1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

بحث لفظ " نزول "

خادمِ اعلیٰ نے 'متفرقات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اگست 13, 2014

  1. ‏ اگست 13, 2014 #1
    خادمِ اعلیٰ

    خادمِ اعلیٰ رکن عملہ ناظم پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    بحث نزول


    عموماً مرزائی پارٹی یہ اعتراض کیا کرتی ہے کہ قرآن مجید میں نزول کا لفظ اور اس کے مشتقات متعدد جگہ استعمال ہوئے ہیں۔ اور وہاں آسمان سے اترنے کے کسی جگہ بھی ہمارے مخالف لوگ معنی نہیں لیتے۔ دل میں آیا کہ اتمامِ حجت کے لیے ان کا یہ کانٹا بھی نکال دیا جائے تاکہ ان کو کسی قسم کا شکوہ شکایت کا دنیا میں اور عذر کا آخر میں موقع نہ ملے لِیَھْلِکَ مَنْ ھَلَکَ عَنْ بَیِّنَۃٍ وَیَحْیٰی مَنْ حَیَّ عَنْ بَیِّنَۃِ۔

    سب سے پہلے اس مشکل کو ہم لغۃً حل کرنا چاہتے ہیں۔ صراح میں ہے کہ نزول ’’ فرود آمدن‘‘ اور انزال ’’ فرود آوردن‘‘ (صراح ص ۴۵۲طبعہ لکھنو ۱۳۲۷ھ)منتہی الارب میں بھی اس طرح ہے یعنی ’’ نزول‘‘ کے معنی ’’ نیچے آنا‘‘ اور ’’انزال‘‘ کے معنی ’’ نیچے لانا‘‘ ہیں۔ (منتہی الارب)مصباح منیر میں ہے نزل من علوہ الیٰ سفل (المصباح المنیرہ ص۷۳۴، ۲طبعہ مصر ۱۹۰۶ء)یعنی نزول کے معنی اوپر سے نیچے آنے کے ہیں۔

    مشہور لغوی علامہ راغب اصفہانی مفردات میں تحریر فرماتے ہیں:

    النزول فی الاصل ھو انحطاط من علوہ وانزال اللّٰہ تعالی اما بانزال الشی نفسہ واما بانزال اسبابہ والھدایۃ الیہ کا نزال الحدید واللباس وھو ذالک۔(مغددات القران فی غریب القران ص۴۸۸)

    یعنی نزول کے معنی اوپر سے نیچے کو اترنا ہیں اللہ تعالیٰ کا اتارنا یا تو شے بنفسہٖ کا اتارنا ہوتا ہے۔ جیسے قرآن کا اتارنا۔ یا اس شے کے اسباب و ذرائع اور اس کی طرف (توفیق) ہدایت کا اتارنا جیسے انزال حدید انزال لباس اور اس کے مثل (انزال رزق، انزال انعام، انزال میزان۔ انزال رجز وعذاب وغیرہ) انتہیٰ۔

    اب اس تصریح کے بعد کسی قسم کی کوئی ضرورت نہ تھی کہ اس سے زیادہ ہم کچھ وضاحت کریں۔ لیکن بپاسِ خاطر ناظرین اس کو ذرا تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ ان شاء اللہ ناظرین دیکھ لیں گے کہ یہ لوگ جو جو اعتراض پیش کیا کرتے ہیں۔ ان میں سراسر مغالطہ دہی، دجل و فریب مکر و خدع اور تحریف و تاویل ہی ہوتی ہے۔
    مغالطہ نمبر۱:
    قرآن مجید میں ہے کہ قَدْ اَنْزَلَ اللّٰہُ اِلَیْکُمْ ذِکْرًا رَسُوْلاً یَّتْلُوْا عَلَیْکُمْ اٰیَاتِ اللّٰہِالآیۃ۔ اس آیت میں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے انزل کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ (احمدیہ پاکٹ بک ص۴۰۸)
    جواب:
    اگر مشہور اور درسی کتاب جلالین کے اسی مقام کو دیکھ لیا جاتا تو اعتراض کی کوئی گنجائش ہی نہ نکلتی۔ لیکن یار لوگ چونکہ علم عربی سے ناواقف اور بے بہرہ ہیں۔ اس لیے ان کو مجبور و معذور قرار دیتے ہوئے ہم خود ہی اسی مقام کو یہاں نقل کرکے اسی پر اکتفا کرتے ہیں۔ ملاحظہ ہو:

