1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

المبین ختم النبیین(حضور کے خاتم النبیین ہونے کے واضح دلائل)

حمزہ نے 'تحفظ ختم نبوت کتب' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اگست 31, 2014

  1. ‏ اگست 31, 2014 #1
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    المبین ختم النبیین
    (حضور کے خاتم النبیین ہونے کے واضح دلائل)(۱۳۲۶ھ)


    مسئلہ۸۸تا۹۴:ازبہار شریف محلہ قلعہ مدرسہ فیض رسول مرسلہ مولوی ابوطاہر نبی بخش صاحب ۱۸ربیع الاول شریف۱۳۲۶ھ
    بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم____حامد او مصلیا ومسلما
    اما بعد بست وپنجم ماہ ربیع الاول ۱۳۲۶ھ شب سہ شنبہ کو مولوی سجاد حسین ومولوی مبارک حسین صاحب مدرسین مدرسہ اسلامیہ بہار کے وطلبا تعلیم دادہ وعظ میں فرماتے تھے کہ خاتم النبیین میں''النبیین''پر الف لام عہد خارجی کا ہے، جب دوسرے روز مسجد چوک میں مولوی ابراہیم صاحب نے (جوبالفعل مدرسہ فیض رسول میں پڑھتے ہیں)اثنائے وعظ میں آیہ کریمہ:ماکان محمد ابااحد من رجالکم ولکن رسول اﷲ وخاتم النبیین۱؎۔ محمد تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں اﷲ کے رسول ہیں اور سب نبیوں میں پچھلے۔(ت)(۱؎ القرآن الکریم ۳۳/ ۴۰)
    تلاوت کرکے بیان کیا کہ النبیین میں جو لفظ النبیین مضاف الیہ واقع ہواہے اس لفظ پر الف لام استغراق کا ہے بایں معنی کہ سوائے حضور پر نور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے کوئی نبی نہ آپ کے زمانہ میں ہواور نہ بعد آپ کے قیامت تک کوئی نبی ہو نبوت آپ پر ختم ہوگئی آپ کل نبیوں کے خاتم ہیں، بعد وعظ مولوی ابراہیم صاحب کے راحت حسین طالب علم مدرسہ اسلامیہ بہار کے مجاور در گاہ نے باعانت بعض معاون روپوش بڑے دعوے کے ساتھ مولوی ابراہیم صاحب کی تقریر مذکور کی تردید کی اورصاف لفظوں میں کہا کہ لفظ''النبیین''پر الف لام استغراق کا نہیں ہے بلکہ عہد خارجی کا ہے، چونکہ یہ مسئلہ عقائد ہے لہذا اس کے متعلق چند مسائل نمبروار لکھ کر اہل حق سے گزارش ہے کہ بنظرِ احقاق ہر مسئلہ کا جواب باصواب بحوالہ کتب تحریر فرمادیں تاکہ اہل اسلام گمراہی و بدعقیدگی سے بچیں:
    (۱) راحت حسین مذکور کا کہنا کہ''النبیین''پر الف لام عہد خارجی کا ہے استغراق کا نہیں۔ یہ قول صحیح اور موافق مذہب منصور اہل سنت وجماعت کے ہے یا موافق فرقہ ضالہ زید یہ کے؟
    (۲) نفی استغراق سے آیہ کریمہ کا کیا مفہوم ہوگا؟
    (۳) برتقدیر صحت نفی استغراق اس آیہ سے اہل سنت کا عقیدہ کہ حضور پر نور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کل انبیاء کے خاتم ہیں ، ثابت ہوتا ہے کہ نہیں اور اہل سنت اس آیہ کو مثبت خاتمیت کاملہ سمجھتے ہیں یانہیں؟
    (۴) اگر آیت مثبت کلیت نہیں ہوگی تو پھر کس آیت سے کلیت ثابت ہوگی اور جب دوسری آیت مثبت کلیت نہیں تو اہل سنت کے اس عقیدے کا ثبوت دلیل قطعی سے ہرگز نہ ہوگا۔
    (۵) جس کا عقیدہ ہو کہ حضور پر نور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کل انبیاء کے خاتم نہیں ہیں، اس کے پیچھے اہلسنت کو نماز پڑھنا جائز ہے یانہیں؟
    (۶) اس باطل عقیدے کے لوگوں کی تعظیم و توقیر کرنی اور ان کو سلام کرنا جائز ہوگا یا ممنوع؟
    (۷) کیا سنی حنفی کو جائز ہے کہ جو شخص حضور پر نور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو کل انبیاء کا خاتم نہ سمجھے اس سے دینی علوم پڑھیں یا اپنی اولاد کو علم دین پڑھنے کے واسطے ان کے پاس بھیجیں،فقط المستفتی محمد عبداﷲ۔
    دلائل خارجیہ(عہ)
    عہ۱: چونکہ خاتم النبیین میں الف لام عہد خارجی کے قائل ہیں لہذا خارجیہ لکھے گئے ہیں۱۲
    دلیل اول:توضیح ص۱۰۰میں ہے: الاصل ای الراجح ھوالعھد الخارجی لانہ حقیقۃ التعیین وکمال التمییز۱؎۔ اصل یعنی راجح عہد خارجی ہی کا ہے اس لئے عہد خارجی حقیقت تعیین اور کمال تمیز ہے۔
    پس جب عہد خارجی سے معنی درست ہوتو استغراق وغیرہ معتبر نہ ہوگا۔(۱؎ التوضیح والتلویح قولہ ومنہا الجمع المعرف باللام نورانی کتب خانہ پشاور ۱/ ۱۳۶)
    دلیل دوم:نورالانوارصفحہ۸۱میں ہے: یسقط اعتبار الجمعیۃ اذادخلت علی الجمع۲؎۔ جب لام تعریف جمع پر داخل ہوتو اعتبار جمعیت ساقط ہوجاتا ہے۔(۲؎ نورالانوار بحث التعریف باللام والاضافۃ مکتبہ علمی دہلی ص۸۱)
    پس نبیین کہ صیغہ جمع ہے، جب اس پر الف لام تعریف داخل ہوا تو نبیین سے معنی جمعیت ساقط ہوگیا اور جب معنی جمعیت ساقط ہوگیا تو الف لام استغراق کا ماننا صحیح نہیں ہوسکتا۔
    دلیل سوم: یہ امر مسلم ہے کہ مضاف مضاف الیہ کا غیر ہوتا ہے جب فردواحد اس کل کے طرف مضاف ہو جس میں وہ داخل ہے تو وہ کل من حیث ہو کل ہونے کے کل، باقی نہ رہے گا بلکہ کلیت اس کی ٹوٹ جائے گی، اور جب کلیت اس کی باقی نہ رہی تو بعضیت ثابت ہوگئی اور یہی معنی ہے عہد کا، اور اگر اس فرد مضاف کہ ہم اس کل کے شمول میں رکھیں تو تقدم الشئے علی نفسہ لازم آتا ہے اور یہ باطل ہے کیونکہ وجود مضاف الیہ مقدم ہوتا ہے وجود مضاف پر، پس ان دلائل سے ثابت ہواکہ النبیین میں الف لام عہد خارجی کا مانناچاہئے۔
    الجواب: حضور پر نور خاتم النبیین سید المرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم علیہ وعلیہم اجمعین کا خاتم یعنی بعثت میں آخر جمیع انبیاء و مرسلین بلا تاویل و بلا تخصیص ہونا ضروریات دین سے ہے جو اس کا منکر ہو یا اس میں ادنی شک و شبہہ کو بھی راہ دے کافر مرتد ملعون ہے، آیہ کریمہ:ولکن رسول اﷲ وخاتم النبیین۳؎ ۔ (لیکن آپ اﷲ کے رسول اور انبیاء کے خاتم ہیں۔ت) وحدیث متواتر لانبی بعدی۴؎ (میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ت) سے تمام امت مرحومہ نے سلفاً وخلفاًیہی معنی سمجھے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بلا تخصیص تمام انبیاء میں آخر نبی ہوئے حضور کے ساتھ یا حضور کے بعد قیام قیامت تک کسی کو نبوت ملنی محال ہے۔(۳؎ القرآن الکریم۳۳/ ۴۰)(۴؎ صحیح البخاری کتاب الانبیاء باب ماذکر عن بنی اسرائیل قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۹۱)
    فتاوٰی یتیمیۃ الدہرواشباہ والنظائر وفتاوٰی عالمگیریہ وغیرہا میں ہے: اذالم یعرف الرجل ان محمدا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اٰخرالانبیاء فلیس بمسلم لانہ من الضروریات۱؎۔ جو شخص یہ نہ جانے کہ محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انبیاء میں سب سے پچھلے نبی ہیں وہ مسلمان نہیں کہ حضور کا آخر الانبیاء ہونا ضروریات دین سے ہے(ت) (۱؎ الاشباہ والنظائر اب الردۃ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱/ ۲۹۶)(فتاوٰی ہندیہ باب احکام المرتدین نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۲۶۳)
    شفاء شریف امام قاضی عیاض رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ میں ہے: کذٰلک (یکفر) من ادعی نبوۃ احد مع نبینا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اوبعدہ (الی قولہ) فھٰؤلا کلھم کفار مکذبون للنبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اخبرانہ خاتم النبیین ولانبی بعدہ واخبر عن اﷲ تعالٰی انہ خاتم النبیین وانہ ارسل کافۃ للناس واجمعت الامۃ علی حمل ان ھذا الکلام علی ظاھرہ وان مفھومہ المراد بہ دون تاویل ولاتخصیص فلا شک فی کفر ھٰؤلاء الطوائف کلھا قطعا اجماعاوسمعا۲؎۔ یعنی جو ہمارے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے زمانہ میں خواہ حضور کے بعد کسی کی نبوت کا ادعا کرے کافر ہے(اس قو ل تک)یہ سب نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی تکذیب کرنے والے ہیں کہ نبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے خبردی کہ خاتم النبیین ہیں اور ان کے بعد کوئی نبی نہیں اور اﷲ تعالٰی کی جانب سے یہ خبر دی کہ حضور خاتم النبیین ہیں اور ان کی رسالت تمام لوگوں کو عام ہے اور امت نے اجماع کیا ہے کہ یہ آیات واحادیث اپنے ظاہر پر ہیں جو کچھ ان سے مفہوم ہوتا ہے وہی خدا ورسول کی مراد ہے نہ ان میں کوئی تاویل ہے نہ کچھ تخصیص تو جو لوگ اس کا خلاف کریں وہ بحکم اجماع امت وبحکم قرآن وحدیث سب یقیناً کافر ہیں۔(۲؎ الشفاء بتعریف حقوق المصطفی فصل فی تحقیق القول فی اکفار المتاؤلین شرکت صحافیہ فی البلد العثمانیہ ترکی۲/۱۷۰،۷۱ )
    امام حجۃ الاسلام غزالی قدس سرہ العالی کتاب الاقتصاد میں فرماتے ہیں: ان الامۃ فھمت ھذااللفظ انہ افھم عدم نبی بعدہ ابداوعدم رسول بعدہ ابدا وانہ لیس فیہ تاویل ولاتخصیص وامن اولہ بتخصیص فکلامہ من انواع الھذیان لایمنع الحکم بتکفیرہ لانہ مکذب لھذاالنص الذی اجمعت الامۃ علی انہ غیر مؤول ولامخصوص۱؎۔ یعنی تمام امت مرحومہ نے لفظ خاتم النبیین سے یہی سمجھا ہے وہ بتاتا ہے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے بعد کبھی کوئی نبی نہ ہوگا حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے بعد کوئی رسول نہ ہوگا اور تمام امت نے یہی مانا ہے کہ اس میں اصلاً کوئی تاویل یا تخصیص نہیں تو جو شخص لفظ خاتم النبیین میں النبیین کو اپنے عموم واستغراق پر نہ مانے بلکہ اسے کسی تخصیص کی طرف پھیرے اس کی بات مجنون کی بک یا سرسامی کی بہک ہے اسے کافر کہنے سے کچھ ممانعت نہیں کہ اس نے نص قرآنی کو جھٹلایا جس کے بار ے میں امت کا اجماع ہے کہ اس میں نہ کوئی تاویل ہے نہ تخصیص۔ (۱؎ الاقتصاد فی الاعتقاد امام غزالی المکتبۃ الادبیہ مصر ص۱۱۴)
    عارف باﷲ سیدی عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی شرح الفرائد میں فرماتے ہیں: تجویز نبی مع نبینا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اوبعدہ یستلزم تکذیب القراٰن اذ قد نص علٰی انہ خاتم النبیین واٰخر المرسلین وفی السنۃ انا العاقب لانبی بعدی واجمعت الامۃ علی ابقاء ھذاالکلام علی ظاہرہ وھذہ احدی المسائل المشہورۃ التی کفرنا بھا الفلاسفۃ لعنھم اﷲتعالٰی ۲؎۔ ہمارے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے ساتھ یا بعد کسی کو نبوت ملنی جائز ماننا تکذیب قرآن کو مستلزم ہے کہ قرآن عظیم تصریح فرماچکا ہے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم خاتم النبیین وآخر المرسلین ہیں اور حدیث میں فرمایا: میں پچھلا نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ اور تمام امت کا اجماع ہے کہ یہ کلام اپنے ظاہر پرہے یعنی عموم واستغراق بلاتا ویل وتخصیص اور یہ ان مشہور مسئلوں سے ہے جن کے سبب ہم اہل اسلام نے کافرکہا فلاسفہ کو، اﷲ تعالٰی ان پر لعنت کرے۔(۲؎ المعتقد المنتقد بحوالہ المطالب الوفیہ شرح الفرائد السنیہ تجویز نبی بعدہ کفر مکتبۃ الحقیقیۃ استنبول ترکی ص۱۱۵)
    امام علامہ شہاب الدین فضل اﷲ بن حسین تورپشتی حنفی کتاب المعتمد فی المعتقد میں فرماتے ہیں:بحمدہ اﷲ تعالٰی ایں مسئلہ درمیان اسلامیان روشن ترازاں ست کہ آں را بکشف وبیان حاجت افتد، خدائے تعالٰی خبردار کہ بعد ازوے صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نبی دیگر نباشد ومنکرایں مسئلہ کسے تواند بود کہ اصلاً درنبوت اوصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم معتقد نباشد کہ اگر برسالت او معترف بودے وے را در ہرچہ ازاں خبردار صادق دانستے وبہماں جہتہاکہ از طریق تواتر رسالت او بیش مادرست شدہ ایں نیز درست شد کہ وے صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم باز پسیں پیغمبران ست در زمان اووتاقیامت بعد ازوے ہیچ نبی نباشد وہرکہ دریں بہ شک ست دراں نیز بہ شک ست ونہ آں کس کہ گوید کہ بعد اووے نبی دیگر بودیا ہست یا خواہد بودآں کس نیز کہ گوید کہ امکان دار د کہ باشد کافر ست اینست شرط در ستی ایمان بخاتم انبیاء محمد مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔۱؎(۱؎ المعتمدفی المعتقد)
    بحمداﷲ تعالٰی یہ مسئلہ اہلِ اسلام کے ہاں اتنا واضح اور آشکار ہے کہ اسے بیان کرنے کی ضرورت ہی نہیں، اﷲ تعالٰی نے خود اطلاع فرمادی ہے کہ آپ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا، اگر کوئی شخص اس کا منکر ہے تو وہ تو اصلاً آپ کی نبوت کا معتقد نہیں کیونکہ اگر آپ کی رسالت کو تسلیم کرتا تو جو کچھ آپ نے بتایا ہے اس کو حق جانتا جس طرح آپ کی رسالت و نبوت تواتر سے ثابت ہے اسی طرح یہ بھی تواتر سے ثابت ہے کہ حضور تمام انبیاء کے آخرمیں تشریف لائے ہیں اور اب تا قیامت آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا جس کو اس بارے میں شک ہے اسے پہلی بات کے بارے میں شک ہوگا صرف وہی شخص کافر نہیں جو یہ کہے کہ آپ کے بعد نبی تھا یا ہے یا ہوگا بلکہ وہ بھی کافر ہے جوآپ کے بعد کسی نبی کی آمد کو ممکن تصور کرے، خاتم الانبیاء صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم پر ایمان درست ہونے کی شرط ہی یہ ہے(ت)
    بالجملہ آیہ کریمہ ولکن رسول اﷲ وخاتم النبیین۲؎(۲؎ القرآن الکریم۳۳/ ۴۰)
    مثل حدیث متواتر لانبی بعدی۳؎ قطعاً عام اور اس میں مراد استغراق تام اور اس میں کسی قسم کی تاویل وتخصیص نہ ہونے پر اجماعِ امت خیرالانام علیہ وعلیہم الصلوٰۃ والسلام ، یہ ضروریات دین سے ہے اور ضروریاتِ دین میں کوئی تاویل یا اس کے عموم میں کچھ قیل وقال اصلا مسموع نہیں ، جیسے آج کل دجال قادیانی بک رہاہے کہ''خاتم النبیین سے ختم نبوت شریعت جدیدہ مراد ہے اگر حضور کے بعد کوئی نبی اسی شریعت مطہرہ کا مروج وتابع ہوکر آئے کچھ حرج نہیں''اور وہ خبیث اس سے اپنی نبوت جمانا چاہتا ہے،یا ایک اور دجال نے کہا تھا کہ''تقدم (عہ۱) تاخرزمانی میں کچھ فضیلت نہیں خاتم بمعنی آخر لیناخیال جہال ہے بلکہ خاتم النبیین بمعنی نبی بالذات ہے''۔(عہ۱: تحذیر الناس۱۲)(۳؎ صحیح البخاری کتاب الانبیاء باب ماذکر عن نبی اسرائیل قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۹۱)
    اور اسی مضمون ملعون کو دجال اول نے یوں (عہ۲) ادا کیا کہ''خاتم النبیین بمعنی افضل النبیین ہے''، ایک اور مرتدنے لکھا''خاتم النبیین (عہ۳ ) ہونا حضرت رسالت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا بہ نسبت اس سلسلہ محدودہ کے ہے نہ بہ نسبت جمیع سلاسل عوالم کے، پس اور مخلوقات کا اورزمینوں میں نبی ہونا ہرگز منافی خاتم النبیین کے نہیں جموع محلے باللام امثال اس مقام پر مخصوص ہوتی ہیں''
    (عہ۲:مواہب الرحمٰن قادیانی۱۲)(عہ۳: مناظرہ احمدیہ۱۲)
    چند اور خبیثوں نے لکھا کہ ''الف لام(عہ۱) خاتم النبیین میں جائز ہے کہ عہد کے لئے ہو اور برتقدیر تسلیم استغراق جائز ہے کہ استغراق عرفی کےلئے ہو اور برتقدیر حقیقی جائز ہے کہ مخصوص البعض ہو اور بھی عام کے قطعی ہونے میں بڑا اختلاف ہے کہ اکثر علماء ظنی ہونے کے قائل ہیں''ان شیاطین سے بڑھ کر'اور بعض ابلیسیوں نے لکھا کہ''اہل اسلام(عہ۲)کے بعض فرقے ختم نبوت کے ہی قائل نہیں اور بعض قائل ختم نبوت تشریعی کے ہیں نہ مطلق نبوت کے ''الی غیرذٰلک من الکفریات الملعونۃ والارتدادات المشحونۃ بنجاسات ابلیس وقاذورات التدلیس لعن اﷲ قائلھا وقاتل اﷲ قابلیھا۔ دیگر کفریات ملعونہ اور ارتدادات جو ابلیس کی نجاستوں اور جھوٹ کی پلیدوں کو متضمن ہے اﷲ تعالٰی کی اس کے قائل پر لعنت ہو اور اسے قبول کرنیوالے کو اﷲ تعالٰی بربادفرمائے(ت)
    (عہ۱: ناصر المومنین سہسوانی۱۲)(عہ۲: تحریراسمی زندیق پشاور ی۱۲)
    یہ سب تاویل رکیک ہیں یا عموم واستغراق''النبیین'' میں تشویش وتشکیک سب کفر صریح وارتداد قبیح ، اﷲ ورسول نے مطلقاً نفی نبوت تازہ فرمائی، شریعت جدیدہ وغیرہا کی کوئی قید کہیں نہ لگائی اور صراحۃً خاتم بمعنی آخر بتایا، متواتر حدیثوں میں اس کا بیان آیا اور صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالٰی علیہم اجمعین سے اب تک تمام امت مرحومہ نے اسی معنی ظاہر ومتبادر وعموم استغراق حقیقی تام پر اجماع کیا اور اسی بنا پر سلفاً وخلفاً ائمہ مذاہب نے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے بعد ہر مدعی نبوت کو کافر کہا، کتبِ احادیث و تفسیر عقائد و فقہ ان کے بیانوں سے گونج رہی ہیں، فقیر غفرلہ المولی القدیر نے اپنی کتاب''جزاء اﷲ عدوہ بابائہ ختم النبوۃ۱۳۱۷ھ" میں اس مطلب ایمانی پر صحاح وسنن و مسانید ومعاجیم و جوامع سے ایک سو بیس حدیثیں اور تکفیر منکر کہ ارشادات ائمہ وعلمائے قدیم وحدیث و کتب عقائد واصول فقہ وحدیث سے تیس نصوص ذکر کئے وﷲ الحمد۔ تو یہاں عموم واستغراق کے انکار خواہ کسی تاویل و تبدیل کا اظہار نہیں کرسکتا مگر کھلا کافر ،خد اکا دشمن قرآن کا منکر ،مردودوملعون،خائب وخاسر، والعیاذ باﷲالعزیز القادر، ایسی تشکیکیں تو وہ اشقیاء،رب العٰلمین میں بھی کرسکتے ہیں کہ جائز ہے لام عہد کے لئے ہو یا استغراق عرفی کے لئے یا عام مخصوص منہ البعض یا عالمین سے مراد عالمین زمانہ کقولہ تعالٰی وانی فضلتکم علی العالمین۱؎ (جیسے کہ باری تعالی کا فرمان ہے: اور میں نے تم کو جہاں والوں پر فضیلت دی۔ت) اور سب کچھ سہی پھر عام قطعی تو نہیں خدا کا پروردگار جمیع عالم ہونا یقینی کہاں مگر الحمد ﷲ مسلمان نہ ان ملعون ناپاک وساوس کو رب العالمین میں سنیں نہ ان خبیث گندے وساوس کو خاتم النبیین میں، الالعنۃ اﷲ علی الظالمین۲؎، ان الذین یؤذون اﷲ ورسولہ لعنھم اﷲ فی الدنیا والاٰخرۃ اعدلھم عذابا مھینا۳؎۔ ارے ظالموں پرخدا کی لعنت، بیشک جو ایذا دیتے ہیں اﷲ اور اس کے رسول کو ان پر اﷲ کی لعنت ہے دنیا اور آخرت میں اﷲ نے ان کے لئے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے(ت)(۱؎القرآن الکریم۲/ ۴۸) (۱؎القرآن الکریم ۱۱/ ۱۸)(۲؎القرآن الکریم ۳۳/ ۵۷)
    یہ طائفہ خائفہ خارجیہ جن سے سوال ہے اگر معلوم ہو کہ حضور پر نور خاتم الانبیاء ومرسلین صلی اﷲتعالٰی علیہ وعلیہم اجمعین کے خاتم ہونے کوصرف بعض انبیاء سے مخصوص کرتا ہے حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے روز بعثت سے جب یا اب کبھی کسی زمانے میں کوئی نبوت، اگرچہ ایک ہی،اگرچہ غیر تشریعی، اگرچہ کسی اور طبقہ زمین، یا کنج آسمان میں اگرچہ کسی اور نوع انسانی میں واقع مانتا، یاباوصف اعتقاد عدم وقوع محض بطوراحتمال شرعی وامکان وقوعی جائز جانتا یہ بھی سہی مگر جائز ومحتمل ماننے والوں کو مسلمان کہتا یا طوائف ملعونہ مذکورہ، خواہ ان کے کبراء یا نظراء کی تکفیر سے باز رہتا ہے، تو ان سب صورتوں میں یہ طائفہ خائفہ خود بھی قطعا یقینا اجماعاً ضرورۃً مثل طوائف مذکورہ قادیانیہ وقاسمیہ وامیریہ ونذیریہ وامثالہم لعنہم اﷲ تعالٰی کافر ومرتد ملعون ابد ہے۔
    قاتلھم اﷲ انی یؤفکون۳؎ (اﷲ انہیں مارے کہاں اوندھے جاتے ہیں۔ت) کہ ضروریات دین کا جس طرح انکار کفر ہے یونہی ان میں شک و شبہہ اور احتمال خلاف، ماننا بھی کفر ہے یونہی ان کے منکر یا ان میں شاک کو مسلمان کہنا اسے کافر نہ جاننا بھی کفر ہے۔ (۳؎القرآن الکریم ۹/ ۳۰)
    بحرالکلام امام نسفی وغیرہ میں ہے: من قال بعد نبینا یکفر لانہ انکر النص وکذٰلک لوشک فیہ۴؎۔ جو شخص یہ کہے کہ ہمارے نبی کے بعد نبی آسکتا ہے وہ کافر ہے کیونکہ اس نے نص قطعی کا انکار کیا، اسی طرح وہ شخص جس نے اس کے بارے میں شک کیا۔(ت)(۴؎ بحرالکلام)
    درمختار وبزازیہ ومجمع الانہروغیرہا کتب کثیرہ میں ہے:من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر۱؎۔ جس نے اس کے کفر وعذاب میں شک کیا وہ بھی کافر ہے(ت)(۱؎ مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر فصل فی احکام الجزیہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۶۷۷)
    ان لعنتی اقوال ، نجس ترازابوال، کے ردمیں اواخرصدی گزشتہ میں بکثرت رسائل ومسائل علمائے عرب وعجم طبع ہوچکے اور وہ ناپاک فتنے غار مذلت میں گر کر قعرِ جہنم کو پہنچے والحمدﷲرب العالمین۔ اس طائفہ جدیدہ کو اگر طوائف طریدہ کی حمایت سوجھے گی تو اﷲ واحد قہار کا لشکر جرار، اسے بھی اس کی سزائے کردار پہنچانے کو موجود ہے قال تعالٰی الم نھلک الاولینoثم نُتْبِعُھُمُ الاٰخرینoکذالک نفعل بالمجرمینoویل یومئذ للمکذبین۲؎ اﷲ تعالٰی نے فرمایا:کیا ہم نے اگلوں کو ہلاک نہ فرمایا، پھر پچھلوں کو ان کے پیچھے پہنچائیں گے، مجرموں کے ساتھ ہم ایسا ہی کرتے ہیں، اس دن کو جھٹلانے والوں کی خرابی ہے۔(ت)(۲؎ القرآن الکریم ۷۷/ ۱۶تا۱۹)
    اور اگر اس طائفہ جدیدہ کی نسبت وہ تجویز واحتمال نبوت یا عدم تکفیر منکران ختم نبوت، معلوم نہ بھی ہو، نہ اس کا خلاف ثابت ہوتو اس کا آیہ کریمہ میں افادہ استغراق سے انکار اور ارادہ بعض پر اصرارکیا اسے حکم کفر سے بچالے گا کہ وہ صراحۃً آیہ کریمہ ا اس تفسیر قطعی یقینی اجماعی ایمانی کا منکر ومبطل ہے جو خود حضور پر نورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمائی اور جس پر تمام امت مرحومہ نے اجماع کیا اور بنقل متواتر ضروریاتِ دین سے ہوکر ہم تک آئی، مثلاًکوئی شخص کہے کہ شراب کی حرمت قرآن عظیم سے ثابت نہیں ائمہ دین فرماتے ہیں وہ کافر ہوگیا اگرچہ اس کے کلام میں حرمت خمر کا انکار نہ تھا، نہ تحریم خمر کا ثبوت صرف قرآن عظیم پر موقوف کہ ا س کی تحریم میں احادیث متواتر بھی موجود، اور کچھ نہ ہوتو خود اس کی حرمت ضروریات دین سے ہے اور ضروریات دین خصوص نصوص کے محتاج نہیں رہتے۔
    امام اجل ابوزکریا نووی کتاب الروضہ پھر امام ابن حجر مکی اعلام بقواطع الاسلام میں فرماتے ہیں : اذاجحد مجمعا علیہ یعلم من دین الاسلام ضرورۃ سواء کان فیہ نص اولافان جحدہ یکون کفرااھ ملتقطا۳؎۔ جب کسی نے ایسی بات کا انکار کیا جس کا ضروریات دین اسلام میں سے ہونا متفق علیہ معلوم ہے خواہ اس میں نص ہو یا نہ ہو تو اس کا انکار کفر ہے اھ ملتقطا(ت)(۳؎ الاعلام بقواطع الاسلام مع سبل النجاۃ مکتبۃ الحقیقیہ استنبول ترکی ص۳۵۲)
    بعینہٖ یہی حالت یہاں بھی ہے کہ اگرچہ بعثت محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے ہمیشہ کے لئے دروازہ نبوت بند ہوجانا اور اس وقت سے ہمیشہ تک ، کبھی کسی وقت کسی جگہ کسی صنف میں کسی طرح کی نبوت نہ ہوسکنا کچھ اس آیہ کریمہ ہی پر موقوف نہیں بلکہ اس کے ثبوت میں قاہروباہر، متوار ومتظافر، متکاثرومتواتر حدیثیں موجود اور کچھ نہ ہوتو بحمد اﷲ تعالٰی مسئلہ خود ضروریات دین سے ہے مگر آیت کے معنی متواتر، مجمع علیہ ،قطعی ضروری کا انکار، اس پر کفر ثابت کرے گا اگرچہ اس کے کلام میں صراحۃً نفسِ مسئلہ کا انکار نہیں ۔
    منح الروض الازہر شرح فقہ اکبر سیدنا امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ میں ہے: لوقال حرمۃ الخمر لاتثبت بالقراٰن کفر ای لانہ عارض نص القراٰن وانکر تفسیر اھل الفرقان۱؎۔ لوقال حرمۃ الخمر لاتثبت بالقراٰن کفر ای لانہ عارض نص القراٰن وانکر تفسیر اھل الفرقان۱؎۔ اگر کسی نے کہا شراب کی حرمت قرآن سے ثابت نہیں تو وہ کافر ہے کیونکہ اس نے نص قرآنی کے ساتھ معارضہ کیا اور اہل فرقان کی تفسیر کا انکار کیا(ت)(۱؎ منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر ملاعلی قاری فصل فی الکفر صریحاً وکنایۃً مصطفی البابی مصر ص۱۹۰)
    فتاوٰی تتمہ میں ہے:من انکر حرمۃ الخمر فی القراٰن کفر۲؎۔ جس نے قرآن کے حوالے سے حرمت شراب کا انکار کیا وہ کافر ہوگیا(ت) (۲؎منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر بحوالہ فتاوی تتمہ فصل فی الکفر صریحاً وکنایۃً مصطفی البابی مصر ص۱۹۰)
    اعلام امام مکی میں ہمارے علماء سے کلمات کفر بالاتفاق میں نقل کیا: اوقال لم تثبت حرمۃ الخمر فی القراٰن ۳؎۔ یا اس نے کہاقرآن میں حرمت شراب کا ثبوت نہیں ہے۔(ت)(۳؎ الاعلام بقواطع الاسلام مع سبل النجاۃ مکتبۃ الحقیقیۃ استنبول ترکی ص۳۷۱)
  2. ‏ اگست 31, 2014 #2
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    پھر خود فرمایا: کفرزاعم انہ لانص فی القراٰن علی تحریم الخمر ظاھر، لانہ مستلزم لتکذیب القراٰن الناص فی غیرما اٰیۃ علی تحریم الخمر فان قلت غایۃ مافیہ انہ کذب وھو لایقتضی الکفر قلت ممنوع لانہ کذب یستلزم انکار النص المجمع علیہ المعلوم من الدین بالضرورۃ ۱؎۔ جس نے کہا تحریم شراب پر قرآن میں کوئی نص نہیں ا س کاکافر ہونا نہایت ہی واضح ہے کیونکہ اس کا یہ قول قرآن کی تکذیب کررہاہے قرآن نے متعدد جگہ پر شراب کے حرام ہونے پر تصریح کی ہے، اگریہ کہا جائے کہ یہ صرف اتنا تقاضا کرتا ہے کہ یہ جھوٹ ہوکفر کاتقاضا نہیں کرتا میں کہوں گا یہ بات درست نہیں کیونکہ اس کا یہ قول اس نص قرآنی کے انکار کو مستلزم ہے جس سے ایسا حکم ثابت ہورہا ہے جو متفق طور پر ضروریات دین میں سے ہے۔(ت) (۱؎ الاعلام بقواطع الاسلام مع سبل النجاۃ مکتبۃ الحقیقیہ استنبول ترکی ص۳۷۲)
    تو اگر چہ یہ طائفہ آیہ کریمہ میں استغراق کے انکار سے ختم تام نبوت پر دلائل قطعیہ سے مسلمانوں کا ہاتھ خالی نہیں کرسکتا، مگر اپنا ہاتھ ایمان سے خالی کرگیا، ہاں اگرارباب طائفہ صراحۃً ایمان لائیں کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے زمانہ میں خواہ حضور کے بعد، کبھی کسی جگہ کسی طرح کی کوئی نبوت کسی کو نہیں مل سکتی، حضور کے خاتم النبیین وآخر الانبیاء والمرسلین ہونے میں اصلاً کوئی تخصیص تاویل تقیید تحویل نہیں اور ان تمام مطالب کو نصوص قطعیہ و اجماع یقینی وضروریات دین سے ثابت یقینا مانیں ان تمام طوائف ملعونہ مذکورہ ان کے اکابر کو صاف صاف کافر مرتد کہیں، صرف بزعم خود اپنی نحوی ومنطقی جہالتوں، بطالتوں ، کج فہمیوں کے باعث آیہ کریمہ میں لام عہد لیں اور استغراق نا مستقیم سمجھیں تو اگرچہ بوجہ انکار تفسیر متواتر اجماعی قطعی اسلوب فقہی اس پر اب بھی لزوم کفر مانے مگر از انجا کہ اس نے اعتقاد صحیح کی تصریح اور کبرائے منکرین کی تکفیر صریح کردی اس کی تکفیر سے زبان روکنا ہی مسلک تحقیق و احتیاط ہوگا،
    امام مکی بعد عبارت مذکورہ فرماتے ہیں: ومن ثم یتجہ انہ لوقال الخمر حرام ولیس فی القراٰن نص علی تحریمہ لم یکفر لانہ الاٰن محض کذب وھو لاکفر بہ اھ۲؎۔ اسی وجہ سے یہ توجیہ کی جاتی ہے کہ اگر کوئی کہتا ہے شراب تو حرام ہے لیکن قرآن میں اس کی تحریم پر نص نہیں تو وہ کافرنہ ہوگااس لیے کہ اب وہ محض جھوٹ بول رہا ہے اور اس سے وہ کافر نہ ہو گا ۔اھ(ت)(۲؎الاعلام بقواطع الاسلام مع سبل النجاۃ مکتبۃ الحقیقیہ استنبول ترکی ص۳۷۲)
    اقول وباﷲ التوفیق(میں کہتا ہوں اور توفیق اﷲ تعالٰی سے ہے۔ت) اس تقدیر اخیر پر بھی اس قدر میں شک نہیں کہ یہ طائفہ خائفہ یارومعین، مرتدین وکافرین وبازیچہ کنندہ کلام رب العالمین ، ومکذب تفسیر حضور سید المرسلین ومخالف اجماع جمیع مسلمین وسخت بدعقل وگمراہ وبددین ہے۔
    اول تو ظاہر ہی ہے کہ نفی استغراق وتجویز عہد میں یہ ان کفار کا ہم زبان ہوا بلکہ ان خبیثوں نے تو بطور احتمال ہی کہا تھا''جائز ہے کہ عہد کے لئے ہو''اور اس نے بزعم خود عہد کے لئے ہونا واجب مانا اور استغراق کو باطل ومردود جانا۔
    دوم اس لئے کہ قرآن عظیم میں حضرات انبیائے کرام علیہم افضل الصلوٰۃ والسلام کاذکر پاک بہت وجوہ مختلفہ سے وارد:
    (۱) فرداًفرداً خواہ بتصریح اسماء یہ صرف چھبیس کے لئے ہے:آدم، ادریس، نوح، ہود، صالح، ابراہیم، اسحق، اسمٰعیل، لوط ، یوسف، ایوب، شعیب، موسٰی ، ہارون، الیاس، الیسع، ذوالکفل، داؤد، سلیمان، عزیر، یونس، زکریا، یحٰیی، عیسیٰ، محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وعلیہم وبارک وسلم یابرسبیل ابہام مثل قال لھم نبیھم۱؎ (اشمویل) (ان کو ان کے نبی (شمویل) نے کہا:واذقال لفَتٰہُ۲؎
    (یوشع)فوجد اعبد امن عبادنا
    خضرعلیہم الصلٰوۃ والسلام اور جس وقت انہوں نے نوجوان (یوشع) سے کہا''توپایا حضرت موسٰی اور یوشع نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ حضرت خضر علیہم الصلوٰۃ والسلام۔ت)(۱؎القرآن الکریم ۲/ ۲۴۸ ) (۲؎القرآن الکریم ۱۸/ ۶۰تا۶۵)
    (۲) یابرسبیل عموم واستغراق اور یہی اوفرواکثر ہے،مثل قولہ تعالٰی: قولوااٰمنا باﷲ وماانزل الینا(الٰی قولہ تعالٰی) ومااوتی النبیون من ربھم لانفرق بین احدمنھم۳؎، وقال تعالٰی ولکن البر من اٰمن باﷲ والیوم الاٰخر والملٰئکۃ والکتٰب والنبیین ۴؎، وقال تعالٰی تلک الرسل فضلنا بعضھم علٰی بعض۵؎، وقال تعالٰی کل اٰمن باﷲ وملٰئکتہ وکتبہ ورسلہ۶؎، یوں کہو کہ ہم ایمان لائے اﷲپر اور اس پر جو ہماری طرف اترا(الی قولہ تعالٰی) اور جو عطا کئے گئے باقی انبیاء اپنے رب کے پاس سے ہم ان میں کسی پر ایمان میں فرق نہیں کرتے۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: ہان اصل نیکی یہ ایمان لائے اﷲ اور قیامت اور فرشتوں اور کتاب اور پیغمبروں پر۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: یہ رسول ہیں کہ ہم نے ان میں ایک کو دوسرے پرافضل کیا۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: سب نے مانا اﷲ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کو۔
    (۳؎القرآن الکریم ۲/ ۱۳۶ ) ( ۴؎ القرآن الکریم ۲/ ۱۷۷) (۵؎القرآن الکریم ۲/ ۲۵۳) (۶؎القرآن الکریم ۲/ ۲۸۵)
    وقال تعالٰی لانفرق بین احد من رسلہ۱؎، وقال تعالٰی ومااوتی موسٰی وعیسٰی والنبییون من ربھم لانفرق بین احدمنھم۲؎، وقال تعالٰی اولٰئک مع الذین انعم اﷲ علیہم من النبیین والصدیقین۳؎، وقال تعالٰی والذین اٰمنوا باﷲ ورسلہ ولم یفرقوابین احدمنھم اولٰئک سوف یؤتیھم اجورھم ۴؎، وقال تعالٰی فامنوا باللہ ورسولہ ۵؂وقال تعالی لئن اقمتم الصلٰوۃ واٰتیتم الزکٰوۃ واٰمنتم برسلی وعزرتموھم۶؎ وقال تعالٰی یوم یجمع اﷲ الرسل فیقول ماذااجبتم۷؎وقال تعالٰی وما نرسل المرسلین الامبشرین ومنذرین۸؎وقال تعالٰی فلنسئلن الذین ارسل الیھم ولنسئلن المرسلین۹؎، اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا:ہم اس کے کسی رسول پر ایمان لانے میں فرق نہیں کرتے۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: جو کچھ ملاموسی اور عیسٰی اور انبیاء کو ان کے رب سے ہم ان میں کسی پر ایمان میں فرق نہیں کرتے۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اسے ان کا ساتھ ملے گاجن پر اﷲ نے فضل کیا یعنی انبیاء اور صدیقین۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اور وہ جو اﷲ اور اس کے سب رسولوں پر ایمان لائے اور ان میں سے کسی پر ایمان میں فرق نہ کیا انہیں عنقریب اﷲ ان کے ثواب دے گا۔اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: تو ایمان لاؤ اﷲ اور اس کےرسول پر ۔ اور اﷲتعالٰی نے فرمایا: تمہارے ساتھ ہوں ضرور اگر تم نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو اور میرے رسولوں پر ایمان لاؤ اور ان کی تعظیم کرو۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: جس دن اﷲ جمع فرمائے گا رسولوں کو پھر فرمائے گا تمہیں کیا جواب ملا۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اور ہم نہیں بھیجتے رسولوں کو مگر خوشی اور ڈرسناتے ۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: تو بیشک ضرور ہمیں پوچھنا ہے ان سے جن کے پاس رسول گئے اور بیشک ضرور ہمیں پوچھنا ہے رسولوں سے۔
    (۱؎ القرآن الکریم ۲/ ۲۸۵ ) ( ۲؎ القرآن الکریم ۳/ ۸۴)(۳؎القرآن الکریم ۴/ ۶۹ ) ( ۴؎ القرآن الکریم ۴/ ۱۵۲)(۵؎ القرآن الکریم ۶۴/ ۸) ( ۶؎ القرآن الکریم ۵/۱۲) (۷؎ القرآن الکریم ۵/ ۱۰۹) ( ۸؎ القرآن الکریم ۶/ ۴۸)(۹؎ القرآن الکریم ۷/۷)
    وقال تعالٰی عن المؤمنین،لقد جاءت رسل ربنا بالحق۱؎، وقال تعالٰی عن الکافرین قد جاءت رسل ربنا بالحق فھل لنا من شفعاء۲؎، وقال تعالٰی ثم ننجی رسلنا والذین اٰمنوا۳؎، وقال تعالٰی واتخذوا اٰیتی ورسلی ھزوا۴؎، وقال تعالٰی اولٰئک الذین انعم اﷲ علیہم من النبیین۵؎، وقال تعالٰی انی لایخاف لدی المرسلون۶؎، وقال تعالٰی واذا اخذنا من النبیین میثاقھم ومنک ومن نوح ۷؎وقال تعالٰی ھذا ما وعد الرحمن وصدق المرسلون ۸؂وقال تعالی ولقدسبقت کلمتنا لعبادناالمرسلین ۹؂،وقال تعالٰی وسلٰم علی المرسلین۱۰ ؂، وقال تعالٰی وجیء بالنبیین والشھداء۱۱؎، اور اﷲ تعالٰی نے مومنین سے فرمایا: بیشک ہمارے رب کے رسول حق لائے ۔ اور اﷲ نے کفار سے فرمایا: بیشک ہمارے رب کے رسول حق لائے تھے توہیں کوئی ہمارے سفارشی جو ہماری شفاعت کریں۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: پھر ہم اپنے رسولوں اور ایمان والوں کو نجات دیں گے۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا:اور میری آیتوں اور میرے رسولوں کی ہنسی بنائی۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: یہ ہیں جن پر اﷲ نے احسان کیا غیب کی خبریں بتانے والوں میں سے۔ اور اﷲتعالٰی نے فرمایا: بیشک میرے حضور رسولوں کو خوف نہیں ہوتا۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اور اے محبوب یاد کرو جب ہم نے نبیوں سے عہدلیا اور تم سے اور نوح سے۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: یہ ہے وہ جس کا رحمٰن نے وعدہ دیا تھا۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اور بیشک ہمارا کلام گزرچکا ہے ہمارے بھیجے ہوئے بندوں کے لئے اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اور سلام ہے پیغمبروں پر۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اور لائے جائیں گے انبیاء اور یہ نبی اور اس کے امت کے ان پر گواہ ہونگے۔
    (۱؎القرآن الکریم۷/ ۴۳ ) (۲؎ القرآن الکریم۷/ ۵۳)(۳؎ القرآن الکریم ۱۰/ ۰۳ا) ( ۴؎ القرآن الکریم ۱۸/ ۱۰۶)(۵؎ القرآن الکریم ۱۹/ ۵۸ ) ( ۶؎ القرآن الکریم ۲۷/ ۱۰)(۷؎ القرآن الکریم ۳۳/ ۸ ) ( ۸؎ القرآن الکریم ۳۶/ ۵۲)(۹؎ القرآن الکریم ۳۷/ ۱۷۱) ( ۱۰؎ القرآن الکریم ۳۷/ ۱۸۱)(۱۱؎ القرآن الکریم ۳۹/ ۶۹)
    وقال تعالٰی انا لننصررسلنا والذین اٰمنوا۱؎، وقال تعالٰی الذین اٰمنوا باﷲ ورسولہ اولٰئک ھم الصدیقون۲؎، وقال تعالٰی اعدت للذین اٰمنوا باﷲ ورسلہ۳؎، وقال تعالٰی لقد ارسلنا رسلنا بالبینٰت، وقال تعالٰی کتب اﷲ لاغلبن اناورسلی۴؎، وقال تعالٰی واذاالرسل اقتت لای یوم اجلت۶؎۔ الی غیر ذلک من آیات کثیرۃ۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: بیشک ضرور ہم اپنے رسولوں کی مدد کریں گےا ور ایمان والوں کی۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اور وہ جو اﷲ اور اس کے سب رسولوں پر ایمان لائیں وہی ہیں کامل سچے۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: تیار ہوئی ہے ان کے لئے جو اﷲ اور اس کے سب رسولوں پر ایمان لائے۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: بیشک ہم نے اپنے رسولوں کو دلیلوں کے ساتھ بھیجا۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اﷲ لکھ چکا کہ ضرور غالب آؤں گا اور میرے رسول۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اور جب رسولوں کا وقت آئے کس دن کے لئے ٹھہرائے گئے تھے۔ اسی طرح دیگر کثیر آیات ہیں۔(ت)
    (۱؎ القرآن الکریم ۴۰/ ۵۱ ) (۲؎ القرآن الکریم ۵۷/ ۱۹) (۳؎ القرآن الکریم ۵۷/ ۲۱) ( ۴؎ القرآن الکریم ۵۷/ ۲۵)(۵؎ القرآن الکریم ۵۸/ ۲۱) ( ۶؎ القرآن الکریم ۷۷/ ۱۲۔۱۱)
    (۳) یاملحوظ بوصف قبلیت یعنی انبیائے سابقین علی نبینا علیہم الصلوٰۃ والسلام مثل قولہ تعالٰی: وماارسلنامن قبلک الارجالا نوحی الیھم من اھل القرٰی۷؎، وقال تعالٰی وماارسلنا من قبلک من المرسلین الاانھم لیاکلون الطعام۸؎، وقال تعالٰی سنۃ اﷲ فی الذین خلوامن قبل وکان امراﷲ قدرامقدوراہ الذین یبلغون رسٰلت اﷲ۹؎، وقال تعالٰی و لقد اوحی الیک والی الذین من قبلک۱؎، وقال تعالٰی مایقال لک الاماقد قیل للرسل من قبلک۲؎، وقال تعالٰی کذٰلک یوحی الیک والی الذین من قبلک اﷲ العزیز الحکیم۳؎، وقال تعالٰی واسئل من ارسلنا من قبلک من رسلنا۴؎۔ وغیرذٰلک۔ اور ہم نے تم سے پہلے جتنے رسول بھیجے سب مرد ہی تھے جنہیں ہم وحی کرتے اور سب شہر کے ساکن تھے۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اور ہم نے تم سے پہلے جتنے رسول بھیجے سب ایسے ہی تھے کھانا کھاتے۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اﷲ کا دستور چلا آرہا ہے ان میں جو پہلے گزرچکے اور اﷲ کا کام مقرر تقریر ہے وہ جو اﷲ کے پیام پہنچاتے۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا:اور بیشک وحی کی گئی تمہاری طرف اور تم سے اگلوں کی طرف۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: تم سے نہ فرمایا جائیگا مگر وہی جو تم سے اگلے رسولوں کو فرمایا گیا۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: یونہی وحی فرماتا ہے تمہاری طرف اور تم سے اگلوں کی طرف اﷲ عزت وحکمت والا۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اور ان سے پوچھو جو ہم نے تم سے پہلے رسول بھیجے۔ وغیر ذلک۔
    (۷؎ القرآن الکریم ۱۲/ ۱۰۹ ) (۸؎ القرآن الکریم ۲۵/ ۲۰) (۹؎ القرآن الکریم ۳۳/ ۳۹۔۳۸)(۱؎ القرآن الکریم ۳۹/ ۶۵ ) (۲؎ القرآن الکریم ۴۱/ ۴۲) (۳؎ القرآن الکریم ۴۲/ ۳ ) (۴؎ القرآن الکریم ۴۳/ ۴۵)
    (۴) یا برسبیل معنی جنسی شامل فردو جمع بے لحاط خاص خصوص وشمول مثل قولہ تعالٰی: من کان عدواﷲ وملٰئکتہ ورسلہ۵؎ وقولہ تعالٰی ان الذین یکفرون باٰیت اﷲ ویقتلون النبیین بغیر حق ویقتلون الذین یامرون بالقسط من الناس فبشرھم بعذاب الیم۶؎، وقولہ تعالٰی ولایأمرکم ان تتخذواالملٰئکۃ والنبیین اربابا۷؎،وقولہ تعالٰی ومن یکفر باﷲ وملٰئکتہ وکتبہ ورسلہ والیوم الاٰخر فقد ضل ضلٰلا بعیدا۸؎، وقولہ تعالٰی ان الذین یکفرون باﷲ ورسلہ ویریدون ان یفرقوا۹؎بین اﷲ ورسلہ(الٰی قولہ تعالٰی)اولٰئک ھم الکفرون حقا وغیرہا۱؎۔ جو کوئی شخص دشمن ہو اﷲ اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں کا۔ اوراﷲ تعالٰی نے فرمایا: وہ جو اﷲ کی آیتوں سے منکر ہوتے اور پیغمبروں کو ناحق شہید کرتے اور انصاف کا حکم کرنے والوں کو قتل کرتے ہیں انہیں خوشخبری دو درد ناک عذاب کی۔ اوراﷲ تعالٰی نے فرمایا:اور نہ تمھیں یہ حکم دے گا کہ فرشتوں اور پیغمبروں کو خدا ٹہہرالو ۔ اوراﷲ تعالٰی نے فرمایا: اور جو نہ مانے اﷲ اور اس کے فرشتوں اور کتابوں اور رسولوں اور قیامت کو تو وہ ضرور دور کی گمراہی میں پڑا۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: وہ جو اﷲ اور اس کے رسولوں کو نہیں مانتے اور چاہتے ہیں کہ اﷲ سے اس کے رسولوں کو جدا کردیں(الی قولہ تعالٰی) یہی ہیں ٹھیک ٹھیک کافر وغیرہا۔
    (۵؎ القرآن الکریم ۲/ ۹۸) ( ۶؎ القرآن الکریم ۳/ ۲۱) (۷؎ القرآن الکریم۳/ ۸۰) ( ۸؎ القرآن الکریم ۴/ ۱۳۶)(۹؎ القرآن الکریم ۴/ ۱۵۰)(۱؎ القرآن الکریم۴/ ۱۵۱)
    (۵) یا خاص خاص جماعت خواہ اس کا خصوص کسی وصف یا اضافت یا اور وجوہ بیان سے نفس کلام میں مذکور اور اس سے مستفاد ہو، مثل قولہ تعالٰی: ولقد اٰتینا موسی الکتٰب وقفینا من بعدہ الرسل۲؎، وقال تعالٰی فی بنی اسرائیل: ولقد جاءتھم رسلنا بالبینٰت۳؎، وقال تعالٰی فی التوراۃ: یحکم بھا النبیون الذین اسلمواللذین ھادوا۴؎، وقال تعالٰی ماذکرنوحا ثم رسولا اٰخر: ثم ارسلنا رسلنا تترا۵؎، ثم قال: ثم ارسلنا موسی ،وقال تعالی :انا اوحینا الیک کما اوحینا الی نوح والنبیین من بعدہ۶؎، فالمراد من بین ھودوموسٰی علیہم الصلٰوۃ والسلام، وقال تعالٰی: فقل انذرتکم صعقۃ مثل صعقۃ عاد وثمود، اذجاءتھم الرسل من بین ایدیھم ومن خلفھم۷؎،وقال تعالٰی بعد ذکر نوح وابراھیم:ثم قفینا علٰی اٰثارھم برسلنا۱؎۔ اور بیشک ہم نے موسی کو کتاب عطا کی اور اس کے بعد پے در پے رسول بھیجے۔ اوراﷲ تعالٰی نے بنی اسرائیل کے بارے میں فرمایا: اور بیشک ان کے پاس ہمارے رسول روشن دلیلوں کے ساتھ آئے۔ اور اﷲ تعالٰی نے توراۃ میں فرمایا: اس کے مطابق یہود کو حکم دیتے تھے ہمارے فرمانبردار نبی۔ اور اﷲ تعالٰی نے نوح علیہ السلام پھر ایک اوررسول کے ذکر کے بعد فرمایا پھر ہم نے اپنے رسول بھیجے ایک پیچھے دوسرا۔ پھر فرمایا: ہم نے موسی کو بھیجا ۔اور اللہ تعالی نے فرمایا : بیشک اے محبوب ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی ا ن سے ہود اور موسٰی کے درمیان والے نبی علیہم الصلوۃ والسلام مراد ہیں اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: تو تم فرماؤ کہ میں تمہیں ڈراتا ہوں ایک کڑک سے جیسی کڑک عاد وثمود پر آئی تھی۔ جب رسول ان کے آگے پیچھے پھرتے تھے۔ اور اﷲ تعالٰی نے نوح اور ابراہیم کے ذکر کے بعد فرمایا: پھر ہم نے ان کے پیچھے اسی راہ پر اپنے اور رسول بھیجے۔(ت)
    ( ۲؎القرآن الکریم ۵/ ۳۳) (۳؎ القرآن الکریم ۵/ ۴۴ ) ( ۴؎ القرآن الکریم ۲۳/ ۴۴)(۵؎ القرآن الکریم ۲۳/ ۴۵) ( ۶؎القرآن الکریم ۴/ ۱۶۳)(۷؎القرآن الکریم ۴۱/ ۱۳و۱۴) (۱؎ القرآن الکریم ۵۷/ ۲۷ )
    یابوجہ عہد حضوری مثل قولہ تعالٰی: قال یقوم اتبعواالمرسلین۲؎۔ بولااے میری قوم بھیجے ہوؤں کی پیروی کرو(ت) (۲؎القرآن الکریم ۳۶/ ۲۰)
    یا ذکری مثل قولہ تعالٰی: فی قوم نوح وھو دو صالح ولوط وشعیب بعد ماذکرھم علیھم الصلٰوۃ والسلام،تلک القری نقص علیک من انبائھا ولقد جاء تھم رسلھم بالبینٰت۳؎۔نوح، ہود، صالح، لوط اور شعیب علیہم الصلوٰۃ والسلام کی قوم کاذکر کرنے کے بعد: یہ بستیاں ہیں جن کے احوال ہم تمہیں سناتے ہیں اور بیشک ان کے پاس ان کے رسول روشن دلیلیں لے کر آئے(ت)(۳؎ القرآن الکریم ۷/ ۱۰۱)
    یا علمی مثل قولہ تعالٰی: واضرب لھم مثلا اصحٰب القریۃ اذجاء ھا المرسلون۴؎، وقال تعالٰی سنکتب ماقالوا وقتلھم الانبیاء بغیر حق۵؎، وغیرذٰلک۔ اور ان سے نشانیاں بیان کرو اس شہر والوں کی جب ان کے پاس فرستادے آئے۔ اب ہم لکھ رکھیں گے ان کا کہا اور انبیاء کو ان کا ناحق شہید کرنا، وغیرذلک(ت)( ۴؎ القرآن الکریم ۳۶/ ۱۳) (۵؎ القرآن الکریم ۳ /ا۸ا)
    اب اولا اگرآیہ کریمہ ولکن رسول اﷲ وخاتم النبیین۶؎ (اور ہاں اﷲ کے رسول ہیں اور سب نبیوں میں پیچھے۔ت)( ۶؎ القرآن الکریم ۳۳/ ۴۰)
    میں لام عہد خارجی کے لئے ہو جیسا کہ یہ طائفہ خارجیہ گمان کرتا ہے اور وہ یہاں نہیں مگر ذکر ی، اور ذکر کو دیکھ کر کہ اتنے وجوہ مختلفہ پر ہے اور ان میں صرف ایک وجہ وہ ہے ہے جو بداہۃًکلام کریمہ میں مراد ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتی، یعنی وجہ سوم کہ جب انبیاء موصوف بوصف قبلیت ومفید بقید سبقت لے گئے یعنی وہ انبیاء جو حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے پہلے ہیں تو اب حضور کو ان کا خاتم ان کا آخر ان سے زمانے میں متأخر کہنا محض لغو وفضول کلام مہمل ومعطل ومغسول ہوگا جس حاصل حمل اولیٰ بدیہی مثل زید زید سے زائد نہ ہوگا کہ جب ان کو حضور سے اگلا کہہ دیا حضور کا ان سے پچھلا ہونا آپ ہی معلوم ہوا۔
    اسے بالخصوص مقصود بالا فادہ رکھنا قرآن عظیم تو قرآن عظیم اصلاً کسی عاقل انسان کے کلام کے لائق نہیں، نہ کہ وہ بھی مقام مدح میں کہ
    ؎چشمانِ تو زیرابروانند
    دندانِ تو جملہ در دہانند
    (تمہاری آنکھیں زیرابرو ہیں اور دانت منہ کے اندر ہیں)
    سے بھی بدترحالت میں ہے کہ شعر نے کسی افادہ کی عبث تکرار نہ کی اور بات جو کہی وہ بھی واقعی تعریف کی تھی
    (تمہاری آنکھیں زیرابرو ہیں اور دانت منہ کے اندر ہیں)
    سے بھی بدترحالت میں ہے کہ شعر نے کسی افادہ کی عبث تکرار نہ کی اور بات جو کہی وہ بھی واقعی تعریف کی تھی۔
    احسن تقویم۱؎ (اچھی صورت۔ت)سے بعض اوضاع کا بیان ہے اسے مقام مدح میں یوں مہمل جانا گیا ہے کہ ایک عام مشترک بات کا ذکر کیا ہے بخلاف اس معنی کے کہ اس میں صراحۃًعبث موجود اور معنی مدح بھی مفقود، اور پھر عموم واشتراک بھی نقد وقت کہ ہر شے اپنے اگلے سے پچھلی ہوتی ہے غرض یہ وجہ تو یوں مندفع ہوجائے گی کہ اصلا محلِ افادہ وصالح ارادہ نہیں،(۱؎ القرآن الکریم۹۵/ ۴)
  3. ‏ اگست 31, 2014 #3
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    اور اس طائفہ خارجیہ کے طور پر وجہ دوم کو بھی نامحتمل مان لیجئے پھر بھی اول وچہارم و پنجم سب محتمل رہیں گی اور پنجم میں خود وجوہ کثیر ہیں، کہیں "من بعد موسٰی"،کہیں "من بعد نوح"،کہیں انبیائے اسرائیل، کہیں"من بعد ھود وموسٰی"،کہیں صرف انبیائے عاد ثمود، کہیں انبیائے قوم نوح وعاد وثمود، کہیں "من بعد ابراہیم قوم لوط و مدین" وغیرذلک، بہر حال ذکر وجوہ کثیرہ مختلفہ پر آیا ہے اور یہاں کوئی قرینہ وبینہ نہیں کہ ان میں ایک وجہ کی تعیین کرے تو معلوم نہیں ہوسکتا کہ کون سے مذکور کی طرف اشارہ ہوا، پھر عہد کہاں رہا، سرے سے عہد کا مبنٰی ہی کہ تعین ہے منہدم ہوگیا کہ اختلاف وتنوع مطلقاً منافی تعین، نہ کہ اتنا کثیر، پھر عہدیت کیونکر ممکن۔
    ثانیاً جب کہ اتنی وجوہ کثیرہ محتمل اور قرآن عظیم نے کوئی وجہ بیان نہ فرمائی، حدیث کا بیان صحیح تو وہی عموم واستغراق ہے کہ لانبی بعدی۲؎(میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔ت) کما سیأتی۔(۲؎ صحیح البخاری باب ماذکر عن بنی اسرائیل قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۹۱)
    اس تقدیر پر جب اشارہ ذکر استغراق کی طرف ٹھہرا عہدواستغراق کا حاصل ایک ہوگیا اور وہی احاطہ تامہ کہ معتقد اور وہی منقطع ہوکر متشابہات سے ہوگئی، اب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو خاتم النبیین کہنا محض اقرار لفظ بے فہم معنی رہ گیا جس کی مراد کچھ معلوم نہیں، کوئی کافر خود زمانہ اقدس حضور پر نور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم میں کتنے ہی انبیاء مانے، حضور کے بعد ہر قرن وطبقہ و شہر وقریہ میں ہزار ہزار اشخاص کو نبی جانے خود اپنے آپ کو رسول اﷲ کہے، اپنے استاذوں کو مرسلین اولوالعزم بتائے، آیہ کریمہ اس کا بال بیکا نہیں کرسکتی کہ آیت کے معنی ہی معلوم نہیں جس سے حجت قائم ہوسکے، کیا کوئی مسلمان ایسا خیال کرے گا،حاشا وکلا۔
    ثالثاً میں تکثر وتزاحم معانی پر کیوں بنا کروں، سوائے استغراق کو ئی معنی لے لیجئے سب پر یہی آش درکاسہ رہے گی کہ پچھلی جھوٹی کاذبہ ملعونہ نبوتوں کا درآیت بند نہ کرسکے گی، معنی اول یعنی افراد مخصوصہ معینہ مراد لئے تو نبی صلی اﷲ اتعالٰی علیہ وسلم انہیں معدود انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے خاتم ٹھہرے جن کا نام یا ذکر معین علی وجہ الابہام قرآن مجید میں آگیا ہے جن کا شمار تیس چالیس نبی تک بھی نہ پہنچے گا، یونہی برتقدیر معنی پنجم یعنی جماعات خاصہ خاص اپنی جماعت کے خاتم ٹھہریں گے، باقی جماعات صادقہ سابقہ کے لئے بھی خاتمیت ثابت نہ ہوگی، چہ جائے جماعات کاذبہ آئندہ اور معنی سوم میں صاف تخصیص انبیائے سابقین کے بھی ہو جائے گی کہ جو نبی پہلے گزر چکے ان کے خاتم ہیں تو پچھلوں کی کیا بندش ہوئی بلکہ پیچھے اور آئے تو وہ ان کے بھی خاتم ہوں گے، رہے معنی چہارم جنسی اس میں جمیع مراد لینا اس طائفہ کو منظور نہیں ورنہ وہی ختم الشیئ لنفسہ لازم آئے ، لاجرم مطلقاً کسی ایک فرد کے اختتام سے بھی خاتمیت صادق مانے گا کہ صدق علی الجنس کے لئے ایک فرد پر صدق کا ہے تو یہ سب معانی سے اخس وارذل ہوا اور حاصل وہی ٹھہرا کہ آیت بہر نہج فقط ایک دو یا چند یا کل گزشتہ پیغمبروں کی نسبت صرف اتنا تاریخی واقعہ بتاتی ہے کہ ان کا زمانہ ان کے زمانے سے پہلے تھا، اس سے زیادہ آئندہ نبوتوں کا وہ کچھ نہیں بگاڑسکتی، نہ ان سے اصلاً بحث کرتی ہے، طوائف ملعونہ مہدویہ وقادیانیہ وامیریہ ونذیریہ ونانوتویہ وامثالہم لعنہم اﷲ تعالٰی کا یہی تو مقصود تھا، وہ اس طائفہ خارجیہ نے جی کھو ل کر اٰمنا بہ کرلیا۔وسیعلم الذین ظلمواای منقلب ینقلبون۱؎ (اور اب جانا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔ت)(۱؎القرآن الکریم ۲۶/ ۲۲۷)
    اصل بات یہ ہے کہ معانی قطعیہ جو تمام مسلمین میں ضروریات دین سے ہوں جب ان پر نصوص قطعیہ پیش نہ کئے جائیں تو مسلمانوں کو احمق بنالینا اور معتقدات اسلام کو مخیلات(عہ۱) عوام ٹھہرادینا ایسے خبثا کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے اور نصوص میں احادیث پر نہ عام لوگوں کی نظر نہ ان کے جمع طرق وادراک تواتر پر دسترس، وہاں ایک ہش میں کام نکل جاتا ہے کہ یہ باب عقائد ہے، اس میں بخاری ومسلم(عہ۱)کی بھی صحیح احادیثیں مردود ہیں، ہاں ایسی جگہ ان ہیے کے اندھوں کی کچھ کو رد بتی ہے تو قرآن عظیم سے بغرض تلبیس عوام، برائے(عہ۲) نام اسلام کا ادعاہوکر ، قرآن پر صراحۃً انکار کا ٹٹوخردرگل ہے، لہذا وہاں تحریف معنوی کے چال چلتے اور کلام اﷲ کو الٹتے بدلتے ہیں کہ جب آیت سے مسلمانوں کو ہاتھ خالی کرلیں پھر گونہ وحی شیطانی کا رستہ کھل جائے گا۔واﷲ متم نورہ ولوکرہ الکافرون۱؎ (اور اﷲ کو اپنا نور پوراکرنا ہے اگرچہ برامانیں کافر۔ت) (۱؎القرآن لاکریم۶۱/ ۸) عہ۱: دیکھو تخدیر الناس۔ عہ۱: دیکھو براہین قاطعہ گنگوہی عہ۲:دیکھو تحذیر الناس

