1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

اپنی بیوی کا اپنی آنکھوں کے سامنے غیر مرد سے زنا کروانا

ضیاء رسول امینی نے 'شہر سدوم' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جولائی 12, 2015

  1. ‏ جولائی 12, 2015 #1
    ضیاء رسول امینی

    ضیاء رسول امینی منتظم اعلیٰ رکن عملہ ناظم پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    مولوی عمر الدین صاحب شمولی مبلغ جماعت قادیان کی روایات
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
    نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    میں آج بتاریخ 29 مئی 1940 کو خانہ خدا مسجد میں بیٹھ کر خدا کو حاضر ناظر جان کر اور اس کی قسم کھا کر اختصار کے ساتھ مندرجہ ذیل بیان دیتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اے خدا اگر میں نے اس کے بیان کرنے میں افترا پروازی کی ہو تو تیری ذات جو علیم خبیر ہے مجھے اس افترا پروازی کی سخت سے سخت سزا دے۔
    1۔ 1916 کے قریب کا واقعہ ہے کہ میاں محمود احمد صاحب نے جبکہ میں ان کا مخلص مرید تھا میرے پاس میاں عبدالسلام خلف حضرت مولانا نورالدین اعظم کو شملہ گرمیوں کے موسم میں بھیجا تو میاں عبدالسلام صاحب نے مجھے بتایا کہ میاں محمود احمد صاحب کا چال چلن خراب ہے اس لیے تم اس کو مصلح موعود نہ ثابت کیا کرو اور میں اس کا عینی شاہد ہوں۔ جب میں بڑا ہوں گا تو میاں محمود احمد سے مباہلہ کروں گا تاکہ دنیا کو ثابت ہوجائے کہ ''میں میاں محمود احمد پر بدچلنی کا الزام لگانے میں سچا ہوں اور میاں محمود احمد بد چلن ہے''
    2۔ ایک دفعہ میں ایک تبلیغی دورے کے لیے حافظ جمال احمد کے ساتھ پنجاب میں بھیجا گیا تو اس وقت میر قاسم علی صاحب ایڈیٹر ''فاروق'' قادیان سے نوشہرہ میں دریافت کیا کہ یہ کیا بات ہے، قادیان میں میاں محمود احمد کے خلاف گندے پوسٹر جن پر زنا کی تصویریں بنائی ہوئی ہیں لگائے جاتے ہیں یہ کون لوگ ہیں جو حضرت پر اتنا بڑا الزام لگاتے ہیں میر قاسم علی صاحب نے بجائے ان لوگوں کا کچھ ذکر کرنے کے فرمایا
    ''اگر میاں صاحب کے متعلق میں تمہیں اصل بات بتا دوں تو تم ابھی مرتد ہوجاو گے تم تو ایک میاں کا ذکر کرتے ہو یہاں تند نہیں تانی ہی ٹوٹی ہوئی ہے اور ساتھ ہی یہ فرمایا اگر تم اس امر کا میاں صاحب سے میرے نام پر ذکر کرو گے تو میں صاف انکار کردوں گا۔ میں نے قادیان جا کر یہ سب باتیں میاں صاحب کو بتا دیں تو انہوں نے فرمایا کہ ''سب میر قاسم علی کی بیوی کی شرارت ہے''۔
    3۔ میاں صاحب جب خلیفہ ہوئے تو میں نے ایک شخص کو جو اس وقت شملہ کے ویٹرنری ہسپتال میں ملازم تھے اور بیعت نہ کرتے تھے بیعت کے لیے بہت مجبور کیا تو انہوں نے انکار کردیا اور پورے وثوق سے کہا کہ میں محمود احمد کو خوب جانتا ہوں اور میں قادیان میں ہی پڑھا ہوں۔ میاں تو لواطت (یہاں عبارت کی عریانی کا ازالہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے) کا رسیا ہے اور یہ وبا آج کل عام ہے اور میاں اس کا شکار ہے تب میں نے اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیا لیکن پھر بھی اس کی تاکید کی کہ وہ جماعت میں ضرور شامل ہوجائے۔
    1927 کا واقعہ ہے کہ جناب میاں صاحب بھی شملہ میں تھے اور مولوی عبدالکریم اور ان کی ہمشیرہ سکینہ بی بی اور ان کے بھائی محمد زاہد نے میرے داماد بابو عبدالحمید صاحب کو بتایا کہ میاں محمود احمد سخت زنا کار ہے اور قوم کی عصمت سے کھیلتا ہے اور اس پر زاہد نے اپنی ذاتی شہادت دی اور ان کی ہمشیرہ سکینہ بی بی نے بھی اپنی ذاتی شہادت پیش کی اور کہا کہ ہم اپنی ذاتی شہادت کی بنا پر کہتے ہیں کہ میاں محمود احمد سخت بد چلن ہے میں نے اس کو زنا کرتے دیکھا تھا اور اس پر میں نے جرح کرکے بیان کی تلفیظ کی کوشش کی لیکن وہ اپنے بیان پر پوری طرح قائم رہے تو میں حیرت میں پڑ گیا اور میاں صاحب کو ایک لمبی چٹھی لکھی جس میں محمد زاہد اور سکینہ بی بی کے بیان کردہ واقعات کو پوری تفصیل سے لکھا گیا۔
