1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

(بحیثیت جماعت سیاست میں حصہ نہیں لیتے)

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ نومبر 2, 2014

  1. ‏ نومبر 2, 2014 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (بحیثیت جماعت سیاست میں حصہ نہیں لیتے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: As a Jamaat, you don't participate in politics?
    (جناب یحییٰ بختیار: بحیثیت جماعت آپ سیاست میں حصہ نہیں لیتے؟)
    مرزاناصراحمد: بالکل قطعاً نہیں۔ یعنی ہم نے کبھی آج تک سوچا بھی نہیں کوئی سیاسی منشور کا یا کسی آدمی کو کھڑا کرنے کا، جماعت کے نمائندے کی حیثیت سے، نہ یہاں، نہ دنیا کے کسی ملک میں۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, can politics be separated from religion in Islam?
    (جناب یحییٰ بختیار: جناب! کیا اسلام میں سیاست کو مذہب سے جدا کیا جاسکتا ہے؟)
    Mirza Nasir Ahmad: In an individual's life, no.
    (مرزا ناصر احمد: انفرادی زندگی میں نہیں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: But as a collective body, muslim body, it can be?
    (جناب یحییٰ بختیار: مگر ایک اجتماعی حیثیت سے، مسلم جماعت کی حیثیت سے، ایسا ہوسکتا ہے؟)
    Mirza Nasir Ahmad: Collective? … میں تو وہ
    It depends on what type of that organisation is.
    (مرزا ناصر احمد: اجتماعی… میں تو وہ… (یہ اس پر منحصر ہے کہ وہ کس قسم کی تنظیم ہے) اگر یہ کوئی ایسی آرگنائزیشن ہے جو کہتی ہے کہ ہم نے، میں نے صرف یتامیٰ کا خیال رکھنا ہے تو نہ اس کو پالیٹکس سے کوئی تعلق ہے نہ اس کو اسکول کھولنے سے کوئی تعلق ہے۔ نہ طبی مراکز کھولنے سے تعلق ہے۔ It depends on the nature of the organisation. (یہ اس پر منحصر ہے کہ یہ تنظیم کس قسم کی ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Now, I will put it more bluntly, Sir. Is Khalifa in Islam not also head of the State, Head of the Government, in Islam?
    (جناب یحییٰ بختیار: جناب! اب میں اس کو مزید وضاحت سے پیش کرتا ہوں۔ کیا اسلام میں خلیفہ سربراہ مملکت، سربراہ حکومت بھی نہیں ہوتا؟)
    مرزاناصر احمد: یہ بڑا اہم سوال ہے۔ میں خوش ہوں آپ نے مجھ سے کر لیا۔ میں اپنا عقیدہ Of Course (بے شک) بتاؤں گا۔ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ نبی کریمa کے زمانہ میں اور آپ 22کے بعد کا جو زمانہ تھا اس میں حالات اس قسم کے تھے کہ روحانی امامت اور دنیاوی بادشاہت ایک وجود میں اکٹھی ہونا ضروری تھیں۔ چنانچہ نبی اکرمa کو بھی اﷲتعالیٰ نے ساری دنیا کی بادشاہت دے دی اور بعد میں خلفائے راشدین کو بھی علاوہ روحانی امامت کے بادشاہت اور ملوکیت بھی ان کو ملی اور انہوں نے، اﷲتعالیٰ ان کو جزائے خیر دے، بڑی ہمت اور فراست سے کام انجام دیا۔ اب جو ہمارے نزدیک مہدی موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) آگئے اور ان کے آگے خلفاء کا جو سلسلہ جاری ہوا۔ ہمارا Basic, Fundamental Concept (بنیادی نظریہ) یہ ہے کہ اس سلسلہ میں خلیفۂ وقت کبھی بھی بادشاہ نہیں ہوگا۔ہوگا ہی نہیں۔ اور اس کے لئے بڑے مضبوط دلائل بھی ہیں۔ اور یہ ہمارا بنیادی ہے عقیدہ۔
    جناب یحییٰ بختیار: یعنی خلیفۂ وقت بادشاہ تو نہیں ہوگا، کوئی پریذیڈنٹ بننے کی…
    Mirza Nasir Ahmad: No, no, no. No President, no Prime Minister, nothing whatsoever. کوئی دلچسپی نہیں ہے سیاست میں
    (مرزا ناصر احمد: نہیں! نہیں! نہیں! نہ صدر، نہ وزیراعظم، کچھ بھی نہیں، کوئی دلچسپی نہیں ہے سیاست میں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: As an organisation you don't aspire to capture political power?
