1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

(احمدیوں نے الگ عرض داشت کیوں دی؟)

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جنوری 15, 2015

  1. ‏ جنوری 15, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (احمدیوں نے الگ عرض داشت کیوں دی؟)
    جناب یحییٰ بختیار: ہوں، دس سال کی بات ہے، تو وہاں وہ منیر صاحب کہتے ہیں کہ:
    1268"In connection with this part of the case. I cannot reframe from mentioning an extremely unfortunate circumstance. I have never understood why the Ahmadis submitted a separate representation. The need for such representation could arise only if the Ahmadis did not agree with the Muslim League's case-it self a regrettable possibility. Perhaps, they intended to reinforce the Muslim League's Case; but in doing so, they game the facts and figures for different parts of Gash Shankar, thus giving prominence to the fact that, in the areas between the river Bein and the river Basantar, the non-Muslims Constituted a majority and providing argument for the Contention that if the area between the rivers Ujh and Bein went to India. The area between the Bein river and Basantar river would automatically go to India. As it is, this area has remaind with us. But the stand taken by the Ahmadis did create considerable embarrassment for us in the case of Gurdaspur."
    (’’معاملے کے اس حصے کے متعلق میں ایک نہایت ہی ناخوش گوار واقعے کا ذِکر کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ مجھے یہ بات کبھی سمجھ نہیں آئی کہ احمدیوں نے الگ عرض داشت کیوں دی تھی؟ اس قسم کی عرض داشت کی ضرورت تبھی ہوسکتی تھی جب احمدی، مسلم لیگ کے نقطئہ نظر سے متفق نہ ہوتے، جو کہ بذاتِ خود ایک افسوسناک صورتِ حال ہوتی۔ ہوسکتا ہے کہ اس طرح احمدی مسلم لیگ کے نقطئہ نظر کی تائید کرنا چاہتے ہوں۔ مگر ایسا کرتے ہوئے انہوں نے گڑھ شنکر کے مختلف حصوں کے بارے میں اعداد وشمار دئیے، جن سے یہ بات نمایاں ہوئی کہ بین دریا اور بسنتر دریا کے مابین کا علاقہ غیرمسلم اکثریت کا علاقہ ہے، اور یہ بات اس تنازعے کی دلیل بنتی تھی کہ اگر آج دریا اوربین دریا کا درمیانی علاقہ ہندوستان کو دِیا جائے تو بین دریا اور بسنتر دریا کا درمیانی علاقہ خودبخود ہندوستان کو چلا جاتا ہے، جیسا کہ حقیقتِ حال ہے۔ یہ علاقہ ہمارے پاس رہا، مگر احمدیوں نے جو رویہ اِختیار کیا تھا، وہ ہمارے لئے گورداسپور کے بارے میں خاصا پریشان کن ثابت ہوا۔‘‘)
    آپ نے یہ فرمایا۔
    مرزا ناصر احمد: یہ اپنی کمیٹی کی رپورٹ میں نہیں لکھا انہوں نے۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں کہتا ہوں کہ ایک آرٹیکل انہوں نے ۱۹۶۴ء جون میں لکھا ہے اس کا میں کہہ رہا ہوں۔
    مرزا ناصر احمد: ہوں، سترہ سال بعد۔
    جناب یحییٰ بختیار: کافی عرصہ بعد، دس سال کے بعد۔
    مرزا ناصر احمد: سترہ سال بعد۔
    جناب یحییٰ بختیار: تو اس میں دراصل میں عرض کرنا چاہتا تھا کہ آپ نے مسلم لیگ سے آپ یہ کہتے ہیں کہ تعاون کیا، اور یہ ایک ایسا اسٹیج تھا کہ برٹش گورنمنٹ اور کانگریس بھی اس بات کو تسلیم کرچکی تھی کہ یہ واحد نمائندہ جماعت ہے مسلمانوں کی، مسلم لیگ ۔۔۔۱۹۴۶ئ،۱۹۴۷ء کی بات کر رہا ہوں ۔۔۔ واحد نمائندہ تھی، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر ایک مسلمان اس میں تھا ۔۔۔۔۔۔۔
    1269مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں۔

اس صفحے کی تشہیر