1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

امام ملا علی قاری (رحمۃ اللہ علیہ) اور قادیانی دجل کا جواب

محمد اسامہ حفیظ نے 'قادیانی خرافات پرتحقیقی مقالات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ نومبر 18, 2021

  1. ‏ نومبر 18, 2021 #1
    محمد اسامہ حفیظ

    محمد اسامہ حفیظ رکن ختم نبوت فورم

    امام ملا علی قاری (رحمۃ اللہ علیہ) کی کتاب ”الأسرار المرفوعة في الأخبار الموضوعة“جس کو موضوعات کبیر کہا جاتا ہے سے قادیانی دجل کر کے ایک عبارت کا کچھ حصہ پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مولا علی قاری (رحمۃ اللہ علیہ) غیر تشریعی نبوت کو جاری مانتے تھے۔ (معاذاللہ)
    ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ کی مکمل عبارت آپ کے سامنے رکھتے ہیں جس سے یہ واضح ہو جائے گا کہ حضرت رحمۃ اللہ علیہ (معاذ اللہ) ختم نبوت کے منکر نہیں تھے۔
    الموضوعات میں حضرت نے حدیث ”وَلَوْ عَاشَ لَكَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا“ کو ذکر کیا ہے اس کے بعد اس حدیث پر امام نووی (رحمۃ اللہ علیہ) کی جرح نقل کی ہے۔ لکھتے ہیں
    قَالَ النَّوَوِيُّ فِي تَهْذِيبِهِ هَذَا الْحَدِيثُ بَاطِلٌ وَجَسَارَةٌ عَلَى الْكَلَامِ بِالْمُغَيَّبَاتِ وَمُجَازَفَةٌ وَهُجُومٌ عَلَى عَظِيمٍ
    {الأسرار المرفوعة في الأخبار الموضوعة (ص: 283،284) }

    ترجمہ: اس حدیث کے بارے میں امام نووی (رحمۃ اللہ) نے اپنی کتاب تہذیب الاسماء میں فرمایا ہے ”یہ روایت باطل ہے،غیب کی باتوں پر جسارت ہے اور ایک بے تکی بات ہے۔
    1.jpg
    اس عبارت سے ثابت ہوتا ہے کہ امام ملا علی قاری رحمۃ اللہ اس روایت کو صحیح نہیں مانتے تھے اسی وجہ سے انہیں نے امام نووی (رحمۃ اللہ) کی جرح کو نقل کیا ہے۔مگر قادیانی اس روایت کو صحیح مانتے ہیں اگر ملا علی قاری (رحمۃ اللہ) کا نام لیا ہے تو کم از کم ان کی بات تو مانو۔
    امام صاحب آگے فرمایا ہیں

    ”قَوْلُهُ تَعَالَى {مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ} فَإِنَّهُ يومىء إِلَيْهِ بِأَنَّهُ لَمْ يَعِشْ لَهُ وَلَدٌ يَصِلْ إِلَى مَبْلَغِ الرِّجَالِ فَإِنَّ وَلَدَهُ مِنْ صُلْبِهِ يَقْتَضِي أَنْ يَكُونَ لُبَّ قَلْبِهِ كَمَا يُقَالُ الْوَلَدُ سِرُّ أَبِيهِ وَلَوْ عَاشَ وَبَلَغَ أَرْبَعِينَ وَصَارَ نَبِيًّا لَزِمَ أَنْ لَا يَكُونَ نَبِيُّنَا خَاتَمَ النَّبِيِّينَ “{الأسرار المرفوعة في الأخبار الموضوعة (ص: 284)}