    سوم یعنی اس طائفہ کا مکذب تفسیر حضور سید المرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہونا وہ ہرادنی خادم حدیث پر روشن یہاں اجمالی دو حرف ذکر کریں، صحیح مسلم شریف ومسند امام احمد وسنن ابوداؤد و جامع ترمذی وسنن ابن ماجہ وغیرہا میں ثوبان رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:انہ سیکون فی امتی کذابون ثلٰثون کلھم یزعم انہ نبی وانا خاتم النبیین لانبی بعدی۲؎۔ بیشک میری امت دعوت میں یا میری امت کے زمانے میں تیس کذاب ہوں گے کہ ہر ایک اپنے آپ کو نبی کہے گا اور میں خاتم النبیین ہوں کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔(۲؎ جامع ترمذی ابواب الفتن باب ماجاء لاتقوم الساعۃ حتے یخرج کذابون امین کمپنی دہلی ۲/ ۴۵)
    امام احمد مسند اور طبرانی معجم کبیر اور ضیائے مقدسی صحیح مختارہ میں حذیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی،رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: یکون فی امتی کذابون ودجالون سبعۃ وعشرون من ھم اربعۃ نسوۃ وانی خاتم النبیین لانبی بعدی۳؎۔ میری امت دعوت میں ستائیس دجال کذاب ہونگے ان میں چار عورتیں ہوں گی حالانکہ بیشک میں خاتم النبیین ہوں کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔(۳؎المعجم الکبیر للطبرانی ترجمہ حذیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ حدیث ۳۰۲۶ مکتبہ فیصلیہ بیروت ۳/ ۱۷۰)
    صحیح بخاری وصحیح مسلم و سنن ترمذی وتفسیر ابن ابی حاتم وتفسیر ابن مردود یہ میں جابر رضی اﷲ عنہ سے ہے ،رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: مثلی ومثل الانبیاء کمثل رجل ابتنی دارا فاکملھا واحسنھا الاموضع لبنۃ فکان من دخلہا فنظر الیہا قال مااحسنھا الاموضع اللبنۃ فانا موضع اللبنۃ فختم بی الانبیاء۱؎۔ میری اور نبیوں کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے ایک مکان پور ا کامل اور خوبصورت بنایا مگر ایک اینٹ کی جگہ خالی تھی تو جو اس گھر میں جاکر دیکھتا کہتا یہ مکان کس قدر خوب ہے مگر ایک اینٹ کی جگہ کہ وہ خالی ہے تو اس اینٹ کی جگہ میں ہوا مجھ سے انبیاء ختم کردئے گئے۔(۱؎ صحیح مسلم کتاب الفضائل باب ذکر کون النبی صلی اﷲ علیہ وسلم خاتم النبیین قدیمی کتب خانہ کراچی۲/ ۲۴۸)(صحیح البخاری کتاب المناقب باب خاتم النبیین قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۰۱)
    صحیح مسلم ومسنداحمد ابو سعید خدری رضی ا ﷲ تعالٰی عنہ سے ہے، رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں : مثلی ومثل النبیین من قبلی کمثل رجل بنی دارافاتمھا الالبنۃ واحدۃ فجئت انا فاتممت تلک اللبنۃ۲؎۔ میری اور سابقہ انبیاء کی مثل اس شخص کی مانند ہے جس نے سارا مکان پورا بنایا سوا ایک اینٹ کے، تو میں تشریف فرماہوا اور وہ اینٹ میں نے پوری کی۔(۲؎ مسند امام احمد حدیث ابو سعید خدری رضی اﷲ عنہ دارالفکر بیروت ۳/ ۹)
    مسند احمد وصحیح ترمذی میں بافادہ تصحیح ابی بن کعب رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ہے، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: مثلی فی النبیین کمثل رجل بنی دارا فاحسنھا واکملھا واجملھا وترک فیھا موضع لبنۃ لم یضعھا فجعل الناس یطوفون بالبنیان ویعجبون منہ ویقولون لو تم موضع ھذہ اللبنۃ فانافی النبیین موضع تلک اللبنۃ۳؎۔ پیغمبروں میں میری مثال ایسی ہے کہ کسی نے ایک مکان خوبصورت و کامل وخوشنما بنایا اور ایک اینٹ کی جگہ چھوڑدی وہ نہ رکھی لوگ اس عمارت کے گرد پھرتے اور اس کی خوبی و خوشنمائی سے تعجب کرتے اور تمنا کرتے کسی طرح اس اینٹ کی جگہ پوری ہوجاتی تو انبیاء میں اس اینٹ کی جگہ میں ہوں۔(۳؎ جامع ترمذی ابواب المناقب باب ماجاء فضل النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۳۰۱)
    صحیح بخاری وصحیح مسلم وسنن النسائی وتفسیر ابن مردویہ میں ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے ہے، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے یہی مثل بیان کرکے ارشاد فرمایا: فانااللبنۃ وانا خاتم النبیین۱؎۔ تومیں وہ اینٹ ہوں اور خاتم النبیین ہوں ، صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اجمعین وبارک وسلم۔(۱؎ صحیح مسلم کتاب الفضائل باب ذکر کون النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم خاتم النبیین قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۴۸)
    چہارم کا بیان اوپر گزرا ، پنجم سے طائفہ کی گمراہی بھی واضح ہوچکی کہ تفسیر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا رد کرنے والا اجماعی قطعی امت مرحومہ کا خلاف کرنے والا سواگمراہ بددین ہونے کے کون ہوگا۔
    قولہ ماتولی ونصلہ جہنم وساءت مصیرا۲؎۔ ہم اسے اس کے حال پر چھوردیں گے اور اسے دوزخ میں داخل کریں گے اور کیا ہی بری جگہ ہے پلٹنے کی۔(ت) (۲؎ القرآن الکریم ۴/ ۱۱۵)
    رہی بدعقلی وہ اس کے ان شبہات واہیات، خرافات، مزخرفات کی ایک ایک ادا سے ٹپک رہی ہے جو اس نے اثبات ادعائے باطل''عہد خارجی'' کے لئے پیش کئے اہلِ علم کے سامنے ایسے مہملات کیا قابل التفات، مگر حفظ عوام وازالہ اوہام کے لئے چند حروف مجمل کا ذکر مناسب۔واﷲ الھادی وولی الایادی (اور اﷲ تعالٰی ہی ہدایت دینے والا اور طاقتوں کا مالک ہے۔ت)
    شبہہ اولٰی میں اس طائفہ نے عبارت توضیح کی طرف محض غلط نسبت کی حالانکہ توضیح میں اس عبارت کا نشان نہیں بلکہ وہ اسکے حاشیہ تلویح کی ہے،
    اقول اولاً اگریہ مدعیان عقل اسی اپنی ہی نقل کی ہوئی عبارت کو سمجھتے اور قرآن عظیم میں انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے وجوہ ذکر کو دیکھتے تو یقین کرتے کہ آیہ کریمہ ولکن رسول اﷲ وخاتم النبیین۳؎(اور لیکن آپ اﷲکے رسول اور انبیاء میں سے آخری ہیں۔ت) میں لام عہد خارجی کے لئے ہونا محال ہے کہ بوجہ تنوع وجوہ ذکر وعدم اولیت وترجیح جس کا بیان مشرحاً گزرا ، کمال تمیز جداسرے سے کسی وجہ معین کا امتیاز ہی نہ رہا تو یہی عبارت شاہد ہے کہ یہاں''عہدخارجی'' ناممکن، کاش مکر کے لئے بھی کچھ عقل ہوتی اصلی تو اس کی جگہ توضیح ہی کی گول عبارت العھد ھوالاصل ثم الاستغراق ثم تعریف الطبیعۃ۴؎ ۔(عہد اصلی ہے پھر استغراق اور پھر جنس۔ت) کی نقل ہوتی کہ خود نفس عبارت تو ان کی جہالت و سفاہت پر شہادت نہ دیتی اگرچہ اس سے دو ہی سطر پہلے اسی توضیح میں متن تنقیح کی عبارت
    ولابعض الافراد لعدم الاولیۃ۱؎ (اور نہ بعض افراد کیونکہ اولٰی نہیں۔ت) اس کی صفراشکنی کو بس ہوتی مگر یہ کیونکر کھلتا کہ طائفہ حائفہ کو دوست و دشمن میں تمیز نہیں صریح مضر کو نافع سمجھتاہے لہذا نام تو لیا توضیح کا اور برائے بد قسمتی عبارت نقل کر دی تلویح کی ،جس میں صاف صریح ان عقلاء کی تسفیہ اور ان کے وہم کا سد کی تقبیح تھی، ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
    ( ۳؎ القرآن الکریم ۳۳/ ۴۰)(۴؎ توضیع علی التنقیح الفاظ العام الجمع معرف باللام المکتبۃ الرحیمیہ دیوبند سہارنپور بھارت ۱/ ۱۴۵)(۱؎ توضیح علی التنقیح الفاظ العام الجمع معرف باللام المکتبۃ الرحیمیہ دیوبند سہارنپور بھارت ۱/ ۱۴۷)
    ثانیاً توضیح کا مطلب سمجھنا تو بڑی بات،خودا پنی ہی لکھا نہ سمجھا کہ جب عہد خارجی سے معنی درست ہو تو استغراق وغیرہ معتبر نہ ہوگا۔ ہم اوپر واضح کرآئے کہ عہد خارجی مزعوم طائفہ خارجیہ سے معنی درست نہیں ہوسکتے، آیہ کریمہ قطعاً آئندہ نبوتوں کا دروازہ بند فرماتی ہے، رسول اﷲ صلی ا ﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے یہی معنی اس کے بیان فرمائے، تمام امت نے سلفاً وخلفاً اس کے یہی معنی سمجھے اور اس عہد خارجی پر آیت کو اس سے کچھ مس نہیں رہتا تو واجب ہے کہ استغراق مراد ہو،
    اسی تلویح میں اسی عبارت منقولہ طائفہ کے متصل ہے، ثم الاستغراق الی ان قال فالاستغراق ھو المفھوم من الاطلاق حیث لاعھد فی الخارج خصوصا فی الجمع الٰی قولہ ھذا ماعلیہ المحققون۲؎۔ پھر استغراق (تا)اطلاق سے استغراق مفہوم ہوتا ہے جہاں عہد خارجی نہ ہو خصوصا جمع میں (تا) محققین کی یہی رائے ہے(ت)(۲؎ توضیح علی التنقیح الفاظ العام الجمع معرف باللام المکتبۃ الرحیمیہ دیوبند سہارنپور بھارت ۱/ ۱۵۰)
    ثالثاً بہت اچھا اگرفرض کریں کہ لام عہد خارجی کے لئے ہے تو اس سے بھی قطعاً یقینا استغراق ہی ثابت ہوگا کہ وجوہ خمسہ سے اول وسوم وپنجم کا بطلان تو دلائل قاہرہ سے اوپر ثابت ہولیا اور واضح ہوچکا کہ خود جن سے کلام الٰہی کا اولاً واصالۃً خطاب تھا یعنی حضور پر نور سید یوم النشور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ، انہو ں نے ہرگز اس آیت سے صرف بعض افراد معینہ یا کسی جماعت خاصہ کو نہ سمجھا اب نہ رہیں، مگر وجہ دوم و چہارم یعنی وہ جو قرآن عظیم میں بروجہ اکثر واوفر ذکر انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام بروجہ عموم واستغراق تام ہے اسی وجہ معہود کی طرف لام النبیین مشیر ہے تو اس عہد کاحاصل بحمد اﷲ تعالٰی وہی استغراق کامل جو مسلمانوں کا عقیدہ ایمانیہ ہے یاذکر جنسی کی طرف اشارہ ہے اور ختم کا حاصل نفی معیت وبعدیت ہے، جیسے اولویت بمعنی نفی معیت وقبلیت تعریفات علامہ سید شریف قدس سرہ الشریف میں ہے: الاول فرد لایکون غیرہ من جنسہ سابق علیہ ولامقارنالہ۱؎۔ اول فرد ہے کیونکہ اس کا کوئی ہم جنس اس سے پہلے نہیں اور نہ اس کے ساتھ متصل ہے (ت)(۱؎ التعریفات باب الالف انتشارات ناصر خسر وایران ص۱۷)
    حدیث شریف میں ہے: انت الاول فلیس قبلک شیئ وانت الاٰخر فلیس بعدک شیئ۲؎، رواہ مسلم فی صحیحہ والترمذی واحمد وابن ابی شیبۃ وغیرہم عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم وللبیھقی فی الاسماء والصفات عن ام سلمۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہا عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انہ کان یدعو بھٰؤلاء الکلمات اللھم انت الاول فلاشیئ قبلک وانت الاٰخر فلاشیئ بعدک۳؎۔ تو اول ہے تجھ سے پہلے کوئی شیئ نہیں، اور تو آخر میں ہے تیرے بعد کوئی شیئ نہیں، اسے مسلم نے اپنی صحیح میں ،ترمذی، امام احمد اور ابن ابی شیبہ وغیرہم نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے انہوں نے نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ امام بیہقی نے ا لاسماء و الصفات میں حضرت ام سلمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے کہ آپ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم ان کلمات کے ساتھ دعا فرمایا کرتے ، اے اﷲ!تو اول ہے تجھ سے پہلے کوئی شیئ نہیں اور تو آخر ہے تیرے بعدکوئی شیئ نہیں(ت) (۲؎ صحیح مسلم کتاب الذکر والدعاء باب الدعاء عندالنوم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۴۸)(مصنف ابن ابی شیبہ کتاب الدعاء حدیث ۹۳۶۲ ادارۃ القرآن کراچی ۱۰/ ۲۵۱) (۳؎ الاسماء والصفات للبیہقی مع فرقان القرآن باب ذکر اسماء التی تتبع اثبات الباری الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ص۱۰)
    تو خاتم النبیین کا حاصل ہمارے حضور پر نورصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کے ساتھ اور بعد جنس نبی کی نفی ہوئی اور جنس کی نفی عرفاًولغۃً وشرعاً افراد ہی سے ہوتی ہے ولہذا لائے نفی جنس صیغ عموم سے ہے جیسے لارجل فی الدار ولہذا لاالٰہ الااﷲ
    ہر غیر خدا سے نفی الوہیت کرتا ہے، یوں بھی استغراق ہی ثابت ہوا، وﷲ الحمد۔(نامکمل دستیاب ہوا)
  4. ‏ ستمبر 1, 2014 #4
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    مسئلہ۹۵:از ریاست نانپارہ بازار چوک بساط خانہ دکان حاجی الٰہی بخش بہرائچی مرسلہ حافظ عبدالرزاق امام مسجد ۳ربیع الاول ۱۳۳۸ھ
    کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ضلع بارہ بنکی میں چندروز سے ایک گروہ پیدا ہوا ہے جس کا نام کبیر پنتھی ہے، یہ لوگ اﷲ تعالٰی کوصاحب اور دعوت کو ہندوؤں کی طرح بھنڈا رہ کہتے ہیں، نماز روزہ سے بالکل منکر ہیں اور روزہ داروں اور نمازیوں کو برا کہتے اور ان پر طعن تشنیع کرتے ہیں، گوشت کھانا بالکل حرام جانتے اور قربانی ہر جانور کی بہت سخت ظلم کہتے ہیں، موضع صورت گنج تحصیل فتح پور ضلع بارہ بنکی نواب گنج میں فقیرے تیلی کبیر پنتھی نے برادری کی دعوت کی اور اپنی حیثیت کے موافق کھانا پکوایا ، گوشت کی جگہ کٹہل پکوایا گیا، برادری والوں نے کہا ہم گوشت کھائیں گے، تو اس نے کہا ہمارے گروجی گوشت نہیں کھاتے تھے، چاہے جان جاتی رہے گردن کٹ جائے، مگر ہم گوشت نہ دیں گے، لوگوں نے کہاکہ چاہے سیر آدھ سیر ہی گوشت ہو مگر ہم بلا گوشت کھانا نہ کھائیں گے۔ فقیر ے نے کہا کہ ہم آپ لوگوں سے خدا کے واسطے ایک چیز مانگتے ہیں ہم کو ﷲ معاف کردو، برادری والوں نے کہا کہ اگر تم ہم سے گوشت ﷲ معاف کراتے ہوتو تمام کھانا ہم ﷲ معاف کئے دیتے ہیں اورآدھے آدمی اٹھ کر پانچو تیلی کے مکان پر چلے آئے اور آدھے اسی کے مکان پر رہ گئے، لیکن کھانا کسی نے نہیں کھایا پانچوتیلی گوشت کھاتا ہے اور نماز بھی پڑھتا ہے، اب دونوں قسم کے تیلیوں نے پانچو کا حقہ پانی بند کردیا ہے کہ اسی کی وجہ سے ہماری برادری میں پھوٹ پڑی، اس حالت میں عام مسلمانوں کو کبیر پنتھیوں سے میل جول، شادی بیاہ برادری سے رکھنا جائز ہے یانہیں؟اور شرعاً یہ لوگ کیسے ہیں جن لوگوں نے پانچو کا حقہ پانی اسی وجہ سے بندکیا ہے؟ان سے دوسروں کو کیسا برتاؤ کرنا چاہئے؟
    الجواب: نماز سے منکر کافرہے، روزہ سے منکر کافر ہے، جو نماز پڑھنے کو براکہے، نماز ی پر نماز پڑھنے کی وجہ سے طعن وتشنیع کرے کافر ہے، روزہ رکھنے جو برا کہے روزہ دار پر روزہ کی وجہ سے طعن کرے وہ کافر ہے گوشت کھانے کو مطلقاً حرام کہنا کفر ہے قربانی کو ظلم کہنے والا کافر ہے، ان اعتقادوں والے مطلقاً کفار ہیں۔ پھر اگر اس کے ساتھ اپنے آپ کو مسلمان کہتے یا کلمہ پڑھتے ہوں تو مرتد ہیں کہ دنیا میں سب سے بدتر کافر ہیں، ان سے میل جول حرام، ان کے پاس بیٹھنا حرام، بیمار پڑیں تو ان کو پوچھنے جانا حرام، مرجائیں تو ان کے جنازے کی نماز حرام، پانچوتیلی پر کوئی الزام نہیں، جنہوں نے اس بنا پر اس کا حقہ پانی بندکیاظالم ہیں ، ان پر لازم ہے کہ اپنے ظلم سے توبہ کریں، پانچو سے اپنا قصور معاف کرائیں، اگر یہ لوگ باز نہ آئیں تو مسلمان ان کو چھوڑدیں کہ ظالموں کا ساتھ دینے والا بھی ظالم ہے، یہ سب مضامین قرآن عظیم کی آیتوں اور حدیثوں سے ثابت ہیں جو بار ہاہمارے فتاوٰی میں مذکور ہیں ۔واﷲ تعالٰی اعلم

