1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

التبشیر برد التحذیر

مبشر شاہ نے 'تحفظ ختم نبوت کتب' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جون 10, 2017

  1. ‏ جون 10, 2017 #1
    مبشر شاہ

    مبشر شاہ رکن عملہ منتظم اعلی

    التبشیر برد التحذیر


    دیباچہنَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِط

    اما بعد ایک کرم فرما مجھے ایک خط لکھا تھا جس میں چند سوالات درج تھے۔ ان میں سے بعض کے جوابات ’’الحق المبین‘‘ میں پہلے ہی آ گئے تھے۔ اس لئے ان کا اعادہ بے فائدہ تھا۔ ایک سوال میری ذات سے متعلق تھا اور ایک کا تعلق کسی اصولی بحث سے نہ تھا۔ تاہم دونوں کے جوابات زیر نظر مضمون میں آ گئے ہیں۔ البتہ ایک سوال ایسا تھا کہ اس کی اہمیت کے پیش نظر مستقل حیثیت سے اس کا جواب لکھنا ضروری معلوم ہوا مگر سائل کا طرزِ تخاطب اس قدر جارحانہ تھا کہ جواب کی حیثیت سے اس پر کچھ لکھنا میری افتاد طبع کے خلاف تھا۔ اس کے باوجود محض اظہارِ حق کی خاطر مجھے یہ مضمون لکھنا پڑا جس میں بحث کے تمام اصولی پہلوؤں کو میں نے اجاگر کرنے میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کیا۔ اسی وجہ سے مضمون اتنا طویل ہو گیا کہ اس نے ایک مستقل رسالہ کی صورت اختیار کر لی۔


    اس سوال کا مبنیٰ اعلیٰ حضرت امام اہل سنت مولانا الشاہ احمد رضا خان صاحب بریلوی قدس سرہ العزیز پر یہ الزام ہے کہ ممدوح موصوف نے ’’تحذیر الناس‘‘ کے مختلف مقامات سے تین نا مکمل فقروں کو لے کر ایک فقرہ بنا لیا جس سے کفری مضمون پیدا ہو گیا۔ زیر نظر مضمون میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ پر یہ الزام قطعاً غلط او ربے بنیاد ہے۔



    اس مضمون میں ’’تحذیر الناس‘‘ کی چودہ (۱۴) غلطیاں ہدیۂ ناظرین کی گئی ہیں اور ہر غلطی کے ضمن میں دلائل کے ساتھ تحذیر الناس کے مباحث کا رد کیا گیا ہے۔
    آیۂ کریمہ ’’مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰـکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیِّیْن‘‘ میں استدراک کی توجیہات علمائے محققین کی تصریحات کی روشنی میں اس انداز سے کی گئی ہیں کہ تحذیر الناس کے تمام اوہام کا ابطال ہو گیا ہے۔ ساتھ ہی اس حقیقت کو بھی واضح کر دیا گیا ہے کہ چودہ سو برس میں آج تک کسی عالم دین نے آیۂ مبارکہ’’مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰـکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیِّیْن‘‘ کی تفسیر کرتے ہوئے ’’خاتم النبیین‘‘ کے معنی ’’آخر النبیین‘‘ کو عوام کا خیال قرار دے کر بنائے خاتمیت تاخر زمانی کے سوا کسی اور چیز پر نہیں رکھی۔ نہ آج تک کسی نے نبوت کی تقسیم بالذات اور بالعرض کی ہے۔



    اس رسالہ میں ثابت کیا گیا ہے کہ اثر عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی تاویل میں نانوتوی صاحب کا مسلک جمہور امت مسلمہ کے قطعاً خلاف ہے۔ حتیٰ کہ بعض اکابر دیوبند نے بھی نانوتوی صاحب کی اس تاویل سے بیزاری کا اظہار کیا ہے۔ چنانچہ دیوبند کے مولانا انور شاہ صاحب کشمیری نے ’’فیض الباری‘‘ میں ’’تحذیر الناس‘‘ کی تاویل کا ردِ بلیغ فرمایا ہے۔ جیسا کہ اس بیان کو پڑھنے سے معلوم ہو گا اور حقیقت یہ ہے کہ میری نیت اس تحریر سے اظہارِ حق کے سوا کچھ نہیں۔ واللّٰہ المستعان وہو حسبی ونعم الوکیل وصلی اللّٰہ تعالٰی علٰی خیر خلقہٖ ونورِ عرشہٖ سیدنا ومولانا محمد واٰلہٖ وصحبہٖ اجمعین۔


    سید احمد سعید کاظمی غفرلہٗ
    ۲۷؍ جولائی ۱۹۶۳ء


    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِط
    حامدا ومصلیا وسلما
    وسیع المناقب ……… اصلحکم اللّٰہ تعالٰی


    السلام المسنون
    آپ کا طویل دل خراش مکتوب بذریہ رجسٹری موصول ہوا جسے پڑھ کر جواب لکھنے کے لئے طبیعت آمادہ نہ ہوئی کیونکہ آپ کا جارحانہ طرزِ تخاطب اتنا تلخ تھا کہ اس کے احساس نے سنجیدگی کا ساتھ نہ دیا۔ پھر یہ کہ آپ کے اکثر سوالات ایسے تھے جن کے جوابات بارہا دئیے جا چکے ہیں۔ میں خود بھی ’’الحق المبین‘‘ میں ان کے جوابات لکھ چکا ہوں۔ بعض سوالات محض جذباتی تھے جن کا تعلق کسی اصولی بحث سے نہ تھا۔ مثلاً علماء بریلی نے قرآن و حدیث اور علوم دینیہ کی کوئی خدمت نہیں کی نہ کوئی تفسیر لکھی نہ حدیث میں کچھ لکھا نہ فنون میں کوئی کتاب لکھی حتیٰ کہ کوئی شرح یا حاشیہ تک لکھنے کی توفیق نہ ہوئی۔ تمام کتب متداولہ پر ہمارے علماء کے شروح و حواشی پائے جاتے ہیں۔ وہی کتابیں آپ لوگوں کے ہاتھوں میں ہیں وغیرہ وغیرہ۔


    حقانیت کا معیار
    حالانکہ ایک حق پسند انسان اس بات کو آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ حقانیت کا معیار یہ نہیں جو آپ پیش کر رہے ہیں بلکہ ادلہ شرعیہ اور کتاب و سنت کی تصریحات ہی حق کی کسوٹی ہیں۔ اگر ایک بہت بڑے مصنف کے خلاف کوئی شخص استقرارِ حق کا دعویٰ دائر کر دے تو اس کے جواب میں شرعی اور قانونی ثبوت ہی قبول کیا جائے گا۔ یہ نہیں کہ اس مصنف کی تصنیفات اس کے بری الذمہ ہونے کے لئے کافی ہو جائیں۔ حق و باطل کا فیصلہ دلیل سے ہوتا ہے، تصانیف سے نہیں ہوتا۔ پھر یہ کہ علماء بریلی اس حیثیت سے کہ وہ بریلی سے تعلق رکھتے تھے ہرگز ہمارے مقتداء نہیں بلکہ ان کا مقتداء ہونا اس مسلک کی بنا پر ہے جو سوادِ اعظم اہل سنت و جماعت کے نزدیک حق ہے خواہ اس مسلک کے حامی بریلی میں ہوں یا دیوبند میں یا کسی اور جگہ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس مسلک کے حامی علماء کون ہیں اور انہوں نے علمی دنیا میں کیا کارنامے انجام دئیے ہیں تو اس کے متعلق سر دست مجھے کسی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔ آئندہ مباحث پڑھ کر آپ خود فیصلہ کر لیں گے کہ علمائے مفسرین و محدثین جن کے علمی کارناموں کا آپ بھی انکار نہیں کر سکتے کس مکتبۂ فکر کے ہم مسلک تھے۔


    ایک تلخ حقیقت
    اور اگر بریلی کی خصوصیت ہی آپ کے پیشِ نظر ہے تو بفضلہ تعالیٰ میں پورے وثوق کے ساتھ عرض کر سکتا ہوں کہ بریلوی علماء کسی میدان میں کسی کے پیچھے نہیں رہے۔ مگر سوء اتفاق سے جاہ و منصب کے پرستاروں، خود ستائی اور شہرت کے متوالوں کی اجتماعی قوتیں جب نشر و اشاعت کے ذرائع پر حاوی ہو گئیں اور انہوں نے اپنے حریفوں کے خلاف ایک مضبوط اور مستقل محاذ قائم کر لیا تو ایسی صورت میں کیونکر ممکن تھا کہ ان کے کسی مد مقابل کی علمی خدمات منظر عام پر آ سکیں۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے جس کی تفصیل ایک دفتر طویل کو چاہتی ہے۔


    معتزلہ کا اہل سنت پر الزام
    کچھ بھی سہی اتنی بات کا انکار تو کوئی انصاف پسند آدمی نہیں کر سکتا کہ اپنے مخالفوں کو نیچا دکھانے کے لئے اس قسم کے اوچھے ہتھیار ہمیشہ استعمال ہوتے چلے آئے ہیں جس زمانہ میں معتزلہ کے علمی کارناموں کا دور دورہ تھا۔ اہل سنت کو اسی طرح موردِ الزام قرار دیا جاتا رہا۔


    غیر مقلدین کا امام اعظم پر الزام
    غیر مقلدین سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خلاف آج تک یہی کہتے ہیں کہ امام صاحب نے نہ کوئی تفسیر لکھی نہ حدیث ہی کی کوئی خدمت کی۔ صرف سترہ (۱۷) حدیثیں انہیں یاد تھیں۔ انہوں نے ساری عمر قیاس اور رائے کی وادیوں میں گزار دی۔


    ظاہریہ، شوافع اور حنابلہ کا علمائے احناف پر الزام
    متعصب قسم کے ظاہریہ، شوافع اور حنابلہ وغیرہ علماء احناف کے خلاف یہی کہتے رہے کہ یہ لوگ اصحاب الرائے ہیں۔ نہ انہوں نے کوئی تفسیر لکھی نہ حدیث۔ محض فقہی مسائل میں الجھے رہے بلکہ اس زمانہ میں مرزائی بھی اہل حق کے خلاف اس قسم کے اوچھے ہتھیار استعمال کرنے سے باز نہیں آتے۔ یورپ اور امریکہ ممالک میں تبلیغ اسلام کے بلند بانگ مدعی، انگریزی زبان میں بزعم خود تفسیر قرآن لکھنے کے کارناموں کو بیان کر کے زمین و آسمان کے قلابے ملاتے اور اہل حق کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کیا کوئی حق پسند انسان ان باتوں سے متاثر ہو کر حق و باطل کے اصل معیار سے منحرف ہو سکتا ہے؟


    تحریک ختم نبوت میں گرفتار کیوں نہیں ہوئے؟
    ایک سوال خاص میری ذات کے متعلق بھی کیا گیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ تحریک ختم نبوت میں آپ گرفتار کیوں نہیں ہوئے۔ اگرچہ یہ بات اب بے وقت ہے مگر جواباً اتنا ضرور عرض کروں گا کہ جہاں تک عقیدئہ ختم نبوت کا تعلق ہے میرا یہ مضمون آپ کے سامنے ہے جس کو بغور پڑھنے کے بعد آپ خود فیصلہ کر لیں گے کہ رسول اللہ ﷺ کا خاتم النبیین بمعنی آخر النبیین ہونا کس کا عقیدہ ہے؟



    رہا تحریک کے زمانہ میں گرفتاری کا مسئلہ تو اس کا جواب تو آپ کو اس وقت کے مفتیان حکومت سے پوچھنا چاہئے تھا۔ میں تو صرف اتنی بات جانتا ہوں کہ جب مجلس عمل کے ارکان مولوی خیر محمد صاحب جالندھری اور مولوی محمد شفیع صاحب مہتمم مدرسہ قاسم العلوم وغیرہ حضرات نے مجھے ملتان کی تحریک کا صدر بنایا تو میں نے اپنی ذمہ داریوں کو پوری طرح محسوس کرتے ہوئے اپنے فرائض کو بحسن و خوبی انجام دیا جس کی دلیل یہ ہے کہ ہر جگہ یہ تحریک ختم ہونے کے باوجود بھی ملتان میں نہایت پر امن طریقہ سے آخر تک چلتی رہی لیکن چونکہ میں نے امن عامہ کو بھی برقرار رکھنے کی پوری کوشش کی تھی اس لئے مجھے گرفتار نہیں کیا گیا۔


    قابل غور بات
    قابل غور بات یہ ہے کہ صدر کی کارگزاری تو ارکان عاملہ کے فیصلہ کے مطابق ہی ہوا کرتی ہے۔ اس صورت میں اگر میرا گرفتار نہ ہونا آپ کے نزدیک موجب اعتراض ہے تو میری سمجھ میں نہیں آتا کہ مولوی خیر محمد صاحب اور مولوی محمد شفیع صاحب کے گرفتار نہ ہونے پر آپ نے کیوں اعتراض نہیں کیا؟



    صرف یہ نہیں بلکہ مرکزی مجلس عاملہ کا مرکزی نقطہ تو آپ کے مولوی احتشام الحق تھانوی اور مولوی مفتی محمد شفیع دیوبندی تھے۔ اب آپ مجھے بتائیں کہ ان کے گرفتار نہ ہونے میں کیا راز تھا؟


    اتنی نہ بڑھا پاکیٔ داماں کی حکایت
    دامن کو ذرا دیکھ، ذرا بند قبا دیکھ


    خلاصہ یہ ہے کہ آپ کے دل خراش طرزِ تخاطب اور فرسودہ سوالات کے پیش نظر قلم اٹھانے کو دل نہ چاہتا تھا مگر اس کے باوجود آپ کو جواب دینے کی غرض سے نہیں بلکہ حق کو واضح کرنے کے لئے صرف ایک سوال کا جواب حوالہ قلم کرتا ہوں جو باوجود فرسودہ ہونے کے اہمیت رکھتا ہے اور باب عقائد میں اسے بنیادی حیثیت حاصل ہے۔


    لیکن یہ عرض کر دوں کہ میں بہت عدیم الفرصت ہوں اس لئے آپ میری اس تحریر کو پہلی اور آخری تحریر تصور فرمائیں۔ اگر آپ نے انصاف کی نظر سے میرا یہ مضمون پڑھا تو ان شاء اللہ دوبارہ کچھ لکھنے کی آپ کو ضرورت پیش نہ آئے گی۔ البتہ تعصب سے کام لیا گیا تو کسی مرحلہ پر بھی آپ مطمئن نہیں ہو سکتے۔



    مختصراً یہ کہ اگر اس تحریر کے بعد آپ مزید وضاحت کے طالب ہوں تو خط لکھنے کی بجائے آپ خود میرے پاس تشریف لے آئیں، ان شاء اللہ تعالیٰ زبانی معروضات سے دریغ نہ کروں گا مگر بار بار تحریر کے لئے میرے پاس وقت نہیں لہٰذا آئندہ اس سلسلہ میں کسی تحریر کی آپ مجھ سے توقع نہ رکھیں۔



    میں نے اپنے اس مضمون میں بحث کے اہم ترین پہلوؤں کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔ اگر آپ نے اسے بغور پڑھ لیا تو مجھے امید ہے کہ آپ پر اپنے بقیہ سوالات جن کے جوابات ’’الحق المبین‘‘ میں آ گئے ہیں، کی حقیقت بھی منکشف ہو جائے گی اور آپ سمجھ جائیں گے کہ ان کا اعادہ تضییع اوقات کے سوا کچھ نہیں۔ اظہارِ حق کے لئے یہی ایک مضمون کافی ہے۔


    وما توفیقی الا باللّٰہ


    سوال کا خلاصہ اور اس کا جواب
    آپ کے سوال کا خلاصہ یہ ہے کہ مولانا احمد رضا خان صاحب بریلوی نے تحذیر الناس کے تین بے ترتیب اور نامکمل فقروں کو مسلسل کلام میں ایک فقرہ بنا کر کفری مضمون پیدا کر لیا۔ اس کے متعلق میری گزارش ہے کہ
    یہ صحیح ہے کہ اعلیٰ حضرت بریلوی قدس سرہ العزیز نے تحذیر الناس کی تین عبارتوں کو مسلسل کلام میں بیان فرمایا ہے لیکن حضرت موصوف پر یہ الزام سراسر غلط ہے کہ انہوں نے ناتمام فقروں کو مختلف صفحات سے لے کر ایک ہی فقرہ بنا ڈالا۔ حقیقت یہ ہے کہ حسام الحرمین میں تحذیر الناس کی تین مستقل عبارتوں کا خلاصہ مسلسل کلام میں بیان کر دیا گیا ہے۔ حسام الحرمین کی عبارت حسب ذیل ہے


    قاسم النانوتوی صاحب تحذیر الناس وہو القائل فیہ لو فرض فی زمنہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بل لو حدث بعدہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نبی جدید لم یخل ذالک بخاتمیتہ وانما یتخیل العوام انہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم خاتم النبیین بمعنی اٰخر النبیین مع انہٗ لا فضل فیہ اصلاً عند اہل الفہم۔ (حسام الحرمین ص ۱۰۰۰)

    تحذیر الناس کی تین مستقل عبارتوں کا خلاصہ
    اس عبارت میں تحذیر الناس کی تین مستقل عبارتوں کا خلاصہ بیان کیا گیا ہے۔ وہ تین عبارتیں حسب ذیل ہیں
    ۱۔ ’’غرض اختتام اگر بایں معنی تجویز کیا جائے جو میں نے عرض کیا تو آپ کا خاتم ہونا انبیاء گزشتہ ہی کی نسبت خاص نہ ہو گا بلکہ اگر بالفرض آپ کے زمانہ میں بھی کہیں اور نبی ہو جب بھی آپ کا خاتم ہونا بدستور باقی رہتا ہے۔‘‘ ص ۱۳



    ۲۔ ’’ہاں اگر خاتمیت بمعنی اتصاف ذاتی بوصف نبوت لیجئے جیسا کہ اس ہیچمدان نے عرض کیا ہے تو پھر سوائے رسول اللہ ﷺ اور کسی کو افراد مقصودہ بالخلق میں سے مماثل نبوی ﷺ نہیں کہہ سکتے بلکہ اس صورت میں فقط انبیاء کے افراد خارجی ہی پر آپ کی فضیلت ثابت نہ ہو گی افراد مقدرہ پر بھی آپ کی فضیلت ثابت ہو جائے گی۔ بلکہ اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی ﷺ بھی کوئی نبی پیدا ہو تو بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا۔‘‘ (ص ۲۳)



    ۳۔ ’’بعد حمد و صلوٰۃ کے قبل عرض جواب یہ گزارش ہے کہ اول معنی خاتم النبیین معلوم کرنے چاہئیں تاکہ فہم جواب میں کچھ وقت نہ ہو۔ سو عوام کے خیال میں تو رسول ﷺ کا خاتم ہونا بایں معنی ہے کہ آپ کا زمانہ انبیاء سابق کے زمانہ کے بعد اور آپ سب میں آخری نبی ہیں مگر اہل فہم پر روشن ہو گا کہ تقدم یا تاخر زمانی میں بالذات کچھ فضیلت نہیں پھر مقام مدح میں ’’وَلٰـکِن رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیِّیْن‘‘ فرمانا اس صورت میں کیونکر صحیح ہو سکتا ہے؟ ۱ ھ ص ۳



    عبارت ۱ میں لفظ خاتم کو جس معنی میں تجویز کر کے یہ کہا گیا کہ ’’اگر بالفرض آپ کے زمانہ میں بھی کہیں اور نبی ہو جب بھی آپ کا خاتم ہونا باقی رہتا ہے۔‘‘ وہی معنی مرزائی تجویز کرتے ہیں اور یہ ایسے معنی ہیں جنہیںاس آیۂ کریمہ کی تفسیر میں رسول اللہ ﷺ سے لے کر آج تک کسی نے تجویز نہیں کیا۔


