1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

السوء والعقاب علی المسیح الکذاب (جھوٹے مسیح پر وبال اور عذاب)

حمزہ نے 'تحفظ ختم نبوت کتب' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اگست 30, 2014

  1. ‏ اگست 30, 2014 #1
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    السوء والعقاب علی المسیح الکذاب(جھوٹے مسیح پر وبال اور عذاب ۱۳۲۰ھ)

    تحریر: مولانا احمد رضا خاں بریلوی المعروف اعلی حضرت
    اس رسالہ کو آپ پی ڈی ایف(PDF) میں یہاں سے ڈاؤنلوڈ کر سکتے ہیں۔

    مسئلہ۷۸: از امر تسر، کڑہ گر باسنگھ،کوچہ ٹنڈ ا شاہ، مرسلہ جناب مولانا مولوی محمد عبدالغنی صاحب واعظ ۲۱ ربیع الآخر شریف ۱۳۲۰ھ
    باسمہٖ سبحانہ مستفتی نے ظاہر کیا کہ ایک شخص نے درآنحا لیکہ مسلمان تھا ایک مسلمہ سے نکاح کیا، زوجین ایک عرصہ تک باہم مباشرت کرتے رہے، اولاد بھی ہوئی، اب کسی قدر عرصہ سے شخص مذکور مرزاقادیانی کے مریدوں میں منسلک ہو کر صبغِ عقائد کفریہ مرزائیہ سے مصطبغ ہو کر علٰی رؤس الاشہاد ضروریاتِ دین سے انکار کرتا رہتا ہے، سو مطلوب عن الاظہار یہ ہے کہ شخص مذکور شرعاً مرتد ہوچکا اور اس کی منکوحہ اس کی زوجیت سے علٰیحدہ ہوچکی اور منکوحہ مذکورہ کا کل مہر معجل، مؤجل مرتد مذکور کے ذمّہ ہے، اولادِ صغار اپنے والد مرتد کی ولایت سے نکل چکی یا نہ؟ بَینوْا تُؤْجَرُوْا (بیان کر کے اجر حاصل کیجئے۔ت)
    خلاصہ جواباتِ امرتسر
    (۱) شخص مذکور بباعث آنکہ بہم عقیدہ مرزا کا ہے جو باتفاق علمائے دین کا فر ہے، مرتد ہوچکا، منکوحہ زوجیت سے علیحدہ ہوچکی، کل مہر بذمہ مرتد واجب الادا ہوچکا، مرتد کو اپنی اولادِ صغار پر ولایت نہیں۔( ابو محمد زبیر غلام رسول الحنفی القاسمی عفی عنہ)
    (۲) شک نہیں کہ مرزا قادیانی اپنے آپ کو رسول اﷲ، نبی اﷲ کہتا ہے اور اس کے مرید اس کو نبی مرسل جانتے ہیں، اور دعوٰی نبوت کا بعد رسول اﷲ کے بالاجماع کفر ہے، جب اس طائفے کا ارتداد ثابت ہوا، پس مسلمہ ایسے شخص کے نکاح سے خارج ہوگئی ہے، عورت کو مہر ملنا ضروری ہے، اور اولاد کی ولایت بھی ماں کا حق ہے، عبدالجبار بن عبداﷲ الغزنوی۔
    (۳) لا یشک فی ارتداد من نسب المسمریزم الذی ھو من اقسام السحر الی الانبیاء علیھم السلام واھان روح اﷲ عیسٰی بن مریم علیھما السلام وادعی النبوۃ وغیرھا من الکفریات کالمرزا فنکاح المسلمۃ لا شک فی فسخہ لکن لھا المھر والاولاد الصغائر، ابو الحسن غلام مصطفی عفی عنہ۔
    ترجمہ : بیشک جو شخص جادو کی قسم مسمریزم کو انبیاء علیہم السلام کی طرف منسوب کرے اور حضرت روح اﷲ عیسٰی بن مریم علیہما السلام کی توہین کرے اور نبوت کا دعوٰی وغیرہ کفریات کا ارتکاب کرے جیسے مرزا قادیانی، تو اس کے مرتد ہونے میں کیا شک ہے، تو مسلمان عورت کا اس سے نکاح بلا شک فسخ ہوجائے گا لیکن اس مسلمان عورت کو مہر و اولاد کا استحقاق ہے۔(ابوالحسن غلام مصطفٰی عفی عنہ۔ت)
    (۴) شک نہیں کہ مرزا کے معتقدات کا معتقد مرتد ہے، نکاح منفسخ ہوا، اولاد عورت کو دی جائے گی، عورت کا مل مہر لے سکتی ہے۔(ابو محمد یوسف غلام محی الدین عفی عنہ)
    (۵) انچہ علمائے کرام از عرب وہند و پنجاب در تکفیر مرزا قادیانی و معتقدان وے فتوٰی دادہ اند ثابت و صحیح ست قادیانی خود را نبی و مرسل یزدانی قرار میدہد، وتوہین وتحقیر انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام وانکارِ معجزات شیوہ اوست کہ از تحریر اتش پر ظاہر ست (نقل عبارات ازالہ رسائل مرزاست)۔(احقر عباد اﷲ العلی واعظ محمد عبدالغنی)
    علماء عرب وہند و پنجاب نے مرزا قادیانی اور اس کے معتقدین کی تکفیر کا جو فتوٰی دیا ہے وہ صحیح و ثابت ہے، مرزا قادیانی اپنے کو نبی و رسول یزدانی قرار دیتا ہے اور انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی توہین و تحقیر کرنا اور معجزات کا انکار کرنا اس کا شیوہ ہے۔ جیسا کہ اس کی تحریروں سے ظاہر ہے (یہ عبارات ازالہ اوہام میں منقول ہیں جو کہ مرزا کے رسائل میں سے ایک رسالہ ہے) احقر عباد اﷲ العلی واعظ محمد عبدالغنی (ت)
    (۶) احقر العباد خدا بخش امام مسجد شیخ خیرالدین۔
    (۷) شک نہیں کہ مرزا قادیانی مدعیِ نبوت و رسالت ہے (نقل عبارات کثیرہ ازالہ وغیر ہا تحریرات مرزا) پس ایسا شخص کا فر تو کیا میرا وجدان یہی کہتا ہے کہ اس کو خدا پر بھی ایمان نہیں، ابوالو فاء ثناء اﷲ کفاہ اﷲ مصنّف تفسیر ثنائی امرتسری۔
    (۸) قادیانی کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کو ضروریاتِ دین سے انکار ہے نیز دعوٰی رسالت کا بھی چنانچہ (ایک غلطی کا ازالہ) میں اس نے صراحتاً لکھا ہے کہ میں رسول ہوں۔ لہٰذا غلام احمد اور اس کے معتقدین بھی کافر بلکہ اکفر ہوئے،مرتد کا نکاح فسخ ہوجاتا ہے، اولادِ صغار والد کے حق سے نکل جاتی ہے، پس مرزائی مرتد سے اولاد لے لینی چاہیے اور مہر معجل اور مؤجل لے کر عورت کو اس سے علیحدہ کرناچاہیے۔(ابوتراب محمد عبدالحق بازار صابونیاں)
    (۹) مرزائی مرتد ہیں اور انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے منکر معجزات کو مسمریزم تحریر کیا ہے، مرزا کافر ہے، مرزا سے جو دوست ہو یا اس کے دوست سے دوست وہ بھی کافر مرتد ہے۔( صاحبزادہ صاحب سید ظہور الحسن قادری فاضلی سجادہ نشین حضرات سادات جیلانی بٹالہ شریف)
    (۱۰) آنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے بعد نبوت و رسالت کا دعوٰی اور ضروریات دین کا انکار بیشک کفر وارتداد ہے ایسے شخص پر قادیانی ہو یا غیر، مرتدوں کے احکام جاری ہوں گے۔ (نور احمد عفی عنہ)
    از جناب مولانا مولوی محمد عبدالغنی صاحب امرتسری باسم سامی حضرت عالم اہلسنّت دام ظلہم العالی

