1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

اصل اور نقل میں فرق واضح ہے

ذوالفقار احمد نے 'متفرق مقالات وتحاریر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ ستمبر 28, 2017

  1. ‏ ستمبر 28, 2017 #1
    ذوالفقار احمد

    ذوالفقار احمد رکن ختم نبوت فورم

    اصل اور نقل میں فرق واضح ہے
    اصل بات اور مرزا قادیانی کی تاویلات
    (پوسٹ کی سمجھ مکمل پڑھنے سے ہی آئے گی)
    (1) ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ قرآن پاک میں حضرت عیسٰی علیہ السلام کا نام مسیح ابنِ مریم اور عیسٰی ابنِ مریم کی تصریح کے ساتھ آیا ہے۔ قیامت کے نزدیک نازل ہونے والے مسیح کو بھی احادیث میں وہی عیسٰی ابنِ مریم یعنی مریم کا بیٹا عیسٰی کے صاف الفاظ سے متعارف کروایا گیا ہے۔
    مرزا قادیانی اپنے دعوے سے مسیح تو بن بیٹھا لیکن مریم کا بیٹا بن کے دکھانا مشکل ہو گیا مرزا قادیانی اپنی اس مشکل کو حل کرتے ہوئے لکھتا ہے:
    استعارے کے رنگ میں مجھے مریم بنایا گیا پھر مجھے حمل ہوا اور وہ پیدا ہونے والا بھی میں خود ہی تھا اس طرح میں عیسٰی ابنِ مریم ٹھہرا۔ (کشتی نوح روھانی خزائین 19/50)
    (2) مرزا قادیانی سے کہا گیا کہ امام مہدی فاطمی ہوں گے۔ تو مرزا قادیانی نے ایسی بکواسات لکھیں کہ اسے تحریر کرنے کو غیرت گوارا نہیں کرتی تاہم وہ بکواس مرزا قادیانی کی کتاب ایک غلطی کا ازالہ صفحہ 10 پر اب بھی موجود ہے۔
    (3) مرزا قادیانی کو جب مسلم شریف کی یہ حدیث دکھائی گئی کہ مسیح کا نزول دمشق میں ہو گا (مسلم شریف 2/401) تو مرزا نے کہا دمشق سے مراد قادیان ہے یہاں کے اکثر لوگ یزیدی الطبع ہیں (ازالہ اوہام روھانی خزائین 3/366)
    (4) مرزا قادیانی سے کہا گیا مسیح دجال کو قتل کریں گے تو مرزا نے کہ دیا دجال سے مراد پادریوں کا گروہ ہے۔ (ازالہ اہام روھانی خزائین 3/341) (ویسے آپس کی بات ہے مرزا نے پادریوں کا کون سا گروہ مارا۔؟)
    (5) مرزا قادیانی سے جب یہ کہا گیا حضرت عیسٰی علیہ السلام لُد کے مقام پر دجال کو قتل کریں گے (مسلم شریف 2/401) تو مرزا قادیانی نے کہہ دیا لُد سے مراد لدھیانہ ہے۔ (الہدٰی روھانی خزائین 18/341)
    (6) جب مرزا قادیانی سے کہا گیا کہ حضرت عیسٰی مردوں کو زندہ کرنے کے معجزات دکھاتے تھے تو مرزا قادیانی نے کہہ دیا: یاد رکھنا چاہیے یہ عمل کوئی ایسا قدر کے لائق نہیں جیسا کہ عوام الناس اس کو پسند کرتے ہیں اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابلِ نفرت نہ سمجھتا تو خدا تعالٰی کے فضل سے امید قوی رکھتا ہے کہ ان عجوبہ نمائیوں میں حضرت مسیح ابنِ مریم سے کم نہ رہتا (ازالہ اوہام روھانی خزائین 3/258)
    (7) حدیث شریف میں ہے کہ جب حضرت عیسٰی نازل ہوں گے تو دو فرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوں گے اور دو چادریں اوڑھی ہوں گی۔ اس کے جواب میں مرزا قایانی نے کہا: دو فرشتوں سے مراد دو قسم کے غیبی سہارے ہیں (حقیقتہ الوحی روھانی خزائین 22/321) اور دو چادروں سے مراد دو بیماریاں ہیں۔ ایک بدن کے اوپری حصہ میں اور دوسری بدن کے نیچے کے حصہ میں۔ مجھا اوپری حصہ میں دورانِ سر ہے اور نیچے کے حصہ میں کثرت پیشاب ہے اور دونوں مرضیں اسی زمانہ کی ہیں جب سے میں نے اپنا دعوٰی کر رکھا ہے۔ (حقیقتہ الوحی روھانی خزائین 22/320)
    (8) حدیث شریف میں ہے کہ اللہ پاک نے کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا جو خوبصوت نہ (شمائلِ ترمذی صفحہ 24) مگر مرزا قادیانی حسن و جمال سے عاری اور ایک آنکھ سے کانا تھا جس کا جی چاہے آج بھی مرزا قادیانی کی فوٹو دیکھ کر صورت حال کو سمجھ سکتا ہے۔ بلکہ حدیث پاک میں ایک آنکھ سے کانا ہونے کا حلیہ مسیح کا نہیں بلکہ دجال کا بیان ہوا ہے (بخاری شریف 3439 و مسلم شریف 7361)
    (9) جب مرزا قادیانی کو پتہ چلا کہ احادیث کی رو سے حضرت عیسٰی کا نزول سفید مینار کے پاس ہو گا۔ تو مرزا قادیانی نے اس طرح کا مینار خود آ کر قادیان میں تعمیر کروا لیا اور خانہ پُری مکمل کر لی۔
    (10) قرآن و حدیث میں دابۃ الارض یعنی زمین کے جانور کا ذکر ہے۔ لیکن مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ دابۃ الارض وہ علماء و واعظین ہیں جو آسمانی قوت اپنے اندر نہیں رکھتے ابتدا سے چلے آتے ہیں لیکن قرآن کا مطلب یہ ہے کہ آخری زمانہ میں ان کی کثرت ہو گی اور ان کے خروج سے مراد ہی ان کی کثرت ہے(ازالہ اوہام روھانی خزائین 3/373) پھر لکھتا ہے کہ دابۃ الارض سے مراد علمائے سوء ہیں۔ (حمامۃ البشریٰ روھانی خزائین 7/308)
    لیکن مرزا قادیانی کی یہ دروغ گوئی و تضاد بیانی بھی نہایت دلچسپ ہے کہ دوسری جگہ لکھتا ہے؛ بلا شبہ دابۃ الارض سے مراد یہی طاعون ہے جس کا مسیح کے زمانہ میں ظاہر ہونا ضروری تھا۔ (نزول المسیح روھانی خزائین 18/418 و لیکچر سیالکوٹ روھانی خزائین 20/240)
    اب اگر کوئی مرزائی ان تمام تاویلوں کو ایک ساتھ پڑھے اور پھر مرزا قادیانی کی کوئی بھی ایسی بات تلاش کرے کہ جس میں تاویل اور چونکہ چنانچہ نہ ہو تو حقیقت کو سمجھ جائے گا۔

اس صفحے کی تشہیر