    اعتراض غلط ہے
    آپ کا یہ اعتراض کہ حسام الحرمین میں تین مختلف صفحات سے بے ترتیب ناتمام فقروں کو لے کر ایک ہی فقرہ بنا ڈالا قطعاً غلط ہے۔ ہم نے تحذیر الناس کے وہ تینوں بے ترتیب فقرے مختلف صفحات سے خط کشیدہ صورت میں نقل کر دئیے ہیں اور ساتھ ہی زائد عبارت بھی نقل کر دی ہے تاکہ ہر فقرہ کا تمام یا ناتمام ہونا اچھی طرح واضح ہو جائے۔ نیز ان کے مضمون کا وہ خلاصہ بھی ذہن نشین ہو جائے جسے حسام الحرمین میں بیان کیا گیا ہے۔


    تینوں فقرے مستقل ہیں
    ہر منصف مزاج آدمی تحذیر الناس کے منقولہ بالا تینوں حوالوں کو پڑھ کر یہ فیصلہ کرنے پر مجبور ہو گا کہ یہ تینوں مستقل فقرے ہیں۔ ص ۱۳ والے فقرے کا صاف و صریح مطلب یہ ہوا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں بھی اگر کوئی نبی پیدا ہو جاتا تب بھی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خاتم النبیین ہونے میں کچھ فرق نہ آتا۔ ’’بالفرض‘‘ کے لفظ سے ’’پیدا‘‘ ہونے کے معنی نکلتے ہیں۔ کیونکہ پہلے انبیاء میں کسی نہ کسی نبی کا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانۂ اقدس میںہونا تو امر واقعی ہے جیسے عیسیٰ علیہ السلام۔ امر واقعی کو ’’بالفرض‘‘ سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا اس لئے زمانۂ نبوی میں کہیں کسی اور نبی کا ہونا مطلقاً ’’ہونے‘‘ کے معنی نہیں دیتا بلکہ پیدا ہونے کے معنی پر دلالت کرتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک مستقل مضمون ہے جسے مستقل فقرہ میں صاحب تحذیر الناس نے بیان کیا ہے۔


    حضور ﷺ کے بعد جدید نبی
    ص ۲۳ والے دوسرے فقرے کا واضح اور روشن مفہوم یہ ہے کہ حضور ﷺ کے بعد بھی اگر کوئی جدید نبی مبعوث ہو جائے تب بھی حضور ﷺ کے خاتم النبیین ہونے میں کوئی فرق نہ آئے گا۔ یہ بھی ایک مستقل مفہوم ہے جسے مکمل عبارت میں صاحب تحذیر الناس نے بیان کیا ہے۔



    ص ۳ والے تیسرے فقرے کا صاف اور واضح مطلب یہ ہے کہ ’’تاخر زمانی میں فضیلت ماننا اور خاتم النبیین کے یہ معنی سمجھنا کہ حضور ﷺ سب سے پچھلے نبی ہیں، عوام کا خیال ہے، سمجھدار لوگوں کے نزدیک اس میں کچھ فضیلت نہیں۔ لہٰذا یہ معنی غلط ہیں کیونکہ اگر یہ معنی صحیح ہوں تو مقام مدح میں اللہ تعالیٰ کا رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین فرمانا غلط ہو جائے گا۔‘‘ یہ مضمون بھی مکمل ہے جسے مستقل عبارت میں لکھا گیا ہے۔


    تینوں عبارتوں کا مطلب
    ان تینوں عبارتوں اور ان کے واضح مطالب کو دیکھنے اور سمجھنے کے بعد یہ کہنا کہ نامکمل اور بے ترتیب فقروں کو جوڑ کر کفریہ معنی پیدا کئے گئے ہیں، سراسر ظلم اور زیادتی نہیں تو اور کیا ہے؟ تحذیر الناس کی ان تینوں عبارتوں کو ترتیب سے پڑھا جائے یا بے ترتیب، ایک عبارت کو پڑھا جائے یا تینوں کو، ہر ایک کا وہی مطلب ہو گا جو بیان کیا جا چکا ہے اور یہ تینوں عبارتیں اسلام کے تین اصولی عقیدوں کے خلاف ہیں۔



    ۱۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں کبھی کسی نبی کا پیدا ہونا اسلامی عقیدہ کے منافی ہے مگر تحذیر الناس کی پہلی عبارت میں صاف مذکور ہے کہ اگر بالفرض آپ کے زمانہ میں بھی کہیں اور نبی (پیدا) ہو جب بھی آپ کا خاتم ہونا بدستور باقی رہتا ہے۔ ص ۱۳



    ۲۔ دوسری عبارت میں واضح طور پر مذکور ہے کہ ’’بلکہ اگر بالفرض بعد زمانۂ نبوی ﷺ بھی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا۔ ص ۲۳



    حالانکہ بعد زمانۂ نبوی ﷺ کسی نبی کے پیدا ہونے سے خاتمیت محمدی میں ضرور فرق آئے گا۔ حضور کے بعد کسی نبی کا پیدا ہونا اسلام کے بنیادی عقیدہ کے قطعاً مخالف ہے۔



    ۳۔ تیسری عبارت میں بھی صاف صاف مذکور ہے کہ ’’عوام کے خیال میں تو رسول اللہ ﷺ کا خاتم ہونا بایں معنی ہے کہ آپ کا زمانہ انبیاء سابق کے زمانہ کے بعد اور آپ سب میں آخر نبی ہیں۔ مگر اہل فہم پر روشن ہو گا کہ تقدم یا تأخر زمانی میں بالذات کچھ فضیلت نہیں پھر مقام مدح میں ’’وَلٰـکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیِّیْن‘‘ فرمانا اس صورت میں کیونکر صحیح ہو سکتا ہے؟ ص ۳



    ہر مسلمان قطعاً یقینا جانتا ہے کہ حضور ﷺ کا خاتم النبیین ہونا بلاشبہ اسی معنی میں ہے کہ حضور ﷺ کا زمانہ انبیاء سابقین کے زمانہ کے بعد ہے اور آپ سب میں آخری نبی ہیں۔ یہ عقیدہ اور اسی طرح پہلے دونوں عقیدے اسلام کے ان بنیادی عقائد میں سے ہیں جن کا منکر مسلمان نہیں ہو سکتا۔


    اعلیٰ حضرت پر الزام غلط ہے
    ہم نے واضح کر دیا کہ اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر یہ الزام قطعاً بے بنیاد ہے کہ انہوں نے تحذیر الناس کے تین نامکمل غیر مرتب فقروں کو ملا کر ایک کفریہ مضمون پیدا کر دیا۔ بنظر انصاف دیکھنے والا فوراً کہے گا کہ یہ الزام دروغ بے فروغ ہے بلکہ تحذیر الناس کی ہر عبارت اپنے مضمون میں مکمل اور مستقل ہے اور تینوں میں سے ہر ایک عبارت اسلام کے اصولی اور بنیادی عقیدہ کے خلاف غیر اسلامی نظریہ کی حامل ہے۔


    دوسرا اعتراض اور اس کا جواب
    حسام الحرمین کی عبارت پر دوسرا اعتراض یہ بھی کیا جاتا ہے کہ تحذیر الناس کی عبارت یہ ہے کہ ’’اہل فہم پر روشن ہو گا کہ تقدم یا تأخر زمانی میں بالذات کچھ فضیلت نہیں۔‘‘
    لیکن حسام الحرمین میں اس کا عربی ترجمہ یوں کیا گیا کہ ’’لا فضل فیہ اصلاً عند اہل الفہم‘‘ ’’بالذات‘‘ کا لفظ اڑا دیا گیا جس سے تحذیر الناس کی عبارت میں کفری معنی پیدا ہو گئے۔ مگر اعتراض کرنے والوں نے یہ نہ دیکھا کہ اسی تحذیر الناس میں اسی عبارت کے آخر میں یہ بھی موجود ہے کہ
    ’’پھر مقام مدح میں ’’وَلٰـکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیِّیْن‘‘ فرمانا اس صورت میں کیونکر صحیح ہو سکتا ہے۔‘‘



    اس کا صاف اور صریح مطلب یہ ہوا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا سب سے آخری نبی ہونا معاذ اللہ اس قابل ہی نہیں کہ اس کو حضور کی مدح و تعریف میں بیان کیا جائے تو مطلقاً اس وصف مبارک میں فضیلت ہونے کا انکار ہوا۔ ایک عام انسان بھی جانتا ہے کہ مقام مدح میں ذکر کرنے کے لئے کسی وصف کا محض فضیلت ہونا کافی ہے عام اس سے کہ وہ بالذات ہو یا بالعرض۔ دیکھئے نانوتوی صاحب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ماسوا تمام انبیاء علیہم السلام کی نبوت کو بالذات نہیں بلکہ بالعرض مانتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ قرآن مجید میں ان کے وصف نبوت کا ذکر مقام مدح میں جابجا وارد ہوا ہے جس کا انکار نانوتوی صاحب بھی نہیں کر سکتے۔ معلوم ہوا کہ مقام مدح میں کسی وصف کے ذکر کی صحت اس کے بالذات فضیلت ہونے پر موقوف نہیں بلکہ مطلقاً فضیلت ہونا بھی صحت ذکر کے لئے کافی ہے۔ جب نانوتوی صاحب کے نزدیک خاتم النبیین کے معنی آخر النبیین ہونا محض عوام کا خیال ہے اور وہ اس صورت میں یعنی خاتم النبیین بمعنی آخر النبیین ہونے کی تقدیر پر لفظ خاتم النبیین کو مقام مدح میں بیان کئے جانے کو صحیح نہیں مانتے تو صاف ظاہر ہو گیا کہ ان کی عبارت میں بالذات کا لفظ بالکل مہمل اور بے معنی ہے اور رسول اللہ ﷺ کے آخر النبیین ہونے میں ان کے نزدیک کسی قسم کی کوئی فضیلت نہیں، نہ بالذات نہ بالعرض۔ ورنہ وہ آخر النبیین کے معنی میں لفظ ’’خاتم النبیین‘‘ کے ذکر کو مقام مدح میں بلا تامل صحیح قرار دیتے۔ یہ ادعائے عدم صحت اس حقیقت پر آفتاب سے زیادہ روشن دلیل ہے کہ صاحب تحذیر الناس کے نزدیک حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے آخری نبی ہونے میں کوئی اصلاً فضیلت نہیں۔ لہٰذا اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے ان کی اردو عبارات کا جو مطلب عربی میں بیان فرمایا ہے وہ بالکل صحیح ہے۔ انہوں نے تحذیر الناس کی ہر سہ عبارات کے مطالب و معانی کو نقل کیا ہے۔ الفاظ و کلمات کی نقل کا حسام الحرمین میں کسی جگہ دعویٰ نہیں فرمایا۔ اگر کوئی شخص حسام الحرمین میں نقل الفاظ کے دعویٰ کا مدعی ہے تو وہ اس پر دلیل لائے ہم پورے وثوق کے ساتھ کہتے ہیں کہ وہ نقل الفاظ و کلمات کا دعویٰ ثابت نہ کر سکے گا اور اہل علم سے مخفی نہیں کہ نقل بالمعنی کے لئے الفاظ و کلمات کو بعینہا نقل کرنا قطعاً ضروری نہیں۔ لہٰذا حسام الحرمین میں بالذات کا لفظ نہ ہونا ہرگز خیانت پر محمول نہیں کیا جا سکتا۔



    مختصر یہ کہ حسام الحرمین میں تحذیر الناس کی مختلف مقامات سے جو تین عبارتیں نقل کی گئی ہیں وہ ناتمام فقرے نہیں ہیں بلکہ مستقل عبارتیں ہیں پورے پورے جملے ہیں اور ان میں سے ہر ایک جملہ بجائے خود ایک غیر اسلامی عقیدے کو بیان کرتا ہے۔ ان کی ترتیب بدل جانے سے ان کے مطالب پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔


    وصف نبوت بالذات و بالعرض اور ختم ذاتی و زمانی
    ساری امت مسلمہ کے نزدیک حضور ﷺ کے حق میں ختم زمانی کے معنی تو ظاہر ہیں کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام تمام انبیاء سابقین علیہم الصلوٰۃ والتسلیم کے بعد تشریف لائے اور حضور ﷺ کا زمانہ سب نبیوں کے بعد ہوا۔ نانوتوی صاحب اس ختم زمانی میں کچھ فضیلت نہیں مانتے۔ حتیٰ کہ مقام مدح میں اس کا ذکر ان کے نزدیک صحیح نہیں۔ جیسا کہ تحذیر الناس کی عبارت ص ۳ سے ہم نقل کر چکے ہیں۔


    چھ زمینوں میںچھ خاتم النبیین
    اصل بات یہ ہے کہ اثر عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو تسلیم کر لینے کے بعد اس کی توجیہ کرتے ہوئے ہمارے رسول حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بقیہ چھ زمینوں میں جو چھ خاتم النبیین نانوتوی صاحب نے تجویز کئے ظاہر ہے کہ اس کے پیشِ نظر اثر مذکور دو وجہ سے آیۂ کریمہ ’’وَلٰـکِن رَّسُوْل اللّٰہ وَ خَاتَمَ النَّبِیِّیْن‘‘ کے مخالف قرار پاتا ہے۔ ایک یہ کہ اس آیت میں ’’وخاتم النبیین‘‘ کے معنی ساری امت کے نزدیک ’’آخر النبیین‘‘ ہیں جس کا مفاد یہ ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعثت دنیوی کا زمانہ سب نبیوں کی بعثت کے بعد ہے اور یہ امر بدیہی ہے کہ جس طرح قبلیت ’’بعدیت‘‘ کے معارض ہے اسی طرح ’’معیت‘‘ بھی ’’بعدیت‘‘ کے منافی ہے۔ لہٰذا کسی نبی کا حضور ﷺ کے بعد یا حضور ﷺ کی معیت میں مبعوث ہونا دونوں باتیں حضور ﷺ کے ’’خاتم النبیین‘‘ بمعنی ’’آخر النبیین‘‘ ہونے کے خلاف ہیں۔



    دوسرے یہ کہ مقام مدح میں وصف مدح کا ممدوح کے ساتھ خاص ہونا ضروری ہے۔ جب اثر مذکور کو صحیح مان کر ہمارے حضور ﷺ کے ساتھ مزید چھ خاتم النبیین تسلیم کر لئے تو ’’خاتم النبیین‘‘ ہونا ہمارے رسول حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا وصف خصوصی نہ رہا۔ لہٰذا آیت کریمہ ’’وَلٰـکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیِّیْن‘‘ باوجود مقام مدح میں وارد ہونے کے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مدح نہ رہی۔


    ایک نیا راستہ: نبوت کی تقسیم
    ان دونوں باتوں کا مقتضا یہ ہے کہ اثر مذکور معلل قرار دے کر ساقط الاعتبار کر دیا جاتا یا اس کی ایسی تاویل کی جاتی کہ مذکورہ بالا دونوں خرابیوں کا انسداد ہو جاتا، جیسا کہ محققین محدثین نے کیا ہے لیکن مصنف تحذیر الناس نے ایک نیا راستہ نکالا۔ اثر مذکور کی بجائے آیۂ کریمہ ’’وَلٰـکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیِّیْن‘‘ کو اپنی تاویلاتِ فاسدہ کا تختۂ مشق بنا لیا۔ وصف نبوت کو ’’بالذات‘‘ اور ’’بالعرض‘‘ کی طرف تقسیم کیا۔ دیکھئے وہ کہتے ہیں
    ’’آپ موصوف بوصف نبوت بالذات ہیں اور سوائے آپ کے اور نبی موصوف بوصف نبوت بالعرض ہیں۔‘‘ (تحذیر الناس ص ۴)



    اور آیۂ کریمہ ’’وَلٰـکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیِّیْن‘‘ کے معنی بیان کرتے ہوئے صاف کہا کہ رسول اللہ ﷺ کا خاتم النبیین ہونا بایں معنی کہ آپ کا زمانہ انبیائے سابقین کے زمانہ کے بعد ہے اور آپ سب میں آخری نبی ہیں، عوام کا خیال ہے۔ بنائے خاتمیت تأخر زمانی کے بجائے نبوت بالذات کو قرار دیا۔


    نبوت بالذات کو بنائے خاتمیت قرار دینا باطل ہے
    بالذات اور بالعرض کی تقسیم شرعاً باطل ہے تو وصف نبوت بالذات کو بنائے خاتمیت قرار دینا بداہۃً باطل ہے۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ وصف ذاتی اور اصلی وصف عرض اور غیر اصلی سے افضل ہوتا ہے۔ لہٰذا ذاتی نبوت عرضی نبوت سے افضل قرار پائے گی۔ جیسا کہ خود صاحب تحذیر الناس نے تسلیم کیا ہے۔ اس تقدیر پر نفس نبوت میں تفضیل کا قول کرنا پڑے گا جو قرآن و حدیث اور علمائے امت کے مسلک کے منافی ہے۔ دیکھئے قرآن کریم میں ہے ’’لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِہٖ‘‘ اس آیۂ کریمہ میں عدم تفریق من حیثیت النبوۃ والرسالۃ ہے۔
    روح المعانی پارہ ۳ میں ہے’’لان المعتبر عدم التفریق من حیث الرسالۃ دون سائر الحیثیات‘‘ ۱ ھ اور تفسیر کبیر جلد ۲ ص ۵۶۹ میں ہے’’بل معنی الاٰیۃ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِہٖ وَبَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ غَیْرِہٖ فِی النُّبُوَّۃِ‘‘ ۱ ھ
    اور ابو السعود بہامش الکبیر جلد ۲ ص ۵۷۳ میں ہے’’لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِہٖ‘‘ لان المعتبرۃ عدم التفریق من حیث الرسالۃ دون سائر الحیثیات الخاصۃ۔ ۱۱ ھ


    نبوت اور رسالت میں ذاتی و عرضی کی تفریق باطل ہے
    مفسرین کرام کی عبارات کی روشنی میں آیۂ کریمہ کا مفہوم صاف طور پر واضح ہو گیا کہ نبوت اور رسالت میں ذاتی اور عرضی کی تفریق اور اس بنا پر ادعائے تفضیل قطعاً باطل ہے۔


    نفس نبوت میں تفضیل ممنوع ہے
    اسی طرح حدیث شریف سے بھی ثابت ہے کہ نفس نبوت میں تفضیل ممنوع ہے۔ دیکھئے حدیث شریف میں وارد ہےلا تخیرونی علی موسٰی۔ الحدیث (مرفوع عن ابی ہریرہ بخاری جلد اول جزو ۹ باب الخصومات ص ۳۲۵)
    عینی شرح بخاری میں ہےالخامس انہ نہی عن التفضیل فی نفس النبوۃ لا فی ذوات الانبیاء علیہم السلام وعموم رسالتہم وزیادۃ خصائصہم وقد قال تعالٰی تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَہُمْ عَلٰی بَعْضٍ۔ (عینی جلد ۱۲ ص ۲۵۱ طبع جدید)
    اس حدیث کے تحت حافظ علامہ ابن حجر عسقلانی تحریر فرماتے ہیںوقیل النہی عن التفضیل انما ہو فی حق النبوۃ نفسہا کقولہ تعالٰی ’’لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِہٖ‘‘ ولم ینہ عن تفضیل بعض الذوات علی بعض لقولہ تعالٰی ’’تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَہُمْ عَلٰی بَعْضٍ‘‘۔ ۱ھ (فتح الباری جلد ۶ ص ۳۴۶ طبع مصر)
    علامہ قسطلانی بھی شرح بخاری میں حدیث ’’ما ینبغی لاحد ان یقول خیرا من ابن متی‘‘ کے تحت انہی الفاظ میں رقم طراز ہیں۔ دیکھئے قسطلانی کتاب التفسیر سورئہ صافات جلد سابع ص ۳۱۵’’ای فی نفس النبوۃ اذلا تفاضل فیہا نعم بعض النبیین افضل من بعض کما ہو مقرر ۱ ھ‘‘
    نیز اسی صفحہ پر آٹھ سطر کے بعد فرماتے ہیں’’ونفس النبوۃ لا تفاضل فیہا اذ کلہم فیہا علی حد سواء کما مر‘‘
    اسی طرح بخاری شریف جلد اول ص ۴۸۴ باب وفات موسیٰ علیہ السلام کے حاشیہ میں حدیث ’’لا تخیرونی علٰی موسٰی‘‘ پر مرقوم ہے’’قولہ لا تخیرونی علٰی موسٰی وقیل النہی عن التفضیل انما ہو فی حق النبوۃ نفسہا لقولہ تعالٰی ’’لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِہٖ‘‘ لا فی ذوات الانبیاء وعموم رسالتہم لقولہٖ تعالٰی ’’تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَہُمْ عَلٰی بَعْضٍ‘‘۔ ۱ ھ
    نیز حاشیہ بخاری میں حدیث ’’ولا اقول ان احدا افضل من یونس بن متی‘‘ جلد اول ص ۴۸۵ پر مسطور ہے’’قولہ لا اقول ان احدا افضل ای لا اقول ان احدا خیر من یونس من تلقائ نفسی ولا افضل علیہ احدا من حیث النبوۃ‘‘ ۱ ھ
    عبارات منقولہ کی روشنی میں یہ حقیقت آفتاب سے زیادہ روشن ہو کر سامنے آ گئی کہ ہمارے آقائے نامدار ﷺ سے لے کر حضرت آدم علیہ السلام تک کسی نبی کی نبوت میں دوسرے نبی کی نبوت کے بالمقابل کوئی فرق نہیں پایا جاتا۔ نہ کسی نبی کا وصف نبوت کسی دوسرے نبی کے وصف نبوت سے کم و بیش ہو سکتا ہے ’’لا تفضیل فی النبوۃ‘‘ نفس نبوت میں قطعاً کوئی تفضیل نہیں۔ البتہ ذواتِ انبیائے کرام و رسل عظام علیہم الصلوٰۃ والسلام میں خصوصیات کی بنا پر ضرور تفضیل ہے۔ قال اللّٰہ تعالٰی’’تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَہُمْ عَلٰی بَعْضٍ‘‘ لہٰذا صاحب تحذیر الناس نے اپنے مذہب جدیدہ کی عمارت جس بنیاد پر قائم کی تھی وہ بنیاد ہی ختم ہو گئی۔ اب عمارت کی بقا کیونکر متصور ہو سکتی ہے؟
  2. ‏ جون 10, 2017 #2
    مبشر شاہ