    قَدْ اَنْزَلَ اللّٰہُ اِلَیْکُمْ ذِکَرًا ھُوَ الْقُرْاٰنُ رَسُوْلاً اَی مُحَمَّدً ﷺ مَنْصُوْبٌ بِفِعْلٍ مُقَدَّرٍای اَرْسَلَ۔(تفسیر جلالین)

    یعنی ذِکْرًا سے مراد قرآن کریم ہے جسے اللہ تعالیٰ نے (آسمان سے) نازل کیا۔ ذکر قرآن مجید کا دوسرا نام ہے۔ اس کا نزول بہت سی آیات میں آیا ہے۔ چودھویں پارے کے تین مقام ملاحظہ ہوں:

    (۱) اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ(پ۱۴الحجر نمبر ۹) (حجر) (۲) یٰایُّھَا الَّذِیْ نُزِّلَ عَلَیْہِ الذِّکْرُ(ایضاً نمبر ۶) (حجر) (۳) وَاَنْزَلْنَا اِلَیْکَ الذِّکْرَ (نحل) (۴) ھٰذَا ذِکُرٌ مبارَکٌ اَنْزَلْنَاہُ (پ۱۷، انبیاء) (۵) اَوْ اُنَزِل عَلَیْہِ الذِّکْر (سورہ ص) (۶)اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِا الذِّکْرِ لَمَّا جَائَ ھُمُ وَانَّہٗ لکتابٌ عَزِیْزٌ (حم سجدہ) (۷) اِنْ ھُوَ اِلاَّ ذِکْرٰی لِلْعَالَمِیْنَ (پ۷انعام) (۹) اِنْ ھُوَ اِلاَّ ذِکْرٌ لِّلعْلَمِیْنَ (پ۱۳، یوسف۱۰) وَمَا ھُوَ اِلاَّ ذِکْرٌ للعلمین تِلْکَ عَشَرَۃٌ کَامِلَۃٌ۔

    اور رَسُوْلاً کے پہلے ارسل محذوف ہے۔ یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول بنایا۔ اسی لیے قرآن مجید میں ذِکْرًا کے بعد آیت کا گول نشان بنا ہوا ہے۔ اور رَسُوْلاً۔ الگ دوسری آیت میں ہے۔ خازن، مدارک، سراج منیر اور کشاف میں بھی اسی طرح ہے۔ (علی الترتیب دیکھئے خازن ص۱۱۳، ج۷و مدارک ص۲۲۰، ج۵و سراج منیر وکشاف ص۵۶۱، ج۴زید آیت پ۲۸الطلاق نمبر ۱۱،۱۲)
    بصورتِ دیگر اگر رَسُوْلاً کو منصوب بہ فعل مقدر نہ مانا جائے۔ بلکہ ذِکْراً سے بدل یا عطف بیان مان لیں۔ تو اس صورت میں رسولاً سے مراد جبرائیل علیہ السلام ہوں گے (کشاف، بیضاوی) جو بواسطہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بندوں پر اللہ کی آیتیں تلاوت کرتے ہیں اور جبرائیل علیہ السلام کا نزول من السماء متفق علیہ ہے۔
    • Winner Winner x 2
    • Dumb Dumb x 1
  2. ‏ اگست 13, 2014 #2
    خادمِ اعلیٰ

