1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

افضل مرزائی کو دو چیلنج کا جواب

محمد منیب الرحمٰن نے 'فیس بک قادیانی پوسٹس کے جوابات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جنوری 27, 2017

  1. ‏ جنوری 27, 2017 #1
    محمد منیب الرحمٰن

    محمد منیب الرحمٰن رکن ختم نبوت فورم

    چور کی داڑھی میں تنکا ( افضل مرزائی کو دو چیلنج کا جواب )
    جیسا کہ میں اکثر کہتا ہوں سچ وہ ہے جو مرزائیوں کے منہ سے غلطی سے نکل جائے باقی سب جھوٹ اور چاہے اس کے سامنے مرزا صاحب کی تحریر کیوں نہ ہو اسے بھی ماننے سے صاف انکار کر دیتے ہیں ۔
    آج کا ہمارا موضوع ہے چور کی داڑھی میں تنکا یعنی قادیانی تو کہتے ہیں کہ کسی مسلمان پر کفر کا فتوی نہیں لگایا جا سکتا ۔ لیکن اس بات کو سچ ثابت کرنے کے لیے ان کو اپنے منہ بولے نبی کی باتوں پر ایک زوردار لات مارنی پڑتی ہے کیونکہ مرزا غلام احمد قادیانی جو کہ انٹ شنٹ الہامات کا مدعی ہے اس کے مطابق اس کو نہ ماننے والے کافر اور جہنمی ہیں ۔ مرزائیوں سے درخواست ہے کہ لات تو انہوں نے مرزا جی کی شریف پر ماردی اب اس لات پر قائم بھی رہیں کیوں کہ آپ کے سامنے پیش کیا جارہا ہے کچھ نمونہ

    ( چیلنج نمبر ایک کا جواب )
    مسلمان وہ ہے جو کلمہ طیبہ کا منہ سے اقرار کرے ۔
    ’’لاَ اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲ ‘‘

    اس میں دو حصے ہیں ایک توحید باری تعالی کا اقرار دوسرا رسالت محمد ﷺ کا اقرار ۔ جس طرح توحید میں اللہ کے سوا کوئی رب شامل نہیں ہوسکتا اسی طرح رسالت میں بھی حضرت محمد ﷺ کے ساتھ کوئی نبی شریک نہیں ہوسکتا ۔
    اس کلمہ میں اللہ سے مراد رب العش العظیم ہے اور محمد ﷺ سے مراد محمدی عربی ﷺ ۔
    مرزائیوں سے درخواست ہے کہ اس کلمہ میں کوئی یلاش کالا اور کالو شامل نہیں جو کہ ان کے خدا ہیں اور نہ ہی اس کلمہ میں مرزا غلام احمد قادیانی شامل ہے جو کہ خود کو محمد کہتا ہے ۔ سو وہ اس کلمہ پر بھی پورے نہیں اترتے ،
    اب دیکھتے ہیں کہ قرآن و حدیث کی روشنی میں مرزائی منافقت کس طرح عیاں ہوتی ہے ؟
    سورہ بقرہ میں ارشاد ہوتا ہے
    ’’’’’’’’’ اور کچھ ایسے بھی لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان لائے حالانکہ وہ ایمان دار نہیں ہیں۔
    اللہ اور ایمان داروں کو دھوکا دیتے ہیں، حالانکہ وہ اپنے آپ ہی کو دھوکہ دے رہے ہیں اور نہیں سمجھتے۔
    ان کے دلوں میں بیماری ہے پھر اللہ نے اِن کی بیماری بڑھا دی، اور انُ کے لیے دردناک عذاب ہے اس لیے کہ وہ جھوٹ بولتے تھے۔
    اور جب اُنہیں کہا جاتا ہے کہ ملک میں فساد نہ ڈالو تو کہتے ہیں کہ ہم ہی تو اصلاح کرنے والے ہیں۔
    خبردار بے شک وہی لوگ فسادی ہیں لیکن نہیں سمجھتے۔
    اور جب انہیں کہا جاتا ہے ایمان لاؤ جس طرح اور لوگ ایمان لائے ہیں تو کہتے ہیں کیا ہم ایمان لائیں جس طرح بے وقوف ایمان لائے ہیں، خبردار وہی بے وقوف ہیں لیکن نہیں جانتے۔ ‘‘‘‘‘‘‘‘‘‘‘