    مبشر شاہ رکن عملہ منتظم اعلی

    ایک اعتراض کا جواب
    ’’الفرقان‘‘ وغیرہ میں کم فہمی یا مغالطہ کی بنا پر یہ کہا گیا ہے کہ ہمارا تمہارا دونوں کا متفق علیہ مسلک ہے کہ کسی کو کوئی کمال رسول کریم ﷺ کے واسطے کے بغیر نہیں ملا اور نبوت بھی کمال ہے۔ وہ حضور ﷺ کے واسطے کے بغیر کسی کو کیونکر مل سکتی ہے؟ لہٰذا مانا پڑے گا کہ ہر نبی کو وصف نبوت بواسطہ نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم دیا گیا اور بالذات اور بالعرض سے یہی مراد ہے۔



    اس کے جواب میں گزارش کروں گا کہ یہ ایک عجیب قسم کا مغالطہ ہے جس سے جہلاء تو متاثر ہو سکتے ہیں مگر ذی علم انسان کی نظر میں اس کی کچھ حقیقت نہیں۔ نانوتوی صاحب نے حضور ﷺ کو وصف نبوت کے ساتھ بالذات موصوف مانا ہے جس کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے تحذیر الناس میں لکھا ہے
    ’’تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ موصوف بالعرض کا قصہ موصوف بالذات پر ختم ہو جاتا ہے جیسے موصوف بالعرض کا وصف موصوف بالذات سے مکتسب ہوتا ہے۔ موصوف بالذات کا وصف جس کا ذاتی ہونا اور غیر مکتسب من الغیر ہونا لفظ بالذات ہی سے معلوم ہے کسی غیر سے مکتسب اور مستعار نہیں ہوتا۔‘‘ (تحذیر الناس ص ۳)



    آگے چل کر لکھتے ہیں
    ’’الغرض یہ بات بدیہی ہے کہ موصوف بالذات سے آگے سلسلہ ختم ہو جاتا ہے چنانچہ خدا کے لئے کسی اور خدا کے نہ ہونے کی وجہ اگر ہے تو یہی ہے۔‘‘(تحذیر الناس ص ۳)



    ان دونوں عبارات سے صاف ظاہر ہے کہ نانوتوی صاحب کے نزدیک وصف ذاتی سے وہ وصف مراد ہے جس پر وصف عرضی کا قصہ ختم ہو جائے جیسا کہ انہوں نے خدا کے لئے کسی اور خدا کے نہ ہونے کی یہی وجہ بیان کی ہے۔



    لیکن امت مسلمہ کے نزدیک حصول کمال میں حضور ﷺ کے واسطہ ہونے سے یہ مراد نہیں کیونکہ حضور ﷺ ہر کمال کے حصول میں واسطہ ہیں خواہ وہ نبوت ہو یا غیر نبوت۔ حتیٰ کہ حصول ایمان میں بھی حضور ﷺ واسطہ ہیں۔ نانوتوی صاحب بھی اسی کے قائل ہیں۔ چنانچہ انہوں نے تحذیر الناس میں ارقام فرمایا
    ’’اور یہ بات اس بات کو مستلزم ہے کہ وصف ایمانی آپ میں بالذات ہو اور مومنین میں بالعرض۔‘‘ (تحذیر الناس ص ۱۲)



    مگر آج تک کسی نے نہیں کہا کہ معاذ اللہ ایمان، علم، عمل، ایقان، ہدایت و تقویٰ کا سلسلہ حضور ﷺ پر ختم ہو گیا اور حضور ﷺ کے بعد کوئی مومن نہیں ہوا نہ صالح نہ متقی نہ مہتد، العیاذ باللہ بلکہ یہ سب اوصاف و کمالات اب بھی جاری ہیں اور آئندہ بھی جاری رہیں گے اور نبوت کے جاری نہ ہونے کی یہ وجہ آج تک کسی نے بیان نہیں کی کہ حضور ﷺ کے علاوہ دیگر انبیاء علیہم السلام میں اس وصف کے عرضی ہونے کی وجہ سے موصوف بالعرض کا سلسلہ موصوف بالذات پر ختم ہو گیا بلکہ محض اس لئے کہ آیۂ کریمہ ’’وَلٰـکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیِّیْن‘‘ اور اسی طرح احادیث متواترۃ المعنی حضور ﷺ کے آخری النبیین ہونے پر دلالت قطعیہ کے ساتھ دال ہیں۔ ورنہ اگر وصف ذاتی کی بنا پر امت مسلمہ حضور ﷺ کی ذاتِ مقدسہ پر سلسلۂ نبوت ختم ہونے کی قائل ہوتی تو اسے بقیہ تمام اوصاف کو بھی اسی اتصاف ذاتی کی وجہ سے حضور ﷺ پر ختم کرنا پڑتا یعنی اس امر کو تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ ہوتا کہ نبوت کے ساتھ ایمان و ایقان، عمل و ہدایت و تقویٰ وغیرہ تمام اوصافِ حسنہ بلکہ سب کمالات حضور ﷺ پر ختم ہو گئے۔ اب حضور ﷺ کے بعد معاذ اللہ نہ کوئی مومن ہے نہ متقی، نہ صالح نہ عالم۔ کیونکہ موصوف بالعرض کا قصہ موصوف بالذات پر ختم ہو گیا۔ مگر ایسی بات کا تسلیم کرنا تو درکنار اس کا تصور بھی اسلامی ذہن کے لئے ناقابل برداشت ہے۔


    واسطہ کمال نبوت ہونا اور نبوت سے
    بالذات متصف ہونا ایک بات نہیں
    معلوم ہوا کہ امت مسلمہ کے مسلک کے مطابق حضور ﷺ کا واسطہ کمال نبوت ہونا اور صاحب تحذیر الناس کے قول کے مطابق حضور کا کمال نبوت سے متصف بالذات ہونا ایک بات نہیں، دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ نانوتوی صاحب کے قول پر نفس کمال نبوت میں تفضل کا قول کرنا پڑتا ہے جس کا بطلان ہم ابھی کتاب و سنت اور اقوال مفسرین و محدثین سے بیان کر چکے ہیں اور امت مسلمہ کے مسلک کی روشنی میں حضور کی ذات مقدسہ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے جس کی حقانیت پر آیۂ کریمہ ’’تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَہُمْ عَلٰی بَعْضٍ‘‘ شاہد عدل ہے۔



    الحمد للّٰہ! اس بیان کی روشنی میں ’’الفرقان‘‘ کا یہ اعتراض ھبایٔ منثورًا ہو گیا اور حقیقت واقعیہ واضح ہو کر سامنے آ گئی۔


    موصوف بالذات کے لئے تاخر زمانی کا لزوم
    البتہ اس مقام پر پرستارانِ تحذیر کو سوچنا پڑے گا کہ موصوف بالذات پر موصوف بالعرض کے سلسلہ کو ختم کر کے تاخر زمانی کے لزوم کا قول کیسے قبیح نتائج پر منتج ہوتا ہے۔ اس قول کی بنا پر سد باب نبوت ہی کے لزوم پر بات ختم نہیں ہوتی بلکہ ایمان و ایقان، علم و عمل، ہدایت و تقویٰ غرض ہر خوبی اور ہر کمال کا دروازہ بند ہونا لازم آتا ہے اور نبی کریم ﷺ کے بعد جس طرح کسی نبی کے آنے کے استحالہ کا لزوم مانا گیا ہے اسی طرح مومن صالح متقی مہتد کے وجود کو بھی حضور کے بعد محال ماننا پڑتا ہے کیونکہ تحذیر الناس کا بنیادی نکتہ ہی یہ ہے کہ موصوف بالذات کے لئے تأخر زمانی لازم ہے۔
    اصل مبحث

    تحذیر الناس کی متنازعہ عبارات کے مطالب کی توضیح کے لئے ضروری ہے کہ ہم سب سے پہلے یہ بتائیں کہ رسالہ تحذیر الناس کس مسئلہ پر لکھا گیا ہے۔ بنا بریں گزارش ہے کہ اس رسالہ تحذیر الناس کی بنیاد ایک استفتاء پر ہے جو قول منسوب الی عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے متعلق نانوتوی صاحب کی خدمت میں پیش کیا گیا ہے اور انہوں نے اس کے جواب میں رسالہ تحذیر الناس تحریر کیا۔ وہ قول مذکور حسب ذیل ہےان اللّٰہ خلق سبع ارضین فی کل ارض اٰدم کادمکم ونوح کنو حکم وابراہیم کابراہیمکم وعیسٰی کعیساکم ونبی کنبیکم۔ (تحذیر ص ۳)
    (ترجمہ) بے شک اللہ تعالیٰ نے سات زمینیں پیدا کیں۔ ہر زمین میں آدم ہے تمہارے آدم کی طرح اور نوح ہے تمہارے نوح کی طرح اور ابراہیم ہے تمہارے ابراہیم کی طرح اور عیسیٰ ہے تمہارے عیسیٰ کی طرح اور نبی ہے تمہارے نبی کی طرح
    (علٰی نبینا وعلیہم الصلٰوۃ والسلام ناقل)


    کتاب اللہ کو تاویلات کا تختۂ مشق بنا ڈالا
    اس قول سے صاف ظاہر ہے کہ ساتوں زمینوں میں ایک ایک نبی بلکہ خاتم النبیین پایا جاتا ہے۔ لہٰذا ہمارے رسول کریم خاتم النبیین کے علاوہ چھ خاتم بقیہ چھ زمینوں میں مزید ثابت ہوئے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے اس قول کی صحت میں علمائے محدثین کا اختلاف ہے۔ مگر صاحب تحذیر الناس نے اسے صحیح مان کر جواب لکھا ہے۔ چونکہ اس روایت کا مضمون آیۂ کریمہ ’’مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالکُمْ وَلٰـکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیِّیْن‘‘ کے خلاف ظاہر ہوتا تھا اس لئے صاحب تحذیر الناس نے اس بات کی کوشش کی کہ اس ظہور تخالف کو کس طرح دور کیا جائے۔ اس مقصد کے لئے بجائے اس کے کہ وہ اس مختلف فیہ قول میں کوئی تاویل کرتے انہوں نے قرآن کریم کی آیۂ کریمہ اور کتاب اللہ کی نص صریح کو اپنی تاویلات کا تختۂ مشق بنا ڈالا۔ چنانچہ ارشاد فرمایا
    ’’بعد حمد و صلوٰۃ کے قبل عرض جواب یہ گزارش ہے کہ اول معنی خاتم النبیین معلوم کرنے چاہئیں تاکہ فہم جواب میں کچھ دقت نہ ہو۔ سو عوام کے خیال میں تو رسول اللہ ﷺ کا خاتم ہونا بایں معنی ہے کہ آپ کا زمانہ انبیائے سابق کے بعد ہے اور آپ سب میں آخری نبی ہیں مگر اہل فہم پر روشن ہے کہ تقدم یا تأخر زمانی میں بالذات کچھ فضیلت نہیں پھر مقام مدح میں’’وَلٰـکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیِّیْن‘‘ فرمانا اس صورت میں کیونکر صحیح ہو سکتا ہے۔ ہاں اگر اس وصف کو اوصافِ مدح میں سے نہ کہئے اور اس مقام کو مقام مدح قرار نہ دیجئے تو البتہ خاتمیت باعتبار تأخر زمانی صحیح ہو سکتی ہے۔ مگر میں جانتا ہوں کہ اہل اسلام میں سے کسی کو یہ بات گوارا نہ ہو گی کہ ا س میں ایک تو خدا کی جانب نعوذ باللہ زیادہ گوئی کا وہم ہے۔ آخر اس وصف میں اور قد وقامت و شکل و رنگ و حسب و نسب و سکونت وغیرہ اوصاف میں جن کو نبوت یا اور فضائل میں کچھ دخل نہیں، کیا فرق ہے جو اس کو ذکر کیا اوروں کو ذکر نہ کیا۔ دوسرے رسول اللہ ﷺ کی جانب نقصان قدر احتمال ہے کیونکہ اہل کمال کے کمالات کا ذکر کیا کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کے اس قسم کے احوال بیان کرتے ہیں۔ اعتبار نہ ہو تو تاریخوں کو دیکھ لیجئے۔ باقی یہ احتمال کہ دین آخری دین تھا اس لئے سد باب اتباع مدعیان نبوت کیا ہے جو کل جھوٹے دعوے کر کے خلائق کو گمراہ کریں گے۔ البتہ فی حد ذاتہ قابل لحاظ ہے۔ پر جملہ ’’مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ‘‘ اور جملہ ’’وَلٰـکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیِّیْن‘‘ میں کیا تناسب تھا جو ایک دوسرے کو عطف کیا اور ایک کو مستدرک منہ اور دوسرے کو مستدرک قرار دیا۔ ظاہر ہے کہ اس قسم کی بے ربطی اور بے ارتباطی خدا کے کلام معجز نظام میں متصور نہیں۔ اگر سد باب منظور ہی تھا تو اس کے لئے بیسیوں موقع تھے بلکہ بناء خاتمیت اور بات پر ہے جس سے تأخر زمانی اور سد باب مذکور خود بخود لازم آ جاتا ہے اور فضیلت نبوی دوبالا ہو جاتی ہے۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ موصوف بالعرض کا قصہ موصوف بالذات پر ختم ہو جاتا ہے۔ جیسے موصوف بالعرض کا وصف موصوف بالذات سے مکتسب ہوتا ہے۔ موصوف بالذات کا وصف جس کا ذاتی ہونا اور غیر مکتسب من الغیر ہونا لفظ بالذات ہی سے مفہوم ہے کسی غیر سے مکتسب اور مستعار نہیں ہوتا۔‘‘ (تحذیر الناس ص ۳، ۴)



    اس عبارت میں صاحب تحذیر الناس نے مندرجہ ذیل غلطیاں کی ہیں جن کا ارتکاب مضمون آیت کے بالکل خلاف اور اسلامی عقائد کے صریح منافی ہے۔


    تحذیر الناس میں نانوتوی صاحب کی غلطیاںغلطی نمبر ۱
    نانوتوی صاحب نے ایک ایسی روایت کی حمایت میں جس کی صحت محدثین کی نظر میں محلّ نظر ہے اور اس کا ظاہر مفہوم بھی آیۂ قرآنیہ کے اجماعی مفہوم کے خلاف ہے، کلام الٰہی میں تاویلات فاسدہ کیں۔غلطی نمبر ۲
    قرآن میں لفظ خاتم النبیین کے معنی آخر النبیین مراد لینا عوام کا خیال بتایا۔غلطی نمبر ۳
    اہل فہم کے نزدیک تأخر زمانی کے وصف کو اس قابل نہ مانا کہ اسے مقام مدح میں ذکر کیا جائے۔غلطی نمبر ۴
    تأخر زمانی کی تقدیر پر آیۂ کریمہ کے دونوں جملوں کو غیر مربوط اور استدراک کو غیر صحیح قرار دیا جو اللہ تعالیٰ کے کلام معجز نظام میں متصور نہیں۔غلطی نمبر ۵
    آیۂ کریمہ میں لفظ خاتم النبیین کو بمعنی آخر النبیین تسلیم کرنے پر اللہ تعالیٰ کے حق میں معاذ اللہ زیادہ گوئی کا وہم پیدا کیا۔غلطی نمبر ۶
    آیۂ کریمہ میں لفظ خاتم النبیین سے آخر النبیین مراد لینے کی صورت میں معاذ اللہ رسول اللہ ﷺ کی جانب نقصان قدر کا احتمال قائم کیا۔غلطی نمبر ۷
    حضور ﷺ کے وصف آخر النبیین و دیگر اوصاف مثلاً حسب نسب اور سکونت وغیرہ میں کوئی فرق نہ جانا گویا نانوتوی صاحب کے نزدیک آخر النبیین ہونے کے وصف اور ہاشمی قریشی یا مکی مدنی ہونے کی صفت میں معاذ اللہ کوئی فرق نہیں حالانکہ ہاشمی قریشی یا مکی مدنی ہونے کی صفت تو بعض مشرکین کفار اور منافقین کے لئے بھی ثابت تھی مگر اس کے باوجود نانوتوی صاحب کو ان اوصاف اور خاتم النبیین ہونے کی صفت میں کوئی فرق نظر نہ آیا۔غلطی نمبر ۸
    آیۂ کریمہ ’’وَلٰـکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیِّیْن‘‘ میں بنائے خاتمیت ختم ذاتی کو قرار دیا اور تأخر زمانی کو مبناء خاتمیت تسلیم نہ کیا حالانکہ عہد رسالت سے لے کر آج تک کسی مفسر نے تاخر زمانی کے سوا کسی اور بات کو بنائے خاتمیت قرار نہیں دیا۔غلطی نمبر ۹
    نبوت کو بالذات اور بالعرض کی طرف تقسیم کیا۔ نانوتوی صاحب کی یہ اتنی بڑی جرأت ہے جو چودہ سو برس کے عرصہ میں کسی مسلمان نے نہیں کی۔غلطی نمبر ۱۰
    نانوتوی صاحب کے نزدیک کلام الٰہی ’’وَلٰـکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیِّیْن‘‘ کا سوق رسول اللہ ﷺ کے تاخر زمانی کے بیان کرنے کے لئے نہیں ہوا بلکہ سوق کلام خاتمیت ذاتیہ کے لئے ہوا جس کا مفاد یہ ہے کہ آیت کریمہ ’’وَلٰـکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیِّیْن‘‘ نانوتوی صاحب کے نزدیک رسول اللہ ﷺ کے آخر النبیین ہونے کے معنی میں نص نہیں۔غلطی نمبر ۱۱
    نانوتوی صاحب کے نزدیک ختم زمانی کے لئے تاخر ذاتی لازم ہے حالانکہ یہ بات بداہۃً باطل ہے۔ جیسا کہ ان شاء اللہ اس پر تنبیہ کی جائے گی۔غلطی نمبر ۱۲
    نانوتوی صاحب نے آیۂ کریمہ ’’وَلٰـکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیِّیْن‘‘ کی تفسیر کرتے ہوئے خرق اجماع کیا اور وہ تقریر کی جس کی طرف علمائِ امت میں سے کسی کا ذہن منتقل نہ ہوا تھا۔غلطی نمبر ۱۳
    نانوتوی صاحب کے نزدیک ختم زمانی کے مقابلہ میں ختم ذاتی حضور ﷺ کے شایانِ شان ہے، ختم زمانی نہیں۔غلطی نمبر ۱۴
    اس بحث میں نانوتوی صاحب نے ایک دعویٰ کی دلیل بیان کرتے ہوئے ص ۵ پر لکھا کہ
    ’’انبیاء اپنی امت سے اگر ممتاز ہوتے ہیں تو علوم ہی میں ممتاز ہوتے ہیں باقی رہا عمل سو اس میں بسا اوقات بظاہر امتی مساوی ہو جاتے ہیں بلکہ بڑھ بھی جاتے ہیں۔‘‘