    ترجمہ: اللہ تعالی کا یہ فرمان (مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ ) اسی طرف اشارہ کرتا ہے کہ آپ صلی اللہ وسلم کا کوئی بیٹا اس عمر تک نہیں پہنچا کہ وہ مرد کہلاتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ بیٹا جو آپ کی پشت مبارک سے ہے آپ کے دل کا ٹکڑا ہے، جیسے کہا جاتا ہے کہ بیٹا اپنے باپ کا ”سِرُّ“ ہوتا ہے (یعنی باپ کی خصوصیات کا حامل ہوتا ہے) تو اگر آپ کے بیٹے چالیس سال کی عمر تک زندہ رہتے اور نبی بن جاتے تو یہ لازم آتا کہ ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) خاتم النبیین نہ ہوں۔ (اور اللہ کو یہ منظور نہ تھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے بعد کوئی نبی ہو اس لئے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کا کوئی بیٹا چالیس سال کی عمر تک نہ پہنچا)
    2.jpg
    اس عبارت میں مولا علی قاری (رحمۃ اللہ علیہ) نے آیت خاتم النبیین کا ذکر فرمایا ہے ،اور پھر یہ وضاحت فرمائیں کہ چونکہ حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کو خاتم النبیین فرمایا گیا ہے اس لئے اس کا لازمی نتیجہ تھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کا کوئی بیٹا چالیس سال کی عمر تک نہ پہنچتا ، کیوں کہ اگر ایسا ہو جاتا تو ملا علی قاری (رحمۃ اللہ علیہ) کے خیال میں وہ نبی ہوتا ، اور اگر وہ نبی ہوتا تو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) خاتم النبیین نہ رہتے۔یعنی ملا علی قاری (رحمۃ اللہ علیہ) کے نزدیک خاتم النبیین کا مطلب آخری نبی ہی ہے۔ اسی وجہ سے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے کسی بیٹے کو چالیس سال تک زندہ نہ رکھا گیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی خاتمیت میں فرق نہ آئے۔ یہی بات صحابی رسول حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رضی اللہ تعالی عنہ) نے بھی فرمائی ہے، صحیح البخاری میں روایت ہے

    6194 - حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ: قُلْتُ لِابْنِ أَبِي أَوْفَى: رَأَيْتَ إِبْرَاهِيمَ ابْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: «مَاتَ صَغِيرًا، وَلَوْ قُضِيَ أَنْ يَكُونَ بَعْدَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيٌّ عَاشَ ابْنُهُ، وَلَكِنْ لاَ نَبِيَّ بَعْدَهُ»
    {صحيح البخاري ( ص:1546)}

    اسماعیل بن ابی خالد کہتے ہیں کہ میں نے صحابی رسول حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رضی اللہ تعالی عنہ) سے پوچھا کیا آپ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے بیٹے حضرت ابراہیم کو دیکھا ہے ؟ حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رضی اللہ تعالی عنہ) نے فرمایا ”وہ چھوٹی عمر میں ہی انتقال فرما گئے تھے، اگر حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کے بعد کسی کو نبی بننا ہوتا تو آپ کے بعد ابراہیم زندہ رہتے، لیکن آپ کے بعد کوئی نبی نہیں“۔
    3.jpg
    اور یہ روایت ابن ماجہ میں بھی ہے اور جو ضعیف روایت قادیانی پیش کرتے ہیں (”وَلَوْ عَاش“والی) اس سے پہلے موجود ہے۔
  2. ‏ نومبر 18, 2021 #2
    محمد اسامہ حفیظ

    محمد اسامہ حفیظ رکن ختم نبوت فورم

    آگے ملا علی قاری (رحمۃ اللہ علیہ) امام ابن حجر (رحمۃ اللہ علیہ) کا قول نقل کرتے ہیں

    وَأَمَّا قَوْلُ ابْنُ حَجَرٍ الْمَكِّيُّ وَتَأْوِيلُهُ أَنَّ الْقَضِيَّةَ الشَّرْطِيَّةَ لَا تَسْتَلْزِمُ وُقُوعَ الْمُقَّدَمِ
    {الأسرار المرفوعة في الأخبار الموضوعة (ص: 285)}

