کہ جو ایک بات میں جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر دوسری باتوں میں بھی اس پر اعتبار نہیں رہتا۔‘‘
    (چشمہ معرفت ص۲۲۲، خزائن ج۲۳ ص۲۳۱)
    ۳… ’’جھوٹ ام الخبائث ہے۔‘‘
    (تبلیغ رسالت ج۷ ص۲۸، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۳۱)
    ۴… ’’جھوٹ بولنے سے مرنا بہتر ہے۔‘‘
    (تبلیغ رسالت ج۷ ص۳۰، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۳۴)
    ۵… ’’جھوٹے پر خدا کی لعنت۔‘‘
    (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۱۱، خزائن ج۲۱ ص۲۷۵)
    ۶… ’’جھوٹ بولنا مرتد ہونے سے کم نہیں۔‘‘
    (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص۱۳ حاشیہ، خزائن ج۱۷ ص۵۶)
    ۷… ’’اے بیباک لوگو جھوٹ بولنا اور گوہ کھانا ایک برابر ہے۔‘‘
    (حقیقت الوحی ص۲۰۶، خزائن ج۲۲ ص۲۱۵)
    ۸… ’’جھوٹ بولنے سے بدتر دنیا میں اور کوئی کام نہیں۔‘‘
    (تتمہ حقیقت الوحی ص۲۶، خزائن ج۲۲ ص۴۵۹)
  5. ‏ جولائی 1, 2015 #115
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    عقیدہ حیات عیسیؑ اور مجددین امت (امام ابن قیمؒ کا عقیدہ)

    عظمت شان
    ۱… امام ابن قیم ساتویں صدی کے مجدد تھے۔
    (قادیانی کتاب عسل مصفی ج۱ ص۱۲۴)
    ۲… قول مرزا: ’’فاضل ومحدث ومفسر ابن قیم جو اپنے وقت کے امام تھے۔‘‘
    (کتاب البریہ حاشیہ ص۲۰۳، خزائن ج۱۳ ص۲۲۱)
    ناظرین! امام ابن قیمؒ امام ابن تیمیہؓ کے شاگرد تھے۔ استاد کا عقیدہ آپ نے ملاحظہ فرمالیا۔ قدرتی بات ہے کہ امام ابن قیم اس قدر ضروری عقیدہ میں یقینا اپنے استاد کے مخالف نہیں ہوسکتے۔ مگر ہم ذیل میں ان کی اپنی تصنیفات سے چند حوالے درج کرتے ہیں تاکہ قادیانی جماعت کی صداقت کی حقیقت معلوم ہوسکے۔
    ۱… ’’وہذا المسیح ابن مریم حی لم یمت وغذأہ من جنس غذاء الملئکۃ‘‘
    مسیح ابن مریم علیہ السلام زندہ ہیں فوت نہیں ہوئے اور ان کی غذا وہی ہے جو فرشتوں کی ہے۔
    (کتاب التبیان مصنفہ ابن قیمؒ)
    ۲… ’’ومسیح المسلمین الذی ینتظرو نہ ہو عبداﷲ ورسولہ وروحہ وکلمتہ القاہا الی مریم العذراء البتول عیسیٰ ابن مریم اخو عبداﷲ ورسولہ محمد بن عبداﷲ فیظہر دین اﷲ وتوحیدہ ویقتل اعداء الدین اتخذوہ وامہ الٰہین من دون اﷲ واعداء لا الیہود الذین رموہ وامہ بالعظائم فہذا ہو الذی ینتظرہ المسلمون وہو نازل علی المنارۃ الشرقیہ بدمشق واضعاً یدیہ علی منکبی ملکین یراہ الناس عیاناً بابصارہم نازلاً من السماء فیحکم بکتاب اﷲ وسنۃ رسولہ‘‘
    (ہدایہ الجباری مصنفہ امام ابن قیمؒ)
    ’’وہ مسیح جس کی انتظار مسلمان کر رہے ہیں۔ وہ عبداﷲ ہے۔ اﷲ کا رسول ہے۔ روح الٰہی ہے اور اس کا وہ کلمہ ہے جو اس نے حضرت مریم علیہ السلام بتول کی طرف نازل کیا۔ یعنی عیسیٰ ابن مریم اﷲ کے بندے اور اس کے رسول محمدﷺ ابن عبداﷲ کا بھائی ہے۔ وہ اﷲتعالیٰ کے دین اور اس کی توحید کو غالب بنائے گا اور اپنے ان دشمنوں کو قتل کرے گا۔ جنہوں نے اﷲ کو چھوڑ کر خود اس کو اور اس کی ماں کو معبود بنالیا اور اپنے ان یہودی دشمنوں کو قتل کرے گا۔ جنہوں نے اس پر اور اس کی ماں پر اتہام باندھے بس یہی وہ مسیح ہے۔ جس کی انتظار مسلمان کر رہے ہیں اور دمشق میں شرقی منارہ پر اس حالت میں نازل ہونے والے ہیں کہ اپنے دونوں ہاتھ دو فرشتوں کے کندھوں پر رکھے ہوں گے۔ لوگ آپ کو اپنی آنکھوں سے آسمان سے اترتے ہوئے دیکھیں گے۔ آپ اﷲ کی کتاب (قرآن شریف) اور اس کے رسول کی سنت کے مطابق حکم چلائیں گے۔‘‘
    ۳… ’’ومحمدﷺ مبعوث الی جمیع الثقلین فرسالتہ عامۃ لجمیع الجن والانس فی کل زمان ولو کان موسیٰ وعیسیٰ حیین لکانا من اتباعہ واذا نزل عیسیٰ ابن مریم فانما یحکم بشریعۃ محمدﷺ‘‘
    (مدارج السالکین ج۲ ص۲۴۳،۳۱۳)
    ’’آنحضرتﷺ کی نبوت تمام جنوں اور انسانوں کے لئے اور ہر زمانے کے لئے ہے۔ بالفرض اگر موسیٰ وعیسیٰ علیہم السلام (آج زمین پر) زندہ ہوں تو ضرور آنحضرتﷺ کا اتباع کریں اور جب عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے تو وہ شریعت محمدیﷺ پر ہی عمل کریں گے۔ اس کے آگے فرماتے ہیں۔‘‘