    مسئلہ۹۶: ازبیکانیر مارواڑ محلہ مہاوتان مرسلہ قاضی قمر الدین صاحب ۹ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
    کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک صاحب فرماتے ہیں کہ رسول خداخدا کے بندے نہیں ہیں اور آپ بشر بھی نہیں ہیں، اس پر ان سے پوچھا گیا کہ پھر کیا ہیں؟تو جوابدیا کہ میں اس معاملہ میں میں کچھ نہیں کہہ سکتا، اور یہ بھی ان سے پوچھا گیا کہ رات دن نماز میں قعدہ میں تم عبدہ ورسولہ پڑھتے ہو،یہ کیا ہے کیا اس کا ترجمہ ہوا ؟ تو کہا اس کا ترجمہ بندہ اور رسول کا ہو الیکن میں کچھ نہیں کہتا، حضور پر نور ایسے شخص کی بابت کیا حکم ہے؟ اور کیا یہ شخص اسلام سے خارج ہوگیاان کلمات کے باعث یانہیں ؟کیا کفر عائد اس پر ہوا یا نہیں؟ بینواتوجروا(بیان کرو اجرپائیے۔ت)
    الجواب: جو یہ کہے کہ رسول اﷲ صلی ا ﷲ تعالٰی اللہ کے بندے نہیں وہ قطعاً کافر ہے،
    اشھد ان محمد عبدہ ورسولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم، قال اﷲ تعالٰی وانہ لما قام عبداﷲ یدعوہ۱؎، وقال تعالٰی تبارک الذی نزل الفرقان علٰی عبدہ لیکون للعالمین نذیرا۲؎، وقال تعالٰی سبحٰن الذی اسرٰی بعبدہ۳؎، وقال تعالٰی وان کنتم فی ریب ممانزلنا علٰی عبدنا۴؎، وقال تعالٰی الحمد ﷲالذی انزل علی عبدہ الکتٰب۵؎، وقال تعالٰی فاوحٰی الٰی عبدہ مااوحٰیo۶؎ ۔۔میں گواہی دیتا ہوں بلاشبہہ حضرت محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اﷲ تعالٰی کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اور یہ کہ جب اﷲ کا بندہ ا س کی بندگی کرنے کھڑاہوا۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: بڑی برکت والا ہے وہ جس نے اتاراقرآن اپنے بندہ پر جو سارے جہان کوڈر سنانے والاہو۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے کو سیر کرائی اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا : اور اگر تمہیں کچھ شک ہو اس میں جو ہم نے اپنے (ان خاص) بندے پر اتارا۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: سب خوبیاں اﷲ کو جس نے اپنے بندے پر کتاب اتاری۔ اور اﷲتعالٰی نے فرمایا: اب وحی فرمائی اپنے بندے کو جو وحی فرمائی۔(ت) (۱؎ القرآن الکریم ۷۲/ ۱۹ ) (۲؎ القرآن الکریم ۲۵ / ۱) (۳؎ القرآن الکریم ۱۷/ ۱ ) (۴؎القرآن الکریم ۲ / ۲۳)(۵؎ القرآن الکریم ۱۸/ ۱ ) ( ۶؎ القرآن الکریم ۵۳/ ۱۰)
    اور جو یہ کہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی صورت ظاہری بشری ہے حقیقت باطنی بشریت سے ارفع واعلٰی ہے یا یہ کہ حضور اوروں کی مثل بشر نہیں وہ سچ کہتا ہے اور جو مطلقاً حضور سے بشریت کی نفی کر ے وہ کافرہے،قال تعالٰی قل سبحٰن ربی ھل کنت الا بشرارسولا۱؎۔واﷲتعالٰی اعلم۔ (۱؎ القرآن الکریم ۱۷/ ۹۳)
    اﷲ تعالٰی نے فرمایا: تم فرماؤ پاکی ہے میرے رب کو میں کون ہوں مگر آدمی اﷲ کا بھیجا ہوا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)

    مسئلہ۹۷:ازخان پور سیدواڑہ احمد آباد مرسلہ منشی ایچ ڈی۔
    کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ''ذوالنورالحق المبین''چھاپی ہے شیخ البواہر نے وہ سنیوں کے لئے کیسی ہے؟مہربانی کرکے اس کا جلدی جواب دیجئے۔
    الجواب: وہ کتاب مذہب اہلسنت کے خلاف ہے بلکہ اس میں خود اسلام کی بھی مخالفت ہے، اس کا دیکھنا، پڑھنا، سننا حرام ہے،
    الالعالم یرید ان یرد علیہ اویکشف مافیہ من کفر وضلال۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ ہاں جو عالم اس کا مطالعہ کرے اس کی تردید کے لئے یا اس میں جو کفر بیان ہو اس کے انکشاف کے لئے تو اس کے لئے پڑھنا دیکھنا حرام نہیں ، وا ﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)

    مسئلہ ۹۸:ازشہر بریلی محلہ بہاری پور مسئولہ عنایت حسین صاحب۳جمادی الاولٰی۱۳۳۸ھ
    کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے اپنی برادری کے آدمیوں کے سامنے اشرف علی تھانوی کو کافر کہا اور یہ بھی کہا کہ جو شخص اس کو کافر نہ مانے وہ بھی کافر ہے، لہذا اس باعث سے اشرف علی کو کافر کہا کہ اس پر کفر کا فتوٰی دیا گیا ہے، اس شخص کو بوجہ کافر کہنے کے برادری سے علیحدہ کردیا جس آدمی نے اشرف علی کو کافر کہا اس کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟
    الجواب: تمام علمائے حرمین شریفین نے اشرف علی تھانوی پر بھی فتوٰی دیاہے ''حسام الحرمین شریف'' بارہ برس سے چھپ کر شائع ہے، اس شخص نے سچ کہا اور اس پر اسے برادری سے خارج کرنا ظلم شدید ہوا ان لوگوں پر توبہ فرض ہے اور جو شخص تھانوی کے اقوال کفر سے آگاہ ہوکر ایسا کرے وہ خود ایمان سے خارج اور اس کی عورت اس کے نکاح باہر ہوگئی۔
    درمختار، مجمع الانہر، بزازیہ وشفاء شریف میں ہے: من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر۱؎،واﷲ تعالٰی اعلم۔ جس نے اس کے کفر وعذاب میں شک کیا اس نے کفر کیا۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت) (۱؎مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر فصل احکام الجزیہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۶۷۷)

    مسئلہ۹۹: ازکانپور محل فیل خانہ قدیم مرسلہ مولانا مولوی محمد آصف صاحب ۲۷جمادی الآخر۱۳۳۸ھ
    بفضلہ تعالٰی کمترین بخیریت ہے، صحتوری ملازمان سامی کی مدام بارگاہ احدیت سے مطلوب، دو عریضے ملفوف فدوی نے روانہ خدمت فیضد رجت کئے، ہنوز جواب سے محروم ہے۔ الٰہی مانعش بخیرباد۔
    حضور کے فتاوی جلد اول ص۱۹۱ میں خواتمی وہابی کے متعلق حاشیہ میں یہ عبارت ہے:''یہ شقی گروہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پر نبوت ختم ہونے کا صاف منکر ہے خاتم النبیین کے یہ معنی لینا تحریف کرنا اور بمعنی آخر النبیین لینے کوخیال جہال بتانا کہا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے چھ یا سات مثل وجود مانتا ہے''۔ اور کتاب حسام الحرمین میں بھی فرقہ امثالیہ کو مرتدین میں شمار کیا گیا ہے لیکن فتاوٰی بے نظیر درمعنی مثل آنحضرت بشیر ونذیر جو کہ عرصہ ہو امطبع اسدی میں حسب ایمائے محمد یعقوب صاحب منصرم مطبع نظامی طبع ہوا تھا اور بہت سے علمائے کرام کے فتوے اس میں درج کئے ہیں، حسب ذیل عبارت ہے:''ھوالعزیزقطع نظر اس کے کہ علمائے حدیث نے "ان اﷲ خلق سبع ارضین" میں ہر طرح کلام کیا بعد ثبوت رفع وتسلیم صحت متن واسناد مفید اعتقاد نہیں، بلکہ جس حالت میں مضمون اس کا دلالت آیات واحادیث صحیحہ وعقیدہ اہل حق کے خلاف ہے تو قطعاً متروک الظاہر واجب التاویل ہے، پس جو شخص اس حدیث سے وجود تحقق ومثال سرور عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پر استدلال کرے سخت جاہل اور معتقد فضیلت مثل آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بمعنی مشارکت فی الماہیت والصفات الکمالیہ مبتدع اور مخالف عقیدہ اہل سنت ہے، واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ اتم واحکم، اس عبارت کے حضور جناب والد ماجد صاحب قبلہ قدس سرہ کی نقل مہر طبع ہوئی ہے اور پھر حضور کی حسب ذیل عبارت بنقل مہر طبع کی گئی،والقائل بتحقق المثل اوالامثال بالمعنی المذکور فی السوال مبتدع ضال واﷲ اعلم بحقیقۃ الحال۔ جو شخص سوال میں مذکور معنی کے مطابق مثل یاامثال کے تحقق کا قائل ہے وہ بدعتی اور گمراہ ہے، اور اﷲ ہی حقیقت حال سے آگاہ ہے(ت)
    کون فرقہ امثالیہ مرتد ہے اور کون مبتدع؟آیا ان فرقوں کے عقائد میں اختلاف ہے یا کیا؟بینواتوجروا۔
    الجواب
    وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ، مبتدع ضال ایک لفظ عام ہے، کافرکو بھی شامل، کہ بدعت دوقسم ہے:
    (۱) مکفرہ(۲) غیر مکفرہ
    وقال تعالٰی واماان کان من المکذبین الضالین۱؎۔ اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اور اگر جھٹلانے والے گمراہوں میں سے ہوں۔(ت)(۱؎ القرآن الکریم ۵۶/ ۹۲)
    امام ابن حجر مکی نے بظاہر اس سے بھی ہلکے لفظ حرام کو کفر کہنے کے منافی نہ مانا۔
    اعلام بقواطع الاسلام میں فرمایا: عبارۃ الرافعی فی العزیز نقلا عن التتمۃ انہ اذا قال لمسلم یا کافر بلاتاویل اھ۲؎ وتبعہ النووی فی الروضۃ فان قلت قد خالف ذٰلک النووی نفسہ فی الاذکار فقال یحرم تحریما غلیظا قلت لامخالفۃ فان اطلاق التحریم فی لفظ لایقتضی انہ لایکون کفرافی بعض حالاتہ علی ان الکفر محرم تحریما غلیظا فتکون عبارۃ الاذکار شاملۃ للکفر ایضا۳؎۔ عزیز میں تتمہ سے منقول رافعی کی عبارت یہ ہے اگر کسی نے مسلمان کو بغیر کسی تاویل کے کافرکہا وہ کافر ہوجائے گا اھ اور نووی نے روضہ میں اسی کی اتباع کی ہے، اگر کوئی اعتراض کرے خود نووی نے اذکار میں اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ سخت حرام ہے میں کہتاہوں یہ مخالفت نہیں کیونکہ لفظ تحریم کا اطلاق اس بات کا تقاضا نہیں کرتا کہ بعض حالات میں وہ کفر نہ ہو، علاوہ ازیں کفر سخت حرام ہے لہذا اذکار کی عبارت بھی کفر کو شامل ہوجائے گی۔(ت)(۲؎ اعلام بقواطع الاسلام مقدمہ مکتبۃ الحقیقیہ ترکی ص۳۴۰)(۳؎ اعلام بقواطع الاسلام مقدمہ مکتبۃ الحقیقیہ ترکی ص۴۱۔۳۴۰)
    اسی میں چند ورق کے بعد ہے: الحرمۃ لاتنافی الکفر۴؎، کمامر۔ حرام ہونا کفر کے منافی نہیں ہوتا۔ جیسا کہ گزر چکا ہے(ت)(۴؎ اعلام بقواطع الاسلام مقدمہ مکتبۃ الحقیقیہ ترکی ص۳۵۰)
    ماہیت وصفات کمالیہ میں مشارکت اس میں نص نہیں کہ جمیع صفات کمال میں شرکت ہونہ یہ ان سب گمراہوں کا مذہب تھا ان میں بعض صرف تشبیہہ یعنی کنبیکم ختم نبوت لیتے اور تصریح کرتے کہ وہ انبیاء اپنے اپنے طبقے کے خاتم اور حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم خاتم الخواتم،صرف اتنے پر حکم کفر مشکل تھا، لہذا ایک ایسا لفظ لکھا گیا کہ دوسری صورت کو بھی شامل ہے، اعلام میں بعد عبارت سابقہ فرمایا۔التحریم الغلیظ قصدالشمول للحالۃ التی یکون فیہا کفر اوغیرھا۱؎۔ غلیظ تحریم کے لفظ سے اس حالت کو شامل کرنا مقصود ہے جس میں کفر وغیرہ ہو۔(ت)(۱؎ اعلام بقواطع الاعلام مقدمہ مکتبۃ الحقیقیہ ترکی ص۳۴۱)
    حسام الحرمین میں خاص فرقہ مرتدین کا ذکر ہے، ولہذا خاتم الخواتم ماننے والوں میں صرف اس کا قول لیا جس نے اس میں کفر خالص بڑھادیا کہ: لوفرض فی زمنہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بل لو حدث بعدہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نبی جدید لم یخل ذٰلک بخاتمیتہ وانما یتخیل العوام انہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم خاتم النبیین بمعنی اٰخر النبیین مع انہ لافضل فیہ اصلا عند اھل الفھم۲؎۔ اگر بالفرض آپ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یا آپ کے زمانہ کے بعد کوئی نیا نبی آجائے تو آپ کی خاتمیت میں کوئی فرق نہیں پڑے گا، یہ محض عوام کا خیال ہے کہ آپ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم خاتم النبیین بمعنی آخر نبی ہیں حالانکہ اہل فہم کے ہاں اس میں ہرگز کوئی فضیلت نہیں۔(ت) (۲؎ حسام الحرمین فصل نہم الوہابیہ مکتبہ نبویہ لاہور ص۱۹)(المستند المعتمد تعلیقات المنتقدالمعتقد منہم الوہابیۃ الامثالیۃ الخ مکتبہ حامدیہ لاہور ص۲۴۲)
    اس طرح کا خاتم الخواتم ماننے والا مطلقاً کافر مرتد ہے، اس سے ۵۸ورق پہلے جہاں المعتمد المستند میں خاص مرتدین کا ذکر تھا، عبارت یہ ہے: خرج دجالون یدعون وجودستۃ نظراء للنبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم شارکین لہ فی اشھر خصائصہ الکمالیۃ اعنی ختم النبوۃ فی طبقات الارض الست السفلی، فمنھم من یقول کل منھم خاتم ارضہ ونبینا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم خاتم ھذہ الارض ، ومنھم من یقول انھم خواتم اراضیہم ونبینا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم خاتم الخواتم والاکفر الاوقح منھم یصرح بانھم مماثلون للنبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وشرکاء لہ فی جمیع صفاتہ الکمالیۃ ویردہ اخرون ابقاء علی انفسھم من المسلمین۱؎۔ ان دجالوں کو خارج کیا ہے جو نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے لئے چھ نظیروں کا دعوٰی کرتے ہیں اور تشبیہہ میں آپ کے مشہور خصائص کمالیہ میں بھی ان کو شریک کرتے ہیں یعنی نچلی چھ زمینوں میں بھی ختم نبوت کا قول کرتے ____ان میں سے بعض کا یہ قول ہے کہ ہر زمین کاکوئی خاتم ہے اور ہمارے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اس زمین کے خاتم ہیں بعض کا قول یہ ہے کہ وہ اپنی اپنی زمینوں کے خواتم ہیں اور ہمارے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم خاتم الخواتم ہیں ان میں سے بدتر کفر والے وہ ہیں جنہوں نے یہ تصریح کی ہے کہ وہ تمام خاتم۔ ہمارے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی تمام صفات کمالیہ میں شریک اور ہم مثل ہیں اور جبکہ دوسروں نے اپنے آپ کو مسلمانوں میں شامل رکھنے کے لئے ان کارد کیا ہے۔(ت)
    ان سب اقوال کے لحاظ سے وہاں عام مبتدع ضال سے تعبیر کیا کہ بدعت مکفرہ کو بھی شامل ہے، والسلام مع الکرام۔ (۱؎ المستند المعتقد تعلیقات المنتقد المعتقد مسئلۃ النبوۃ لیست کسبیۃ مکتبہ حامدیہ لاہور ص۱۱۵)

    مسئلہ۱۰۰:ازمنڈی رام نگر ضلع نینی تال مرسلہ جناب بشیر احمد صاحب رجب المرجب ۱۳۳۸ھ
    ایک شخص نے ایک مرتبہ اپنی حالت بیماری میں اپنے اچھا ہونے کی غرض سے ایک روز کچھ ہنود کو اپنے مکان پر بلاکر ڈبر وبجوایا اور موافق رسم ہنود کے ہندوؤں کے دیوتا کی پوجا یعنی بکری اور مرغا ہندوؤں سے مروایا یعنی مردار کرایا اور ڈبر وپر ناچا، اس ناجائز حرام کام کرنے پر یہاں کے مسلمان لوگوں نے اس شخص کو برادری سے نکال باہر کردیا اور حقہ بند کردیا، کچھ دنوں بعد اس بت پرست شخص نے مسلمانوں سے کہا میری جان جارہی تھی اس وجہ سے میں نے یہ کام کرائے آئندہ مجھ سے ایسا قصور نہ ہوگا تب یہاں کے مسلمانوں نے اس کی معافی مانگنے اور آئندہ کو توبہ کرنے سے اس کا ایک سوروپیہ جرمانہ لے کر اور توبہ کرواکر حقہ کھول دیا بعد کچھ دنوں کے پھر اس شخص نے پوشیدہ طور رات کو ایک ہندو کے یہاں اپنی بیوی اور لڑکی کو بھیج کر ڈبروبجوایا اور ان کی لڑکی ناچی یعنی لڑکی کے بدن پر ڈبرو بجانے سے دیوتا مسان آیا اور اسی نے یعنی دیوتا نے بکری اور مرغا مانگا تو ڈبرو بجانے والے نے مرغا اور بکرا کو مردار کرکے پوجا کری دوبارہ اس حرکت کی کسی کو خبر نہ ہوئی اب سہ بارہ اس شخص نے ایک ہندو کو اپنے مکان پر بلاکے ایک مرغا اس کو یعنی اس ہندو کو دیا اس نے موافق اپنے رسوم کے مرغے کو اپنے قبرستان میں لے جاکر رات کو مردار کرکے قبر میں دبادیا اور ایک قبرستان میں جاکر پتھروں کو پوجا اس کام کے کرنے پر یہاں مسلمانوں نے پھر اس کا حقہ بند کردیا اور کہا کہ تونے مکرر سہ کرراسی کام کوکرااورکرتا ہے تو کافر ہے، اس کے جواب میں بت پرست مسلمان کہتا ہے ضرورت شدید میں یہ کام جائز ہے یعنی مولوی لوگوں سے معلوم کرلیا ہے لہذا عرض کہ اس مسئلہ کو خلاصہ تحریر کیجئے کہ ہمارے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے یہاں یہ کام جائز ہے یا انہوں نے یہ کام کرے اگر یہ کام جائز ہے، نہیں تو اس کام کے کرنے والے کو مسئلہ سے کیا سزا ہونا چاہئے؟
    الجواب
    صورت مستفسرہ میں وہ کافر ہے، اور وہ مولویوں پر افترا کرتا ہے، کوئی مولوی ایسا نہیں کہہ سکتا اور اگر کسی نام کے مولوی نے مرض سے شفا کے واسطے غیر خد اکی پوجا جائز کردی ہو تو وہ بھی کافر ہے اور یہ شخص جب کہ تین بار ایسا کرچکا اب مسلمان اسے ہرگز نہ ملائیں اگرچہ توبہ ظاہر کرے کہ وہ جھوٹا ہے اور فریب دیتا ہے ،
    اﷲ تعالٰی عزوجل فرماتاہے: ان الذین اٰمنواثم کفرواثم اٰمنواثم کفروا ثم ازدادواکفرا۱؎oلن تقبل توبتھم واولٰئک ھم الضالون۲؎۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے پھر کافر ہوئے پھرایمان لائےپھر کافر ہوئے پھر اور کفر میں بڑھے۔ ان کی توبہ ہرگز قبول نہ ہوگی اور وہی ہیں بہکے ہوئے۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت)(۱؎ القرآن الکریم ۴/ ۱۳۷) (۲؎ القرآن الکریم ۳/ ۹۰)