    ترجمہ: اور ابن حجر مکی کا یہ قول کہ (اس رویت میں) یہ قضیہ شرطیہ ہے اور قضیہ شرطیہ میں ضروری نہیں کہ مقدم ضرور واقع ہو ۔
    4.jpg
    مطلب یہ کہ روایت کو مان بھی لیا جائے تب بھی ختم نبوت کا انکار لازم نہیں آتا کیونکہ روایت میں قضیہ شرطیہ ہے جو کہ مقدم کے واقع ہونے کو مستلزم نہیں ہوتا جیسے قرآن پاک میں ہے
    لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَتَا ‎(الأنبياء: ٢٢)
    ترجمہ:”اگر زمین و آسمان میں بہت سے خدا ہوتے تو یہ دونوں تباہ و برباد ہوجاتے ہیں “
    اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ زمین و آسمان میں بہت سے الہ بالفعل ہو سکتے ہیں۔
    یہ عبارت کا سیاق وسباق ہے، اس سے یہ درج ذیل موٹی موٹی باتیں ثابت ہوتی ہے
    نمبر 1 : روایت ”وَلَوْ عَاشَ لَكَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا“ضعیف ہے ، باطل ہے وغیرہ
    نمبر 2: ملا علی قاری (رحمۃ اللہ علیہ) کے نزدیک بھی خاتم النبیین کا معنی ہے آخری نبی اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے آخری نبی ہونے کی وجہ سے ہی آپ کا کوئی بیٹا چالیس سال کی عمر تک نہیں پہنچا کیونکہ اگر وہ چالیس سال کی عمر تک پہنچ جاتا تو وہ نبی بن جاتا(ملا علی قاری (رحمۃ اللہ) کے خیال کے مطابق) اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے بعد کوئی نبی نہیں۔
    نمبر 3 : اگر اس باطل روایت کو مان بھی لیا جائے تو بھی ختم نبوت کا انکار لازم نہیں آتا کیونکہ روایت میں قضیہ شرطیہ ہے جس کے لیے ضروری نہیں کہ مقدم ضرور واقع ہو۔
    اب چلتے ہیں عبارت کے اس حصے کی طرف جس سے قادیانی دھوکا دینے کی کوشش کرتے ہیں

    ثُمَّ يَقْرُبُ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ فِي الْمَعْنَى حَدِيثُ لَوْ كَانَ بَعْدِي نَبِيٌّ لَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَقَدْ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْحَاكِمُ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ بِهِ مَرْفُوعًا
    قُلْتُ وَمَعَ هَذَا لَوْ عَاشَ إِبْرَاهِيمُ وَصَارَ نَبِيًّا وَكَذَا لَوْ صَارَ عُمَرُ نَبِيًّا لَكَانَا مِنْ أَتْبَاعِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ كَعِيسَى وَالْخَضِرِ وَإِلْيَاسَ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ فَلَا يُنَاقِضُ قَوْلَهُ تَعَالَى {وَخَاتم النَّبِيين} إِذِ الْمَعْنَى أَنَّهُ لَا يَأْتِي نَبِيٌّ بَعْدَهُ يَنْسَخُ مِلَّتَهُ وَلَمْ يَكُنْ مِنْ أُمَّتِهِ وَيُقَوِّيهِ حَدِيثُ لَوْ كَانَ مُوسَى حَيًّا لِمَا وَسِعَهُ إِلَّا اتِّبَاعِي { الأسرار المرفوعة في الأخبار الموضوعة (ص: 285)}