    میں ان تمام واقعات کو سننے کے باوجود میاں صاحب کا دل سے مرید تھا اس لیے میں نے میاں صاحب سے مرتد ہونے والے اپنے داماد اور ایک شخص کو زور سے نصیحت کی۔
    میرا داماد بابو عبدالحمید جو مخلص احمدی اور بہت صالح نوجوان ہے اس نے میاں محمود احمد کو انہیں دنوں تمام حالات لکھ کر مباہلہ کا مطالبہ کیا اور میاں صاحب سے علیحدہ ہوگیا مگر میں نے اسے بہت سمجھایا کہ جب تک شریعت کے مطابق چار گواہ الزام زنا کے ثبوت میں پیش نہیں ہوتے ملزم کو بری ہی سمجھنا چاہیے ۔ پھر ساتھ ہی حضرت مسیح موعود کا واسطہ دے کر اسے دوبارہ بیعت کی رغبت دی تو اس نے پھر بیعت کرلی مگر جب وہ کچھ عرصہ قادیان خلیفہ صاحب سے ملنے کے لیے گیا تو خلیفہ صاحب نے بہت محبت سے پر خلوص استقبال کیا اور اکیلے کمرے میں بہت دیر تک باتیں ہوتی رہیں اور جب خلیفہ صاحب نے یہ دیکھ لیا کہ مرید واقعی اب بہت اخلاص رکھتا ہے تو اس سے کہا کہ عبدالحمید تمہاری وجہ سے سلسلہ کی بدنامی ہوئی یعنی نہ تم میرے متعلق الزام زنا کو مشتہر کرتے نہ یہ رسوائیاں ہوتیں اس لیے اب تم کو کفارہ اس طرح ادا کرنا چاہیے کہ کسی طرح سکینہ سے یہ تحریر لکھوا کر مجھے لا دو کہ میں نے کسی شخص کو نہیں کہا کہ میاں صاحب نے میرے ساتھ زنا کیا لوگ یونہی میرے نام سے میاں صاحب کو بدنام کر رہے ہیں
    اس پر مخلص مرید مذکور کو دل میں سخت شک پڑ گیا کیونکہ وہ یہ جانتا تھا کہ یہ سب کچھ جو اب کرنے کرانے کی تعلیم دے رہے ہیں یہ بالکل جعل سازی ہے خلیفہ صاحب کو خوب علم ہے کہ وہ لڑکی (سکینہ) ان پر الزام لگاتی ہے اور اس نے اپنے شوہر (عبدالحق مرزا) کو بھی، جو میاں صاحب کا مخلص مرید ہے بتادیا تھا اور وہ خود اس کا معترف ہے پھر ایسی تحریر لکھوانا جعل سازی کے سوا کچھ نہیں ان حالات میں اس مخلص مرید کو بالآخر میاں صاحب کی بیعت سے علیحدہ ہونا پڑا۔
    مباہلہ والوں کا تمام و کمال واقعہ میرے سامنے ہے وہ میرے قریبی رشتہ دار ہیں اور میں نے ان سب کے بیانات خود لیے ہیں اور خوب ٹھوک بجا کر ان بیانات کی پرکھ کی اور میاں صاحب کو تمام معاملہ سے مطلع کیا ان حالات کے علاوہ شیخ عبدالرحمٰن مصری کا مطالبہ بھی ہے اور مولوی فخرالدین صاحب ملتانی جیسے مخلص احمدی کا محض اس لیے قتل کروایا جانا کہ وہ حقیقت کو طشت از بام کرنے کے لیے خلیفہ صاحب کے ظلم و تشدد کے باوجود پیچھے نہ ہٹتے تھے معاملہ کو بالکل واضع کردیتا ہے۔
    چوہدری غلام رسول صاحب کا اعلان حق
    نوٹ: چوہدری صاحب موصوف آج کل گورنمنٹ کالج لاہور میں پروفیسر ہیں۔
    ''میرا خلیفہ صاحب کی بیعت سے علیحدگی کا سبب خلیفہ کی بدچلنی، بد کرداری،زنا کاری اور غیر فطری افعال کا ارتکاب ہے ۔ یہ الزامات خلیفہ صاحب ربوہ کی ذات پر متواتر نصف صدی سے لگ رہے ہیں اب خلیفہ صاحب اپنی بدکاریوں اور بدکرداریوں کی وجہ سے جنون کے ابتدائی دور سے گزر رہے ہیں اور مفلوج اور پیری کا شکار ہونے کی وجہ سے مضحل الاعضاء اور مخبوط الحواس ہیں۔ اس وجہ سے الزامات کی تردید کے لیے ان سے مخاطب نہیں ہوتا بلکہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے ، مرزا شریف احمد صاحب (دونوں خلیفہ صاحب کے بھائی ہیں) نواب مبارکہ بیگم صاحبہ، امتہ الحفیظ صاحبہ (دونوں خلیفہ صاحب کی ہمشیرگان ہیں) مرزا ناصر احمد ایم اے آکسن، مرزا مبارک احمد بی اے، ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب ایم بی بی ایس اور دیگر خلیفہ کے صاحبزادگان و صاحبزادیاں اور خلیفہ کی ازواج اور خلیفہ کے مخلص مرید چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان صاحب جج عالمی عدالت، سید نعیم احمد بن سید عزیز الہ شاہ (خلیفہ صاحب کے نسبتی بھائی) اور مولوی عبدالمنان صاحب عمر ایم اے سے کہتا ہوں اگر وہ خلیفہ صاحب کو نیک چلن ، خدا رسیدہ، اور حضرت مرزا غلام احمد صاحب کی پیش گوئی مصلح موعود کا حقیقی مصداق سمجھتے ہیں تو خلیفہ صاحب پر عائد کردہ الزامات بالمقابل حلف موکد بعذاب قسم کھا کر تردید کریں۔
    میں قارئین سے کہوں گا کہ یہ لوگ خلیفہ صاحب ربوہ کی سیاہ بداعمالیوں سے پوری طرح واقف ہیں اس لیے یہ کبھی ان کی پاکیزگی کا حلف موکد بعذاب اٹھانے کے لیے تیار نہ ہوں گے۔
    یوسف ناز کا حلفیہ بیان
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
    نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    اشھد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ واشھد ان محمد عبدہ ورسولہ
    میں اقرار کرتا ہوں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے نبی اور خاتم النبیین ہیں اور اسلام سچا مذہب ہے۔ میں احمدیت کو برحق سمجھتا ہوں اور حجرت مرزا غلام احمد قادیان ۔۔۔۔۔۔ (راقم) کے دعوے پر ایمان رکھتا ہوں اور ان کو مسیح موعود مانتا ہوں اور اس کے بعد موکد بعذاب حلف اٹھاتا ہوں۔
    میں اپنے علم مشاہدہ اور رویت عینی اور آنکھوں دیکھی بات کی بنا پر خدا کو حاضر ناظر جان کر اس پاک ذات کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ
    '' مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ ربوہ نے خود اپنے سامنے اپنی بیوی کے ساتھ غیر مرد سے زنا کروایا''
    اگر میں اس حلف میں جھوٹا ہوں تو خدا کی لعنت اور عذاب مجھ پر نازل ہو۔ میں اس پر مرزا بشیر الدین محمود احمد کے ساتھ بالمقابل حلف اٹھانے کو تیار ہوں
    محمد یوسف ناز معرفت عبدالقادر
    تیرتھ سنگھ ، جے بلوائی روڈ، عقب شالیمار ہوٹل کراچی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مصری عبدالرحمٰن صاحب کے بڑے لڑکے حافظ بشیر احمد نے میرے سامنے ہاتھ میں قرآن شریف لے کر یہ لفظ کہے '' خدا تعالیٰ مجھے پارہ پارہ کردے اگر میں جھوٹ بولتا ہوں کہ موجودہ خلیفہ صاحب نے میرے ساتھ بدفعلی کی ہے۔۔۔ میں خدا کی قسم کھا کر یہ واقعہ لکھ رہا ہوں
    بقلم خود محمد عبداللہ احمدی
    سیمنٹ فرنیچر ہاؤس، مسلم ٹاؤن لاہور
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں خدا کو حاضر ناظر جان کر جس کی جھوٹی قسم کھانا کبیرہ گناہ ہے یہ تحریر کرتا ہوں کہ میں نے حضرت مرزا محمود احمد صاحب قادیان کو اپنی آنکھ سے زنا کرتے دیکھا ہے اور میں اقرار کرتا ہوں کہ اس نے میرے ساتھ بھی بدفعلی کی ہے اگر میں جھوٹ بولوں تو مجھ پر خدا کی لعنت ہو، میں بچپن سے وہیں رہتا تھا۔
    (منیر احمد)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مرزا گل محمد صاحب مرحوم(آپ قادیان کے رئیس اعظم تھے اور وہاں بڑی جائیداد کے مالک تھے) مرزا غلام احمد صاحب کے خاندان کے رکن تھے ان کی دوسری بیوہ (چھوٹی بیگم( نے مجھے بیان کیا کہ خلیفہ صاحب کو میں نے اپنی آنکھوں سے ان کی صاحبزادی اور بعض دوسری عورتوں کے ساتھ زنا کرتے ہوئے دیکھا ہے، میں نے خلیفہ صاحب سے ایک دفعہ عرض کی، حضور یہ کیا معاملہ ہے؟ آپ نے فرمایا
    '' قرآن و حدیث میں اس کی اجازت ہے البتہ اس کو عوام میں پھیلانے کی ممانعت ہے نعوذباللہ من ذالک۔(خدا کی بے شمار لعنت ہو ایسے خبیث درندوں پر اس قدر غلاظت شاید ہی تاریخ انسانیت میں کہیں ملتی ہو، اور قرآن و حدیث کی اس قدر بے حرمتی ۔ توبہ یا اللہ۔ راقم) میں خدا وند تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر حلفیہ تحریر کر رہی ہوں شاید میری مسلمان بہنیں اور بھائی اس سے کوئی سبق حاصل کریں۔ فقط