    بے شک اللہ تعالی نے اس قرآن میں سب کچ واضع کر دیا ۔ اور یہی مثال مرزائیوں کی ہے
    ۱۵۰۰ سال سے مسلمانوں میں یہ اتفاق رہا ہے کہ نجات صرف اللہ اور اس کے رسول کی پیروی سے ہی ہے جیسا کہ حکم ہوتا ہے ،
    ’ اللہ تعالی اور اس کے رسول محمد ﷺ کی پیروی کرو تا کہ تم پر رحم کیا جائے ‘
    لیکن مرزا قادیانی قرآن و سنت کے اس فیصلے کے خلاف اپنا دین پیش کرتا ہے اور کہتا ہے
    ( دیکھو کہ خدا نے میری وحی اور میری تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کے لیے اس کو مدار نجات ٹھہرایا جس کی آنکھیں ہوں دیکھے جس کے کان ہوں سنے ۔ خزائن جلد ۱۷ ص ۴۳۵ )
    مجموعہ اشتہارات جلد ۳ ص ۲۷۵ ۔۔۔۔ جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہ ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا جہنی ہے ۔
    خزائن جلد ۱۱ ص ۶۳ ۔۔۔۔ اب ظاہری بات ہے کہ ان الہامات میں میری نسبت بار ہا بیان کیا گیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ خدا کا مامور خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے اور جو کچھ کہتا ہے اس پر ایمان لاو اور اس کا دشمن جہنمی ہے

    یہ ہے مرزائی کلٹ کا خلاصہ جس نے اسلام کی حمایت نہیں کی بلکہ سرے سے ہی اس کے اصولوں کو بدل ڈالا ۔ مرزا قادیانی سے پہلے ایک مشرک کافر کلمہ طیبہ ’’لاَ اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲ ‘‘ پڑھ کر مسلمان ہوجاتا تھا لیکن اب لاکھ کلمہ پڑھے آج دنیا میں ڈیڑھ ارب مسلمان مرزائیت کے نذدیک کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں یہ حق ان کو کس نے دیا کیا کوئی مرزائی بتا سکتا ہے ؟

    ( اب چلتے ہیں اگلے چیلنج کر طرف )
    اس میں افضل مرزائی نے سب سے پہلے جو بات پیش کی ہے وہ یہ ہے کہ ’’ مسلمان کی تعریف میں تبدیلی ‘‘ ہم اس کا جواب اوپر پیش کر چکے ہیں اور اس تعریف پر کوئی مرزائی خود کو مسلمان ثابت نہیں کر سکتا ۔ اس میں ہم مزید اضافہ کرتے ہیں
    قرآن الحکیم ۔ سورہ المنافقون میں ارشاد ہوتا ہے
    ’’’’’جب آپ کے پاس منافق آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم گواہی دیتے ہیں کہ بے شک آپ اللہ کے رسول ہیں، اور اللہ جانتا ہے کہ بے شک آپ اس کے رسول ہیں، اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ بے شک منافق جھوٹے ہیں۔‘‘‘‘‘‘