    بخدمت شریف جناب فیض مآب قامع فساد و بدعات دافع جہالت وضلالات مفخر العلماء الحنفیہ قاطع اصول الفرقۃ الضالۃ النجدیہ مولانا مولوی محمد احمد رضاخاں صاحب متعنا اﷲ بعلمہ تحفہ تحیات وتسلیمات مسنونہ رسانیدہ مکشوف ضمیر مہر انجلا، آنکہ چوں دریں بلا داز مدّت مدیدہ بہ ظہور دجّال کذّاب قادیانی فتور وفساد برخاستہ است بموجب حکم آزادگی بہ ہیچ صورتے درچنگ علما آں د ہری رہزن دین اسلام نمی آید، اکنوں ایں واقعہ درخانہ یک شخص حنفی شد کہ زنے مسلمہ درعقد شخصے بود ہ آں مرد مرزائی گردید زن مذکورہ ازوے ایں کفریات شنیدہ گریز نمودہ بخانہ پدر رسید، لہٰذا برائے آں و برائے سد آیندہ و تنبیہ مرزائیاں فتوی ہذا طبع کردہ آید امید کہ آں حضرت ہم بمہر ودستخط شریف خود مزین فرمایند کہ باعثِ افتخار با شد سفیر از ند وہ کدام مولوی غلام محمد ہوشیار پوری وارد امرتسر ازمدت دو ماہ شدہ است فتوائے ہذا نزد وے فرستادم مشار الیہ دستخط ننمود وگفت اگر دریں فتوی دستخط کنم ندوہ ازمن بیزار شو د خاکش بدہن، ازیں جہت مرد ماں بلدہ را بسیار بدظنی درحق ندوہ می شود زیادہ چہ نوشتہ آید جزاکم اﷲ عن الاسلام والمسلمین۔ الملتمس بندہ کثیر المعاصی واعظ محمد عبدالغنی از امرتسر کڑہ گربا سنگھ کُوچہ ٹنڈا شاہ۔
    بخدمت شریف جناب فیض مآب قامع فساد و بدعات، جہالت و گمراہی کو دفع کرنے والے، حنفی علماء کا فخر، گمراہ نجدی فرقہ کے اصول کو مٹانے والے مولانامولوی احمد رضا خاں صاحب، اﷲ تعالٰی ہمیں اس کے علوم سے بہرہ ور فرمائے، سلام وتحیت مسنونہ پیش ہوں، دلی مراد واضح ہو کہ جب سے اس علاقہ میں قادیانی فتور وفساد برپا ہواہے قانونی آزادی کی وجہ سے اس بے دین اسلام کے ڈاکو پر علماء کی گرفت نہ ہوسکی ابھی ایک واقعہ حنفی شخص کے ہاں ہوا ہے کہ اس کے نکاح میں مسلمان عورت تھی وہ شخص مرزائی ہوگیا اس کی مذکورہ عورت نے اس کے کفریات سن کر اس سے علیحدگی اختیار کر کے اپنے والد کے گھر چلی گئی، لہٰذا اس واقعہ اور آئندہ سدِّ باب اور مرزائیوں کی تنبیہ کے لئے یہ فتوٰی طبع کرایا ہے امید ہے کہ آپ بھی اپنی مہر اور دستخط سے اس کو مزین فرمائیں گے جو کہ باعثِ افتخار ہوگا۔ ندوہ کا ایک نمائندہ مولوی غلام محمد ہوشیارپوری دو ماہ سے امرتسر میں آیا ہوا ہے میں نے یہ فتوٰی اس کے پاس بھیجا تاکہ وہ دستخط کردے تو اس نے کہا اگر میں نے اس فتوٰی پر دستخط کئے تو ندوہ والے مجھ سے ناراض ہوجائیں گے اس کے منہ میں خاک ہو، اس کی اس بات کی وجہ سے شہر کے لوگ ندوہ والوں سے نہایت بدظن ہوگئے ہیں۔ مزید کیا لکھوں، اﷲ تعالٰی آپ کو اسلام اور مسلمانوں کی طرف سے جزاء عطا فرمائے، الملتمس گنہگار بندہ واعظ محمد عبدالغنی از امرتسر کڑہ گر با سنگھ کوچہ ٹنڈا شاہ۔ (ت)
    الجواب
    الحمدﷲ وحدہ والصلوٰۃ والسلام علٰی من لا نبی بعدہ وعلٰی اٰلہ و صحبہ المکرمین عندہ رب انی اعوذبک من ھمزات الشیطین واعوذبک رب ان یحضرون۔ (تمام تعریفیں اﷲ وحدہ لا شریک کے لئے ہیں، اور صلوٰۃ وسلام اس ذات پر جس کے بعد نبی نہیں ہے اور اس کی آل و اصحاب پر جو عزّت و کرامت والے ہیں، اے رب!میں تیری پناہ چاہتا ہوں شیطان کی کھلی بدگوئیوں سے اور تیری پناہ چاہتا ہوں انکے حاضر ہونے سے۔ت)
    اﷲ عزوجل د ین حق پر استقامت عطا فرمائے اور ہر ضلال و وبال ونکال سے بچائے، قادیانی مرزا کا اپنے آپ کو مسیح و مثل مسیح کہنا تو شہرہ آفاق ہے اور بحکم آنکہ ع

    عیب می جملہ بگفتی ہنرش نیز بگو
    (شراب کے تمام عیب بیان کئے اب اس کے ہنر بھی بیان کر۔ت)
    فقیر کو بھی اس دعوٰی سے اتفاق ہے، مرزا کے مسیح و مثل مسیح ہونے میں اصلاً شک نہیں مگر لا واﷲ نہ مسیح کلمۃ اﷲ علیہ صلوٰۃ اﷲ بلکہ مسیح دجّال علیہ اللّعن و النّکال، پہلے اس ادعائے کاذب کی نسبت سہارن پور سے سوال آیا تھا جس کا ایک مبسوط جواب ولد اعز فاضل نوجوان مولوی حامد رضا خاں محمد حفظہ اﷲ تعالٰی نے لکھا اور بنام تاریخی "الصّارم الربانی علٰی اسراف القادیانی" مسمّٰی کیا۔ یہ رسالہ حامِی سنن، ماحِی فتن، ندوہ شکن، ندوی فگن، مکر منا قاضی عبدا لوحید صاحب حنفی فردوسی صین عن الفتن نے اپنے رسالہ مبارکہ تحفہ حنفیہ میں کہ عظیم آباد سے ماہوار شائع ہوتا ہے طبع فرمادیا، بحمد اﷲ تعالٰی اس شہر میں مرزا کا فتنہ نہ آیا، اور اﷲ عزوجل قادر ہے کہ کبھی نہ لائے، اس کی تحریرات یہاں نہیں ملتیں، مجیب ہفتم نے جو اقوال ملعونہ اس کی کتابوں سے بہ نشان صفحات نقل کئے مثیل مسیح ہونے کے ادعا کو شناعت و نجاست میں ان سے کچھ نسبت نہیں ان میں صاف صاف انکار ضروریاتِ دین اور بوجوہ کثیرہ کفر وارتداد مبین ہے فقیر ان میں سے بعض کی اجمالی تفصیل کرے۔
    کفر اوّل: مرزا کا ایک رسالہ ہے جس کا نام ''ایک غلطی کا ازالہ'' ہے ،اس کے صفحہ ۶۷۳ پر لکھتا ہے: میں احمد ہوں جو آیت "مُبَشِّرًا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد" میں مراد ہے ،۱؎
    (۱؎ توضیح المرام مطبوعہ ریاض الہند امرتسر،ص۱۶)

    آیہ کریمہ کا مطلب یہ ہے کہ سیدنا مسیح ربّانی عیسٰی بن مریم روح اﷲ علیہما الصلوٰۃ والسلام نے بنی اسرائیل سے فرمایا کہ مجھے اﷲ عزوجل نے تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے توریت کی تصدیق کرتا اور اس رسول کی خوشخبری سناتا جو میرے بعد تشریف لانے والا ہے جس کا نام پاک احمد ہے ؐ۔ ازالہ کے قول ملعون مذکور میں صراحتًا ادّعا ہوا کہ وہ رسول پاک جن کی جلوہ افروزی کا مژدہ حضرت مسیح لائے معاذ اﷲ مرزا قادیانی ہے۔
    کفر دوم: توضیح مرام طبع ثانی صفحہ ۹ پر لکھتا ہے کہ ''میں محدث ہوں اور محدث(عہ) بھی ایک معنی سے نبی ہوتا ہے۔۲؎
    (۲؎ توضیح المرام مطبوعہ ریاض الہند امرتسر،ص۱۶)

    لا الٰہ الا اﷲ لقد کذب عدوّ اﷲ ایھا المسلمون
    (اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں، دشمن خدا نے جھوٹ بولا اے مسلمانو!۔ت)
    سید المحدثین عمر فاروق اعظم رضی اﷲتعالٰی عنہ ہیں کہ انہیں کے واسطے حدیث محدثین آئی۔ انھیں کے صدقے میں ہم نے اس پر اطلاع پائی کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:قد کان فیما مضی قبلکم من الامم اناس محدثون فان یکن فی امتی منھم احد فانہ عمر بن الخطاب ۲؎ رواہ احمد والبخاری عن ابی ھریرۃ واحمد ومسلم والترمذی والنسائی عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔
    ترجمہ: اگلی امتوں میں کچھ لوگ محدث ہوتے تھے یعنی فراست صادقہ والہام حق والے، اگر میری امت میں ان میں سے کوئی ہوگا تووہ ضرور عمر بن خطاب ہے رضی اﷲ تعالٰی عنہ (اسے احمد اور بخاری نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اور احمد،مسلم،ترمذی اور نسائی نے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے روایت کیا۔ت)
    (۲؎صحیح البخاری مناقب عمر بن خطاب رضی اﷲ تعالٰی عنہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۲۱)(جامع الترمذی مناقب عمر بن خطاب رضی اﷲ تعالٰی عنہ امین کمپنی مکتبہ رشیدیہ دہلی ۲/ ۲۱۰)