    (جناب یحییٰ بختیار: بحیثیت جماعت آپ سیاسی طاقت حاصل کرنے کی تمنا نہیں رکھتے؟)
    Mirza Nasir Ahmad: No, no. ہم تو … یہ تو آپ کو مبارک ہو۔
    (مرزا ناصر احمد: نہیں! نہیں! ہم تو … یہ تو آپ کو مبارک ہو)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, I am just asking for the record.
    (جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں صرف ریکارڈ کے لئے پوچھ رہا ہوں)
    مرزا ناصر احمد: ہاں! نہیں۔ میں کہتا ہوں۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, according to you, religion is a matter of heart and conscience?
    (جناب یحییٰ بختیار: جناب! آپ کے مطابق مذہب قلب و ضمیر کا معاملہ ہے؟)
    Mirza Nasir Ahmad: Yes.
    (مرزاناصراحمد: جی ہاں!)
    Mr. Yahya Bakhtiar: And it's a relationship of a spiritual nature between Imam and his Creater?
    (جناب یحییٰ بختیار: اور یہ امام اور اس کے خالق کے درمیان ایک روحانی نوعیت کا رشتہ ہے؟)
    23Mirza Nasir Ahmad: Yes, Sir.
    (مرزاناصراحمد: جی ہاں جناب!)
    Mr. Yahya Bakhtiar: I am referring ....
    (جناب یحییٰ بختیار: میں حوالہ دے رہا ہوں…)
    مرزا ناصر احمد: ہاں! ہاں! ٹھیک ہے، ٹھیک ہے۔ بالکل صحیح درست فرمایا آپ نے۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: But will you agree, Sir, that religion, in the sense that it is a matter of heart and conscience, that is, what your feel, what you think, what you believe, what your faith as, something nobody can interfere with?
    (جناب یحییٰ بختیار: مگر جناب! کیا آپ اس سے اتفاق کریں گے کہ اس پہلو سے کہ مذہب قلب و ضمیر کا معاملہ ہے، یعنی آپ جو محسوس کرتے ہیں، آپ جو سوچتے ہیں، آپ جو عقیدہ رکھتے ہیں، آپ جو اعتقاد رکھتے ہیں، یہ ایک ایسی چیز ہے جس میں کوئی فرد مداخلت نہیں کرسکتا؟)
    مرزا ناصر احمد: درست ہے۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: Nobody can interfere?
    (یحییٰ بختیار: کوئی فرد مداخلت نہیں کرسکتا؟)
    مرزاناصراحمد: ہاں! درست ہے۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: In your thinking, you are free; you can have any faith, you are free; you can believe anything you want, you are free; but this faith, this belief, this thinking has some outward expression also?
    (جناب یحییٰ بختیار: آپ کی سوچ کے مطابق آپ آزاد ہیں، آپ کوئی بھی عقیدہ رکھ سکتے ہیں، آپ جو چاہیں اعتقاد رکھ سکتے ہیں، مگر اس عقیدہ، اعتقاد، سوچ کی کچھ ظاہری شکل بھی ہوتی ہے؟)
    مرزاناصر احمد: ہاں جی۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: When you express your faith, when you say it, when you announce it or when you proclaim it, it is likely to affect others also, it is likely to have repurcussions also. But when it is only confined to thinking believing, feeling, it doesn't. It is so or not?
    (جناب یحییٰ بختیار: جب آپ اپنے عقیدہ کا اظہار کرتے ہیں، جب آپ زبان سے اس کا اظہار کرتے ہیں، جب آپ اس کا اعلان کرتے ہیں تو یہ دوسروں پر اثرانداز ہوسکتا ہے، اس کے نتائج بھی ہوسکتے ہیں، مگر جب یہ محض سوچ، اعتقاد، جذبات تک محدود ہو تو ایسا نہیں ہوتا۔ ایسا ہے یا نہیں؟)
    Mirza Nasir Ahmad: Very vague question. I am afraid.
    (مرزا ناصر احمد: میں معذرت خواہ ہوں کہ یہ سوال انتہائی مبہم ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: I will elaborate my question further.
