1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

اعتراض نمبر۴۵:اگرمیں نبی نہ ہوتاتو عمرؓہوتے‘ کی روایت پر قادیانی استدلال کے جوابات

محمدابوبکرصدیق نے 'عقیدہ ختم نبوت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ ستمبر 28, 2014

  1. ‏ ستمبر 28, 2014 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    اعتراض نمبر۴۵:اگرمیں نبی نہ ہوتاتو عمرؓہوتے‘ کی روایت پر قادیانی استدلال کے جوابات
    قادیانی: ’’لولم ابعث لبعثت یا عمر (مرقاۃ شرح مشکوٰۃ ص ۵۱۹ج ۵ وبرحاشیہ مشکوٰۃ مجتبائی باب مناقب عمر رضی اﷲ عنہ)‘‘یعنی اگر میں مبعوث نہ ہوتا تو اے عمر تو مبعوث ہوتا۔ یا : ’’لولم ابعث فیکم لبعث عمر فیکم۰کنوز الحقائق ص ۵۳‘‘ اگر میں مبعوث نہ ہوتا تو عمر ؓ تم میں مبعوث ہوجاتا۔ خلاصہ یہ ہے کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ؓ کا مطلب یہ ہے کہ اگر میں مبعوث نہ ہوتا تو تم میں عمر ؓ مبعوث ہوجاتا۔ کیونکہ حضور ﷺ مبعوث ہوئے لہذا حضرت عمر ؓ نبی نہ بن سکے۔
    جواب : ملاعلی قاری نے مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں تحت حدیث : ’’لوکان بعدی نبی لکان عمر ؓ۰‘‘لکھا ہے :’’ وفی بعض طرق ھذا الحدیث لولم ابعث لبعثت یا عمر۰ص ۵۲۹ج ۵‘‘لیکن ملا صاحب نے نہ راوی حدیث کا نام لیا ہے نہ مخرج کا پتہ دیا ہے نہ الفاظ مذکور حدیث کی کسی معتبر یا غیر معتبر کتاب میں ملتے ہیں۔ التبہ حافظ منادی نے کنوز الحقائق میں اس کے ہم معنی روایت دو طریق سے نقل کی ہے۔ ایک توا بن عدی کے حوالہ سے جس کے الفاظ یوں ہیں: ’’ لولم ابعث فیکم لبعث عمر فیکم ۰ ص ۱۵۱ ج ۲‘‘ دوسری فردوس دیلمی کے حوالہ سے جس کے الفاظ یوں ہیں :’’لولم ابعث لبعث عمر ؓ۰ حوالہ مذکورہ‘‘ ملاعلی قاری نے غالباً اسی روایت کو مرقاۃ میں باالمعنی نقل کردیا ہے۔ محدثین کے نزدیک ہر دو روایات باطل جھوٹی اور موضوع ہیں۔ ابن جوزی نے اپنی موضوعات میں ابن عدی والی روایت کو دو سندوں سے نقل کیا ہے اور چونکہ دونوں میں راوی وضاع ہیں اس لئے دونوں کو موضوع کہا ہے۔ چنانچہ سلسلہ اسناد ملاحظہ ہو۔
    ابن عدی کہتے ہیں :
    ’’حدثنا علی بن الحسین بن فدید حدثنا زکریا بن یحییٰ الوقاد حدثنا بشیر بن بکر عن ابی بکر بن عبداﷲ بن ابی مریم لغسالی عن ضمرۃ عن غضیف بن الحارث عن بلال بن ریاح قال قال النبی ﷺ لولم ابعث فیکم لبعث عمر ؓ۰(۲)حدثنا عمر بن الحسن بن نصر الحلبی حدثنا مصعب بن سعد ابوحیثمہ حدثنا عبداﷲ بن واقد الحرانی حدثنا حیوۃ بن شریح عن بکر بن عمرو بن مشرح بن ھاھالمن عن عقبۃ بن عامر قال قال ﷺ لولم ابعث فیکم لبعث عمر فیکم۰‘‘
    ابن جوزی نے اس کے بعد فرمایا ہے :
    ’’ زکریا کذاب یضع وابن واقد الحرا متروک ۰‘‘