    فاروق اعظم نے نبوت کے کوئی معنی نہ پائے صرف ارشاد فرمایا: لوکان بعدی نبی لکان عمر بن الخطاب ۳؎ رواہ احمد والترمذی والحاکم عن عقبۃ بن عامر والطبرانی فی الکبیر عن عصمۃ بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنھما۔
    ترجمہ:اگر میرے بعد کوئی نبی ہوسکتا تو عمر ہوتا، (اسے احمد و ترمذی اور حاکم نے عقبہ بن عامر سے اور طبرانی نے کبیر میں عصمۃ بن مالک رضی اﷲتعالٰی عنہما سے روایت کیا ہے،ت)
    (۳؎صحیح البخاری مناقب عمر بن خطاب رضی اﷲ تعالٰی عنہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۲۰)(المستدرک للحاکم معرفتہ الصحابۃ دارالفکر،بیروت ۳/ ۸۵)(جامع الترمذی مناقب عمر بن خطاب رضی اﷲ تعالٰی عنہ امین کمپنی دہلی ۲/ ۲۰۹)
    مگر پنجاب کا محدث حادث کہ حقیقۃً نہ محدث ہے نہ محدث ، یہ ضرور ایک معنی پر نبی ہوگیا
    الا لعنۃ اﷲ علی الکٰذبین
    ( خبردار، جھوٹوں پر خدا کی لعنت۔ت)
    والعیاذ باﷲ رب العٰلمین۔
    آخری تدوین : ‏ اگست 30, 2014
    • Like Like x 1
    • Dumb Dumb x 1
  2. ‏ اگست 30, 2014 #2
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    کفر سوم: دافع البلاء مطبوعہ ریاض ہند صفحہ ۹ پر لکھتا ہے''سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا ۱؎ (۱؎دافع البلاء مطبوعہ ضیاء الاسلام قادیان ص ۲۶)
    کفر چہارم : مجیب پنجم نے نقل کیا، ونیز میگو ید کہ خدائے تعالٰی نے براہین احمدیہ میں اس عاجز کا نام امتی بھی رکھا ہے اور نبی بھی، ان اقوال خبیثہ میں اوّلاً کلامِ الٰہی کے معنی میں صریح تحریف کی کہ معاذ اﷲ آیہ کریمہ میں یہ شخص مراد ہے نہ کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم۔
    ثانیا: نبی اﷲ و رسول اﷲ و کلمۃ اﷲ عیسٰی روح اﷲ علیہ الصلوٰۃ والسلام پر افتراء کیا وہ اس کی بشارت دینے کو اپنا تشریف لانا بیان فرماتے تھے۔
    ثالثاً : اﷲ عزوجل پر افتراء کیا کہ اس نے عیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام کواس شخص کی بشارت دینے کے لئے بھیجا، اور اﷲ عزوجل فرماتا ہے : ان الذین یفترون علی اﷲ الکذب لا یفلحون۔۱؂ بیشک جو لوگ اﷲ عزوجل پر جھوٹ بہتان اٹھاتے ہیں فلاح نہ پائیں گے۔ (۱؂ القرآن الکریم ۱۶/ ۱۱۶) اور فرماتا ہے : انما یفتری الکذب الذین لا یؤمنون۲؂۔ ایسے افتراء وہی باندھتے ہیں جو بے ایمان کافر ہیں۔ (۲؂ القرآن الکریم ۱۶/ ۱۰۵)
    رابعاً : اپنی گھڑی ہوئی کتاب براہین غلامیہ کو اﷲ عزوجل کا کلام ٹھہرایا کہ خدائے تعالٰی نے براہین احمدیہ میں یوں فرمایا، اور اﷲ عزوجل فرماتا ہے : فویل للذین یکتبون الکتٰب بایدیھم ثم یقولون ھذا من عنداﷲ لیشتروا بہ ثمنًا قلیلا ط فویل لھم مما کتبت ایدیھم وویل لھم مما یکسبون۳؂۔خرابی ہے ان کے لئے جو اپنے ہاتھوں کتاب لکھیں پھر کہہ دیں یہ اﷲ کے پاس سے ہے تاکہ اس کے بدلے کچھ ذلیل قیمت حاصل کریں، سو خرابی ہے ان کے لئے ان کے لکھے ہاتھوں سے اور خرابی ہے ان کے لئے اس کمائی سے۔(۳؂القرآن الکریم ۲/ ۷۹)
    ان سب سے قطع نظر ان کلمات ملعونہ میں صراحۃً اپنے لئے نبوت و رسالت کا ادعائے قبیحہ ہے اور وہ باجماعِ قطعی کفر صریح ہے، فقیر نے "رسالہ جزاء اﷲ عدوہ بابائہ ختم النبوۃ ۱۳۱۷ھ" خاص اسی مسئلے میں لکھا اور اس میں آیت قرآن عظیم اور ایک سو دس (۱۱۰) حدیثوں اور تیس (۳۰) نصوں کو جلوہ دیا، اور ثابت کیا کہ محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو خاتم النبیین ماننا، ان کے زمانہ میں خواہ ان کے بعد کسی نبی جدید کی بعثت کو یقینا قطعاًمحال و باطل جاننا فرض اجل وجزءِ ایقان ہے ولٰکن رسول اﷲ وخاتم النبیین۱؂ (ہاں اﷲ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے پچھلے۔ت) (۱؂القرآن الکریم ۳۳/ ۴۰)
    نص قطعی قرآن ہے اس کا منکر، نہ منکر بلکہ شک کرنے والا، نہ شاک کہ ادنٰی ضعیف احتمال خفیف سے تو ہم خلاف رکھنے والا قطعاً اجماعاً کافر ملعون مخلد فی النیران ہے، نہ ایسا کہ وہی کافر ہو بلکہ جو اس کے اس عقیدہ ملعونہ پر مطلع ہو کر اسے کافر نہ جانے وہ بھی، کافر ہونے میں شک و تردّد کو راہ دے وہ بھی کافر ہیں، الکفر جلی الکفران ہے۔
    قول دوم وسوم میں شائد وہ یااس کے اذناب آج کل کے بعض شیاطین سے سیکھ کر تاویل کی آڑلیں کہ یہاں نبی ورسول سے معنی لغوی مراد ہیں یعنی خبردار یا خبر دہندہ اور فرستادہ مگر یہ محض ہوس ہے۔

    اوّلاً: صریح لفظ میں تاویل نہیں سنی جاتی، فتاوٰی خلاصہ و فصول عمادیہ و جامع الفصولین وفتاوٰی ہندیہ وغیرہا میں ہے: واللفظ للعمادی لو قال انا رسول اﷲ او قال بالفارسیۃ من پیغمبرم یرید بہ من پیغام می برم یکفر۲؎۔یعنی اگر کوئی اپنے آپ کو اﷲ کا رسول کہے یا بزبان فارسی کہے میں پیغمبر ہوں اور مراد یہ لے کہ میں کسی کا پیغام پہنچانے والا ایلچی ہوں کافر ہوجائے گا۔(۲؎فتاوٰی ہندیۃ الباب التاسع فی احکام المرتدین نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۲۶۳)
    امام قاضی عیاض کتاب الشفاء فی تعریف حقوق المصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم میں فرماتے ہیں: قال احمد بن ابی سلیمٰن صاحب سحنون رحمھما اﷲ تعالٰی فی رجل قیل لہ لا وحق رسول اﷲ فقال فعل اﷲ برسول اﷲ کذاوذکر کلا ما قبیحا، فقیل لہ ما تقول یا عدو اﷲ فی حق رسول اﷲ فقال لہ اشد من کلامہ الاول ثم قال انما اردت برسول اﷲ العقرب فقال ابن ابی سلیمٰن للذی سألہ اشھد علیہ وانا شریکک یرید فی قتلہ و ثواب ذٰلک، قال حبیب بن الربیع لان ادعاء التاویل فی لفظ صراح لا یقبل۱؎۔
    یعنی امام احمد بن ابی سلیمان تلمیذ و رفیق امام سحنون رحمہما اﷲ تعالٰی سے ایک مردک کی نسبت کسی نے پوچھا کہ اس سے کہا گیا تھا رسول کے حق کی قسم اس نے کہا اﷲ رسول اﷲ کے ساتھ ایسا ایسا کرے اور ایک بدکلام ذکر کیا کہا گیا اے دشمن خدا! تو رسول اﷲ کے بارے میں کیا بکتا ہے تو اس سے بھی سخت تر لفظ بکا پھر بولا میں نے تورسول اﷲ سے بِچّھو مراد لیا تھا۔ امام احمد بن ابی سلیمان نے مستفتی سے فرمایا تم اس پر گواہ ہو جاؤ اور اسے سزائے موت دلانے اور اس پر جو ثواب ملے گا اس میں میں تمہارا شریک ہوں، (یعنی تم حاکم شرع کے حضور اس پر شہادت دو اور میں بھی سعی کروں گا کہ ہم تم دونوں بحکم حاکم اسے سزائے موت دلانے کا ثوابِ عظیم پائیں) امام حبیب بن ربیع نے فرمایا یہ اس لئے کہ کھلے لفظ میں تاویل کا دعوٰی مسموع نہیں ہوتا۔(۱؎ الشفاء فی تعریف حقوق المصطفٰی القسم الرابع الباب الاول مطبع شرکۃ صحافیۃ فی البلاد العثمانیہ ۲/ ۲۰۹)
    مولانا علی قاری شرح شفاء میں فرماتے ہیں: ثم قال انما اردت برسول اﷲ العقرب فانہ ارسل من عندا لحق وسلط علی الخلق تاویلا للرسالۃ العرفیۃ بالارادۃ اللغویۃ وھو مردود عندالقواعد الشرعیۃ۲؎۔یعنی وہ جو اس مردک نے کہا کہ میں نے بچّھو مراد لیا، اس طر ح اس نے رسالت عرفی کو معنی لغوی کی طرف ڈھالا کہ بچّھو کو بھی خدا ہی نے بھیجا اور خلق پر مسلّط کیا ہے، اور ایسی تاویل قواعدِ شرع کے نزدیک مردود ہے۔(۲؎ شرح الشفاء لملّا علی قاری مع نسیم الریاض الباب الاول دارالفکر بیروت ۴/ ۳۴۳)
    علامہ شہاب خفاجی نسیم الریاض میں فرماتے ہیں: ھذا حقیقۃ معنی الارسال وھذا مما لا شک فی معنا ہ وانکارہ مکابرۃ لکنہ لا یقبل من قائلہ وادعاؤہ انہ مرادہ لبعدہ غایۃ البعد، وصرف اللفظ عن ظاھرہ لا یقبل کما لو قال انت طالق قال اردت محلولۃ غیر مربوطۃ لا یلتفت لمثلہ و یعد ھذیانا ۱ ھ ملتقطا۔۳؎۔یعنی یہ لغوی معنی جن کی طرف اس نے ڈھالا ضرور بلا شک حقیقی معنی ہیں اس کا انکار ہٹ دھرمی ہے بایں ہمہ قائل کا ادعا مقبول نہیں کہ اس نے یہ معنی لغوی مراد لئے تھے، اس لئے کہ یہ تاویل نہایت دور ازکار ہے اور لفظ کا اس کے معنی ظاہر سے پھیرنا مسموع نہیں ہوتا جیسے کوئی اپنی عورت کو کہے تو طالق ہے اور کہے میں نے تو یہ مراد لیا تھا کہ تو کھلی ہوئی ہے بندھی نہیں ہے ( کہ لغت میں طالق کشادہ کو کہتے ہیں) تو ایسی تاویل کی طرف التفات نہ ہوگا اور اسے ہذیان سمجھا جائے گا۔(۳؎نسیم الریاض شرح الشفاء للقاضی عیاض الباب الاول دارالفکربیروت، ۴/ ۳۴۳)