    ترجمہ: پھر معنی کے لحاظ سے اس حدیث( یہ ”وَلَوْ عَاشَ لَكَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا“والی) کے قریب قریب وہ حدیث بھی ہے جس میں ہے کہ ”اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر بن خطاب ہوتے“جیسے امام احمد اور امام حاکم نے حضرت عقبہ بن عامر (رضی اللہ تعالی عنہ) سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔
    میں کہتا ہوں اس کے باوجود (یعنی جو آئمہ حدیث نے اس روایت”وَلَوْ عَاشَ لَكَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا“ کو ضعیف کہا ہے) اگر صاحبزادہ حضرت ابراہیم زندہ رہتے تو سچے نبی ہوتے اسی طرح اگر حضرت عمر نبی ہوتے تو دونوں حضرت عیسیٰ،حضرت خضر اور حضرت الیاس (علیہم السلام) کی طرح نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کے تابع داروں میں سے ہوتے ، (یہ الفاظ بہت ہی قابل غور ہیں ،قادیانی پاکٹ بک والے نے اپنے مسیح دجال کی سنت پر عمل کرتے ہوئے ان الفاظ کو نقل ہی نہیں کیا) لہٰذا ان کا نبی ہونا اللہ تعالی کے فرمان خاتم النبیین کے منافی نہیں کیونکہ (حضرت ابراہیم کے نبی ہو سکنے کا) مطلب یہ ہوگا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آئے گا جو آپ کی ملت کو منسوخ کر دے اور آپ کی امت میں سے نہ ہو، اور اس بات کو وہ حدیث بھی تقریر پہنچاتی ہے کہ ” اگر موسی (علیہ السلام) زندہ ہوتے تو انہیں میری اتباع کے بغیر چارہ نہ ہوتا“۔
    5.jpg
    اس عبارت سے واضح ہوتا ہے کہ
    نمبر 1: ”وَلَوْ عَاشَ لَكَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا“والی حدیث کو ” لَوْ كَانَ بَعْدِي نَبِيُّ لَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ“والی حدیث جیسا بتایا گیا ہے۔ جیسے وہ بطور فرض ایک بات بیان کی گئی ہے اسی طرح یہ بھی بطور فرمایا ہے۔یعنی اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتے لیکن میرے بعد چونکہ کوئی نبی نہیں اس لئے حضرت عمر نبی نہ بنے، اسی طرح اگر حضرت ابراہیم زندہ رہتے تو نبی ہوتے لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں اس لیے وہ زندہ ہی نہ رہے۔
    نمبر 2: آگے بطور فرض محال ایک بات کی گئی ہے کہ اگر بالفرض حضرت ابراہیم اور حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) کا نبی بنا اللہ کے ہاں مقرر ہوتا تو یہ دونوں حضرت عیسیٰ ، حضرت خضر اور حضرت الیاس (علیہم السلام) کی طرح حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) سے پہلے کے نبی ہوتے۔کیونکہ یہ تینوں حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) سے پہلے مبعوث ہو چکے ہیں اور اگر ابراہیم و عمر (رضی اللہ عنہما) کا نبی ہونا اللہ کے ہاں مقرر ہوتا تو یہ بھی ان تینوں کی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے نبی بنا دیے گئے ہوتے۔
    ( ملا علی قاری (رحمۃ اللہ علیہ) کی اس عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ان تینوں انبیاء (علیہم السلام) کو زندہ مانتے ہیں اور قادیانی تو ایک نبی کو بھی زندہ ماننے کو شرک سمجھتے ہیں
    ”فمن سوء الادب ان یقال ان عیسیٰ مامات ان ھو الاشرک عظیم“
    (الاستفتا ضمیمہ حقیقت الوحی ص۳۹، خزائن ج۲۲ ص۶۶۰)
    6.png
    یعنی حیات مسیح کا عقیدہ تو ایک شرک عظیم ہے۔
    قادیانیوں مرزا قادیانی کے فتوے کے مطابق تو امام ملا علی قاری تین گنا بڑے مشرک ثابت ہوئے، قادیانیوں شرم کرو مشرکوں کے حوالے پیش کرنا شروع کر دیے ہیں )
  3. ‏ نومبر 18, 2021 #3
    محمد اسامہ حفیظ