    مسئلہ۱۰۱:ازکٹک محلہ بخشی بازار مرسلہ ولی محمد صاحب ۹ربیع الاول شریف ۱۳۳۷ھ
    کیافرماتے ہیں علمائے دین مبین اس مسئلہ میں، مولوی اجابت اﷲ بنگالی چاٹگامی نے ایک رسالہ لکھا ہے جس میں اﷲ کے سوا اپنے پیر کو سجدہ کرنے کو جائز سمجھتا ہے اور دلائل میں کئی اوراق سیاہ فرمائے اور علمائے اہلحدیث کو نسبت دی ہے فرقہ اسمٰعیلیہ سے، اور ان کو گمراہ کہا ہے، اور علمائے دیوبند کو اسی فرقہ سے شمارکیا ہے اور اپنے گمان میں اس سجدہ کو قرآن شریف سے مدلل کیاہے اور جس حدیث سے سجدہ کی ممانعت ثابت ہوتی ہے، اس کو بے اصل سمجھتا اور کہتا ہے کہ احادیث احاد قرآن کو منسوخ نہیں کرسکتیں اور حدیث ابوداؤد کو جس میں سجدہ کی ممانعت ہے اس کو بھی اسی قسم سے سمجھتا ہے ، اور سجدہ کی دو قسمیں ٹھہراتا ہے: تحیت اور تعبدی۔ تحیت کو جائز سمجھتا ہے اور تعبدی کو منع کرتا ہے، مولانا اسحاق صاحب کلکتہ مدرسہ عالیہ میں مدرس ہیں جو شروع میں مدرسہ کانپور میں بھی تعلیم دیتے تھے، انہو ں نے سجدہ کی ممانعت کے بارے میں کچھ لکھا تھا، ان کو یہ شخص گمراہ اور گمراہ کنندہ کہتا ہے اور مولانا شاہ عبدالعزیز صاحب دہلوی کے فتوے سے سجدہ کو جائز ثابت کرتاہے اور درمختار کو بے اصل ثابت کرتا ہے کیونکہ چھٹے طبقہ کی کتاب ہے۔ امام فخر الدین رازی کے حوالہ سے اس رسالہ کو لکھا ہے اور کہتا ہے کہ تفسیر کبیر کی پہلی جلد میں ہے سجدہ کرنا اﷲ کے سوا دوسرے کو جائز ہے، اب سوال یہ ہے کہ ایسا شخص جو خدا کے سوا دوسرے کو سجدہ کرنا جائز سمجھے تو ایسا شخص کافر ہے یا مسلمان؟
    الجواب: غیر خدا کو سجدہ تحیت کا جائز کرنے والا ہرگز کافر نہیں اور اب جو اہل حدیث کہلاتے ہیں ضرور اسمٰعیلی وگمراہ ہیں اور دیوبندیہ ان سے گمراہ تر صریح مرتدین ہیں،
    علمائے حرمین شریفین نے ان کی نسبت تصریح فرمائی کہ: من شک فی کفرہ فقد کفر۱؎۔ (۱؎ حسام الحرمین منہا الوہابیہ مکتبیہ نبویہ لاہور ص۲۱)
    جوان کے اقوال پر مطلع ہو کر انہیں کافر نہ جانے بلکہ ان کے کفر میں شک ہی کرے وہ بھی کافر ہے۔ دربارہ سجدہ حق وتحقیق یہ ہے کہ غیر خدا کو سجدہ عبادت کفر اور سجدہ تحیت حرام ، کتب فقہ میں اس کی تصریح ہے اور آج کوئی مجتہد نہیں کہ متفق علیہ ارشادات ائمہ کے خلاف دلیل سے مسئلہ نکالنا چاہے افراط وتفریط دونوں مذموم ہیں واﷲ الہادی، واﷲ تعالٰی اعلم۔
  5. ‏ ستمبر 1, 2014 #5
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    مسئلہ۱۰۲: از شہر بریلی مدرسہ منظر الاسلام مسئولہ حشمت علی صاحب ۱۶ربیع الآخر ۱۳۳۷ھ
    کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید فرقہ دیوبندیہ کا مرتکب کفر ہونا تسلیم کرتا ہے، لیکن کہتا ہے کہ اپنی زبان سے ان کو کافر نہ کہوں گا، دریافت کرنے پر کہا کہ فی الواقع دیوبندیوں نے کفر بکا ہے، لیکن دیکھاجائے تو خود ہم پر کفر عائد ہوتا ہے کیونکہ کفر کی دو قسمیں ہیں:
    (۱)کفر قولی
    (۲)کفر فعلی
    کفر قولی یہ کہ کسی نے ایسی بات کہی جس میں ضروریات دین کا انکار ہو، جیسے دیوبندیوں نے توہین خدا ورسول(جل وعلا وصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم) کی بکی۔اور کفر فعلی یہ کہ جو انکار ضروریات دین پر امارت ہو جیسے زنا رباندھنا، بت کو سجدہ کرنا وغیرہ
    اب دیکھئے اﷲ تعالٰی فرماتاہے: فلاوربک لایؤ منون حتی یحکموک فیما شجر بینھم ثم لایجدوافی انفسھم حرجا مماقضیت ویسلمواتسلیما۱؎۔ تواے محبوب تمہارے رب کی قسم وہ مسلمان نہ ہونگے جب تک اپنے آپس کے جھگڑے میں تمہیں حاکم نہ بنائیں پھر جو کچھ تم حکم فرمادو اپنے دلوں میں اس سے رکاوٹ نہ پائیں اور جی سے مان لیں۔(ت) (۱؎القرآن الکریم ۴/ ۶۵)قسم کھاکر فرمایا جاتا ہے کہ ہر گز مسلمان نہیں ہوسکتے جب تک اپنے اختلافات کو موافق احادیث وآیات نہ طے کریں پھرکوئی رنجش یا کراہت بھی دل میں نہ رہے۔ اب بتائیے ہم لوگ اپنے مقدمات کا بجائے آیات واحادیث کے انگریزی قوانین سے طے کراتے ہیں تو ہم تو دیوبندیوں سے بدتر ہیں گویا نص قرآنی ہماری تکفیر فرمارہی ہے جب ہمارا خود یہ حال ہے تو دوسروں کو کیونکر کافر کہیں، ہم تو خود ہی کفر میں مبتلاہیں انتہی کلامہ، اب استفتاء یہ ہے کہ زید کا کیا حکم ہے؟اورآیہ کریمہ کی صحیح تفسیر کیا ہے؟
    الجواب: جو مدعی حق پر ہیں وہ تحکیم نہیں کرتے بلکہ اپنا حق کہ بے زور حکومت نہیں مل سکتا نکلوانا چاہتے ہیں اور مدعا علیہ کہ حق پر ہے وہ مجبور ہی ہے جو ابدہی نہ کرے تو یک طرفہ ڈگری ہوجائے ان دونوں فریق پر اگر آیہ کریمہ وارد ہوتو ہندوستان ہی نہیں بلکہ تمام دنیا میں آج سے نہیں صدہا سال سے مدعی مدعا علیہ وکیل گواہ سب کافرہوں کہ عام سلطنتوں نے شرع مطہر سے جدا اپنے بہت سے قانون نکال لئے ہیں اور جو مدعی جھوٹا ہے وہ ناحق دوسروں کا مال مثلاً چھیننا چاہتا ہے جس پر اپنی چرب زبانی یا مقدمہ سازی یا جھوٹے گواہوں کے ذریعہ حکومت سے مددلیتا ہے یونہی جھوٹا مدعا علیہ مثلاً دوسرے کا دیا ہوا مال دینا نہیں چاہتا اور وہی مدد ان ذرائع کاذبہ سے لیتا ہے یہ باتیں گناہ ہیں مگر گناہ کو کفر کہنا خارجیوں کا مذہب ہے، آیت اس کے بارے میں ہے جو حکم شریعت کو باطل جانے اور غیر شرعی حکم کو حق یا شرعی حکم جب اس کے خلاف ہوتو نہ نفس امارہ کی ناگواری بلکہ واقعی دل سے اس حکم کو براجانے، یہ لوگ کافر ہیں،یہ نہ فقط مقدمات بلکہ عبادات میں بھی جاری ہے،رمضان خصوصاً گرمیوں کے روزے نماز خصوصاً جاڑوں میں صبح و عشا کی نفس امارہ پر شاق ہوتی ہے اس سے کافر نہیں ہوتا جبکہ دل سے احکام کو حق ونافع جانتا ہے، ہاں اگر دل سے نماز کو بیگار اور روزے کو مفت کافاقہ جانے تو ضرور کافر ہے اگلی آیہ کریمہ اس معنی کو خوب واضح فرماتی ہے: قال اﷲ تعالٰی ولواناکتبنا علیہم ان اقتلوا انفسکم اواخرجوامن دیارکم مافعلوہ الاقلیلا منھم۱؎۔ اﷲ تعالی نے فرمایا: اگر ہم انہیں حکم دیتے ہیں کہ اپنے آپ کو قتل کردو یا اپنے گھروں سے نکل جاؤ تو اسے نہ کرتے مگر ان میں تھوڑے۔(ت)(۱؎ القرآن الکریم ۴/ ۶۶ )ظاہرہے کہ یہ نہ کرنا ان احکام کے نفس پر شاق ہونے ہی کے سبب ہے توثابت ہوا کہ حکم کا نفس پر شاق ہونا یہاں تک کہ اس کے سبب بجا آوری حکم سے باز رہنا کفر نہیں معاذاﷲ یہ ٹھہرے گا کہ صحابہ کرام بھی گنتی ہی کے مسلمان تھے کہ فرماتا ہے: مافعلوہ الاقلیلاً منھم۲؎ ۔ (اسے نہ کرتے مگر ان میں تھوڑے ۔ت)حالانکہ رب عزوجل جا بجا ان کے سچے پکے مومن ہونے کی شہادت دیتا ہے یہاں تک کہ فرماتا ہے: ولکن اﷲ حبب الیکم الایمان وزینہ فی قلوبکم وکرہ الیکم الکفر والفسوق والعصیان اولٰئک ھم الراشدون فضلا من اﷲ ونعمۃ واﷲ علیم حکیم۳؎۔(۳؎ القرآن الکریم ۴۹/ ۸۔۷)
    اے محبوب کے صحابیو! اﷲ نے تمہیں ایمان پیارا کردیا اور اسے تمہارے دلوں میں زینت دی اور کفر وبے حکمی ونافرمانی تمہیں ناگواراکردی، یہی لوگ راہ پر ہیں اﷲ کافضل اور اس کی نعمت اور اﷲ جانتا ہے حکمت والا ہے۔یہ دل کی محبت ہے کہ مدار ایمان وکمال ایما ن ہے اور وہ نفس کی ناگواری جس پر زیادت ثواب کی بناء ہے۔حدیث میں فرمایا: افضل العبادات احمزھا۴؎۔ سب میں زیادہ ثواب اس عبادت کا ہے جو نفس پر زیادہ شاق ہو۔ (۴؎ الاسرار المرفوعہ فی الاخبار الموضوعہ حدیث ۲۰۸ دارالکتاب العلمیہ بیروت ص۶۱)(کشف الخفاء للعجلونی ۱/ ۱۷۵)
    بہر حال یہ شخص جو اپنے کفر کا مقر ہے قطعاً کافر ہے، فتاوٰی عالمگیری میں ہے: مسلم قال اناملحد یکفر ولوقال ماعلمت انہ کفر لایعذرمنہ۵؎، واﷲتعالٰی اعلم۔ اگر کسی مسلمان نے کہا میں ملحد ہوں تو وہ کافر ہوجائے گا، اور کہا میں نہیں جانتا تھا کہ یہ کہنا کفر تھا اس کا عذر قابل قبول نہ ہوگا۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت)(۵؎ فتاوی ہندیہ باب موجبات الکفر انواع نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۲۷۹)

    مسئلہ۱۰۳:ازڈاکخانہ انگس جوٹ مل گورہٹی ضلع ہگلی اسکول انگس مسئولہ محمد سلیم خاں ماسٹر اسکول ۱۸ذیقعدہ ۱۳۳۹ھ
    کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص اپنے پیر کے لڑکے کو نبی زادہ لکھا کرتا ہے، اس کا اورجو لوگ اسے اچھا سمجھ کر خوش ہوتے ہیں ان کا شرع شریف میں کیاحکم ہے؟بینواتوجروا۔
    الجواب: اگر اس کا مرشد سید ہے بایں معنی اسے نبی زادہ لکھتا ہے تو بجا ہے، اور اگر وہ سید نہیں بلکہ مرشد کو نبی ٹھہرا کر اس کے لڑکے کو نبی زادہ لکھتا ہے تو وہ بھی کافر اور جتنے اس پر خوش ہوتے ہیں وہ بھی، وھوتعالٰی اعلم۔

    مسئلہ۱۰۴:ازپورولیا ضلع مان بھوم مسئولہ خلیفہ محمد جان۱۸ذی القعدہ ۱۳۳۹ھ
    کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ۱۶ اپریل، ۱۳ اپریل ۱۹۲۱ء میں جن مسلمانوں نے ہڑتال کی ہے اور جلسے میں شریک ہوئے ہیں ان کی بیبیاں حرام ہوئیں یانہیں ؟بینواتوجروا۔ الجواب: جس نے لوگوں کے مجبور کئے سے ہڑتال کی اس پر وہ الزام نہیں اگرچہ بلامجبوری شرعی مجبور بن جانے کا الزام ہو، اور جس نے ایک طوفان بے تمیزی کی موافقت چاہی اس سے زائد کچھ نیت نہ تھی اس پر گناہ ہوا مگر وہ الزام اس پر نہیں اور جس نے کافروں کا سوگ منانے اور حکم مشرک کی تعظیم بجالانے کے لئے ہڑتال کی اس پر تجدید اسلام پھر تجدید نکاح کا حکم ہے۔لان تبجیل الکافر کفر۱؎، کمافی الظہیریۃ والاشباہ والدر وغیرہ من الاسفار الغر، وھو تعالٰی اعلم۔ کیونکہ کافر کی تعظیم کفر ہے، جیسا کہ ظہیریہ، اشباہ، در وغیرہ معروف کتب میں ہے۔ وھوتعالٰی اعلم۔(ت)(۱؎ درمختار کتاب الحظر والاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۵۱)

    مسئلہ۱۰۵:ازمتوناتھ بھنجن ضلع اعظم گڈھ محلہ اﷲ داد پورہ مسئولہ حکیم صابر حسین صاحب۱۷رمضان المبارک۱۳۳۹ھ
    کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ جو شخص ہنود کے خوش کرنے کے واسطے اپنے مذہب اسلام کی پروانہ کرے اور ان کے مذہب کے تائیدکرے تو یہ شخص کس چیز کا مرتکب ہوگا؟بینواتوجروا
    الجواب: جوشخص خوشنودی ہنود کے لئے دین اسلام کی پروانہ کرے اور مذہب ہنود کی تائیدکرے اگریہ بات واقعی یونہی ہے تو اس پر حکم کفر لازم ہونے میں کوئی شبہہ نہیں۔واﷲتعالٰی اعلم۔

    مسئلہ۱۰۶:ازچک۲۲۴متصل لائل خانقاہ چشت دربار صابری مسئولہ مولوی نظام الدین صاحب ۱۷ربیع الآخر ۱۳۳۷ھ
    کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے جواب میں کہ ایک نئی مسجد کے محراب کے دائیں طرف کاتب نے لکھا یااﷲ اور دوسری طرف یامحمد نقش کردیا تو ایک غیر مقلد نے آکر کہا کہ یہ بت کیوں لکھا ہے اس کو مٹادو، معمار سے وہ مٹوادیا، اس کی اس حرکت سے مسلمان بہت رنجیدہ ہوئے اور پھر حضور کا نام مبارک لکھوادیا، اس پر وہ غیر مقلد کہنے لگا اگر گوروگوبند سنگھ کا نام لکھ دو یا کوئی بت کھڑا کردو تو بہتر ہے، کیا اس شخص نے حضور کی بے ادبی کی ہے یانہ؟ اور اس دریدہ دہنی سے یہ مسلمان رہ سکتاہے یانہ؟بینواتوجروا۔
    الجواب: لاالٰہ الا اﷲلا الٰہ الااﷲلاالٰہ الااﷲ محمد رسول اﷲ محمد رسول اﷲ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم، الالعنۃ اﷲ علی الظالمین الالعنۃ اﷲ علی الظالمین الالعنۃ اﷲ علی الظالمین۔ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں، اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں، اﷲ کے سواکوئی معبود نہیں، حضرت محمد اﷲ کے رسول ہیں، حضرت محمد اﷲ کے رسول ہیں، حضرت محمد اﷲ کے رسول ہیں، اﷲ تعالٰی کی طرف سے ان پر صلوۃوسلام، اﷲ تعالٰی کی طرف سے ان پر صلوٰۃ وسلام، اﷲ تعالٰی کی طرف سے ان پر صلوٰۃ وسلام ، سنو ظالموں پر اﷲ کی لعنت، سنوظالموں پر اﷲ کی لعنت، سنوظالموں پر اﷲ کی لعنت۔(ت)شخص مذکور کافرکافر کافر مرتدمرتد مرتدہےمن شک فی کفرہ فقد کفر۱؎ ۔جو اس کے کافر ہونے میں شک کرے خود کافر ہے،(۱؎ مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب احکام الجزیہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۱۷۷)مسلمانوں کو اس سے میل جول حرام ہے، اس سے سلام وکلام حرام اس کے پاس بیٹھنا حرا، اسے اپنے پاس بیٹھنے دینا حرام، بیمار پڑے تو اسے پوچھنے جانا حرام ،مرجائے تو اسے مسلمانوں کی طرح غسل و کفن دینا حرام ، اس کے جنازہ پر نماز حرام، اسے مسلمانوں کے مقابر میں دفن کرنا حرام، اس کی قبر پر جانا حرام۔
    قال اﷲ تعالی واما ینسینک الشیطٰن فلاتقعد بعدالذکری مع القوم الظٰلمین۱؎، وقال تعالٰی ولاترکنو الی الذین ظلموا فتمسکم النار۲؎، وقال تعالٰی ولاتصل علی احدمنھم مات ابدا ولاتقم علی قبرہ۳؎۔ اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اور جو کہیں تجھے شیطان بھلادے تو یادآئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اور ظالموں کی طرف نہ جھکو کہ تمہیں آگ چھوئے گی۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اور ان میں سے کسی کی میت پر کبھی نماز نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہونا۔(ت)(۱؎ القرآن الکریم۶/ ۶۸) (۲؎ القرآن الکریم ۱۱/ ۱۱۳) (۳؎ القرآن الکریم ۹/ ۸۴)
    مسلمان دیکھیں وہابیہ کو یہ دشمنی ہے محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے ، اور پھر سادہ لوح ان کو مسلمانوں کا ایک فرقہ سمجھتے ہیں لاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم،ایک یہ بات یاد رہے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا نام پاک لے کر ندانہ چاہئے بلکہ اس کی جگہ یارسول اﷲ ہو اور دیوار پر کندہ کرنے سے بہتر یہ ہے کہ آئینہ مں لکھ کر نصب کریں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
    صحابہ کرام کو جھوٹا سمجھنے والا گمراہ بددین ہے۔ اور اگر سب صحابہ کو عموماً ایسا سمجھے تو کافر بالیقین ہے۔
    (۲) لب بالا کے بال حد سے متجاوز رکھنا سنت کی مخالفت اور کافروں سے تشبّہ ہے۔
    (۳) پانی اگر ضرر نہ کرتا ہو تو صرف خوف سردی سے تیمم کرنا حرام ہے اور نماز باطل اور اس کے پیچھے سب کی نماز باطل ایسا کرنے والا اشد فاسق۔
    (۴) اسپرٹ حرام ہی نہیں بلکہ نجس بھی ہے، اپنے ہی منہ میں پینا، توحرام ونجس چیز کھانے پینے کا آج کل ہر شخص کو اختیار ہے، مگر مسجد کے برتن نجس کئے کہ مسلمانوں کے جامہ و بدن ناپاک اور وضو و نماز باطل ہوں، یہ صاف دلیل ہے کہ یہ شخص شریعت پر سخت جری وبیباک ہے۔
    (۵) سود لینے کو حلال جاننا کفر صریح ہے اور حرام جان کر ایک درم سود کھانا اپنی ماں سے ۳۶ بار زنا کے برابر ہے، من اکل درھم رباً وھو یعلم فکانما زنی بامہ ستاوثلثین مرۃ۱؎۔ جس نے عمداً ایک درہم سود کھایا اس نے اپنی ماں سے چھتیس ۳۶دفعہ زنا کیا۔(ت)(۱؎ مسند امام احمد بن حنبل حدیث حضرت عبداﷲ بن حنظلہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ دارالفکر بیروت ۵/ ۲۲۵)
    (۶) بے عذر مرض و سفر روزے رمضان کے نہ رکھنا اور فدیہ کافی جاننا قرآن عظیم کی تحریف اور نئی شریعت کا ایجاد اور جہنم کبرٰی کا استحقاق ہے۔نولہ ماتولی ونصلہ جھنم وساءت مصیرا۲؎۔ ہم اسے اس کے حال پر چھوڑدیں گے اور اسے دوزخ میں داخل کریں گے اور کیا ہی بری جگہ پلٹنے کی۔(ت)(۲؎ القرآن الکریم ۴/ ۱۱۵)
    (۷) سائل نے تصرف میں لانا مطلق لکھا اگر بلا نکاح یا عدت کے اندر نکاح کے ساتھ ہے توزنا ہے، ورنہ دھوکا دینے پر سرکارِ دو عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: من غشنا فلیس منا۳؎۔ جس نے ملاوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں۔(ت) (۳؎ صحیح مسلم کتاب الایمان باب قول النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من غشنا فلیس منا قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۷۰)
    (۸) اپنی منکوحہ پرغیرت نہ کرنے والا دیوث ہے اور ماں باپ کو فحش گالیاں جورو سے سن کر خاموش رہنے والا عاق ہےاور دیوث وعاق دونوں کو فرمایا کہ وہ جنت میں نہ جائیں گے۔
    (۹) مغرب میں قصر کرنا نئی شریعت کا نکالنا اور اﷲ تعالٰی پر افتراء ہے،ان الذین یفترون علی اﷲ الکذب لایفلحون۱؎۔ بیشک جو اﷲ پر جھوٹ باندھتے ہیں انکا بھلا نہ ہوگا۔(ت)(۱؎ القرآن الکریم ۱۰/ ۶۹)
    (۱۰) آیۃ الکرسی میں چند الفاظ کا بیچ میں سے چھوڑجانا اگرچہ ایک مذہب پر مطلقا مفسد نماز ہے جبکہ صرف آیۃ الکرسی ہی پڑھی ہو اور جب کوئی لفظ چھوٹ گیا آیت پوری نہ ہوئی، مذہب راجح میں بے فساد معنی فسادِ نماز نہیں، اور واجب بھی ادا ہوجائے گا جبکہ باقی تین آیت کی قدر ہو، مگر یہ مسئلہ کہ تین آیت کی قدر پڑھنے کے بعد کوئی غلطی مفسدِ نماز نہیں ہوتی محض باطل ۔
    (۱۱) یہ صراحۃ آیہ کریمہ یاایھاالنبی قل لازواجک وبناتک۲؎ ۔(اے نبی!اپنی بیبیوں اور صاحبزادیوں سے فرمادو۔ت) کی تکذیب ہے اورآیت کی تکذیب کفر۔(۲؎ القرآن الکریم ۳۳/ ۵۹)
    (۱۲) اس قول میں کمال تکبر ہے اور وہ آیہ کریمہ لقد استکبر وافی انفسھم وعتواعتواکبیرا۳؎۔(بیشک اپنے جی میں بہت ہی اونچی کھینچی اور بڑی سرکشی پرآئے۔ت) میں داخل ہوتا ہے اور یہ کہ جو بیعت لیتا ہے میری ہی لئے لیتا ہے درپردہ رسالت ونبوت یا کم از کم غوثیت عظمٰی کا ادعا ہے،(۳؎القرآن الکریم ۲۵/ ۲۱)
    بالجملہ افعال واقوال مذکورہ فسق وضلال وکفر میں دائر ہیں ایسے شخص کے پیچھے نماز باطل محض ہے ، جو مسلمان اس کی اقتداء سے بچتا ہے وہ بہت اچھا کرتا ہے اس پر ملامت حق پر ملامت ہے، جو اس کے پیچھے نماز پڑھے وہی مستحق ملامت، بلکہ سزا وارعذاب شدید ہے، والعیاذ باﷲ، واﷲ تعالٰی اعلم۔

    مسئلہ۱۰۷:ازدیوگڈھ میواڑہ مرسلہ قاضی عبدالعزیز صاحب۱۹ربیع الآخر ۱۳۳۷ھ
    کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک گروہ نہ ہندو نہ مسلم دائم شارب الخمر، مشرک، سارق علانیہ، ملکوں میں سیاحی کرکے نہ معلوم کس طرح سے فریب کرکے یا سرقہ کرکے ہزاروں روپوں کا سونا چاندی وزیورات وغیرہ لے آتے ہیں اور گیتاوبھاگوت پر عمل کرنے والے اور ہولی و دیوالی وگنگووغیرہ کی پرستش کرنے والے، جب نام لینا رام چندربھگوت ہی کو پکارنا اور قسم بھی ان کی کھانا اسماء ولباس بھی اہل ہنود کا سا کلمہ جن کو یاد نہیں اسلام سے بالکل ناآشنا محض نکاح ونمازجنازہ کے پابند ہیں بعض اوقات سیاحی میں مردوں کو بھی آگ میں جلاتے ہیں اگر ان سے کہا جاتا ہے کہ طریقہ اسلام پر ہوجاؤ اور شرک وشراب سے اجتناب کرو، تو کہتے ہیں کہ یہ ہم سے چھوٹ نہیں سکتے ہیں، ہمارے آباء واجداد سے یہ طریقہ جاری ہے اور کلمہ پڑھنے سے پورا نکار ہے نہ کما حقہ اقرار برسوں سے ان کی راہ ہدایت کی کوشش کی جارہی ہے لیکن یہ قوم اپنی حرکاتِ ناشائستہ سے باز نہیں آتی، ایسی حالت میں ان مشرکوں، شراب خوروں، دزدوں کی نماز جنازہ و نکاح وغیرہ جائز ہے یاکیونکر؟ اسی طرح جو تھوڑے عرصہ میں کہیں سے سونا لے آتے ہیں اس کے روپے کو مسجد کی تعمیر ومیلاد ومصرف کا رخیر میں لگانا جائز ہے یانہیں؟اور مسلمانوں کو یہ مال کیساہے؟تو نکاح پڑھانے والا اور اس مال کالینے والاگنہگار ہوگا یانہیں؟ بالتفصیل ارقام فرمائیں، رب العزت آقائے نامدار کو فی الدارین جزائے خیر عطا فرمائے۔
    الجواب: یہ لوگ اگر باوصف ان حرکات کے اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں تو مرتد ہیں ورنہ کافر مشرک، بہر حال سے شادی بیاہ حرام وزنا اور ان کے جنازہ کی نماز حرام قطعی، اور ان سے کوئی برتاؤ مسلمانوں کا سارکھنا حرام، رہا نکاح پڑھانا اگر پہلی صورت کے ہیں جب تو ان کا نکاح کسی سے ممکن ہی نہیں، نہ مسلمان سے نہ کافر سے، نہ اس کے ہم مذہب مرتد سے، نہ اس کے مرد کا نہ عورت کا۔ اور اگر دوسری صورت کے ہیں تو مسلمان عورت کا ان سے یا مسلمان مرد کا ایسی عورت سے نکاح باطل وحرام ہے ان صورتوں میں نکاح پڑھانے والا زنا کا دلال ہے اور اگر وہ مرتد نہیں اصلی کافرہیں تو ان کے عورت و مرد کا نکاح اگرچہ کسی کافر یا کافرہ سے ہوسکے مگر مسلمان کو اس کاپڑھانا نہ چاہئے وہ سونا کو جلد لے آتے ہیں اگر معلوم یا گمان غالب ہوکہ چراکر یا ٹھک کرلاتے ہیں تو اس کالینا بھی حرام اور اسے مسجد یا میلاد مبارک یا کسی کارخیر میں صرف کرنا بھی حرام، اگر اس کا گمان غالب نہیں شک ہے تو بچنا بہتر اور لیں اور لگائیں تو گناہ نہیں، قال محمد بہ ناخذ مالم نعرف شیئا حراما لعینہ۱؎، ذخیرہ، ہندیۃ۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
    امام محمد فرماتے ہیں ہم اس پر عمل پیرا ہیں، جب تک کسی شیئ کو ہم حرام لعینہ نہ جان لیں، ذخیرہ، ہندیہ۔واﷲتعالٰی اعلم۔(۱؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراہیۃ الباب الثانی فی الہدایا والضیافات نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۲۴۲)

    مسئلہ۱۰۸:ازمیرٹھ دفتر رسالہ خیال بازار بزازہ مرسلہ حافظ سید ناظر حسین چشتی صابری عابدی و سید عزیز احمد چشتی صابری عابدی وشرف الدین احمد صوفی وارثی قادری رزاقی ۴ربیع الاول ۱۳۳۷ھ
    کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اشرف علی صاحب تھانوی کے ایک معتقد نے اپنے خواب و بیداری کاحال جو ذیل میں درج ہے لکھ کر تھانوی کے پاس بھیجا جس کا جواب انہوں نے رسالہ الامداد ماہ صفر ۱۳۳۶ھ میں حسب ذیل الفاظ میں دیا، دریافت طلب امریہ ہے کہ یہ جواب ان کا بموجب شرع شریف کہاں تک درست اور صحیح ہے؟ نیز حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے مسلک کے مطابق تھانوی صاحب کی نسبت حکم شرع شریف کا کیا صادر ہوا ہے؟
    خلاصہ خواب : بجائے کلمہ طیبہ کے دوسرے جز کے یوں پڑھتا ہوں کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے نام نامی کی جگہ تھانوی کا نام لیتا ہوں ہر چند قصد کرتا ہوں لیکن یہی زبان سے نکلتا ہے بعد بیداری اس غلطی کی تلافی میں درود شریف پڑھنا چاہا تو اس میں بھی بے اختیار تھانوی کا نام زبان پر آجاتا ہے۔۱؎
    جواب خواب: اس واقعہ میں تسلی ہے کہ جس کی طرف رجوع کرتے ہو وہ متبع سنت ہے۲؎۔(۱؎ رسالہ الامداد مطبوعہ تھانہ بھون ص۳۵)(۲؎رسالہ الامداد مطبوعہ تھانہ بھون ص۳۵ )
    الجواب: سیدی امام بوصیری قدس سرہ صاحب بردہ شریف امام القری میں فرماتے ہیں:ما علیّ مثلہ بعد الخطاء۳؎ (خطا کے بعد اس کی مثل مجھ پر نہیں۔ت)(۳؎ القصیدۃ الہمزیۃ فی المدح النبویۃ مع حاشیۃ الفتوحات الاحمدیۃ المکتبۃ التجاریۃ الکبرٰی مصر ص۳۹)
    دیوبندیوں کے کفر کا پانی ان کے سر سے گزر گیا ہے جس کا حال کتاب مستطاب ''حسام الحرمین شریف'' سے ظاہرہے یہ لوگ اﷲورسول جل وعلا وصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو شدید گالیاں دے چکے اور ان پر اب تک قائم ہیں، ان علمائے حرمین شریفین نے بالاتفاق نام بنام ان سب کی تکفیر کی اور صاف فرمایا: من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر۴؎۔ جس نے ان کے کفر وعذاب میں شک کیا وہ بھی کافر ہے(ت)(۴؎ مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب احکام الجزیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۶۷۷)(حسام الحرمین مکتبہ نبویہ لاہور ص۳۱)
    جوان کے اقوال پر مطلع ہو کر ان کے کافر ہونے میں شک بھی کرے وہ خود کافر، پھر ایسوں کی کسی بات کی شکایت کیا،ان کے بڑے قاسم نانوتوی نے تحذیر الناس میں صاف لکھ دیا کہ''اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بھی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا''۵؂۔(۵؎ تحذیر الناس کتب خانہ امدادیہ دیوبند ص۲۴)
    یہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی خاتمیت سے صاف انکار ہے اور آیہ کریمہ ولکن رسول اﷲ وخاتم النبیین۱؎۔(اور لیکن آپ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اﷲکے رسول اور آخری نبی ہیں۔ت) کی صریح تکذیب ہے پھر یہ لوگ اگر صاف صاف ادعائے نبوت ورسالت کریں تو ان سے کیا بعید ہے، مسلمان ہوتا تو ایسی بات سن کر لرزجاتااور اس کفر بکنے والے سے کہتا کہ خبیث منہ بندکر کفر نہ بک، نہ کہ اسے اور تسلی دی اور اس کی رجسٹری کردی۔وسیعلم الذین ظلمواای منقلب ینقلبون۲؎۔ اب جانا چاہتے ہیں کہ ظالم کس کروٹ پلٹا کھائیں گے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)(۱؎ القرآن الکریم ۳۳/ ۴۰)(۲؎ القرآن الکریم ۲۶/ ۲۲۷)