    اس عبارت میں نانوتوی صاحب نے انبیاء علیہم السلام کا اپنی امت سے ممتاز ہونا صرف علم میں منحصر فرمایا ہے۔ باقی رہے اعمال تو ان میں امتی کے مساوی ہو جانے بلکہ بڑھ جانے کو بھی تسلیم کر لیا ہے اور لفظ ’’بظاہر‘‘ محض بظاہر ہے۔ کیونکہ لفظ ’’ہی‘‘ کے ساتھ حصر ہو چکا جس میں ماسوا مذکور کی نفی ہوتی ہے تو اس کے ضمن میں امتیاز فی العمل کی نفی ہو چکی۔ اب لفظ ’’بظاہر‘‘ سے کیا فائدہ ہوا؟ یہاں یہ لفظ ’’بظاہر‘‘ ایسا ہی مہمل اور بے معنی ہے۔ جیسا کہ ص ۳ کی عبارت میں لفظ ’’بالذات‘‘ بے معنی اور مہمل تھا۔


    ہمیں الزام دینے والے اپنے گریباں میں منہ ڈالیں
    لوگ ہم پر الزام عائد کرتے ہیں کہ یہ لوگ حضور ﷺ کے بارے میں حدود شرعی کتاب و سنت کے ارشادات و علمائے امت کی تصریحات سے بے نیاز ہو کر جو کچھ ان کے دل میں آتا ہے کہہ دیا کرتے ہیں اور کبھی اس بات کا خیال نہیں کرتے کہ قرآن و حدیث اور سلف صالحین نے اس مسئلہ میں کیا فیصلہ کیا ہے لیکن میں بتانا چاہتا ہوں کہ ہمیں موردِ الزام قرار دینے والے ذرا اپنے گریبانوں میں منہ ڈال کر دیکھیں کہ ان کے سب سے بڑے مقتدا (بزعم ایشاں قاسم العلوم والخیرات) نانوتوی صاحب نے کیا گل کھلائے ہیں۔ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ تحذیر الناس لکھتے وقت نانوتوی صاحب کے پیش نظر حضور ﷺ کے فضل و کمال کے اثبات سے زیادہ اپنے کمال علمی کا اظہار تھا جس کا نتیجہ ان اغلاط کی صورت میں ظاہر ہوا۔ پرستارانِ تحذیر کے اس ادعا سے اختلاف کرنے کی ہمیں کوئی ضرورت نہیں کہ نانوتوی صاحب نے یہ رسالہ حضور ﷺ کے کمالِ فضل کو ثابت کرنے کی غرض سے لکھا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ غرض پوری بھی ہوئی یا نہیں۔ میں عرض کروں گا کہ ہرگز یہ غرض پوری نہیں ہوئی۔ نانوتوی صاحب نے اپنے قیاساتِ فاسدہ کو معیار فضیلت سمجھا ہے جس کی بنا پر ختم ذاتی کی دور از کار تاویل میں انہیں جانا پڑا اور نبوت کی تقسیم بالذات اور بالعرض کی جرأت عظیمہ سے کام لینے پر وہ مجبور ہوئے۔ حقیقت یہ ہے کہ فضیلت صرف اس وصف میں ہے جس کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے موجب فضیلت قرار دیا۔ قرآن و حدیث کو لاکھ بار پڑھ جایئے ختم ذاتی اور نبوت بالذات کا کوئی ذکر آپ کو نہ ملے گا۔ نہ عہد رسالت سے لے کر آج تک کسی مفسر و محدث یا متکلم و مجتہد نے ان باتوں کا ذکر کیا۔ جس چیز کو قرآن و حدیث اور سلف صالحین نے فضیلت قرار نہیں دیا۔ نانوتوی صاحب اسے مدارِ فضیلت اور بنائے خاتمیت قرار دیتے ہیں۔ یہ کتاب و سنت و ارشادات سلف صالحین کی طرف سے آنکھیں بند کر کے حدودِ شرع سے تجاوز کرنا نہیں تو اور کیا ہے؟


    تحذیر الناس کی چودہ غلطیاں
    سطحی نظر ڈالنے سے مذکورہ بالا چودہ غلطیاں سامنے آئیں۔ بنظر غائر دیکھنے سے نامعلوم اور کتنی اغلاط نکلیں گی اس کے بعد ہر غلطی پر اس کے مناسب روشنی ڈالتا ہوں تاکہ حقیقت حال بے نقاب ہو کر سامنے آ جائے۔غلطی نمبر ۱
    اس کے متعلق میں عرض کرتا ہوں کہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی روایت کو اگر صحیح مان لیا جائے تب بھی وہ ایک ظنی قول ہو گا جو آیۂ کریمہ’’وَلٰـکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیِّیْن‘‘ کے ظاہر معنی کے منافی ہے اور آیۂ کریمہ قطعی ہے۔ ظنی کی صحت کو برقرار رکھنے کے لئے قطعی میں تاویل کرنا کیونکر جائز ہو سکتا ہے؟ پھر تاویل بھی ایسی جو انتہائی رکیک بلکہ دلیل قطعی کے مدلول قطعی کے بالکل مخالف


    محققین صوفیہ کی تاویل
    محققین صوفیہ نے بھی روایت مذکورہ کو قولِ خداوندی ’’وَلٰـکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیِّیْن‘‘ کے ساتھ ملا کر دیکھا تو انہوں نے دونوں کی حیثیت کو ملحوظ رکھتے ہوئے قولِ خداوندی میں تاویل کو جائز نہیں رکھا بلکہ اس روایت میں تاویل کی اور اسے عالم شہادت کی بجائے عالم مثال پر محمول کیا اور یہ کہا کہ جس آدم، نوح، ابراہیم، عیسیٰ اور نبی کریم علیہم الصلوٰۃ والتسلیم کا بقیہ چھ زمینوں میں ہونا اس روایت میں مذکور ہے وہ ہماری اس زمین کے آدم، نوح، ابراہیم، عیسیٰ، نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وعلیہم اجمعین وبارک وسلم کے غیر نہیں بلکہ ان مقدسین کے حقائق مثالیہ ہیں اور یہ کہ یہاں کاف حرف تشبیہ زائد ہے جیسا کہ ’’لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَئ‘‘ میں کاف کے بارے میں ایک قول اس کے زائد ہونے کا کتب نحو میں مذکور ہے مگر نانوتوی صاحب کو اپنی جودت طبع کا مظاہرہ کرنا مقصود تھا اس لئے انہوں نے ظنی کے مقابلہ میں قطعی کو اپنی تاویلات کا تختۂ مشق بنا لیا۔غلطی نمبر ۲
    اس کے متعلق گزارش ہے کہ خود رسول اللہ ﷺ نے بھی خاتم النبیین کی تفسیر میں ’’لا نبی بعدی‘‘ فرما کر لفظ خاتم النبیین کے معنی آخر النبیین متعین فرما دئیے۔ جیسا کہ احادیث صحیحہ میں بکثرت وارد ہے کہ ’’انا خاتم النبیین لا نبی بعدی‘‘ اور خلفائے راشدین اور صحابہ کرام اور اہل بیت اطہار رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سب بالاتفاق خاتم النبیین کے معنی آخر النبیین ہی سمجھتے رہے جس کا انکار ملحدین کے سوا کوئی کلمہ گو مدعی اسلام نہیں کر سکتا اور آج تک امت مسلمہ کا اجماع اسی بات پر ہے کہ قولِ خداوندی ’’وَلٰـکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیِّیْن‘‘ اپنے ظاہری معنی پر محمول ہے اور جو اس کا مفہوم ظاہری الفاظ سے سمجھ میں آتا ہے وہی بغیر کسی تاویل و تخصیص کے مراد ہے۔ جیسا کہ ’’ختم النبوۃ فی الاٰثار‘‘ مرتبہ مفتی محمد شفیع صاحب حال مقیم کراچی کے ص ۹ پر شفا قاضی عیاض سے نقل کر کے اس کا اردو ترجمہ بھی مؤلف نے خود ہی کر دیا ہے جو پرستارانِ تحذیر پر حجت قویہ ہے۔ دیکھئے وہ لکھتے ہیں’’لانہ اخبر انہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم خاتم النبیین ولا نبی بعدہ واخبر عن اللّٰہ تعالٰی انہ خاتم النبیین واجمعت الامۃ علی حمل ہٰذا الکلام علی ظاہرہ وان مفہوم المراد بہ دون تاویل ولا تخصیص فلا شک فی کفر ہٰؤلاء الطوائف کلہا قطعًا اجماعًا سمعًا۔‘‘
    (ترجمہ) اس لئے کہ آپ نے خبر دی ہے کہ آپ ﷺ خاتم النبیین ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبر دی ہے کہ آپ انبیاء کے ختم کرنے والے ہیں اور اس پر امت کا اجماع ہے کہ یہ کلام بالکل اپنے ظاہری معنوں پر محمول ہے اور جو اس کا مفہوم ظاہری الفاظ سے سمجھ میں آتا ہے وہ ہی بغیر کسی تاویل و تخصیص کے مراد ہے۔ پس ان لوگوں کے کفر میں کوئی شک نہیں جو اس کا انکار کریں اور یہ قطعی اور اجماعی عقیدہ ہے۔‘‘



    ایسی صورت میں خاتم النبیین کے معنی آخر النبیین کو عوام کا خیال قرار دینا معاذ اللہ رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ مقدسہ اور اس وقت تک ساری امت کو عوام میں شمار کرنا نہیں تو اور کیا ہے؟


    ایک عجیب قسم کا مغالطہ
    اس مقام پر نانوتوی صاحب کی کسی دوسری کتاب سے حسب ذیل عبارت پیش کر کے ایک عجیب قسم کا مغالطہ دیا جاتا ہے۔ وہ عبارت یہ ہے’’جز انبیاء کرام علیہم السلام یا راسخان فی العلم ہمہ عوام اند‘‘
    ’’مدیر الفرقان‘‘ نے اس کا ترجمہ اس طرح کیا ہے
    ’’باب تفسیر میں سوائے انبیاء علیہم السلام اور راسخان فی العلم کے سب عوام ہیں۔‘‘



    لیکن اس کا مطلب صاف واضح ہے کہ تفسیر کے باب میں انبیاء علیہم السلام اور راسخین فی العلم کے سوا کسی کا قول معتبر نہیں۔ اس عبارت میں لفظ ’’عوام‘‘ انبیاء علیہم السلام اور راسخین فی العلم کے مقابلہ میں واقع ہوا ہے اور ظاہر ہے کہ ان ہی دونوں کے اقوال مبارکہ باب تفسیر میں حجت ہیں اس لئے یہاں لفظ ’’عوام‘‘ سے قطعاً وہی لوگ مراد ہیں جن کا قول باب تفسیر میں لائق التفات نہیں۔ بخلاف عبارت تحذیر کے وہاں لفظ ’’عوام‘‘ اہل فہم کے مقابلہ میں لایا گیا ہے اس لئے اس کے معنی کم فہم اور نا سمجھ لوگوں کے سوا اور کچھ نہیں ہو سکتے۔ ’’الاشیاء تتبین باضدادہا‘‘ چیزیں اپنی ضد سے ظاہر ہوتی ہیں۔



    عام محاورہ میں بھی لفظ ’’عوام‘‘ اگر حکومت کے مقابلہ میں بولا جائے تو اس سے صاف طور پر رعایا کے افراد مراد ہوں گے۔ عام اس سے کہ وہ افراد علماء و راسخین ہوں اور عارفین صالحین یا ان پڑھ جاہل اور اشرار و مفسدین لیکن یہی لفظ ’’عوام‘‘ اگر علماء کے مقابلہ میں بولا جائے تو اس سے صرف غیر عالم افراد مراد ہوں گے خواہ وہ لوگ ارباب حکومت ہوں یا ان کے ماسوا۔


    پیش کردہ عبارت کا مفاد
    بنا بریں اس پیش کردہ عبارت کا مفاد یہ ہرگز نہیں ہو سکتا کہ لفظ ’’عوام‘‘ جس کلام میں بھی وارد ہو وہاں انبیاء کرام اور راسخین فی العلم کے ماسوا مراد ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ الفاظ کے معانی ان کے مقابلات سے واضح ہو جایا کرتے ہیں اور مقابلات کے بدل جانے سے مرادی معنی بدل جاتے ہیں لہٰذا ایک کا قیاس دوسرے پر قیاس مع الفارق ہے۔ معلوم ہوا کہ ص ۳ والی عبارت میں لفظ ’’عوام‘‘ سے محض ناسمجھ لوگ مراد ہیں اور بس۔ علاوہ ازیں میں عرض کروں گا کہ جب نانوتوی صاحب باب تفسیر میں انبیاء علیہم السلام اور راسخین فی العلم کے سوا سب کو عوام کہتے ہیں تو وہ خود بھی عوام میں شامل ہوئے ایسی صورت میں خاتم النبیین کی تفسیر میں نانوتوی صاحب کا ختم ذاتی کا قول کیونکر قابل التفات ہو سکتا ہے؟


    نانوتوی صاحب کے نزدیک سب عوام ہیں
    اس بیان سے یہ بات اچھی طرح واضح ہو گئی کہ نانوتوی صاحب کے نزدیک لفظ ’’خاتم النبیین‘‘ کو ’’آخر النبیین‘‘ میں لینے والے ناسمجھ عوام ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ خاتم النبیین کو آخر النبیین کے معنی میں کس کس نے لیا تاکہ یہ معلوم ہو جائے کہ حسب زعم نانوتوی صاحب وہ ناسمجھ عوام کون لوگ ہیں؟ تو ہم ابھی عرض کر چکے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ و خلفائے راشدین صحابہ کرام اہل بیت اطہار ائمہ مجتہدین علماء راسخین سب نے لفظ خاتم النبیین کو آخر النبیین کے معنی میں لیا ہے۔ لہٰذا بمعیت رسول اللہ ﷺ تمام اخیار امت بلکہ کل امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والتحیۃ معاذ اللہ ناسمجھ عوام میں داخل ہو گئے۔



    حیرت ہے کہ صاحب تحذیر الناس نے اس تاویل کے وقت اس بات کا بھی خیال نہ کیا کہ رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی بھی عوام میں شامل ہو جائے گی۔


    ایک مغالطہ کا ازالہ
    اس مقام پر ایک اور مغالطہ کا دور کرنا بھی ضروری ہے وہ یہ کہ ’’نانوتوی صاحب نے خاتم النبیین کے معنی آخر النبیین لینے کو عوام کا خیال نہیں کہا بلکہ لفظ خاتم النبیین کو آخر النبیین کے معنی میں منحصر کرنے کو عوام کا خیال کہا ہے۔‘‘ میں عرض کروں گا کہ اول تو عبارت تحذیر میں حصر کا کوئی کلمہ نہیں دوم یہ کہ رسول اللہ ﷺ سے لے کر آج تک کسی نے اس آیۂ کریمہ میں خاتم النبیین کے معنی آخر النبیین کے سوا کئے ہی نہیں۔ اس لفظ کے بس یہی ایک معنی منقول متواتر ہیں۔ جب تک کوئی اور معنی منقول ثابت نہ ہو جائیں ان ہی معنی میں آیۂ کریمہ کی قطعی مراد منحصر رہے گی اور کوئی ایسے معنی جو اس معنی یا اس کی قطعیت کے خلاف ہوں ہرگز صحیح نہ ہوں گے۔


    لفظ خاتم النبیین کی توجیہات
    ہاں یہ ممکن ہے کہ لفظ خاتم النبیین کی بے شمار ایسی توجیہات نکلتی رہیں جو اس کے مدلول قطعی معنی متواتر کی مؤید اور اس کے موافق ہوں۔ کیونکہ قرآن مجید کا ایک ایک حرف مطالب لا تعدو لا تحصیٰ کا حامل ہے لیکن معنی منقول متواتر کو عوام کا خیال قرار دے کر اس لفظ کو ایسے معنی پر حمل کرنا جو کتاب و سنت کی روشنی میں باطل ہیں کسی طرح جائز نہیں ہو سکتا۔



    اگر نانوتوی صاحب لفظ خاتم النبیین کے معنی منقول متواتر آخر النبیین کو قطعی مان کر لفظ خاتم النبیین کی کوئی ایسی توجیہ کرتے جو فی الواقع معنی آخر النبیین کے منافی نہ ہوتی تو ہمیں نانوتوی صاحب سے قطعاً کوئی اختلاف نہ ہوتا۔ مگر افسوس کہ انہوں نے ایسا نہیں کیا بلکہ اس کی بجائے لفظ خاتم النبیین کے معنی آخر النبیین مراد لینے کو عوام کا خیال قرار دے کر دین کے معاملہ میں انتہائی بے باکی اور جرأت سے کام لیا ہے۔
  3. ‏ جون 10, 2017 #3
    مبشر شاہ

    مبشر شاہ رکن عملہ منتظم اعلی

    لفظ خاتم النبیین کا آخر النبیین کے معنی میں حصر
    اور پھر اس پر اجماعِ امت
    باوجودیکہ تحذیر الناس کی اس پوری عبارت میں حصر کا کوئی کلمہ مذکور نہیں لیکن اسے فرض کر لینے کے بعد بھی حامیان تحذیر کو کسی قسم کا فائدہ نہیں پہنچ سکتا اور نانوتوی صاحب اس الزام سے ہرگز نہیں بچ سکتے جو ان کے کلام کی روشنی میں ان پر عائد ہوتا ہے۔ کیونکہ ہم شفا قاضی عیاض کی عبارت اور ختم النبوۃ فی الآثار میں اس کے ترجمہ سے ثابت کر چکے ہیں کہ خاتم النبیین اپنے ظاہری معنی پر محمول ہے اور اس سے بلا تاویل و تخصیص وہی معنی مراد ہیں جو ظاہر لفظ سے سمجھے جاتے ہیں اور اسی پر امت کا اجماع ہے۔ معلوم ہوا کہ جس طرح خاتم النبیین کے معنی آخر النبیین ہونا قطعی اور اجماعی امر ہے اسی طرح اس لفظ خاتم النبیین کا آخر النبیین کے معنی میں منحصر ہونا بھی ساری امت کے نزدیک قطعی اور اجماعی عقیدہ ہے۔



    رہا یہ امر کہ شفا شریف اور ختم النبوۃ فی الآثار کی عبارت میں حصر بالنسبۃ الی تاویل الملاحدہ ہے تو اس جواب کی حیثیت خرط القتاد سے زیادہ نہیں۔ کیونکہ خاتمیت کی تقسیم ختم زمانی اور ذاتی کی طرف آج تک کسی مفسر نے نہیں کی بلکہ لفظ خاتم النبیین کی تاویل ایسی خاتمیت ذاتیہ کے ساتھ کر کے مرزائی رسول اللہ ﷺ کے آخر النبیین ہونے کا انکار کرتے ہیں جیسا کہ مدیر الفرقان نے بھی خاتم الاطباء کی مثال پیش کی ہے معلوم ہوا کہ خاتمیت ذاتیہ کی تاویل بھی تاویلاتِ ملاحدہ میں داخل ہے۔ ان سب کی نفی اس حصر کے ضمن میں یقینا آ گئی۔ لہٰذا نانوتوی صاحب پر جو الزام تھا وہ بدستور باقی رہا۔


