1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

انبیاء علیہم السلام کی میراث علم ہے اصول کافی

محمد نوید قادری نے 'متفرق مقالات وتحاریر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ فروری 3, 2021

  1. ‏ فروری 3, 2021 #1
    محمد نوید قادری

    محمد نوید قادری رکن ختم نبوت فورم

    باغ فدک
    انبیاء علیہم السلام کی میراث علم ہے اصول کافی کی روشنی میں

    عبداللہ بن جندب بیان کرتے ہیں کہ امام رضا علیہ السلام نے ان کو لکھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی مخلوق میں امین تھے اور جب آپ کا وصال ہوگیا تو ہم اہلبیت آپ کے وارث ہوئے ہمیں علم دیا گیا اور ہم کو جو علم دیا گیا تھا وہ جس علم کو ہمارے پاس امانت رکھا گیا تھا ہم نے وہ علم پہنچا دیا سو ہم اولوالعزم رسولوں کے وارث ہیں


    (شیخ ابو جعفر محمد بن یعقوب کلینی الاصول من الکافی جلد 1 صفحہ 223 مطبوعہ دارالکتب الاسلامیہ تہران )


    اور اس روایت میں یہ تصریح ہے کہ اہلبیت اولوالعزم رسولوں کے علم کے وارث ہیں


    ابو جعفر علیہ السلام بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک علی بن ابی طالب اللہ کی عطا ہیں اور وہ وصیوں کے علم کے وارث ہیں اور تمام پہلوؤں کے علم کے وارث ہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) سابقین انبیاء اور مرسلین کے علم کے وارث تھے


    ( شیخ ابو جعفر محمد بن یعقوب کلینی الاصول من الکافی جلد 1 صفحہ 224 مطبوعہ دارالکتب الاسلامیہ تہران)


    اس روایت میں بھی تصریح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت علی تمام سابقین کے علم کے وارث ہیں


    مفضل بن عمر بیان کرتے ہیں کہ ابو عبداللہ علیہ السلام نے فرمایا سلیمان داؤد کے وارث تھے اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) سلیمان کہ وارث تھے اور ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وارث ہیں


    (شیخ ابو جعفر محمد بن یعقوب کلینی الاصول من الکافی جلد 1 صفحہ 225 سن مطبوعہ دارالکتب الاسلامیہ تہران)


    لیجئے امام جعفر صادق نے صاف بیان کردیا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام حضرت داؤد کے علم کے وارث تھے یہ لفظ وراثت کو وراثت علم میں استعمال کرنے کی نص صریح ہے اور ووارث سلیمان داؤد کی تفسیر ہے اور اسی حقیقت کو بیان کرنے کے ہم در پے ہیں


    ضریح کناسی بیان کرتے ہیں کہ میں ابوعبداللہ علیہ السلام کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور ان کے پاس ابوبصیر بھی تھے ابوعبداللہ علیہ السلام نے فرمایا حضرت داؤد علوم انبیاء کے وارث تھے اور حضرت سلیمان داؤد کے وارث تھے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم حضرت سلیمان کے وارث تھے اور ہم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وارث ہیں


    (شیخ ابو جعفر محمد بن یعقوب کلینی الاصول من الکافی جلد 1 صفحہ 225 مطبوعہ دارالکتب الاسلامیہ تہران)


    ابراہیم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے ابو الحسن علیہ السلام سے پوچھا میں آپ پر قربان ہوں یہ بتائیے کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء کے وارث ہیں فرمایا ہاں پس ہم وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالی نے منتخب فرمایا اور ہم کو اس کتاب کا وارث بنا دیا جس میں ہر چیز کا بیان ہے


    (شیخ ابو جعفر محمد بن یعقوب الکافی جلد 1 صفحہ 226 مطبوعہ دارالکتب الاسلامیہ تہران)


    اس روایت میں یہ بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء کے وارث ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ آپ تمام انبیاء کے مال کے وارث نہیں تھے بلکہ ان کے علم کے وارث تھے اور اس سے زیادہ واضح یہ ہے کہ ابو الحسن نے فرمایا کہ ہم اہل بیت قرآن مجید کے وارث ہیں اور یہ علم کی وراثت ہے ان تمام روایات سے یہ واضح ہو گیا کہ وراثت کا لفظ وراثت علمی میں استعمال ہوتا ہے اور انبیاء علیہ السلام کی وراثت وراثت علمی ہے