    مسئلہ۱۰۹تا۱۲۰:مسئولہ محمد خلیل الدین صاحب صدیقی بریلوی از کان پور امین گنج نمبر۴۸
    کیافرماتے ہیں علمائے دین متین و مفتیان شرع مبین اس مسئلہ میں کہ ایک مقلد شخص ایک آزاد شخص کی کہ جس کی تعریفات ذیل میں لکھی جاتی ہیں نماز میں اقتدا نہیں کرتا کیابوجہ ترک اقتدا ایسے آزاد شخص کی یہ شخص مقلد قابل ملامت ہے۔
    (۱) شخص آزاد اپنے آپ کو صدرالعلماء اور شیخ الشیوخ مشہور کرتا ہے، فلسفہ قدیم و جدید سائنس وکمسٹری، سنسکرت وانگریزی کا ماہر واستاذ وپیر روشن ضمیر اور مناظر وداعی اسلام ہونے کا دعوٰی کرتا ہے اور شیخ الاسلام ہند ہونے کا متمنی وامیدوار ہے، لیکن فقہ حنفیہ کی تحقیر عملاً کرتا ہے، اور آیاتِ قرآنی واحادیث نبوی کے معانی وتفسیر اپنی رائے سے بیان کرتاہے، امام غزالی اور امام رازی کو اپنے مقابلہ میں احمق وسفیہ کہتا ہے اور شبلی نیچری کی طرح صحابہ و محدثین و مفسرین رضی اﷲتعالٰی عنہم کو جھوٹا سمجھتا ہے۔
    (۲) اپنے لب بالا کے بال سکھوں کی طرح بڑھائے رکھتا ہے۔
    (۳) موسم سرما میں بعد جماع کے غسل جنابت اور وضو کے بجائے تیمم کرکے بارہا امامت کی۔
    (۴) مسجد میں بیٹھ کر مسجد کے ظروف گلی میں اسپرٹ آمیز دواپی، اسپرٹ کو حرام وناپاک نہیں سمجھتا ہے۔
    (۵) سود پر روپیہ دیتا ہے اور سود لینا جائز سمجھتا ہے۔
    (۶) رمضان میں بلاعذر علالت ومسافرت روزوں کے بجائے فدیہ دے دینا کافی سمجھتا ہے، یطیقونہ میں سلب ماخذ یا حذفِ لاکو نہیں مانتا۔
    (۷) ایک محصنہ عورت سے ربط وضبط پیداکرکے اس کے شوہر کو دھوکا دے کر طلاق دلواکر اپنے تصرف میں لایا۔
    (۸) اس کے دور کے رشتہ دار اس کی جوروؤں کے ساتھ اس کے پیچھے اور اس کے سامنے بے تکلف مخالطت رکھتے ہیں اور وہ منع نہیں کرتا ، اس کی جورو اس کے ماں باپ کو مغلظات فحش گالیاں دیتی ہے اور وہ خاموش سنتا رہتا ہے۔
    (۹) ایک مرتبہ نماز مغرب میں دورکعت پڑھ کر سلام پھیر دیا، آگاہ کرنے پر کہا کہ بحالتِ مسافرت قصدا قصر کیا تھا۔
    (۱۰) ایک مرتبہ نماز عشاء میں ایک رکعت میں آیہ الکرسی پڑھی لیکن چند الفاظ چھوڑ گیا متنبہ کرنے پر کہا تین آیت کی مقدار پڑھنے کے بعد غلطی ہوجانے سے نماز کااعادہ ضروری نہیں ۔
    (۱۱) ہزارہا مسلمانوں کے ایک جلسہ میں ایک آیت کی تفسیرمیں رجال کے معنی میں عورتوں کو بھی شامل کرکے بیان کیا کہ حضرت نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نہ کسی مرد کے باپ تھے اور نہ کسی عورت کے باپ تھے۔
    (۱۲) اپنے پیر کو کہتا ہے کہ وہ بمنزلہ حضرت یحیی علیہ السلام کے ہے اور اپنے آپ کوبمنزلہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کے بتاتا ہے اور کہتا ہے کہ میرا پیر جب کسی کو مرید کرتا ہے، اس سے مراد ہے کہ میری بیعت لیتا ہے اور جو دوسرے مشائخ مرید کرتے ہیں وہ بھی میری بیعت میں داخل ہوتے ہیں اس طرح کنایۃ دعوی نبوت و رسالت بھی کرتاہے۔
    الجواب
    (۱) فقہ حنفی کی تحقیر ضلالت ہے۔ تفسیر بالرائے حرام امام غزالی اور امام رازی کو اپنے مقابلہ میں ایسے الفاظ سخیفہ سے یاد کرنا سخت تکبر ہے اور متکبروں کا ٹھکانا جہنم ہے،
    الیس فی جھنم مثوی للمتکبرین۔ کیا مغرور کا ٹھکانا جہنم میں نہیں(ت)
    صحابہ کرام کو جھوٹا سمجھنے والا گمراہ بددین ہے۔ اور اگر سب صحابہ کو عموماً ایسا سمجھے تو کافر بالیقین ہے۔
    (۲) لب بالا کے بال حد سے متجاوز رکھنا سنت کی مخالفت اور کافروں سے تشبّہ ہے۔
    (۳) پانی اگر ضرر نہ کرتا ہو تو صرف خوف سردی سے تیمم کرنا حرام ہے اور نماز باطل اور اس کے پیچھے سب کی نماز باطل ایسا کرنے والا اشد فاسق۔
    (۴) اسپرٹ حرام ہی نہیں بلکہ نجس بھی ہے، اپنے ہی منہ میں پینا، توحرام ونجس چیز کھانے پینے کا آج کل ہر شخص کو اختیار ہے، مگر مسجد کے برتن نجس کئے کہ مسلمانوں کے جامہ و بدن ناپاک اور وضو و نماز باطل ہوں، یہ صاف دلیل ہے کہ یہ شخص شریعت پر سخت جری وبیباک ہے۔
    (۵) سود لینے کو حلال جاننا کفر صریح ہے اور حرام جان کر ایک درم سود کھانا اپنی ماں سے ۳۶ بار زنا کے برابر ہے۔من اکل درھم رباً وھو یعلم فکانما زنی بامہ ستاوثلثین مرۃ۱؎۔ جس نے عمداً ایک درہم سود کھایا اس نے اپنی ماں سے چھتیس ۳۶دفعہ زنا کیا۔(ت) (۱؎ مسند امام احمد بن حنبل حدیث حضرت عبداﷲ بن حنظلہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ دارالفکر بیروت ۵/ ۲۲۵)
    (۶) بے عذر مرض و سفر روزے رمضان کے نہ رکھنا اور فدیہ کافی جاننا قرآن عظیم کی تحریف اور نئی شریعت کا ایجاد اور جہنم کبرٰی کا استحقاق ہے۔نولہ ماتولی ونصلہ جھنم وساءت مصیرا۲؎۔ ہم اسے اس کے حال پر چھوڑدیں گے اور اسے دوزخ میں داخل کریں گے اور کیا ہی بری جگہ پلٹنے کی۔(ت)(۲؎ القرآن الکریم ۴/ ۱۱۵)
    (۷) سائل نے تصرف میں لانا مطلق لکھا اگر بلا نکاح یا عدت کے اندر نکاح کے ساتھ ہے توزنا ہے، ورنہ دھوکا دینے پر سرکارِ دو عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: من غشنا فلیس منا۳؎۔ جس نے ملاوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں۔(ت)(۳؎ صحیح مسلم کتاب الایمان باب قول النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من غشنا فلیس منا قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۷۰)
    (۸) اپنی منکوحہ پرغیرت نہ کرنے والا دیوث ہے اور ماں باپ کو فحش گالیاں جورو سے سن کر خاموش رہنے والا عاق ہےاور دیوث وعاق دونوں کو فرمایا کہ وہ جنت میں نہ جائیں گے۔
    (۹) مغرب میں قصر کرنا نئی شریعت کا نکالنا اور اﷲ تعالٰی پر افتراء ہے،ان الذین یفترون علی اﷲ الکذب لایفلحون۱؎۔ بیشک جو اﷲ پر جھوٹ باندھتے ہیں انکا بھلا نہ ہوگا۔(ت)(۱؎ القرآن الکریم ۱۰/ ۶۹)
    (۱۰) آیۃ الکرسی میں چند الفاظ کا بیچ میں سے چھوڑجانا اگرچہ ایک مذہب پر مطلقا مفسد نماز ہے جبکہ صرف آیۃ الکرسی ہی پڑھی ہو اور جب کوئی لفظ چھوٹ گیا آیت پوری نہ ہوئی، مذہب راجح میں بے فساد معنی فسادِ نماز نہیں، اور واجب بھی ادا ہوجائے گا جبکہ باقی تین آیت کی قدر ہو، مگر یہ مسئلہ کہ تین آیت کی قدر پڑھنے کے بعد کوئی غلطی مفسدِ نماز نہیں ہوتی محض باطل ۔
    (۱۱) یہ صراحۃ آیہ کریمہ یاایھاالنبی قل لازواجک وبناتک۲؎ ۔(اے نبی!اپنی بیبیوں اور صاحبزادیوں سے فرمادو۔ت) کی تکذیب ہے اورآیت کی تکذیب کفر۔ (۲؎ القرآن الکریم ۳۳/ ۵۹)
    (۱۲) اس قول میں کمال تکبر ہے اور وہ آیہ کریمہ لقد استکبر وافی انفسھم وعتواعتواکبیرا۳؎ ۔(بیشک اپنے جی میں بہت ہی اونچی کھینچی اور بڑی سرکشی پرآئے۔ت) میں داخل ہوتا ہے اور یہ کہ جو بیعت لیتا ہے میری ہی لئے لیتا ہے درپردہ رسالت ونبوت یا کم از کم غوثیت عظمٰی کا ادعا ہے،(۳؎القرآن الکریم ۲۵/ ۲۱)
    بالجملہ افعال واقوال مذکورہ فسق وضلال وکفر میں دائر ہیں ایسے شخص کے پیچھے نماز باطل محض ہے ، جو مسلمان اس کی اقتداء سے بچتا ہے وہ بہت اچھا کرتا ہے اس پر ملامت حق پر ملامت ہے، جو اس کے پیچھے نماز پڑھے وہی مستحق ملامت، بلکہ سزا وارعذاب شدید ہے، والعیاذ باﷲ، واﷲ تعالٰی اعلم۔
  6. ‏ ستمبر 1, 2014 #6
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    مسئلہ۱۲۱: از شہر پونہ گھوڑ پوڑی بازار متصل مسجد مکان نمبر۲۷بھولی بخش بالور
    کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک عورت ہے، وہ پیشتر قوم چمار تھی، بعد میں مسلمان ہو کر ایک مرد مسلمان سے اس نے نکاح کرلیا، اس سے پہلے اسی قوم میں شادی ہوچکی تھی، کیونکہ اس کے ایک لڑکا ہے، اب وہ عورت اپنی قوم میں جانا چاہتی ہے اور اس کے خاندان کے لوگ اور اس کا بیٹا اس کو ورغلارہے ہیں کہ تو اپنی قوم میں آجا تجھ کو اچھی طرح رکھیں گے، اور وہ عورت میرے یہاں کھانا پکانے پر ملازم ہے اور وہ عورت بھی جانا چاہتی ہے، تو اب ہم کو شرع شریف کیا حکم دیتی ہے کہ ہم کس طریقہ سے اس کو رکھیں اور اس کے اسلام میں تو کوئی ضعف نہیں ہے اور ہم کو اسے کیسی امداد دینی چاہئے اور وہ میرے قبضہ میں بھی ہے اور اس کو ہم نے سمجھا سمجھا کر رکھا ہے ورنہ وہ اب تک اپنی قوم میں شریک ہوجاتی، فقط۔
    الجواب: جب وہ کافروں میں جاملنا اور کافر ہونا چاہتی ہے تو وہ کافر ہوگئی جبراً روک رکھنے سے مسلمان نہیں ہوسکتی، ہاں اگریہ سمجھا جائے کہ اس روکنے سے وہ خواہش کفر اس کے دل سے نکل جائے گی اور پھر صدق دل سے مسلمان ہوجائے گی تو روکا جائے ورنہ دور کیا جائے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔

    مسئلہ۱۲۲: از درؤ ڈاک خانہ خاص ضلع نینی تال مرسلہ عبداﷲ۶شعبان المعظم ۱۳۳۷ھ
    کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کچھ آدمی حضور کے عقائد کو بہت اچھا اور بہتر جانتے ہیں اور دیوبندی مولویوں کے عقاید کو بہت براجانتے ہیں اور بڑے پکے سنت جماعت ہیں لیکن بہ سبب بے علمی اور نادانی کے ان کے پیچھے نماز پڑھ لیتے ہیں، حضور کی تحریروں سے اتنا شوق نہیں جو حق اور ناحق معلوم کریں، آیا ان کے پیچھے بھی نماز پڑھی جائے یانہیں؟اور اس مرض میں بہت مخلوق مبتلا ہے۔
    الجواب: جسے یہ معلوم ہوکہ دیوبندیوں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی توہین کی ہے پھر ان کے پیچھے نماز پڑھتا ہے اسے مسلمان نہ کہا جائے گا کہ پیچھے نماز پڑھنا اس کی ظاہر دلیل ہے کہ ان کو مسلمان سمجھا اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی توہین کرنے والے کو مسلمان سمجھنا کفر ہے اسی لئے علمائے حرمین شریفین نے بالاتفاق دیوبندیوں کو کافرمرتد لکھا اور صاف فرمایاکہ:من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر۱؎۔ جس نے ان کے کفر وعذاب میں شک کیا وہ بھی کافر ہے(ت)(۱؎ مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب احکام الجزیہداراحیاء التراث العربی بیروت۱/ ۶۷۷)(حسام الحرمین مکتبہ نبویہ لاہور ص۳۱)جوان کے عقائد پر مطلع ہو کر انہیں مسلمان جاننا درکنار ان کے کفر میں شک ہی کرے وہ بھی کافر اور جن کو اس کی خبر نہیں اجمالاً اتنا معلوم ہے کہ یہ برے لوگ بدعقیدہ بد مذہب ہیں وہ ان کے پیچھے نماز پڑھنے سے سخت اشد گنہگار ہوتے ہیں اور ان کی وہ نمازیں سب باطل وبیکار، واﷲ تعالٰی اعلم۔

    مسئلہ۱۲۳:از بخشی بازار کٹک مرسلہ محمدعبدالرزاق ۱۲رمضان ۱۳۳۸ھ
    کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص کا عقیدہ ہے اﷲ ورسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا علم برابر ہے اور دوسرا شخص یہ کہتا ہے کہ رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے مغیبات عطیہ تھے، خدا کے علم کے مقابلے میں حضرت کا علم کروڑہا سمندر کے مقابلہ میں ایک قطرہ سے بھی کم ہے، اور شخص اول شخص دوم کو کافر و مشرک ووہابی جانتا ہے ، خواہ عالم ہو یا جاہل ہم لوگوں نے یہ سنا ہے کہ مولوی احمد رضاخاں صاحب کے برابر کوئی عالم نہیں ہے، اور مجدد مائۃ حاضرہ آپ ہی ہیں، اور شخص اول ایصال ثواب کو جو عوام الناس دن مقرر کرتے ہیں واجبات میں سے جانتا ہے، اور جوایصال ثواب کو بلا تعین کرتا ہے اس کو خاطی کہتا ہے اور اہلسنت سے خارج ، اور ایصال ثواب کے واسطے دن مقرر کرنے کو سنت سمجھتا ہے اور کہتا ہے مجدد مائۃ حاضرہ کا بھی یہی عقیدہ ہے، اس میں حق کیا ہے؟ اور ان دونوں میں کون کافر ہے کون مسلمان؟
    الجواب: علم الٰہی سے مساوات کا دعوٰی بیشک باطل ومردود ہے مگر تکفیر اس پر بھی نہیں ہوسکتی جب کہ بعطائے الٰہی مانے، اور بلاشبہہ حق یہی ہے کہ تمام انبیاء و مرسلین و ملائکہ مقربین واولین آخرین کے مجموعہ علوم مل کر علم باری سے وہ نسبت نہیں رکھ سکتے جو ایک بوند کے کروڑویں حصہ کو کروڑوں سمندروں سے ہے، اور ایصال ثواب کے لئے تعین تاریخ بلاشبہہ جائز ہے اور سنت مسلمین ، یعنی ان کا طریقہ مسلوکہ ہے مگر اسے واجب جاننا باطل محض ہے یونہی سرکار رسالت کی سنت سمجھنا، واﷲ تعالٰی اعلم۔

    مسئلہ۱۲۴:از گڑھنگ لج ڈاکخانہ ضلع کولھاپور جامع مسجد مرسلہ آدم شاہ پیش امام ۴رمضان ۱۳۳۸ھ
    ایک خاندانی شخص آئین دین وقوانین شریعت کو قصداً وعمداً نہیں مانتا اور اپنے ہی قول وفعل پرہٹ دھرمی کرتا ہو یعنی قطعی جان بوجھ کر اپنی لڑکی کے حرام کی کمائی کھاتا ہو اور وضع حمل حرام ہونے تک اپنے گھر میں رکھ کر ہر قسم کا برتاؤ کرتا اور کسی کی نصیحت بھی نہ مانتا ہو ایسے موذی شخص کے بارے میں علمائے دین کس قسم کے برتاؤ کا حکم دیتے ہیں؟
    الجواب: ایسا شخص خبیث ومردود دیوث ہے بحکم حدیث اس پر جنت حرام ہے اور بحکم قرآن عظیم اس کے پاس بیٹھنا جائز نہیں، قال اﷲ تعالٰی واما ینسینک الشیطٰن فلا تقعد بعدالذکری مع القوم الظٰلمین۱؎۔ (۱؎ القرآن الکریم ۶/ ۶۸)
    اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اور جو کہیں تجھے شیطان بھلا دے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔(ت)
    مسلمان اسے یک لخت چھوڑدیں اور اس سے سلام کلام، میل جول، سب ترک کردیں جب تک صدق دل سے توبہ نہ کرلے، اس سے زیادہ یہاں کیا سزا ہوسکتی ہے ۔ واﷲ تعالٰی اعلم

    مسئلہ۱۲۵: از سرائے چھبیلہ ضلع بلند شہر مرسلہ راحت اﷲ صاحب امام مسجد جامع ۱۹رمضان ۱۳۳۸ھ
    زید کہتا ہے کہ سود کے معنی اور ہیں اور بیاج کے معنی اور ہم بہت نہیں لیتے ہیں اور کھلم کھلا سود کھاتا ہے اور اوروں کو کہتا ہے کہ تم سود کے معنے نہیں جانتے، اور جائز کہتا ہے، اس کے اصرار پر شرع کا کیا حکم ہے؟
    الجواب: سود مطلقاً حرام ہے بہت ہو یا تھوڑا،قال اﷲ تعالٰی:وحرم الربوٰ۱؎ ۔(اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اور حرام کیا سود۔ت) زید کا اسے حلال کہنا اس کی حلت پر اصرار کرنا موجب کفر ہے، اس پر توبہ فرض ہے، ازسرِ نو مسلمان ہو پھر اگر عورت راضی ہوتو اس سے نکاح جدید کرے، اور اگر نہ مانے تو مسلمان اسے قطعاً چھوڑدیں اس کے پاس بیٹھنا اٹھنا حرام ہے۔قال تعالٰی واما ینسینک الشیطٰن فلاتقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین۲؎۔ واﷲتعالٰی اعلم۔ اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اور جو کہیں تجھے شیطان بھلادے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھو۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔(۱؎ القرآن الکریم ۲/ ۲۸۵) (۲؎ القرآن الکریم۶/ ۶۸)

    مسئلہ۱۲۶:از موضع پرتاب پور پر گنہ وضلع بریلی مرسلہ محبوب عالم صاحب ۱۸/ربیع الآخر شریف ۱۳۳۸ھ
    کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید مرید خاندان عالیہ مداریہ میں ہے اور نماز و روزہ کا پابند ہے اور بصدق دل کلمہ لاالہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ پڑھتا ہے ، خد اکو حق اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو برحق اور عقیدہ اہل سنت وجماعت کا پابند ہے لہذا خدمت بابرکت میں مستدعی ہے کہ عند الشرع ایسا شخص مسلمان اور صاحب ایمان ہے یانہیں؟
    الجواب: جب وہ اﷲ ورسول کو برحق جانتا ہے اور تمام عقائد ایمانیہ کا سچے دل سے معتقد ہے اور کوئی قول یا فعل تکذیب یا توہین کا اس سے صادر نہیں ہوتا، جاہل مداریوں وغیرہم کی طرح شریعت کو لغو نہیں سمجھتا تو بیشک وہ مسلمان ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔

    مسئلہ۱۲۷تا۱۲۹: مسئولہ آدم ابراہیم صاحب از کچھ انجار ضلع کچھ بھوج بھوم پیر
    (۱) ایک شخص کہتا ہے کہ لاالٰہ الااﷲ فرض ہے محمد رسول اﷲ واجب ہے کیونکہ قرآنی آیت سے تو پورا کلمہ ایک جگہ ثابت نہیں، ہاں احادیث سے ضرور ثابت ہے، غلط ہے یاصحیح؟
    (۲) ایک شخص کہتا ہے کہ ہم کو قرآن وحدیث سے ضرور نہیں، تم آپ ہی اس کے ورق لوٹا کرو، نماز تم ہی پڑھو، سربیشے اور چوتڑ اوپر کون کرے، ایسے لوگوں کا کیاکہنا چاہئے اوربیعت ان سے کرنا کس طرح ہے؟زعم یہ ہے کہ قرآن مولویوں نے بنایا ہے مولویوں کے قرآن کو نہ ماننا چاہئے۔
    (۳) ایک شخص بروئے حلف یہ کہے کہ میں مسلمان ہوں وہابی نہیں، اﷲ کو ایک جانتا ہوں رسول اﷲ کو نبی برحق اور اولیائے عظام کو برابر جانتا ہوں، کرامت کا قائل ہوں، حنفی مذہب کا پابند ہوں، جو لوگ پھر بھی اعتبار نہ کریں تو کیا کیا جائے، قرآن اور اﷲ پر یقین نہ کرنے والوں کو کیا کہا جائے؟بینواتوجروا۔
    الجواب
    (۱) وہ شخض جھوٹ کہتا ہے، شریعت مطہرہ پر افترا کرتا ہے لاالہ الا اﷲ، محمد رسول اﷲدونوں کا ماننا فرض سے اعظم فرض اور یکساں فرض ہے،دونوں قرآن مجید میں ہیں، یکجا نہ ہونے سے ایک کی فرضیت کیوں جاتی رہی، بلکہ ان کی فرضیت تو قرآن مجید ماننے سے بھی مقدم ہے، قرآن مجید کا ماننا ان کے ماننے پر موقوف ہے بلکہ ان میں بھی پہلا جملہ بغیر دوسرے جملہ کے بیکار ہے اور دوسرے جملہ کے ماننے میں پہلے کا ماننا خودآگیا صرف لاالٰہ الااﷲ سے مسلمان نہیں ہوسکتا اور صرف محمد رسول اﷲ سچے دل سے ماننا اسلام کے لئے کافی ہے، جو اسے مانے محال ہے کہ لاالہ الااﷲ نہ مانے۔
    درمختار میں ہے: یلقن بذکر الشہادتین لان الاول لاتقبل بدون الثانیۃ۱؎۔(میت کو)دونوں شہادتوں کی تلقین کی جائے کیونکہ پہلی شہادت(توحید) دوسری شہادت (رسالت) کے بغیر مقبول ہی نہیں۔(ت)(۱؎ درمختار باب صلوٰۃ الجنائز مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۱۹)
    یہ کہنے والا اگر فرق فرض وواجب سے غافل ہے یونہی سنی سنائی اتنا جانتا ہے کہ فرض کا مرتبہ زیادہ ہے جب تو اسی قدر حکم ہے کہ کذاب ہے بیباک ہے شریعت پر مفتری ہے، مستحق عذاب نار ہے اس پر توبہ فرض ہے، اور اگر فرق جان کر کہتا ہے کہ محمد رسول اﷲ (حضرت محمد صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم اﷲ کے رسول ہیں۔ت)کاماننا یقینی لازم نہیں صرف ظنی ہے، تو قطعاً کافر مرتد ہے۔
    (۲) اس میں تین الفاظ ملعونہ اور تینوں کفر خالص ہے کافر مرتد کے ہاتھ پر بیعت کیا معنی!جوان اقوال پر مطلع ہو کر اسے مسلمان جانے یا اس کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔
    بزازیہ ومجمع الانہر ودرمختار وغیرہامیں ہے: من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر۱؎۔ جس نے ان کے کفر وعذاب میں شک کیا وہ بھی کافر ہے(ت)(۱؎ درمختار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۶)
    (۳) اگر اس میں کوئی بات وہابیت کی نہ دیکھی، نہ کوئی قوی وجہ شبہہ کی ہے تو بلاشبہہ شبہہ نہ کیا جائے بدگمانی حرام ہے ، اور اگر اس میں وہابیت پائی تو ثابت شدہ بات اس کی قسموں سے دفع نہ ہوجائے گی، وہابی اکثر ایسی قسمیں کھایا کرتے ہیں،
    قال اﷲ تعالٰی یحلفون باﷲ ماقالوا ولقد قالواکلمۃ الکفر وکفروا بعد اسلامھم۲؎۔ اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اﷲ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ انہو ں نے نہ کہا۔ اور بیشک ضرور انہوں نے کفر کی بات کہی اور اسلام میں آکر بعد میں کافر ہوگئے۔(ت)(۲؎ القرآن الکریم ۹/ ۷۳)نہ ان کی قسموں کا اعتبار ۔قال اﷲ تعالٰی:انھم لاایمان لھم۳؎۔ اﷲ تعالٰی نے فرمایا: بیشک ان کی قسمیں کچھ نہیں۔ (۳؎ القرآن الکریم ۹/ ۱۲)
    اور اگر کسی وجہ سے شبہہ ہے تو صرف ان قسموں پر قناعت نہ کریں بلکہ اس سے دریافت کریں کہ تو اسمٰعیل دہلوی ونذیر حسین دہلوی ورشید احمد گنگوہی وقاسم نانوتوی واشرف علی تھانوی اور ان کی کتابوں تقویۃ الایمان و معیار الحق وبراہین قاطعہ وتحذیر الناس وحفظ الایمان وبہشتی زیور وغیرہا کو کیسا جانتا ہے، اگر صاف کہے کہ یہ لوگ بے دین گمراہ ہیں اور یہ کتابیں کفر وضلالت سے بھری ہوئی ہیں، تو ظاہر یہ ہے کہ وہابی نہیں ورنہ ضرور وہابی ہے، جھوٹوں کی قسم پر اعتبار نہ کرنا قرآن اور اﷲ پر اعتبار نہ کرنا نہیں ، اذاجاءک المنٰفقون قالوانشھد انک لرسول اﷲ واﷲ یعلم انک لرسولہ واﷲ یشھد ان المنٰفقین لکٰذبونoاتخذواایمانھم جنۃ فصدوا عن سبیل اﷲ انھم ساء ماکانوا یعلمونo۱؎واﷲ تعالٰی اعلم۔ جب منافق تمہارے حضور حاضر ہوتے ہیں کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ حضور بیشک یقینا اﷲ کے رسول ہیں، اور اﷲ جانتا ہے کہ تم اس کے رسول ہو، اور اﷲ گواہی دیتا ہے کہ منافق ضرورجھوٹے ہیں، اور انہو ں نے اپنی قسموں کو ڈھال ٹھہرالیا تو اﷲ کی راہ سے روکا ، بیشک وہ ہی برے کام کرتے ہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت)(۱؎ القرآن الکریم۶۳/ ۲۔۱)

    مسئلہ۱۳۰:کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین ان لوگوں کے بارے میں جو نہ توعلمائے کرام کے فتاوٰی پر عمل کریں اور نہ مانیں بلکہ علمائے کرام ورثۃ الانبیاء کومحض اس بغض پر کہ ان کے کاموں کو کیوں ناجائز بتلاتے ہیں، برا کہیں۔
    الجواب: یہ جو طلب کیا جاتا ہے وہ بھی تو فتوٰی ہی ہوگا جو فتوٰی نہیں مانتے ان پر اس کا کیااثر ہوگا، عالم دین سے بلاوجہ ظاہر بغض رکھنے پرخوف کفر ہے نہ کہ جب کہ وہ بغض ان کا فتوٰی شرعی ہو۔
    منح الروض وغیرہ میں ہے: من ابغض عالما بغیر سبب ظاہر خیف علیہ الکفر۲؎۔ جس نے سبب ظاہری کے بغیر کسی عالم سے بغض رکھا اس پر کفر کا خوف ہے(ت)(۲ ؎ منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر فصل فی العلم والعلماء مصطفی البابی مصر ص۱۷۳)
    عالم دین کی توہین کھلے منافق کا کام ہے اورفقہ میں ان پر حکم کفر ۔ حضور اقدس سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: ثلثۃ لایستخف بحقھم الامنافق بین النفاق ذوالعلم وذوالشیبۃ فی الاسلام وامام مقسط۳؎۔ تین آدمیوں کی بے ادبی وتوہین کرنے والا اعلانیہ منافق ہے:صاحب علم، مسلمان بوڑھا اور عادل حاکم۔(ت)(۳؎ المعجم الکبیر حدیث۷۸۱۹ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۸/ ۲۳۸)(کنزالعمال حدیث ۴۳۸۱۱ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۶/ ۳۲)
    مجمع الانہر میں ہے: الاستخفاف بالاشراف والعلماء کفر ومن قال للعالم عویلم او لعلوی علیوی قاصدابہ الاستخفاف کفر۱؎۔ سادات اور علمائے کی توہین کفر ہے، جس نے بے ادبی وگستاخی کی نیت سے کسی عالم کو عویلم (ادنی عالم) یا کسی علوی کوعلیوی کہا اس نے کفر کیا(ت)(۱؎ مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب الفاظ الکفر انواع داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۶۹۵)مگر وہاں کیاجائے شکایت جہاں قرآن وحدیث کی عمر بت پرستی پر نثار کی جاتی ہو۔
    سبحٰن مقلب القلوب والابصار، ربنا لاتزغ قلوبنا بعد اذھدیتنا وھب لنا من لدنک رحمۃ انک انت الوھاب۲؎۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ پاک ہے وہ ذات جو دل و نگاہ کو بدل دیتی ہے اے ہمارے پر وردگار !ہمیں اپنی ہدایت عطا کرنے کے بعدہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ فرما اور ہمیں اپنی طرف سے رحمت عطا فرما، بلا شبہہ تو ہی عطا کرنے والا ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت)(۲؎ القرآن الکریم ۳/ ۸)

    مسئلہ۱۳۱تا۱۳۳:مسئولہ میرفدا علی صاحب ازشہر کہنہ انسپکٹر چونگی ۲۷ذی الحجہ ۱۳۳۸ھ
    کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ :
    (۱) زید عالم فرقہ وہابیہ کے شاگرد کے پیچھے روزانہ نماز پڑھتا ہے اور عالم مذکور کے کہنے کو مانتا ہے خواہ وہ کہنا اس کا کسی طور پر بظاہر نیک کام کے واسطے ہو اور خود بھی مشورہ کے لئے اس کے پاس جاتا ہے نیز عالم اہل سنت کی خدمت حاضر ہوتا ہے خواہ یہ حاضری کسی نیک کام کےلئے ہو اور اپنے آپ کو سنی بھی کہتا ہے، ایسی حالت میں بموجب شریعت اسے اہل سنت وجماعت کہا جاسکتا ہے یانہیں؟
    (۲) عمروعالم فرقہ وہابیہ کے شاگرد کے پیچھے نماز پڑھتا ہے اور اپنے آپ کو سنی کہتا ہے اور اعتراض ہونے پر یہ جواب دیتاہے کہ یہ علماء کے جھگڑے ہیں یہ ان کو براکہیں وہ ان کو برا کہیں ہماری نماز سب کے پیچھے ہوجائے گی، علماء کی باتیں علماء جانیں، ایسی صورت میں عمرو سنی کہا جاسکتا ہے (۳)یانہیں، اور ایسا جواب دینا اس کا ٹھیک ہے یانہیں؟
    بکر اپنے آپ کو سنی کہتا ہے اور فرقہ وہابیہ اور غیر مقلدوں کے معاملہ میں کہتا ہے کہ یہ سب قرآن وحدیث کے ماننے والے ہیں، جھگڑے کی باتیں نہیں نکالنا چاہئے، سب حق پر ہیں، ایسی کیفیت میں بکر کو سنی کہا جاسکتا ہے یانہیں؟بینواتوجروا۔
    الجواب
    (۱) اگر وہابی کاشاگرد وہابی ہے اور یہ اسے وہابی جانتا ہے پھر اسے قابل امامت مانتا ہے خلاصہ یہ کہ کسی وہابی کو وہابی جان کر کافر نہیں جانتا وہ سنی کیا مسلمان بھی نہیں ہوسکتا۔
    (۲) ایسی صورت میں عمرو سنی کیا مسلمان بھی نہیں کہ اس کے نزدیک اسلام و کفر یکساں ہیں اور کفر کا ردجھگڑا ہے۔
    (۳) ایسی صورت میں بکر کافر و مرتد محض ہے۔واﷲتعالٰی اعلم۔

    مسئلہ۱۳۴:ازشہر عقب کو توالی مسئولہ ولایت حسین وعبدالرحمٰن ۹محرم الحرام ۱۳۳۹ھ
    علمائے دین کیافرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ میں ایمان سے کہتا ہوں اور قسم کھاتا ہوں کہ میں نہ تو پہلے قادیانی تھا اور نہ اب ہوں، قادیانی پر لعنت کرتا ہوں، میں اہل سنت و جماعت ہوں اگر کوئی شخص مجھ پر بعد توبہ کرنے کے الزام دے تو وہ مواخذہ دار ہوگا یانہیں؟یااگر میرا میل کسی وقت ان لوگوں سے کوئی ثابت کرے تو میں سب لوگوں کامواخذہ دار ہوں گا، قادیانی کو کافر جانتا ہوں۔ العبد ولایت حسین
    گواہان:عبدالرحمٰن بقلم خود، مسیح اﷲ بقلم خود، قادر حسین بقلم خود، امانت حسین بقلم خود، مولوی محمد رضاخاں بقلم خود، صادق حسین بقلم خود، محمد محسن بقلم خود، لیاقت حسین بقلم خود، فقیر محمد حشمت علی خان رضوی،فقیر ایوب علی رضوی بقلم خود، قناعت علی قادری رضوی بقلم خود۔
    الجواب:اﷲ تعالٰی توبہ قبول فرماتا ہے اور بعد توبہ کے گناہ باقی نہیں رہتا، نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: التائب من الذنب کمن لاذنب لہ۱؎۔ گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہوتا ہے کہ گویا گناہ کیا ہی نہیں۔(۱؎ سنن ابن ماجہ کتاب الزہد باب ذکر التوبۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۲۳)
    قادیانیوں کے ساتھ میل جول سے انہو ں نے پہلے بھی ایک مجمع میں توبہ کی تھی اور آج پھر ایک مجمع میں توبہ کی تھی پھر ایک مجمع کے ساتھ آئے جن کے دستخط اوپر ہیں اور دوبارہ توبہ کی، توبہ کے بعد ان پر بلاوجہ جو کوئی الزام رکھے گا وہ سخت گنہگار ہوگا اور توبہ کے بعد اگر پھر یہ میل جول کریں گے تو ان پرگناہ عظیم کا بار ہوگا مگر بلاوجہ توبہ کے بعدالزام رکھناسخت جرم ہے، واﷲ تعالٰی اعلم۔

    مسئلہ۱۳۵:از نو شہرہ تحصیل جام پور ضلع ڈیرہ غازی خاں مسئولہ عبدالغفور صاحب ۱۴محرم الحرام۱۳۳۹ھ
    ایک مرزائی قادیانی کاسوال ہے کہ ابن ماجہ کی حدیث ہے، رسول اﷲ صلی ا ﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:ہر صدی کے بعد مجدد ضرور آئے گا۔مرزا صاحب مجدد وقت ہے۔ عالی جاہ!اس قوم نے لوگوں کو بہت خراب کیا ہے، ثبوت کے لئے کوئی رسالہ وغیرہ ارسال فرمائیں تاکہ گمراہی سے بچیں۔
    الجواب: مجدد کا کم از کم مسلمان ہونا تو ضرور ہے اور قادیانی کافر مرتد تھا ایسا کہ تمام علمائے حرمین شریفین نے بالاتفاق تحریر فرمایا کہ: من شک فی کفرہ و عذابہ فقد کفر۱؂۔ جو اس کے کافراور عذاب ہونے میں شک کرے وہ بھی کافر۔(۱؎ درمختار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۶)(حسام الحرمین مکتبہ نبویہ لاہور ص۳۱)لیڈر بننے والوں کی ایک ناپاک پارٹی قائم ہوئی ہے جو گاندھی مشرک کو رہبر، دین کا امام و پیشوامانتے ہیں، نہ گاندھی امام ہوسکتا ہے نہ قادیانی مجدد، السوء والعقاب وقہر الدیان وحسام الحرمین مطبع اہلسنت بریلی سے منگائیں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔

    مسئلہ۱۳۶: ازشہر محلہ شاہ آباد مسئولہ شیخ الطاف احمد صاحب رضوی۱۸محرم الحرام۱۳۳۹ھ
    کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ میں نے مولانا صاحب مسجد جانی سے کہا کہ اگر رافضی تکبیر تمہاری جماعت میں آکر کہے تو تکبیر شمار کی جائے گی یانہیں؟کہا:رافضی کی تکبیر شمار نہیں کی جائے گی کیونکہ وہ مسلمان نہیں ہیں: میں نے کہا: اگر وہابی تکبیر کہے تو وہ تکبیر شمار ہوگی یانہیں؟کہا:تو کیا یہ مسلمان نہیں سمجھے جاتے ہیں کیا حرج ہے، میں نے کہا: یہ مسلمان نہیں سمجھے جاتے۔ جواب ملا:کیا خوب۔ علاوہ اس کے امام مسجد مذکورہ کی نشست بھی رہتی ہے، لہذاایسی صورت میں اگر اس کے پیچھے نماز نہ پڑھی تو اچھا کیا یا برا؟نماز نہ پڑھنے والا توبہ کرے اور معافی چاہے یاامام ؟بینواتوجروا۔
    الجواب:صورت مذکورہ میں ایسے شخص کے پیچھے نماز جائز نہیں ، اس کے پیچھے نماز نہ پڑھنے والے نے بہت اچھا کیا؟اس پر کچھ الزام نہیں، اس امام پر لازم ہے کہ توبہ کرے اور سنی ہو۔واﷲ تعالٰی اعلم۔