    ’’فمن ادعی انہ مع محمد کالخضر مع موسیٰ اوجوز ذالک لاحد من الامۃ فلیجد اسلامہ ویشہد انہ مفارق لدین الاسلام بالکلیۃ فضلاً ان یکون من خاصۃ اولیاء اﷲ وانما ہو من اولیاء الشیطان‘‘
    تو جو کوئی اس بات کا دعویٰ کرے کہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام حضرت محمدﷺ کے ساتھ اس طرح ہوں گے جس طرح کہ موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ خضر یا اگر کوئی شخص امت محمدی میں سے کسی شخص کے لئے ایسا تعلق جائز قرار دے (نوٹ: مرزائی مرزاقادیانی کو ایسا ہی سمجھتے ہیں۔ ابوعبیدہ) تو ضرور ہے کہ ایسا شخص اپنے اسلام کی تجدید کرے اور اسے اپنے ہی خلاف اس امر کی شہادت دینی پڑے گی۔
    (مرزائی جماعت مجدد وقت امام ابن قیم کی تنبیہ کا خیال کرے) کہ وہ دین اسلام سے باالکلیہ علیحدہ ہونے والا ہے۔ چہ جائیکہ وہ خاص اولیاء اﷲ میں سے ہو سکے۔ نہیں بلکہ ایسا شخص شیطانی ولی ہے۔
    ناظرین! غور کریں کہ کس طرح امام ابن قیم آج سے چھ سات سو سال پہلے مرزاغلام احمد قادیانی کا ناطقہ بندکر رہے ہیں۔ کیسے صاف الفاظ میں اعلان فرمارہے ہیں۔ اگر کوئی شخص یہ خیال کرے کہ امت محمد میں سے کوئی شخص ترقی کر کے مسیح ابن مریم والی پیش گوئی کا مصداق ہوسکتا ہے تو ایسا خیال کرنے والا بھی اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ چہ جائیکہ خود مدعی کا اسلام قبول کیا جاسکے۔
    قادیانی اعتراض اور اس کی حقیقت
    مدارج السالکین میں ابن قیم نے لکھا ہے:
    ’’لوکان موسیٰ وعیسیٰ حیین لکانا من اتباعہ‘‘
    یعنی اگر موسیٰ وعیسیٰ زندہ ہوتے تو ضرور آنحضرتﷺ کے متبعین میں سے ہوتے۔
    الجواب
    ۱… ہم نے ترجمہ کرتے وقت ’’آج زمین پر‘‘ کے الفاظ کا اضافہ کر دیا ہے اور یہ ہم نے اپنے پاس سے نہیں کیا بلکہ صحیح مراد ہے امام کی۔ صرف کند ذہن آدمی کے لئے اس کی ضرورت ہے۔ ورنہ خود کلام امام سے یہ بات ظاہر وباہر ہے۔ اگر اس کے معنی مطلق زندہ کے لئے جائیں تو پھر آسمان پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی موت بھی قادیانیوں کو ماننی پڑے گی۔ حالانکہ مرزاقادیانی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی کے قائل ہیں۔ پس یقینا مراد اس حی سے ارضی حیات ہے۔
    ۲… اتباع شریعت محمدی کے مکلف صرف اہل زمین ہیں۔ ’’اہل سمٰوات‘‘ اس کے مکلف نہیں۔ ورنہ اتباع شریعت محمدی کی شرط ’’نزول من السماء‘‘ کے ساتھ وابستہ نہ ہوتی۔ پس چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر ہونے کے سبب اتباع شریعت محمدیﷺ سے دیگر اہل سموات کی طرح مستثنیٰ ہیں۔ اس واسطے یقینا یہاں حی سے مراد ارضی حیات ہی ہوسکتے ہیں۔ کیا فرماتے ہیں۔ قادیانی حضرات اس بارہ میں اگر عیسیٰ علیہ السلام ان کے عقیدہ میں بھی زندہ بجسدہ العنصری موجود ہوتے تو کیا پھر وہ ضرور آنحضرتﷺ کی شریعت کا اتباع کرتے۔ کیا اب وہ رسول کریمﷺ کی اطاعت سے اس لئے مستثنیٰ ہیں کہ ان کا جسم عنصری نہیں بلکہ نورانی ہے۔ کیا اطاعت کے لئے صرف جسم عنصری ہی کو حکم ہے۔ نورانی جسم والے انسان آنحضرتﷺ کا حکم ماننے پر مجبور و مکلف نہیں ہیں۔ نہیں ایسا نہیں بلکہ صرف اہل زمین ہی پر اتباع نبویﷺ واجب ہے۔ حج، زکوٰۃ، نماز، روزہ صرف اہل زمین ہی کے لئے فرض ہوتے ہیں۔ پس اتباع محمدی کے لئے زمینی زندگی کی ضرورت ہے۔ اس سے حضرت موسیٰ علیہ السلام وعیسیٰ علیہ السلام دونوں محروم ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام تو بوجہ وفات اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام بوجہ رفع جسمانی الیٰ السماء لہٰذا حیین کے معنی یقینا زمینی زندگی لینے پڑیں گے۔ ورنہ امام کی کلام بالکل بے معنی ٹھہرے گی۔ جیسا کہ ناظرین پر ظاہر کیاجاچکا ہے۔ کیونکہ امام ابن قیم نے حضرت عیسیٰ ابن مریم کو اتباع محمدی کا مکلف نزول کے بعد ٹھہرایا ہے۔