    مولانا احمد حسن کانپوری اور علامہ بحر العلوم لکھنوی
    کی عبارت کا جواب
    اس مقام پر مولوی منظور احمد صاحب نعمانی نے الفرقان میں مولانا روم علیہ الرحمہ کی مثنوی شریف کے دو شعر اور علامہ بحر العلوم شارح مثنوی و مولانا احمد حسن کانپوری محشی مثنوی شریف کی عبارت صاحب تحذیر الناس کے بیان کئے ہوئے معنی خاتم النبیین (خاتم بالذات) کی تائید میں پیش کی ہے اور ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ آیہ ’’وخاتم النبیین‘‘ کے معنی کو آخر النبیین میں منحصر سمجھنا غلط ہے۔ چنانچہ الفرقان جلد ۴ ص ۵۶ پر لکھتے ہیں
    ’’علامہ لکھنوی بحر العلوم رحمۃ اللہ علیہ کے رسالہ ’’فتح الرحمن‘‘ سے ناقل ہیں ’’مقتضائے ختم رسالت دو چیز است یکی آنکہ بعد وے رسول نباشد دیگر آنکہ شرع آں عام باشد۔‘‘ (دافع الوسواس ص ۲۲)



    جواباً عرض ہے کہ اس عبارت میں لفظ خاتم النبیین کے معنی حصر کو نہیں توڑا گیا بلکہ دو چیزوں کو ختم رسالت کا مقتضا بتایا گیا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ جب ’’خاتم النبیین‘‘ کے معنی ’’آخر النبیین‘‘ ہوں گے تو اس کا مقتضا یقینا یہی ہو گا کہ حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی اور رسول نہ آئے اور حضور ﷺ کے بعد کسی نبی یا رسول کے نہ آنے کا مقتضا یہی ہے کہ حضور ﷺ کی شرع عام ہو۔ لہٰذا اس عبارت سے نانوتوی صاحب کو کچھ فائدہ نہ ہوا۔


    مثنوی شریف کے دو شعروں کا جواب
    رہے وہ دو شعر جو مثنوی شریف سے نقل کئے گئے ہیں تو ان کے مضمون سے بھی صاحب تحذیر الناس کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ مولانا روم علیہ الرحمہ نے یہ نہیں فرمایا کہ آیۂ کریمہ میں لفظ ’’خاتم النبیین‘‘ کو بمعنی ’’آخر النبیین‘‘ لینا عوام کا خیال ہے نہ قرآن کے لفظ ’’خاتم‘‘ کی تفسیر خاتم ذاتی سے کی بلکہ مولانا روم کے اس شعر میں کہ


    بہر ایں خاتم شدہ است او کہ بجود
    مثل اونے بود نے خواہند بود


    لفظ خاتم کے ساتھ حضور ﷺ کی وجہ تسمیہ بیان کرتے ہوئے صرف اتنی بات فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے عالم ارواح میں روحِ پاک محمد ﷺ پر اپنی بخشش اور کمالِ صنعت کو ختم کر دیا۔ روحِ پاک کے بعد نہ زمانہ ماضی میں کسی کو یہ جود و کمال دیا گیا اور نہ قیامت تک دیا جائے گا۔


    ذرا غور سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ مولانا علیہ الرحمہ نے لفظ خاتم کو ختم زمانی ہی کے معنی میں لیا ہے کیونکہ مصرعہ


    مثل اونے بود نے خواہند بود

    کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عالم ارواح میں روحِ محمدی علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کو اپنی بخشش اور کمال صنعت کی فضیلت دینے کے بعد کسی کو یہ فضیلت عطا نہیں فرمائی نہ آپ کے بعد کسی کو عطا فرمائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ حضور کا مثل ہوا ہے نہ ہو گا۔ ماضی اور مستقبل میں بعدیت کے معنی تأخر زمانی نہیں تو اور کیا ہے؟
    اب دوسرا شعر ملاحظہ فرمائیے


    چونکہ در صنعت برو استاد دست
    نے تو گوئی ختم صنعت بروے است


    پہلے شعر میں کہی ہوئی بات کے لئے مولانا علیہ الرحمۃ نے اس شعر میں ایک مثال پیش کی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جس طرح اپنے فن کا کمال رکھنے والے استاد کو کہہ دیا جاتا ہے کہ یہ کمال تم پر ختم ہے یعنی تمہارے سوا کسی کو نہیں دیا گیا ایسے ہی حضور ﷺ ہر کمال علمی و عملی میں گویا استاد کامل ہیں اور یہ کمال حضور کو دئیے جانے کے بعد کسی کو نہیں دیا گیا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اس کمال کے خاتم ہیں۔ اگر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے غیر میں کسی جمال کی کوئی جھلک پائی جائے یا کسی کے لئے کمال محمدی کا کوئی ایسا فیضان ثابت کیا جائے جس کا اثبات کسی دلیل شرعی کے خلاف نہ ہو تو وہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ہی کی طرف منسوب ہو گا کیونکہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ہی ذاتِ مقدسہ اس کا مبداء اور اصل منشاء ہے۔ اس مضمون کو تحذیر الناس کے مضمون سے دور کا تعلق بھی نہیں۔ کیونکہ یہاں خاتم کے معنی منقول متواتر میں قطعاً کوئی تصرف نہیں کیا گیا نہ اس مضمون میں کوئی ایسی بات ہے جو خاتم النبیین کے معنی منقول متواتر (آخر النبیین) کی قطعیت کے منافی ہو۔

    شارحین مثنوی کی تصریحات حق ہیں
    ہاں اس میں شک نہیں کہ مولانا احمد حسن صاحب کانپوری رحمۃ اللہ علیہ و دیگر شارحین مثنوی و اکابر علمائے اعلام نے بے شمار مقامات پر اس امر کی تصریح فرمائی ہے کہ کسی کو کوئی کمال حاصل نہیں ہو سکتا جب تک کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذاتِ مقدسہ اس کے لئے واسطہ اور وسیلہ نہ ہو۔ یہ تمام تصریحات کتاب و سنت کی روشنی میں عین حق و صواب ہیں لیکن اس سے حضور ﷺ کے تأخر زمانی یا اس کی قطعیت پر کوئی اثر نہیں پڑتا بخلاف اس تحذیر الناس کے کہ اس میں تأخر زمانی کو عوام کا خیال کہہ کر لفظ خاتم النبین کے مدلول قطعی کی قطعیت کو مجروح کر دیا گیا اور تاخر زمانی کو برقرار رکھنے کے لئے کبھی دلالت التزامی کا سہارا لیا گیا، کبھی عموم و اطلاق کے زور سے الفاظ قرآن کی کھینچ تان کی گئی، کبھی مفہوم تأخر کو جنس اور اس تاخر زمانی و رتبی کو اس کے لئے انواع قرار دیا گیا، کبھی مشترک کا قول کیا گیا، کبھی حضور ﷺ کے بعد مدعی نبوت کی تکفیر کے لئے اجماع کا سہارا ڈھونڈا گیا۔ غرض یہ سب پاپڑ اس لئے بیلنے پڑے کہ ختم زمانی کو اصل دلیل آیۂ کریمہ ’’وَلٰـکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیِّیْن‘‘ کے معنی منقول متواتر کو انہوں نے خیالِ عوام قرار دے دیا۔


    قرآن صرف الفاظ نہیں بلکہ معنی بھی قرآن ہیں
    حالانکہ یہ امر بدیہی ہے کہ قرآن صرف الفاظ کا نام نہیں بلکہ ’’القرآن اسم للنظم والمعنی جمیعا‘‘ قرآن لفظ و معنی دونوں کے مجموعہ کا نام ہے۔ قرآن کے معنی متواتر بھی اسی طرح قرآن ہیں جس طرح الفاظ متواترہ قرآن ہیں۔ ہمیں نانوتوی صاحب سے یہ شکوہ نہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے لئے تاخر زمانی تسلیم نہیں کی، یا یہ کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے بعد مدعیان نبوۃ کی تکذیب و تکفیر نہیں کی۔ انہوں نے یہ سب کچھ کیا مگر قرآن کے معنی منقول متواتر کو عوام کا خیال قرار دے کر اپنے سب کئے کرائے پر پانی پھیر دیا۔ بنائے خاتمیت تاخر زمانی کے علاوہ اور بات پر رکھنا اصولی طور پر ختم نبوت کی بنیاد کو اکھاڑنا ہے خواہ لاکھ دفعہ حضور کے بعد مدعی نبوت کی تکفیر کی جائے۔


    فضیلت نبوی کے دوبالا ہونے کا جواب
    رہا یہ امر کہ تحذیر الناس کی توجیہ پر رسول اللہ ﷺ کی فضیلت دوبالا ہو جاتی ہے کہ حضور ﷺ مزید چھ خواتم کے خاتم قرار پاتے ہیں اور اگر اس توجیہ کو چھوڑ دیا جائے تو صرف اسی ایک طبقہ زمین کے لئے حضور خاتم ہوں گے اور ظاہر ہے کہ کسی بادشاہ کے لئے صرف ایک ملک کی ولایت ہونے سے چھ ملکوں کی ولایت ہونا چھ گنا زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ جب ہمارے رسول ﷺ تمام جہانوں کے لئے رسول ہیں اور آپ کی نبوت و رسالت کل مخلوقات کے لئے عام ہے تو بقیہ چھ زمینوں میں بھی اگر حضور بذاتِ خود ہی خاتم ہوں تو اس میں فضیلت اور بھی زیادہ ثابت ہو گی کہ باوجود ایک ہونے کے زمین کے ہر طبقہ میں خود ہی خاتم النبیین ہو کر رونق افروز ہیں۔ محققین محدثین نے صوفیا کرام کے اسی مسلک کو ترجیح دی ہے جسے ہم عنقریب فیض الباری کے حوالہ سے نقل کریں گے۔


    صاحب تحذیر کا آیۂ قرآنیہ کے معنی میں تصرف
    صاحب تحذیر نے خاتم النبیین کے معنی میں جو تصرف کیا ہے اس کے ثبوت میں نہ کوئی آیۂ قرآنیہ پائی جاتی ہے نہ رسول اللہ ﷺ کی کوئی حدیث نہ کسی صحابی، تابعی، مجتہد، فقیہہ، محدث یا مفسر کا کوئی قول اس کے ثبوت میں موجود ہے بلکہ نفس نبوت میں تفضیل کی ممانعت ہم قرآن و حدیث اور اقوال مفسرین و محدثین سے ثابت کر چکے ہیں۔ اس کے باوجود نانوتوی صاحب کا نبوت کو بالذات اور بالعرض کی طرف تقسیم کر کے اثر عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ذیل میں خاتمیت کے ایسے معنی بیان کرنا جو رسول اللہ ﷺ سے لے کر آج تک ساری امت مسلمہ میں کسی نے نہیں کئے ’’من احدث فی امرنا ہٰذا ما لیس منہ فہو رد‘‘ کا مصداق نہیں تو اور کیا ہے؟


    نانوتوی صاحب کا اعتراف
    نانوتوی صاحب نے تحذیر الناس ص ۲۰ میں خود اعتراف کیا ہے کہ اس مفہوم کی طرف بڑوں کا فہم نہیں پہنچا۔ یہ بات صرف میں نے کہی ہے (ملخصاً) اگر انصاف سے دیکھا جائے تو اسی کا نام بدعت سیّئہ ہے۔ دوسروں کو بلاوجہ بدعتی کہنے والے ذرا اپنے گریبانوں میں منہ ڈال کر دیکھیں۔


    حدیث’’انی عند اللّٰہ خاتم النبیین‘‘ کا جواب
    مولوی منظور احمد صاحب سنبھلی نے نانوتوی صاحب کی تائید میں خاتم النبیین کے معنی خاتم بالذات ثابت کرنے کے لئے حسب ذیل حدیث الفرقان میں لکھی ہے ’’انی عند اللّٰہ خاتم النبیین وان اٰدم لمنجدل فی طینتہٖ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ہاں اس وقت خاتم النبیین ہو چکا تھا جب کہ آدم علیہ السلام کا خمیر بھی تیار نہ ہوا تھا۔‘‘ اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے مولوی منظور احمد صاحب لکھتے ہیں
    ظاہر ہے کہ اس وقت ختم زمانی کا احتمال بھی نہیں ہو سکتا۔ ہاں، اگر یہ معنی لئے جائیں کہ آپ اس وقت وصف نبوت کے ساتھ بالذات موصوف یعنی خاتم ذاتی تھے تو بغیر کسی دشواری کے معنی صحیح ہو جاتے ہیں۔ الفرقان بابت رجب ۵۶ھ ص ۱۳۵، ۱۳۶



    جواباً گزارش کرتا ہوں کہ اگر مولوی منظور احمد صاحب نعمانی اس حدیث سے ختم ذاتی کا دعویٰ ثابت کرنے سے پہلے اپنے حکیم الامت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی کی نشر الطیب ملاحظہ فرما لیتے تو انہیں جرأت استدلال نہ ہوتی۔ ملاحظہ فرمایئے نشر الطیب میں ان کے مولانا اشرف علی تھانوی اسی حدیث عرباض بن ساریہ کو لکھ کر ایک شبہ کا جواب اپنے منہیہ میں اس طرح دیتے ہیں



    ’’اگر کسی کو شبہ ہو کہ اس وقت ختم نبوت کے ثبوت بلکہ خود نبوت ہی کے ثبوت کے کیا معنی کیونکہ نبوت آپ کو چالیس سال کی عمر میں عطا ہوئی اور چونکہ آپ سب انبیاء کے بعد مبعوث ہوئے اس لئے ختم نبوت کا حکم کیا گیا۔ سو یہ وصف تو خود تأخر کو مقتضی ہے۔ جواب یہ ہے کہ یہ تأخر رتبہ ظہور میں ہے، مرتبہ ثبوت میں نہیں۔ جیسے کسی کو تحصیلداری کا عہدہ آج مل جائے اور تنخواہ بھی آج ہی سے چڑھنے لگے مگر ظہور ہو گا کسی تحصیل میں جانے کے بعد۔‘‘ ۱۲ منہ (نشر الطیب ص ۷)



    اس عبارت سے ثابت ہوا کہ حدیث مذکور میں رسول اللہ ﷺ کا خاتم النبیین ہونا مرتبۂ ثبوت میں مراد ہے، مرتبہ ظہور میں نہیں اور ظاہر ہے کہ ختم زمانی کا تحقق مرتبۂ ظہور ہی میں ہو سکتا ہے۔ لہٰذا سنبھلی صاحب کا استدلال ساقط ہو گیا۔ تعجب ہے کہ ان لوگوں کو اپنے گھر کا بھی پتا نہیں یا باوجود معلوم ہونے کے ناواقف لوگوں کو مغالطہ دے کر حق کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔


    غلطی نمبر ۳
    اس غلطی کے متعلق میں عرض کروں گا کہ ہر اہل فہم بلکہ ادنیٰ سمجھ رکھنے والے کے نزدیک بھی حضور ﷺ کا آخر النبیین ہونا یقینا ایسی فضیلت ہے جس کا مقام مدح میں ذکر کیا جانا بلا شبہ صحیح اور درست ہے۔ مقام مدح میں ذکر کرنے کے لئے کسی فضیلت کا ذاتی ہونا ہرگز ضروری نہیں بلکہ فضیلت بالعرض اور وصف اضافی کا ذکر کرنا بھی مقام مدح میں صحیح ہے۔ کما لا یخفی۔ یقین نہ ہو تو خود نانوتوی صاحب سے پوچھ لیجئے کہ وہ حضور ﷺ کے سوا تمام انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی نبوت بالعرض مانتے ہیں لیکن ہر شخص جانتا ہے کہ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی مدح میں جابجا ان کے وصف نبوت کا ذکر فرمایا ہے۔ ثابت ہوا کہ فضیلت بالعرض کا مقام مدح میں ذکر کرنا قطعاً یقینا صحیح و درست ہے۔ ایسی صورت میں صاحب تحذیر الناس کا یہ کہنا کہ
    ’’پھر مقام مدح میں ’’وَلٰـکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیِّیْن‘‘ فرمانا کیونکر صحیح ہو سکتا ہے؟‘‘



    اس بات کی روشن دلیل ہے کہ مؤلف رسالہ تحذیر الناس مولوی محمد قاسم صاحب نانوتوی بانی مدرسہ دیوبند کے نزدیک حضور ﷺ کے وصف خاتمیت زمانی میں قطعاً جزماً یقینا کسی قسم کی کوئی فضیلت نہیں پائی جاتی ورنہ مقام مدح میں اس کے ذکر کو وہ ہرگز غیر صحیح قرار نہ دیتے کیونکہ ہم ابھی عرض کر چکے ہیں کہ ہر فضیلت بالذات ہو یا بالعرض مقام مدح میں اس کا ذکر کرنا صحیح ہے۔ لہٰذا واضح ہوا کہ جس چیز کا ذکر مقام مدح میں صحیح نہ ہو اس میں بالذات یا بالعرض کسی قسم کی کوئی فضیلت اصلاً نہیں پائی جاتی اور نانوتوی صاحب کا یہ قول کتاب و سنت اور اجماعِ امت کے منافی ہونے کی وجہ سے بلا شبہ ناقابل قبول بلکہ واجب الرد ہے۔


    صاحب تحذیر کی توجیہ استدراکغلطی نمبر ۴
    چوتھی غلطی کے بارے میں عرض کروں گا کہ نانوتوی صاحب آیۂ کریمہ ’’وَلٰـکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیِّیْن‘‘ میں ختم زمانی کی تقدیر پر ان دونوں جملوں میں بے ربطی اور استدراک کے غیر صحیح ہونے کے مدعی ہیں جیسا کہ سابقاً طویل عبارت تحذیر الناس سے نقل کی گئی۔ نیز وہ ختم ذاتی ثابت کرنے کے لئے آیۂ کریمہ ’’مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰـکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیِّیْن‘‘ میں استدراک کی توجیہ اور عطف بین الجملتین پر کلام کرنے کے بعد ارشاد فرماتے ہیں
    ’’مطلب آیۂ کریمہ کا اس صورت میں یہ ہو گا کہ ابوۃ معروفہ تو رسول اللہ ﷺ کو کسی مرد کی نسبت حاصل نہیں پر ابوۃ معنوی امتیوں کی نسبت حاصل ہے اور انبیاء کی نسبت تو لفظ خاتم النبیین شاہد ہے اور امتیوں کی نسبت لفظ رسول اللہ میں غور کیجئے تو یہ بات واضح ہے۔‘‘ ص ۹، ۱۰


    نانوتوی صاحب کی توجیہ کا جواب
    اقول: اس کلام سے نانوتوی صاحب کا مقصد ختم ذاتی کا اثبات ہے جس کے پیشِ نظر انہوں نے استدراک اور عطف بین الجملتین کی توجیہ کرتے ہوئے یہ ظاہر فرمایا ہے کہ ’’مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ‘‘ سے جو وہم پیدا ہوا تھا کہ محمد ﷺ اپنی امت کے معنوی باپ نہیں اسے اللہ تعالیٰ نے ’’وَلٰـکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ‘‘ فرما کر اس طرح زائل فرما دیا کہ وہ رسول ہونے کی وجہ سے مومنین کے معنوی باپ ہیں۔ اس کے بعد ختم ذاتی ثابت کرنے کیلئے ’’وخاتم النبیین‘‘ ارشاد فرمایا اور اس جملہ سے حضور ﷺ کی ابوۃ معنویہ انبیاء علیہم السلام کے لئے بھی ثابت فرما دی۔