    (جناب یحییٰ بختیار: میں مزید تشریح کروں گا)
    24مرزا ناصر احمد: اگر تو… میں اپنی مشکل بتادوں… اگر تو مثلاً عبادت ہے۔ اگر ایک شخص جو عیسائیت چھوڑ کر اسلام لاتا ہے۔ ڈنمارک کا رہنے والا ہے اور وہ اسلامی طریقے پر کسی پبلک جگہ میں نماز باقاعدہ اﷲ اکبر کر کے اور رکوع وسجود کے ساتھ ادا کرتا ہے۔ نبی کریمa نے فرمایا: ۲۸۸۸ جعلت لی الارض مسجدا
    ساری زمین ہی میرے لئے اﷲ تعالیٰ نے مسجد بنادی۔ دو استثنا ہیں، اس کا ذکر کرنے کی ضرورت نہیں یہاں۔ اور وہاں کے عیسائی کہیں کہ جی یہ تو ہمیں Offend (ناراض) کر تا ہے…
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, Sir, this is not just that. I will put it very simply now. Every religion has got ceremonies, every religion has got rituals ....
    (جناب یحییٰ بختیار: نہیں، جناب بات صرف یہی نہیں۔ میں اب اس کو بہت سادہ انداز سے پیش کرتا ہوں۔ ہر مذہب کے کچھ شعائر اور رسم و رواج ہوتے ہیں)
    Mirza Nasir Ahmad: Rituals, yes and no, both.
    (مرزا ناصر احمد: رواج ہو بھی سکتے ہیں اور نہیں بھی ہوسکتے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: A religion has a ritual that you can sacrifice a lamb?
    (جناب یحییٰ بختیار: ایک مذہب میں یہ رسم ہے کہ آپ دنبہ کی قربانی کرسکتے ہیں؟)
    مرزا ناصر احمد: ہاں! آں!!
    Mr. Yahya Bakhtiar: Religion is affected also by you expressing your faith, isn't it?
    (جناب یحییٰ بختیار: آپ کی جانب سے اپنے عقیدہ کے اظہار سے بھی مذہب کا تاثر ابھرتا ہے۔ کیا ایسا نہیں ہے؟)
    مرزا ناصر احمد: ہاں، کچھ عبادات جو ظاہر میں کی جاتی ہیں۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: I want to know that religion has also an outward expression which can affect other things, people, situations. It is not just a matter of heart and conscience. It remains a matter of heart and conscience only if you think, if you believe, if you have a faith; but the moment you give an expression to that faith, that belief, you are likely to hurt somebody, you are likely to affect somebody, you are likely to favour somebody?
    (جناب یحییٰ بختیار: میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ مذہب کی ایسی ظاہری شکل بھی ہوسکتی ہے جو اشیائ، لوگوں اور صورتحال پر اثرانداز ہو؟ یہ محض قلب و ضمیر کا معاملہ نہیں، یہ قلب و ضمیر کا معاملہ صرف اس صورت میں ہوگا اگر آپ کوئی سوچ، اعتقاد، عقیدہ رکھیں، مگر جس وقت آپ اس کا اظہار کریں تو بہت ممکن ہے کہ آپ دوسروں کو ٹھیس پہنچائیں، بہت ممکن ہے کہ آپ دوسروں پر اثرانداز ہوں، کسی کی طرف داری کریں)
    25Mirza Nasir Ahmad: Why you say this?
    (مرزا ناصر احمد: آپ ایسا کیوں کہتے ہیں؟)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Because ....
    (جناب یحییٰ بختیار: کیونکہ…)
    Mirza Nasir Ahmad: 'Likely to hurt somebody' why likely to hurt somebody?
    (مرزاناصر احمد: ’’بہت ممکن ہے کہ دوسروں کو ٹھیس پہنچائیں‘‘ دوسروں کو کیوں ٹھیس پہنچائیں؟)
    Mr. Yahya Bakhtiar: I am coming. You know, Sir, I am not referring anything to you, to what you said.
    (جناب یحییٰ بختیار: میں اسی طرف آرہا ہوں۔ جناب! آپ جانتے ہیں کہ میں آپ کو کسی بات کا حوالہ نہیں دے رہا ہوں، جیسا کہ آپ نے کہا)
    Mirza Nasir Ahmad: No, no.
