1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

اعتراض نمبر۴۶:لوکان بعدی نبی لکان عمرؓپر اعتراضات کے جوابات

محمدابوبکرصدیق نے 'عقیدہ ختم نبوت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ ستمبر 28, 2014

  1. ‏ ستمبر 28, 2014 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    اعتراض نمبر۴۶:لوکان بعدی نبی لکان عمرؓپر اعتراضات کے جوابات
    قادیانی: اگر میرے بعد نبی ہوتا تو عمر ؓ ہوتا کا جواب یہ ہے کہ یہ حدیث غریب ہے ۔ لہذا حجت نہیں۔
    جواب : کیا غریب حدیث ضعیف یا غلط ہوتی ہے؟ ہرگز نہیں بلکہ صحیح ہوتی ہے۔ چنانچہ خود مرزا نے بھی اس کو ازالہ اوہام ص ۹۸ روحانی خزائن ص ۲۱۹ ج ۳ پر نقل کیا ہے۔ اگر حدیث غیر معتبر ہوتی تو مرزا صاحب اس کو ازالہ اوہام میں ہرگز درج نہ کرتے ۔ کیونکہ ان کا دعویٰ ہے کہ :
    ’’ لوگ آنحضرت ﷺ کی حدیثیں زید وعمر سے ڈھونڈتے ہیں اور میں بلا انتظار آپ ﷺ کے منہ سے سنتا ہوں۔‘‘(آئینہ کمالات اسلام ص ۲۵ خزائن ص ۲۵ ج ۵)

