1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

ایک ضروری گذارش

حمزہ نے 'اسلام اور مرزائیت کا اصولی اختلاف' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اپریل 1, 2015

  1. ‏ اپریل 1, 2015 #1
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    ایک ضروری گذارش


    قادیانی کتابوں کو دیکھنے سے یہ بات پوری طرح روشن ہو جاتی ہے کہ قادیانی مذہب اس مثل کا مصداق ہے

    میرے تھیلے میں سب کچھ ہے

    ایمان بھی ہے اور کفر بھی ہے، ختم نبوت کا قرار بھی ہے اور انکار بھی ہے، دعوائے نبوت و رسالت بھی ہے اور جو کرے اس کی تکفیر بھی ہے، حضرت مسیح بن مریم علیہ السلام کے رفع الی السماء اور نزول کا اقرار بھی اور انکار بھی ہے وغیرہ وغیرہ۔ غرض یہ کہ مرزا صاحب کی کتابوں میں جس قدر مختلف اور متعارض مضامین ملتے ہیں وہ دنیا کے کسی متنبی اور ملحد اور زندیق کی کتابوں میں نہیں ملتے۔ اس کے علاوہ اور بہت سی باتیں ہیں جن کا مرزا صاحب کبھی اقرار کرتے ہیں اور کبھی انکار اور یہ سب کچھ دیدۂ ودانستہ اور غرض یہ ہے کہ بات گول مول رہے، حقیقت متعین نہ ہو۔ حسب موقعہ اور حسب ضرورت جس قسم کی عبارت چاہیں لوگوں کو دکھلا سکیں اور زنادقہ کا ہمیشہ یہی طریق رہا ہے کہ بات صاف نہیں کرتے۔ یہی طریقہ مرزا اور مرزائیوں کا ہے کہ جب مرزا صاحب کا اسلام ثابت کرنا چاہتے ہیں تو قدیم عبارتیں پیش کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دیکھو ہمارے عقیدے تو وہی ہیں جو سب مسلمانوں کے ہیں اور جب موقعہ ملتا ہے تو مرزا صاحب کے فضائل اور کمالات اور وحی و الہامات کے دعویٰ پیش کر دیت ہیں اور دھوکہ دینے کے لیے یہ کہہ دیتے ہیں کہ مرزا صاحب مستقل نبی اور رسول نہ تھے وہ تو ظلی اور بروزی نبی تھے۔ ظلی اور بروزی اور مجازی نبی کی اصطلاح مرزا نے مخص اپنی پردہ پوشی کے لیے گھڑی ہے۔ اگر کوئی شخص حکومت کی وفاداری کا اقرار کرے مگر ساتھ ہی ساتھ اپنا نام ”صدر مملکت“ رکھ لے اور جو خادم اندرون خانہ خدمت انجام دیتا ہو اس کا نام ”وزیر داخلہ“ رکھ لے اور جو خادم بازار سے سودا لاتا ہو اس کا نام ”وزیر خارجہ“ رکھ لے اور باورچی کا نام ”وزیر خوراک“ رکھ لے وغیرہ اور تاویل یہ کرے کہ معنی لغوی اعتبار سے میں اپنے اعتبار کو صدر مملکت اور اپنے خادم کو وزیر داخلہ اور وزیر خارجہ کہتا ہوں اور اصطلاحی اور عرفی معنی میری مراد نہیں، یا یوں کہے کہ میں تو صدر مملکت کا ظل اور بروز ہوں اور اس کے کمالات کا آئینہ ہوں اور میرے اس نام رکھنے سے حکومت کی مہر نہیں ٹوٹتی تو ظاہر ہے کہ یہ تاویل حکومت کی نظر میں اس کو مجرم اور چالاک اور مکار ہونے سے نہیں بچا سکتی۔ اسی طرح مرزا صاحب کی یہ تاویل کہ میں ظلی اور بروزی نبی ہوں کفر اور ارتداد سے نہیں بچا سکتی۔ مرزا صاحب بلاشبہ تشریعی نبوت اور مستقل رسالت کے مدعی تھے اور اپنی وحی اور الہام کو قطعی اور یقینی اور کلام خداوندی سمجھتے تھے اور اپنے زعم میں اپنے خوارق کا نام معجزات رکھتے تھے اور اپنے منکر اور متردد اور ساکت کو کافر اور منافق ٹھہراتے تھے اور اپنی جماعت سے خارج ہونے والے کو مرتد کا خطاب دیتے تھے جو حقیقی نبوت و رسالت کے لوازم ہیں۔ مرزا صاحب کا اپنے لیے نبوت کے لوازم کو ثابت کرنا یہ اس امر کی صریح دلیل ہے کہ مرزا صاحب مستقل نبوت و رسالت کے مدعی تھے اور بروزی کی تاویل محض پردہ پوشی کے لیے تھی۔ مخالفین کے خاموش کرنے کے لیے اپنے آپ کو ظلی اور بروزی نبی ظاہر کرتے تھے۔ مرزا صاحب کا دعویٰ تو یہ ہے کہ فضائل و کمالات اور معجزات میں تمام انبیاء مرسلین سے بڑھ کر ہوں، حقائق پر پردہ ڈالنے کے لیے مرزا صاحب نے ظلی اور بروزی کی اصطلاح گھڑی ہے جس کا کتاب و سنت میں کہیں نام و نشان نہیں۔

اس صفحے کی تشہیر