    آج مرزائی کلمہ کلمہ کی رٹ لگاتے ہیں لیکن اللہ پاک نے ان منافقین کی مثال پہلے ہی بیان فرما دی کیونکہ یہ مرزائی منافق کلمہ میں محمد عربی ﷺ کی رسالت کا اقرار نہیں کرتے ۔
    اس کے بعد افضل مرزائی یہ کہتے ہیں کہ ’’’ تو پھر سوال یہ ہے کہ غیر احمدیوں کو کس نے حق دیا کہ مسلم کہلانے کی تعریف میں یہ شامل کریں کہ نبی پاک کے بعد کوئی کسی کو نبی مانے تو کافر ہو گا ہمیں یہ ماننا ہو گا کہ غیر احمدیوں کا یہ کام گستاخی رسول کہلاے گا ‘‘‘‘
    ثابت تو اوپر ہوگیا کہ لانبوہ بعدی کلمہ طیبہ کی ہی بنیاد ہے ۔،
    لیکن اب ہم دیکھتے ہیں کہ افضل مرزائی کے فتوے میں کہیں مرزا قادیانی تو شامل نہیں ہوجاتا ؟
    مرزا قادیانی لکھتا ہے
    ’’’ وہ شخص جو زرہ بھر بھی شریعت محمدیہ میں کمی بیشی کرے یا کسی اجماعی عقیدہ کا انکار کرے اس خدا اور فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہو ‘‘‘‘ خزائن جلد ۱۱ ص ۱۴۴
    اب افضل مرزائی اور مرزا قادیانی کے فتوے کو ملا کر دیکھتے ہیں ۔
    خزائن جلد ۳ ص ۵۱۱ ۔۔۔۔۔قرآن کریم بعد خاتم النبین کسی رسول کا آنا جائز نہیں رکھتا خواہ وہ نیا ہو یا پرانہ ۔
    مجموعہ اشتہارات جلد ۱ ص ۲۵۵ ۔۔۔۔ میں مفصلہ ذیل امور کا مسلمانوں کے سامنے صاف صاف اقرار اس خانہ خدا مسجد میں کرتا ہوں کہ میں جناب خاتم الانبیا جناب محمد ﷺ کی ختم نبوت کا قائل ہوں اور جو شخص ختم نبوت کا منکر ہو اس کو بے دین اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں ۔

    جی پیارے افضل اور تمام نادان مرزائی دوستوں سے سوچنے کی درخواست ہے کہ وہ کہیں اپنے ہی فتوے کی ذد مین تو نہیں آگئے ؟
    پیارے افضل کا اگلا فتوی بھی دیکھ لیں ( میری درخواست ہے کہ احمدیوں کو کافر کہ کر خود کافر نہ ہو جایا کریں توبہ استغفار کیا کریں اور کلمہ پڑھ کر مسلم ہو جائیں یہ حدیث کا فتویٰ ہے کہ کوئی کسی کو کافر کہے اگروہ کافر نہ ہو تو کفر لوٹ اتا ہے )
    اب دیکھتے ہیں اس فتوے کی بنا پر مرزا قادیانی تو کافر نہیں ہوجاتے کہیں ؟
    مرزا صاحب کا خط عبدالحکیم صاحب کے نام ، بحوالہ الذکر الحکیم نمبر ۴ ص ۲۳،۲۴
    ’’’’ خدا تعالی نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں اور خدا کے نذدیک قال مواخذہ ہے تو اب یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ میں ایک شخص کے کہنے سے جس کا دل ہزاروں تاریکیوں میں مبتلا ہے خدا کے حکم کو چھوڑ دوں اس سے سہل تر یہ بات ہے کہ ایسے شخص کو اپنی جماعت سے خارج کر دیا جائے اس لیے میں آج کی تاریخ سے آپ کو اپنی جماعت سے خارج کرتا ہوں ۔ ہاں اگر کسی وقت صریح الفاظ سے آپ اپنی توبہ شائع کریں اور اس خبیث عقیدے سے بعض آجائیں تو رحمت الہی کا دروازہ کھلا ہے وہ لوگ جو میری دعوت کا رد کرنے کے وقت قرآن کی نصوص صریحہ کو چھوڑتے ہیں خدا تعالی کے کھلے کھلے نشانوں سے منہ پھیرتے ہیں ان کو راست باز قرار دینا صرف اس شخص کا کام ہے جس کا دل شیطان کے پنجہ میں گرفتار ہے ‘‘‘‘‘

