1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

(البدر آپ کا اخبار تھا؟)

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ دسمبر 3, 2014

  1. ‏ دسمبر 3, 2014 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (البدر آپ کا اخبار تھا؟)
    890جناب یحییٰ بختیار: ’’البدر‘‘ آپ کا اخبار تھا، جماعت کا، کہ نہیں تھا وہ بھی؟
    مرزا ناصر احمد: نہیں، وہ بھی نہیں تھا، وہ بھی نہیں تھا۔ یہ، یہ بھی میں یہ ’’الحکم‘‘ ۷؍فروری ۱۹۲۳ء میں، جب کہ یہ کوئی جھگڑا قاضی اکمل صاحب وغیرہ کے شعر کا نہیں تھا، یہ ایک یہ، یہ چھپا ہے، حضور کے انہماک کے متعلق روایت: ’’حافظ معین الدین صاحب کی یہ شعر خوانی کا سلسلہ جاری تھا……‘‘
    ایک منشی ظفر احمد صاحب، بڑے بزرگ ہمارے، صحابی ہیں، ان کی یہ روایت ہے: ’’منشی ظفر احمد صاحب بلوائے ہوئے قادیان میں موجود تھے اور حضرت صاحب کے قریب ہی رہتے تھے۔ چند روز تک تو یہ سلسلہ رہا۔ ایک دن منشی جی نے عرض کیا کہ ’’حضور کیا سنتے رہتے ہیں، حافظ صاحب سونے ہی نہیں دیتے، (حافظ صاحب شعر سنایاکرتے تھے)نہ یہ کوئی خوش آواز ہیں، سب کو تکلیف ہوتی ہے۔ آپ کس طرح سنتے رہتے ہیں‘‘ (یہ مفہوم منشی صاحب کے کلام کا تھا) آپ نے ہنس کر فرمایا:’’مجھے تو کچھ معلوم نہیں کہ یہ کیا سناتے ہیں اور نہ میں اس خیال سے سنتا ہوں کہ یہ کوئی خوش آواز ہیں۔ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ میرے دماغ میں اسلام کی حالت اور عیسائیوں کے حملوں کو دیکھ کر جوش اٹھتا ہے، اور بعض وقت مجھے خطرہ ہوتا ہے کہ دماغ پھٹ جائے گا اس جوش میں… کیونکہ حافظ صاحب بڑے اخلاص سے کمردبانے کے لئے آجاتے ہیں، میں نے دینی توجہ کو دوسری طرف بدلنے کے لئے ان کو کہہ دیا کہ کوئی شعر یاد ہو تو سناؤ، اب یہ بے چارہ نہایت اخلاص سے سناتا ہے، اور میں ہر چند کوشش کرتا ہوں کہ میرا خیال ادھر متوجہ ہو اور ہجوم افکار جو دماغ میں موجودہ حالت کو دیکھ دیکھ کر ہوتا ہے، تھوڑی دیر کے لئے کم ہوجائے، مگر وہ کم ہونے میں نہیں آتا، اور مجھے پتہ بھی نہیں لگتا کہ کیا کہتے ہیں۔ اگر آپ کو ناپسند ہو تو ان کو منع کردیا جائے۔‘‘
    891جس شخص کی یہ حالت تھی کہ اسلام کے غم اور فکر میں ہر وقت اپنی توجہ کو اس خاص مضمون کی طرف مرکوز رکھتا تھا، Concentrate his mind was concentrated on that one subject. (صرف ایک ہی موضوع پر توجہ مرکوز رکھتے)اس کے سامنے شعر سنانے والے شعر سناتے تھے، بچے اپنی کہانیاں سناتے تھے، وہ ان کی طرف مشغول ہوتا ہے؟ اس کی طرف ایک ایسی بات منسوب کرنا ،جو ۳۸ سال کے بعد منسوب کی گئی ہو، جس کا ذکر ۳۸ سال تک کسی ایک حوالے میں موجود نہ ہو، میرے نزدیک بڑا ظلم ہے۔ باقی جو دنیا مرضی کہے اور ’’جزاک اللہ‘‘ کے بعد گیارہ کو نکال دیا۔
    اچھا، یہ ایک …

اس صفحے کی تشہیر