    اس کے جواب میں گزارش ہے کہ نانوتوی صاحب یہ مانتے ہیں کہ عطف وخاتم النبیین کا رسول اللہ پر ہے اور یہ بھی مسلم ہے کہ معطوف اور معطوف علیہ کا حکم ایک ہوتا ہے۔ لہٰذا جس طرح لفظ رسول اللہ سے حضور ﷺ کے معنوی باپ نہ ہونے کا وہم دور کیا گیا ہے اسی طرح وخاتم النبیین بھی کلام سابق سے پیدا ہونے والے کسی شبہ کو دور کر دے گا کیونکہ وہ بھی بوجہ عطف لکن کے تحت ہے لیکن اگر اسے ختم ذاتی کی دلیل ٹھہرا کر نانوتوی صاحب کی طرح یہ کہا جائے کہ وخاتم النبیین لا کر اللہ تعالیٰ نے انبیاء علیہم السلام کے لئے بھی حضور ﷺ کی ابوۃ معنویہ ثابت فرما دی تو رفع توہم سے اس جملہ کو کوئی تعلق نہ ہو گا۔کیونکہ ’’مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ‘‘ سے انبیاء علیہم السلام کے لئے حضور ﷺ کی ابوۃ کے منفی ہونے میں کوئی شبہ پیدا نہیں ہوتا۔ جو شبہ متصور ہی نہ ہو اس کے دور کرنے کے کیا معنی؟ یہ بات قابل غور ہے کہ ’’مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ‘‘ میں سننے والے کا ذہن انبیاء علیہم السلام کی طرف منتقل ہی نہیں ہوتا۔ ایسی صورت میں ان سے حضور ﷺ کی ابوۃ کے منتفی ہونے کا وہم کیونکر پیدا ہو گا؟ خلاصہ یہ کہ جب کلام سابق میں یہ شبہ متصور ہی نہیں تو و خاتم النبیین سے اس کے رفع کا قول کرنا کیسے درست ہو سکتا ہے؟


    ہمارے نزدیک استدراک کی توجیہ
    دلائل شرعیہ کی روشنی میں ہمارے نزدیک استدراک کی توجیہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ’’مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ‘‘ فرمایا تو اس کلام سے دو وہم پیدا ہوئے ایک یہ کہ جب رسول اللہ ﷺ کسی مرد کے جسمانی باپ نہیں تو روحانی باپ بھی نہ ہوں گے۔ دوسرا یہ کہ کسی رجل کے لئے آپ کا جسمانی باپ نہ ہونا آپ کے لئے موجب نقص ہو گا۔ جس کی دلیل یہ ہے کہ کسی مرد بالغ کا باپ نہ ہونا انقطاعِ نسل کا موجب ہے اور یہ عیب ہے اس لئے حضور ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات پر عاص بن وائل نے حضور ﷺ کو معاذ اللہ ’’ابتر‘‘ کہا تھا جس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے سورئہ کوثر نازل فرمائی اور نبی کریم ﷺ نے ’’کل نسب وصہر منقطع الانسبی وصہری‘‘ فرما کر سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اپنی نسل پاک کے باقی اور جاری رہنے کا اظہار فرمایا۔ پہلے وہم کو اللہ تعالیٰ نے ’’وَلٰـکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ‘‘ سے رفع فرمایا، بایں طور کہ وہ اللہ کے رسول ہیں اور ہر رسول اپنی امت کا روحانی باپ ہوتا ہے۔ وہ جسمانی نہ ہونے کے باوجود بھی روحانی باپ ہیں۔ دوسرے وہم کو ’’وخاتم النبیین‘‘ لا کر دور فرمایا۔ اس طرح کہ محمد ﷺ کا کسی مرد کے لئے جسمانی باپ نہ ہونا کسی نقص کے باعث نہیں بلکہ ان کے خاتم النبیین ہونے کی وجہ سے ہے۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ آخر النبیین ہیں اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک بالخصوص آنحضرت ﷺ کا منصب یہ ہے کہ اگر حضور انور کا کوئی بیٹا جوان ہو تو وہ ضرور نبی ہو اور اس کا نبی ہونا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خاتم النبیین ہونے کے منافی ہے اس لئے ان کے وصف خاتمیت کا مقتضا یہی ہے کہ وہ کسی صلبی مرد کے باپ نہ ہوں اور یہ ’’عدم ابوۃ‘‘ کسی نقص پر نہیں بلکہ فضیلت خاتمیت پر مبنی ہے جس کی تائید حضرت ابن ابی اوفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث’’لو قضی ان یکون بعد محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم نبی عاش ابنہ ولٰـکن لا نبی بعدہ‘‘ سے بھی ہوتی ہے جو صحیح بخاری میں موجود ہے۔ دیکھئے بخاری جلد ۲۲ ص ۹۱۴



    اس توجیہ کی بنا پر لفظ خاتم النبیین سے فضیلت خاتمیت کے ساتھ حضور ﷺ کی عدم ابوۃ مذکورہ اور بیٹے کی بجائے بیٹی سے نسل پاک کے اجراء کی حکمت بھی معلوم ہو گئی۔


    ’’مَا کَانَ مُحَمَّدٌ…‘‘ میں استدراک کی دیگر توجیہات
    ہماری اس تقریر سے استدراک کی توجیہ بھی صحیح ہو گئی اور عطف بین الجملتین بھی بخوبی واضح ہو گیا اور کلام الٰہی میں بے ربطی کا وہم بھی نہ رہا۔ اس کے بعد ہم تحقیق مزید اور نانوتوی صاحب کے رد بلیغ کے لئے آیۂ کریمہ ’’مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ‘‘ الاٰیہ میں استدراک میں دیگر توجیہات کا خلاصہ علمائے مفسرین کے کلام سے نقل کرتے ہیں جو نانوتوی صاحب کی خود ساختہ توجیہ استدراک کے رد و ابطال اور تحذیر الناس کے زہر کے لئے تریاق کا کام دیتی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ علوم قرآن میں گہری نظر رکھنے والے حق پسند علماء بنظر انصاف ملاحظہ فرما کر اس حقیقت کو تسلیم کر لیں گے کہ نانوتوی صاحب کی توجیہ تفسیر بالرای سے زیادہ وقعت نہیں رکھتی۔ خلاصہ توجیہات حسب ذیل ہے، جسے ہم نے تفسیر روح المعانی پارہ ۲۲ ص ۳۲ تا ۳۴ سے اخذ کیا ہے۔



    پہلی توجیہ یہ ہے کہ ’’مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ‘‘ فرما کر جب اللہ تعالیٰ نے رجال مخاطبین کے ہر فرد سے رسول اللہ ﷺ کی ابوۃ حقیقیہ جسمانیہ شرعیہ کی نفی فرما دی تو اس کلام سے یہ شبہ پیدا ہوا کہ جب وہ کسی کے باپ نہیں تو کسی پر ان کی تعظیم و توقیر بھی واجب نہ ہو گی اور افراد امت کے لئے رسول اللہ ﷺ پر شفقت اور خیر خواہی کا وجوب بھی منتفی ہو گا۔ اس شبہ کو دور کرنے کے لئے وَلٰـکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ فرمایا کیونکہ رسول حقیقی باپ نہ ہونے کے باوجود بھی واجب التعظیم والتوقیر اور وصف رسالت کی وجہ سے مجازی باپ اور اپنی امت پر ناصح اور شفیق ہوتا ہے۔



    دوسری توجیہ یہ ہے کہ کلام سابق میں رسول اللہ ﷺ کی نفی ابوۃ سے شبہ پیدا ہوتا تھا کہ جب وہ باپ نہیں تو شاید رسول بھی نہ ہوں اس لئے کہ رسول کا امت کے لئے باپ ہونا مشہور بات تھی۔ اسی شہرت کی وجہ سے ایک قول کی بنا پر لوط علیہ السلام نے اپنے قول ’’ہٰؤُلَآئِ بناتی‘‘ میں اپنی امت کی مومنات کو مراد لیا ہے۔ بنا بریں نفی ابوۃ سے نفی رسالت کا وہم پیدا ہوتا تھا جس کا مبنیٰ یہ تھا کہ رسول کے لئے باپ ہونا لازم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ’’وَلٰـکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ‘‘ فرما کر اس شبہ کو دور فرما دیا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی ایک کے باپ نہ ہونے کے باوجود بھی اللہ کے رسول ہیں۔


    خاتم النبیین میں استدراک کی توجیہات
    رہا اللہ تعالیٰ کا قول و خاتم النبیین تو اس کی بھی حسب ذیل توجیہات علماء مفسرین نے کی ہیں جن کا خلاصہ ہم اسی تفسیر روح المعانی پارہ ۲۲ ص ۳۶ سے ہدیہ ناظرین کرتے ہیں۔



    پہلی توجیہ یہ ہے کہ خاتم النبیین فرما کر حضور ﷺ کے کمال شفقت اور خیر خواہی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جس کا مفاد یہ ہے کہ ’’وَلٰـکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ‘‘ کے ساتھ امت کے حق میں رسول اللہ ﷺ کے لئے جس ابوۃ کاملہ کو ثابت کیا گیا ہے وہ تمام رسولوں کی ابوۃ پر فوقیت رکھتی ہے جو انہیں ان کی امتوں کے حق میں حاصل ہے اس لئے کہ جس رسول کے بعد کوئی رسول ہو گا۔ بعض اوقات اس کی شفقت و نصیحت اپنی غایت کو نہ پہنچ سکے گی۔ کیونکہ ممکن ہے کہ وہ شفقت و نصیحت علی الامت کے بارے میں اپنے بعد میں آنے والے رسول پر بھروسہ کر لے جیسے کہ حقیقی باپ شفقت علی الاولاد سے متعلق بعض امور اپنے قائم مقام کے سپرد کر دیتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے ’’وخاتم النبیین‘‘ فرمایا تو یہ بات واضح ہو گئی کہ محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہو سکتا جس پر بھروسہ کر کے اپنی امت کی نصیحت و شفقت میں حضور ﷺ کوئی کمی چھوڑ دیں۔



    دوسری توجیہ یہ ہے کہ خاتم النبیین فرما کر اس امر کی طرف اشارہ کر دیا کہ ابوۃ محمدیہ قیامت تک ممتد ہے۔ لہٰذا ان کی تعظیم و توقیر نہ صرف بلا واسطہ مخاطبین پر واجب ہے بلکہ قیامت تک آنے والے ان کی اولاد در اولاد سب پر اس تعظیم و توقیر کا وجوب ہے اور اسی طرح ان کی شفقت و نصیحت نہ صرف تمہارے لئے ہے بلکہ تا قیامت تمہاری نسلوں کے لئے ان کی خیر خواہی اور شفقت دائم و مستمر رہے گی۔ کیونکہ وہ آخری نبی ہیں۔ ان کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں۔



    تیسری توجیہ یہ ہے کہ ’’مِنْ رِّجَالکُمْ‘‘ سے یہ وہم پیدا ہوتا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کی ابوۃ ’’رِجَالِکُمْ‘‘ سے منفی ہے رجالہٖ سے منفی نہیں یعنی اپنی امت کے مردوں میں سے کسی مرد کے باپ نہیں مگر ممکن ہے کہ اپنے مردوں میں سے کسی کے باپ ہوں۔ بایں طور کہ رسول اللہ ﷺ کے لئے کوئی لڑکا پیدا ہو کر حد رجولیت (بلوغت) تک پہنچ جائے اور حضور ﷺ اس کے باپ قرار پائیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس شبہ کو لفظ خاتم النبیین لا کر رفع فرما دیا یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک رسول اللہ ﷺ کا منصب یہ ہے کہ اگر حضور ﷺ کا کوئی لڑکا پیدا ہو کر حد رجولیت تک پہنچے تو وہ ضرور نبی ہو۔ چونکہ حضور ﷺ خاتم النبیین ہیں اس لئے وہ اپنے مردوں میں سے بھی کسی کے باپ نہیں ہو سکتے اور ان کا خاتم النبیین ہونا اس بات کے قطعاً منافی ہے کہ ان کا کوئی بیٹا مبلغ رجال تک پہنچے اور وہ اپنی صلبی اولاد میں سے کسی دو کے باپ قرار پائیں۔ اس تقدیر پر باپ سے صلبی باپ مراد لینے کی وجہ یہ ہے کہ حسنین کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے اعتراض وارد نہ ہو کیونکہ وہ حضور ﷺ کے صلبی بیٹے نہیں۔ اس شرطیہ کی دلیل وہ حدیث ہے جسے ابراہیم سدی نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مہد کو بھر دیا اور اگر وہ باقی رہتے تو ضرور نبی ہوتے لیکن وہ صرف اس لئے باقی نہ رہے کہ حضور ﷺ آخر الانبیاء ہیں۔ اسی طرح دوسری روایات میں بھی وارد ہوا۔



    بخاری نے من طریق محمد بن بشر عن اسماعیل بن ابی خالد روایت کیا، ابو خالد کہتے ہیں کہ میں نے عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ آپ نے رسول اللہ ﷺ کے صاحبزادے ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ بچپن میں فوت ہو گئے اور اگر محمد ﷺ کے بعد کسی نبی کا ہونا قضاء الٰہی میں ہوتا تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بیٹے ابراہیم زندہ رہتے لیکن حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد کوئی نبی نہیں۔



    اور امام احمد نے من طریق وکیع عن اسماعیل حضرت ابن ابی اوفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا، وہ فرماتے ہیں ’’لو کان بعد النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم نبی مامات ابنہ‘‘
    اور اسی روایت کو ابن ماجہ وغیرہ نے بروایت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما روایت کیا اور بعض محدثین نے ابن ماجہ کی روایت کو ضعیف کہا جیسا کہ امام قسطلانی کا قول ہے اور امام نووی نے حدیث ’’لو عاش ابراہیم لکان نبیا‘‘ کو باطل قرار دیا لیکن صحیح بخاری کی روایت ’’لو قضی ان یکون بعد محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم نبی عاش ابنہ ولٰـکن لا نبی بعدہ‘‘ بلا شبہ صحیح اور شرطیہ مذکور کی دلیل ہے۔ ۱۱ ھ


    ابن عبد البر وغیرہ کے شبہ کا جواب
    اس مقام پر ابن عبد البر وغیرہ کا یہ کہنا کہ یہ بات ہماری سمجھ میں نہیں آتی کہ نوح علیہ السلام کا بیٹا حد رجولیت تک پہنچنے کے باوجود بھی غیر نبی تھا اور اگر یہ بات مان لی جائے کہ نبی کا بیٹا نبی ہی ہوتا ہے تو ہر شخص نبی ہوتا کیونکہ سب لوگ نوح علیہ السلام کی اولاد سے ہیں، درست نہیں۔ کیونکہ قاعدہ کلیہ کے طور پر یہ بات نہیں کی گئی کہ نبی کا بیٹا نبی ہوتا ہے اس لئے محمد ﷺ کا بیٹا نبی ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ منصب خاص محمد رسول اللہ ﷺ کے لئے تھا کہ اگر آپ کا کوئی بیٹا حد رجولیت تک پہنچے تو نبی ہو، جس کی دلیل وہی حدیث ہے جو بروایت بخاری ہم پیش کر چکے ہیں، جس میں خاص حضور محمد رسول اللہ ﷺ کے حق میں یہ الفاظ وارد ہیں کہ ’’لو قضی ان یکون بعد محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم نبی عاش ابنہ۔‘‘ الحدیث یہ ہر نبی کے لئے نہیں بلکہ حضور ﷺ کے منصب خصوصی کی بنا پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ خاص ہے۔



    چنانچہ علامہ جمل نے اس مضمون کو محققین کے کلام سے اخذ کرتے ہوئے نہایت فاضلانہ انداز میں جامعیت کے ساتھ ارقام فرمایا ہے۔ ملاحظہ ہو فتوحات الٰہیہ جلد ۳ ص ۴۴۱


    ولعل وجہ الاستدراک انہ لما نفی کونہ ابالہم کان ذلک مظنۃ ان یتوہم انہ لیس بینہم وبینہ مایوجب تعظیمہم ایاہ وانقیادہم لہ فدفعہ ببیان ان حقہ اکد من حق الاب الحقیقی من حیث انہ رسولہم ولما کان قولہ من رجالکم مظنۃ ان یتوہم انہ ابو احد من رجال نفسہ الذین ولد وامنہ رفعہ بقولہ وخاتم النبیین فانہ یدل علی انہ لا یکون ابًا لواحد من رجال نفسہ ایضًا لانہ لو بقی لہ ابن بالغ بعدہ لکان اللائق بہ ان یکون نبیا بعدہ فلا یکون ہو خاتم النبیین۔ انتہٰی ۱ھ شیخ زادہ و اورد فی الکشاف منع الملازمۃ اذ کثیر من اولاد الانبیاء لم یکونوا انبیاء فانہ اعلم حیث یجعل رسالتہ واجاب الشہاب عن ذالک بقولہ الملازمۃ لیست مبنیۃ علی اللزوم العقلی والقیاس المنطقی بل علی مقتضی الحکمۃ الالٰہیۃ وہی ان اللّٰہ اکرم بعض الرسل بجعل اولادہم انبیاء کالخلیل ونبینا اکرمہم وافضلہم فلو عاش اولادہ اقتضی تشریف اللّٰہ لہ جعلہم انبیاء۔ ۱ھ
    (ترجمہ) غالباً وجہ استدراک یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ کے حق میں حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے باپ ہونے کی نفی فرمائی تو اس سے یہ وہم پیدا ہوا کہ امتیوں اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے درمیان ایسا کوئی امر نہیں پایا جاتا ہے جو افراد امت پر حضور کی تعظیم اور فرمانبرداری کو واجب قرار دیتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس وہم کو یہ بیان فرما کر رفع فرما دیا کہ محمد رسول اللہ ﷺ کا یہ حق بحیثیت رسول ہونے کے حقیقی باپ کے حق سے بھی زیادہ مؤکد ہے اور جب کہ اللہ تعالیٰ کے قول ’’مِنْ رِجَالِکُمْ‘‘ سے یہ وہم پیدا ہوتا تھا کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ خود اپنے رجال اولاد میں سے کسی کے باپ ہیں تو اللہ تعالیٰ نے وخاتم النبیین فرما کر اسے رفع فرما دیا۔ کیونکہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا خاتم النبیین ہونا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ حضور اپنی اولاد کے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں۔ اس دلالت کی وجہ یہ ہے کہ اگر حضور کے بعد حضور کا کوئی (صلبی) بیٹا باقی رہ کر حد بلوغ کو پہنچے تو آپ کے شان کے لائق یہ ہے کہ وہ آپ کے بعد نبی ہو۔ ایسی صورت میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام خاتم النبیین نہیں ہو سکتے۔ انتہیٰ شیخ زادہ۔ کشاف نے اس مقام پر منع ملازمت کا اعتراض وارد کرتے ہوئے دلیل منع میں کہا کہ انبیاء علیہم السلام کی بکثرت اولاد نبی نہیں ہوئی۔ کیونکہ ’’اَللّٰہُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہٗ‘‘ اس کے جواب میں شہاب الدین خفا جی نے فرمایا کہ ملازمت لزوم عقلی و قیاس پر مبنی نہیں بلکہ اس کا مبنیٰ مقتضائے حکمت الٰہیہ ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بعض انبیاء مثلاً خلیل اللہ علیہم السلام کو ان کی اولاد کے نبی ہونے کے ساتھ مکرم فرمایا اور ہمارے نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام سب نبیوں سے اکرم اور افضل ہیں اس لئے اگر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بیٹے حد بلوغ تک زندہ رہتے تو عند اللہ تعالیٰ حضور ﷺ کی تشریف و تکریم کے منصب خاص کا مقتضا یہ ہوتا کہ اللہ تعالیٰ انہیں نبی بنائے۔
  4. ‏ جون 10, 2017 #4
    مبشر شاہ

    مبشر شاہ رکن عملہ منتظم اعلی

    اہل علم کے لئے مقام غور
    اہل علم حضرات بنظر انصاف غور فرمائیں کہ صاحب روح المعانی علامہ محمود الوسی حنفی بغدادی علیہ الرحمۃ اور صاحب فتوحات الٰہیہ علامہ سلیمان بن عمر نے علماء محققین کے کلام کی روشنی میں آیۂ کریمہ ’’مَا کَانَ مُحَمَّدٌاَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰـکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیِّیْن‘‘ کی تفسیر کرتے ہوئے کس خوبی کے ساتھ استدراک کی توجیہات فرمائی ہیں اور کیسے فاضلانہ انداز میں عطف بین الجملتین کی تقریر فرمائی اور کس شان سے کلام الٰہی میں ارتباط واضح کیا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ آگے چل کر علامہ سلیمان موصوف علیہ الرحمہ نے ’’مَا کَانَ مُحَمَّد‘‘ میں نفی پر کلام کرتے ہوئے تفسیر خازن سے ایسی بات نقل فرمائی کہ جس نے حقیقت حال کو پوری طرح واضح کر دیا اور توجیہ سابق میں کسی ادنیٰ تردد کے لئے بھی گنجائش نہ چھوڑی۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں(قولہ فلا یکون لہ ابن رجل بعدہ یکون نبیا) النفی فی الحقیقۃ متوجہ للوصف ای کون ابنہ رجلا وکونہ نبیا بعدہ والافقد کان لہ من الذکور اولاد ثلثۃ ابراہیم والقاسم والطیب ویقال لہ ایضًا الطاہر ولکنہم ما توا قبل البلوغ فلم یبلغوا مبلغ الرجال۔ ۱ھ (من الخازن جمل ص ۴۴۱ ج ۳)