    (سیدہ ام صالحہ بنت سید ابرار حسین، سمن آباد لاہور)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں خدا تعالٰی کو حاضر ناظر جان کر اسی کی قسم کھا کر، جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے یہ شہادت دیتا ہوں کہ میں اس ایمان اور یقین پر ہوں کہ موجودہ خلیفہ مرزا محمود احمد دنیادار،بدچلن اور عیش پرست انسان ہے میں ان کی بدچلنی کے متعلق خانہ خدا، خواہ وہ مسجد ہو یا بیت اللہ شریف یا کوئی اور مقدس مقام حلف موکد بعذاب اٹھانے کے لیے ہر وقت تیار ہوں اگر خلیفہ صاحب مباہلہ کے لیے نکلیں تو میں مباہلہ کے لیے حاضر ہوں، یہ الفاظ میں نے دلی ارادہ سے لکھ دیئے ہیں تاکہ دوسروں کے لیے ان کی حقیقت کا انکشاف ہوسکے۔ والسلام
    خاکسار محمد عبداللہ، آنکھوں کا ہسپتال، قادیان، حال فیصل آباد۔
    جناب قریشی محمد صادق صاحب شبنم (بی۔اے)
    نظارت امور عامہ میں محتسب کوتوال شہر کے طور پر رہے ہیں۔ آل انڈیا نیشنل لیگ کے سیکرٹری اور خلیفہ ربوہ کے بڑے چہیتے تھے۔ انہوں نے اپنے طور پر خلیفہ کو جو خط لکھا ، ملاحظہ فرمائیں۔
    ''جب میں لاہور میں آیا تھا تو میں نے آپ کے اخلاق اور آپ کی بیویوں ، لڑکیوں اور میاں شریف احمد صاحب اور ان کے لڑکوں کے اخلاق کے متعلق بہت سی باتیں سنی تھیں، لیکن خوش اعتقادی کی وجہ سے میں یقین نہ کرتا تھا ۔ آخر جب میں قادیان آیا تو سب سے پہلے غائب سے ان کے متعلق تحقیقات کرنے کی تحریک میرے دل میں ڈالی گئی تو پھر جب میں محتسب ہوا تو آفیشل طور پر بھی میں نے تحقیق کی اور جو جو معلومات مجھے اس بارہ میں ہوئیں وہ میں نے کچھ تو نظارت کی معرفت اور کچھ براہ راست تحریری طور پر پہنچا دیں۔ ان معلومات میں سے بعض کا ذکر میں ذیل میں مجمل طور پر کرتا ہوں کیونکہ مفصل طور پر رپورٹ کرچکا ہوں اور بعض کی رپورٹ کا موقع نہیں ملا۔
    1۔ آپ امرد پرست اور ایرانی مذاق کے شائق ہیں۔
    2۔ آپ محرم اور نا محرم عورتوں کے ساتھ بدکاری کرتے ہیں۔
    3۔ آپ اپنی بیویوں اور لڑکیوں کو دوسروں کے حوالے کرتے ہیں کہ ان کے ساتھ زنا کریں گویا آپ نے ایک حسن بن صبا باطنی فرقہ بنایا ہوا ہے۔
    4۔ آپ شراب پیتے ہیں۔
    5۔ آپ کا لڑکا مبارک بدکار ہے۔
    6۔ میاں بشیر احمد صاحب عجمی ذوق رکھتے ہیں۔
    7۔ میاں بشیر احمد صاحب کے لڑکے لواطت کرتے ہیں، نمازیں نہیں پڑھتے۔
    8۔ میاں شریف احمد صاحب طفل تراشی کرتے ہیں، نماز بہت کم پڑھتے ہیں۔
    9۔ میں نے ایک رپورٹ میں ثابت کردیا تھا کہ آپ کی بیوی عزیزہ کا شیخ بشیر احمد کے ساتھ تعلق ہے، آپ نے نہ کوئی گواہ کو سزا دی اور نہ ہی اپنی بیوی کو اور نہ ہی شیخ بشیر احمد صاحب کو۔ معاملات بدستور ہیں ، کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔
    10۔ میں نے رپورٹ میں مندرجہ (9) میں یہ بھی ثابت کردیا تھا کہ آپ کی لڑکیوں امتہ القیوم اور امتہ الرشید کا ایک غیر آدمی کے ساتھ تعلق ہے۔ آپ نے شہادت بھی لی لیکن طرفین میں سے کسی کو بھی سزا نہ دی۔ ان تمام واقعات کے میرے پاس مکمل ثبوت ہیں، جن کو بروقت پیش کروں گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔
    بیٹا بھی اپنے باپ کی پاکیزگی کی قسم کھانے کو تیار نہیں۔
    بسلسلہ خط و کتابت شفیق الرحمٰن اور مرزا رفیع احمد ولد مرزا محمود احمد
    خط نمبر 1۔
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
    نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    مکرم مرزا رفیع احمد صاحب!