    (محمد نوید قادری)
    آخری تدوین : ‏ فروری 3, 2021
  2. ‏ فروری 3, 2021 #2
    محمد نوید قادری

    محمد نوید قادری رکن ختم نبوت فورم

    حدیث لا نورث کی تشریح

    خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان ترجمہ نے حق سے حدیث لا نورث کی تشریح و تفصیل


    تفسیر فرات کوفی


    فرات نے بیان کیا کہ حدیث بیان کی مجھ سے محمد بن ابراہیم ذکریا قطفانی نے اس نے کئی واسطوں سے عبداللہ بن ابی اوفی سے انہوں نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مسجد نبوی شریف میں تشریف لائے ہم وہاں موجود تھے آپ کھڑے ہوئے اور اللہ تعالی کی حمد و ثنا بیان کی اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ میں تمہارے درمیان بھائی چارہ قائم کرنا چاہتا ہوں جیسا کہ اللہ تعالی نے فرشتوں کے درمیان قائم فرمایا ہے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو ایک دوسرے کا بھائی بنایا اور علی علیہ السلام کو کسی کا بھائی نہ بنایا تو اس پر حضرت علی علیہ السلام نے عرض کی یارسول اللہ آپ نے مجھے چھوڑ کر سب کو جوڑا اور ایک دوسرے کا بھائی بنایا اس سے میری کمر ٹوٹ گئی اور میری روح نکلنے کو آئی اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تیرا مقام ہے وہی ہے جو حضرت ہارون علیہ السلام کا حضرت موسی علیہ السلام سے تھا مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے اور میں نے تجھے مؤخر اس لیے کیا ہے کہ تو میرا بھائی اور میرا وارث ہے اس پر حضرت علی نے عرض کیا

    والذی ارث منک یا رسول اللہ قال ما ورثت الانبیاء من قبلی قال وما ورثت الانبیاء من قبلک قال کتاب ربھم و سنتة نبیھم انت معی یا علی فی قصری فی الجنةِمع فاطمةٙ ابنتی ھی زوجتک فی الدنیا و الاخرة وانت رفقیِ


    قسم بخدا میں آپ کا وارث ہوں گا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے فرمایا مجھ سے پہلے انبیاء اکرام نے میراث نہیں چھوڑی حضرت علی علیہ السلام نے عرض کیا پھر آپ سے پہلے انبیاء کرام نے کونسی چیز میراث میں چھوڑی آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ انہوں نے اپنے رب کی کتاب اور اپنی سنت میراث میں چھوڑی اے علی تم میرے محل میں جنت میں میرے ساتھ ہو گے میری بیٹی فاطمہ بھی تمہارے ساتھ جنت میں ہوگی اور دنیا اور آخرت میں تماری زوجہ محترمہ ہے اور تم میرے رفیق ہو گے

    (تفسیر فرات کوفی مصنف فرات بن ابراہیم شیعہ صفحہ 82 مطبوعہ نجف اشرف)

    (محمد نوید قادری)
  3. ‏ فروری 3, 2021 #3
    محمد نوید قادری

    محمد نوید قادری رکن ختم نبوت فورم

    سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے فدک کے علاوہ سات باغ اور تھے



    فروع کافی میں الشيخ الكليني روایت کرتاہے


    هذا ما أوصت به فاطمة بنت محمد رسول الله صلى الله عليه وآله أوصت بحوائطها السبعة: العواف، والدلال، والبرقة، والميثب، و الحسنى، والصافية، وما لام إبراهيم إلى علي بن أبي طالب عليه السلام فان مضى علي فإلى الحسن فان مضى الحسن فإلى الحسين فان مضى الحسين فإلى الأكبر من ولدى شهد الله على ذلك والمقداد بن الأسود والزبير بن العوام وكتب علي بن أبي طالب.