    ثانیا: وہ بالیقین ان الفاظ کو اپنے لئے مدح و فضل جانتا ہے ، نہ ایک ایسی بات کہ

    دندان تو جملہ در دہانند چشمان تو زیر ابرو انند
    (تیرے تمام دانت منہ میں ہیں، تیری آنکھیں ابرو کے نیچے ہیں۔ت)

    کوئی عاقل بلکہ نیم پاگل بھی ایسی بات کو جو ہر انسان ہر بھنگی چمار بلکہ ہر جانور بلکہ ہر کافر مرتد میں موجود ہو محلِ مدح میں ذکر نہ کریگا نہ اس میں اپنے لئے فضل وشرف جانے گا بھلا کہیں براہین غلامیہ میں یہ بھی لکھا کہ سچا خدا وہی ہے جس نے مرزا کی ناک میں دو (۲) نتھنے رکھے، مرزا کے کان میں دو(۲) گھونگے بنائے، یا خدا نے براہین احمدیہ میں لکھا ہے کہ اس عاجز کی ناک ہونٹوں سے اوپر اور بھوؤں کے نیچے ہے، کیا ایسی بات لکھنے والا پورا مجنون پکّا پاگل نہ کہلایا جائے گا۔ اور شک نہیں کہ وہ معنی لغوی یعنی کسی چیز کی خبر رکھنا یا دینا یا بھیجا ہوا ہونا، ان مثالوں سے بھی زیادہ عام ہیں بہت جانوروں کے ناک کان بھویں اصلاً نہیں ہوتیں مگر خدا کے بھیجے ہوئے وہ بھی ہیں ، اﷲ نے انہیں عدم سے وجود نر کی پیٹھ سے مادہ کے پیٹ سے دنیا کے میدان میں بھیجا جس طرح اس مرد کو خبیث نے بچّھو کو رسول بمعنی لغوی بنایا۔
    مولوی معنوی قدس سرہ القوی مثنوی شریف میں فرماتے ہیں:
    ۱۔ کل یوم ھو فی شان بخواں مرورابیکار و بے فعلے مداں
    (روزانہ اﷲ تعالٰی اپنی شان میں، پڑھ اس کو بیکار اور بے عمل ذات نہ سمجھ۔ت)
    ۲۔ کمتریں کارش کہ ہر روز ست آں کُوسہ لشکر روانہ میکند
    (اس کا معمولی کام ہر روز یہ ہوتا ہے کہ روزانہ تین لشکر روانہ فرماتا ہے۔ت)
    ۳۔ لشکر ے زاصلاب سوئے امہات بہرآں تا دررحم روید نبات
    (ایک لشکر پشتوں سے امہات کی طرف،تاکہ عورتوں کے رحموں میں پیدائش ظاہر فرمائے۔ت)
    ۴۔ لشکرے زار حام سوئے خاکدان تاز نر ومادہ پر گرددجہاں
    (ایک لشکر ماؤں کے رحموں سے زمین کی طرف، تاکہ نر و مادہ سے جہان کو پُر فرمائے۔ت)
    ۵۔ لشکرے از خاکداں سوئے اجل تابہ بیند ہر کسے حسنِ عمل ۱؎
    (ایک لشکر دنیا سے موت کی جانب تاکہ ہر ایک اپنے عمل کی جزا کو دیکھے۔ت)
    (۱ ؎ المثنوی المعنوی قصہ آنکس کہ دریا رے بکوفت گفت الخ نورانی کتب خانہ پشاور، دفتر اول ص ۷۹)

    حق عزوجل فرماتا ہے: فارسلنا علیھم الطوفان والجراد و القمل والضفادع والدم۲؂۔ہم نے فرعونیوں پر بھیجے طوفان اور ٹڈیاں اور جُوئیں اور مینڈکیں اور خون۔(۲؂القرآن الکریم ۷۰/ ۱۳۳)
    کیا مرزا ایسی ہی رسالت پر فخر رکھتا ہے جسے ٹڈی اور مینڈک اور جُوں اور کتے اور سؤر سب کو شامل مانے گا، ہر جانور بلکہ ہر حجر و شجر بہت سے علوم سے خبردار ہے اور ایک دوسرے کو خبر دینا بھی صحاح احادیث سے ثابت۔
    حضرت مولوی قدس سرہ المعنوی ان کی طرف سے فرماتے ہیں:
    ما سمیعیم وبصیریم وخوشیم باشما نامحرماں ما خامشیم ۱؎
    ہم آپس میں سننے،دیکھنے والے اور خوش ہیں، تم نامحرموں کے سامنے ہم خاموش ہیں۔ (۱ ؎المثنوی المعنوی حکایت مارگیرے کہ اژدہائے افسردہ الخ نورانی کتب خانہ پشاور دفتر سوم ص ۲۷)

    اﷲ عزوجل فرماتا ہے: وان من شیئ الاّ یسبّح بحمدہ ولکن لاتفقھون تسبیحھم۲؂ ۔(۲؂القرآن الکریم ۱۷/ ۴۴)کوئی چیز ایسی نہیں جو اﷲ کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کرتی ہو مگر ان کی تسبیح تمہاری سمجھ میں نہیں آتی۔

    حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: ما من شیئ الاّ یعلم انّی رسول اﷲ الاکفرۃ او فسقۃ الجن والانس۳؎ رواہ الطبرانی فی الکبیر عن یعلی بن مرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ وصححہ خاتم الحفاظ۔کوئی چیز ایسی نہیں جو مجھے اﷲ کا رسول نہ جانتی ہو سوا کافر جن اور آدمیوں کے۔(طبرانی نے کبیر میں یعلٰی بن مرہ سے روایت کیا اور خاتم الحفاظ نے اسے صحیح کہا۔ت)(۳؎ المعجم الکبیر حدیث ۶۷۲ المکتبہ الفیصلیۃ بیروت ۲۲/ ۲۶۲)(الجامع الصغیر حدیث ۸۰۴۸ دارالکتب العلمیہ بیروت الجزء الثانی ص ۴۹۲)
    حق سبحانہ تعالٰی فرماتا ہے: فمکث غیر بعید فقال احطت بمالم تحط بہ وجئتک من سبأ بنبأ یقین۴؂۔کچھ دیر ٹھہر کر ہد ہد بارگاہ سلیمانی میں حاضر ہوا اور عرض کی مجھے ایک بات وہ معلوم ہوئی ہے جس پر حضورکو اطلاع نہیں اور میں خدمت عالی میں ملک سبا سے ایک یقینی خبر لے کر حاضر ہوا ہوں۔(۴؂القرآن الکریم ۲۷/ ۲۲)
    حدیث میں رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: ما من صباح ولا رواح الاوبقاع الارض ینادی بعضہا بعضا، یا جارۃ ھل مربک الیوم عبد صالح صلّی علیک او ذکر اﷲ ؟فان قالت نعم رأت ان لھا بذٰلک فضلا ۱؎ ۔رواہ الطبرانی فی الاوسط وابونعیم فی الحلیۃ عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
    کوئی صبح اور شام ایسی نہیں ہوتی کہ زمین کے ٹکڑے ایک دوسرے کو پکار کر نہ کہتے ہوں کہ اے ہمسائے! آج تجھ پر کوئی نیک بندہ گزرا جس نے تجھ پر نماز پڑھی یا ذکر الہٰی کیا، اگر وہ ٹکڑا جواب دیتا ہے کہ ہاں تو وہ پوچھنے والا ٹکڑا اعتقاد کرتا ہے کہ اسے مجھ پر فضیلت ہے۔ (اسے طبرانی نے اوسط میں اور ابونعیم نے حلیہ میں حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت) (۱؎ المعجم الاوسط حدیث ۵۶۶ مکتبہ المعارف الریاض ۱/ ۳۳۶)
    تو خبر رکھنا، خبر دینا سب کچھ ثابت ہے۔ کیا مرزا ہر اینٹ پتھر،ہر بت پرست کافر، ہر ریچھ بندر، ہر کتے سؤر کو بھی اپنی طرح نبی و رسول کہے گا؟ ہرگز نہیں، تو صاف روشن ہوا کہ معنی لغوی ہر گز مراد نہیں بلکہ یقینا وہی شرعی و عرفی رسالت ونبوت مقصود اور کفر وارتداد یقینی قطعی موجود۔
    وبعبارۃ اخری معنی کے چار ہی قسم ہیں ، لغوی، شرعی، عرفی، عام یا خاص، یہاں عرف عام تو بعینہ وہی معنی شرعی ہے جس پر کفر قطعاً حاصل، اور ارادہ لغوی کا ادعاء یقیناً باطل، اب یہی رہا کہ فریب دہی عوام کو یوں کہہ دے کہ میں نے اپنی خاص اصطلاح میں نبی و رسول کے معنی اور رکھے ہیں جن میں مجھے سگ و خوک سے امتیاز بھی ہے اور حضرات انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے وصفِ نبوت میں اشتراک بھی نہیں، مگر حاش ﷲ! ایسا باطل ادعاء اصلاً شرعاً عقلاً عرفاً کسی طرح بادشتر سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا، ایسی جگہ لغت وشرع وعرف عام سب سے الگ اپنی نئی اصطلاح کا مدعی ہونا قابل قبول ہو تو کبھی کسی کافر کی کسی سخت سے سخت بات پر گرفت نہ ہوسکے کوئی مجر م کسی معظم کی کیسی ہی شدید توہین کر کے مجرم نہ ٹھہرسکے کہ ہر ایک کو اختیار ہے اپنی کسی اصطلاح خاص کا دعوٰی کردے جس میں کفرو توہین کچھ نہ ہو، کیا زید کہہ سکتا ہے خدا دو ہیں جب اس پر اعتراض ہو کہہ دے میری اصطلاح میں ایک کو دو کہتے ہیں، کیا عمرو جنگل میں سؤر کو بھاگتا دیکھ کر کہہ سکتا ہے وہ قادیانی بھاگا جاتا ہے، جب کوئی مرزائی گرفت چاہے کہہ دے میری مراد وہ نہیں جو آپ سمجھے میری اصطلاح میں ہر بھگوڑے یا جنگلی کو قادیانی کہتے ہیں، اگر کہئے کوئی مناسبت بھی ہے تو جواب دے کہ اصطلاح میں مناسبت شرط نہیں لا مشاحۃ فی الاصطلاح (اصطلاح میں کوئی اعتراض نہیں) آخر سب جگہ منقول ہی ہونا کیا ضرور، لفظ مرتجل بھی ہوتا ہے جس میں معنی اوّل سے مناسبت اصلاً منظور نہیں، معہذا قادی بمعنی جلدی کنندہ ہے یا جنگل سے آنے والا۔
    قاموس میں ہے: قدت قادیۃ جاء قوم قدا قحموامن البادیۃ والفرس قدیانا اسرع ۱؎۔قوم جلدی میں آئی، قدت قادیۃ کا ایک معنی قدت من البادیۃ یا قدت الفرس جنگل سے آیا، یا گھوڑے کو تیز کیا۔(۱ ؎ القاموس المحیط باب الواؤ فصل القاف مصطفی البابی مصر ۴/ ۳۷۹)