    مسئلہ۱۳۷: ازشہر محلہ کانکرٹولہ مسئولہ سید فرحت علی صاحب۱۸محرم الحرام ۱۳۳۹ھ
    کیافرماتے ہیں علمائے اہلسنت اس مسئلہ میں کہ زید مسلمانوں کے ایک گروہ کا سردار بننا چاہتا ہے، لیکن علمائے وہابیہ کو اچھا کہتا اور کہتا ہے کہ وہ علمائے دین ہیں، ان کے وعظ سنتا ہے، ان سے فتوے لیتا ہے، ان پر عمل کرتا ہے، نماز فجر کی اندھیرے سے پڑھتا ہے، اکثر نماز میں سنتیں ترک کرتا ہے، میلاد شریف میں قیام کے بعد آتا ہے یا پہلے سے کھڑا ہوجاتا ہے، اور کبھی آتا بھی نہیں ، اور کہتا ہے کہ میلاد شریف اتنی دیر نہ پڑھنی چاہئے کہ نماز صبح کی قضا ہوجائے کیونکہ میلاد سے نماز مقدم ہے۔ زید سے مسلمانوں کو بدگمانی ہوئی تو زید نے کہا کہ میں اﷲ کو جانوں، اس کے رسول کو پہچانوں صحابہ کو سمجھوں، آل پر فدا ہوں۔ تو مسلمانوں نے کہا کہ اچھا تم گیارھویں شریف کرو یا میلاد شریف کرو۔ کہا میرے پاس پیسہ نہیں تم کرو میں بھی سر پر رکھ کر کھالوں گا۔ ایسی صورت میں مسلمان زید کو اپنا سردارمانیں اور اس کی باتوں پر عمل کریں اور اس سے میل جول رکھیں یانہیں؟اور جو مسلمان سردار مانیں یا اس سے ملیں اس کی باتوں پر عمل کریں ان پر کیا حکم ہے؟اورزید ہمارے اہلسنت کے گروہ میں کس حکم سے داخل ہوسکتا ہے پھر ا س حکم پربھی اسکو سردار مانا جائے یانہیں؟بینواتوجروا۔
    الجواب:جو شخص دیوبندیوں کو مسلمان ہی جانے یا ان کے کفر میں شک کرے بفتوائے علمائے حرمین شریفین ایساشخص خود کافر ہے کہ: من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر۱؎۔ جو اس کے کفر وعذاب میں شک کرے وہ بھی کافر ہے(ت)(۱؎ درمختار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۶)(حسام الحرمین مکتبہ نبویہ لاہور ص۳۱)
    پھر وہ سردار مسلمانان کیسے ہوسکتا ہے ،گیارہویں شریف کی نیاز کھالینا دلیل اسلام نہیں بڑے بڑے کٹر وہابی جو اسے حرام وشرک کہتے ہیں کھانے کو آپ سب سے پہلے دوڑ دوڑ کر جاتے ہیں، ایسا شخص جب تک وہابیہ اور خصوصاً ان دیوبندیوں کو جنہیں علمائے حرمین شریفین نے کافر لکھا نام بنام بالاعلان کافر نہ کہے اس کی توبہ صحیح نہیں ہوسکتی۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
  7. ‏ ستمبر 1, 2014 #7
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    مسئلہ۱۴۸تا۱۵۳:ازشہر کہنہ محلہ روہیلی ٹولہ مسئولہ محمد خلیل الدین احمد صاحب ۱۹محرم ۱۳۳۹ھ
    جس طرح کہ ایران میں باب اور بہاؤ کو پیشروبناکر بابی وبہائی جدید فرقے بنائے گئے اور ہندوستان میں گرو نانک ،کبیر، سید احمد جونپور، سید احمد رائے بریلوی، سید احمد کولی، آغا خاں اور مرزائی قادیانی کو پیشوا، مہدی ، لیڈر، نبی اور خدابناکرجدید فرقے بنائے گئے۔ اسی طرح اس وقت محض برائے نام مسلمان لیڈروں اور مولویوں نے ایک ہندو لیڈر مسٹر گاندھی کو اپنا پیشوا بناکر ایک جدید فرقہ بنایا ہے اور ان کی نسبت اب تک بذریعہ اخبارات، رسالہ جات، اشتہارات،مشاہدات اور مسموعات امور ذیل معلوم ہوتے ہیں:
    (۱) ایک مولوی صاحب لکھتے ہیں کہ حضرت سرور عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ایک سفر میں ایک کافر کو اپنا رہنما بنایا تھا اسی طرح ہم نے مسٹر گاندھی کو اپنا ہادی بنایا ہے، اور صاف لکھ دیا کہ ہمارا حال اس شعر کا مصداق ہے ؎
    عمرے کے بآیات واحادیث گزشت
    رفتے ونثار بت پرستی کردے
    (وہ عمر جو آیات واحادیث میں گزری ہے وہ ختم ہوگئی اور وہ بت پرستی کی نذر کردی)
    (۲) کہتے ہیں کہ حضرت سرور عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے عرب کے کافر قبائل سے موالات کی تھی ہم کفارِ ہند سے موالات کرتے ہیں۔
    (۳) مسجد میں ہندوؤں سے منبر پر لکچر دلوائے گئے اور کہا گیا کہ مسجد نبوی میں وفودِ کفار قیام کرتے تھے اور اپنے طریقے پر عبادت بھی کرتے تھے، اور کفار کا داخلہ مخصوص بمسجد الحرام ایک خاص وقت کے واسطے منع تھا۔
    (۴) بعض لیڈروں نے جن کو مولانا کا بھی خطاب دے دیا گیا ہے مندروں میں جاکر اپنے ماتھوں پر ہندوؤں سے ٹیکے لگوائے ۔ کہتے ہیں کہ قشقہ شعار کفر اور منافی اسلام نہیں ہے۔
    (۵) پارٹی مذکور کے اس مولانا نے ہمدم میں چھاپ دیا ہے کہ ہماری جماعت ایک ایسا مذہب بنانے کی فکر میں ہے جو ہندو مسلم امتیاز اٹھادے گا اور سنگم و پریاگ کو مقدس مقام بنائے گا پارٹی مذکور نے اسے مقبول رکھا اور کسی نے چون وچرا نہ کیا۔
    (۶) پارٹی مذکور کے اس مولانا نے شائع کیا ہے کہ اگرآج تم نے ہندو بھائیوں کوراضی کرلیا تو اپنے خدا کو راضی کروگے۔
    (۷) ایک ہندو کی ٹکٹی اپنے کاندھوں پر اٹھا کر اس کی جے پکارتے ہوئے سروپابر ہنہ مرگھٹ تک لے گئے ایک بت اٹھایا گیا اس کے ساتھ سرپابر ہنہ جے پکارتے سڑکوں پر گشت کیاگیا۔
    (۸) اس کے ماتم کے لئے سروپابرہنہ مساجد میں جمع ہوئے اور اسکے لئے دعائے مغفرت اور نماز کے اشتہار دئے اور اس پر کاربند ہوئے، اسکے ماتم میں مسجدیں بے چراغ رکھی گئیں۔
    (۹) ہولی کے سوانگ میں ہندوؤں نے بزرگان اسلام کی تحقیر وتوہین کی، مسلمانوں نے ہندو مسلم اتحاد کو مدنظر رکھ کر کچھ تعرض نہ کیا اور چشم پوشی کی۔
    (۱۰) مسٹرگاندھی کے فرمان کے بموجب روزے رکھے گئے اس کے حکم پر نفل نمازیں پڑھی گئیں اور کاروبار بند کرکے معطل رہے۔
    (۱۱) ایک ہندو لیڈر کے حکم سے ایک ڈولا سجایا گیا اور اس میں قرآن مجید، بائیبل اور رامائن رکھ کر ان کی پوجا کراتے مندر میں لے گئے۔
    (۱۲) مسٹر گاندھی اور اس کے قوم کو خوش اور راضی کرنے کی غرض سے ایک جائز مشروع فعل قربانی گاؤ کو ممنوع اور ترک کرکے در پردہ ایک شعار اسلام سے مسلمانوں کو باز رکھا گیا اور ایک امر حلال کو حرام قرار دیا گیا، ایک بکری کی قربانی ایک خاندان(اگرچہ ساٹھ ستر آدمیوں کا ہو) کی طرف سے جائز سمجھی گئی اور حضرت سرور عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف سے قربانی کرنا غیر ضروری بتایا گیا۔
    (۱۳) خلافت کی مصنوعی حمایت کے حیلہ سے ہزارہا مسلمانوں کو ہجرت افغانستان اور جہاد کی ترغیب دے کر خانماں برباد ویران وپریشان بنایا گیا۔
    (۱۴) کٹار پور کے ہندوؤں نے قربانی گاؤ کے پیچھے مسلمانوں پر شدید ظلم توڑے، انہیں بے دریغ ذبح کیا، انہیں آگ سے جلایا، اس پر ان میں سے بعض گرفتار ہوئے جن پرثبوت کامل ہوگیا اس خیر خواہ اسلام پارٹی نے ان کی معافی کے ریزولیوشن پاس اور گورنمنٹ کو ان کی رہائی کے لئے تار دئے اور مظالم ہولاگڈھ سے چشم پوشی و بے اعتنائی کی گئی۔
    (۱۵) خلافت کی مصنوعی حمایت کے حیلہ سے مسلمانوں کا لاکھوں روپیہ اقطاع ہندوستان اور یورپ کی سیروسیاحت اور تفریح وتفنن میں صرف کیا جاتا ہے۔
    (۱۶) خلافت کے مصنوعی حمایت کے حیلہ سے عیسائیوں سے ترک موالات اور عدم تعاون، عمل کے غیر ممکن العمل منصوبوں اور تجاویز پر عملدرآمد کرایا جاتاہے اور مشرکین ہند کے ساتھ مواخات وموالات قائم کرکے بعض شعار کفر اختیار اور بعض شعار اسلام ترک کرائے جارہے ہیں ، باوجود ان سب امور کے وہ اپنے کو مسلمان کہتے ہیں اور جو ان کی پیروی نہ کرے اس کو کافرکہتے ہیں، لہذا علمائے اہلسنت وجماعت اس فرقہ گاندھویہ اور اس کے پیشروان وپیروان کی نسبت جو عبداﷲ کے بجائے عبدالگاندھی بن گئے ہیں اور دوسروں کو عبدالگاندھی بنارہے ہیں صاف صاف احکام شرعی دربارہ معاشرت و مناکحت مصاہرت و نماز ظاہر واضح فرماکر عنداﷲ ماجور اور عندالناس مشکور ہوں۔
    الجواب
    (۱) قرآن وحدیث کی عمر کو معاذاﷲبت پرستی پر نثار کرنا قرآن وحدیث کی شدید توہین اور بت پرستی ملعونہ کی عظیم تعظیم ہے، یہ اگر کفر نہ ہوتو دنیا میں کوئی چیز کفر نہیں،کہاں زمین غیر معروف کا راستہ بتانے کے لئے کسی مشرک کو ساتھ لینا اور کہاں معاذاﷲ اپنے دین کا اسے ہادی ورہبر بنانا، اس کی نظیر بھی ہوسکتی ہے کہ کسی کا شیخ وامام وہادی دین، یکّہ میں سوار ہویکہ بان کافر ہو، اس امام کے بعض مرید بننے والے مشرک کو نماز میں اپنا امام کریں اور اسی شیخ مقتدا کے فعل سے سند لائیں کہ دیکھو یکہ بان کافر ان کے آگے بیٹھا تھا ہم نے اس کافر کو نما زمیں اپنے آگے کرلیا توکیاحرج ہوا، پھر یہ بھی اس وقت کا واقعہ ہے کہ ہنوز حکم جہاد نازل نہ ہوا۔لکم دینکم ولی دین۱؎ ۔(تمہارے لئے تمہارا دین اور میرے لئے میرادین ۔ت) پر عمل تھا ۔ (۱؎ القرآن الکریم۱۰۹/ ۶)
    پھر بتدریج کفار پرتغلیظ بڑھتی گئی اور اخیر حکم ابدی ناطق وہ نازل ہوا کہ: یایھاالنبی جاھد الکفار والمنافقین واغلظ علیہم وما وٰھم جھنم وبئس المصیر۲؎o۔۔اے غیب کی خبریں دینے والے (نبی)جہاد فرماؤ کافروں اور منافقوں پر، اور ان پر سختی کرو اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور کیاہی بری جگہ پلٹنے کی۔(ت)(۲؎القرآن الکریم۹/ ۷۳)پہلے واقعات سے سند لانا اگر جاہل سے ہوتو جہل شدید ہے اور ذی علم سے تو مکر خبیث وضلال بعید ۔
    (۲) یہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پر افترائے محض ہے۔ حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے کبھی کسی کافر سے موالات نہیں فرمائی اور کیونکر فرماسکتے حالانکہ ان کا رب عزوجل فرماتا ہے: ومن یتولھم منکم فانہ منھم۳؎۔ تم میں جو ان سے موالات کرے وہ بیشک انہیں میں سے ہے۔(۳؎القرآن الکریم ۵/ ۵۱)
    حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو ان کے رب کا ابتدائی حکم یہ تھا:فاصدع بما تؤ مرواعرض عن المشرکین۱؎۔(۱؎ القرآن الکریم ۱۵/ ۹۴)اعلان کے ساتھ فرمادو جو تمہیں حکم دیا جاتا ہے اور مشرکوں سے منہ پھیر لو۔اور انتہائی حکم یہ ہوا۔یایھاالنبی جاھد الکفار والمنافقین واغلظ علیہم۲؎۔ (۲؎القرآن الکریم۶۶/ ۹)اے نبی !تمام کافروں اور منافقوں سے جہاد فرما اور ان پر سختی ودرشتی کر۔
    معاذاﷲ موالات کا وقت کون ساتھا، سورہ نٓ شریف مکیہ ہے ا س میں فرماتا ہے: ودوالوتد ھن فیدھنون۳؎ ۔کافر اس تمنا میں ہیں کہ کہیں تم کچھ نرمی کرو تو وہ بھی نرم پڑیں۔ اس وقت میں مداہنت تو روارکھی نہ گئی نہ کہ معاذا ﷲ موالات۔ ائمہ دین نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف نسبت مداہنت کرنے والے کی تکفیر فرمائی ہے چہ جائے مفتری موالات۔ شفاء شریف امام قاضی عیاض میں ہے: الوجہ الثانی ان یکون القائل غیر قاصد للسب ولکنہ تکلم بکلمۃ الکفر من اضافۃ مالایجوز علیہ مثل ان ینسب الیہ اتیان کبیرۃ اومداھنۃ فی تبلیغ الرسالۃ اوفی حکم بین الناس فحکم ھذاالوجہ حکم الاول۴؎۔(ملخصاً) دوسری وجہ یہ ہے کہ کہنے والے کا مقصد سب نہ ہو لیکن اس نے ایسا کلمہ کفر بولا اور ایسی شیئ کی آپ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف نسبت کی جو آپ کی شان کے مناسب نہ تھی مثلاً کبیرہ کے ارتکاب یا احکام رسالت کے پہنچانے میں یا لوگوں کے درمیان فیصلہ فرمانے میں مداہنت کی نسبت کی تو اس کا حکم بھی پہلے کے حکم کی طرح ہی ہے۔(ت)(۳؎القرآن الکریم ۶۸/ ۹)(۴؎ الشفاء بتعریف حقوق المصطفی فصل قال القاضی تقدم الکلام مطبع شرکت صحافیہ فی بلد العثمانیہ ترکی۲/ ۲۳۔۲۲۲)
    سخت محرومی و بیباکی ہے، یہ کہ آدمی کے کسی عیب پر نکتہ چینی ہو اور وہ اپنے اوپر سے دفع الزام کے لئے کسی نبی سے استشہاد کرے کہ ان سے بھی ایسا واقع ہو ااگرچہ ظاہر اً وہ فعل وقوع میں آیا ہو اور اس نے اپنی نابینائی سے فرق نہ دیکھا اور ملائکہ کو چمار پر قیاس کیا۔
    شفا ء شریف امام قاضی عیاض میں ہے: ھذہ کلہا وان لم تتضمن سباولاقصد قائلھا ازراء فما وقرالنبوۃ ولاعظم الرسالۃ ولاعزرحرمۃ الاصطفاء صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم حتی شبہ من شبہ فی معرۃ قصد الانتفاء منھا بمن عظم اﷲ خطرہ ونھی عن جھر القول لہ ورفع الصوت عندہ فحق ھذا ان دری عنہ القتل السجن وقوۃ تعزیرہ۱؎۔(ملخصاً) یہ تمام کلام اگرچہ سب و شتم کو متضمن نہیں اور نہ ہی قائل نے اس سے کسی عیب کا قصد کیا ہے بہر حال اس نے نہ تو منصب نبوت ورسالت کا خیال رکھا ہے نہ ہی حرمت کا اقرار کیا ہے حتی کہ روانی کلام میں شاعر نے اپنے ممدوح کو عیب سے پاک ہونے کا قصد کرتے ہوئے اس ذات سے تشبیہ دی جس کی قدر ومنزلت کو اﷲ تعالٰی نے عظیم فرمایا، اور اس کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ رب العالمین نے ان کی بارگاہ میں بلند آواز سے بولنے کی ممانعت فرمائی، اس سوءِ ادبی کی سزا اگرچہ قتل نہیں ہے تاہم قید بامشقت کی سزا دینا ضرور ی ہے(ملخصاً)(ت)(۱؎ الشفا بتعریف حقوق المصطفی فصل قال القاضی تقدم الکلام مطبع شرکت صحافیہ فی بلاد العثمانیہ ترکی ۲ / ۲۳۰)
    سیدالمرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پر معاذاﷲ انہونی جوڑنا اور اس نے اپنی ناپاکی کا جواز چاہیں ،کتنی سخت خباثت اور کس قدر شدید موجب لعنت ہے، کیا کسی عالم دین کا وہ ناسعید بیٹا سخت ناخلف نہ قرار پائے گا جس کے بھنگ پینے پر اس کے باپ کے شاگرد اعتراض کریں اور وہ اپنے اوپر سے دفع اعتراض کے لئے محض جھوٹ بہتان اپنے باپ پر رکھ دے کہ کیا تمہارے استاد چرس نہ پیتے تھے، پھر کہاں باپ اور کہاں سیدا لمرسلین صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم !
    (۳) یہ کہنا کہ مسجد الحرام شریف سے کفار کا منع ایک خاص وقت کے واسطے تھا اگر یہ مراد کہ اب نہ رہا تو اﷲ عزوجل پر صریح افتراء ہے، قال اﷲ تعالٰی انما المشرکون نجس فلایقربواالمسجد الحرام بعدعامھم ھذا۲؎۔(۲؎ القرآن الکریم ۹/ ۲۸)اﷲ تعالٰی نے فرمایا: مشرک نرے ناپاک ہیں تو اس برس کے بعد وہ مسجد حرام کے پاس نہ آنے پائیں۔(ت)
    یونہی یہ کہنا کہ وفود کفار مسجد نبوی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم میں اپنے طریقے پر عبادت کرتے تھے محض جھوٹ ہے، اور نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے اسے جائز رکھنے کا اشعار حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پر افترائے فجار ، حاشا کہ اﷲ کا رسول گوبار بار فرمائے کہ کسی مسجد ، نہ کہ خاص مسجد مدینہ کریمہ میں نہ کہ خود حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے سامنے بتوں یا مسیح کی عبادت کی جائے، جانتے ہوکہ اس سے ان کا مقصود کیا ہے، یہ کہ مسلمان تواسی قدر پر ناراض ہوئے ہیں کہ مشرک کو مسجد میں مسلمانوں سے اونچا کھڑا کرکے ان کو واعظ بنایا وہ تو اس تہیّہ میں ہیں کہ ہندوؤں کو حق دیں کہ مسجد میں بت نصب کرکے ان کی ڈنڈوت کریں، گھنٹے بجائیں، سنکھ پھونکیں کیونکہ ان مفتریوں کے نزدیک خود حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی مسجد میں خود حضور کے سامنے کفار اپنے طریقہ کی عبادت کرتے تھے۔ویلکم لاتفتروا علی اﷲ کذبا فیسحتکم بعذاب۱؎۔ تمہیں خرابی ہو اﷲ پر جھوٹ نہ باندھو کہ وہ تمہیں عذاب سے ہلاک کردے۔(ت)(۱؎ القرآن الکریم۲۰/ ۶۱)
    حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے لئے مسجد کریمہ کے سوا کوئی نشست گاہ نہ تھی جو حاضر ہوتا یہیں حاضر ہوتا کسی کافر کی حاضری معاذاﷲ بطوراستیلا واستعلاء نہ تھی بلکہ ذلیل وخوار ہوکر یا اسلام لانے کے لئے یا تبلیغ اسلام سننے کے واسطے ، کہاں یہ اور کہاں وہ جو بدخواہان اسلام نے کیا کہ مشرک کو بروجہ تعظیم مسجد میں لے گئے اسے مسلمانوں سے او نچا کھڑاکیا اسے مسلمانوں کو واعظ وہادی بنایا اس میں مسجد کی توہین ہوئی اور توہین مسجد حرام، مسلمانوں کی تذلیل ہوئی اور تذلیل مسلمین حرام، مشرک کی تعظیم ہوئی اور تعظیم مشرک حرام ، بدخواہی مسلمین ہوئی بلکہ بدخواہی اسلام، پھر اسے اس پر قیاس کرنا کیسی سخت ضلالت و گمراہی ہے طرفہ یہ کہ زبانی کہتے جاتے ہیں کہ مشرک کا بطور استعلاء مسجد میں آنا ضرور حرام ہے، اور نہیں دیکھتے کہ یہ آنا بطور استعلا ہی تھا۔فانھا لاتعمی الابصار ولکن تعمی القلوب التی فی الصدور۲؎۔ تو یہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں ہیں(ت)(۲؎القرآن الکریم۲۲/ ۴۶)
    اسی نابینائی کی بناء پر یہ مسلمان کو دھوکا دینے والے یہاں، حنفیہ وشافعیہ کا اختلافی مسئلہ کہ مسجد میں دخول کافر حرام ہے یانہیں محض دھوکا دینے کو پیش کرتے ہیں، قطع نظر اس سے کہ اس مسئلہ میں تحقیق کیا ہے۔
    اولاًخود کتب معتمدہ حنفیہ سے ممانعت پیدا ہے،
    ثانیاًخود محرر مذہب سید نا امام محمد رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے ارشاد سے ہویدا ہے۔
    ثالثاًعلماء وصلحاء کا ادب کیا رہا ہے اختلاف احوال زمانہ وعادات قوم ہمیشہ مائل تعظیم وتوہین میں دخل رکھتا ہے۔
    رابعاً غیر اسلامی سلطنت اور نامسلموں کی کثرت میں ا جازت کی اشاعت اور مساجد کو پامالی کفار کے لئے وقف کرنا کس قدر بہی خواہی اسلام ہے۔
    خامساً وہ نجس قوم کہ بنص قرآن اس پر حکم نجاست ہے اور وہ مسلمانوں کو ملیچھ کہے،بھنگی کے مثل سمجھے سودا بیچے تو دور سے ہاتھ میں رکھ دے، اس کے نجس بدن، ناپاک پانوؤں کے لئے تم اپنی مساجد کو وقف کرو یہ کس قدر مصلحتِ اسلام کے گہرے رنگ میں ڈوبا ہوا ہے، ان سب سے قطع نظر ان حرکاتِ شنیعہ کا اس سے کیا علاج ہوسکتا ہے ؎
    او گماں بردہ کہ من کردم چو او
    فرق را کہ بیند آں استیزہ جو
    (اس نے گمان کیا کہ میں نے اس کی مثل کیا حالانکہ وہ لڑائی کی جستجو کرنے والا اس فرق کو کیسے محسوس کرسکتا ہے)
    صحیح بخاری شریف میں امیر المومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی ہے: قَالَ کَانَتِ الْکِلَابُ تُقْبِلُ وَتُدْبِرُ فِی الْمَسْجِدِ فِیْ زَمَانِ رَسُوْلِ اﷲِ صَلَّی اﷲُ تعالٰی علیہ وَسَلَّمْ۱؎۔ فرمایا: رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے زمانہ میں مسجد شریف میں کتے آتے جاتے تھے(ت) (۱؎ صحیح البخاری کتاب الوضوء باب اذا شرب الکلب فی الاناء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۹)
    زمانہ رسالت میں مسجد شریف میں کتے آتے جاتے تھے اب تم خود کتے اپنی مسجدوں اور مسجد الحرام شریف یا مسجد نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم میں لے جاؤ اور جمعہ کے دن امام کے دہنے بائیں منبر پر دو کتے بٹھاؤ تمہارے استدلال کی نظیر تو یہیں تک ہوگئی، کہہ دینا کیا زمانہ اقدس میں کتے مسجد میں نہ آتے جاتے تھے،ہم لے گئے اور منبر پر انہیں بٹھایا تو کیا ہوا، اور وہ جو آنے جانے اور یوں لے جانے اور منبر پر بٹھانے کا فرق ہے اس سے آنکھ بند کرلینا جیسے یہاں بند کرلی، کون سی آنکھ، دل کی کہ ولکن تعمی القلوب التی فی الصدور۲؎ ۔ (دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔ت)(۲؎ القرآن الکریم ۲۲/ ۴۶)
    بلکہ خدا تمہیں عقل وانصاف دے تو یہ بھی تمہارے فعل کی نظیر نہیں، تم خطیب کے آس پاس منبر پر کتے بٹھاؤ اس سے وہ کتے خطیب نہ ہوجائیں گے، اور تم نے مشرکین کوخطیب مسلمین بنایا لہذا اگر قدرے اپنے فعل سے تقریب چاہو تو ان کتوں کو سدھاؤ کہ جب امام پہلا خطبہ پڑھ کر بیٹھے وہ نہایت بلند آواز سے بھونکنا اور رونا شروع کردیں کہ باہر تک کے سب لوگوں کو خبر ہوجائے کہ جلسہ ودعا کا وقت ہے، یونہی نماز کے وقت آٹھ آٹھ دس دس صفوں کے فاصلے سے چار چار کتے صف میں کھڑے کرو کہ تکبیرانتقال کے وقت چیخیں اور مکبروں سے زیادہ تبلیغ کاکام دیں اور یہی حدیث بخاری حجت میں پیش کردینا کہ دیکھو زمانہ اقدس میں کتے مسجد میں آتے جاتے تھے بلکہ ان کے آنے سے کوئی فائدہ نہ تھا اور ہم کتے اس نفع دینی کے لئے لے گئے، توبدرجہ اولٰی یہ جائز ہوا، وہاں تک تو قیاس تھا یہ دلالۃ النص ہوئی اور اس میں جو تمہارے استدلال کی خباثت ہے نہ دیکھنا، کیونکہ ٹھہر گئی ہے کہ لکن تعمی القلوب التی فی الصدور۱؎۔ (۱؎ القرآن الکریم ۲۲/ ۴۶)
    (۴) قشقہ ضرور شعار کفر منافی اسلام ہے جیسے زنار بلکہ اس سے زائد کہ وہ جسم سے جدا ایک ڈورا ہے جو اکثر کپڑوں کے نیچے چھپا رہتا ہے اور یہ خاص بدن پر اور بدن میں بھی کہاں چہرے پر، اور چہرے میں کس جگہ ، ماتھے پر، جو ہر وقت چمکے اور دور سے کھلے حرفوں میں منہ پر لکھا دکھائے کہ ھذا من الکافرین (یہ کفار میں سے ہے۔ت)
    خلاصہ وظہیریہ ومحیط ومنح الروض الازہر وغیرہ کتب معتمدہ میں ہے: واللفظ لہذا فی الخلاصۃ من تزنر بزنار الیہود والنصاری وان لم یدخل کنیستھم کفر، ومن شد علی وسطہ حبلا وقال ھذازنار کفر، وفی الظہیریۃ وحرم الزوج، وفی المحیط لان ھذاتصریح بما ھو کفر، وفی الظھیریۃ من وضع قلنسوۃ المجوس علی راسہ فقیل لہ فقال ینبغی ان یکون القلب سویاکفر۲؎۔(ملخصاً) خلاصہ کی عبارت یہ ہے جس نے یہود ونصارٰی کا زنار پہنا اگرچہ وہ ان کے کنیسہ میں نہیں گیا وہ کافر ہے، جس نے اپنی کمر میں رسی باندھی او رکہا یہ زنا رہے اس نے کفرکیا۔ ظہیریہ میں ہے اس پر بیوی حرام ہوگئی۔ محیط میں ہے کیونکہ یہ صراحۃً کفر ہے۔ ظہیریہ میں ہے جس نے مجوس کی ٹوپی سر پر رکھی اسے بتایا گیا تو کہنے لگا بس دل صحیح ہونا چاہئے، وہ کافر ہے۔(ت) (۲؎ منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر فصل فی العلم والعلماء مصطفی البابی مصر ص۱۸۵)
    (۵) مسلم وہند و میں امتیاز اسلام وکفر کا امتیاز ہے اور وہ موقوف نہیں ہوسکتا جب تک مسلم مسلم اور کافر کافر ہیں اور یہ اس کلام کی مراد نہیں ہوسکتی کہ سب ہندوؤں کو مسلمان کرلیں گے کہ اس کے لئے کسی نئے مذہب کی کیا حاجت، تو ضرور یہ مراد ہے کہ ایک ایسا مذہب ایجاد کریں گے جو نہ ہندو کو ہندو رکھے نہ مسلمان کو مسلمان ، اور وہ نہ ہوگا مگر کفر کہ اسلام کے سو اجوکچھ ہے سب کفر ہے،یونہی پریاگ وسنگم کی تقدیس یوں مراد نہیں ہوسکتی جیسے سلاطین اسلام شکر اﷲ تعالٰی عنہم نے معابد کفار پر قبضہ فرماکر ان کو مساجد بنایا کہ اس کے لئے بھی نیا مذہب بنانا نہ ہوا، لاجرم یہ مراد ہے کہ وہ رہیں معابد کفار اور پھر مقدس مانے جائیں، اور یہ بھی کفر ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
    (نوٹ:۶سے۱۶تک کے جواب دستیاب نہ ہوئے)
  8. ‏ ستمبر 1, 2014 #8
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    مسئلہ۱۵۴تا۱۶۲: ازلاہور مسجد بیگم شاہی مسئولہ صوفی احمد دین صاحب ۲۹محرم الحرام ۱۳۳۹ھ
    الحمد ﷲ وکفی وسلام علی عبادہ الذین اصطفٰی۔ اما بعد یا علماء الملۃ وامناء الامۃ افیضوا علینا من علومکم دام فیوضکم۔۔ تمام تعریف اﷲکے لئے اور وہی کافی ہے،سلام اس کے منتخب بندوں پر ہو، اے علماءِ ملت اور امین امت!ہمیں اپنے علوم کافیض عطا کیجئے اﷲ تعالٰی تمہارے فیض کو جاری وساری رکھے(ت)
    (۱) اس ظالم گروہ کا کیا حکم ہے جن کے امام اول نے سلطان وقت سے باغی ہوکر مکہ معظمہ زاد اﷲ تعالٰی شرفاً پر تغلب کیا، وہاں کے علماء کوتہ تیغ بے دریغ کیا، مزارات اولیاء پر پاخانہ بنائے ، حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے روضہ مبارک کو صنم اکبر سے تعبیرکیا، ائمہ مجتہدین اور فقہاء ومقلدین کو انھم ضلواواضلوا (وہ گمراہ ہیں اور انہیں نے دوسروں کو گمراہ کیا۔ت) کا مصداق بنایا، اپنی خواہشات کو حق وباطل کا معیار قرار دیا، مختلف عبارات وپیرایہ سے حضور پر نور عفوغفور شفیع یوم النشور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی تنقیصِ شان کرتا تھا اور اسی بدعقیدہ پر اپنی ذریات واذناب کو لگا تھا، اپنے متبعین کے سوا سب کو مشرک جانتا تھا، درود شریف پڑھنے سے بہت ایذاپاتا تھا، حتی کہ ایک نابینا کو منارہ پر بعد اذان صلوٰۃوسلام پر شہید کردیا اور بولا: ان الربابۃ فی بیت الخاطئۃ یعنی الزانیۃ اقل اثما ممن ینادی بالصلوۃ علی النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم۱؎الخ۔ زانیہ کے گھر رباب بجانا اس سے کم گناہ ہے کہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پر بلند آواز سے صلوٰۃ وسلام پڑھاجائے الخ(ت)(۱؎ الدررالسنیۃ فی ردالوہابیہ مکتبۃ الحقیقیۃ استنبول ترکی ص۴۱)
    اس کے متبعین طرح طرح سے حضور علیہ السلام کی تحقیر وتوہین کرتے اور وہ سن کر خوش ہوتا یہاں تک "ان بعض اتباعہ کان یقول عصای ھذہ خیرمن محمد (صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم) لانھا ینتفع بھا فی قتل الحیۃ ونحوھا ومحمد(صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم) قد مات ولم یبق فیہ نفع اصلاً وانما ھو طارش وقد مضی۱؎الخ کتاب الدررالسنیۃ فی ردالوہابیہ ص۴۱،۴۲۔ اس کے بعض ماننے والے کہتے ہیں یہ میری لاٹھی محمد (صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم) سے بہتر ہے کیونکہ یہ سانپ وغیرہ مارنے کا کام دیتی ہے، اور محمد (صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم) فوت ہوگئے اب ان سے بالکل کوئی نفع نہیں اٹھایا جاسکتا وہ بہرے تھے جو گزرگئے الخ(ت) (۱؎ الدررالسنیۃ فی ردالوہابیہ مکتبۃ الحقیقیۃ استنبول ترکی ص۴۲)
    بظاہر حنبلی بنتا تھا مگر دراصل حضرت امام احمد حنبل رحمۃ اﷲ علیہ سے بالکل بے تعلق تھا، دعوی نبوت کا متمنی تھا مگرقبل از صریح اظہار طعمہ اجل ہوکر اپنے کیفر کردار کو پہنچا اورآیۃ: ان الذین یؤ ذون اﷲورسولہ لعنھم اﷲفی الدنیا والاٰخرۃ۲؎الآیۃ۔ بیشک جو ایذادیتے ہیں اﷲ اور اس کے رسول کو ان پر اﷲ کی لعنت ہے دنیا اور آخرت میں ۔الآیۃ(ت)کاپورا پورا مصداق بنا۔(۲؎ القرآن الکریم ۳۳/ ۵۷)
    (۲) ان کے امام ثانی نے پہلے امام کی ہندی شرح المسمی بہ تقویۃ الایمان لکھی، اپنے فرقہ کا نام موحد رکھا، اور اپنے امام کے قدم بقدم ہوکر سب امت کو کافر ومشرک بنایا، حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام ودیگر انبیاء علیہم السلام بلکہ خود خدائے تعالٰی جل وعلا شانہ کی توہین کی، دشنام دہی میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہ کیا، انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کو چوہڑے چمار اور عاجز وناکارہ لوگوں سے تمثیل دی۳؎(تفویۃ الایمان ص۱۰،۱۹،۲۹) اﷲ تعالٰی کی ذات والا صفات میں عیب وآلائش کا آجانا جائز رکھا، وقوِع کذب سے صرف بغرض ترفع وبخوفِ اطلاع بچنا مانا(یکروزی ص۱۴۴و۱۴۵) ،نماز میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا خیال آنا اپنے بیل اور گدھے کے خیال میں ہمہ تن ڈوب جانے سے بدرجہا بدتر بتایا۴؎(صراط مستقیم ص۹۵)دعوی نبوت کے لئے بنیاد یں کھودیں پڑیاں جمائیں اور یوں تمہیدیں باندھیں بعض لوگوں کو احکام شرعیہ جزئیہ وکلیہ بلاواسطہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام اپنے نور قلب سے بھی پہنچتے ہیں وہ انبیاء اور ہم استاد بھی ۱؎ملخصاً(صراط مستقیم ص۳۹) بالآخر جاہ طلبی وملک گیری کے نشہ میں سکھوں سے مڈھ بھیڑ اور عار فرار من الرجف کے بعد افغانوں کی موذی کش تلوار سے راہ فنادیکھی علیہ ماعلیہ۔ (۳؎ تقویۃ الایمان مطبع علیمی بیرون لوہاری گیٹ لاہور ص۱۰، ۱۹،۲۹)(۴؎ صراطِ مستقیم فارسی ہدایت ثانیہ درذکر محلات عبادات مکتبہ سلفیہ لاہور ص۸۶)(۱؎ صراط مستقیم فارسی ہدایت رابعہ دربیان ثمرات حب ایمانی مکتبہ سلفیہ لاہور ص۳۶۔۳۵)
    (۳) جب ہندی وہابیہ کے امام و اس کے پیر کی موت ان کی سب یا وہ گوئیوں او پیشینگوئیوں کی مبطل ہوئی تو اس کے اذناب وذریات سے ایک شخص قومی ترقی قومی اصلاح کا بہروپ بدل کرنکلا،جملہ کتب تفسیر وفقہ وحدیث سے انکار کیا، تمام ضروریات دین سے منہ موڑا اور بکاکہ، نہ حشر ہے نہ نشر، نہ دوزخ نہ بہشت، نہ فرشتہ ہے نہ جبریل نہ صراط، فرشتہ قوت کا نام ہے، دوزخ وبہشت وحشر، نشر روحانی ہیں، نہ جسمانی کرامات ومعجزات سب ہیچ ہیں، ہر کوئی کوشش کرنے سے نبی ہوسکتا ہے، خدا بھی نیچر کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے اس کے نزدیک غایت درجہ کی غمی کا نام دوزخ تھا۔ سووہ اپنی اسی مسلمہ دوزخ کے راستہ سے اسفل السافلین میں پہنچا اور وہ اس طرح ہوا کہ اس کے خازن وامین نے بہت سا روپیہ اندوختہ اس کا غبن کیا، معلوم ہونے پر نہایت غمگین ہوا، کھانا پینا ترک کیا، آخر اسی صدمہ سے ہلاک ہوا۔
    (۴) اسی کے دُم چھلّوں میں سے مسیح قادیانی دجال پیدا ہوا، دعوی نبوت کیا، سورہ صف میں جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بشارت اسم احمد (صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم) سے ہے اس کو اپنے اوپر چسپاں کیا، اسی طرح درکاتِ جہنم طے کرتا ہوا درکِ اسفل میں پہنچ کریوں کفری بول بولا: ؎
    آنچہ دادست ہر نبی راجام دادآں جام را مراوبتمام
    پرشد از نور من زمان وزمیں سرہنوزت بہ آسماں از کیں
    باخدا جنگہا کنی ہیہات ایں چہ جوروجفاکنی ہیہات
    (ہر نبی کوجو جام عطا کیا گیا وہ تمام مجھے عطا کئے گئے، میرے نور سے زمین وزماں پر ہوگئے اور ابھی میراآسمان پر ہے، توخدا کے ساتھ جنگ کررہا ہے افسوس! یہ تو کیاظلم وزیادتی کررہا ہے۔ت)(نزول مسیح)لڑکا پیدا ہونے پر کہنے لگا کان اﷲ نزل من السماء (گویا اﷲ آسمان سے اتر آیا۔ت)پھر کہا مجھے الہام ہوا ہے خدا کی طرف سے انت منی بمنزلۃ اولادی انت منی وانا منک۔(تومیری اولاد کی مانند ہے ، تو مجھ سے اور میں تجھ سے ہوں۔ت) (واقع البلد ص۶و۷) الغرض افتراء وتکذیب کلام الٰہی وتوہین انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام خصوصاً حضرت عیسی علٰی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کو گندی سڑی گالی دینے میں کوئی کسر نہ اٹھارکھی(ضمیمہ انجام آتھم)
    انجام کار اپنے مسلمہ عذاب اعنی مرض ہیضہ سے وعدہ الٰہی:فلایستطیعون توصیۃ ولاالٰی اھلہم یرجعون۱؎۔ تو نہ وصیت کرسکیں گے ا ور نہ اپنے گھر پلٹ کر جائیں۔(ت)کاموردبنا اور اپنے منکر ومخالف علماء کے روبرو وہ فرعون بے عون جہنم رسید ہوا، مسلمان کے سامنےواغرقنا اٰل فرعون وانتم تنظرون۲؎ ۔(اور فرعون والوں کو ہم نے تمہاری آنکھوں کے سامنے ڈبو دیا۔ت) کا سماں بندھ گیاچاروں طرف سے مسلمانوں بلکہ ہندوؤں نے اس کی نعش خبیث پر نفرین کے نعرے بلند کئے ہر طرف سے بول وبرازکی بوچھا ڑ ہوئی اور اولٰئک علیہم لعنۃ اﷲ والملٰئکۃ والناس اجمعین ۳؎ ۔ (ان پر لعنت ہے اﷲ اور فرشتوں اور آدمیوں سب کی) کا نقشہ آنکھوں میں جم گیا،فاعتبروایااولی الابصار۴؎ ۔ (تو عبرت لو اے نگاہ والو۔ت)(۱؎ القرآن الکریم ۳۶/ ۵۰) (۲؎ القرآن الکریم ۲/ ۵۰) (۳؎القرآن الکریم ۲/ ۱۶۱) (۴؎القرآن الکریم ۵۹/ ۲)
    (۵) امام ثانی کے اذناب سے ایک بھوپالی پیدا ہوا، ترویج وہابیت میں ایڑی چوٹی کا زور لگا یا طرح طرح کے لالچ دے کر مفت کتابیں بانٹ کر خدائے تعالٰی کے لئے جہت ومکان و جسم وغیرہ مانا(رسالہ الاحتواء) فقہاء ومقلدین کو دشنام دینے میں اپنے بڑوں سے سبقت لے گیا اس کا قول بدتر ازبول''یہ ہے سرچشمہ سارے جھوٹوں خبیثوں اور مکروں کا اورکان تمام فریبیوں اور دغابازیوں کی علم فقہ ورائے ہے اور مہاجال ان سب خرابیوں کا فقہاء اورمقلدین کی بول چال ہے''(ترجمان وہابیہ ص۳۵،۳۶) وانجام کار معزول ومسلوب الخطاء ہو کر عدم کی راہ لی اور خسر الدنیا والاٰخرۃ۵؎ ۔(دنیا اور آخرت دونوں کا گھاٹا ۔ت) کا مصداق بنا، صحابہ کرام کو عموماً اور سیدنا حضرت عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کو خصوصاً مخترع بدعت سیئہ ٹھہرایا۔(انتفاد الرجیم)(۵؎القرآن الکریم ۲۲/ ۱۱)
    (۶) وہابیہ وغیر مقلدین کی ضلالت وبدعت جب پورے طور ظاہر ہوچکی اور ہر دیار وامصار سے ان کے رد میں کتابیں لکھی گئیں تو ذریاتِ امام ثانی نے ایک اور مکر کھیلا، اپناحنفی و مقلد ہونا ظاہر کیا عقیدہ تقویۃ الایمان پرقائم رکھا اور ہر طرح سے ان کفریات کی حمایت کرتے رہے، اور عملیات میں حنفی ہونا ظاہر کیا، ٹھیک اسی طرح جس طرح ان کا امام اول حنبلی المذہب بنتا تھا ، بظاہر غیر مقلدین کے ردمیں کتابیں بھی لکھیں ، مگر ساتھ ساتھ یہ بھی لکھ دیا کہ ان مسائل میں صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالٰی علیہم اجمعین کے وقت سے اختلاف چلا آتا ہے، لہذا غیرمقلدوں ووہابیوں پر طعن وتشنیع ناجائز(سبیل الرشاد وغیرہ)،حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے علم سے شیطان کا علم زیادہ مانا(براہین قاطعہ) علم غیب میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ہر صبی ومجنون سے تمثیل دی (رسالہ حفظ الایمان وعلم غیب وغیرہ)اور بکے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو دیوار کے پیچھے کا حال معلوم نہیں، معاذاﷲ اپنے خاتمہ کا حال معلوم نہیں۔ ان کے ردمیں بھی بکثرت کتابیں شائع ہوئیں خصوصاً قامع بدعت حامی سنت صاحب حجت قاہرہ مجدد مائہ حاضرہ، حضرت مولانا احمد رضاخاں صاحب بریلوی مداﷲ تعالٰی ظلہم العالی نے ان کی وہ سر کو بی کی کہ باید شاید۔
    (۷) بھوپالی کے دم چھلوں میں سے ایک ہندو بچہ پیدا ہواآپ اگرچہ ناخواندہ تھا مگر بعض خواندہ وہابیہ سے چند ایک کتابیں مثل ظفر المبین طعن امام ہمام(رضی اﷲ تعالٰی عنہ) اور قیاسات امام پر لکھیں چاروں اماموں کے مقلدین اور چاروں طریقوں کے متبعین کو معاذاﷲ مشرک و کافر بنایا(ظفر المبین ص۱۸۹و۲۳۰و۳۳۲وغیرہ)انجام کا ر مرض ابلاؤس میں ایسا گرفتار ہوا کہ متواتر پانچ سات دن اس کے منہ سے پاخانہ نکلتا رہا، مرتے وقت وصیت کی کہ مجھے مشرکوں( حنفیوں) کے قبرستان میں نہ دفن کیاجائے ، بالآخر کتے کی موت مرا اور لاہور یکی دروازہ بدرو کے کنارہ دفن ہوا، بدروکا گندہ پانی اس کی قبر میں سرایت کرتا رہا، حتی کہ اس کی قبربھی نیست ونابود ہوکر بدرو میں مل گئی، فاعتبروایااولی الابصار۱؎ ۔(تو عبرت لو اے نگاہ والو۔ت)(۱؎ القرآن الکریم ۵۹/ ۲)
    (۸) اس بھوپالی کے دم چھلوں میں سے ایک اور شخص نکلا، چلنے پھرنے سے معذور ، اور لکھنے پڑھنے سے عاری، اس نے اہل قرآن ہونے کا دعوٰی کیا، کل کتب فقہ ، تفسیر وحدیث سے انکار کیا اور کہا یہ سب مخالفِ قرآن ہیں اور (معاذاﷲ) منافقوں کی بنائی ہوئی ہیں،
    اطیعو الرسول۲؎ ۔(اور حکم مانو رسول کا۔ت) میں رسول سے مراد قرآن مجید ہے،اور مااٰتٰکم الرسول۳؎ ۔(اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں۔ت)میں بھی رسول سے مراد قرآن مجید ہے، اگر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ہی مراد لئے جائیں تو یہ حکم مالِ غنیمت میں تھا نہ کہ عام حکم، (۲؎القرآن الکریم۴/ ۵۹) (۳؎القرآن الکریم ۵۹/ ۷)
    نمازمیں بھی نئی اختراع کی، المسمی بہ صلوٰۃ القرآن بآیات الفرقان، اور ایک تفسیرچند ایک سیپارہ کی کسی سے لکھوائی جس کا نام''تفسیر القرآن بآیات الرحمٰن''رکھا اور کہتا تھا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام محض ایلچی تھے ایلچی کو نام و پیام کیا تشریح ومطلب آرائی میں کوئی حق نہیں(معاذاﷲ منہا) آخرذلیل ورسواہوکر لاہور سے نکالا گیا ، چند ایک ملاحدہ نیا چرہ اور اجہل ترین وہابیہ سے اس کے پیرو گئے، ملتان میں جاکر اپنی بدمذہبی کی اشاعت میں مصروف ہوا، انجام کار بدکاری کرتا ہوا پکڑاگیا خوب زد وکوب ہوئی اور اسی صدمہ سے ہلاک ہوا اور سجین میں پہنچا۔
    (۹)بھوپالی کے متبعین سے ایک شخص ملا قصوری اور ایک حافظ شاعر پنجابی پید اہوئے، اول الذکر نے ابن تیمیہ مجسمیہ کے رسالہ''علی العرش استوی'' کی اشاعت کی،صوفیائےکرام کے رد میں بڑے اہتمام سے کتاب ''حقیقۃ البیعۃ والالہام''لکھی اور یوں کفری بولی بولے:بیعت مروجہ یعنی پیرومریدی سے دین اسلام میں اس قدر فتور اور فسادات پڑے ہیں کہ جن کاشمارا مکان سے باہر ہے، شرک فی الالوہیت وشرک فی الربوبیۃ وشرک فی الدعاء جس قدراقسام شرک کے ہیں سب اس سے پیدا ہوئے(ص ۲۸) سب افعال آنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے محمود نہیں اور آپ کے لیے عصمت مطلقہ ثابت نہیں ۔(ص۴۴و۴۵) آخر الذکر نے تقویۃ الایمان کو پنجابی میں نظم کیا اور اس کا نام ''حصن الایمان وزینت الاسلام'' رکھا اور بھوپالی کے رسالہ''طریقہ محمدیہ'' کو پنجابی نظم کا جامہ پہنایا اور اس کا نام''انواع محمدی'' رکھا، پنجاب میں ہرکس وناکس جولاہا موچی دھنا وغیرہ جسے دو حرف پنجابی کے آتے تھے یہ کتابیں پڑھ کر اہل سنت وجماعت کو مخالف قرآن وحدیث بدعتی ومشرک کہنے لگے اور تلبیس کی کہ حضرت امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ فرماگئے ہیں:اذاصح الحدیث فھو مذھبی واترکواقولی بخبر المصفطی(صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم) حدیث صحیح میرا مذہب ہے اور میرے قول کو مصطفی ( صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم) کی حدیث کے مقابل چھوڑدو۔(ت)
    پس دراصل ہم اہلحدیث ہی سچے اور پکے حنفی ہیں نہ کہ فقہاء ومقلدین، اس خلف ناہنجار بدترا زمارنے اپنے پدر بزرگوار کی کتاب فقہ کا رد کیا اور کہا کہ اس وقت علم کم تھا اب دریا علم کا اچھلا اور ہر طرف سے کتب احادیث کی اشاعت ہوئی الغرض بخوف طوالت وملالت اس قدر پر کفالت نہ ان قبائح کا استیعاب ممکن اور نہ ہی ان کے فرقوں کا حصر معلوم، آخر وہ بھی تو انہیں میں سے ہونگے جو دجال کے ساتھ جاملیں گے ، اب آپ کے جناب سے استفتاء یہ ہے کہ آیایہ فرق وہابیہ مثل دیگر فرق ضال روافض وخوارج وغیرہ کے ہیں یا نہیں اور نصوص سے: اولٰئک ھم شرالبریۃ۱؎، اولٰئک کالانعام بل ھم اضل۱؎ومثلہ کمثل الکلب ان تحمل علیہ یلھث او تترکہ یلھث۲؎۔ وہی تمام مخلوق میں بدتر ہیں، وہ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بڑھ کر گمراہ تو اس کا حال کتے کی طرح ہے تو اس پر حملہ کرے تو زبان نکالے اور چھوڑدے تو زبان نکالے (ت)(۱؎ القرآن الکریم۹۸/ ۶)(۱؎ القرآن الکریم ۷/۱۷۹) ( ۲؎ القرآن الکریم ۷/ ۱۷۶)
    اور احادیث مثل: اھل البدع شرالخلق والخلیقۃ واھل البدع کلاب اھل النار۳؎۔ (۳؎ الکنز العمال حدیث۹۵۔۱۰۹۴ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱/ ۲۱۸)۔۔اہل بدعت تمام مخلوق سے بدتر ہوتے ہیں واہل بدعت اہل دوزخ کے کتے ہیں(ت) کے مصداق ہیں یانہیں؟ان کے پیچھے اقتداء ان کی کتب کا مطالعہ اور ان سے میل جول کا کیا حکم ہے جوا ن سے محبت رکھے اوران کو عالم اور پیروان سنت سے سمجھے اس کے واسطے کیا ارشاد ہے تکذیب نصوص ، ایذائے جمیع امت، تکفیر وتفسیق اہل سنت وجماعت، دعوی ہمہ دانی وانانیت،مادہ خروج وبغاوت، تحقیر وتوہین شان نبوت ان سب فرق میں کم وبیش موجود ۔ بینواتوجروا۔
    الجواب
    رب اعوذبک من ھمزٰت الشیطین ، واعوذبک رب ان یحضرون۔(القرآن الکریم ۳۳/ ۹۷)اے میرے رب تیری پناہ شیاطین کے وسوسوں سے، اور اے میرے رب تیری پناہ کہ وہ میرے پاس آئیں(ت)
    یہ سوال کیا محتاج جواب ہے خود ہی اپنا جواب باصواب ہے، سائل فاضل سلمہ نے جواقوال ملعونہ ان خبثا سے نقل کئے ہیں ان سب کاضلال مبین اور اکثر کا کفر اورارتداد مہین ہونا خود ضروری فی الدین وبدیہی عندالمسلمین،وسیعلم الذین ظلمواای منقلب ینقلبون۵؎oالالعنۃ اﷲ علی الظٰلمین۶؎oولئن سألتھم لیقولن انما کنا نخوض ونلعب قل اباﷲ واٰیتہ ورسولہ کنتم تستھزؤنoلاتعتذرواقد کفرتم بعدایمانکم۱؎، یحلفون باﷲ ماقالوا ولقد قالواکلمہ الکفر وکفروابعداسلامھم۲؎، لعنم اﷲ بکفرھم فقلیلاً مایؤمنون۳؎، والذین یؤذون رسول اﷲ لھم عذاب الیم۴؎oان الذین یؤذون اﷲ ورسولہ لعنھم اﷲ فی الدنیا والاٰخرۃ واعدلھم عذابا مھینا۵؎o۔۔ اب جانا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائینگے (ت)ارے ظالموں پر خداکی لعنت۔ اوراے محبوب اگر تم ان سے پوچھو تو کہیں گے کہ ہم تو یونہی ہنسی کھیل میں تھے، تم فرماؤ کیا اﷲ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ہنستےہو، بہانے نہ بناؤ تم کافر ہوچکے اپنے ایمان کے بعد، اﷲکی قسم کھاتے ہیں کہ انہوں نے نہ کہا اوربیشک ضرور انہوں نے کفر کی بات کہی اور اسلام کے بعد کافر ہوگئے۔ اﷲ نے ان پر لعنت کی ان کے کفر کے سبب تو ان میں تھوڑے ایمان لاتے ہیں۔ اورجو رسول اﷲ کو ایذا دیتے ہیں ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔ بیشک جو ایذادیتے ہیں اﷲ اور اس کے رسول کو ان پر اﷲکی لعنت ہے دنیا اور آخرت میں، اور اﷲ نے ان کے لئے ذلت کا عذاب تیار کررکھا ہے۔(ت) (۵؎ القرآن الکریم ۲۶/ ۲۲۷)(۶؎القرآن الکریم۱۱ / ۱۸)(۱؎ القرآن الکریم ۹/ ۶۶۔۶۵) ( ۲؎ القرآن الکریم ۹/ ۷۴)(۳؎القرآن الکریم ۲/ ۸۸ ) ( ۴؎القرآن الکریم ۹/ ۶۱)(۵؎ القرآن الکریم ۳۳/ ۵۷)
    ان آیاتِ کریمہ کا حاصل یہ ہے کہ جو عام مسلمانوں پر ظلم کریں ان کے لئے بری باز گشت ہے، ان کا ٹھکانا جہنم ہے، ان پر اﷲ کی لعنت ہے، نہ کہ وہ جواولیاء پر ظلم کریں نہ کہ انبیاء پر نہ کہ خود حضور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے فضائل وعلوشان اقدس پر، ان پر کیسی اشدلعنت الٰہی ہوگی اور ان کا ٹھکانا دوزخ کا اخبث طبقہ، اوراگر تم ان سے پوچھو کہ یہ کیسے کفریات ملعونہ تم نے بکے تو حیلے گھڑیں گے بے سروپا جھوٹی تاویلیں کریں گے اور کچھ نہ بنے تو یوں کہیں گے کہ ہماری مراد توہین نہ تھی ہم نے تو یوں ہی ہنسی کھیل میں کہہ دیا تھا، واحد قہار جل وعلا فرماتا ہے: اے محبوب !ان سے فرمادو کیا اﷲاور اس کی آیتوں اور اس کے رسو ل سے ٹھٹھا کرتے تھے، بہانے نہ بناؤ تم کافر ہوچکے اپنے ایمان کے بعد۔ جب کوئی حیلہ نہ چلے گا تو کذاب خبیثوں کا پچھلا داؤ چلیں گے کہ خدا کی قسم ہم نے تویہ باتیں نہ کہیں نہ ہماری کتابوں میں ہیں، ہم پر افترا ہے ناواقف کے سامنے یہی جل کھیلتے ہیں،اﷲ واحد قہار جل وعلا فرماتا ہے: بیشک ضروروہ کفر کا بول بولے اور اسلام کے بعد کافر ہوگئےیعنی ان کی قسموں کا اعتبار نہ کروانھم لاایمان لھم۶؎۔ان پیشوایان کفر کی قسمیں کچھ نہیں اتخذو ایمانھم جنۃ فصدواعن سبیل اﷲفلھم عذاب مھین۷؎۔وہ اپنی قسموں کو ڈھال بناکر اﷲ کی راہ سے روکتے ہیں لاجرم ان کے لئے ذلیل وخوار کرنے والاعذاب ہے ۔ ان کے کفر کے سبب اﷲ تعالٰی نے ان پر لعنت کی تو بہت کم ایمان لاتے ہیں وہ جو رسول اﷲ کو ایذادیتے ہیں ان کے لئے درد ناک عذاب ہے، بیشک جواﷲ ورسول کوایذا دیتے ہیں اﷲ نے دنیا وآخرت میں ان پر لعنت فرمائی اور ان کے لئے تیار کر رکھا ذلت دینے والا عذاب۔( ۶؎ القرآن الکریم ۹/ ۱۲)(۷؎القرآن الکریم ۵۸/ ۱۶)
    طوائف مذکورین وہابیہ ونیچریہ وقادیانیہ وغیرہ مقلدین ودیوبندیہ وچکڑا لویہ خذلہم اﷲ تعالٰی اجمعین ان آیات کریمہ کے مصداق بالیقین اور قطعاً یقینا کفار مرتدین ہیں، ان میں ایک آدھ اگرچہ کافرفقہی تھااور صدہا کفر اس پرلازم تھے جیسے نمبر ۲والا دہلوی مگر اب اتباع واذناب میں اصلاً کوئی ایسا نہیں جو قطعاً یقینا اجماعا کافر کلامی نہ ہو ایساکہ من شک فی کفرہ فقد کفر۱؎۔جو ان کے اقوال ملعونہ پر مطلع ہوکر ان کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔(۱؎ درمختار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۶)
    اور احادیث کہ سوال میں ذکر کیں بلاشبہہ ان کے اگلے پچھلے تابع متبوع سب ان کے مصداق ہیں، یقینا وہ سب بدعتی او راستحقاق نار جہنمی اورجہنم کے کتے ہیں مگر انہیں خوارج وروافض کے مثل کہنا روافض وخوارج پر ظلم اور ان وہابیہ کی کسر شان خباثت ہے۔ رافضیوں خارجیوں کی قصدی گستاخیاں صحابہ کرام واہلبیت عظام رضی اﷲ تعالٰی عنہ پر مقصور ہیں ان کی گستاخیوں کی اصل مطمع نظر حضرات انبیائے کرام اور خود حضور پر نور شافع یوم النشور ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم
    ببیں تفاوت رہ از کجاست تابکجا
    (راستے کا تفاوت دیکھ کہاں سے کہاں تک ہے۔ت)
    ان تمام مقاصداور ان سے بہت زائد کی تفصیل فقیر کے رسائل "سل السیوف وکوکبۃ شھابیۃ وسبحان السبوح و فتاوی الحرمین وحسام الحرمین وتمہید ایمان وانباء المصطفٰی وخالص الاعتقاد وقصیدۃ الاستمداد اور اس کی شرح کشف ضلال دیوبندیہ" وغیرہا کثیرہ تبیرہ ، حافلہ کافلہ، شافعہ وافیہ، قالعہ قامعہ،میں ہے وﷲ الحمد، ان کے پیچھے اقتداء باطل محض ہے کما حققناہ فی النھی الاکید( جیسا کہ ہم نے''النہی الاکید'' میں اس پر تفصیلا گفتگو کی ہے۔ت) ان سب کی کتب کامطالعہ حرام ہے مگر عالم کو بغرض رد۔ ان سے میل جول قطعی حرام، ان سے سلام وکلام حرام، انہیں پاس بٹھانا حرام، ان کے پاس بیٹھنا حرام، بیمار پڑیں تو ان کی عیادت حرام، مرجائیں تو مسلمانوں کاسا انہیں غسل وکفن دینا حرام، ان کا جنازہ اٹھانا حرام، ان پر نماز پڑھنا حرام، انہیں مقابر مسلمین میں دفن کرنا حرام، ان کی قبر پر جانا حرام، انہیں ایصال ثواب کرنا حرام، مثل نماز جنازہ کفر۔
    قال اﷲ تعالٰی:واما ینسینک الشیطٰن فلاتقعد بعدالذکری مع القوم الظلمین۱؎۔ اگر تجھے شیطان بھلادے تو یاد آئے پر ان ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔(۱؎ القرآن الکریم۶/ ۶۸)اور فرماتا ہے: ولاترکنو االی الذین ظلموافتمسکم النار۲؎۔ اور نہ میل کرو ظالموں کی طرف کہ تمہیں دوزخ کی آگ چھوئے گی۔ (۲؎القرآن الکریم ۱۱/ ۱۱۳)نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ : فایاکم وایاھم لایضلو نکم ولایفتنونکم۳؎[/ARB]۔ ان سے دور بھاگو اور انہیں اپنے سے دور کرو کہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کردیں وہ تمہیں فتنے میں نہ ڈال دیں۔(۳؎ صحیح مسلم باب نہی عن الروایہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۰)دوسری حدیث میں ہے: لاتجالسوھم ولاتؤاکلوھم ولاتشاربوھم واذامرضوالاتعودوھم واذاماتوافلاتشھدوھم ولاتصلواعلیہم ولاتصلوا معھم۴؎۔ نہ ان کے پاس بیٹھو، نہ ان کے ساتھ کھانا کھاؤ، نہ ان کے ساتھ پیو، بیمار پڑیں تو ان کی عیادت نہ کرو، مرجائیں تو ان کے جنازہ پر نہ جاؤ، نہ ان پر نماز پڑھو نہ ان کے ساتھ نمازپڑھو۔(۴؎ کنزالعمال باب فضائل صحابہ حدیث ۳۲۴۶۸، ۳۲۵۲۹،۳۲۴۵۴۲موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱/ ۴۲، ۴۰ ،۵۲۹)رب عزوجل فرماتا ہے۔: ولاتصل علی احدمنھم مات ابدا ولاتقم علٰی قبرہ۵؎۔ ان میں کبھی کسی کے جنازہ کی نماز نہ پڑھنا نہ اس کی قبر پر کھڑاہونا۔(۵؎ القرآن الکریم ۹/ ۸۴ )جو ان کے اقوال پر مطلع ہو کر ان سے محبت رکھے وہ انہیں کی طرح کافر ہے، قال تعالٰی:ومن یتولھم منکم فانہ منھم۶؎۔ تم میں سے جوان سے دوستی رکھے وہ بیشک انہیں میں سے ہے۔ (۶؎ القرآن الکریم ۶/ ۵۱)اور اس کا حشر انہیں کافروں کے ساتھ ہوگا۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں۔: من احب قوما حشرہ اﷲ فی زمرتھم۱؎۔ جو کسی قوم سے محبت رکھے گا اﷲتعالٰی اسی قوم کے ساتھ اس کاحشر کرے گا۔(۱؎ المعجم الکبیر للطبرانی حدیث۲۵۱۹ المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ۳/ ۱۹)اور فرماتے ہیں: من ھوی الکفرۃ فھو مع الکفرۃ۲ ؎۔جوکافروں سے محبت رکھے گا وہ انہیں کے ساتھ ہوگا اور جوان کو عالم دین یا پیر وسنت سمجھے قطعاً کافرومرتد ہے۔(۲؎ مجمع الزوائد باب تحشر کل نفس علی ھواہا دارالکتاب بیروت ۱/ ۱۱۳)
    شفائے امام قاضی عیاض وذخیرۃ العقبٰی بحرالرائق ومجمع الانہر وفتاوٰی بزازیہ ودرمختار وغیرہا معتمدات اسفار میں ہے: من شک فی عذابہ وکفرہ فقد کفر۳؎ ۔(جوان کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافرہے۔ جب ان کو مسلمان سمجھنا درکنار ان کے کفر میں شک کر نا موجب کفر ہے تو معاذاﷲ انہیں عالم دین یا پیر وسنت سمجھنا کس قدر اخبث کفر ہوگا۔ وذٰلک جزاء الظالمین۴؎ ۔(اور ظالموں کی یہی جزا ہے۔ت) (۳؎ درمختار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۶) (۴؎ القرآن الکریم ۵/ ۲۹)
    اﷲ عزوجل سب خبثا کے شر سے پناہ دے اور مسلمان بھائیوں کی آنکھیں کھولے اور دوست دشمن پہچاننے کی تمیز دے، ارے کس کے دوست دشمن ،محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے دوست ودشمن ، افسوس افسوس ہزار افسوس کہ آدمی اپنے دوست دشمن کو پہچانے ، اپنے دشمن کے سایہ سے بھاگے، اس کی صورت دیکھ کر آنکھوں میں خون اترے اور محمدرسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے دشمنوں ،ان کے بدگویوں ، انہیں گالیاں لکھ کر شائع کرنے والوں اور ان خبیثوں کے ہم مذہبوں ہم پیالوں سے میل جول رکھے، کیا قیامت نہ آئے گی، کیا حشر نہ ہوگا، کیا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو منہ دکھانا نہیں، کیا ان کے آگے شفاعت کے لئے ہاتھ پھیلانا نہیں!مسلمانو !اﷲ سے ڈرو رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم سے حیاکرو۔ اﷲ عزوجل توفیق دے۔آمین!واﷲ تعالٰی اعلم
    آخری تدوین : ‏ ستمبر 1, 2014
  9. ‏ ستمبر 1, 2014 #9
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    مسئلہ۱۶۳تا۱۶۹:ازشہرمحلہ روہیلی ٹولہ مسئولہ حاجی محمد خلیل الدین احمد صاحب یکم صفر۱۳۳۹ھ
    کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:
    (۱) مشرکین سے اتحاد ووداد حلال ہے یانہیں؟
    (۲) مشرک کو اپنی حاجت دینیہ میں اپنا لیڈر یعنی ہادی وامام ورہبر بنانا کیسا ہے؟
    (۳) مشرک کی نسبت یہ کہنا کہ وہ ہمارے شہر کی خاک کو پاک کرنے کے لئے تشریف لائے ہیں، کیا حکم رکھتا ہے؟
    (۴) مشرک کے لے بڑا مرتبہ اور عزت ماننا مطابق اسلام ہے یانہیں؟
    (۵) اور اس کے استقبال کو شاندار بنانے کے لئے مسلمانوں کا جانا اور مشرک کی تعظیم ،
    (۶) اور اس کی جے بولنا،
    (۷) اور اس کو مہاتما کہنا کیسا ہے؟بینواتوجروا۔
    الجواب
    (۱) مشرکین سے اتحاد درکنار وداد حرام قطعی ہے۔قال اﷲ تعالٰی: لاتجدقو مایؤمنون باﷲ والیوم الاٰخر یوادون من حاداﷲ ورسولہ ولو کانوا ابائھم او ابنائھم او اخوانھم او عشیرتھم اولئک کتب فی قلوبھم الایمان وایدھم بروح منہ۱؎۔ تو نہ پائے گا ان لوگوں کو جنہیں اﷲ اور قیامت پر ایمان ہے کہ اﷲ ورسول کے مخالف سے دوستی کریں اگرچہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا عزیز ہوں یہ ہیں وہ لوگ جن کے دلوں میں ایمان اﷲ نے لکھ دیا ہے اور اپنی طرف کی روح سے ان کی مدد فرمائی۔(۱؎ القرآن الکریم ۵۸/ ۲۲)اور فرماتا ہے جل وعلا: ومن یتولھم منکم فانہ منھم۲؎۔ تم میں جوان سے دوستی کرے گا وہ بیشک انہیں میں سے ہے۔(۲؎القرآن الکریم ۵/ ۵۱)یہ ہیں قرآن عظیم کی شہادتیں کہ ان سے وداد واتحاد کفر ہے اور یہ کہ اس کے مرتکب نہ ہوں گے مگر کافر۔ مسلمانو!قرآن کریم سے بڑھ کر کس کا فتوٰی ہے،ومن اصدق من اﷲ حدیثاo۳؎اﷲ سے بڑھ کر کس کی بات سچی ہے۔(۳؎القرآن الکریم ۴/ ۸۷)
    (۲) مشرک کوحاجت دینیہ میں ہادی بنانا امام ٹھہرانا قرآن عظیم کی صریح تکذیب ہے، قرآن عظیم میں ہرزارہاآیتیں گونج رہی ہیں کہ وہ گمراہ ہیں، ہدایت سے بالکل بیگانہ ہیں، یہاں تک کہ فرمایا: ان ھم الا کالانعام بل ھم اضل سبیلا۱؎۔ وہ چوپایوں کی طرح نرے بے عقل ہی ہیں بلکہ ان سے بھی سخت ترگمراہ۔(۱؎ القرآن الکریم ۲۵/ ۴۴)تو جو انہیں ہادی وامام بنائے گا قطعاً قرآن عظیم کو جھٹلائے گا اورقطعاً راہ ہلاک پائے گا ؎
    اذاکان الغراب دلیل قوم
    سیھدیہم طریق الھا لکینا