    یعنی یہ فاطمہ بنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رسیت ہے انہوں نے اپنے سات باغ دلال،برقہ،میثب،حسنی،صافیہ،مالاابراہیم،کی وصیت کی طرف ابی طالب کہ اور ان کی وفات کے بعد حسن کے لیے اور ان کے وصال کے بعد حسین کے لیے اور ان کے وصال کے بعد ان کے سب سے بڑے فرزند کے لئے، میں اس پر گواہ بناتی ہوں اللہ تعالی کو اور مقداد بن اسود کو اور زبیر بن عوام رضی اللہ تعالی عنہما کو اور اس وصیت نامہ کو علی بن ابی طالب (رضی اللہ تعالی عنہ) نے تحریر فرمایا


    (الفروع من الكافي نویسنده : الشيخ الكليني جلد : 7 صفحه : 48 مطبوعہ دار الكتب الإسلامية - طهران ردمك: ملاحظات)


    (تهذيب الأحكام نویسنده : شيخ الطائفة جلد : 9 صفحه : 145 الرقم 603 مطبوعہ دار الكتب العلمية بیروت)


    (من لا يحضره الفقيه نویسنده : الشيخ الصدوق جلد : 4 صفحه : 244 الرقم 5579 مطبوعہ جماعة المدرّسين في الحوزة العلمية)


    (’’الفروع من الکافی‘‘ ،کتاب الوصایا ،جلد ۷ ،صفحہ ۴۷، ۴۸)


    (مناقب آل ابی طالب جلد اول صفحہ 159 )

    ناسخ التواریخ زندگانی فاطمہ رضی اللہ عنہا (صفحہ 245 طبع تہران)


    دوسری روایت


    عن أحمد بن محمد، عن أبي الحسن الثاني عليه السلام قال: سألته عن الحيطان السبعة التي كانت ميراث رسول الله صلى الله عليه وآله لفاطمة عليهما السلام فقال: لا إنما كانت وقفا وكان رسول الله صلى الله عليه وآله يأخذ إليه منها ما ينفق على أضيافه والتابعة يلزمه فيها، فلما قبض جاء العباس يخاصم فاطمة عليها السلام فيها فشهد علي عليه السلام وغيره أنها وقف على فاطمة عليها السلام وهي الدلال، والعواف، والحسنى والصافية وما لام إبراهيم والميثب والبرقة


    یعنی احمد بن محمد حضرت ابو الحسن الثانی رضی اللہ تعالی عنہ سے حضرت فاطمتہ الزہرہ رضی اللہ تعالی عنہ کے سات باغات کے متعلق دریافت کیا کہ آیا وہ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بطور وراثت حاصل ہوئے تھے تو انہوں نے فرمایا نہیں وہ تو وقف تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے اتنا خرچہ لے لیتے تھے جو اپنے مہمانوں پر صرف فرماتے تھے اور دیگر لازم ذمہ داریوں پر جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا تو حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے آکر ان میں سے حصہ وراثت کے لیے مخاصمت کی چناچہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالی عنہ اور دیگر حضرات نے شہادت دی کہ ساتوں باغات حضرت سیدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ تعالی عنہ پر وقف ہیں-

    (۱)دلال (۲) عوف(۳) حسنی (۴) صافیہ (۵) مالامِ ابراہیم (۶) مثیب (۷) برقہ۔


    (الفروع من الكافي نویسنده : الشيخ الكليني جلد : 7 صفحه : 48 مطبوعہ دار الكتب الإسلامية - طهران ردمك: ملاحظات)


    شیعہ حضرات کی صحاح اربعہ میں سے تین صحاح کے دو عدد روایات نقل کرنے پر اکتفا کرتا ہوں جن سے یہ حقیقت روز روشن کی طرح آشکار ہوگئی کہ فدک کے علاوہ سات باغات تھے جو مخیریق یہودی کی ملکیت میں تھے اور اس نے برضا و رغبت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کیے تھے یا بنو النظیر کے متروکہ اموال میں سے تھے اور وہ حضرت سیدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ تعالی عنھا کے تصرف میں تھے لہذا یہ حقیقت بے غبار ہوگی کہ صرف فدک ہی واحد ذریعہ معاش نہیں تھا تو اب درج ذیل امور پر غور فرمائیں:


    1 اگر خلفای ثلاثہ رضی اللہ تعالی عنہما نے ازروئے ظلم واستبداد اقتصادی اور معاشی دباؤ ڈالنا ہوتا تو پھر یہ سات باغات آپ کے تصرف میں کس طرح رہ سکتے تھے اور وہ کون سی قوت تھی جس نے ان کو یہ سات باغات غصب کرنے سے باز رکھا اور آپ کے نہ صرف حالت حیات میں ان پر متصرف رہیں بلکہ بوقت وصال ان کی وصیت حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو ان کے بعد ان کی اولاد کو درجہ بدرجہ وصیت کی-

    2 یہ بھی واضح ہوگیا کہ حضرت فاطمہ الزہرا رضی اللہ تعالی عنہا کا ان باغات پر قبضہ ذاتی ملکیت اور موروثی مال کے طور پر نہیں تھا بلکہ مال وقف کے متولی کے طور پر تھا اور ان باغات کو حسب تعریف کافی انفسال میں سے ماننا لازم ہے تو اس طرح دیگر انفال کا حکم بھی یہاں سے واضح ہوگیا-

    3 حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ کے حق وراثت طلب کرنے پر جو جواب ان کو حضرت الظاھرہ اور حضرت علی المرتضی رضی اللہ تعالی عنہما کی طرف سے دیا گیا کہ یہ مال وقف ہے نہ کے ذاتی ملکیت لہذا اس میں وراثت جاری نہیں ہوسکتی اور حضرت زہرہ رضی اللہ تعالی عنہا کے ہاتھ میں بھی بطور وقف تھا اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ پھر حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہما کے تصرف میں بھی بطور مال وقف رہا ورنہ بیک وقت بطور زوج ہونے کے چوتھائی حصہ حضرت علی المرتضی رضی اللہ تعالی عنہ کو مل جاتا اور تین چوتھائی آپ کی اولاد کو مل جاتا لہذا واضح ہوگیا کہ اصل میں وقت تھا اور آخرت کو وقف کیا حالت میں رہا ہوں یہی جواب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف سے حضرت سیدہ زہرا رضی اللہ تعالی عنہاکو دیا گیا تھا تو اگر یہ جواب برحق ہے تو وہ بھی برحق تھا اور وہ غلط تھا تو صحیح بھی نہیں ہو سکتا جب دونوں کی صورت ایک ہے تو شرعی حکم بھی ایک ہی ہونا لازم ہے اس میں تفریق و امتیاز سراسر زیادتی ہے-

    4 حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ کا یہ جواب سن کر خاموش ہو جانا اور ناراضگی اور ترک سلام و کلام سے بالکل مبرا رہنا جبکے ان کے قبضہ میں ایک باغ بھی نہیں تھا اور حضرت زہرا رضی اللہ تعالی عنہا کا ایک باغ نہ ملنے پر ناراض ہوجانا اور اتنا سخت ناراض ہونا کہ منانے کی ہرممکن کوشش کے باوجود نہ راضی ہونا اور تا دم زیست کلام بھی ترک کر دینا محل غور ہے اور لائق فکرونظر ہے کے آیا لخت جگر مصطفی رضی اللہ تعالی عنہ اس بلند حوصلگی عالی ہمّتی اور فراخدلی کی زیادہ حقدارو سزاوار تھی جو بقول شیعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری اولاد پاک کی نسبت فطرت اسلام اور اس کی طہارت و تقدیس پر متولد ہوتی تھیں یا حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ جو شیعہ کے نزدیک مخلص مومن بھی نہیں تھے العیاذ باللہ گویا حضرت زہرا رضی اللہ تعالی عنہا کے دادے نے ان کا دعوی قبول کرلیا اور اس قسم کا نانے کا دعوی نواسی نے قبول نہ فرمایا کیا عظمت زہرا کے مدنظر یہ قابل قبول ہو سکتا ہے

    5 ان روایات سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان باغات کی آمدنی میں تصرف فرماتے تھے اور صرف بقدرضرورت اس میں سے لیتے تھے اور بقیہ کو دیگر مصارف میں استعمال فرماتے جن کا تعلق جہاد اور رفاہ عامہ سے ہوتا تھا نہ کہ ان کو ذاتی ملکیت کے طور پر تصرف رکھے ہوئے تھے اور یہیں سے یہ مسئلہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ کسی متولی کو اپنے زیر تصرف اوقاف اور قومی املاک کسی کی ذاتی ملکیت قرار دینے کا حق نہیں ہے کیوں کہ اللہ تعالی کے نائب مطلق اور مالک کون و مکان اس کی پابندی فرمائیں تو دوسروں کو اس سے سر مو انحراف و عدول کی کس طرح گنجائش ہوسکتی ہے؟