    یعنی اس آیت میں نفی فی الحقیقت وصف کی طرف متوجہ ہے۔ اس وصف سے مراد حضور ﷺ کے بیٹے کا مرد بالغ ہونا اور حضور کے بعد اس کا نبی ہونا ہے۔ ورنہ اس میں شک نہیں کہ حضور ﷺ کے تین بیٹے تھے۔ ابراہیم، قاسم اور طیب۔
    طیب کو طاہر بھی کہا جاتا ہے لیکن وہ سب قبل البلوغ فوت ہو گئے اور ان میں سے کوئی ایک بھی مبلغ رجال کو نہ پہنچا۔ انتہیٰ خازن



    اس عبارت سے اچھی طرح واضح ہو گیا کہ صحت استدراک و عطف بین الجملتین اور کلام الٰہی میں ارتباط اسی تقدیر پر ہے کہ خاتم النبیین میں ختم زمانی کو مراد لیا جائے۔


    لٰـکن سے استدراک کی تیسری توجیہ’’وَلٰـکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ‘‘ میں استدراک کی تیسری توجیہ یہ بھی کی گئی ہے کہ جائز ہے کہ ’’لٰـکن‘‘ سے استدراک اس مقام پر اول کلام سے پیدا ہونے والے توہم کو رفع کرنے کے لئے نہ ہو جیسے ’’ما زید کریم لکنہ شجاع‘‘ میں ہے بلکہ یہاں استدراک کا مفاد یہ ہے کہ ’’ما بعد لکن‘‘ کے لئے وہ حکم ثابت کیا جائے جو اس کے ماقبل کے مخالف ہے جیسے عام طور پر کہا جاتا ہے ’’ما ہٰذا ساکن لکنہ متحرک‘‘ اور ’’ما ہٰذا ابیض لکنہ اسود‘‘ بعض آیاتِ قرآنیہ میں بھی اس قسم کا استدراک وارد ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے ’’یَا قَوْمِ لَیْسَ بِیْ سَفَاہَۃٌ وَّلٰـکِنِّیْ رَسُوْلٌ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ‘‘ کیونکہ نفی سفاہت انتفاء رسالت کا وہم پیدا نہیں کرتی نہ لوازماتِ رسالت مثلاً ہدایت و تقویٰ کے انتفاء کا وہم پیدا کرتی ہے۔ حتیٰ کہ اسے استدراک بالمعنی الاول قرار دیا جائے۔ (روح المعانی پ ۲۲ ص ۳۴۴)


    استدراک اور عطف بین الجملتین پر علماء مفسرین کے ان روشن بیانات کو دیکھنے کے بعد پرستارانِ تحذیر تعصب کو چھوڑ کر انصاف فرمائیں کہ نانوتوی صاحب نے کلام الٰہی میں بے ربطی پیدا کی ہے یا جمہور امت مسلمہ نے؟



    نانوتوی صاحب نے جو راستہ اختیار کیا ہے وہ قطعاً سبیل مومنین کے خلاف ہے۔ زیر نظر مضمون کو بغور پڑھنے کے بعد منصف مزاج علماء پر یہ حقیقت آفتاب سے زیادہ روشن ہو جائے گی۔



    اس کے بعد یہ گزارش کئے بغیر ہم نہیں رہ سکتے کہ عہد رسالت سے لے کر آج تک جن مقدس حضرات نے لفظ خاتم النبیین کے معنی آخر النبیین کے ساتھ کئے، انہوں نے نانوتوی صاحب کے نزدیک کلام الٰہی کو بے ربط کر دیا اور بقول نانوتوی صاحب قرآن کریم میں ایسی بے ربطی پیدا کی جو اللہ تعالیٰ کے کلام معجز نظام میں قطعاً متصور نہیں۔ جس کا واضح مفہوم یہ ہے کہ آج تک کسی نے خاتم النبیین کے معنی صحیح طور پر کئے ہی نہیں۔ چودہ سو برس کے بعد صرف نانوتوی صاحب کو یہ توفیق نصیب ہوئی کہ انہوں نے کتاب و سنت اور اجماعِ امت کے خلاف صحیح معنی کئے۔


    ایں کا راز تو آید و مرداں چنیں کنند

    غلطی نمبر ۵
    پانچویں غلطی کے متعلق عرض ہے کہ اگر قرآن مجید میں لفظ خاتم النبیین کو بمعنی آخر النبیین تسلیم کرنے پر نانوتوی صاحب کے نزدیک اللہ تعالیٰ کے حق میں معاذ اللہ زیادہ گوئی کا وہم پیدا ہوتا ہے تو اس کا واضح مفہوم یہ ہو گا کہ تمام مفسرین و محدثین صحابہ کرام و تابعین و متاخرین بلکہ امت مسلمہ کے جمیع علماء اعلام جنہوں نے آیت قرآنیہ میں لفظ خاتم النبیین کو بمعنی آخر النبیین تسلیم کیا ہے وہ سب کے سب (العیاذ باللہ) اللہ تعالیٰ کے حق میں زیادہ گوئی کے وہم میں مبتلا تھے۔ استغفر اللّٰہ ثم استغفر اللّٰہ


    غلطی نمبر ۶نقصان قدر کا احتمال باطل ہے
    چھٹی غلطی کی بابت عرض ہے کہ ختم زمانی کی تقدیر پر نقصان قدر کا احتمال تو اس وقت ہو سکتا جب کہ حضور ﷺ کے کسی کمال کے لئے لفظ خاتم النبیین کے سوا کوئی اور دلیل قرآن مجید میں نہ پائی جائے اور ہر کمال کا ثبوت اس لفظ خاتم النبیین پر موقوف ہو۔ حالانکہ قرآن مجید میں بے شمار دلائل ایسے ہیں جو حضور ﷺ کے مجموعی کمالات پر روشن دلالت کرتے ہیں اور جن سے روزِ روشن کی طرح ثابت ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ جملہ کمالات علمی و عملی کے جامع اور تمام کائنات کے لئے مربی اور مفیض ہیں۔ مثلاً اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ’’وَمَا اَرْسَلْنٰـکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ‘‘ اس آیت کریمہ کی تفسیر میں مفسرین کرام نے لکھا ہے کہ نبی کریم ﷺ تمام کائنات کے لئے وصول فیض کا واسطہ عظمیٰ اور وسیلۂ کبریٰ ہیں۔ (روح المعانی پ ۱۷ ص ۱۰۵)



    نیز آیۂ کریمہ ’’اُولٰئِکَ الَّذِیْنَ ہَدَاہُمُ اللّٰہُ فَبِہُدَاہُمُ اقْتَدِہ‘‘ کے تحت امام رازی نے تمام کمالاتِ نبوت کو رسول اللہ ﷺ کیلئے ثابت کیا ہے۔ دیکھئے تفسیر کبیر۔



    لہٰذا ختم زمانی کی تقدیر پر حضور ﷺ کے حق میں نقصان قدر کا احتمال ساقط ہے۔


    غلطی نمبر ۷
    اس کے بارے میں میری معروضات یہ ہیں کہ نانوتوی صاحب کا حضور ﷺ کے وصف آخر النبیین کو حسب و نسب اور سکونت وغیرہ اوصاف کی طرح قرار دینا اور اس کا نبوت یا اور فضائل میں کچھ دخل نہ ماننا اس بات کو صاف ظاہر کرتا ہے کہ نانوتوی صاحب کے نزدیک حضور ﷺ کے آخر النبیین ہونے میں بالذات یا بالعرض کسی قسم کی کوئی فضیلت اصلاً نہیں۔ کیونکہ وہ وصف آخر النبیین و دیگر اوصاف مذکورہ مثلاً مکی مدنی یا قریشی ہاشمی کے مابین کوئی فرق نہیں سمجھتے جس کا خلاصہ یہ نکلا کہ قریشی ہاشمی ہونا اور آخر النبیین ہونا یکساں ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ آخر النبیین ہونا حضور ﷺ کا وصف خاص ہے اور مکی مدنی یا قریشی ہاشمی ہونے میں مسلمان کی بھی خصوصیت نہیں۔ سینکڑوں کافر، مشرک اور منافقین ساکنین مکہ و مدینہ ہوئے اور بے شمار کفار و مشرکین نسب قریش و بنی ہاشم میں پیدا ہوئے۔ اس کے باوجود نانوتوی صاحب کا وصف آخر النبیین اور اوصافِ مذکورہ میں فرق نہ کرنا درحقیقت دین کی بنیاد کو منہدم کرنا ہے۔
    ہم تو وصف خاتم النبیین کو بلحاظ اضافت فضیلت جانتے ہیں اور اسی لئے مقام مدح میں اس کے ذکر کو بھی صحیح اور جائز سمجھتے ہیں مگر نانوتوی صاحب کا مسلک اس کے بالکل منافی ہے۔ ورنہ ان کے نزدیک اس وصف اضافی میں کسی قسم کی کوئی فضیلت ہوتی تو مقام مدح میں اس کے ذکر کو وہ ہرگز غیر صحیح قرار نہ دیتے۔


    غلطی نمبر ۸
    اس کے متعلق میری مختصر گزارش یہ ہے کہ نانوتوی صاحب ختم زمانی کی بجائے ختم ذاتی کو بنائے خاتمیت قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ نزول آیۂ کریمہ ’’وَلٰـکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیِّیْن‘‘ کے وقت سے لے کر اب تک بنائے خاتمیت تاخر زمانی کو قرار دیا جاتا رہا۔ ختم ذاتی کے تصور سے بھی سلف کے اذہان نا آشنا تھے۔ اب تیرہ سو برس کے بعد نانوتوی صاحب نے اثر عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما میں مزید چھ خاتم النبیین ملاحظہ فرما کر ایسی راہ نکالنے کی کوشش کی کہ چھ زمینوں کے چھ خاتم النبیین بھی برقرار رہیں اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا خاتم النبیین ہونا بھی برائے نام باقی رہے۔ اس کی صورت اس کے سوا اور کیا ہو سکتی تھی کہ بنائے خاتمیت کے لئے تاخر زمانی کے سوا کسی اور چیز کو تلاش کیا جائے لیکن جس طرح طلب مجہول مطلق محال ہے اسی طرح وجدان معدوم بھی مطلق ممتنع۔ نتیجہ ظاہر ہے۔



    قرآن و حدیث، اجماع و قیاس میں کہیں کچھ ہاتھ نہ لگا تو بالآخر انتہائی کد و کاوش کے بعد خاتمیت کی تین شقیں پیدا کی گئیں اور ختم ذاتی کا ایک خود ساختہ مفہوم تراش کر اس کو بنائے خاتمیت قرار دے دیا گیا جس پر کتاب اللہ سنت رسول اللہ ﷺ و اقوال علماء مفسرین و محدثین کی روشنی میں ہم پوری وضاحت کے ساتھ رد کر چکے ہیں۔


    غلطی نمبر ۹ذاتی اور عرضی کی طرف نبوت کی تقسیم احداث فی الدین ہے
    اس غلطی کے متعلق اتنی بات یاد رکھیں کہ درحقیقت نانوتوی صاحب کی تمام اغلاط کی بنیاد یہی غلطی ہے کہ انہوں نے نبوت کو بالذات اور بالعرض کی طرف تقسیم کر دیا اور میں کتاب و سنت سے ثابت کر چکا ہوں کہ یہ تقسیم عہد رسالت سے لے کر آج تک کسی نے نہیں کی۔ قرآن و حدیث اور اقوال علمائے راسخین کی روشنی میں یہ بات آفتاب سے زیادہ روشن ہو گئی کہ نبوت کی یہ تقسیم احداث فی الدین ہے۔


    غلطی نمبر ۱۰
    نانوتوی صاحب کے نزدیک آیۂ خاتم النبیین تاخر زمانی میں نہیں
    اس کے متعلق گزارش ہے کہ نانوتوی صاحب نے جب خاتم النبیین کے معنی آخر النبیین کو عوام کا خیال قرار دے دیا اور بنائے خاتمیت کسی اور بات پر رکھ دی تو اب تاخر زمانی کے لئے سوق کلام متصور ہی نہیں رہا۔ ایسی صورت میں تاخر زمانی میں آیۂ کریمہ کیونکر نص قرار پا سکتی ہے؟ حالانکہ ساری امت کے نزدیک یہ آیۂ کریمہ رسول اللہ ﷺ کے آخر النبیین ہونے پر نص قطعی ہے۔


    غلطی نمبر ۱۱
    اتصاف ذاتی کے لئے تاخر زمانی کا لزوم باطل ہے
    اس غلطی پر سابقاً تفصیل سے لکھا جا چکا ہے۔ یہاں صرف اتنا عرض کر دینا کافی ہے کہ اگر اتصاف ذاتی کے لئے تاخر زمانی لازم ہو تو حضور ﷺ کے بعد کوئی مومن نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ حضور ﷺ صرف نبوت سے متصف بالذات نہیں بلکہ نانوتوی صاحب کی تصریح کے مطابق وصف ایمان سے بھی بالذات متصف ہیں۔ لہٰذا جس طرح وہاں خود بخود تاخر زمانی لازم آیا یہاں بھی لازم آئے گا، ورنہ لزوم کا دعویٰ باطل ہو گا اور اس پر جو عمارت تحذیر الناس میں قائم کی گئی ہے وہ سب منہدم ہو کر رہ جائے گی لیکن کیا کوئی مسلمان ایسا ہے جو یہ تسلیم کرے کہ حضور ﷺ کے بعد جس طرح کوئی نبی نہیں ہو سکتا ایسے ہی مومن کا ہونا بھی محال ہے (معاذ اللہ ثم معاذ اللہ) معلوم ہوا کہ اتصاف ذاتی کے لئے تاخر زمانی کے لزوم کا قول بداہۃً باطل ہے۔


    غلطی نمبر ۱۲
    اس کی بابت ہم خود نانوتوی صاحب کا اعتراف تحذیر الناس سے پیش کئے دیتے ہیں۔ لہٰذا ہمیں کچھ مزید لکھنے کی ضرورت نہیں۔ نانوتوی صاحب فرماتے ہیں
    ’’اگر بوجہ کم التفاتی بڑوں کا فہم کسی مضمون تک نہ پہنچا تو ان کی شان میں کیا نقص آ گیا اور کسی طفل نادان نے ٹھکانے کی بات کہہ دی تو کیا اتنی بات سے وہ عظیم الشان ہو گیا۔


    گاہ باشد کہ کودک ناداں
    بغلط برہدف زند تیرے


    ہاں بعد وضوح حق اگر فقط اس وجہ سے کہ یہ بات میں نے کہی اور وہ اگلے کہہ گئے تھے میری نہ مانیں اور وہ پرانی بات گائے جائیں تو قطع نظر اس کے کہ قانونِ محبت نبوی ﷺ سے یہ بات بعید ہے۔ ویسے بھی اپنے عقل و فہم کی خوبی پر گواہی دیتی ہے۔‘‘ (تحذیر الناس ص ۲۵)


    اے کاش! اگر نانوتوی صاحب خاتم النبیین کے معنی آخر النبیین کو عوام کا خیال قرار نہ دیتے اور بنائے خاتمیت تاخر زمانی کے سوا کسی اور چیز پر رکھتے تو ہمیں ان کی اس تاویل سے اختلاف کی ضرورت محسوس نہ ہوتی۔


    غلطی نمبر ۱۳
    اس کے متعلق بھی ہم تحذیر الناس سے نانوتوی صاحب کی ایک عبارت پیش کئے دیتے ہیں۔ ملاحظہ فرمایئے وہ فرماتے ہیں
    ’’ہاں اگر بطور اطلاق یا عموم مجاز اس خاتمیت کو زمانی اور رتبی سے عام لیجئے تو پھر دونوں طرح کا ختم مراد ہو گا۔ پر ایک مراد ہو تو شایانِ شان محمدی خاتمیت مرتبی ہے نہ زمانی۔‘‘ (تحذیر الناس ص ۸)



    اس عبارت کے بعد بھی یہ کہنا کہ نانوتوی صاحب نے خاتمیت زمانیہ کا انکار نہیں کیا، کس قدر بے معنی اور مضحکہ خیز ہے۔


    غلطی نمبر ۱۴
    اس کی تفصیل تفصیل بیان ترتیب ہی کے ضمن میں ابتدایًٔ آ گئی۔ وہاں بغور ملاحظہ فرمائیں۔


    ہر کمال کے لئے لفظ خاتم النبیین کو دلیل بنانا درست نہیں
    اس بحث میں یہ امر خاص طور پر ملحوظ رہے کہ آقائے نامدار حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی اس فضیلت میں کسی مسلمان کے لئے مجال انکار نہیں ہو سکتی کہ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو ہر کمال کا مبداء اور تمام علمی و عملی خوبیوں کا جامع بنایا ہے اور تمام کائنات حضور ہی کے فیض سے مستفیض ہے۔ مگر اس کے لئے یہ ضروری نہیں کہ لفظ ’’خاتم النبیین‘‘ ہی کو دلیل بنایا جائے۔ اس دعویٰ پر کتاب و سنت میں بے شمار دلائل موجود ہیں۔


    مولانا کشمیری کا صاحبِ تحذیر سے اختلاف
    اگر انصاف کی نظر سے دیکھا جائے تو نانوتوی صاحب کے پیشِ نظر اولاً و ابتدایًٔ حضور ﷺ کے فضائل کا اظہار نہیں بلکہ اثر عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے بارے میں اپنے نظریہ کا اثبات ہے۔ انہوں نے اپنی بات کی تائید میں جو طریقہ اختیار کیا ہے وہ اس میں ساری امت سے منفرد ہو گئے۔ خود علماء دیوبند میں ایسے حضرات پائے جاتے ہیں جنہوں نے اثر عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے بارے میں نانوتوی صاحب کی روش سے اختلاف کیا۔ دیکھئے آپ کے مولانا محمد انور شاہ صاحب کشمیری نے بھی اس اثر عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما پر فیض الباری میں کلام فرمایا ہے اور اس کے متعلق ان کا مسلک آپ کے مولانا نوتوی صاحب سے بالکل مختلف نظر آتا ہے۔ نانوتوی صاحب اس اثر کو بالمعنی مرفوع اور سنداً صحیح قرار دیتے ہیں۔ جیسا کہ تحذیر الناس ص ۳۳ میں رقمطراز ہیں
    ’’تو بایں وجہ کہ بالمعنی مرفوع ہے اور باعتبار سند صحیح۔ بے شک تسلیم ہی کرنا پڑے گا۔‘‘



    لیکن مولانا انور شاہ صاحب کشمیری اس کے خلاف ہیں۔ دیکھئے فیض الباری میں انہوں نے صاف طور پر لکھا’’والظاہر انہ لیس بمرفوع واذا ظہر عندنا منشؤہ فلا ینبغی للانسان ان یعجز نفسہ فی شرحہ مع کونہ شاذا بالمرۃ۔‘‘(فیض الباری ج ۳ ص ۳۳۳)
    (ترجمہ) اور ظاہر یہ ہے کہ یہ اثر مرفوع نہیں ہے اور جب اس کا منشاء ہم پر ظاہر ہو گیا کہ یہ محض عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی طرف منسوب کیا ہوا قول ہے۔ (ناقل) تو اب انسان کے لئے یہ بات لائق نہیں کہ وہ اس کی شرح میں اپنے آپ کو عاجز کر دے۔ باوجودیکہ وہ مُرَّہ (راوی) کی وجہ سے شاذ ہے۔ انتہیٰ


