1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

اٹھارہویں صدی کا نصف آخر اور یورپی استعمار

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ فروری 15, 2015

  1. ‏ فروری 15, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    اٹھارہویں صدی کا نصف آخر اور یورپی استعمار
    اٹھارہویں صدی عیسوی کے نصف آخر ہی میں یورپی سامراج دنیاکے بیشتر حصوں پر اپنے نوآبادیاتی عزائم کے ساتھ حملہ آور ہوا۔ ان سامراجی طاقتوں میں برطانیہ پیش پیش تھا۔ اطالوی، فرانسیسی اور پرتگالی براعظم افریقہ کو اطالوی سومالی لینڈ، فرانسیسی سومالی لینڈ، پرتگالی مشرقی افریقہ، جرمی مشرقی افریقہ اور برطانوی مشرقی افریقہ میں منقسم کرنے کے بعد مشرق وسطیٰ کے بعض علاقوں میں سامراجی ریشہ دوانیوں میں مصروف تھے۔ اٹلی نے اریٹیریا، فرانس نے جزیرہ مڈگاسکر اور برطانیہ نے رہوڈیشیا اور یوگنڈا کو نوآبادیوں میں تقسیم کر دیا۔ نام نہاد خود مختار علاقوں میں یونین آف ساؤتھ افریقہ کے علاوہ مصر، حبشہ اور لائٹیریا کا شمار ہوتا تھا۔ یورپی سامراج نے اس زمانے میں ہندوستان، برما اور لنکا کو زیرنگین لانے کے لئے کشمکش کا آغاز کر دیا تھا اور بحرہند کو اپنی استعماری سرگرمیوں کی آماجگاہ بنالیا۔ مشرقی ساحل پر ملائی ریاستوں میں سنگاپور ایک اہم بحری اڈہ تھا جس کو بنیاد بنا کر بحرہند، بحرالکاہل، ڈچ ایسٹ انڈیز اور جنوبی آسٹریلیشیا کو جداجدا کیا جاسکتا تھا۔ استعماری طاقتوں کو اپنے مذموم ارادوں کی تکمیل میں اس وقت زیادہ آسانی ہوگئی۔ جب ۱۷۶۹ء میں نہرسویز کی تعمیرکا مرحلہ اختتام پذیر ہوا اس کی وجہ سے راس امید کا لمبا چکر لگانے کی بجائے بحیرہ قلزم اور بحیرہ احمر کا آسان راستہ اختیار کیا جانے لگا۔ ۱۸۷۸ء تک برطانیہ جبرالٹر اور مالٹا کو زیراثر لاکر قبرص پر تسلط جما چکا تھا۔ عدن ۱۸۳۹ء میں محکوم بنایا جاچکا تھا۔ اب پورے جنوب مغربی ایشیاء پر قبضہ کرنا باقی تھا۔

اس صفحے کی تشہیر