    اگر تم کہو کہ یہ سب کچھ ان کی ذاتی ملکیت تھا پھر بھی تمہارے لیے نافع نہیں ہے کیوں کہ

    ان تمام باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ سات باغات بھی سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کو عطا فرمائے

    اور فدک کہ اموال فے جو کہ بموجب معاہدہ چوبیس ہزار دینار جو لاکھوں روپے بنتے تھے وہ بھی سجدہ کو دے دیے

    یہ تو وہ جائیداد تھی جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اپنی لخت جگر کو ملی حضرت علی رضی اللہ اللہ کی اراضی اور باغات اس کے علاوہ ان کی ملک میں تھے

    اتنی بڑی جائیداد کی وارثہ بنادینا کیا قرآن پاک کی اس آیت کے خلاف نہیں تھا

    کَیۡ لَا یَکُوۡنَ دُوۡلَۃًۢ بَیۡنَ الۡاَغۡنِیَآءِ مِنۡکُمۡ

    تو اس آیت کریمہ کے ہوتے ہوئے یہ کہنا کہ اتنی بڑی جائیداد کسی ایک شخص کو خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عطا فرما دی

    دراصل آپ کی ذات پر یہ الزام لگانا ہے کہ آپ معاذاللہ خواہش پرور خودغرض اور احکامات قرآنیہ کی پرواہ نہ کرنے والے تھے اور آپ کو اللہ تعالی نے جو رحمت اللعالمین بنایا آپ اس کے عملی طور پر نمونہ تھے (معاذ اللہ )

    اصحاب صفہ اور دیگر وہ مہاجرین کے جو غریب و مسکین تھے اور انصار میں سے کچھ وہ لوگ جو محتاج تھے ان میں سے بعض تو ایسے بھی تھے جنہیں تن ڈھانپنے کے لئے پورا کپڑا اور بھوک مٹانے کے لیے کھانہ بھی میسر نہ تھا ادھر فوجی اعتبار سے جہاد فی سبیل اللہ کہ لئے ظروریات جہاد اور مصارف اس میں اتنی کمی تھی کہ جس کا ثبوت آخری غزوہ تبوک کی صورت میں ہمارے سامنے نظر آتا ہے

    اس غزوہ میں ابتدا ان ہر ایک مجاہد کو کھجور کا ایک ایک دانہ کھانے کے لئے ملتا رہا بعد میں چند مجاہدوں کو مجموعی طور پر ایک ایک دانہ کھجور میسر آتا رہا اس تنگی اور بے سروسامانی کی وجہ سے اس غزوہ کو جیش العسرہ کہا گیا خود رب ذوالجلال نے قرآن پاک میں سے ان کی سواریوں کی کیفیت ان الفاظ میں بیان فرمائی

    وَّ لَا عَلَی الَّذِیۡنَ اِذَا مَاۤ اَتَوۡکَ لِتَحۡمِلَہُمۡ قُلۡتَ لَاۤ اَجِدُ مَاۤ اَحۡمِلُکُمۡ عَلَیۡہِ ۪ تَوَلَّوۡا وَّ اَعۡیُنُہُمۡ تَفِیۡضُ مِنَ الدَّمۡعِ حَزَنًا اَلَّا یَجِدُوۡا مَا یُنۡفِقُوۡنَ

    اللہ تعالی کا ارشاد ہے : اور نہ ان صحابہ پر کوئی حرج ہے جو آپ کے پاس آئے تاکہ آپ انہیں جہاد کے لیے سواری مہیاکریں تو آپ نے فرمایا تمہارے لیے میرے پاس کوئی سواری نہیں ہے، وہ اس حال میں واپس گئے کہ ان کی آنکھوں سے اس غم میں آنسو بہہ رہے تھے کہ ان کے پاس جہاد میں خرچ کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے (التوبہ : ٩٢)