    ۳… چونکہ امام نے اتباع کو حیی کے ساتھ مشروط ٹھہرایا ہے اور پھر خود ہی فرماتے ہیں کہ نازل ہوکر اتباع محمدی کریں گے تو ماننا پڑے گا کہ نزول سے پہلے وہ مردہ تھے۔ نزول کے وقت وہ زندہ ہو جائیں گے۔ ہم تو اس کو بھی قدرت باری کا ایک ادنیٰ کرشمہ سمجھتے ہیں۔ لیکن یہ بات قادیانی خود قبول نہیں کریں گے۔ دوسرے خود امام کی اپنی مراد کے خلاف ہے۔ کیونکہ خود اسی عبارت میں اور دیگر جگہوں میں وہ حیات عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ فرض قرار دے رہے ہیں۔ جیسا کہ ہم نقل کر چکے ہیں۔ پس کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ ہم امام کی کلام کا مفہوم خود ان کے اپنے بیان کردہ عقیدہ کے خلاف لے لیں۔
    ۴… اگر مرزائی حضرات حیی کے معنی زندہ لینے میں اس بات پر اصرار کریں گے کہ اس سے مراد ہر جگہ کی زندگی ہے تو اس سے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور تمام انبیاء علیہم السلام کا آسمان پر مردہ ہونا ماننا پڑے گا۔ کیونکہ جس دلیل سے مرزائی حضرات عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی کا انکار کریں گے۔ اسی سے دیگر حضرات کی آسمانی زندگی کا انکار لازم آئے گا۔
    ۵… مرزاقادیانی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں:
    ’’معراج کی رات میں آنحضرتﷺ نے تمام نبیوں کو برابر زندہ پایا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حضرت یحییٰ علیہ السلام کے ساتھ بیٹھا ہوا دیکھا۔‘‘
    (آئینہ کمالات اسلام (قیامت کی نشانی) ص۶۱۱، خزائن ج۵ ص۶۱۱)
    کیا ہم قادیانی طرز استدلال کو اختیار کر کے تمام انبیاء علیہم السلام کے حیی (زندہ) ہونے پر اس عبارت کو بطور دلیل پیش نہیں کر سکتے۔ جب اس عبارت سے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات ثابت ہوچکی تو اب امام ابن قیمؒ کے قول کو پڑھئے: ’’لوکان موسیٰ وعیسیٰ حیین‘‘ اگر موسیٰ علیہ السلام وعیسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے۔ ’’لکانا من اتباعہ‘‘ تو وہ ضرور آپ کے تابعداروں میں سے ہوتے۔ پس ہم کہتے ہیں کہ چونکہ امام موصوف نے اتباع شرح محمدی کی جو شرط حضرت موسیٰ علیہ السلام وعیسیٰ علیہ السلام کے لئے لگائی ہے۔ وہ ان میں بدرجہ اتم پائی گئی ہے۔ لہٰذا وہ ضرور آسمان پر حضرت رسول کریمﷺ کا ممکن اتباع کر رہے ہیں۔
    ۶… مرزاقادیانی نے جو قول نقل کیا ہے۔ اس کے معنی تو زیادہ سے زیادہ یہی ہیں کہ:
    ’’اگر موسیٰ علیہ السلام وعیسیٰ علیہ السلام دونوں زندہ ہوتے تو آج رسول کریمﷺ کا اتباع کرتے۔‘‘
    اس سے مرزائی صاحبان نتیجہ نکالتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مرچکے ہیں۔ حالانکہ یہ نتیجہ ضرور نہیں ہے بلکہ اس میں رسول کریمﷺ کے اتباع کو حضرت موسیٰ علیہ السلام وعیسیٰ علیہ السلام کے لئے واجب قرار دیا جارہا ہے۔ ہاں اس وجوب کو ان دونوں کی حیات کے ساتھ مشروط کر دیا گیا ہے۔ چونکہ قادیانیوں کے نزدیک حضرت موسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ موجود ہیں اور ہمارے نزدیک حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ موجود ہیں۔ پس اگر اس قول سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت کا ثبوت ملتا ہے تو یقینا حضرت موسیٰ علیہ السلام کی موت بھی ماننی پڑے گی اور اس کے بعد مرزاقادیانی ان کی حیات کو اپنا ضروری عقیدہ قرار نہیں دے سکتے۔ جیسا کہ لکھتے ہیں: ’’یہ وہی مرد خدا ہے جس کی نسبت قرآن شریف میں اشارہ ہے کہ وہ زندہ ہے اور ہم پر فرض ہوگیا کہ ہم اس بات پر ایمان لائیں کہ وہ آسمان میں زندہ موجود ہے۔ ’’ولم یمت ولیس من المیتین‘‘ وہ مردوں میں سے نہیں۔‘‘
    (نور الحق حصہ اوّل ص۵۰، خزائن ج۸ ص۶۹)
    جو جواب قادیانی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی موت کے خلاف دیں گے وہی ہماری طرف سے سمجھ لیں۔
  6. ‏ جولائی 1, 2015 #116
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    عقیدہ حیات عیسیؑ اور مجددین امت (امام ابن حزمؒ کا عقیدہ)

    عظمت شان
    ۱… مرزاغلام احمد قادیانی نے اپنی کتاب میں رئیس المکاشفین حضرت محی الدین ابن عربیؒ کی ایک عبارت نقل کی ہے اور خود ہی اس کا ترجمہ بھی کیا ہے۔ بنظر اختصار ہم مرزاقادیانی کا کیا ہوا ترجمہ یہاں لفظ بلفظ نقل کرتے ہیں۔