    میں حضرت مرزا غلام احمد صاحب کے علم کلام سے متاثر ہوں۔(ہاہاہاہاہا واہ مرزائیو :D راقم) کتب دیکھی ہیں اپنی استعداد کے مطابق مطالعہ بھی کیا ہے ، جن کی سچائی رمق نظر آتی ہے۔ (اب کیا کہے بندہ :p ۔ راقم) کیونکہ اب ایک گروہ کی طرف سے مرزا صاحب کے خلیفہ مرزا محمود احمد پر نہایت ہی بھیانک الزامات لگائے گئے ہیں ، وہ الزامات ہیں بھی ان کے مریدوں کی طرف سے جو کسی زمانہ میں خلیفہ صاحب کے نہایت ہی قریب رہ چکے ہیں ان میں ایک مولوی عبدالرحمٰن صاحب مصری ہیں۔
    ان الزامات کی تردید یا تو خلیفہ صاحب کی ازواج کرسکتی ہیں کیونکہ بیوی اپنے خاوند کے عیوب سے بکلی واقف ہوتی ہے یا خلیفہ صاحب کے صاحبزادگان کرسکتے ہیں کیونکہ وہ گھر کے ماحول سے خوب واقف ہوتے ہیں۔ میں مرحوم خلیفہ صاحب کی بیوگان کی طرف تو خط نہیں لکھ سکتا آپ کے نام سے واقف تھا کیونکہ آپ ایک دفعہ ڈیرہ خازی خان تشریف لائے تھے آپ سے خدا کے نام پر اپیل کرتا ہوں کہ میری تسلی حلف سے کریں کہ وہ تمام الزامات جو خلیفہ صاحب پر لگائے گئے ہیں غلط ہیں۔ خلیفہ صاحب کی زندگی مقدس انسانوں کی طرح تھی ۔ وہ مرزا صاحب کی پیشگوئی مصلح موعود کے مصداق ہیں ۔ مجھے اس بات سے تسلی نہیں ہے کہ آپ خلیفہ صاحب کو مان رہے ہیں اس وجہ سے بعض اوقات وہ الزامات غلط ہوسکتے ہیں کہ ایک آدمی اپنے خاندان کے وقار کو ملحوظ رکھ کر بھی حقیقت سے چشم پوشی کرتا ہے اور اس کا اظہار نہیں کر سکتا چونکہ یہ مذہب کا معاملہ ہے اس وجہ سے نہیں ہے۔ خدا کے نام پر اپیل کرتا ہوں کہ میری تسلی حلف سے کریں کہ وہ تمام الزامات جو خلیفہ صاحب پر لگائے گئے ہیں ، غلط ہیں۔ خلیفہ صاحب کی زندگی مقدس انسانوں کی طرح تھی۔ وہ مرزا صاحب کی پیشگوئی مصلح موعود کے مصداق ہیں مجھے اس بات سے تسلی نہیں ہے کہ آپ خلیفہ صاحب کو مان رہے ہیں اس وجہ سے بعض اوقات وہ الزامات غلط ہوسکتے ہیں کہ ایک آدمی اپنے خاندان کے وقار کو ملحوظ رکھ کر بھی حقیقت سے چشم پوشی کرتا ہے اور اس کا اظہار نہیں کر سکتا چونکہ یہ مذہب کا معاملہ ہے اس وجہ سے نہیں ہے۔ خدا کے نام پر اپیل کی ہے اور حلف کا مطالبہ کیا ہے اگر آپ نے خاموشی اختیار کی تو میں سمجھ لوں گا کہ عاید کردہ الزامات مبنی بر صداقت ہیں اور قیامت کے روز میرا ہاتھ آپ کے گریبان میں ہوگا۔
    شفیق الرحمٰن خان معرفت مولوی محمد افضل صاحب ، بلاک نمبر 12 ڈیرہ غازی خان
    خط نمبر 2 بجواب شفیق الرحمٰن ، جواب مرزا رفیع احمد صاحب
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
    آپ کا خط کچھ عرصہ ہوا ملا تھا، چونکہ پچھلے دنوں میں دورہ پر رہا اس لیے جلد جواب نہ دے سکا ، آپ نے اپنے خط میں جو دل آزار مفتریانہ باتیں لکھی ہیں ان کو میں حوالہ بخدا کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہی اس کا فیصلہ فرما دے گا، اس امر کا بہت افسوس ہے کہ آپ قرآن کریم کی تعلیم سے بالکل لا علم ہیں ان لوگوں کی جن باتوں کو آپ نے بیان کیا ہے قرآن کریم نے جھوٹا قرار دیا ہے آپ سورۃ نور پر غور کریں۔(اندازہ کیجیے مرزائیوں نے کس طرح قرآن پاک کو اپنی جاگیر سمجھا ہوا ہے جیسے قرآن نازل ہی ان کے لیے ہوا ہو۔ لعنت اللہ علی الکاذبین۔راقم) اس کی آیت 12،13 میں صاف طور پر ایسے لوگوں کو جھوٹا اور کاذب فرمایا گیا ہے یہ اللہ تعالی کی گواہی ہے ، جب آپ اللہ تعالیٰ کی گواہی قبول نہیں کرتے تو میری گواہی اس کے مقابل پر کیا حیثیت رکھتی ہے ۔ یہ یقین رکھیں اور مجھے اس بارے میں کوئی شبہ نہیں کہ قیامت کے دن میرا گریبان آپ کے ہاتھ میں نہیں ہوگا، میرا خدا مجھے یقینا اس ذلت سے بچائے گا۔ میں نے اس کی اتنی عنایات دیکھی ہیں کہ میں اس بارہ میں شبہ کر ہی نہیں سکتا، ہاں اگر آپ نے ان باتوں سے توبہ نہ کی اور قرآن کریم کے فیصلے کو جو سورۃ نور میں بیان ہوا ہے قبول نہ کیا تو آپ کا گریبان قیامت کے دن میرے ہاتھ میں ہوگا اور آپ اس دن کی رسوائی سے بچ نہیں سکیں گے۔ انشاء اللہ (واہ مرزا جی کس خوبصورتی سے حلف کے مطالبے کو گول مول کرگئے۔راقم)