    ایک طرف تو اصحاب صفہ اور غریب مہاجرین ہوں جن کے پاس جہاد فی سبیل اللہ کے لیے ضروری سامان وخورا ک بھی نہ ہو اور دوسری طرف لاکھوں کروڑوں کی جائیداد حضورصلی علیہ وسلم نے حضرت خاتونِ جنت کو عطا فرما دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ رویہ کیا رحمت اللعالمین کے وصف کا غماز ہے ؟ کیا اتنی بڑی جائیداد ثابت کرنے والے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خیرخواہ ہوسکتے ہیں ؟
    (محمد نوید قادری)
  4. ‏ فروری 3, 2021 #4
    محمد نوید قادری

    محمد نوید قادری رکن ختم نبوت فورم

    باغ فدک مال فئے میں سے تھا


    علی بن محمد بن عبداللہ ہمارے بعض اصحاب سے نقل کیا ہے جسے میں یساری گمان کرتا ہوں اور اس نے علی بن ا سباط سے روایت کی جب اما م ابوالحسن موسی کاظم رضہ خلیفہ مہدی کے پاس گئےتو اس وقت خلیفہ زیادتیوں کو رفع کر رہا تھا تو امام موسی کاظم رضہ نے کہا کہ امیر المومنین ہمارے اوپر زیادتیوں کا کیا حال ہے وہ ہمیں کیوں نہی لوٹائی جاتی۔تو خلیفہ مہدی نے پوچھا کہ وہ کیا ہے تو اما موسی کاظم رضہ نے فرمایا کہ وہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالی نے اپنی نبی ﷺ کو فدک عطا کردیا اور اس کے ملحق کو بھی عطا کیااور آپ ﷺ نے اس کے حصول کے لیےنہ گھوڑوں سے حملہ کیا اور نہ ہی اونٹ اس پر دوڑائے۔


    (شیعہ کتاب: اصول کافی جلد ۱ صفحہ ۵۴۳)


    اسی طرح ناسخ التواریخ میں ہے


    جب فدک کی فتح سواروں اورپیادوں کی طاقت سے نہ تھی اس لئے تمام تر خاصہ پیغمبر ٹھہری اور یہ آیہ مبارکہ کا اسی معنی پر عمل ہوتی ہے کہ کفار سے جو کچھ اللہ تعالی رسول مال فی دیتا ہے تو وہ ایسا ہے جس پر تم نے گھوڑے نہ دوڑائے ہوں اور نہ اونٹ مگر اللہ تعالی اپنے رسول کو جس علاقہ پر چاہے تسلط دے دیتا ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے اللہ تعالی کچھ علاقوں سے اپنے رسول کو جو جو کچھ مال فی دیتا ہے تو اس کا حقدار اللہ اور اس کا رسول اور رسول کا رشتہ دار یتیم مساکین اور مسافرین ہے تاکہ یہ مال تم میں سے دولت مندوں کے درمیان نہ گھومتا رہے اور جو رسول تمہیں دے دیں وہ لے لو اور جس سے روکے اس سے رک جاؤ


    (ناسخ التواریخ زندگانی حضرت فاطمہ صفحہ 38 )


    مذکورہ بالا عبارت سے یہ امور ثابت ہوئے


    علاقہ فدک پر فوج کشی نہیں کی گئی بلکہ بغیر جنگ کے صلح کے ساتھ یہ علاقہ اسلام میں داخل ہوا اور اسے علاقہ ایسے مال اللہ تعالی کا قرآن اموال فی کرار دیتا ہے


    قرآن کی رو سے مال فی رسول کے لئے ہے اس سے اپنا گھریلو خرچہ چلائے اسی طرح آپ کے رشتے داروں کے لئے ہے کہ اس سے انہیں کچھ دیا جائے اسی طرح مسلمانوں میں سے غرباء مساکین یتامیٰ اور مسافرین کے لئے گویا اس میں تمام اہل اسلام کا حق ہے