    قادیان اس کی جمع اور قادیانی اس کی طرف منسوب یعنی جلدی کرنے والوں یا جنگل سے آنے والوں کا ایک، اس مناسبت سے میری اصطلاح میں ہر بھگوڑے جنگلی کا نام قادیانی ہوا، کیا زید کی وہ تقریر کسی مسلمان یا عمرو کی یہ توجیہ کسی مرزائی کو مقبول ہوسکتی ہے، حاشا وکلّا کوئی عاقل ایسی بناوٹوں کو نہ مانے گا بلکہ اسی پر کیا موقوف، یوں اصطلاح خاص کا ادعاء مسموع ہوجائے تو دین و دنیا کے تمام کارخانے درہم برہم ہوں، عورتیں شوہروں کے پاس سے نکل کر جس سے چاہیں نکاح کرلیں کہ ہم نے تو ایجاب وقبول نہ کیا تھا، اجازت لیتے وقت ہاں کہاتھا، ہماری اصطلاح (ہاں) بمعنی (ہوں) یعنی کلمہ جزر وانکار ہے، لوگ بیع نامے لکھ کر رجسٹری کر اکر جائدادیں چھین لیں کہ ہم نے تو بیع نہ کی تھی بیچنا لکھا تھا، ہماری اصطلاح میں عاریت یا اجارے کو بیچنا کہتے ہیں الٰی غیر ذٰلک من فسادات لا تحصٰی (ایسے بہت سے فسادات ہوں گے۔ت) تو ایسی جھوٹی تاویل والا خود اپنے معاملات میں اسے نہ مانے گا، کیا مسلمانوں کو زن ومال اﷲ ورسول (جل جلالہ و صلی اللہ تعالی علیہ وسلم) سے زیادہ پیارے ہیں کہ جو رو اور جائداد کے باب میں تاویل سنیں اور اﷲ و رسول کے معاملے میں ایسی ناپاک بناوٹیں قبول کرلیں لا الٰہ الا اﷲ مسلمان ہر گز ایسے مردود بہانوں پر التفات بھی نہ کریں گے انہیں اﷲ و رسول اپنی جان اور تمام جہان سے زیادہ عزیز ہیں و ﷲ الحمد جل جلالہ و صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم خود ان کا رب جل وعلا قرآن عظیم میں ایسے بیہودہ عذروں کا دربار جلا چکا ہے۔
    فرماتا ہے: قل لا تعتذروا قد کفرتم بعد ایمانکم۲؂ ۔(۲؂القرآن الکریم ۹/ ۶۶)ان سے کہہ دو بہانے نہ بناؤ بیشک تم کافر ہوچکے ایمان کے بعد۔ والعیاذ باﷲ تعالٰی رب العالمین۔
    ثالثاً:کفر چہارم میں امتی و نبی کا مقابلہ صاف اسی معنی شرعی وعرفی کی تعیین کررہا ہے۔
    رابعاً:کفر اول میں تو کسی جھوٹے ادعائے تاویل کی بھی گنجائش نہیں، آیت میں قطعاً معنی شرعی ہی مراد ہیں نہ کہ لغوی، نہ اس شخص کی کوئی اصطلاح خاص، اور اسی کو اس نے اپنے نفس کے لئے مانا تو قطعاً یقینا بمعنی شرعی ہی اپنے نبی اﷲ ورسول اﷲ ہونے کا مدعی اور ولکن رسول اﷲ وخاتم النبیین۔(القرآن الکریم ۳۳/ ۴۰)(ہاں اﷲ کے رسول ہیں اور سب نبیو ں میں پچھلے۔ت) کا منکر اور باجماع قطعی جمیع امت مرحومہ مرتدو کافر ہوا، سچ فرمایا سچے خدا کے سچے رسول سچے خاتم النّبیین محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ عنقریب میرے بعد آئیں گے ثلٰثون دجّالون کذّابون کلھم یزعم انہ نبی تیس (۳۰) دجال کذاب کہ ہر ایک اپنے کو نبی کہے گا وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی ۱؎۔حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں،اٰمنت اٰمنت صلی اﷲ تعالٰی علیک وسلم ۔ میں ایمان لایا میں ایمان لایا، اﷲ تعالٰی آپ پر صلوٰۃ و سلام نازل فرمائے۔ت) اسی لئے فقیر نے عرض کیا تھا کہ مرزا ضرور مثیل مسیح ہے صَدَق بلکہ مسیح دجّال کا کہ ایسے مدعیوں کو یہ لقب خود بارگاہ رسالت سے عطا ہوا والعیاذ باﷲ رب العٰلمین۔(۱؎ جامع ترمذی ابواب الفتن باب لاتقوم الساعۃ الخ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۲/ ۴۵مسند احمد بن حنبل دارالفکر بیروت ۵/ ۳۹۶)
    کفر پنجم:دافع البلاء ص ۱۰ پر حضرت مسیح علیہ السلام سے اپنی برتری کا اظہار کیا ہے ۲؎ (۱؎دافع البلاء ضیاء الاسلام قادیان ص ۳۰)

    کفر ششم: اسی رسالے کے صفحہ ۱۷ پر لکھا ہے:
    ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو
    اس سے بہتر غلام احمد ہے ۳؎