    (جب کسی قوم کا رہنما کوا ہوتو وہ ان کو ہلاکت کی راہ چلائے گا۔ت)اور روز قیامت ایسا گروہ اس مشرک ہی کے نام سے پکارا جائے گا
    قال اﷲ تعالٰی:یوم ندعوا کل اناس بامامھم۔جس دن ہرگروہ کو ہم اس کے امام کے ساتھ پکاریں گے۔ (القرآن الکریم ۱۷/ ۷۱)
    (۳) لاالٰہ الا اﷲ عجب ان سے کہ مدعی اسلام ہوں اور اسلام کے پورے مدعی بن بیٹھیں، کیا قرآن عظیم کے رد ہی پر کمر باندھی ہے، واحد قہار فرماتا ہے:انما المشرکون۳؎ ۔نجس مشرک تو نہیں مگر نرے گندے، بلکہ عین نجاست عجب کہ نجاست اور مطہر، ہاں جب ہندو دھرم ہی اختیار کیا تو عجب نہیں کہ گوبر اور پوتر، لاواﷲ اس سے بھی ہزار درجہ بدتر گوبر کی نجاست میں ائمہ کو اختلاف ہے اور مشرک کی نجاست پر قرآن کریم کا نص صاف ہے اور آمد سے زمین ناپاک کرنے میں نجاست باطن نجاست ظاہر سے کروڑ درجہ بدتر ہے، نجاست ظاہر ایک دھار پانی سے پاک ہوجاتی ہے اور نجاست باطن کروڑ سمندروں سے نہیں دھل سکتی جب تک صدق دل سے ایمان نہ لائے،ع (۳؎القرآن الکریم ۹/ ۲۸)
    ہر چہ شوئی پلید تر باشد
    (جتنا دھوئے گا اتنا ہی زیادہ پلید ہوگا۔ت)
    (۴) کیا قسم کھائی کہ قرآن عظیم کا کوئی جملہ سلامت نہ رکھیں، مشرک کے لئے ہرگز کوئی عزت نہیں اور بڑاد رکنار ادنٰی سے ادنٰی ، چھوٹے سے چھوٹا کوئی رتبہ نہیں، واحد قہار جل وعلا فرماتا ہے: وﷲ العزۃ ولرسولہ وللمؤمنین ولکن المنٰفقین لایعلمون ؎ ۔۔عزت تو صرف اﷲ اور اس کے رسول اور ایمان والوں کے لئے ہے مگر منافقوں کو خبر نہیں۔(۱؎ القرآن الکریم ۶۳/ ۸)عزیز مقتدر جل وعلا فرماتا ہے: ان الذین یحادون اﷲ ورسولہ اولٰئک فی الاذلین۲؎۔ بیشک اﷲ ورسول کے جتنے مخالف ہیں سب ہر ذلیل سے بدتر ذلیلوں میں ہیں۔( ۲؎القرآن الکریم ۵۸/ ۲۰)عزیز منتقم ،عزجلالہ فرماتاہے:ھم شرالبریۃ۳؎۔وہ تمام مخلوق الٰہی سے بدتر ہیں۔ مخلوق میں کتا بھی ہے سور بھی ہے۔ قرآن عظیم شہادت دیتا ہے کہ مشرکین ان سے بھی بدتر ہیں، پھر رتبہ و عزت کے کیا معنی!(۳؎القرآن الکریم ۹۸/ ۶)
    (۵) اس کی تعطیم سخت سے سخت کبیرہ اور قرآن عظیم کی مخالفت شدیدہ ہے۔حدیث میں ہے رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: من وقر صاحب بدعۃ فقد اعان علٰی ھدم الاسلام۴؎۔ جو کسی بدعتی بدمذہب کی تعظیم کرے اس نے اسلام کے ڈھادینے پر مدد دی۔(۴؎ کنزالعمال حدیث۱۱۰۲ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱/ ۲۱۹)(المعجم الاوسط حدیث ۶۷۶۸ مکتبۃ المعارف الریاض ۷/ ۳۹۶)
    مبتدع کی تعظیم پر حکم یہ ہے مشرک کی تعظیم کس درجہ بیخ کنی اسلام ہوگی۔ولکن المنٰفقین لایعلمون۵؎ ۔ (مگر منافقوں کوخبرنہیں۔ت)(۵؎ القرآن الکریم ۶۳/ ۲۰)
    استقبال کو شاندار بنانے کے لئے جانا تو عین تعظیم ہے جو صریح مخالفت قرآن عظیم ہے، اس جلوس ناما نوس میں ویسے بھی شرکت حرام ہے۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:من سود مع قوم فھو منھم۶؎۔ جوکسی قوم کے جتھے میں شامل ہوا وہ انہیں میں سے ہے۔دوسری حدیث میں ہے: من کثرسوادقوم فھو منھم۷؎ جوکسی قوم کا مجمع بڑھائے وہ انہیں میں سے ہے۔ (۶؎ کنز العمال حدیث ۲۴۶۸۱ موسسۃ الرسالۃبیروت ۹/ ۱۰)(۷؎ نصب الرایہ لاحادیث الہدایہ بحوالہ مسند ابویعلی المکتبۃ الاسلامیۃ الریاض ۴/ ۳۴۶)(کنزالعمال حدیث ۲۴۷۳۵ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۹/ ۲۲)
    تیسری حدیث میں ہے: من جامع المشرک وسکن معہ فانہ مثلہ۱؎۔ جومشرک کے ساتھ آئے اور اس کے ساتھ رہے وہ بیشک اسی کے مثل ہے۔(۱؎ سنن ابی داؤد آخر کتاب الجہاد آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۹)
    (۶) مشرک کی جے نہ بولے گا مگر مشرک۔حدیث میں ہے سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:اذامدح الفاسق غضب الرب واھتز لذٰلک العرش۲؎۔ جب فاسق کی مدح کی جاتی ہے رب غضب فرماتا ہے اور عرش الٰہی کانپ جاتا ہے۔ (۲؎ شعب الایمان حدیث ۴۸۸۶ دارالکتب العلمیہ بیروت ۴/ ۲۳۰)(اتحاف السادۃ باب الآفۃ الثامنہ عشر المدح دارالفکر بیروت ۷/ ۵۷۱)
    (۷) مہاتما کے معنی ہیں''روح اعظم''جو خاص لقب سیدنا جبریل امین علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ہے، مشرک کو اس سے تعبیر کرنا صریح مخالفتِ خدا ورسول ہے۔ حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: لاتقولو اللمنافق یا سید فانہ ان یکن سید کم فقد اسخطتم ربکم عزوجل۳؎۔ منافق کو''اے سردار'' نہ کہو بیشک اگر وہ تمہارا سردار ہے، تو تم نے اپنے رب عزوجل کا غضب لیا۔(۳؎ سنن ابی داؤد کتاب الادب باب یقول المملوک الخ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۳۲۴)(مسند امام احمد بن حنبل حدیث حضرت بریدۃ الاسلمی دارالفکر بیروت ۵/ ۴۷۔۳۴۶)
    اب ادھر تو منافق و مشرک کا فرق دیکھو اور ادھر سردار و روح اعظم کا مواز نہ کرو، انہیں نسبتوں سے اس پر اﷲ عزوجل کا غضب اشد ہے، والعیاذ باﷲ رب العالمین، اﷲ تعالٰی مسلمانوں کی آنکھیں کھولے مسلمان کرے، مسلمان رکھے، مسلمان مارے، مسلمان اٹھائےولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم،واﷲتعالٰی اعلم۔