    قرآن کریم نے ایسے تمام یتامیٰ ومساکین و مسافرین پر خرچ کرنے کا حکم اس لئے دیا ہے تاکہ صرف دولت بندوں کے لیے مختص نہ کیا جائے اور غریب لوگ فاقہ کشی میں مبتلا نہ رہیں
    شیعہ اور سنی دونوں کی معتبر کتب سے ثابت ہے کہ اگر اموال فی جس میں فدک بھی شامل ہے کے متعلق جو عمل اور طریقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا اور جن مصارف پر آپ سے خرچ فرمایا کرتے تھے انہیں مصارف پر آپ کے انتقال کے بعد خلفاۓراشدین بھی صرف کرتے رہے آپ کے عمل اور طریقہ میں ذرہ بھر فرق نہ کیا اور نہ ہی ان اموال میں کوئی تغیر و تبدل کیا گویا قرآن پاک میں مذکورہ ہدایت اور حکم کے مطابق اس کے تصرف میں لاتے رہے حتی کہ مروان کا دور آیاتو اس نے فدک میں ردوبدل کیا ہے اس کے بعد جب حضرت عمر بن عبدالعزیز کا دور خلافت آیا تو انھوں نے مروان کے طریقہ کو ختم کردیا پھر سے وہی طریقہ اور عمل جاری فرمایا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کا تھا
    اس وضاحت کے پیش نظر اگر کوئی متعصب صدیق اکبر اور فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے بارے میں اس پر غاصب ظالم اور منافقت کے الفاظ کہتا ہے کہ ان حضرات نے فدک میں ردوبدل نہ کیا اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دینے کی بجائے حضور صلی علیہ وسلم کے عمل اور طریقہ کو مقدم رکھا تو پھر یہی دو حضرات ہی مورد الزام نہ ٹھہریں گے بلکہ اس طریقہ اور عمل پر جو بھی کاربند رہا وہ بھی ان الفاظ کا مستحق قرار پائے گا کیوں کہ یہ طریقہ اور عمل جب یکساں ٹھہرا تو اس طریقہ پر حکم بھی ایک جیسا ہوگا لہذا یہ الفاظ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ ہو بلکہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات والا صفات پر بھی صادق آئیں گے معاذاللہ
    دونوں فریقین کی کتب اس بات کی شہادت دیتی ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اے دختر رسول خدا میں جب تک زندہ ہوں اموال فی فدک وغیرہ میں وہی طریقہ اور عمل جاری رکھوں گا جس کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پسند فرمایا اس نے قطعا کوئی رد و بدل نہ کروں گا اور تغیر و تبدل کے ذریعہ کوئی دوسرا طریقہ ہرگز نہ اپناوں گا ہاں یہ پیشکش کیے دیتا ہوں کہ میرا ذاتی مال و جائیداد میں اے دختررسول تمہیں کلی اختیار ہے جو چاہے لے لیں یہ سب آپ پر قربان ہے

    شیعہ کتاب حق الیقین میں ملا باقر مجلسی لکھتا ہے

    میں اپنے اموال واحوال کو تم سے زیادہ اہمیت نہیں دیتا آپ اس میں خود مختار ہیں جو چاہے لے سکتی ہیں آپ اپنے والد گرامی کی امت کی سجدہ ہیں اور اپنے فرزندوں کے لئے شجرہ طیبہ ہیں آپ کے فضل کا کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا اور آپ کا حکم میرے ذاتی مان میں نافذ ہے لیکن مسلمانوں کے اجتماعی مال میں آپ کے والد کے ارشاد کے مخالفت نہیں کرسکتا

    (حق الیقین صفحہ 127 بار پنجم مطبوعہ تہران)

    (ناسخ التواریخ جز اول صفحہ 157 مطبوعہ تہران )

    حق الیقین کی اسی عبارت سے یہ بات بالکل نکھر کر سامنے آجاتی ہے کہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے حضرت خاتونِ جنت کو اپنے مال متاع میں تصرف کرنے کا کلی اختیار عطا کردیا لیکن باغ فدک چوں کہ اجتماعی مفاد کے لیے وقف تھا اس لیے اس کو دینے سے معذرت کی اور صرف یہ ان کی اپنی رائے اور ذات کا فیصلہ نہ تھا بلکہ صحابہ کرام کا اجتماعی اور متفقہ فیصلہ تھا جس کی پشت پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارک تھی یہی وجہ ہے کہ اس کی مخالفت حضرت علی نے اپنے زمانہ خلافت میں بھی نہیں فرمائی بلکہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے فیصلے پر ہی عمل فرماتے رہے