    ’’نہایت درجہ کا اتصال یہ ہے کہ ایک چیز بعینہ وہ چیز ہو جائے۔ جس میں وہ ظاہر ہو اور خود نظر نہ آئے۔ جیسا کہ میں نے خواب میں آنحضرتﷺ کو دیکھا کہ آپ نے ابو محمد ابن حزمؒ محدث سے معانقہ کیا۔ پس ایک دوسرے میں غائب ہوگیا۔ بجز رسول اﷲﷺ کے نظر نہ آیا۔‘‘
    (فتوحات مکیہ باب۱۲۳، بحوالہ ازالہ اوہام ص۲۶۲، خزائن ج۳ ص۲۳۲)
    ۲… مرزاقادیانی ایک دوسری جگہ لکھتے ہیں:
    ’’امام ابن حزمؒ اور امام مالکؒ بھی موت عیسیٰ علیہ السلام کے قائل ہیں اور ان کا قائل ہونا گویا امت کے تمام اکابر کا قائل ہونا ہے۔ کیونکہ اس زمانہ کے اکابر امت سے مخالفت منقول نہیں۔‘‘
    (ایام الصلح ص۳۹، خزائن ج۱۴ ص۲۶۹)
    معزز ناظرین! امام مالکؒ کے متعلق تو میں پیچھے ثابت کر آیا ہوں کہ وہ بھی حیات عیسیٰ علیہ السلام کے قائل ہیں اور اسی عیسیٰ ابن مریم بنی اسرائیل نبی کے دوبارہ آنے کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ امام ابن حزمؒ کے متعلق مرزاقادیانی نے جو جھوٹ سے کام لیا ہے۔ اس کی حقیقت ابھی آپ کے سامنے آجاتی ہے۔ مگر بہرحال مرزاقادیانی کے بیانات سے اتنا تو ثابت ہوگیا کہ امام ابن حزمؒ کا مرتبہ اس قدر بلند ہے کہ رسول کریمﷺ کے ساتھ اتحاد کلی کے سبب ان کی اپنی علیحدہ ہستی نہ رہی تھی اور ہر مسئلہ میں ان کا قول قول فیصل کا حکم رکھتا ہے۔ اب حیات مسیح علیہ السلام کے متعلق ان کے اقوال ملاحظہ کیجئے۔
    امام ابن حزمؒ کے اقوال

    ۱… ’’وقولہ تعالیٰ وما قتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لہم انما ہو اخبار عن الذین یقولون تقلیداً لا سلافہم من النصاریٰ والیہود انہ علیہ السلام قتل وصلب فہؤلا شبہ لہم القول ای ادخلوا فی شبہۃ منہ وکان المشبہون لہم شیوخ السوء فی ذالک الوقت وشرطہم المدعون انہم قتلوہ وما صلبوہ وہم یعلمون انہ لم یکن ذالک وانما اخذوا من امکنہم وقتلوہ وصلبوہ فی استتار ومنع من حضور الناس ثم انزلوہ ودفنوہ تمویہا علی العامۃ التی شبہ الخبرلہا‘‘
    ترجمہ کا ملخص یہ کہ کوئی دوسرا شخص حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جگہ قتل کیاگیا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام قتل اور صلیب سے بالکل بچا لئے گئے۔
    (الملل والنحل لا بن حزم ج۱ ص۷۷)
    ۲… ’’انہ (ای نبیﷺ) اخبر انہ لا نبی بعدہ الا ماجاء ت الاخبار الصحاح من نزول عیسیٰ علیہ السلام الذی بعث الی بنی اسرائیل وادعی الیہود قتلہ وصلبہ فوجب الا قرار بہذا الجملۃ‘‘
    (کتاب الفصل فی الملل والنحل ج۱ ص۹۵)
    ’’آنحضرتﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میرے بعد کوئی نبی بھی نہیں ہوگا۔ بجز اس ہستی کے جس کا آنا صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام جو بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہوئے اور یہود نے ان کے قتل اور سولی پر چڑھانے کا دعویٰ کیا۔ پس اس حدیث کا اعتراف بھی ضروری ہے۔‘‘
    ۳… ’’واما من قال ان اﷲ عزوجل ہو فلان انسان بعینہ او ان اﷲ تعالیٰ یحل فی جسم من اجسام خلقہ او ان بعد محمدﷺ نبینا غیر عیسیٰ ابن مریم فانہ لا یختلف اثنن فی تکفیرہ لصحۃ قیام الحجۃ‘‘
    (الملل والنحل لابن حزمؒ ج۲ ص۲۶۹)
    ’’اور جس شخص نے کہا کہ اﷲتعالیٰ فلاں انسان ہے یا یہ کہا کہ اﷲتعالیٰ اپنی مخلوق کے جسم میں حلول کر جاتا ہے یا یہ کہا آنحضرتﷺ کے بعد عیسیٰ ابن مریم کے سوا اور نبی ہوگا۔ تواس اس کے کافر ہونے میں کسی کو اختلاف نہیں۔‘‘ ناظرین! امام ابن حزمؒ کے مرتبہ وعظمت کا خیال کریں اور پھر ان اقوال سے حیات عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم کا ثبوت ملاحظہ کریں۔ اس کے بعد مرزاقادیانی نے جو امام موصوف پر افتراء باندھا اس کی حقیقت کا خود اندازہ لگائیں۔ کیا اس کے بعد مرزاقادیانی پر ہم ایک معمولی انسان جیسا بھی اعتماد کر سکتے ہیں۔
  7. ‏ جولائی 1, 2015 #117
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    عقیدہ حیات عیسیؑ اور مجددین امت (امام عبدالوہاب شعرانیؒ کا عقیدہ)

    عظمت شان
    ۱… ’’مرزاقادیانی نے امام عبدالوہاب شعرانیؒ کو ان لوگوں میں شمار کیا ہے۔ جو محدث اور صوفی ہونے کے علاوہ معرفت کامل اور تفقہہ تام کے رنگ سے رنگین تھے۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۱۴۹، خزائن ج۳ ص۱۷۶)