    حدیث لانبی بعدی پر اعتراض کا جواب

    قادیانی: حدیث لانبی بعدی میں لفظ بعدی بھی مغائرت اور مخالفت کے معنوں میں مستعمل ہوا ہے:’’ فبایی حدیث بعداﷲ وآیٰۃ یومنون۰ جاثیہ۶‘‘ اﷲ اور اس کی آیات کے بعد کون سی بات پر وہ ایمان لائیں گے۔ اﷲ کے بعد سے کیا مقصد ہے؟کیا اﷲ کے فوت ہوجانے کے بعد؟(معاذاﷲناقل) یااﷲ کی غیر حاضری میں؟ ظاہر ہے کہ دونوں معنی باطل ہیں۔ پس بعداﷲ کا مطلب ہوگا کہ اﷲ کے خلاف اﷲ کو چھوڑ کر ۔ پس یہی معنی لانبی بعدی کے۔ یعنی مجھ کو چھوڑ کر یا میرے خلاف رہ کر کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔
    حدیث میں ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا :’’ فاولتھا کذابین لیخرجان بعدی احدھما العنسی والآخرمسیلمہ۰بخاری کتاب المغازی وفدبنی حنفیہ۰ص۶۲۸ج۲‘‘یعنی آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ خواب میں ‘ میں نے سونے کے کنگن جو دیکھے اور ان کو پھونک مارکر اڑادیا تو اس کی تعبیر میں نے یہ کی کہ اس سے مراد دو کذاب ہیں جو میرے بعد نکلیں گے۔ پہلا اسود عنسی ہے او ر دوسرا مسیلمہ کذاب۔ یہاں بعد سے مراد غیر حاضری یا وفات نہیں بلکہ مخالفت ہے۔ کیونکہ مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی دونوں آنحضرت ﷺ کی زندگی ہی میں مدعی نبوت ہوکر آنحضرت ﷺ کے بالمقابل کھڑے ہوگئے تھے۔
    جواب : بعد کا ترجمہ ’’ مخالفت ‘‘ خلاف عربیت ہے لغت عربی کی کسی کتاب میں بعد کے معنی مغائرت ومخالفت کے نہیں لکھے ہیں۔ نہ اہل زبان سے اس کی کوئی نظیر موجود ہے۔ حدیث لانبی بعدی کے معنی دوسری حدیثیں خود واضح کرتی ہیں۔ صحیح بخاری میں :’’ لم یبق من النبوۃ الا المبشرات۰ مشکوٰۃ ص ۳۸۶‘‘یہاں بعد کا لفظ موجود نہیں اور ہر قسم کی نبوت کی نفی ہے۔ کوئی نیا نبی نہ موافق آئے گا نہ مخالف۔ صحیح مسلم میں ہے :’’ انی آخر الانبیائ۰ ص ۴۴۶‘‘پس اگر کوئی نیا ہی نبی گوموافق سہی آجائے تو آ پ ﷺ کی آخریت باقی نہیں رہتی۔ ابودائود اور ترمذی میں ہے :’’ انا خاتم النبیین لانبی بعدی۰ مشکوٰۃ ص ۴۵۷‘‘ یہاں لانبی بعدی کے ساتھ وصف خاتم النبیین بھی مذکور ہے جو بعدہ کے معنی ’’ مخالفت ‘‘ کے لینے کی تردید کرتا ہے۔ کیونکہ نئے موافق نبی کا آنا ختم نبوت کے منافی ہے۔ مسند احمد اور ترمذی میں ہے :’’ ان الرسالۃ والنبوۃ انقطعت فلا رسول بعدی ولانبوۃ ۰ ابن کثیر ص ۸۹ ج ۸‘‘یہاں بعد کے معنی مخالفت کے لینے کی تردید انقطعت سے ہورہی ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ (موافق ومخالف) ہر قسم کی رسالت ونبوت بند ہوگئی ہے۔ پس میری رسالت ونبوت کے بعد نہ تو کوئی رسول ہی ہوگا اور نہ نبی۔
    اب سورۃ جاثیہ کی آیت مذکور کی تحقیق سنئے۔ قرآن مجید عربی زبان میں ہے ۔ عربی زبان جاننے کے لئے بہت سے فنون جو قرآن کے خادم ہیں حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ منجملہ ان کے ایک فن کا علم معانی کا ہے۔ اس علم میں ایک باب ایجاز کا ہے۔ جس میں لفظ اصل مراد سے کم لیکن کافی ہوتا ہے۔ اس کی دوسری قسم ایجاز حذف ہے۔ جس میں کچھ محذوف ہوتا ہے۔ آیت مذکورہ اس قبیل سے ہے اور بعداﷲ میں بعد کا مضاف الیہ محذوف ہے۔ چنانچہ تفسیر معالم وخازن میں ہے :’’ ای بعد کتاب اﷲ ‘‘ اور تفسیر جلالین وبیضاوی وکشاف وسراج المنیر وابوالسعود وفتح الباری وابن جریر میں ہے :’’ ای بعد حدیث اﷲ وھو القرآن ۰‘‘اس کی تائید دوسری آیت سے بھی ہوتی ہے۔ سورۃ اعراف ومرسلات آیت نمبر۵۰ میں ہے :’’ فبای حدیث بعدہ یومنون۰‘‘ بعدہ کی ضمیر مجرد اور راجع ہے حدیث کی طرف۔ یعنی کس بات پر اس بات کے بعد ایمان لائیں گے؟۔ اسی طرح نبی ﷺ کی بعض دعائیں جو حدیثوں میں آئی ہیں ان میں بھی ایجاز حذف ہے۔ ایک دعا میں وارد ہے :’’ انت الآ خرفلیس بعدک شئی۰ (مسلم ص ۳۴۸ ج ۲) ای بعد اخریتک ۰(مرقاۃ ص ۱۰۸ ج ۳) فلا شی بعدہ ۰(مسلم ص ۲۵۰ ج ۲) ای امرہ بالفناء ۰‘‘اسی طرح حدیث :’’ لانبوۃ بعدی۰ مسلم ص ۲۷۵ ج ۲‘‘کے معنی میں لانبوۃ بعدنبوتی یعنی میری پیغمبری کے بعد کوئی پیغمبر نہیں ہے۔
    مرزائیوں کی دوسری دلیل (اسود عنسی اور مسیلمہ کذاب) کا جواب یہ ہے کہ یہاں بھی ایجاز محذوف ہے اور بعد کا مضاف الیہ محذوف ہے یعنی: ’’یخرجان بعد نبوتی ۰ فتح الباری انصاری پ ۲۸ ص ۵۰۷‘‘ مطلب یہ ہے کہ اب جبکہ نبوت مجھے مل چکی ہے ۔ اس مل جانے کے بعد ان دونوں کا ظہور ہوگا۔ چنانچہ مسیلمہ اور اسودعنسی کا ظہور آپ ﷺ کے نبی بن چکنے کے بعد ہوا ہے نہ قبل۔ اس محذوف پر قرینہ صحیح بخاری کی دوسری حدیث ہے جس کے الفاظ یہ ہیں :’’ الکذابین الذین انا بینھما۰ بخاری ص ۶۲۸ ج ۲‘‘یعنی وہ دونوں جھوٹے مدعیان نبوت کہ ان دونوں کے درمیان میں موجود ہوں۔ اسی کو واضح کرنے کے لئے امام بخاری نے حدیث:’’یخرجان بعدی‘‘کے متصل ہی انا بینھما کی روایت ذکر کی ہے۔ دیکھو کتاب المغازی ‘ بخاری ص ۶۲۸ج۲
    اصل بات یہ ہے کہ جب کوئی شخص اپنی بات بنانے پر تل جائے تو پھر کوئی پروا نہیں کرتا کہ بات بنتی ہے یا نہیں۔قرآن کی مخالفت ہویا حدیث کی مخالفت اور عربی زبان کی مخالفت‘ اسے کوئی حجاب نہیں ہوتا۔ مرزا صاحب اور ان کی ’’ امت ‘‘ کا یہی حال ہے۔
    حاصل کلام یہ کہ کتاب وسنت ولغت عرب میں لفظ بعد بمعنی ’’مخالفت ‘‘ نہیں آیا۔ وھوالمراد
    کیا حضرت علی ؓ آنحضرت ﷺ کے مخالف تھے۔ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو پھر ان کو یہ جواب دینا کہ گو تم میرے ساتھ وہی نسبت رکھتے جو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہارون علیہ السلام کو تھی۔ مگر میرے مخالف بن کر تم نبی نہیںہوسکتے کیا مطلب ہے؟ کیا حضرت علی ؓ نے نبوت کا عہدہ مانگا تھا جو یہ جواب دیا گیا ہے؟۔
    ناظرین کرام ! غور فرمائیے حضور ﷺجنگ کو تشریف لے جارہے ہیں۔ حضرت علی ؓ کو اپنے پیچھے چھوڑتے ہیں۔ جناب علی ؓ کو اس بات کا ملال ہے کہ مجھے ساتھ کیوں نہیں لے جاتے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ اے علی ؓ میں تجھے کسی مغائرت کی خاطر نہیں چھوڑ کر جارہا بلکہ اپنے بعد اپنا جانشین کرکے جارہا ہوں۔ جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام ہارون علیہ السلام کو اپنا خلیفہ بنا گئے تھے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ہارون علیہ السلام نبی تھے تم نبی نہیں ۔ امر مقدر یوں ہی ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔
    نیز صحیح مسلم غزوہ تبوک میں حضرت سعد بن ابی وقاص ؓکی وہ حدیث جس میں لانبی بعدی کے بجائے لانبوۃ بعدی کے الفاظ موجود ہیں ۔(باب فضائل علی ؓ) جس کے معنی یہ ہیں کہ میرے بعد نبوت نہیں۔ جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ لانبی بعدی اور لانبوۃ بعدی کے ایک ہی معنی ہیں۔ یعنی آپ ﷺ کے بعد کسی کو نبوت نہ دی جائے گی۔
    • Like Like x 1

اس صفحے کی تشہیر