    (۳؎ دافع البلاء ضیاء الاسلام قادیان ص۱۷)
    • Like Like x 1
    • Bad Spelling Bad Spelling x 1
  3. ‏ اگست 30, 2014 #3
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    کفر ہفتم: اشتہار معیار الاخیار میں لکھا ہے میں بعض نبیوں سے بھی افضل ہوں۔ یہ ادعاء بھی باجماعِ قطعی کفر وارتداد یقینی ہیں، فقیر نے اپنے فتوٰی مسمّٰی بہ ردّالرفضۃ میں شفاء شریف امام قاضی عیاض و روضہ امام نووی وارشاد الساری امام قسطلانی وشرح عقائد نسفی و شرح مقاصد امام تفتازانی واعلام امام ابن حجر مکی ومنح الروض علامہ قاری وطریقہ محمدیہ علامہ برکوی وحدیقہ ندیہ مولٰی نابلسی وغیرہا کتب کثیرہ کے نصوص سے ثابت کیا ہے کہ باجماعِ مسلمین کوئی ولی کوئی غوث کوئی صدیق بھی کسی نبی سے افضل نہیں ہوسکتا، جو ایسا کہے قطعاً اجماعاً کافر ملحد ہے۔
    ازاں جملہ شرح صحیح بخاری شریف میں ہے: النبی افضل من الولی وھو امر مقطوع بہ والقائل بخلافہ کافر کانہ معلوم من الشرع بالضرورۃ ۱؎ یعنی ہر نبی ہر ولی سے افضل ہے اور یہ امر یقینی ہے اور اس کے خلاف کہنے والا کافر ہے کہ یہ ضروریاتِ دین سے ہے۔ (۱ ؎ ارشاد الساری شرح صحیح البخاری کتاب العلم باب ما یستحب للعالم الخ دارالکتاب العربی بیروت ۱/ ۲۱۴)
    کفر ہفتم: میں ایسے ایک لطیف تاویل کی گنجائش تھی کہ یہ لفظ (نبیوں) بتقدیم نون نہیں بلکہ (بنیوں) بہ تقدیم با ہے یعنی بھنگی درکنار کہ خود ان کے تو لال گرو کا بھائی ہوں ان سے تو افضل ہوا ہی چاہوں میں تو بعض بنیوں سے بھی افضل ہوں کہ انہوں نے صرف آٹے دال میں ڈنڈی ماری اور یہاں وہ ہتھ پھیری کی بیسیوں کا دین ہی اڑ گیا، مگر افسوس کہ دیگر تصریحات نے اس تاویل کی جگہ نہ رکھی۔
    کفر ہشتم: ازالہ صفحہ ۳۰۹ پر حضرت مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام کے معجزات کو جن کا ذکر خدا وند تعالٰی بطور احسان فرماتا ہے مسمریزم لکھ کر کہتا ہے: اگر میں اس قسم کے معجزات کو مکروہ نہ جانتا تو ابن مریم سے کم نہ رہتا۲؎(۲ ؎ ازالہ اوہام، ریاض الہند امرتسر،بھارت، ص ۱۱۶)
    یہ کفر متعدد کفروں کا خمیرہ ہے معجزات کو مسمریزم کہنا ایک کفر کہ اس تقدیر پر وہ معجزہ نہ ہوئے بلکہ معاذ اﷲ ایک کسبی کرشمے ٹھہرے، اگلے کافروں نے بھی ایسا ہی کہا تھا۔
    اذ قال اﷲ یا عیسٰی بن مریم اذکر نعمتی علیک وعلٰی والدتک، اذایدتک بروح القدس قف تکلم الناس فی المھد وکھلا،ج واذعلمتک الکتٰب والحکمۃ والتوراۃ و الانجیل ج واذ تخلق من الطین کھیئۃ الطیر باذنی فتنفخ فیہا فتکون طیرا باذنی و تبرئ الاکمہ والابرص باذنی ج واذتخرج الموتٰی باذنی ج واذکففت بنی اسرائیل عنک اذجئتھم بالبینٰت فقال الذین کفروا منھم ان ھذا الاّ سحر مبین(القران الکریم ۵/ ۱۱۰)
    جب فرمایا اﷲ سبحانہ نے اے مریم کے بیٹے! یاد کر میری نعمتیں اپنے اوپر اور اپنی ماں پر جب میں نے پاک روح سے تجھے قوت بخشی لوگوں سے باتیں کرتا پالنے میں اور پکی عمر کا ہو کر اور جب میں نے تجھے سکھایا لکھنا اور علم کی تحقیقی باتیں اور توریت اور انجیل اور جب تو بناتا مٹی سے پرند کی سی شکل میری پروانگی سے پھر تو اس میں پھونکتا تو وہ پرند ہوجاتی میرے حکم سے اور تو چنگا کرتا مادر زاد اندھے اور سفید داغ والے کو میری اجازت سے، اور جب تو قبروں سے جیتا نکالتا مردوں کو میرے اذن سے اور جب میں نے یہود کو تجھ سے روکا جب تو ان کے پاس یہ روشن معجزے لے کر آیا تو ان میں کے کافر بولے یہ تو نہیں مگر کھلا جادو۔
    مسمریزم بتایا یا جادو کہا، بات ایک ہی ہوئی یعنی الٰہی معجزے نہیں کسبی ڈھکوسلے ہیں، ایسے ہی منکروں کے خیال ضلال کو حضرت مسیح کلمۃ اﷲ صلی اللہ تعالٰی علی سیّدہ وعلیہ وسلم نے بار بار بتا کید رد فرمادیا تھا اپنے معجزات مذکورہ ارشاد کرنے سے پہلے فرمایا:انی قد جئتکم باٰیۃ من ربکم انی اخلق لکم من الطین کھیئۃ الطیر۱؂ الآیۃ۔میں تمہارے پاس رب کی طرف سے معجزے لایا کہ میں مٹی سے پرند بناتا اورپھونک مار کر اسے جِلاتا اور اندھے اور بدن بگڑے کو شفا دیتا اور خدا کے حکم سے مردے جِلاتا اور جو کچھ گھر سے کھا کر آؤ اور جو کچھ گھر میں اٹھا رکھو وہ سب تمہیں بتاتا ہوں۔(۱؂القرآن الکریم ۳/ ۴۹)
    اور اس کے بعد فرمایا: ان فی ذٰلک لاٰیۃ لکم ان کنتم مؤمنین۲؂ بیشک ان میں تمہارے لئے بڑی نشانی ہے اگر تم ایمان لاؤ۔(۲؂القرآن الکریم ۳۱/ ۴۹)
    پھر مکرر فرمایا: جئتکم باٰیۃ من ربکم فاتقوا اﷲ واطیعون۳؂۔(۳؂القرآن الکریم ۳۱/ ۵۰)میں تمہارے رب کے پاس سے معجزہ لایا ہوں تو خدا سے ڈرو اور میرا حکم مانو۔
    مگر جو حضرت عیسٰی علیہ السلام کے رب کی نہ مانے وہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کی کیوں ماننے لگا، یہاں تو اسے صاف گنجائش ہے کہ اپنی بڑائی سبھی کرتے ہیں ع