    ذہبی نے میزان میں خود ابن عدی سے جس نے روایت مذکور اپنی کتاب کامل میں درج کی ہے نقل کیا ہے:’’قال ابن عدی یضع الحدیث وقال صالح کان من الکذابین الکبار۰‘‘ یعنی پہلی سند کا روای زکریا وقار حدیثیں بناتا تھا۔ زکریا بہت بڑے جھوٹوں میں سے ہے ۔ دوسری سند کا روای ابن واقد حرافی متروک ہے ۔ جیسا کہ ابن جوزی اور جوزجانی نے کہا ہے۔ بلکہ میزان میں یعقوب بن اسماعیل کا قول ابن واقد حرافی کے بارہ میں یکذب بھی موجود ہے۔ یعنی یہ بھی جھوٹا ہے۔ چنانچہ اس نے ترمذی وغیرہ کی سند رجال اپنی جھوٹی روایت پر لگالی ہے۔
    کنوز الحقائق کی دوسری حدیث بحوالہ فردوس دیلمی منقول ہے۔ اس کی سند یوں ہے :
    ’’ قال الدیلمی انبأنا ابی انبأ ناعبدالملک بن عبدالغفار انبأنا عبداﷲ بن عیسیٰ بن ہارون انبأ نا عیسیٰ بن مروان حدثنا الحسین بن عبدالرحمن بن حمران حدثنااسحق بن نجیع الملطی عن عطاء بن مسیرہ الخراسانی عن ابی ھریرہ ؓ عن النبی ﷺ انہ قال لولم ابعث فیکم ۔۔۔۔۔۔ الخ۰‘‘
    یہ حدیث بھی موضوع اور باطل ہے ۔اس کی سندمیں بھی اسحق ملطی وضاع وکذاب ہے۔ ذہبی میزان میں لکھتے ہیں:’’ قال احمد ھو من اکذب الناس وقال یحییٰ معروف للکذب ووضع الحدیث۰‘‘یعنی اسحق بڑا جھوٹا ہے۔ جھوٹی حدیثوں کے بنانے میں مشہور ہے۔ دوسرا راوی عطاء خراسانی بھی ایسا ہی ہے۔ تہذیب میں سعید بن مسیب کا قول منقول ہے ۔ کذب عطا‘ امام بخاری نے بھی تاریخ صغیر میں سعید کا قول کذب نقل کیا ہے۔(ص ۱۵۷) یعنی عطاء جھوٹا ہے ۔ خود امام ترمذی فرماتے ہیں:’’ عامۃ احادیثہ ۰ مقلوبۃ ‘‘یعنی عطاء خراسانی کی حدیثیں الٹی پلٹی غلط ہوتی ہیں۔ امام بیہقی ؒنے اسے کثیر الغلط کہتے ہیں۔(وزیلعی) حاصل کلام یہ کہ کنوز الحقائق کی دونوں روایتیں باطل اور جھوٹی ہیں اور یہ کچھ ان دونوں روایتوں پر ہی موقوف نہیں ہے۔ بلکہ کامل ابن عدی اورفردوس دیلمی کی تمام روایات کا یہی حاصل ہے۔ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی عجالہ نافعہ میں طبقہ رابعہ کا بیان فرماتے ہوئے لکھتے ہیں :’’ آحادیثکہ نام ونشان آنہا کہ درقرون سابقہ معلوم نبود ایں احادیث ناقابل اعتماد اند۰‘‘پھر ان کے نقل کرنے والوں میں کتاب الکامل لابن عدی اور فردوس دیلمی کا نام بھی گنا ہے۔(ص ۸۷۷) اور بستان المحدثین میں دیلمی کی کتاب الفردوس کے تذکرہ میں لکھتے ہیں۔ در سقیم وصحیح احادیث تمیز نمیکند۔لہذا دریں کتاب وموضوعات واہیات ہم مدرج اند ۔ (ص ۶۲) یہی حال فردوس دیلمی کی اس روایت کا بھی ہے جسے مرزائیوں نے اپنی ڈائری کے ص ۵۱۸ میں کنوز الحقائق کے حوالہ سے نقل کیا ہے۔ کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا:’’ ابوبکر افضل ھذہ الا مۃ الا ان یکون نبی۰‘‘اور اس سے امکان نبوت کی دلیل پکڑی ہے۔ حالانکہ یہ روایت باطل موضوع اور جھوٹی ہے۔ اور اس کے ثبوت کے لئے اس کے حوالہ میں فردوس ویلمی کا نام کافی ہے۔ حافظ منادی نے کنوز الحقائق میں فردوس ویلمی کے حوالہ سے ہی نقل کیا ہے :’’ولعل فیہ کفایۃ۰‘‘
    • Like Like x 1

اس صفحے کی تشہیر