    والسلام مرزا رفیع احمد
    خط نمبر 2 شفیق الرحمٰن ۔ حلفیہ قسم کا مطالبہ
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
    نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    مکرم و محترم مرزا صاحب، السلام علیکم
    مدت ہوئی ہے کہ آپ کی طرف سے میرے خط کا جواب موصول ہوا تھا جواب الجواب ارسال کرنے میں تساہل ہوا ہے، میں نے آپ کو لکھا تھا کہ آپ ان الزامات کی تردید حلفاََ کریں جو خلیفہ صاحب کی ذات پر متواتر لگتے رہے ہیں آپ نے تردید کی بجائے سورۃ نور کی آیت 12،13 کی طرف توجہ دلائی ہے میں نے ان آیات کو غور سے پڑھا ہے وہاں تو خلیفہ صاحب کی ذات پر عائد کردہ الزامات کی تردید نظر نہیں آتی وہاں صرف حضرت عائشہ صدیقہ (رضی اللہ عنہا) پر بے بنیاد الزامات کی تردید خود اللہ تعالیٰ کر رہا ہے ، کیا خدا تعالیٰ نے خلیفہ صاحب کے الزامات کی بھی تردید کی ہے؟ اگر کی ہے تو کہاں؟
    حضرت مرزا غلام احمد قادیانی ۔۔۔۔۔ کے فتوی کی بنا پر خلیفہ صاحب کو الزام لگانے والوں نے مباہلہ کے لیے بلایا لیکن خلیفہ صاحب مقابل پر نا آئے ، حالانکہ بڑے مرزا ۔۔۔۔ کے فتوی کی بنا پر ہی ان کو مباہلہ پر آنا پڑتا تھا ، نامعلوم ان کے پاس کونسی شرعی دلیل تھی جس کی وجہ سے وہ مباہلہ پر نہ اترے ، آپ نے لکھا کہ جب آپ کو قرآن کی گواہی میں یقین نہیں تو میری گواہی پر کیسے یقین آئے گا ۔ قرآن کی گواہی کے متعلق تو لکھ چکا ہوں کہ وہ خلیفہ صاحب کے الزامات کی تردید نہیں کر رہی باقی رہا آپ کی گواہی میں یقین سے کہتا ہوں کہ آپ ان الفاظ میں قسم اٹھائیں تو میں آپ کو صادق ہی گردانوں گا کیونکہ ہر آدمی نے ایک دن خدا کے سامنے کھڑا ہونا ہے ، حلف کے الفاظ یہ ہیں،
    '' میں اس خدا کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں کہ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے کہ مرزا محمود احمد صاحب کی ذات پر جو وقتا فوقتا زنا کے الزامات لگتے رہے ہیں وہ غلط اور بے بنیاد ہیں میں گھر کا ایک فرد ہونے کی وجہ سے حق الیقین کی بنا پر کہتا ہوں کہ مرزا محمود احمد صاحب مرحوم مقدس ، پاکباز، اسلامی عبادات کو کما حقہ ادا کرنے والے اور خدا کے مقرر کردہ مصلح موعود ہیں، اگر میں اپنے حلف میں جھوٹا ہوں تو خدا تعالیٰ مجھ پر ایک سال تک ایسا عذاب نازل کرے جو تمام دنیا کے لیے عبرت کا موجب ہو ''۔
    مجھے امید ہے کہ آپ ان الفاظ میں قسم کھانے سے گریز نہیں کریں گے اور مجھے دوسرے دلائل طائل سے تسلی دینے کی کوشش نہ کریں۔ میرے لیے اب صرف قسم ہی بریت کی دلیل ہے وہ بھی خلیفہ صاحب کے خاندان کے کسی فرد کی ، اس وجہ سے میں نے آپ کی طرف رجوع کیا ہے، جواب دے کر ممنون فرمائیں۔
    والسلام
    شفیق الرحمٰن خان معرفت مولوی محمد افضل صاحب
    بلاک نمبر 12 ڈیرہ غازی خان
    9۔6۔1966
    خط نمبر 3 شفیق الرحمٰن
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
    نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    مکرم و محترم جناب صاحبزادہ مرزا رفیع احمد صاحب،
    السلام علیکم۔۔۔۔۔۔ مزاج شریف
