1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

احتساب قادیانیت جلد اول مولانا حسین اختر رح کا مختصر تعارف

محمد منیب الرحمٰن نے 'احتساب قادیانیت جلد 1' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ دسمبر 28, 2016

  1. ‏ دسمبر 28, 2016 #1
    محمد منیب الرحمٰن

    محمد منیب الرحمٰن رکن ختم نبوت فورم

    احتساب قادیانیت جلد اول کا مختصر تعارف
    اسلام علیکم
    احتساب قادیانیت جلد اول میں مناظر اسلام قادیانیت کے چربہ سے آزاد حضرت مولانا لال حسین اختر رح کی داستان اور آپ کے رسائل و نایاب کتب پر مشتمل جلد ہے ۔ اس جلد میں مولانا رح کے چودہ رسائل اور مضامین شامل کیے گئے ہیں جو کہ آپ نے مختلف ادوار میں لکھے ۔
    ترک مرزائیت ۔ ختم نبوت اور بزرگان امت ۔ حضرت مسیح علیہ السلام مرزا قادیانی کی نظر میں ۔ حضرت خواجہ غلام فرید رح اور مرزا غلام احمد قادیانی ۔ مرکز اسلام مکہ مکرمہ میں قادیانیوں کی ریشہ دوانیاں ۔ سیرت مرزا ۔ عجائبات مرزا ۔ حمل مرزا ۔ آخری فیصلہ ۔ بکر و ثیب ۔ وفاقی وزیر قانون کی خدمت میں عرضداشت ۔ سقوط مشرقی پاکستان پر حمود الرحمن کمیشن میں تحریری بیان ۔ مسلمانوں کی نصبت قادیانیوں کا عقیدہ ۔ انگلستان میں مجلس تحفظ ختم نبوت کی کامیابی ۔
    مولانا حسین اختر پیدائشی مسلمان تھے ۔ ۱۹۱۴ میں جب دوسری جنگ عظیم شروع ہوئی ترکی نے جرمنی کا ساتھ دیا اور برطانیہ کے خلاف محاز آرائی کی ،۔ برطانیہ نے یہ اعلان کیا کہ اگر وہ جنگ جیت گئے تو مسلمانوں کے مقامات مدسہ کو نقصان نہ پہنچائیں گے ، امریکہ اور روس نے اس جنگ میں برطانیہ کا کی مدد کی اور بالاآخر جرمنی کو شکست ہوئی ۔ اس کے بعد امریکہ اور روس نے عراق اور فلسطین کے مقامات پر قبضہ کر لیا اور مقامات مقدسہ کی توہین کی ۔ اس وقت ملت اسلامیہ کی خلافت کا اعزاز سلطنت ترکی کو حاصل تھا اور عرب و جوار کے تمام ملک اس خلافت میں شامل تھے ۔ عرب شہزادے نے ترکی سے بغاوت کی اور عرب کو الگ ملک بنا لیا ۔ اس کے بعد ہندوستان میں حضرت مولانا محمود الحس ، حضرت مولانا ابوالکام آزاد ، مولانا احمد مدنی ، سید عطا اللہ شاہ بخاری اور دیگر اکابرین کی بدولت تحریک خلافت شروع ہوئی مارچ ۱۹۲۰ میں مفتیان کا ایک وفد لندن گیا اور وزیراعظم برطانیہ مسٹر لائیڈ جارج سے ملاقات کر کے انہیں مقامات مقدسہ کے بارے میں اپنا وعدہ یاد دلایا ۔ برطانیہ نے وفد کے فیصلہ کو مسترد کر دیا اور وفد ناکام واپس آگیا ۔

    آل انڈیا خلافت کمیٹی نے انگریز سے ترک موالات کی مقدس تحریک کا اغاز کیا ۔ جس کے مقاصد یہ تھے
    ۱۔ انگریزی فوج اور پولیس کی نوکری چھوڑ دی جائے ۔
    ۲۔ انگریزی حکومت کے دیے ہوئے خطابات واپس کیے جائیں ۔
    ۳۔ انگریزی درسگاہ سے طلبہ کو اٹھا لیا جائے ۔
    ۴۔ ولایتی مال کا بائیکاٹ کیا جائے ۔
    ۵۔ ہاتھ کا بنا ہوا کھدر پہنا جائے ۔
    ۶۔ انگریزی حکومت سے عدم تعاون کیا جائے اور اس کے خلاف نفرت پیدا کی جائے اور ہندوستان کی جیلیں بھر دی جائیں ۔


    اس دوران مولانا لال حسین اختر اورنٹیل کالج میں تعلیم حاصل کر رہے تھے تحریک خلافت شروع ہوئی اور علما کرام کے فتوی کے تحت کالج چھوڑ دیا اور تحریک خلافت میں شمولیت اختیار کر لی ۔ اس دوران تقاریر اور تبلیغ کی بنا پر حکومت کے خلاف بغاوت پھیلانے کی وجہ سے عید کے دن گرفتار کیا اور فرنگی جج کے سامنے کھڑا کر دیا ۔ جج نے کہا آپ کو بغاوت کی بنا پر ۱۴ سال قید ہوسکتی ہے ، مولانا فرمانے لگے