    کس نہ گوید کہ دروغ من ترش ست

    (کو ئی نہیں کہتا کہ میرا جھوٹ ترش ہے۔ت)
    پھر ان معجزات کو مکروہ جاننا دوسرا کفریہ کہ کراہت اگر اس بنا پر ہے کہ وہ فی نفسہٖ مذموم کام تھے جب تو کفر ظاہر ہےقال اﷲ تعالٰی: تلک الرسل فضلنا بعضھم علٰی بعض۴؂۔(۴؂القرآن الکریم ۲/ ۲۵۳)یہ رسول ہیں کہ ہم نے ان میں ایک کو دوسرے پر فضیلت دی۔
    اور اسی فضیلت کے بیان میں ارشاد ہوا: واٰتینا عیسی ابن مریم البّینٰت و ایدنٰہ بروح القدس۱؂(۱؂القرآن الکریم ۲/ ۲۵۳)اورہم نے عیسٰی بن مریم کو معجزے دئے اور جبرئیل سے اس کی تائید فرمائی۔
    اور اگر اس بنا پر ہے کہ وہ کام اگرچہ فضیلت کے تھے مگر میرے منصب اعلٰی کے لائق نہیں تو یہ وہی نبی پر اپنی تفضیل ہے ہر طرح کفر وارتداد قطعی سے مفر نہیں، پھر ان کلمات شیطانیہ میں مسیح کلمۃ اﷲ صلی اللہ تعالٰی علٰی سیّدہ وعلیہ وسلم کی تحقیر تیسرا کفر ہے اور ایسی ہی تحقیر اس کلام ملعون کفر ششم میں تھی اور سب سے بڑھ کر اس کفرنہم میں ہے کہ ازالہ صفحہ ۱۶۱ پر حضرت مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نسبت لکھا''بوجہ مسمریزم کے عمل کرنے کے تنویر باطن اور توحید اور دینی استقامت میں کم درجے پر بلکہ قریب ناکام رہے۲؎ انا ﷲ وانّا الیہ راجعون، الا لعنۃ اﷲ علٰی اعداء انبیاء اﷲ وصلی اﷲ تعالٰی علٰی انبیائہ وبارک وسلم۔ (ہم اﷲ کی ملکیت اور ہم اس کی طرف ہی لوٹنے والے ہیں، انبیاء اﷲ کے دشمنوں پر اﷲ تعالٰی کی لعنت، اﷲ تعالٰی کی رحمتیں اس کے انبیاء علیہم السلام پر اور برکتیں اور سلام۔ت)(۲؎ازالہ اوہام ریاض الہند امرتسر،بھارت ص ۱۱۶)
    ہر نبی کی تحقیر مطلقاً کفر قطعی ہے جس کی تفصیل سے شفاء شریف وشروحِ شفاء وسیف مسلول امام تقی الملۃ والدین سبکی وروضہ امام نووی و وجیز امام کردری و اعلام امام حجر مکّی وغیر ہا تصانیف ائمہ کرام کے دفتر گونج رہے ہیں نہ کہ نبی بھی کون نبی مرسل نہ کہ مرسل بھی کیسا مرسل اولوالعزم نہ کہ تحقیر بھی کتنی کہ مسمریزم کے سبب نور باطن نہ نور باطن بلکہ دینی استقامت نہ دینی استقامت بلکہ نفس توحید میں کم درجہ بلکہ ناکام رہے اس ملعون قول لعن اﷲ قائلہ وقابلہ (اسے کہنے والے اور قبول کرنے والے پر اﷲ کی لعنت) نے اولوالعزمی ورسالت و نبوت درکنار اس عبداﷲ و کلمۃ اﷲ و روح اﷲ علیہ وصلوٰۃ اﷲ وسلام وتحیات اﷲ کے نفس ایمان میں کلام کردیا اس کا جواب ہمارے ہاتھ میں کیا ہے سوا اس کے کہ:انّ الذین یؤذون اﷲ ورسولہ لعنھم اﷲ فی الدنیا والاٰخرۃ واعدّلھم عذابا مھینا۳؂(۳؂القرآن الکریم ۳۳/ ۵۷)بیشک جو لوگ ایذا دیتے ہیں اﷲ اور اس کے رسول کو ان پر اﷲنے لعنت کی دنیا و آخرت میں اور ان کے لئے تیار کر رکھا ہے ذلّت کا عذاب۔
    کفر دہم: ازالہ صفحہ ۶۲۹ پر لکھتا ہے:ایک زمانے میں چار سو نبیوں کی پیشگوئی غلط (عہ) ہوئی اور وہ جھوٹے۔۱؎(۱؎ ازالہ اوہام ریاض الہند امر تسر بھارت ص ۲۳۴)
    عہ: یہ اس کی پیش بندی ہے کہ یہ کذّاب اپنی بڑ میں ہمیشہ پیشگوئیاں ہانکتا رہتا ہے اور بعنایت الٰہی وہ آئے دن جھوٹی پڑا کرتی ہیں تو یہاں یہ بتانا چاہتا ہے کہ پیشگوئی غلط پڑی کچھ شان نبوت کے خلاف نہیں معاذ اﷲ اگلے انبیاء میں بھی ایسا ہوتا ہے۔(اینہم برعلم)
    یہ صراحۃً انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسّلام کی تکذیب ہے عام اقوام کفار لعنہم اﷲ کا کفر ۔
    اللہ عزت عزّ جلالہ نے یوں ہی تو بیان فرمایا:کذبت قوم نوح ن المرسلین۲؂ کذبت عاد ن المرسلین۳؂کذبت ثمود المرسلین۴؂کذبت قوم لوط ن المرسلین۵؂کذب اصحٰب الایکۃ المرسلین۶؂
    (نوح کی قوم نے پیغمبروں کو جھٹلایا،(قوم) عاد نے رسولوں کو جھٹلایا، (قوم)ثمود نے رسولوں کو جھٹلایا، لوط کی قوم نے رسولوں کو جھٹلایا، بَن والوں نے رسولوں کو جھٹلایا۔ت)
    (۲؂القرآن الکریم ۲۶/ ۱۰۵)(۳؂القرآن الکریم۲۶/ ۱۲۳) (۴؂القرآن الکریم ۲۶/ ۱۴۱)(۵؂القرآن الکریم ۲۶/ ۱۶۰)(۶؂القرآن الکریم ۲۶/ ۱۷۶)
    ائمہ کرام فرماتے ہیں، جو نبی پر اس کی لائی ہوئی بات میں کذب جائز ہی مانے اگرچہ وقوع نہ جانے باجماع کفر ہے نہ کہ معاذ اﷲ چارسو انبیاء کا اپنے اخبار بالغیب میں کہ و ہ ضرور اﷲ ہی کی طرف سے ہوتا ہے۔واقع میں جھوٹا ہوجانا۔
    شفا شریف میں ہے:من دان بالوحدانیۃ وصحۃ النبوۃ و نبوۃ بنبیناصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ولکن جوز علی الانبیاء الکـــذب فیمــا اتوا بہ ادعی فی ذٰلک المصلحۃ بزعمہ اولم یدعھا فہوکافر باجماع۷؎یعنی جو اﷲ تعالٰی کی وحدانیت نبوّت کی حقانیت ہمارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی نبوت کا اعتقاد رکھتا ہو بایں ہمہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام پر انکی باتوں میں کذب جائز مانے خواہ بزعمِ خود اس میں کسی مصلحت کا ادعا کرے یا نہ کرے ہر طرح بالاتفاق کافر ہے۔(۷؎ الشفا بتعریف حقوق المصطفٰی فصل فی بیان ما ھو من المقالات مکتبہ شرکۃ صحافیہ فی بلاد العثمانیہ ۲/ ۲۶۹)
    ظالم نے چار سو کہہ کر گمان کیا کہ اس نے باقی انبیاء کو تکذیب سے بچالیا حالانکہ یہی آیتیں جو ابھی تلاوت کی گئی ہیں شہادت دے رہی ہیں کہ اس نے آدم نبی اﷲ سے محمد رسول اﷲ تک تمام انبیائے کرام علیہم افضل الصلوٰۃ والسلام کو کاذب کہہ دیا کہ ایک رسول کی تکذیب تمام مرسلین کی تکذیب ہے۔
    دیکھو قوم نوح وہود وصالح ولوط و شعیب علیہم الصلوٰۃ والسلام نے اپنے ایک ہی نبی کی تکذیب کی تھی مگر قرآن نے فرمایا: قوم نوح نے سب رسولوں کی تکذیب کی، عاد نے کل پیغمبروں کو جھٹلایا، ثمود نے جمیع انبیاء کو کاذب کہا، قوم لوط نے تمام رسل کو جھوٹا بتایا، ایکہ والوں نے سارے نبیوں کو دروغ گو کہا، یونہی واﷲ اس قائل نے نہ صرف چار سو بلکہ جملہ انبیاء و مرسلین کو کذاب مانا۔ فلعن اﷲ من کذب احدا من انبیائہ وصلی اﷲ تعالٰی علٰی انبیائہ ورسلہ والمؤمنین بھم اجمعین، وجعلنا منھم وحشرنا فیھم وادخلنا معھم دارالنعیم بجاھھم عندہ وبرحمتہ بھم ورحمتھم بنا انہ ارحم الراحمین والحمد ﷲ رب العٰلمین۔(اﷲ تعالٰی کے کسی نبی کو جھوٹا کہنے والے پر اﷲتعالٰی کی لعنت اور اﷲ تعالٰی اپنے انبیاء ورسولوں پر اور ان کے وسیلہ سے تمام مومنین پر رحمت فرمائے اور ہمیں ان میں بنائے، ان کے ساتھ حشر اور ان کے ساتھ جنت میں داخل فرمائے، ان کی اپنے ہاں وجاہت اور ان پر اپنی رحمت اور انکی ہم پر رحمت کے سبب وہ برحق بڑا رحیم و رحمٰن ہے سب حمدیں اﷲ تعالٰی کے لئے جو سب جہانوں کا رب ہے۔ت)
    طبرانی معجم کبیر میں وَبَر حنفی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: انیّ اشہد عدد تراب الدنیا ان مسیلمۃ کذّاب۱؎
    ترجمہ : بیشک میں ذرّہ ہائے خاک تمام دنیا کے برابر گواہیاں دیتا ہوں کہ مسیلمہ (جس نے زمانہ اقدس میں ادعائے نبوت کیا تھا) کذاب ہے۔(۱؎ المعجم الکبیر حدیث ۴۱۲ از و بربن مشہر الحنفی المکتبہ الفیصلیہ بیروت ۲۲/ ۱۵۴)
    وانا اشھد معک یارسول اﷲ (یا رسول اﷲ! میں بھی آپ کے ساتھ گواہی دیتا ہوں) اور محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی بارگاہ عالم پناہ کا یہ ادنٰی کتا بعدد دانہائے ریگ و ستا رہا ئے آسمان گواہی دیتا ہے اور میرے ساتھ تمام ملائکہ سمٰوٰت وارض وحاملانِ عرش گواہ ہیں اور خو د عرش عظیم کا مالک گواہ ہے وکفٰی باﷲ شہیدا۲؂ (اور اﷲ کافی ہے گواہ۔ت)(۲؂القران الکریم ۴۸/ ۲۸)
    کہ ان اقوال مذکورہ کا قائل بیباک کافر مرتد ناپاک ہے۔
    اگر یہ (عہ) اقوال مرزا کی تحریروں میں اسی طرح ہیں تو واﷲ واللہ وہ یقینا کافر اور جو اس کے ان اقوال یا ان کے امثال پر مطلع ہو کر اسے کافر نہ کہے وہ بھی کافر، ندوہ مخذولہ اور اس کے اراکین کہ صرف طوطے کی طرح کلمہ گوئی پر مدارِ اسلام رکھتے اور تمام بددینوں گمراہوں کو حق پر جانتے، خدا کو سب سے یکساں راضی مانتے، سب مسلمانوں پر مذہب سے لادعوے دینا لازم کرتے ہیں جیسا کہ ندوہ کی رو داد اوّل و دوم ورسالہ اتفاق وغیرہا میں مصرح ہے ان اقوال پر بھی اپنا وہی قاعدہ ملعونہ مجرد کلمہ گوئی نیچریت کا اعلٰی نمونہ جاری رکھیں اس کی تکفیر میں چون وچرا کریں تووہ بھی کافر، وہ اراکین بھی کفار، مرزا کے پیرو اگرچہ خود ان اقوال انجس الابوال کے معتقد نہ بھی ہوں مگر جب کہ صریح کفر و کھلے ارتداد دیکھتے سنتے پھر مرزا کو امام و پیشوا و مقبول خدا کہتے ہیں قطعاً یقینا سب مرتد ہیں سب مستحقِ نار۔
    عہ: یہ اقوال دوسرے کے منقول تھے اس فتوے کے بعد مرزا کی بعض نئی تحریریں خود نظر سے گزریں جن میں قطعی کفر بھرے ہیں بلاشبہ وہ یقینا کافر مرتد ہے۔

    شفاء شریف میں ہے: نکفر من لم یکفر من دان بغیر ملۃ المسلمین من الملل اووقف فیھم اوشک۱؎ یعنی ہم ہر اس شخص کو کافر کہتے ہیں جوکافر کو کافر نہ کہے یا اسکی تکفیر میں توقف کرے یا شک رکھے۔(۱؎ الشفا بتعریف حقوق المصطفٰی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم فصل فی بیان ماھو من المقالات مکتبہ شرکۃ صحافیہ فی البلاد والعثمانیہ ۲/ ۲۵ )
    شفاء شریف نیز فتاوٰی بزازیہ و دررو غرر و فتاوٰی خیریہ و درمختار و مجمع الانہر و غیر ہا میں ہے:من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر۲؎۔ جو اس کے کفر و عذاب میں شک کرے یقینا خود کافر ہے۔(ت)(۲؎درمختار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی، ۱/ ۳۵۶)اور جو شخص باوصف کلمہ گوئی وادعائے اسلام، کفر کرے وہ کافروں کی سب سے بدتر قسم مرتد کے حکم میں ہے، ہدایہ و درمختار وعالمگیری و غرر و ملتقی الابحر ومجمع الانہر وغیر ہا میں ہے: صاحب الھوٰی ان کان یکفر فہو بمنزلۃ المرتد۳؎ (بدعتی اگر کفر کرے تو وہ مرتد کے حکم میں ہے۔ت)(۳؎ درمختار فصل فی وصایا الذمی وغیرہ مطبع مجتبائی دہلی، ۲/ ۳۳۳)
    • Like Like x 1
    • Bad Spelling Bad Spelling x 1
  4. ‏ اگست 30, 2014 #4
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    فتاوٰی ظہیریہ وطریقہ محمدیہ وحدیقہ ندیہ وبرجندی شرح نقایہ وفتاوٰی ہندیہ میں ہے: ھٰؤلاء القوم خار جون عن ملّۃ الاسلام واحکامھم احکام المرتدین۱؎ یہ لوگ دین اسلام سے خارج ہیں اور انکے احکام بعینہٖ مرتدین کے احکام ہیں۔(۱؎فتاوٰی ہندیہ الباب التاسع فی احکام المرتدین نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۲۶۴)
    اور شوہر کے کفر کرتے ہی عورت نکاح سے فوراً نکل جاتی ہے، اب اگر بے اسلام لائے اپنے اس قول و مذہب سے بغیر توبہ کئے یا بعد اسلام و توبہ عورت سے بغیر نکاح جدید کئے اس سے قربت کرے زنائے محض ہو جو اولاد ہو یقینا ولدالزنا ہو، یہ احکام سب ظاہر اور تمام کتب میں دائر و سائر ہیں۔
    فی الدرالمختار عن غنیۃ ذوی الاحکام مایکون کفرا اتفاقا یبطل العمل والنکاح واولادہ اولادزنا۲؎۔درمختار میں غنیۃ ذوی الاحکام سے منقول ہے جو بالاتفاق کفر ہو وہ عمل، نکاح کوباطل کردیتا ہے اسکی اولاد ولد الزنا ہے۔(۲؎درمختار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۹)
    اور عورت کا کل مہر اس کے ذمّہ عائد ہونے میں بھی شک نہیں جب کہ خلوت صحیحہ ہوچکی ہو کہ ارتداد کسی دَین کو ساقط نہیں کرتا۔
    فی التنویر وارث کسب اسلامہ وارثہ المسلم بعد قضاء دین اسلامہ وکسب ردتہ فی بعد قضاء دین ردتہ۳؎۔تنویر میں ہے قرضہ کی ادائیگی کے بعد اس کے اسلامی وقت کی کمائی کا وارث مسلمان ہے اور اس کے ارتدادی دور کی کمائی بیت المال میں جمع ہوگی۔(۳؎درمختار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۹)
    اور معجل تو فی الحال آپ ہی واجب الادا ہے، رہا مؤجل، وہ ہنوز اپنی اجل پر رہے گا، مگر یہ کہ مرتد بحال ارتداد ہی مرجائے یا دارالحرب کو چلا جائے اور حاکم شرع حکم فرمادے کہ وہ دارالحرب سے ملحق ہوگیا اس وقت مؤجل بھی فی الحال واجب الادا ہوجائے گا اگرچہ اجل موعود میں دس بیس برس باقی ہوں۔
    فی الدر ان حکم القاضی بلحاقہ حل دینہ۴؎ فی ردالمحتار لا نہ باللحاق صار من اھل الحرب وھم اموات فی حق احکام الاسلام فصار کالموت، الا انہ لا یستقر لحاقہ الا بالقضاء لا حتمال العود، واذا تقرر موتہ تثبت الاحکام المتعلقۃ بہ کما ذکرنھر۱؎
    (درمختار میں ہے کہ اگر قاضی نے مرتد کو دارالحرب سے ملحق ہونے کا فیصلہ دے دیا تو اس کا دَین لوگوں کو حلال ہے، ردالمحتار میں ہے کیونکہ دارالحرب سے لاحق ہونے پر حربی ہوگیا اور حربی اسلام کے احکام میں مُردوں کی طرح ہوتے ہیں مگر اس کا طوق قاضی کے فیصلہ پر دائمی قرار پائے گا کیونکہ قبل ازیں اس کے واپس دارالاسلام آنے کا احتمال ہے، تو جب اس کی موت ثابت ہوگئی تو موت سے متعلقہ تمام احکام نافذ ہوجائیں گے جیسا کہ نہر نے ذکر کیا۔ ت)(۴؎ درمختار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۹)(۱؎ ردالمحتار باب المرتد داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۰۰)