    ۲… مرزاقادیانی امام شعرانیؒ کے مرتبہ کے اس قدر قائل تھے کہ انہیں صرف امام صاحب کے نام سے یاد فرماتے تھے۔
    (ازالہ اوہام ص۱۵۰،۱۵۱، خزائن ج۳ ص۱۷۶)
    اب ہم اس مرتبہ کے بزرگ کی کلام حیات عیسیٰ علیہ السلام کے ثبوت میں پیش کرتے ہیں۔ عبارت چونکہ بہت طویل ہے۔ ہم صرف اس کے اردو ترجمہ پر اکتفاء کرتے ہیں۔ شائقین حضرات عربی عبارت کے لئے اصل کی طرف رجوع کریں۔ امام موصوف فرماتے ہیں۔
    ’’اگر تو سوال کرے کہ جب عیسیٰ علیہ السلام آئے گا تو وہ کب مرے گا؟ تو جواب اس کا یہ ہے کہ جب دجال کو قتل کر چکیں گے تب فوت ہوں گے۔ اسی طرح شیخ اکبر نے فتوحات کے باب ۳۶۹ میں لکھا ہے۔ اگر تو سوال کرے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول پر کیا دلیل ہے۔ تو جواب یہ ہے کہ ان کے نزول پر دلیل اﷲ تعالیٰ کا یہ قول ہے۔ ’’وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ‘‘ یعنی جس وقت نازل ہوگا اور لوگ اس پر اکٹھے ہوں گے اور معتزلہ اور فلاسفر اور یہود اور نصاریٰ جو عیسیٰ علیہ السلام کے جسم کے ساتھ آسمان پر جانے کے منکر ہیں۔ اس وقت یہ سب لوگ ایمان لائیں گے اور اﷲتعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فرمایا۔ ’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘ (اور عیسیٰ علیہ السلام البتہ قیامت کی نشانی ہے) اور قرآن کے لفظ علم کو عین اور لام کی زبر کے ساتھ پڑھا گیا ہے اور ’’انہ‘‘ میں جو ضمیر ہے وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف پھرتی ہے۔ چونکہ اﷲتعالیٰ کا قول ہے۔ ’’ولما ضرب بن مریم مثلاً‘‘ اور اس کے معنی یہ ہیں کہ تحقیق مسیح علیہ السلام کا نازل ہونا قیامت کی نشانی ہے اور حدیث میں آیا ہے کہ لوگ نماز میں ہوں گے کہ ناگہاں اﷲتعالیٰ بھیجے گا۔ حضرت مسیح ابن مریم کو وہ اتریں گے دمشق کی مشرقی طرف سفید منارہ کے پاس حضرت مسیح علیہ السلام نے زرد رنگ کی دو چادریں پہنی ہوں گی۔ دو فرشتوں کے بازوؤں پر اپنے ہاتھ رکھے ہوں گے۔ پس حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کا نازل ہونا کتاب وسنت کے ساتھ ثابت ہوگیا۔ حق یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اپنے جسم کے ساتھ آسمان کی طرف اٹھائے گئے ہیں اور اس کے ساتھ ایمان لانا واجب ہے۔ اﷲتعالیٰ نے فرمایا ہے۔ ’’بل رفعہ اﷲ الیہ‘‘ (بلکہ اﷲ نے اس کو اپنی طرف اٹھا لیا) حضرت ابوطاہر قزوینیؒ نے کہا جان کہ عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان میں جانے کی کیفیت اور اس کے اترنے اور آسمان میں ٹھہرنے کی کیفیت اور کھانے پینے کے سوا اس قدر عرصہ تک ٹھہرنا، یہ اس قبیل سے ہے کہ عقل اس کے جاننے سے قاصر ہے اور ہمارے لئے اس میں بجز اس کے کوئی راستہ نہیں کہ ہم اس کے ساتھ ایمان لائیں اور اﷲ کی اس قدرت کو تسلیم کریں۔ پس اگر کوئی سوال کرے کہ اس قدر عرصہ تک کھانے پینے سے بے پرواہ ہوکر رہنا یہ کس طرح ہوسکتا ہے۔ حالانکہ اﷲتعالیٰ فرماتا ہے۔ ’’وما جعلنا ہم جسد الا یاکلون الطعام‘‘ یعنی ہم نے نبیوں کا ایسا جسم نہیں بنایا جو کھانے پینے سے مستغنی ہو۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ طعام کھانا اس شخص کے لئے ضروری ہے جو زمین میں ہے۔ کیونکہ اس پر گرم وسرد ہوا غالب ہے۔ اس لئے اس کا کھاناپینا تحلیل ہو جاتا ہے۔ جب پہلی غذا ہضم ہو جاتی ہے تو اﷲتعالیٰ اس کو اور غذا اس کے بدلے میں عنایت کرتا ہے۔ کیونکہ اس دنیا غبار آلود میں اﷲ کی یہی عادت ہے۔ لیکن جس شخص کو اﷲ آسمان کی طرف اٹھا لے۔ اﷲ اس کے جسم کو اپنی قدرت سے لطیف اور نازل کر دیتا ہے اور اس کو کھانے اور پینے سے ایسا بے پرواہ کر دیتا ہے۔ جیسا کہ اس نے فرشتوں کو ان سے بے پرواہ کردیا ہے۔ پس اس وقت اس کا کھانا تسبیح ہوگا اور اس کا پینا تہلیل ہوگا۔ جیسا کہ آنحضرتﷺ نے اس سوال کے جواب میں فرمایا۔ جب کہ آپ سے