    یعنی دنیا میں ڈیرھ ارب مسلمان جو مرزا کے ان کھلے نشانات کو نہیں مانتے وہ مسلمان نہیں ۔ خوب
    اب خزائن جلد ۲۲ ص ۱۶۷ پر موجود سوال نمبر ۶ کا مطالعہ کرتے ہیں ۔
    ’’ حضور عالی نے ہزاروں جگہ تحریر فرمایا ہے کہ کلمہ گو اور اہل قبلہ کو کافر کہنا کسی طرح صحیح نہیں ہے اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ علاوہ ان مومنوں کے جو آپ کی تکفیر کر کے کافر بن جائیں صرف آپ کے نا ماننے سے کوئی کافر نہیں ہوسکتا ( نوٹ یہ وہی عقیدہ ہے جو پیارے افضل نے اوپر بیان کیا ۔ ناقل ) لیکن عبدالحکیم کو آپ لکھتے ہیں کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ۔ اس بیان میں اور پہلی کتابوں کے بیان میں تناقض ہے ( کچھ عقلمند لوگ ہی اس تناقض کو دیکھ سکتے ہیں ۔ ناقل ) یعنی پہلے آپ تریاق القلوب وغیرہ میں لکھ چکے ہیں کہ میرے نا ماننے سے کوئی کافر نہیں ہوتا اور اب آپ لکھ رہے ہیں کہ میرے انکار سے کافر ہوجاتا ہے ؟
    ( یا منافقت تیرا ہی آسرا ۔ناقل ) مرزا صاحب جواب دیتے ہیں
    یہ عجیب بات ہے کہ کافر کہنے والے اور نہ ماننے والے کو دو قسم کے انسان ٹھہراٹے ہیں ہالانکہ خدا کے نذدیک ایک ہی قسم ہے جو شخص مجھے نہیں مانتا وہ اس لیے نہیں مانتا کیونکہ مجھے مفتری قرار دیتا ہے مگر خدا تعالی فرماتا ہے خدا پر افترا کرنے والا سب کافروں سے برح کر کافر ہے ( مرزا صاحب کے کتنے افترا چاہیے خدا پر ؟ ناقل ) جیسا کہ خدا فرماتا ہے یعنی بڑے کافر دو ہی ہیں ایک خدا پر افترا کرنے والا دوسرا خدا کے کلام کی تکذیب کرنے والا ۔ اس صورت میں نہ صرف کافر بلکہ بڑا کافر ہوگا اور اگر میں مفتری نہیں تو بلاشبہ وہ کفر اس پر پڑے گا ۔ ‘‘‘‘‘‘‘

    لیں جی مرزا صاحب اپنے اور پیارے افضل کے فتوے کی زد میں ایک بار پھر آگئے ۔ مزید دیکھیے
    مرزا محمود احمد صاحب لکھتے ہیں:
    “کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے، خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔”
    (آئینہ صداقت ص:۳۵)
    لیں مرزائیوں جن مسلمانوں نے مرزا قادیانی کا نام بھی نہیں سنا وہ تکفیر کیسے کریں گے ؟ جبکہ آپ کا فتوی تو یہ تھا کہ جو مسلمان تکفیر کرے وہی کافر ٹھہرائے گا ۔
    لیکن سچ وہی ہے جو مرزائی کے منہ سے نکلے باقی سب جھوٹ ۔،
    مرزائیوں خدا کا خوف کرو اور مراقی شخص کو چھوڑ کر امت محمدیہ ﷺ میں قدم رکھو ۔ بے شک اسلام میں ہی نجات ہے ۔
    بے شک آپ اسی کو ڈرا سکتے ہیں جو نصیحت کی پیروی کرے اور بن دیکھے رحمان سے ڈرے، پس خوشخبری دے دو اس کو مغفرت کی اور عزت والے اجر کی۔
    احتساب قادیانیت گروپ
    • Like Like x 1
    • Winner Winner x 1

اس صفحے کی تشہیر