1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ سے قادیانیت کا استدلالِ باطل

ذوالفقار احمد نے 'آیاتِ ختم نبوت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ فروری 10, 2018

  1. ‏ فروری 10, 2018 #1
    ذوالفقار احمد

    ذوالفقار احمد رکن ختم نبوت فورم

    قادیانی سوال: ہم ہر نماز میں پڑھتے ہیں اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ یعنی اے اللہ ہمیں سیدھی راہ دکھا، ان لوگوں کی راہ جن پر تیرا انعام ہوا۔ اور جن پر انعام ہوا وہ چار قسم کے لوگ ہیں نبی صدیق شہید اور صالح (النساء 69) اب سوال یہ ہے کہ ہم لوگ صالحین کی راہ پر چل کر صالح بن سکتے ہیں شہدا کی راہ پر چل کر شہید بن سکتے ہیں صدیقین کی راہ پر چل کر صدیق بن سکتے ہیں تو پھر انبیاء کی راہ پر چل کر نبی کیوں نہیں بن سکتے۔؟؟؟
    :::::::::::الجواب::::::::::
    کتنی حیرانی کی بات ہے کہ ہم احادیث مبارکہ سے صاف اور واضح الفاظ کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں آخری نبی ہوں جیسے الفاظ اور میرے بعد کوئی نبی نہیں جیسے واضح اور دو ٹوک الفاظ پیش کرتے ہیں لیکن جواب میں مرزائیت و قادیانیت اشارے اور اٹکل پیش کر کے جواب گول کر لیتی ہے۔ بتایا جائے کیا احادیث کے یہ الفاظ کہ "میں آخری نبی ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں" یہ الفاظ غلط ہیں یا ان کی آپ کو سمجھ نہیں آتی۔؟ ہے کوئی مرزائی جو اس بات کا ایمانداری سے جواب دے دے کہ کیا کسی آیت یا حدیث میں یہ الفاظ ایسے ہی صاف لکھے ہوئے ہیں کہ "میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آخری نبی نہیں اور میرے بعد اور نبی بھی آئیں گے یا نبوت جاری ہے"؟ بتائیے صاف اور واضح الفاظ کےمقابل آپ کا دو مختلف آیات کو جوڑ کر پیدا کردہ نتیجہ کو ترجیع دی جائے یا صاف اور واضح الفاظ کو۔؟ وہ بھی اس صورت حال میں کہ جب دوسری طرف آپ یہ بھی کہہ رہے ہوں کہ اللہ جسے چاہتا ہے نبی بنا دیتا ہے اور پھر یہ کہہ لینا کہ انبیاء کی راہ پر چل کر نبی بنا جا سکتا ہے۔ کون سی دلیل صحیح ہے۔؟
    دوسری بات:
    بتائیے کیا کسی آیت یا حدیث میں یہ الفاظ بھی آئے ہیں کہ آئندہ کوئی صالح نہیں ہو گا۔؟ آئندہ کوئی شہید نہیں ہو گا۔؟ آئندہ کوئی صدیق نہیں ہو گا۔؟
    تیسری بات:
    آیت میں "اولئک مع الذین انعم اللہ علیھم" کے الفاظ ہیں۔ آیت میں انبیاء صدیقین صالحین اور شہداء کی سنگت اور رفاقت کی بات ہو رہی ہے۔ اب ان کا مرتبہ مل سکتا ہے کہ نہیں ؟ یہ ایک الگ بحث ہے۔ یہ اسی طرح ہے جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "ان اللہ معنا" یعنی اللہ ہمارے ساتھ ہے (سورہ توبہ 40) تو کیا اب اللہ جن کے ساتھ ہے ان میں سے کوئی اللہ بھی ہو سکتا ہے۔؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"انت مع من احببت" تم (قیامت کے دن) اسی کے ساتھ ہو گے جس سے تم نے محبت کی (بخاری حدیث 7153 مسلم حدیث 6715) اسی آیت کے آخری الفاظ یہ ہیں:"وحسن اولئک رفیقاََ" یعنی یہ لوگ بہترین ساتھی ہیں۔ یہ الفاظ معیت کے الفاظ سے بھی زیادہ واضح ہیں اور کوئی ہیرا پھیری نہیں چلنے دیتے۔
    چوتھی بات:
    ہم قادیانیت کو قرآن میں دکھا دیتے ہیں کہ صدیقین شہداء اور صالحین کا مرتبہ حاصل کیا جا سکتا ہے لیکن نبوت کا مرتبہ حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:"والذین امنو باللہ ورسلہ اولئک ھم الصدیقون والشہداء عند ربھم" یعنی وہ لوگ اللہ پر ایمان لائے اور اسکے رسولوں پر، وہی لوگ اپنے اللہ کے ہاں صدیق اور شھید ہیں (سورہ حدید 19)
    ایک اور جگہ فرمایا:"والذین امنو وعملوا الصالحات لندخلنھم فی الصالحین" یعنی وہ لوگ جو ایمان لائے اور اچھے عمل کیے ہم انہیں صالحین میں داخل کریں گے (سورہ عنکبوت 9)
    اب ان دونوں آیتوں کو دوبارہ غور سے پڑھ لیں ان میں صاف تصریح موجود ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صدیق شہید اور صالح بنا جا سکتا ہے لیکن مقامِ نبوت کے حصول کے بارے میں ایسی کوئی آیت موجود نہیں بلکہ اس کا حصول آیت خاتم النبیین اور لا نبی بعدی جیسی احادیث کی روشنی میں ناممکن ہے۔
    پانچویں بات:
    اگر اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سے نبوت مل سکتی تو خلفائے راشدین اور دیگر صحابہ کرام علیھم الرضوان ضرور نبوت حاصل کر چکے ہوتے جن کو اسی اتباع و اطاعت کی وجہ سے اللہ کی رضا کا سرٹیفیکیٹ مل چکا ہے "رضی اللہ عنھم و رضوا عنہ"۔ جو نہ صرف اللہ اور اس کے رسول کے مطیع تھے بلکہ پوری امت کے مطاع ٹھہرے۔
    اگر قادیانی کہیں کہ نبوت اللہ کے فضل سے ملتی ہے اور اللہ کے فضل کا فیصلہ کسی صحابی کی نبوت کے حق میں نہ تھا تو ہم عرض کرتے ہیں کہ قادیانیت نے ہمارے منہ کی بات کہہ دی، اب مان لو کہ نبوت اطاعت سے بھی نہیں ملتی اور اس کے حصول کے لیے "من یطع اللہ والرسول" آیت پڑھنا بالکل بے جا ہے۔ ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء۔
    چھٹی بات:
    اس آیت کا شانِ نزول یہ ہے حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شدید محبت رکھتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جدائی پر صبر نہیں ہوتا تھا، ایک دن وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے رنگ بدلا ہوا تھا اور چہرے پر غم کے آثار تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: "ماغیر لونک" تیرا رنگ کس چیز نے بدلا ہے۔؟ انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی مرض یاد نہیں ہے سوائے اس کے کہ جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار نہیں کرتا تو شدید بے چینی اور بے قراری لاحق ہو جاتی ہے۔ پھر مجھے آخرت یاد آتی ہے تو ڈرنے لگتا ہوں کہ وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ دیکھ سکا تو کیا بنے گا؟ اس لیے کہ آپ انبیاء کے بلند مرتبے پر ہوں گے۔ اور میں اگر جنت میں داخل ہو بھی گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نیچے والی منزل میں ہوں گا، اور جنت میں داخل ہی نہ ہو سکا تو ابد تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھ سکوں گا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی (تفسیر ابن جریر حدیث 7841 و اسباب النزول للواحدی صفحہ 158 و تفسیر بغوی صفحہ 559) اس سے ملتی جلتی حدیث المصنف جلد 7 صفحہ 440 پر بھی موجود ہے۔
    ساتویں بات:
    اگر بفرضِ محال اس آیت سے نبوت کا اجراء ثابت ہوتا ہو تو پھر صرف ظلی اور بروزی نبوت ہی کیوں۔؟؟؟ مستقل اور صاحبِ کتاب نبی کا آنا بھی ثابت ہو جائے گا جو خود قادیانیت کے دعوے کے خلاف ہے۔
    مؤلف: ذوالفقار احمد قادری

اس صفحے کی تشہیر