    ؁ یہ سب سوچ کر دل لگایا ہے ناصح
    نئی بات آپ کیا بتا رہے ہیں
    جج نے کہا کہ ااگر آپ اپنی تقریروں کے متعلق معزرت کر لیں تو مقدمہ واپس لے لیا جائے گا ۔ مولانا نے پھر فرمایا
    ؁ جلا دو پھونک دو سولی چھڑہا دو خوب سن رکھو

    صداقت چھٹ نہیں سکتی جب تک جان باقی ہے
    جیل کی قید میں مولانا کو آریا سماج کی ریشہ دوانیوں کا علم ہوا ۔ اور ایک سال بعد رہا ہو کر مولانا نے گرد و پیش کا جائزہ لیا اس وقت ، جمیعت علما ہند ، خلافت کمیٹی ، مدرسہ عالیہ دیوبند ، مدرسہ حنفی ، اہل حدیث اور شیعہ غرض کے ہر مکتب فکر کے علما آریہ سماج کے خلاف میدان میں نکل آئے ۔
    مولانا نے آریہ سماج سے متلعق لٹریچر کا مطالعہ کیا اور اس تحریک میں قدم رکھا اس دوران ۱۹۲۴ میں آپ کی ملاقات احمدیہ انجمن اشاعت لاہوری گروپ کے مبلغین سے ہوئی جنہوں نے آپ کو دعوت دی کہ اگر آپ ہمارے ساتھ رہتے ہیں تو ہم آپکو آریہ دھرم کے خلاف کام کرنا سکھائیں گے ۔مولانا نے فرمایا کہ امت مسلماں کے نذدیک آپ مسلمان نہیں کیونکہ مرزا صاحب کو آپ نبی مانتے ہیں تو لاہوری گروپ والے کہنے لگے کہ یہ قادیانیوں کی بدعات ہیں جنہوں نے مرزا صاحب کی تعلیم میں نبوت کا اضافہ کر دیا اور مولانا کو مرزا صاحب کی کتابوں سے مدعی نبوت کو کافر قرار دینے کی تعلیمات دکھائیں ۔ یوں مولانا اختر رح آریہ سماج کے رد کی خاطر امیر جماعت لاہوی مسٹر محمد علی کے ہاتھ پر بیعت کر کے اس پھندے میں پھنس گئے ،۔ مولانا کی تعلیم پر لاہوری گروپ نے اس وقت پچاس ہزار روپے خرچ کیے اس دوران آپ نے قرآن کی تفسیر ۔ بائیبل ، عیسائیت ، ویدک مذاہب اور سنسکرت کی تعلیم حاصل کی ۔ اور دہریوں عیسائیوں اور آریہ سماج کے خلاد کامیاب مناظرے بھی کئے ،
    ۷ سال کفر کے اندھیرے میں رہنے کے بعد آپ کو خواب میں مرزا قادیانی کا ایسا چہرہ نظر آیا جس کو وہ کسی مرزائی کے سامنے بیان نہ کر سکتے تھے آپ نے مرزائیت کا مطالعہ شروع کر دیا جوں جوں آپ مطالعہ شروع کرتے جاتے توں توں مرزائیت کا کذب و فریب آپ کو معلوم ہوتا جاتا ،
    بالا آخر ۷ مئی ۱۹۳۲ کو آپ نے اس اسلام کی چادر میں پناہ لینے کا فیصلہ کر لیا اور کامیاب ہوئے ۔
    یہ ایک شاندار اور بہت بڑا جلسہ تھا اور دور دور سے لوگ آئے سٹیج کے سامنے جماعت احمدیہ کے مربیان کی کرسیاں لگائی گئی ۔ تین گھنٹے کی اس تقریر کے بعد کسی مربی میں کوئی سوال کرنے کی ہمت نہ ہوئی ۔
    اس کے بعد مولانا کو لالچ دیا گیا اور قاتلانہ حملے ہوئے مرزائیوں نے کہا کہ آپ ہمارے سے پندرہ ہزار روپے لے لیں اور لکھ دیں کہ میں پندرہ سال تک احمدیت کے خلاف نہیں بولوں گا ، جس کو مولانا نے یہ ککہ کر مسترد کر دیا ۔
    ؁ مواحد پہ درپائے ریزی رزش
    خبر شمشر ندی نئی پر سرش
    اس کے بعد ڈیرہ بابا نانک پر آپ پر حملہ ہوا جس سے آپ اللہ کے فضل سے بچ گئے حملہ کرنے والے مرزائی نے کہا کہ ہم تمہیں قتل کر دیں گے خواہ ہمارے پچاس ہزار ہی خرچ کیوں نہ ہوں ۔
    آپ نے مرزائی لیڈر مرزا محمود کو چیلنج دیا کہ اگر یہ کھیل کھیلنا چاہتے ہو تو میں تمہیں کہتا ہوں کہ مرد میدان بنو ۔
    اس کے بعد مرزائیوں نے مولانا سے مناظرہ نہ کرنے کی اپنے تمام مربیوں کو نصیحت کر دی ۔ الفضل یکم جولائی ۱۹۰۵ ص ۴
    اس کے بعد مولانا صاحب نے دو خواب دیکھے ایک میں مرزا قادیانی کی شکل سور کی مانند دیکھی ، اور دوسرے میں مرزا قادیانی کو جہنم کی طرف جاتے دیکھا ۔
    مولانا لال حسین اختر رح کی پہلی کتاب ترک مرزائیت کا تعارف انشااللہ اگلی پوسٹ میں ۔

    احتساب قادیانیت گروپ ۔

اس صفحے کی تشہیر