    محمد اسامہ حفیظ رکن ختم نبوت فورم

    خیر عبارت میں تو یہ ہے کہ اگر حضرت ابراہیم کا نبی ہونا اللہ کے ہاں مقرر ہوتا تو وہ انہیں حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) سے پہلے حضرت عیسی ، حضرت خضر حضرت الیاس (علیہم السلام ) کی طرح نبی بنا کر بھیج دیتا ، اس صورت میں ضروری نہ تھا کہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے بیٹے بھی ہوتے چنانچہ اسی بات کی مزید وضاحت کے لیے حضرت موسی (علیہ السلام) کے زندہ ہونے کی صورت میں حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کا تابع ہونے کا بھی ذکر فرما دیا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) سے پہلے ہی مبعوث ہوئے تھے اور اسی طرح پہلی مثال حضرت عیسیٰ ، حضرت خضر اور حضرت الیاس (علیہم السلام) وہ بھی حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) سے پہلے ہی مبعوث ہو چکے تھے۔ تو دونوں مثالوں سے یہ ثابت ہوا کہ ملا علی قاری (رحمۃ اللہ) کے نزدیک اگر حضرت ابراہیم کا نبی بننا اللہ کے ہاں مقرر ہوتا تو وہ حضرت موسیٰ ، حضرت عیسیٰ ، حضرت خضر اور حضرت الیاس (علیہم السلام) کی طرح حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) سے پہلے ہی مبعوث کر دیے جاتے۔
    نمبر 3: ملا علی قاری رحمۃ اللہ نے جو فرمایا کہ ”إِذِ الْمَعْنَى أَنَّهُ لَا يَأْتِي نَبِيٌّ بَعْدَهُ يَنْسَخُ مِلَّتَهُ وَلَمْ يَكُنْ مِنْ أُمَّتِهِ“ اس سے وہ لفظ ”خاتم النبیین“ کا معنی بیان نہیں کر رہے جیسے کہ قادیانی دھوکا دینے کی کوشش کرتے ہیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (رضی اللہ عنہ) کے نبی ہو سکنے کا معنی اور مفہوم یہ ہے.... (جو اوپر بیان ہوا) کیونکہ خاتم النبیین کا معنی تو وہی ہے جو امت نے سمجھا ہے اور خود ملا علی قاری (رحمۃ اللہ علیہ) نے بھی اوپر بیان فرمایا ہے جس کی اور وضاحت بھی آگے آئے گی۔ ان شاءاللہ
    اب ختم نبوت کے حوالے سے حضرت امام ملا علی قاری (رحمۃ اللہ علیہ) کا عقیدہ کیا تھا حوالہ جات کے ساتھ ملاحظہ فرمائیے
    نمبر 1

    شرح فقہ اکبر میں امام ملا علی قاری (رحمۃ اللہ علیہ) قادیانیت کے وجود سے پہلے ہی ان پر فتویٰ کفر دیتے ہیں۔ امام صاحب فرماتے ہیں
    وأقول: التحدي فرع دعوى النبوة، ودعوى النبوّة بعد نبينا صلى الله تعالى عليه وسلم كفر بالإجماع، فظهور خارق العادات من الأتباع كرامة من غير نزاع.
    (شرح فقہ اکبر ص:451)
    ترجمہ: میں کہتا ہوں خارق عادت امور میں دوسروں پر غلبہ کا دعویٰ نبوت کے دعویٰ کی ایک شاخ ہے،اور ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا بالاجماع کفر ہے۔
    7.jpg
    مرزا قادیانی کی پیدائش سے پہلے ملا علی قاری (رحمۃ اللہ علیہ) نے مرزا قادیانی کے کفر کا فتویٰ دے دیا تھا اور ساتھ یہ بھی بتا دیا تھا کہ یہ بات صرف میں نہیں کہتا اس پر پوری امت کا اجماع ہے ، قادیانیوں ملا علی قاری (رحمۃ اللہ) کا نام کس منہ سے لیتے ہو وہ تو مرزا قادیانی کے پیدا ہونے سے پہلے ہی اس کے کفر پر امت کا اجماع نقل کر چکے ہیں۔
    نمبر 2