    پوچھا گیا کہ کیوں یا رسول اﷲﷺ آپ کھانے پینے کے بغیر پے در پے روزے رکھتے ہیں اور ہم لوگوں کو اجازت نہیں دیتے تو آپؐ نے فرمایا کہ میں اپنے رب کے پاس رات گزارتا ہوں۔ میرا رب مجھ کو کھانا دیتا ہے اور پانی پلاتا ہے اور مرفوع حدیث میں ہے کہ دجال کے پہلے تین سال قحط کے ہوں گے۔ پہلے سال میں آسمان تیسرا حصہ بارش کم کر دے گا اور زمین تیسرا حصہ زراعت کا کم کر دے گی اور دوسرے سال میں دو حصے بارش کے کم ہو جائیں گے اور دو حصے زراعت کے کم ہو جائیں گے اور تیسرے سال میں بارش بالکل بند ہو جائے گی۔ پس اسماء بنت زیدؓ نے عرض کی یار سول اﷲﷺ اب تو ہم آٹا گوندھنے سے پکنے تک صبر نہیں کر سکتے۔ اس دن کیا کریں گے۔ فرمایا جو چیز اہل آسمان کو کفایت کرتی ہے یعنی اﷲ کی تسبیح اور تقدیس کرنا، وہی چیز اہل ایمان کو کافی ہوگی۔ شیخ ابوطاہرؒ نے فرمایا ہے۔ ایک شخص نامی خلیفہ فراط کو ہم نے دیکھا ہے کہ وہ شہر الیہر میں (جو مشرقی بلاد سے ہے) مقیم تھا۔ اس نے ۲۳سال تک کچھ نہیں کھایا اور دن رات اﷲ کی عبادت میں مشغول رہا تھا اور اس سے اس میں کچھ ضعف نہیں آیا تھا۔ پس جب یہ بات ممکن ہے تو عیسیٰ علیہ السلام کے لئے آسمانوں میں تسبیح وتہلیل کی غذا ہو تو کیا بعید ہے اور ان باتوں کا اﷲ ہی اعلم ہے۔‘‘
    مندرجہ بالا عبارت سے یہ امر روز روشن کی طرح ثابت ہوتا ہے کہ حضرت امام عبدالوہاب شعرانیؒ وفات مسیح کے قائل نہ تھے۔ بلکہ برعکس حیات مسیح کے قائل تھے۔ چنانچہ ان کے یہ الفاظ قابل غور ہیں۔
    ’’حق یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اپنے جسم کے ساتھ آسمان کی طرف اٹھائے گئے ہیں اور اس کے ساتھ ایمان لانا واجب ہے۔‘‘
    (الیواقیت والجواہر مصنفہ امام شعرانی ج۲ ص۱۴۶، بحث۶۵)
    معزز قارئین! غور فرمائیں کس طرح مرزائیوں کے مسلم امام فقیہ، محدث اور صوفی مرزائی جماعت کے دلائل وفات مسیح کا تجزیہ کر رہے ہیں۔ مرزائیوں کے تمام دلائل وفات مسیح علیہ السلام اور حیات مسیح علیہ السلام پر ان کے اعتراضات ایک طرف رکھے جائیں تو بھی امام شعرانی کی کلام ان سب کی تردید کے لئے کافی ہے۔
  8. ‏ جولائی 1, 2015 #118
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    عقیدہ حیات عیسیؑ اور مجددین امت (حضرت شیخ محی الدین ابن عربی قدس سرہ العزیز کا عقیدہ)

    عظمت شان
    مرزاقادیانی نے شیخ ابن عربی کی اپنی عبارت کا ترجمہ ازالہ اوہام میں درج کیا ہے۔
    ۱… ’’جب اہل ولایت کو کسی واقعہ میں حدیث کی حاجت پڑتی ہے تو وہ آنحضرتﷺ کی زیارت سے مشرف ہوجاتا ہے۔ پھر جبرائیل علیہ السلام نازل ہوتے ہیں اور آنحضرت جبرائیل علیہ السلام سے وہ مسئلہ جس کی دل کو حاجت ہوتی ہے۔ پوچھ کر اس ولی کو بتادیتے ہیں۔ یعنی ظلی طور پر وہ مسئلہ نزول جبرائیلی علیہ السلام منکشف ہو جاتا ہے۔ پھر شیخ ابن عربی نے فرمایا ہے کہ ہم اس طریق سے آنحضرتﷺ سے احادیث کی تصحیح کرالیتے ہیں۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۱۵۱،۱۵۲، خزائن ج۳ ص۱۷۷)
    ۲… ’’شیخ ابن عربی صاحب فتوحات مکیہ بڑے محقق اور فاضل ہونے کے علاوہ اہل زبان بھی تھے۔‘‘
    (آئینہ کمالات اسلام ص۱۶۷، خزائن ج۵ ص ایضاً)
    اس مرتبہ والے شیخ قدس سرہ کے اقوال ہم ناظرین کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔
    ۱… ’’فاستفتح جبرائیل السماء الثانیۃ کما فعل فی الاولیٰ فلما دخل اذا بعیسیٰ علیہ السلام بجسدہ عینہ فانہ لم یمت الی الاٰن بل رفعہ اﷲ الی ہذہ السماء واسکنہ بہا‘‘
    (فتوحات مکیہ ج۳ ص۳۴۱، باب ۳۶۷)
    ’’پس کھولا جبرائیل علیہ السلام نے دوسرا آسمان جس طرح کھولا تھا پہلا۔ پس جب رسول کریمﷺ (دوسرے آسمان میں) داخل ہوئے تو اچانک حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم کو پایا کہ اپنے جسم عنصری کے ساتھ موجود تھے۔ عیسیٰ علیہ السلام ابھی تک فوت نہیں ہوئے۔ بلکہ اﷲتعالیٰ نے ان کو اس آسمان پر اٹھا لیا اور ان کو وہیں رکھا ہوا ہے۔‘‘
    ۲… ’’انہ لا خلاف انہ ینزل فی آخر الزمان‘‘
    (فتوحات مکیہ ج۲ ص۳، باب ۷۳)
    ’’اس بارہ میں کسی کا اختلاف نہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قرب قیامت میں نازل ہوں گے۔‘‘
    نوٹ: اس عبارت سے پہلے شیخ قدس سرہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات ہی کا ذکر کر رہے ہیں۔ ابوعبیدہ!