    آپ کی خدمت میں مورخہ 9۔6۔1966 کو جواباََ مراسلہ ارسال کیا تھا۔ آپ نے میرے پہلے خط مورخہ 2۔4۔66 کے جواب میں سورۃ نور کی آیت نمبر 12۔13 کی طرف اشارہ کیا تھا اسی تحقیق کی خاطر آپ کی خدمت میں لکھا تھا کہ آیا خلیفہ صاحب ثانی کی ذات پر ان سنگین الزامات کی حلفاََ تردید کرسکتے ہیں جو انہی کے مریدین کی طرف سے عائد کیے گئے ہیں جبکہ مریدین کے علاوہ الزام لگانے والوں میں خلیفہ صاحب کے خاندان کے افراد اور ان کے قریبی رشتہ دار بھی شامل ہیں مثلاََ آپ کے چھوٹے بھائی مرزا حنیف احمد صاحب بی اے ایل ایل بی نے ربوہ میں اپنے دوستوں کے سامنے خلیفہ صاحب کی ذات پر عائد کردہ الزامات کی توثیق کی ہے ، اس توثیق کی وجہ بعض افراد ربوہ چھوڑ کر پہلے جھنگ چلے گئے اب وہ رحیم یار خان میں مقیم ہیں بعض اب بھی ربوہ میں رہتے ہیں وہ اپنی خانگی مجبوریوں کی وجہ سے ربوہ کو نہیں چھوڑ سکتے کیونکہ ان کا گزارہ آپ لوگوں کے ہاتھ میں ہے اسی طرح سید خاندان ( ام طاہر، اور بشریٰ زوجین خلیفہ صاحب ثانی کا خاندان) کے افراد مثلاََ سید نعیم احمد صاحب بھی ولایت جاتے ہوئے اپنے دوستوں کو قصر خلافت کی رنگین محافل کا حال بتا کر گئے تھے۔
    جن افراد کا میں نے ذکر کیا ہے وہ زندہ ہیں وہ کبھی بھی حلفاََ تردید نہیں کرسکتے کہ انہوں نے خلیفہ صاحب ثانی کی ذات پر الزامات نہیں لگائے۔ ان حقائق اور شواہد کی موجودگی میں جب آپ بھی خاموشی اختیار کرکے الزام لگانے والوں میں شامل ہوتے ہیں تو خلیفہ صاحب ثانی پر عائد کردہ الزامات کو غلط قرار دوں یا صحیح۔ فقط
    خاکسار
    شفیق الرحمٰن خان معرفت مولوی محمد افضل خان صاحب
    بلاک نمبر 12 ، ڈیرہ غازی خان
    10۔6۔66
    خط نمبر 2 بجواب شفیق الرحمٰن
    سوال گندم جواب چنا
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
    شفیق الرحمٰن خان صاحب السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکتہ
    آپ کا خط ملا ، میرا جواب وہی ہے جو پہلے لکھ چکا ہوں، ایک انسان جس کا توکل اپنے حاظر و ناظر عالم الغیب اور قدرتوں والے خدا پر ہو اسے دنیا کی کیا پرواہ ہوسکتی ہے ۔ دنیا اسے گندہ کہے حرام کار قرار دے یا جو چاہے کہے اسے اس سے کیا، اسے تو اپنے خدا سے واسطہ اور تعلق ہے اور وہ خدا کے حکم کے خلاف نہیں کرسکتا ۔ یہی طریق میرے باپ نے اختیار کیا اور یہی میں بھی بتوفیق الٰہی اختیار کروں گا۔ رہا یہ کہ مرزا حنیف احمد یا کسی اور رشتہ دار نے ایسی بات کی، اول تو یہ بات جھوٹ اور خلاف عقل معلوم ہوتی ہے اور اگر صحیح ہے بھی تو جس نے ایسا کہا وہ جھوٹا ہے کیونکہ قرآن کریم اسے جھوٹا قرار دیتا ہے ۔ کیا آپ کو علم نہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ان کی بہن نے ایسا الزام لگایا تھا ۔ کیا حضرت لوط علیہ السلام کے اپنے مریدوں اور قریبیوں نے ان پر اس سے بڑھ کر الزام نہیں لگایا کہ انہوں نے شراب کے نشہ میں اپنی بیٹیوں کے ساتھ بدفعلی کی اور کیا حضرت سلیمان پر اس سے بڑھ کر الزام نہیں لگایا گیا کہ نعوذباللہ وہ چھپ کر بت پرستی کرتے تھے اور اوریا کو قتل کرا کے اسکی بیوی سے زنا کیا ۔ کیا آپ ان الزامات کو جو ان معصوموں اور پاکبازوں پر لگائے گئے اور ان کے اپنے مریدوں اور قریبیوں کی طرف سے لگائے گئے سچا مانتے ہیں اور دل میں نہانی کفر رکھتے ہیں۔ اگر سچا نہیں مانتے تو کیوں اس لیے کہ قرآن کریم انہیں جھوٹا قرار دیتا ہے میں بھی اسی وجہ سے ان لوگوں کو جنہوں نے میرے باپ پر ، ہمارے خلیفہ اول پر یا دوسرے پاکبازوں پر الزام لگائے ہیں جھوٹا اور مورد نفرین سمجھتا ہوں کیونکہ قرآن کریم انہیں جھوٹا قرار دیتا ہے÷(لعنت اللہ علی الکاذبین۔ اس سے زیادہ بندہ اور کیا کہے ان مرزائیوں کو۔ راقم)
    والسلام ، مرزا رفیع
    خط نمبر 4 شفیق الرحمٰن
    کیا خلیفہ صاحب کے خاندان کا کوئی فرد بھی خلیفہ کی پاکدامنی پر قسم کھا سکتا ہے؟
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
    نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
    مکرم و محترم جناب مرزا رفیع احمد سلمہ الرحمٰن
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکتہ
    آپ کا خط ملا جس میں آپ نے گزشتہ انبیاء علیہم السلام پر بائبل کی رو سے عائد کردہ الزامات کو دوہرا کر یہ لکھا ہے کہ یہ الزامات ان کے مریدین نے لگائے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ آپ نے حقائق پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی ہے کسی نبی پر بھی ان کی زندگی میں ان کے کسی مرید نے بھی زنا وغیرہ کا الزام عائد نہیں کیا ۔ جن الزامات کی آپ نے نشاندہی کی ہے، بائبل کے مفسرین اور قرآن مجید کے مفسرین کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ باتیں بعد کی اختراع ہیں اگر آپ کے پاس کوئی تاریخی ثبوت ہو کہ کسی نبی پر ان کی زندگی میں ان کے ماننے والوں میں سے کسی نے زنا کا الزام لگایا ہے تو مجھے حوالہ کے ساتھ تحریر کریں ۔
    دوم۔ تمام انبیاء علیھم السلام کی بریت اور عصمت پر قرآن مجید نے گواہی دی ہے اس وجہ سے ہر ایک مسلمان ہر نبی کی پاکدامنی کے لیے ہر قسم کا حلف اٹھانے کو تیار ہے بلکہ آپ سے بھی یہ کہا جائے کہ بائبل کے مطعون انبیاء علیھم السلام کی پاکدامنی پر حلف اٹھائیں تو آپ انشراح صدر سے تیار ہوجائیں گے۔
    سوم۔ آپ خلیفہ صاحب پر زنا کا الزام لگانے والوں کو قرآن کی کسی نامعلوم آیت کی روشنی میں قابل نفرین اور جھوٹا قرار دیتے ہیں ۔جب آپ کو خلیفہ صاحب کی پاکدامنی پر اتنا ہی یقین ہے تو پھر آپ مندرجہ ذیل قسم کھانے سے گریز کیوں کرتے ہیں ، یہ الفاظ میں کسی اور خط میں بھی لکھ چکا ہوں اب دوبارہ لکھا دیتا ہوں
    '' میں اس خدا کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں کہ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے کہ مرزا محمود احمد صاحب کی ذات پر جو وقتا فوقتا زنا کے الزامات لگتے رہے ہیں وہ غلط اور بے بنیاد ہیں میں گھر کا ایک فرد ہونے کی وجہ سے حق الیقین کی بنا پر کہتا ہوں کہ مرزا محمود احمد صاحب مرحوم مقدس ، پاکباز، اسلامی عبادات کو کما حقہ ادا کرنے والے اور خدا کے مقرر کردہ مصلح موعود ہیں، اگر میں اپنے حلف میں جھوٹا ہوں تو خدا تعالیٰ مجھ پر ایک سال تک ایسا عذاب نازل کرے جو تمام دنیا کے لیے عبرت کا موجب ہو ''۔
    مجھے امید ہے کہ میرے متذکرہ بالا حلف کے الفاظ کو لکھ کر دستخط کردیں گے۔ میرے نزدیک خلیفہ کی بریت کے لیے دو ہی راستے ہیں
    اول۔ ان کا خود مباہلہ کرنا
    دوم۔ آپ کے گھر کے کسی ممبر کا حلف اٹھانا،( گھر کے ممبر سے مراد آپ کی ازواج اور لڑکے ہیں) چونکہ خلیفہ صاحب اپنی زندگی میں مباہلہ کی دعوت دینے والوں کے مقابل نہیں آئے اب کسی متذبذب آدمی کے اطمینان کا ایک ہی طریقہ ہے وہ ہے گھر کے کسی آدمی کا حلف اٹھانا، اس وجہ سے میں نے آپ کی خدمت میں لکھا تھا، افسوس یہ ہے کہ آپ جواب دیتے ہیں لیکن حلف نہیں اٹھاتے، آپ کا حلف نہ اٹھانے کی وجہ سے میرا شک یقین میں متبدل ہوتا جا رہا ہے آپ قرآن کی روشنی میں الزام لگانے والوں کو جھوٹا قرار دیتے ہیں لیکن خلیفہ صاحب کی پاکدامنی پر حلف نہیں اٹھاتے اس کی کیا وجہ ہے؟
    میرے نزدیک تو قرآن مجید کی کسی آیت سے اشارۃ النفس کے طور پر بھی ان کی بریت ظاہر نہیں ہوتی معلوم نہیں کہ آپ سورۃ نور کی آیت 12،13 سے خلیفہ صاحب کی پاکدامنی پر کس طرح استدلال کرتے ہیں۔( ہاہاہا مرزائیوں کے استدلال ایسے ہی ہوتے ہیں صاحب۔ راقم)
    میں تمام بحثوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے صرف آپ سے یہ استدعا کرتا ہوں کہ آپ متذکرہ بالا لفظوں میں قسم کھا کر مجھے اطمینان دلادیں۔ میں قسم کا مطالبہ اس وجہ سے کر رہا ہوں کہ ڈیرہ غازی خان میں اس قسم کے آدمی بھی ہیں جو اس تحدی سے دعوی کرتے ہیں کہ خلیفہ صاحب کے خاندان کا کوئی فرد بھی آپ کی پاکدامنی پر قسم نہیں کھا سکتا۔ والسلام
    شفیق الرحمٰن خان معرفت مولوی محمد افضل صاحب
    بلاک نمبر 12، ڈیرہ غازی خان
    7۔11۔66

    آخری تدوین : ‏ اگست 27, 2015
    • Like Like x 1

اس صفحے کی تشہیر