1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

اسلامی جہاد منسوخ، مگر مرزائی جہاد جائز

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ فروری 15, 2015

  1. ‏ فروری 15, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    اسلامی جہاد منسوخ، مگر مرزائی جہاد جائز
    ۴… یہ امر حیرت اور تعجب کا باعث ہے کہ ایک طرف تو قادیانیوں نے جہاد کو اتنی شدومد سے منسوخ اور حرام قرار دیا۔ مگر دوسری طرف انگریزوں کی فوج میں شامل ہوکر مسلمانوں کے ساتھ لڑنا نہ صرف ان کے لئے جائز بلکہ ضروری تھا۔ گویا ممانعت جہاد کی یہ ساری جدوجہد صرف انگریزوں اور کافروں کے ساتھ مسلمانوں کو جہاد سے روکنے کے لئے تھی کہ وہ نہ تو اپنی عزت وناموس اور نہ ملک وملت کی بقاء کے لئے لڑیں۔ نہ اپنے دین، اسلامی شعائر معاہد ومساجد کے لئے علم جہاد بلند کریں۔ لیکن انگریزی اقتدار کے فروغ وتحفظ کے لئے ان کی فوجوں میں شامل ہوکر بلاد اسلامیہ پر بمباری ایک مقدس فریضہ تھا۔ مرزامحمود احمد نے کہا:
    ’’صداقت کے قیام کے لئے گورنمنٹ کی فوج میں شامل ہوکر ان ظالمانہ روکوں کو دفع کرنے کے لئے گورنمنٹ کی مدد احمدیوں کا مذہبی فرض ہے۔‘‘

    (خطبہ مرزا محمود احمد الفضل مورخہ ۲؍مئی ۱۹۱۹ئ)
    قادیانی جماعت نے لارڈ ریڈنگ کو اپنے ایڈریس میں بھی اپنی جنگی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کابل سے جنگ میں ہماری جماعت نے علاوہ ہر قسم کی مدد کے ایک ڈبل کمپنی اور 2035ایک ہزار افراد کے نام بھرتی کے لئے پیش کئے اور ہمارے موجودہ امام کے چھوٹے بھائی چھ ماہ تک ٹرانسپورٹ کور میں رضاکارانہ کام کرتے رہے۔
    (الفضل مورخہ ۴؍جولائی ۱۹۳۱ئ)
    ایک اور خطبہ جمعہ میں مرزامحمود احمد نے کہا کہ: ’’شاید کابل کے ساتھ ہمیں کسی وقت جہاد ہی کرنا پڑتا (آگے چل کر کہا) کہ پس نہیں معلوم کہ ہمیں کب خدا کی طرف سے دنیا کا چارج سپرد کیا جاتا ہے۔ ہمیں اپنی طرف سے تیار رہنا چاہئے کہ دنیا کو سنبھال سکیں۔‘‘
    (الفضل مورخہ ۲۷؍فروری، ۲؍مارچ ۱۹۲۲ئ)
    امن وآشتی اور اسلامی نظریہ جہاد کو ملاؤں کے وحشیانہ اور جاہلانہ بیہودہ خیالات قرار دینے والے مرزائیوں کے حقیقی خدوخال مرزامحمود احمد خلیفہ ثانی کے ان الفاظ سے اور بھی عیاں ہوجاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ: ’’اب زمانہ بدل گیا ہے۔ دیکھو پہلے جو مسیح (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) آیا تھا اسے دشمنوں نے صلیب پر چڑھایا۔ مگر اب مسیح اس لئے آیا ہے کہ اپنے مخالفین کو موت کے گھاٹ اتار دے۔‘‘
    (عرفان الٰہی ص۹۳،۹۴)
    ’’پہلے عیسیٰ کو تو یہودیوں نے صلیب پر لٹکایا۔ مگر اب (مرزاغلام احمد)‘‘ اس زمانے کے یہودی صفت لوگوں کو سولی پر لٹکائیں گے۔‘‘
    (تقدیر الٰہی ص۲۹، مصنفہ مرزامحمود احمد)
    اس سے اندازہ ہوا کہ اسلام کے نظریہ جہاد کو منسوخ قرار دینے اور سارے عالم اسلام میں اس کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کے بعد اپنے لئے اور سامراجی مقاصد کے لئے جہاد اور قتال کو جائز قرار دینے کے لئے کیا کچھ نہیں کیا جارہا تھا۔ ان تمام باتوں کو سامنے رکھ کر ہم اس نتیجہ پر پہنچ جاتے ہیں کہ مرزائیوں کے نزدیک مسلمانوں کا کافروں یا خود ان کے خلاف لڑنا تو ہمیشہ کے لئے حرام تھا، مگر عیسائیت کے جھنڈے تلے یا کسی کافر حکومت کے مفاد میں یا خود مرزائیوں کے لئے جہاد اور قتال اور لڑنا لڑانا سب جائز ہے۔

اس صفحے کی تشہیر