    ۳… ’’ثم ان عیسیٰ اذا نزل الی الارض فی آخر الزمان‘‘
    (فتوحات مکیہ ج۳ ص۵۱۴، باب ۳۸۲)
    پھر آخری زمانہ میں عیسیٰ علیہ السلام زمین پر نزول فرمائیں گے۔
    ۴… ’’لابد ان ینزل فی ہذہ الامۃ فی آخرالزمان ویحکم بسنۃ محمدﷺ مثل ما حکم الخلافا المہدییون الراشدون فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر ویدخل بدخولہ من اہل الکتاب فی الاسلام خلقا کثیر‘‘
    (فتوحات مکیہ ج۲ ص۱۲۵، باب ۷۳، سوال۱۴۵)
    ’’پکی بات ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آخر زمانہ میں امت محمدیہ ﷺ میں نازل ہوں گے۔ حضورﷺ کی شریعت کے مطابق حکم کریں گے۔ جیسے ہدایت یافتہ راشدین خلفاء کرتے رہے۔ عیسیٰ علیہ السلام صلیب کو توڑنے خنزیر کو قتل کرنے کا حکم فرمائیں گے اور اہل کتاب کی خلق کثیر اسلام میں داخل ہوجائے گی۔‘‘
    ۵… ناظرین! کتاب ہذا کے گذشتہ صفحات کا دوبارہ مطالعہ کریں اور شیخ قدس سرہ کی روایت کردہ صحیح حدیث سے حیات عیسیٰ علیہ السلام پر صحابہ کرامؓ کے اجماع کا فیصلہ کن ثبوت ملاحظہ کریں۔

    پہلی حدیث
    دوسری حدیث
  9. ‏ جولائی 1, 2015 #119
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    عقیدہ حیات عیسیؑ اور مجددین امت (حافظ ابن حجر عسقلانیؒ کا عقیدہ)

    عظمت شان
    حافظ ابن حجر عسقلانیؒ آٹھویں صدی ہجری کے مجدد اعظم تھے۔ قادیانیوں نے ان کے مجدد ہونے پر اپنی کتاب (عسل مصفی ج۱ ص۱۶۴) پر مہر تصدیق ثبت کی۔
    حیات عیسیٰ علیہ السلام کے ثبوت میں ابن حجر عسقلانیؒ کے اقوال

    ۱… ہم حافظ ابن حجر عسقلانیؒ کے الفاظ میں بخاری شریف کی ایک حدیث کی شرح درج کر آئے ہیں۔ جس میں حیات عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت ابن حجر عسقلانیؒ نے جرالامت حضرت ابن عباسؓ اور دیگر صحابہ کرام سے دے کر اہل سنت والجماعت کے عقیدہ پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔
    ۲… ہم ایک اور حدیث درج کر آئے ہیں جو حیات عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ ضروری قرار دیتی ہے اور جس کی صحت پر ان حجر نے فتح الباری میں مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔
    ۳… ’’واما رفع عیسیٰ علیہ السلام فاتفق اصحاب الاخبار والتفسیر علی انہ رفع ببدنہ حیا وانما اختلفوا ہل مات قبل ان یرفع اونام فرفع‘‘

    (تلخیص الحبیر ج۳ ص۴۶۲، کتاب الطلاق)
    ’’عیسیٰ علیہ السلام کے اٹھائے جانے کے بارہ میں محدثین اور مفسرین امت کا اجماع ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ جسم عنصری کے ساتھ اٹھائے گئے تھے۔ اگر کسی نے اختلاف کیا ہے تو اس بارہ میں کہ وہ رفع جسمانی سے پہلے فوت ہوئے تھے یا سوگئے تھے۔‘‘
    ۴… ’’ان عیسیٰ ایضاً قد رفع وھو حیی علی الصحیح‘‘

    (فتح الباری ج۶ ص۲۶۷، باب ذکر ادریس علیہ السلام)
    ’’بے شک عیسیٰ علیہ السلام بھی حضرت ادریس علیہ السلام کی طرح اٹھائے گئے اور صحیح یہی ہے کہ وہ زندہ ہیں۔‘‘
    ۵… ’’کیف انتم اذ نزل ابن مریم وامامکم منکم۰ وعند مسلم فیقال لہم (ای للعیسیٰ) صل لنا فیقول لا ان بعضکم علیٰ بعض امراء تکرمۃ لہذہ الامۃ‘‘

    (فتح الباری ج۶ ص۳۵۸)
    نیز اسی صفحہ پر ہے کہ:
    ’’بان المہدی بہذہ لامۃ وان عیسیٰ یصلی خلفہ‘‘

    (فتح الباری ج۶ ص۳۵۸)
    حدیث بخاری شریف ’’کیف انتم اذا نزل ابن مریم وامامکم منکم‘‘ کی اسلامی تشریح پر مہر تصدیق ثبت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ امام مہدی حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے کہیں گے کہ ہمیں نماز پڑھائیے اور وہ عذر کریں گے… مسیح علیہ السلام مہدی کے پیچھے اقتداء کریں گے۔
    ۶… ’’ینزل عیسیٰ ابن مریم مصدقاً بمحمدﷺ علی ملتہ‘‘
    (فتح الباری ج۶ ص۳۵۶)
    ’’عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم نازل ہوں گے درآنحالیکہ وہ تصدیق کرنے والے ہوں گے۔ رسول کریمﷺ کی اور آنحضرتﷺ کی ملت پر ہوں گے۔‘‘