    آگے امام ملا علی قاری (رحمۃ اللہ علیہ) خاتم النبیین اور حدیث ”لا نبی بعدی“ کا معنی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں
    فَالْمَعْنَى أَنَّهُ لَا يَحْدُثُ بَعْدَهُ نَبِيٌّ لِأَنَّهُ خَاتَمُ النَّبِيِّينَ السَّابِقِينَ،
    {مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (11/ 241)}

    ترجمہ: پس معنی یہی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہو گا کیونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) پہلے سب انبیاء کے خاتم یعنی آخری نبی ہیں۔
    8.jpg
    عبارت سے واضح ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کے فرمان ”لا نبی بعدی“ کا مطلب یہ ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہوگا کیونکہ آپ خاتم النبیین یعنی آخری نبی ہیں۔ اگر اس کے بعد بھی کوئی کہے کہ ملا علی قاری ختم نبوت کے منکر تھے تو اسے خد شرم کرنی چاہیے۔
  4. ‏ نومبر 18, 2021 #4
    محمد اسامہ حفیظ

    محمد اسامہ حفیظ رکن ختم نبوت فورم

    نمبر 3

    ایک اور جگہ امام ملا علی قاری (رحمۃ اللہ علیہ) حدیث ابو موسیٰ اشعری (رضی اللہ تعالی عنہ) جس میں نبی (علیہ سلام) نے اپنا نام ”المقفی“ بتایا ہے کی شرح میں اس نام کا معنی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں
    يَعْنِي أَنَّهُ آخِرُ الْأَنْبِيَاءِ الْآتِي عَلَى أَثَرِهِمْ، لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ،
    {مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (10/ 457)}

    ترجمہ: آپ آخری نبی ہیں جو سب انبیاء کے بعد تشریف لائے آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔
    9.jpg
    امام ملا علی قاری پر اجراء نبوت کا الزام لگانے والوں اس عبارت کو بھی غور سے دیکھ لو ، ملا علی قاری فرماتے ہیں نبی (علیہ السلام) آخری نبی ہیں ، آپ سب انبیاء (علیہم السلام) کے بعد تشریف لائے، آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔

    نمبر 4

    ایک اور جگہ ملا علی قاری (رحمۃ اللہ علیہ) حدیث ”وَخُتِمَ بِيَ النَّبِيُّونَ“ کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں
    (وَخُتِمَ بِيَ النَّبِيُّونَ) أَيْ: وَجُودُهُمْ، فَلَا يَحْدُثُ بَعْدِي نَبِيٌّ، وَلَا يُشْكَلُ بِنُزُولِ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ،
    {مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (10/ 427)}

    ترجمہ: آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے جو یہ فرمایا کہ مجھ پر انبیاء کا خاتمہ کر دیا گیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کا وجود میں آنا ختم کر دیا گیا ، پس میرے بعد اب کوئی نبی پیدا نہیں ہوگا ، لہذا حضرت عیسٰی علیہ السلام کے نزول سے کوئی اشکال پیدا نہیں ہوتا (کیونکہ وہ تو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے پہلے کے نبی ہیں )
    10.jpg
    عبارت بالکل واضح ہے اپنا معنی خود بیان کرتی ہے ، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے بعد کوئی نیا نبی وجود میں نہیں آئے گا ، کوئی نبی پیدا نہیں ہوگا، اس سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے نزول پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔
    مختصر یہ کہ حضرت ملا علی قاری (رحمۃ اللہ علیہ) ختم نبوت کے قائل تھے ان کے بارے میں یہ کہنا کہ معاذ اللہ وہ ختم نبوت کے منکر تھے جھوٹ اور دجل کے سوا کچھ بھی نہیں۔

اس صفحے کی تشہیر