    (محمد نوید قادری)
  5. ‏ فروری 3, 2021 #5
    محمد نوید قادری

    محمد نوید قادری رکن ختم نبوت فورم

    فدک کا مطالبہ سیدہ فاطمہ کی عصمت کے خلاف تھا بقول شیعہ مورخ



    سیدہ فاطمہ کی ہر بات اللہ کی طرف سے ودیعت کردہ ہوتی ہے آپ کا مقام تمام جہانوں سے بلند تر ہے آپ کو فدک اور اس کے عوالی سے کیا غنیمت حاصل ہونی تھی آپ تو کئی وقت اپنے بچوں حسن و حسین کو بھوکا سلا دیتی اور ان کا رات بھر کا کھانا سائل کو دے دیتی تھیں دنیا کی دولت ان کی نگاہ میں مکھی کے ایک پر کے برابر بھی نہ تھی فدک اور عوالی کی حیثیت ہی کیا ہے اور ان کی آمدن کس زمرے میں ہے ؟

    اگر تم پوچھو کہ سجدہ کے مذکورہ خطبے اور خطابات جو (ابوبکر کے ساتھ )کیا معنی رکھتے ہیں اور وہ شکوے اور شکایتیں کیا تھی ؟

    چناچہ حضرت علی کی بارگاہ میں سیدہ کا جسارت کرنا پھر معذرت کرنا لباس عصمت کے خلاف ہے اس اعتراض کے جواب میں ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ اہل بیت کے اسرار چھپے ہوئے ہیں


    (ناسخ التواریخ زندگانی حضرت فاطمہ صفحہ 158 مرزا محمد تقی شیعہ تبع جدید تہران )

    مندرجہ بالا عبارت سے یہ امور ثابت ہوئے

    سیدہ فاطمہ کی ہر بات اللہ کی طرف سے ودیعت کردہ ہے لہذا آپ کی شان کے خلاف کوئی بات آپ کی طرف منسوب کرنا آپ کی توہین ہے

    آپ کا مقام اتنا بلند ہے کہ ساری دنیا کی دولت آپ کی نگاہ میں مکھی کے پر کے برابر بھی نہیں فدک کی تو حثیت ہی کیا ہے ؟

    مذکورہ عبارت سے ثابت ہوا کہ شیعہ کتب میں جو اس قسم کی روایات ہیں کہ باغ فدک چھن جانے پر سجدہ نے حضرت علی کو سخت سست کہا اور کہا کے تم یوں گھر میں چھپے بیٹھے ہو جیسے بچہ ماں کے رحم میں ہوتا ہے اور یوں شیر خدا کی سخت بے ادبی کی معاذ اللہ یہ سب شیعہ روایات جھوٹ کا پلندہ ہیں

    اسی طرح فدک جیسی حقیر چیز کے لیے دختر رسول خدا ہوتے ہوئے شکوہ شکایت کرنے کی تمام شیعہ روایات سیدہ کی عصمت کے خلاف اور آپ کے دامن عصمت کو داغدار کرنے کی بدترین جسارت ہیں
    دعوت فکر
    مذکورہ عبارت سے ایک درس مجھے حاصل ہوتا ہے جو میں انصاف کے نام پر پورے مسلک شیعہ کے سامنے رکھتا ہوں ممکن ہے کہ گم کردہ راہ کو ہدایت مل جائے دیکھیے سجدہ فاطمہ کا علی المرتضیٰ پر فدک کے متعلق غضبناک ہونا جب شیعہ مورخ نے عصمت سجدہ فاطمہ کے خلاف دیکھا تو فورا یہ تاویل کر دی کی یہ اہل بیت کے اسرار میں سے ہے لہذا علی المرتضی پر کوئی اعتراض نہیں شیعو سجدہ کا غضب علی پر اگر اسرار اہل بیت میں سے ہے تو ابوبکر پر سجدہ کا غضب اور ناراضگی اسرار اہلبیت سے قرار دیتے ہوئے شخصیت صدیقی کو تم بے داغ کیوں نہیں سمجھتے
    شاید کے اتر جائے تیرے دل میں میری بات ؟

    (محمد نوید قادری)

اس صفحے کی تشہیر