    خادمِ اعلیٰ رکن عملہ ناظم پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    دوسرا مغالطہ
    خدا تعالیٰ نے قرآن حکیم میں ارشاد فرمایا ہے کہ اَنْزَلْنَا الْحَدِیْد یعنی ہم نے لوہا اتارا۔ اب غور کیجئے کہ کیا لوہا آسمان سے نازل ہوتا ہے یا کانوں سے نکلتا ہے؟ (احمدیہ پاکٹ بک ص۴۰۸)
    جواب:
    آیت مذکورہ میں انزال سے مراد انزال امر ہے جیسا کہ اُوپر مفردات راغب سے عبارت وَالْھِدَایَۃُ اِلَیْہِ کَانْزَالِ الْحَدِیْن نقل کی جاچکی ہے۔ یعنی لوہے کے استعمال کی ہدایت اور حکم اللہ ے نازل فرمایا۔ تفسیر سراج منیر اور کشاف میں ہے۔ اِنَّ اَوَا مِرَہٗ تَتَنَزَّلُ مِّنَ السَّمَائِ قَضایَاہُ وَاَحْکَامٌٗ۔ () سراج منیر وکشاف ص۴۸۰، ج۴زید آیت پ۲۷حدید ۲۵)بیضاوی میں ہے اَلْاَمْرُ بِاَعَدَادِہ یعنی استعمال حدید کا امرو حکم آسمان سے اترا ہے(تفسیر بیضاوی زید آیت حدید ۲۵) جو قرآن مجید فرقان حمید میں دوسرے مقامات میں موجود ہے وَاَعِدُّوْا لَھُمْ مَا اسْتَطَعْتُم مِنْ قُوَّۃ۔ (پ۱۰الانفال ۶۰)وَلْیَا خُذُوْا حِذْرَھُمْ وَاسْلِحَتِھِمْ(پ۵النساء ۱۰۲)۔ ان آیات میں لوہے کے ہتھیار اور ڈھال وغیرہ کے استعمال کا حکم اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے۔ اسی کی طرف وانزلنا الحدید میں اشارہ فرمایا ہے۔ پس چونکہ آہنی اسلحہ کے استعمال اور تیار کرنے کا سبب امر منزل من اللہ ہے لہٰذا ’’انزلنا الحدید من قبیل اطلاق المسبب والمراد بہ السبب‘‘ جس کی تفصیل ان شاء اللہ آئندہ جواب میں بھی ہوگی۔
    تیسرا مغالطہ:
    قرآن شریف میں آتا ہے کہ یا بنی اٰدَمَ اَنَزْلْنَا عَلَیْکُمْ لِبَاسًا۔ یعنی اے بنی آدم! ہم نے تم پر لباس اتارا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کپڑے جو ہم لوگ پہنتے ہیں کیا وہ آسمان سے اترتے ہیں؟ () احمدیہ پاکٹ بک ص۴۰۸)
    جواب:
    میں کہتا ہوں کہ محاوراتِ عرب، جاننے والوں سے مخفی نہیں کہ کلام میں کبھی سبب بولتے ہیں اور مراد مسبب لیتے ہیں۔ مثلاً رَعَیْنَا الْغَیْثَ اَیِّ النَّبَاتَ الَّذِیْ سَبَبَہُ الْغَیْثُ()۔ (مطلول) یعنی ہم نے بارش چرائی۔ یعنی گھاس جس کے اگنے کا سبب بارش ہے۔ اور کبھی مسبب بولتے ہیں اور مراد سبب لیتے ہیں جیسے وَمَا اَنْزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَائِ مِنْ رزق (پ۲۵حاشیہ نمبر ۵نوٹ: مرزا محمود اس آیت کا معنیٰ کرتا ہے کہ اللہ نے رزق کا موجب یعنی پانی بادل سے اتارا ہے۔ انتھی بلفظہٖ تفسیر صغیر ص۶۶۰اس ترجمہ سے مولانا معمار مرحوم کے مؤقف کی تائید ہوتی ہے۔) یعنی اللہ نے آسمان سے رزق نازل فرمایا۔ یعنی بارش برسائی جو سبب ہے رزق کے پیدا کرنے کا۔ پس رزق مسبب ہوا۔ اسی طرح اَنْزَلْنَا عَلَیْکُمْ لِبَاسًا فرمایا لباس مسبب ہے اور سبب اس کا بارش ہے تفسیر کبیر میں ہے انزل المطر وبا المطر تتکون الاشیاء التی منھا یحصل اللباس(تفسیر کبیر ص۵۱، ج۱۴طبعہ مصر ۱۹۳۸) معالم التنزیل میں ہے اللباس یکون من نبات الارض والنبات یکون بما ینزل من السماء فمعنا قولہ انزلنا ای انزلنا اسبابہ۔ (معالم التنزیل ص۱۵۴،ج۲)
    تفسیر خازن و فتح البیان میں ہے انزل المطر من السماء وھو سبب نبات اللباس(فتح البیان ص۱۷، ج۲طبعہ بھوپال ۱۲۹۲ھ و خازن ص۸۴، ج۲طبعہ مصر)۔ تفسیر مدارک میں ہے لان اصلہ من الماء وھو منھا (مدارک ص۱۰۳، ج۲) اسی طرح سراج منیر ابو السعود، بیضاوی میں بھی اسباب نازلہ مرقوم ہیں۔ (علی الترتیب دیکھئے،سراج منیر وابو السعود ص۳۲۲، ج۳و بیضاوی ص۳۴۵، ج۱زیر آیت الاعراف نمبر ۲۶)حاصل کلام یہ کہ وجود لباس کا سبب بارش ہے۔ آسمان سے پانی برستا ہے اس سے روئی کا درخت پیدا ہوتا ہے۔ روئی سے سوت اور سوت سے لباس تیار ہوتا ہے۔ اُونی لباس بنتے ہیں۔ بھیڑ اور دنبے سے، بھیڑ اور دنبہ پلتا ہے گھاس پر، گھاس پیدا ہوتی ہے بارش کے سبب سے۔ جب بارش ہوتی ہے شہتوت اور بیر کے درختوں کی پتیاں ہری بھری ہوتی ہیں ان کو ریشم کے کیڑے کھاتے ہیں اور ریشم نکالتے ہیں۔ جس سے ریشمی لباس وجود میں آتے ہیں۔ غرض یہ کہ لباس و رزق کا وجود حصولِ اسباب سماویہ و مواد ارضیہ سے مل کر ہوتا ہے جیسا کہ سورۂ یونس میں ارشاد باری ہوتا ہے قُلْ مَنْ یَّرْزُقُکُمْ مِّنَ السَّمَائِ وَالْاَرْضِ(پ۱۱یونس ۵۹) ۔ اس کے آگے چھٹے رکوع میں ہے وَمَا اَنْزَلَ اللّٰہُ لَکُمْ مِّن رِزْقٍ(پ۲۶الذّٰریٰت ۲۲)۔ سورۂ جاثیہ کی آیت بیان ہوچکی ہے۔ سورۂ ذاریات میں آتا ہے وَفِی السَّمَاء رِزْقُکُمْ وَمَا تُوْعْدُوْنَ(پ۳۰عبس ۲۵تا ۲۷)۔ سورۂ عبس میں فرمایا اَنَّا صَبَبْنَا الْمَائَ صَبًّا ثُمَّ شَقَقْنَا الْاَرْضَ شَقًّا وَاَنْبَتْنَا فِیْھَا حَبًّا۔ (پ۳۰عبس ۲۵تا ۲۷)
    الآیہ (پ۳۰) ان آیات سے آسمانی بارش اور نباتِ ارضی سے انسانی معیشت کا حصول ثابت ہے۔ اسی قبیل سے یہ آیت بھی ہے۔ اَنْزَلْنَا عَلَیْکُمْ لِبَاسًااس کو کہتے ہیں تَسْمِیَۃُ الشَّیْ بِاِسْمِ المُسَبَّبِ س انزال کے معنی آسمان سے اتارنا۔ اس آیت میں بھی اسی طرح ثابت ہوئے۔ جس طرح اوپر کی دونوں آیتوں میں۔
    • Winner Winner x 2
    • Bad Spelling Bad Spelling x 1
  3. ‏ دسمبر 29, 2018 #3
    عبیداللہ لطیف

    عبیداللہ لطیف رکن ختم نبوت فورم

    جزاکم اللہ خیر اللہ تعالی آپ کے علم و عمل برکت عطا فرماۓ آمین

اس صفحے کی تشہیر