    تحذیر الناس پر فیض الباری کی جرح
    صرف یہی نہیں بلکہ مولانا انور شاہ صاحب نے فیض الباری میں اسی مقام پر مولانا نانوتوی صاحب کے رسالہ تحذیر الناس کا ذکر بھی کیا ہے اور عجیب انداز میں اس کے انداز پر جرح کی ہے۔ فرماتے ہیںوقد الف مولانا النانوتوی رسالۃ مستقلۃ فی شرح الاثر المذکور سماہا تحذیر الناس عن انکار اثر ابن عباس وحقق فیہا ان خاتمیتہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لا یخالف ان یکون خاتم اخر فی ارض اخری کما ہو مذکور فی اثر ابن عباس ویلوح من کلام مولانا النانوتوی ان یکون لکل ارض سماء ایضًا کما ہو لا رضنا والذی یظہر من القراٰن کون السمٰوٰت السبع کلہا لتلک الاریضۃ۔ ۱ ھ(فیض الباری ج ۳ ص ۳۳۳)
    (ترجمہ) عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے اثر مذکور کی شرح میں مولانا نانوتوی نے ایک مستقل رسالہ ’’تحذیر الناس عن انکار اثر ابن عباس‘‘ لکھا ہے اور اس میں ثابت کیا ہے کہ اگر کوئی اور خاتم کسی دوسری زمین میں ہو تو محمد رسول اللہ ﷺ کی خاتمیت کے خلاف نہیں جیسا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے اس اثر میں مذکور ہے اور مولانا نانوتوی کے کلام سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہر زمین کے لئے بھی اسی طرح آسمان ہو جیسے ہماری زمین کے لئے ہے۔ قرآن مجید سے جو کچھ ظاہر ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ ساتوں آسمان اسی زمین کے لئے ہیں۔مولانا انور شاہ صاحب کا نانوتوی صاحب پر طنز لطیف
    دیکھئے کس وضاحت کے ساتھ مولانا انور شاہ صاحب نے نانوتوی صاحب کے کلام کو قرآن مجید کے خلاف قرار دیا ہے۔ اس کے بعد مولانا انور شاہ صاحب نے اثر مذکور کے متعلق اپنا وہی مسلک بیان کیا ہے جو ہم بیان کر چکے ہیں اور ساتھ ہی شاہ صاحب نے نانوتوی صاحب پر نہایت لطیف انداز میں طنز کیا ہے۔ فرماتے ہیں’’والحاصل انا اذا اوجدنا الاثر المذکور شاذ الا یتعلق بہ امر من صلٰوتنا وصیامنا ولا یتوقف علیہ شئ من ایماننا رأینا ان نترک شرحہ وان کان لابدلک ان تقتحم فی ما لیس لک بہ علم فقل علی طریق ارباب الحقائق ان سبع ارضین لعلہا عبارۃ عن سبعۃ عوالم وقد صح منہا ثلثۃ عالم الاجسام وعالم المثال وعالم الارواح۔ اما عالم الذرو عالم النسمۃ فقد ورد بہ الحدیث ایضا لکنالا ندری ہل ہو عالم برأسہ ام لا فہذہ خمسۃ عوالم واخرج نحوہا اثنین ایضا فالشئ الواحد لا یمر من ہٰذہ العالم الا ویاخذ احکامہ وقد ثبت عند الشرع وجودات للشئ قبل وجودہ فی ہٰذا العالم وحینئذ یمکن لک ان تلتزم کون النبی الواحد فی عوالم مختلفۃ بدون محذور۔‘‘ انتہٰی(فیض الباری ج ۳ ص ۳۳۴)
    (ترجمہ) اور حاصل کلام یہ ہے کہ جب ہم نے اثر مذکور کو شاذ پایا اور اس کے ساتھ ہماری نماز اور روزے کا کوئی امر بھی متعلق نہیں، نہ اس پر ہمارے ایمان سے کوئی امر موقوف ہے تو ہم نے مناسب جانا کہ اس کی شرح کو ترک کر دیں اور (اے مخاطب) اگر تیرے لئے کوئی چارہ نہیں اور تو اس بات پر مجبور ہے کہ ایسی چیز میں دخل انداز ہو جس کے بارہ میں تجھے کچھ علم نہیں (یعنی اثر مذکور کے بارے میں تو ضرور کچھ کہنا چاہتا ہے) تو ارباب حقائق کے طریق پر تجھے یہ کہنا چاہئے کہ غالباً اثر مذکور میں سات زمینوں کے لفظ سے سات عالموں کو تعبیر کیا گیا ہے جن میں سے تین کا وجود تو صحت کے درجہ کو پہنچ چکا ہے۔ عالم اجسام، عالم مثال، عالم برزخ، پھر عالم ذر، عالم نسمہ۔ تو بیشک ان دونوں کے متعلق بھی حدیث وارد ہوئی ہے لیکن ہم نہیں جانتے کہ یہ دونوں عالم ہیں یا نہیں۔ پس یہ پانچ عالم ہیں اور انہیں پانچ کی طرح دو اور بھی نکال لے (تاکہ پورے سات ہو جائیں) تو ایک چیز اس عالم سے دوسرے عالم کی طرف نہیں گزرتی لیکن اس حال میں گزرتی ہے کہ اس عالم کے احکام لے لیتی ہے اور بے شک ایک شے کے لئے اس کے اس عالم میں آنے سے پہلے کئی وجود شرع مطہر میں ثابت ہو چکے ہیں اور اس وقت تیرے لئے بغیر کسی دشواری کے یہ ممکن ہے کہ تو مختلف عالموں میں ایک ہی نبی کے ہونے کا التزام کر لے۔ (فیض الباری ج ۳ ص ۳۳۴)


    مولانا کشمیری کا تحذیر پر رد اور ہماری تائید
    شاہ صاحب نے اس عبارت میں بیہقی کی تصحیح نقل کرنے کے باوجود اثر مذکور کی صحت کو تسلیم نہیں کیا اور اس کو محض لفظ شاذ سے تعبیر فرمایا۔ اسی طرح ’’والظاہر انہ لیس بمرفوع‘‘ کہہ کر اس کے مطلقاً مرفوع ہونے کی نفی کر دی اور کسی ایک جگہ بھی اس کے بالمعنی مرفوع ہونے کا قول نہیں کیا اور صاف کہہ دیا کہ ہمارے اعمال و عقائد میں سے کوئی شیٔ اس اثر عبد اللہ بن عباس سے متعلق نہیں اس لئے ہم اس کی شرح کو چھوڑتے ہیں۔ یہ نانوتوی صاحب پر ایک قسم کا لطیف طنز ہے۔



    کیونکہ نانوتوی صاحب نے یہ تسلیم کر لینے کے باوجود کہ واقعی اثر عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اصول دین اور عقائد و اعمال سے قطعاً متعلق نہیں اس کی شرح میں ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا۔ مزید برآں شاہ صاحب نے اثر مذکور میں کلام کرنے کو انتہائی طور پر ناپسند کیا اور فرمایا کہ اگر کوئی شخص اس میں کلام کرنے کے لئے اپنے آپ کو مجبور پاتا ہے تو اسے (ـوہ بات نہیں کہنی چاہئے جو نانوتوی صاحب صاحب نے کہی بلکہ) ارباب حقائق کے طور پر کلام کرنا چاہئے اور وہ یہ کہ سات زمینوں سے سات عالم مراد لئے جائیں اور انبیاء مذکور میں سے ہر نبی کو ہر عالم میں تسلیم کیا جائے کیونکہ عند الشرع ایک شیٔ کے متعدد وجود ہوتے ہیں۔ لہٰذا ایک ہی نبی کا ساتوں عالموں میں پایا جانا دشوار نہیں۔


    نانوتوی صاحب کے خلاف ایک اور شہادت
    تفسیر روح البیان میں علامہ اسماعیل حقی آفندی رحمۃ اللہ علیہ نے علماء محققین سے ایک اور معنی نقل کئے ہیں۔ وہ اسی حدیث ’’اٰدم کاٰدمکم‘‘ کے تحت فرماتے ہیںقالوا معناہ ان فی کل ارض خلقا للّٰہ لہم سادۃ یقومون علیہم مقام اٰدم و نوح و ابراہیم و عیسٰی فینا قال السخاوی فی المقاصد الحسنۃ حدیث الارضون سبع فی کل ارض من الخلق مثل ما فی ہٰذہ حتّٰی اٰدم کادمکم وابراہیم کابراہیمکم ہو مجہول (د) ان صح نقلہ عن ابن عباس رضی اللّٰہ عنہما علی انہ اخذہ عن اسرائیلیات ای اقاویل بنی اسرائیل مما ذکر فی التوراۃ واخذ من علمائہم ومشائخہم کما فی شرح النخبۃ وذالک وامثالہ اذا لم یخبر بہ ویصح سندہ الی معصوم فہو مردود علی قائلہ انتہٰی کلام المقاصد مع تفسیر الاسرائیلیات وقال فی انسان العیون قد جاء عن ابن عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما فی قولہ تعالٰی ’’وَمِنَ الْاَرْض مثلہن‘‘ قال سبع ارضین فی کل ارض نبی کنبیکم واٰدم کاٰدمکم و نوح کنوحکم وابراہیم کابراہیمکم وعیسٰی کعیساکم رواہ الحاکم فی المستدرک وقال صحیح الاسناد وقال البیہقی اسنادہ صحیح لکنہ شاذ بالمرہ ای لانہ لا یلزم من صحۃ الاسناد صحۃ المتن فقد یکون فیہ مع صحۃ اسنادہ ما یمنع صحتہ فہو ضعیف قال الجلال السیوطی ویمکن ان یؤل علی ان المراد بہم النذر الذین کانوا یبلغون الجن عن انبیاء البشر ولا یبعد ان یسمی کل منہم باسم النبی الذی یبلغ عنہ ہٰذا کلامہ وحینئذ کان لنبینا علیہ السلام رسول من الجن اسمہ کاسمہ ولعل المراد اسمہ المشہور وہو محمد فلیتأمل انتہٰی مافی انسان العیون۔(روح البیان ج ۱۰ پ ۲۸ مطبوعہ مصر ص ۴۴، ۴۵)
    (ترجمہ) محققین نے کہا کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ ہر زمین میں اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے اور اس کے سردار ہیں جو ان پر ہمارے آدم و نوح اور ابراہیم و عیسیٰ علیہم الصلوٰۃ والسلام کے قائم مقام ہو کر ان کی قیادت و سیادت کے فرائض انجام دیتے ہیں۔



    علامہ سخاوی نے مقاصد حسنہ میں اس حدیث کو مجہول کہا۔ اگرچہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے اس کی نقل صحیح ہے۔ مجہول ہونا اس بات پر مبنی ہے کہ انہوں نے اسے اسرائیلیات یعنی بنی اسرائیل کی ان اقاویل سے لیا ہے جو توراۃ میں مذکور ہیں یا علماء و مشائخ بنی اسرائیل سے لیا ہے جیسا کہ شرح نخبہ میں ہے۔ یہ اور اسی قسم کی روایات جب اخبار اور سند کے اعتبار سے نبی معصوم ﷺ تک صحت کے ساتھ پایۂ ثبوت تک نہ پہنچی ہوں تو وہ اسی شخص پر رد کر دی جائیں گی جو ان کا قائل ہے۔ انتہیٰ



    اور انسان العیون میں کہا کہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے قول خداوندی ’’وَمِنَ الْاَرْض مثلہن‘‘ کی تفسیر میں حدیث ’’نبی کنبیکم و اٰدم کاٰدمکم‘‘ (الحدیث) مروی ہے اسے حاکم نے مستدرک میں روایت کیا اور اسے صحیح الاسناد بتایا اور بیہقی نے کہا اس کی اسناد صحیح ہے لیکن وہ مُرَّہ (راوی) کے ساتھ شاذ ہے یعنی اس لئے کہ صحت اسناد سے صحت متن لازم نہیں آتی کیونکہ کبھی باوجود صحت اسناد کے متن میں ایسی بات ہوتی ہے جو صحت متن سے مانع ہوتی ہے لہٰذا وہ ضعیف ہے۔



    جلال الدین سیوطی نے کہا کہ اس روایت کی یہ تاویل ہو سکتی ہے کہ آدم و نوح اور ابراہیم و عیسیٰ وغیرہم علیہم السلام سے وہ پیغامبر مراد ہیں جو انبیاء بشر کی طرف سے جنات کو پیغام پہنچایا کرتے تھے اور یہ بعید نہیں کہ ان پیغامبروں میں سے ہر ایک اسی نبی کے نام سے موسوم ہو جس کا وہ پیغام رساں ہوتا تھا۔ یہ جلال الدین سیوطی کا کلام ہے۔ اس وقت یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے نبی ﷺ کا ایک قاصد از قوم جن تھا جس کا نام نبی ﷺ کے نام کی طرح تھا اور شاید نام سے حضور کا مشہور نام مراد ہے جو ’’محمد‘‘ ہے۔



    یہاں تامل کرنا چاہئے۔ انسان العیون کی عبارت ختم ہوئی۔‘‘(روح البیان ج ۱۰ پ ۲۸ ص ۴۴، ۴۵ طبع مصر)


    روح البیان کی اس منقولہ عبارت کا مفاد حسب ذیل ہے
    نمبر ۱ بقیہ چھ زمینوں میں جن حضرات کا ذکر اثر مذکور میں وارد ہے، درحقیقت وہ انبیاء اللہ نہیں بلکہ رسل انبیاء بشر ہیں اور آدم و نوح و ابراہیم و عیسیٰ علیہم السلام کے قائم مقام ہو کر ہر زمین میں خلق اللہ کی سیادت و قیادت کے امور انجام دیتے ہیں یعنی وہ خود انبیاء نہیں بلکہ وصف سیادت و قیادت میں انبیاء علیہم السلام کے مثل اور ان کے قائم مقام ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ مفہوم نانوتوی صاحب کی اس تشریح کے قطعاً خلاف ہے جس پر انہوں نے اپنے نظریات کی بنیاد قائم کی ہے۔ بقیہ چھ زمینوں میں جب کوئی نبی ہی نہیں بلکہ انبیاء کے قائم مقام ہیں تو نانوتوی صاحب کے اس اختراعی نظریہ کی بنیاد ہی ختم ہو گئی کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں یا حضور کے بعد کسی نبی کا پایا جانا حضور کی خاتمیت کے منافی نہیں۔



    نمبر ۲ امام سخاوی کے نزدیک یہ حدیث مجہول ہے اور اس کا ماخذ اقاویل بنی اسرائیل کے سوا کچھ نہیں۔



    نمبر ۳ بیہقی نے اس حدیث کی اسناد کو صحیح کہا لیکن اس کے باوجود اس کے متن کو ضعیف قرار دیا۔ نانوتوی صاحب نے بیہقی کے قول میں ’’اسنادہ صحیح‘‘ دیکھ کر یہ سمجھ لیا کہ بس یہ حدیث صحیح ہے اور یہ نہ دیکھا کہ صحت اسناد کے لئے صحت متن لازم نہیں۔ کیونکہ یہ ہو سکتا ہے کہ سند صحیح ہو اور متن میں کوئی ایسی علت قادحہ پائی جائے جو اس کی صحت سے مانع ہو اور اس بناء پر وہ متن ضعیف ہو۔ اس روایت میں بالکل یہی صورت پائی جاتی ہے کہ اگر تاویلات مأوِّلین سے قطع نظر کر لی جائے تو ظاہر معنی حدیث رسول اللہ ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کے منافی ہے اور یہ منافات یقینا علت قادحہ ہے جس کی وجہ سے یہ روایت ضعیف قرار پائے گی۔


    نانوتوی صاحب پر صاحب روح المعانی کا رد شدید
    علامہ سید محمود الوسی حنفی بغدادی رحمۃ اللہ علیہ تفسیر روح المعانی میں اثر مذکور کے متعلق رقم طراز ہیں’’قال الذہبی اسنادہ صحیح ولٰـکنہ شاذ بمرۃ لا اعلم لابی الضحٰی علیہ متابعًا‘‘
    ذہبی نے کہا کہ اس کی اسناد صحیح ہے لیکن یہ شاذ بمرہ ہے ابو الضحیٰ کے لئے اس پر کسی متابعت کرنے والے کو میں نہیں جانتا۔


    ’’وذکر ابو حبان فی البحر نحوہ عن الحبر وقال ہٰذا حدیث لا شک فی وضعہ وہو من روایۃ الواقدی الکذاب واقول لا مانع عقلاً ولا شرعاً من صحتہ والمرادان فی کل ارض خلقا یرجعون الی اصل واحد رجوع بنی اٰدم فی ارضنا الٰی اٰدم علیہ السلام وفیہ افراد ممتازون علی سائرہم کنوح و ابراہیم وغیرہما فینا‘‘(روح المعانی پ ۲۸ ص ۱۴۳ طبع جدید ص ۱۲۵ طبع قدیم)
    (ترجمہ) ابو حبان نے بحر میں اس کے ہم معنی روایت حبر الامۃ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے ذکر کی ہے اس کے بعد فرمایا کہ اس حدیث کے موضوع ہونے میں کوئی شک نہیں اور وہ واقدی کذاب کی روایت سے ہے۔



    اور میں کہتا ہوں کہ عقلاً و شرعاً اس حدیث کی صحت سے کوئی امر مانع نہیں۔ اس سے یہ مراد ہے کہ ہر زمین میں مخلوق ہے جو اصل واحد کی طرف رجوع کرتی ہے۔ جیسے ہماری زمین میں بنی آدم، آدم علیہ السلام کی طرف راجع ہیں اور ہر زمین میں کچھ ایسے افراد ہیں جو اپنے بقیہ افراد پر اسی طرح امتیازی شان رکھتے ہیں جیسے نوح اور ابراہیم وغیرہما علیہم السلام ہم میں ممتاز ہیں۔ انتہیٰ(روح المعانی پ ۲۸ ص ۱۴۳ طبع جدید ص ۱۲۵ طبع قدیم)



    علامہ سید محمود الوسی نے بھی صحت حدیث کا مدار صرف اس امر پر رکھا کہ اس حدیث میں ہر زمین میں جن حضرات کا ذکر ہے وہ انبیاء اللہ نہیں بلکہ امتیازی شان میں ان کے مشابہ ہیں۔ یہ توجیہ صاحب روح البیان کی منقولہ توجیہ کے عین مطابق ہے اور دونوں کا مفاد یہی ہے کہ چھ زمینوں میں انبیاء اللہ نہیں پائے جاتے بلکہ سیادت و قیادت اور عظمت و امتیازی حیثیت میں انبیاء علیہم السلام سے مشابہت رکھتے ہیں اور ان کی قائم مقامی کے فرائض انجام دیتے ہیں اور ان دونوں بزرگوں کی یہ توجیہ نانوتوی صاحب کے خلاف ناقابل رد شہادت اور ان کے خود ساختہ مسلک کی تردید شدید ہے۔
    اثر عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی سند و متن اور صحت و ضعف اور اس کی توجیہ و تاویل سے متعلق جن اہم امور کو نانوتوی صاحب نے عمداً یا خطاً چھوڑ دیا تھا ہم نے نہایت اختصار اور جامعیت کے ساتھ انہیں بیان کر دیا ہے جسے بغور دیکھنے کے بعد اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارئہ کار نہیں رہتا کہ اثر مذکور معلل و ضعیف ہے اور اگر بالفرض اس کی صحت کو تسلیم کر لیا جائے تو نانوتوی صاحب کی توجیہات کتاب و سنت کے قطعاً منافی ہیں۔
    نیز اس بیان سے یہ حقیقت بھی واضح ہو گئی کہ مولانا انور شاہ صاحب کشمیری نانوتوی صاحب کی توجیہات سے بیزار ہیں اور انہوں نے بھی اسی توجیہ کو پسند فرمایا جسے ہم عرض کر چکے ہیں۔


    والحمد للّٰہ علٰی احسانہٖ وصلی اللّٰہ تعالٰی علٰی حبیبہ محمد واٰلہٖ واصحابہٖ اجمعین

اس صفحے کی تشہیر