  10. ‏ جولائی 1, 2015 #120
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    عقیدہ حیات عیسیؑ اور مجددین امت (امام جلال الدین سیوطیؒ کا عقیدہ)

    عظمت شان:
    ۱…قادیانی امت نے امام موصوف کو نویں صدی ہجری کا امام الزمان اور مجدد تسلیم کر لیا ہے۔ ملاحظہ کیجئے۔
    (عسل مصفی ج۱ ص۱۶۴)
    ۲… امام جلال الدین سیوطیؒ کے متعلق ہم مرزاقادیانی کا عقیدہ ازالہ اوہام سے درج کرتے ہیں۔ ’’پھر امام شعرانی صاحب نے ان لوگوں کے نام لئے ہیں۔ جن میں سے ایک امام محدث جلال الدین سیوطی بھی ہیں… (امام جلال الدین صاحب فرماتے ہیں) کہ میں آنحضرتﷺ کی خدمت میں تصحیح احادیث کے لئے جن کو محدثین ضعیف کہتے ہیں۔ حاضر ہوا ہوں۔ چنانچہ اس وقت تک ۷۵دفعہ حالت بیداری میں حاضر خدمت ہوچکا ہوں۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۱۵۱، خزائن ج۳ ص۱۷۷)
    اس قدر بلند مرتبہ رکھنے والے مجدد کے اقوال کا اعتماد واعتبار تو یقینا قادیانی جماعت کے نزدیک مسلم ہے۔ پس ہم ان کی کتابوں سے حیات مسیح علیہ السلام پر مہر تصدیق ثبت کراتے ہیں۔
    ۱… ہم امام موصوف کی تفسیر دربارہ آیت ’’ومکروا ومکراﷲ‘‘ درج کر آئے ہیں۔ جس میں امام موصوف فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ایک دشمن کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شبیہ دی گئی اور وہی قتل ہوا۔
    ۲… ہم امام صاحب کی تفسیر دربارہ ’’انی متوفیک ورافعک الیّٰ‘‘ درج کر آئے ہیں۔ جس میں امام صاحب ’’متوفیک‘‘ کے معنی ’’میں تجھ پر قبضہ کرنے والا ہوں‘‘ کرتے ہیں اور ’’رافعک الیّٰ‘‘ کے معنی کرتے ہیں۔ ’’دنیا سے بغیر موت کے اٹھانے والا ہوں۔‘‘ اور ’’مطہرک‘‘ کے معنی کرتے ہیں: ’’الگ کرنے والا ہوں کفار ویہود سے۔‘‘
    ۳… ہم آیت کریمہ ’’وما قتلوہ وما صلبوہ‘‘ کی تفسیر از امام جلال الدین درج کر آئے ہیں۔ جس میں امام صاحب فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شبیہ اس کافر یہودی پر ڈال دی گئی جو انہیں گرفتار کرانے گیا تھا۔ یہودیوں نے اسی کو عیسیٰ علیہ السلام سمجھ کر قتل کر دیا اور پھانسی پر لٹکا دیا۔ عیسیٰ علیہ السلام کو خدا نے آسمان پراٹھا لیا۔
    ۴… حدیث معراج مذکور ہے۔ اس کی صحت ماننے والوں میں سے امام صاحب بھی ہیں۔ اس حدیث میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ دنیا میں نازل ہوکر دجال کے قتل کا وعدہ کر رہے ہیں۔
    ۵… ہم نے آیت ’’اذ… تکلم الناس فی المہد وکھلا‘‘ درج کی ہے۔ اس کی تفسیر میں کہلا کے متعلق امام صاحب فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرب قیامت میں نازل ہوکر پھر ’’کھل‘‘ ہوں گے اور ہزارہا سال کے بعد کہولت کی حالت میں کلام کریں گے۔
    امام موصوف کے اقوال دربارہ حیات مسیح علیہ السلام بے شمار ہیں۔ جس قدر مجھے مل سکے ہیں کچھ اوپر بیان کر چکا ہوں اور بقیہ آپ مندرجہ ذیل ملاحظہ فرمائیں۔
    امام جلال الدین سیوطیؒ اپنی تفسیر میں حضرت امام محمد بن علیؓ بن بابی طالب کا قول نقل کرتے ہیں۔
    ’’ان عیسیٰ لم یمت وانہ رفع الی السماء وھو نازل قبل ان تقوم الساعۃ‘‘
    (تفسیر درمنثور ج۲ ص۳۶)
    ’’بالتحقیق عیسیٰ علیہ السلام فوت نہیں ہوئے اور تحقیق وہ اٹھائے گئے طرف آسمان کی اور نازل ہوںگے قیامت سے پہلے۔‘‘
    امام صاحب اپنی کتاب کتاب الاعلام میں فرماتے ہیں:
    ’’انہ یحکم بشرع نبینا لا بشرعہ کما نص علی ذالک العلماء ووردت بہ الاحادیث وانعقد علیہ الاجماع‘‘
    (الحاوی للفتاویٰ ج۲ ص۱۵۵)
    ’’عیسیٰ علیہ السلام ہمارے نبیﷺ کی شرع کے مطابق حکم کریں گے نہ کہ اپنی شرع سے جیسا کہ نص کیا اس پر علماء امت نے اور اس کی تاکید میں حدیثیں وارد ہوئی ہیں اور اس پر امت محمدی کا اجماع بھی قائم ہوچکا ہے۔‘‘
لڑی کی کیفیت :
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

اس صفحے کی تشہیر