    اولاد صغار ضرور اس کے قبضے سے نکال لی جائے گی۔

    حذرا علی دینھم الاتری انھم صرحوا بنزع الولد من الام الشفیقۃ المسلمۃ ان کانت فاسقۃ والولد یعقل یخشی علیہ التخلق بسیرھا الذمیۃ فما ظنک بالاب المرتد والعیاذ باﷲ تعالٰی قال فی ردالمحتار الفاجرۃ بمنزلۃ الکتابیۃ فان الولد یبقی عندھا الٰی ان یعقل الادیان کما سیاتی خوفا علیہ من تعلمہ منہا ما تفعلہ فکذا الفاجرۃ ۴؎ الخ
    نابالغ بچوں کے دین کے خطرے کی وجہ سے، کیا آپ نے نہ دیکھا کہ فقہاء نے مسلمان شفیق ماں اگر فاسقہ ہو تو اس سے بچے کو الگ کرنے کی تصریح کی ہے بچے کے سمجھدار ہونے پر اس کی ماں کے بُرے اخلاق سے متاثر ہونے کے خوف کی وجہ سے، تو مرتد باپ کے بارے میں تیرا کیا گمان ہوگا، والعیاذ باﷲ تعالٰی، ردالمحتار میں فرمایا کہ فاجر عورت اہلِ کتاب عورت کے حکم میں ہے کہ اس کے پاس بچہ صرف اس وقت تک رہے گا جب تک دین سمجھنے نہ پائے جیسا کہ بیان ہوگا، اس خوف سے کہ کہیں بچہ اس کے اعمال سے متاثر نہ ہوجائے، تو فاجرہ عورت کا بھی یہی حکم ہے الخ۔(۴؎ ردالمحتار باب الحضانۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۶۳۴)

    وانت تعلم الولد لا یحضنہ الاب الا بعد ما بلغ سبعا او تسعا وذلک عمر العقل قطعا فیحرم الدفع الیہ ویجب النزع منہ وانما احوجنا الٰی ھذا لان الملک لیس بید الاسلام والا(عہ) فالسلطان این یبقی المرتد حتی یبحث عن حضانتہ الاتری الٰی قولھم لا حضانۃ لمرتدۃ لا نھا تضرب وتحبس کالیوم فانی تتفرغ للحضانۃ فاذا کان ھذا فی المحبوس فما ظنک بالمقتول ولکن انا ﷲ وانا الیہ راجعون ولا حول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
    اور تجھے علم ہے کہ والد بچے کو سات یا نو سال کے بعد ہی اپنی پرورش میں لیتا ہے اور یہ سمجھ کی عمر ہے لہٰذا بچے کو اس کے سپرد کرنا حرام ہے اور اس سے الگ کرلینا ضروری ہے اور ہم نے یہ ضرورت اس لئے محسوس کی کہ یہ ملک مسلمان کے اختیار میں نہیں ورنہ اسلامی حکمران مرتد کو کب چھوڑے گا کہ مرتد کی پرورش کا مسئلہ زیر بحث آئے، آپ نے غور نہیں کیا کہ فقہاء کا ارشاد ہے کہ مرتدہ کو حق پرورش نہیں ہے کیونکہ وہ قید میں سزا یافتہ ہوگی جیسا کہ آج ہے لہٰذا وہ پرورش کرنے کی فرصت کہاں پاسکتی ہے تو یہ حکم قیدی کے متعلق ہے تو مقتول مرتد کے متعلق تیرا کیا گمان ہوسکتا ہے، لیکن ہم اﷲ تعالٰی کا مال اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ ولا حول ولا قوۃ الاّ باﷲ العلی العظیم۔(ت)
    (عہ) فان سلطان الاسلام مامور بقتلہ لایجوز لہ ابقاؤہ بعد ثلثۃ ایام ۱۲ منہ
    کیونکہ اسلامی حکمران کو مرتد کے قتل کا حکم ہے تو اسے جائز نہیں کہ مرتد کو تین دن کے بعد باقی رکھے۔ ۱۲ منہ
    مگران کے نفس یا مال میں بدعوے ولایت اس کے تصرفات موقوف رہیں گے اگر پھر اسلام لے آیا اور اس مذہب ملعون سے توبہ کی تووہ تصرف سب صحیح ہوجائیں گے اور اگر مرتد ہی مرگیا یا دارالحرب کو چلا گیا تو باطل ہوجائیں گے،
    فی الدرالمختار یبطل منہ اتفاقا ما یعتمد الملۃ وھی خمس النکاح والذبیحۃ والصید والشھادۃ والارث ویتوقف منہ اتفاقا ما یعتمد المساواۃ وھو المفاوضۃ، اوولایۃ متعد یۃ وھوالتصرف علی ولدہ الصغیر، ان اسلم نفذ وان ھلک اولحق بدارالحرب وحکم بلحاقہ بطل۱؎ اھ مختصرا،
    (درمختار میں ہے مرتد کے وہ تمام امور بالاتفاق باطل ہیں جن کا تعلق دین سے ہو اور وہ پانچ امور ہیں: نکاح، ذبیحہ،شکار، گواہی اور وراثت، اور وہ امور بالاتفاق موقوف قرار پائیں گے جو مساوات عمل مثلاً لین دین اور کسی پر ولایت اور یہ نابالغ اولاد کے بارے میں تصرفات ہیں، اگر وہ دوبارہ مسلمان ہوگیا تو موقوف امور نافذ ہوجائیں گے، اور اگر وہ ارتداد میں مرگیا یا دارالحرب پہنچ گیا اور قاضی نے اس کے طوق کا فیصلہ دے دیا تو وہ امور باطل ہوجائیں گے، اھ مختصراً، (۱؎ درمختار، باب المرتد، مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۹)
    نسأل اﷲ الثبات علی الایمان وحسبنا اﷲ ونعم الوکیل وعلیہ التکلان ولاحول ولا قوۃ الاّ باﷲ العلی العظیم وصلی اﷲ تعالٰی علی سیدنا ومولانا محمد واٰلہ وصحبہ اجمعین، اٰمین واﷲ تعالٰی اعلم۔
    ہم اﷲ تعالٰی سے ایمان پر ثابت قدمی کے لئے دعا گو ہیں، ہمیں اﷲ تعالٰی کافی ہے اور وہ اچھا وکیل ہے اور اس پر ہی بھروسا ہے، لاحول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم، وصلی اﷲتعالٰی علٰی سیدنا ومولانا محمد وآلہٖ وصحبہٖ اجمعین، آمین۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔ت)
    محمد وصی احمد عبدہ المذنب احمد رضا البریلوی عبدالمصطفٰی احمدرضاخاں
    ناصر دین عفی عنہ بمحمدن المصطفٰی النبی الامیّ محمدی سُنّی حنفی قادری
    صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلّم
    • Like Like x 1
    • Bad Spelling Bad Spelling x 1
  5. ‏ اگست 30, 2014 #5
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    جزاک اللہُ خیرا ۔ عمدہ پوسٹ
    • Like Like x 2
  6. ‏ نومبر 23, 2015 #6
    محمد عثمان غنی

    محمد عثمان غنی رکن ختم نبوت فورم

    جزاکم اللہ خیر
    لعن اللہ و الملائكة والناس اجمعين على الكذاب القاديان:0014
    • Like Like x 1

اس صفحے کی تشہیر