    مسئلہ۱۷۰:از موضع خورد مئوڈاکخانہ بدوسرائے ضلع بارہ بنکی مسئولہ سید صفدر علی صاحب۲صفر۱۳۳۹ھ
    کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ افواہا سنا جاتا ہے کہ اکثر لوگ ایسے ہوئے ہیں اور ہوتے جاتے ہیں کہ ریاضت کرتے ایسے واصل بخداہوجاتے ہیں کہ نماز روزہ ترک کردیتے ہیں (جبکہ اظہر من الشمس ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے زیادہ کوئی مقرب تر نہیں ہوا اور نہ ہوسکتا ہے اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نماز روزہ بدرجہ اتم ادا فرماتے تھے) او ر لوگ ان کی ولایت کے قائل ہوتے ہیں، چنانچہ تاریخ فرشتہ (اردو)جلد دوم میں لکھا ہے کہ ''شیخ احمد رحمۃ اﷲتعالٰی علیہ حالت جذب میں نماز نہیں پڑھتے تھے''۔ اب دریافت طلب یہ امر ہے کہ ایسے تارک نماز روزہ کے نسبت قرآن مجید و حدیث شریف میں کیا حکم ہے؟آیا تارک نماز و روزہ ولی اﷲ کہے جانے کے لائق ہوسکتا ہے اور ہے یا نہیں اور کوئی درجہ شریعت، طریقت، معرفت میں ایسا ہے کہ جہاں پہنچ کر روزہ نماز کا تارک گنہگار نہ ہو؟
    الجواب: کوئی شخص ایسے مقام تک نہیں پہنچ سکتا جس سے نماز و روزہ وغیرہ احکام شرعیہ ساقط ہوجائیں جب تک عقل باقی ہے،
    اﷲ عزوجل فرماتا ہے:واعبد ربک حتی یاتیک الیقین۱؎۔ مرتے دم تک اپنے رب کی عبادت کر۔ (۱؎ القرآن لاکریم۵/ ۹۹)سید الطائفہ جنید بغدادی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے عرض کی گئی: کچھ لوگ پیدا ہوئے کہ نماز وغیرہ عبادات چھوڑدی ہے اور کہتے ہیں کہ شریعت تو راستہ ہے ہم پہنچ گئے ہمیں راہ کی حاجت نہیں فرمایا:"صدقو القد وصلواولکن الٰی این الی النار" وہ سچ کہتے ہیں ضرور پہنچ گئے مگر کہاں تک، جہنم تک۔ پھر فرمایا:اگر مجھے صدہا برس کی عمر دی جائے توفرض تو فرض جو نفل مقرر کرلئے ہیں ہرگز نہ چھوڑوں۔ اس مسئلہ کاکامل بیان ہمارے رسالہ''مقال عرفاء''میں ہے، حالت جذب میں مثل جنون عقل سلامت نہیں رہتی، اس وقت وہ مکلف نہیں ، جو باوصف بقائے عقل واستطاعت قصداً نماز یا روزہ ترک کرے ہرگزولی اﷲ نہیں ولی الشیطان ہے قرآن وحدیث میں اسے مشرک و کافر تک فرمایا۔قال اﷲ تعالٰی اقیمو الصلٰوۃ ولاتکونوا من المشرکین۲؎۔ اﷲ تعالٰی نے فرمایا: نماز قائم رکھو اور مشرکوں سے نہ ہوجاؤ۔(۲؎القرآن الکریم۳۰/ ۳۱)۔وقال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من ترک الصلٰوۃ متعمدافقد کفر جہارا۱؎۔ نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے قصداً نماز چھوڑی وہ علانیہ کافر ہوگیا(ت) (۱؎ مجمع الزوائد باب فی تارک الصلوٰۃ دارالکتاب بیروت ۱/ ۲۹۵)

    مسئلہ۱۷۱: ازشہر محلہ کوہاڑا پیر مسئولہ یوسف علی بیگ۵صفر۱۳۳۹ھ
    کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اہل سنت و جماعت کو رافضیوں سے ملنا جلنا اور کھانا پینا اور رافضیوں سے سود سلف خریدنا جائز ہے یانہیں؟اور جو شخص سنی ہوکر ایسا کرتا ہے اس کی نسبت شرعاً کیا حکم ہے؟ آیا وہ شخص دائرہ اہل سنت و جماعت سے خارج ہے یانہیں؟اور شخص مذکورہ بالا سے تمام مسلمانوں کو اپنے دینی ودنیوی تعلقات منقطع کرنا چاہئیں یانہیں؟
    الجواب: روافض زمانہ علی العموم مرتد ہیں۔کما بیناہ فی ردالرفضۃ (جیسا کہ ہم نے اسے ردالرفضہ میں بیان کیا ہے) ان سے کوئی معاملہ اہلِ اسلام کا سا کرنا حلال نہیں، ان سے میل جول نشست و برخاست سلام کلام سب حرام ہے،قال اﷲ تعالٰی: واماینسینک الشیطٰن فلاتقعد بعدالذکری مع القوم الظالمین۲؎۔(۲؎ القرآن الکریم ۶/ ۶۸)اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اور جو کہیں تجھے شیطان بھلادے تو یاد آنے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔(ت)
    حدیث میں ہے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: سیأتی قوم لھم نبز یقال لھم الرافضۃ یطعنون السلف ولایشھدون جمعۃ ولاجماعۃ فلاتجالسوھم ولاتؤاکلوھم ولاتشاربوھم ولاتناکحوھم واذامرضوافلاتعودوھم واذاماتوا فلاتشھدوھم ولاتصلواعلیہم ولاتصلوامعھم۳؎۔ عنقریب کچھ لوگ آنے والے ہیں ان کا ایک بدلقب ہوگا انہیں رافضی کہا جائے گا سلف صالحین پر طعن کرینگے اور جمعہ وجماعات میں حاضر نہ ہوں گے، ان کے پاس نہ بیٹھنا، نہ ان کے ساتھ کھانا کھانا، نہ ان کے ساتھ پانی پینا، نہ ان کے ساتھ شادی بیاہ کرنا، بیمار پڑیں تو انہیں پوچھنے نہ جانا، مرجائیں تو ان کے جنازے پر نہ جانا، ان پر نماز پڑھنا ، نہ ان کے ساتھ نماز پڑھنا۔ (۳؎ کنز العمال حدیث۔۳۱۶۳۷، ۳۲۵۴۲ ،۳۲۵۲۹ ،۳۲۴۶۸موسسۃ الرسالہ بیروت۱/ ۲۵ ۔۳۲۴، ۵۲۹،۵۴۰،۵۴۲)
    جوسنی ہوکر ان کے ساتھ میل جول رکھے اگر خود رافضی نہیں تو کم از اشد فاسق ہے، مسلمانوں کو ان سے بھی میل جول ترک کرنے کا حکم ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔

    مسئلہ۱۷۲:ازشہربازار صندل خاں مسئولہ نیاز علی خاں۶صفر۱۳۳۹ھ

    کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شرع سے فتوٰی ہوا ہے کہ مشرک کی تعظیم کے جلوس اور اس کے لکچر کے جلسے میں جس میں سے واعظ مسلمین بنایا گیا ہو شرکت حرام ہے اس پر ایک شخص نے کہا کہ یہ باکل ٹھیک نہیں اور فضول گھڑنت اور زبردستی کا لٹھ چلانا ہے ایسے شخص سے بیاہ شادی کرنا مسلمان کو جائز ہے یانہیں؟ اور ایسا شخص مسجد میں اذان کہے تو جائز ہے یانہیں؟سلام وکلام، میل جول رکھنا اور مسلمان کہنا جائز ہے یانہیں؟کھانا پینا اس کے یہاں جائز ہے یانہیں؟اگر جائز ہو تو مہر کردی جائے اور ناجائز ہوتو مہر کردی جائے۔
    الجواب: صورت مستفسرہ میں اس شخص نے حکم شریعت کی توہین کی اور شریعت کی توہین کفر ہے، عورت اس کے نکاح سے نکل گئی اس پر فرض ہے کہ از سر نومسلمان ہو کر توبہ کرے کلمہ اسلام پڑھے، اس کے بعد اگر عورت راضی ہوتو اس سے دوبارہ نکاح کرسکتا ہے، اور اگر توبہ نہ کرے تو اس سے میل جول حرام ہے اور بیاہ شادی محض زنا، اور اس کی اذان ناجائز، نہ اس سے سلام وکلام جائز، نہ اسے مسلمان کہنا جائز۔ فتاوی عالمگیریہ میں ہے: رجل قال آنہا کہ علم آموزند داستانہا است کہ می آموزند اوقال باداست آنچہ مے گوید او قال تزویراست او قال من علم حیلہ را منکرم ہذاکلمہ کفر کذافی المحیط۱؎۔واﷲتعالٰی اعلم۔ایک آدمی کہتا ہے جو علم انہوں نے سکھایا ہے وہ تمام کہانیاں ہیں یا کہتا ہے جو اسے بیان کیا ہے وہ تمام فریب ہے یا کہتا ہے میں علم حیلہ کا منکر ہوں، تو یہ کلمہ کفر ہے، جیساکہ محیط میں ہے۔ واﷲتعالٰی اعلم(ت) (۱؎ فتاوٰی ہندیہ باب المرتد نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۲۷۰)

    مسئلہ۱۷۳:ازدہلی بازار چتلی قبرچھتاموم گران مسئولہ محمد سلیمان خاں سادیکار ۶شوال ۱۳۳۹ھ
    کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسئلوں میں کہ:
    (۱) قادیانی غیر مقلد، اہل قرآن ، رافضی وغیرہ وغیرہ علاوہ سنیوں کے جتنے فرقے ہیں ان کے ساتھ کھانا پینا، سلام علیک کرنا، نوکری کرنا جائز ہے یانہیں؟بعض علماء فرماتے ہیں کہ رسول خد اکی حدیث ہے کہ جس میں سو میں ننانوے باتیں کفر کی ہوں اور ایک بات اسلام کی ہوتو اس کو کافر نہیں کہنا چاہئے۔
    (۲) ہندو انگریز وغیرہم کی ہم نوکری کرتے ہیں اور ملتے ہیں ان میں اور قادیانی ودیگر فرقوں میں کیا فرق ہے ؟ بینواتوجروا۔
    الجواب
    (۱) یہ فرقے اور اسی طرح دیوبندی و نیچری غرض جو بھی ضروریات دین سے کسی شے کا منکر ہو سب مرتد کافر ہیں، ان کے ساتھ کھانا پینا، سلام علیک کرنا، ان کی موت وحیات میں کسی طرح کا کوئی اسلامی برتاؤ کرنا سب حرام، نہ ان کی نوکری کرنے کی اجازت، نہ انہیں نوکررکھنے کی اجازت کہ ان سے دور بھاگنے اور انہیں اپنے سے دور کرنے کا حکم ہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: ایاکم وایاھم لایضلونکم ولایفتنونکم۱؎۔ ان سے بچو، انہیں دور رکھو تاکہ وہ تمہیں نہ گمراہ کریں نہ فتنہ میں ڈال سکیں۔(ت) (۱؎ صحیح مسلم مقدمۃ الکتاب باب نہی عن الروایۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۰)وہ حدیث جو سوال میں لکھی محض جھوٹ اور نری بناوٹ اور رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پر صریح افترا ہے بلکہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اور قرآن حکیم کا حکم یہ ہے کہ ہزار باتیں اسلام کی کرتا ہو اور ایک کلمہ کفر کہے وہ کافر ہوجائے گا۔اﷲ عزوجل فرماتا ہے: یحلفون باﷲ ماقالواولقد قالواکلمۃ الکفر وکفروابعداسلامھم۲؎۔ اﷲ کی قسم کھاتے ہیں کہ انہوں نے یہ بات نہ کہی اور بیشک ضرور انہوں نے کفر کا لفظ کہا اور اسکے سبب مسلمان ہونے کے بعدکافر ہوگئے۔(۲؎ القرآن الکریم ۹/ ۷۴)دین وعقل دونوں کا مقتضٰی تو یہ ہے کہ ننانوے قطرے گلاب میں ایک بوند پیشاب کی ڈال دو سب پیشاب ہوجائے گا، مگر ان خبیثوں کا مذہب یہ ہے کہ ننانوے تو لے پیشاب میں تولہ بھر ڈال دو سب گلاب ہوجائے گا، پاک ہے، حلال ہے چڑھاجاؤ۔
    (۲) ہندو اور نصارٰی کافران اصلی ہیں اور یہ فرقے کافران مرتد او رشریعت مطہرہ میں مرتد کا حکم اصلی سے سخت تر ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔

    مسئلہ۱۷۵:ازبنارس محلہ نواب گنج مسئولہ شیخ فریدن سوداگر۲۲رمضان ۱۳۳۹ھ
    کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مقابلہ کفار میں جب کفار میں جب لشکر اسلام کو شکست ہوتو زید کفار کو ان کی فتح پر مبارکباد دے اور مسرت وخوشی کا اظہار کرے عندالشرع اس کا کیاحکم ہے؟بینواتوجروا
    الجواب: اگر یہ بات واقعی ہے کہ وہ معاذاﷲ کفر کی فتح او راسلام کی شکست چاہتا تھا تو اس کے کفر میں شک نہیں،
    قال اﷲ تعالٰی ان تمسسکم حسنۃ تسؤھم وان تصبکم سیئۃ یفرحوابھا ۱؎۔ تمہیں کوئی بھلائی پہنچے تو انہیں برا لگے اور اگر تمہیں کوئی برائی پہنچے تو اس پرخوش ہوں۔(ت)ورنہ مرتکب اشد کبیرہ ہونے میں شک نہیں اور تجدید اسلام لازم ، اس کے بعد تجدید نکاح کا حکم ۔
    عالمگیریہ میں ہے: لوفاسق شرب الخمر فجاء اقاربہ ونثروا الدراھم علیہ کفرواولولم ینثروالکن قالوامبارکباد کفرواایضا۲؎۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ (۱؎ القرآن الکریم ۳/ ۱۲۰)تمہیں کوئی بھلائی پہنچے تو انہیں برا لگے اور اگر تمہیں کوئی برائی پہنچے تو اس پرخوش ہوں۔(ت)ورنہ مرتکب اشد کبیرہ ہونے میں شک نہیں اور تجدید اسلام لازم ، اس کے بعد تجدید نکاح کا حکم ۔عالمگیریہ میں ہے: لوفاسق شرب الخمر فجاء اقاربہ ونثروا الدراھم علیہ کفرواولولم ینثروالکن قالوامبارکباد کفرواایضا۲؎۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ اگر کسی فاسق نے شراب پی اس کے رشتہ دار آئے اور انہوں نے اس پر روپے وارے تو وہ کافر ہوجائیں گےا ور اگر پیسے نہ وارے مگر مبارکباد دی تب بھی کافر ہوجائیں گے۔واﷲتعالٰی اعلم۔(ت)(۲؎ فتاوٰی ہندیہ باب المرتد نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۲۷۲)

    مسئلہ۱۷۶:ازجی آئی پی ریلوے اسٹیشن بھساول مسئولہ عبدالباسط ۱۱رمضان ۱۳۳۹ھ
    ایک شخص مسلمان کہلاتا ہے مگر پابند روزہ حج زکوٰۃ نہیں، اسکے علاوہ فریمشن بھی ہے، اور انگریزوں کے ہمراہ فریمشن کے مکان میں ہفتہ عشرہ جاکر وہاں جو کچھ ہوتا ہے اس میں شامل رہتا ہے، ایسے شخص کومسلمان اپنے گھر کھانے کی دعوت کریں یانہ کریں اور اس کی دعوت قبول کریں یانہیں؟مسلمانوں کے قبرستان میں اسے مرنے کے بعد دفن کریں یانہیں؟بینواتوجروا۔
    الجواب: نہ اسکی دعوت کرنا جائز نہ اس کی دعوت کھانا جائز، نہ اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کریں، نہ اس کے ساتھ کوئی معاملہ موت وحیات اسلام کریں کہ فریمشن اسلام سے مرتد ہوجاتا ہے،واﷲ تعالٰی اعلم
  10. ‏ ستمبر 1, 2014 #10
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    مسئلہ۱۷۷تا۱۸۱: ازرائے پور گول بازارممالک متوسط مسئولہ مرزا محمد اسمعیل صاحب بیگ ۲۴شعبان ۱۳۳۹ھ
    بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم،سرآمد علمائے متکلمین سرخیل کملائے دین جنید عصر شبلی دہر، حامی شریعت ماحی بدعت، مجدد مائۃ حاضرہ مؤید ملت طاہرہ حضرت مولانا صاحب قبلہ مدظلکم اﷲ تعالٰی علی الفارقین المعتقدین، پس از سلام سنت اسلام آنکہ عرصہ دراز سے کوئی عریضہ ارسال خدمت اقدس نہیں کیا مگر اکثر اوقات حضور کی صحتوری اور مزاج کی کیفیت کاجبل پور ودیگر مقامات کے کاٹھیاواری احباب سے جویاں رہا، موجودہ شورش نان کوآپریشن وہندو ومسلم اتحاد پر مقررین کی تقریریں سنیں اور حضور کے سکوت پر ہمیشہ یہی خیال کرتا رہاکہ دیوبندی اوردیگر فرق ضالہ کی شرکت کی وجہ سے حضور اس روش سے کنارہ کش ہیں اور بحمداﷲ کہ میرا یہ خیال صحیح ہوا۔ چند رسالے جبل پور سے آئے اور تحقیقات قادریہ آیہ انما ینھٰکم اﷲ ۱؎ ۔جو تحقیق حضور نےفرمائی وہ حاکم علی صاحب بی اے دلائل پوروالے ماسٹر صاحب کو ترک موالات کے متعلق جو مفصل ومدلل فتوٰی ارسال فرمایا من وعن میری نظر سے گزرا میں ایک جاہل شخص ہوں لیکن اب تک الحمد ﷲ عقیدہ اہل سنت وجماعت پر قائم ہوں اور رہوں گا ان شاء اﷲ تعالٰی ،(۱؎ القرآن الکریم ۶۰/ ۹)
    ان تمام رسائل اور اشتہارات کے دیکھنے کے بعدمیں نے یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ حضور کی تحقیق اور حضور کی وسعت نظر کامخالفین کو بھی ضرور اعتراف ہوگا، گو بظاہر وہ حضور کا خلاف کرتے ہیں، لیکن اب تک ایک خلش میرے دل میں اور باقی رہی جس کی وجہ سے یہ عریضہ بصورت استفتا بغرض طلب ہدایت ارسال خدمتر ہے:
    (۱) ان تمام رسائل اور اشتہارات سے یہ تو ثابت ہوچکا کہ موالات ہر کافر و مشرک سے قطعاً حرام ہے خواہ وہ ہند، چین، جاپان، غرض کہ دنیا کہ کسی حصہ کا کیوں نہ ہو لیکن اعزاز واقتدار خلافت قائم رکھنے کےلئے مسلمانانِ ہند کو خصوصاً اور مسلمانانِ دنیا کو عموماً کون ساطرز عمل اختیار کرنا چاہئے جو حدود شرعیہ کے اندر ہو اور اس سے تجاوزنہ کرتا ہو۔
    (۲) خلافت یا سلطنت اسلام کی بقا اور تحفظ کا کیا ذریعہ ہے؟
    (۳) الائمۃ من القریش۲؎ (امام ، قریش میں سے ہوں گے۔ت) کی حدیث پر حضور اپنی تحقیق سے مطلع فرمائیں۔ (۲؎ مسند امام احمد بن حنبل حدیث حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ دارالفکر بیروت ۳/ ۱۲۹)
    (۴) اخبار واشتہار وچشم دید واقعات سے یہ ظاہر ہے کہ شریف مکہ نے حرمین شریفین زاد ہما اﷲشرفاً وتعظیماً کی بے حرمتی کی یا کرائی، جزیرۃ العرب میں کفار و مشرکین کا داخلہ قبول کرلیا اس صورت میں شریف مکہ کے ساتھ کیاسلوک مسلمانوں کو کرنا چاہئے اور شریعت مطہرہ کا ایسے شخص کی نسبت کیا حکم ہے؟
    (۵) مقامات مقدسہ کفار کے قبضہ میں بالواسطہ یا بلاواسطہ ہیں ان کفار کے اخراج کے لئے کیا طریقہ عمل ہونا چاہئے؟
    ان چند امور پر حضور کی اجمالی یا تفصیلی تحقیق مجھے مطلوب ہے اور دیگر علماء سے مجھے کوئی اتنا زیادہ سروکار نہیں جتنا حضور سے، میں نے جب سے ہوش سنبھالا حضور ہی کو اپنا راہبرراہ حق سمجھتا رہا، نہ صرف یہی بلکہ میرے والد بزرگوار جناب مرزا فطرت بیگ صاحب مرحوم انسپکٹر پولیس حضور ہی کی ہدایت پر ندوہ کی ممبری سے علیحدہ ہوئے جو اس خط سے واضح ہے جو مکتوبات علماء وکلام اہل صفا میں بنام حافظ یقین الدین صاحب مرحوم شائع کردیا گیا ہے، اس لئے مجھے فخر ہے کہ میں اس سے ہدایت یافتہ ہوں جو میرے والد مرحوم کے راہبر ہیں، انجمن رضائے مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے قیام سے بیحد خوشی حاصل ہوئی اس شہر میں اس کی اشاعت کروں گا ان شاء اﷲ تعالٰی، لیکن ایک دیوبندی محمد یسین کی وجہ سے اس میں کچھ رکاوٹ ہوگی ، یہ وہی شخص ہے جس کے مدرسہ کے مقابل یہاں کے اہل سنت نے ایک مدرسہ قائم کرکے حضور کے توسط سے مولوی سید مصباح القیوم صاحب زیدی الواسطی کو بلایا ہے، مولوی صاحب نہایت نیک آدمی ہیں اور ان کی تحقیق مندرجہ بالاامور میں محدود ہے، اس لئے عرض ہے کہ ان پانچ سوالات کے جوابات حضور کے پاس سے آنے پر ان شاء اﷲ میں حتی الامکان کوشش کروں گا کہ انجمن مذکور کی ترویج یہاں بھی ہو، پس عرض ہے کہ جواب باصواب سے جلد تر سرفراز فرمائیں:بینواتوجروافقط حدادب!
    الجواب
    مکرمی کرم فرمااکرمکم اﷲ تعالٰی، وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ، الائمۃ من القریش۱؎ (امام ،قریش میں سے ہوں گے۔ت) حدیث صحیح متواتر ہے اور اس کے مضمون پر صحابہ کرام و تابعین عظام و ائمہ اعلام تمام اہلسنت کا اجماع ہے کہ کتب عقائد وحدیث و فقہ ا س مسئلہ کی روشن تصریحات سے مالامال ہیں، (۱؎ مسند امام احمد بن حنبل حدیث حضر ت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ دارالفکر بیروت ۳/ ۱۲۹)
    ہر سلطنت اسلام نہ سلطنت ہر جماعت اسلام نہ جماعت ہر فرد اسلام کی خیر خواہی ہر مسلمان پر فرض ہے، رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:الدین النصح لکل مسلم۲؎ ۔(دین ہر مسلمان کے لئے سراپاخیر خواہی ہے۔ت)(۲؎ صحیح البخاری باب الدین النصیحۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۳)
    ہر فرض بقدر قدرت ہے اور ہر حکم مشروط بہ استطاعت،قال اﷲ تعالٰی لایکلف اﷲ نفسا الا وسعھا۱؎۔ (۱؎ القرآن الکریم۲/ ۲۸۶)اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اﷲ تعالٰی کسی نفس کو اس کی وسعت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا(ت)جو شخص حفاظت اسلام و سلطنت اسلام و اماکن مقدسہ کی استطاعت رکھتا ہے اور کاہلی سے نہ کرے مرتکب کبیرہ ہے یا کفار کی خوشامد وخوشنودی کے لئے تو مستوجب لعنت ہے یادل سے ضرر اسلام پسند کرنے کے سبب تو کافر ہے اور جو استطاعت نہیں رکھتا معذور ہے، شریعت اس کام کا حکم فرماتی ہے جو شرعاً جائز اور عادۃً ممکن اور عقلاً مفید ہو، حرام یا ناممکن یا عبث، افعال حکم شرع نہیں ہوسکتے لہذا:
    (۱) مسلمانانِ ہند کو جہاد کا ہرگز حکم نہیں، المحجۃ المؤتمنہ میں اسے واضح کردیا ہے حتی کہ خود مولوی عبدالباری کے رسالہ ہجرت ص۲۷میں ہے:''میں کشت وخون کو خصوصاً مجتمع حملہ کی صورت جیسا کہ لشکر کرتا ہے غیر مفید سمجھتا ہوں کیونکہ اس کے اسباب مجتمع نہیں غیر قادرین پر فرض نہیں بدسگالی کی غرض سے کرسکتے ہیں اس کا ضرر ہوگا۔''
    (۲) ہندوستان دارالاسلام ہے، ا س میں فقیر کا رسالہ اعلام الاعلام مدتوں سے شائع ہے اور خودمولوی عبدالباری کے رسالہ ہجرت ص۱۷میں ہے:''ہم لوگوں کا مسلک یہ ہے کہ ہندوستان دارالاسلام ہے''۔
    اور شک نہیں کہ دارالاسلام سے ہجرت عامہ کا حکم ہرگز شرع مطہر نہیں فرماتی ، نہ عادۃً وہ ممکن نہ کچھ مفید کہ سب مسلمان اپنی جائدادیں یونہی نصارٰی کے لئے چھوڑ جائیں یا کوڑیوں کے مول ہندوؤں کو دی جائیں اورخود کروڑوں ننگے بھوکے اور ملک کے مسلمانوں پر ڈھٹی دیں ان کی عافیت بھی تنگ کریں یا بھوکے مرجائیں اور اپنی مساجد و مزارات اولیاء پامالیِ کفار ومشرکین کے لئے چھوڑجائیں اور یہ سب کچھ اوڑ بھی لیاجائے تو اس سے سلطنت اسلام کو کیا فائدہ، اور اماکن مقدسہ کا کیا نفع اور ہجرت بعض کا بے سود ہونا بھی عقلاً تومعلوم تھا ہی، اب تجربۃً مشہور بھی ہولیا سوا ان غریب مسلمانوں کی بے سرو سامانی وآوارگی وپریشانی وحسرت وپشیمانی کے اور بھی کوئی فائدہ مترتب ہوا۔
    (۳) مالی امداد البتہ ایک چیز ہے اگرچہ مولوی عبدالباری اس کے بھی منکر ہیں۔ رسالہ ہجرت ص۵پر ہے:''ہم اس وقت اعانت بمال کو مسلمانان ہند پر فرض نہیں سمجھتے بوجہ عدم استطاعت''۔یہ عذر کیسا بھی ہو مگر ذرائع وصول مہیا ہونا اور وصول پروثوق کے ساتھ اطمینان ملنا بہت ضرور ہے نہ ایسا کہ لاکھوں کے چندے ہوئے اور باوصف کثرت تقاضا____اب تک حساب بھی نہیں دیتے۔
    (۴) معاملت حرام کا ترک ہمیشہ سے واجب تھا اور نہ کیا اب جائز کا ترک بھی فرض کررہے ہیں، یہ شرع پر زیادت ہے پھر بھی جائز کا ترک ہر وقت جائز ہے جب کہ کسی مخطور کی طرف منجر نہ ہو اس کاناممکن یا نامفید ہونا المحجۃ المؤتمنہ ص۸۷ سے ۹۲ تک ملاحظہ ہو، باتیں وہ بتائی جاتی ہیں جن پر تمام ملک ہر گز کاربند نہ ہوگا، نہ صرف تمام مسلمان اور بفرض غلط سب مسلمان مان بھی لیں تو بجائے نفع مضر، پھر باطل و نامتوقع پر عام عمل اگر متخیل بھی ہو تو مدید وطویل مدتیں درکار،اور حاجت اس وقت فوری تاتر یاق از عراق کی مثل ہے۔
    (۵) فتنہ وفساد پھیلانے کی نامفیدی ظاہر، اب تک سواء بعرض ذلتوں کے کیا حاصل ہوااور یہ کھلا پہلو اس کے شرعاً بھی ناجائز ہونے کا ہے، حدیث میں ہے:''مسلمان کو روانہیں کہ اپنے آپ کو ذلت پر پیش کرے''۔خود مولوی عبدالباری کے رسالہ ہجرت ص۷ میں ہے:''اس میں شک نہیں کہ اہلاک نفس بلاضرورت جائز نہیں، قانون جن امور کو روکتا ہے ان کو نہ کرنے میں ہم کو عذر ہے''۔
    (۶) رہی خالی چیخ پکار، آفتاب سے زیادہ آشکار کہ محض بے سود وبیکار، ملک چیخنے پکارنے سے واپس نہیں ہوتا وہ بھی اتنا وسیع ، و ہ بھی ہلال کا، وہ بھی صلیب سے، ورنہ اگلے علماء و مشائخ نے ہندوستان ہی چلاچلا کرپھیر لیاہوتا، یا مولوی عبدالباری کے بزرگوں نے چیخ پکار کر یہی ذراسی لکھنؤکی پڑیا، کیا ان کو درد اسلام نہ تھا، تھا مگر عقل بھی تھی کہ مہمل شوروغل سے کیا حاصل ہوگا، خود آزاد کے الہلال جلد۱۲ص۱۶میں ہے:''زبان سے نالہ وفریاد کرنے کی صورتیں اسی وقت تک کے لئے ہیں جب تک ان سے کشود کار ممکن ہو''۔
    (۷) خیر یہاں تک تو تھا جو کچھ تھا، قیامت کا بند تو ہے کہ خلافت کی حمایت واماکن مقدسہ کا نام لے کرمسلمان کہلانے والے مشرکوں میں فنا ہوگئے، مشرک کو پیشوا بنالیا آپ پس روبنے، جووہ کہے وہی مانیں،قرآن وحدیث کی تمام عمر اس پر نثار کردی، ترک موالات کانام بدنام اور اﷲکے دشمن مشرکوں سے وداد محبت واتحادبلکہ غلامی وانقیاد، ان کی خوشی کے لئے شعار اسلام کا انسداد، ان شناعات کے حلال کرنے کو آیات میں تحریف شریعت میں الحاد، نئی نئی شریعت کا دل سے ایجاد، جس کا بیان آپ کو المحجہ الموتمنہ میں ملے گا، یہ توصراحۃً اسلام کو کند چھری سے ذبح کرنا ہے اس کا نام حمایت اسلام رکھنا کس درجہ صریح مغالطہ و اغوا ہے، ندوہ میں بدمذہبوں ہی کی شرکت کا رونا تھا بظاہر کلمہ گوتو تھے انہوں نے سرے سے کلمہ ہی کو اٹھاکر بالائے طاق رکھ دیا ، نہیں نہیں، بلکہ پس پشت پھینک دیا، مشرکوں کو روح اعظم بنایا، موسٰی بنایا نبی بالقوہ بنایا، مذکر مبعوث من اﷲ بنایا، اس کی مدح خطبہ جمعہ میں داخل کی، اس کی تعریف میں کلام الٰہی کا مصرعہ:
    خاموشی از ثنائے تو حدِثنائے تست
    (تیری تعریف سے خاموش رہنا تیری تعریف کی انتہا ہے۔ت)
    گایا اور کیا کیا کفر وکفریات وضلالات اختیار کئے جن کا نمونہ آپ کو المحجۃ المؤ تمنۃ کے ص۴۴و۴۵پرملے گا جزیرۃ العرب میں کفار کی سکونت پچھلے سلاطین کے زمانے سے ہے، عدن میں انگریزی فوج وغیرہ میں نصرانی سفارتوں کے قیام مدتوں سے ہیں، حرمین محترمین کی بے ادبی شریف سے ہونے کا مجھے علم نہیں، اخباروں اشتہاروں کو میں خود اپنے معاملہ میں روزانہ دیکھ رہا ہوں کہ میری نسبت محض جھوٹ محض بہتان شائع کرتے اور قصداً لعنتِ الٰہی اپنے اوپر لے رہے ہیں اور ان کی تائید میں کذابین کی عینی شہادتیں ہوتی ہیں حالانکہ اﷲ ورسول جانتے ہیں اور وہ خود دل میں جان رہے ہیں کہ محض جھوٹ بکتے اور افترا بکتے ہیں واﷲ یشھد انھم لکذبون(القرآن الکریم ۵۹/ ۱۱)اﷲ گواہی دیتا ہے کہ وہ جھوٹے ہیں۔تاگر بے ادبی حقیقۃ ثابت ہوتو جس حیثیت کی جس کی نسبت ثبوت پائے وہ اس قدر کے حکم شرعی کا مستحق ہوگا کسے باشد۔ فقط ۲۴شعبان ۱۳۳۹ھ

اس صفحے کی تشہیر