    (مرزا ناصر احمد: نہیں! نہیں!)
    Mr. Yahya Bakhtiar: I am just discussing religion because ....
    (جناب یحییٰ بختیار: میں مذہب سے بحث صرف اس لئے کررہا ہوں کیونکہ…)
    مرزاناصر احمد: میں صرف ہاں، میں صرف، میں خود سمجھنا چاہتا ہوں۔ میں تو یہاں…
    Mr. Yahya Bakhtiar: I am trying to eleborate.
    (جناب یحییٰ بختیار: میں وضاحت کرنے کی کوشش کررہا ہوں)
    مرزاناصر احمد: جی۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: Because you said that religion is something in which nobody should interfere. You asked this Assembly that it should not involve itself in this, it is a matter of heart and conscience. You said that this a human right, a fundamental right.
    (جناب یحییٰ بختیار: کیونکہ آپ نے کہا کہ مذہب ایسی چیز ہے جس میں کسی کو مداخلت نہیں کرنی چاہئے۔ آپ نے اس اسمبلی کو کہا کہ اسے مذہب کے بارے میں اپنے آپ کو نہیں الجھانا چاہئے کہ مذہب قلب و ضمیر کا معاملہ ہے۔ آپ نے کہا کہ یہ ایک انسانی حق ہے، ایک بنیادی حق)
    Mirza Nasir Ahmad: Did I say that?
    (مرزا ناصر احمد: کیا میں نے یہ کہا؟)
    Mr. Yahya Bakhtiar: I will come to that. I am just ....
    (جناب یحییٰ بختیار: میں اس پر آئوں گا۔ میں صرف…)
    Mirza Nasir Ahmad: No, I think I said that our constitution says it.
    (مرزا ناصر احمد: نہیں! میرا خیال ہے کہ میں نے کہا تھا کہ ہمارا آئین یہ کہتا ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Yes. I am relying on human rights. I said declaration of human rights.
    (جناب یحییٰ بختیار: ہاں! میں انسانی حقوق پر انحصار کررہا ہوں۔ میں نے کہا انسانی حقوق کی دستاویز)
    26مرزاناصر احمد: ہاں! ہاں!!
    Mr. Yahya Bakhtiar: When you said you rely on that ....
    (جناب یحییٰ بختیار: جب آپ نے یہ کہا کہ آپ اس پر انحصار کرتے ہیں…)
    Mirza Nasir Ahmad: Declaration of human rights in the Constitution of Pakistan.
    (مرزا ناصر احمد: آئین پاکستان میں انسانی حقوق کی دستاویز)
    Mr. Yahya Bakhtiar: .......... That everybody has a right to have his religion, to profess, to practice and to propagate ....
    (جناب یحییٰ بختیار: کہ ہر شخص کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنا ایک مذہب رکھے، جس کو وہ پروفیس کرے، اس پر عمل پیرا ہو اور اس کی تبلیغ کرے)
    Mirza Nasir Ahmad: Yes.
    (مرزا ناصر احمد: جی ہاں!)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, Sir, I was going to ask you if you profess, that again is a vague word. To profess means that you think and believe and have faith and have feelings about your religion, about Allah Almighty, about who is a Prophet and who is not. So long as it is confined to thinking, nobody can interfere, it is impossible. Thinking, thank God, nobody can interfere with. But action, when those feelings and thinkings and beliefs are put into action or translated into action by words of mouth or other action, then is it still free? Do you still have the freedom to do whatever you want?
    (جناب یحییٰ بختیار: نہیں جناب! میں آپ سے یہ پوچھنا چاہتا تھا کہ اگر آپ پرفیس کریں تو یہ ایک مبہم لفظ ہے۔ پروفیس کا مطلب ہے کہ آپ اپنے مذہب، اللہ تعالیٰ، کون رسول ہے اور کون نہیں؟ اس بارے میں سوچ، عقیدہ و اعتقاد اور جذبات رکھیں۔ جب تک یہ سوچ تک محدود ہے، کوئی اس میں مداخلت نہیں کرسکتا، یہ ناممکن ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ کوئی سوچ میں مداخلت نہیں کرسکتا۔ مگر جب وہ جذبات، سوچ اور عقائد منہ سے ادا شدہ الفاظ یا دیگر اعمال کی صورت میں عملی شکل اختیار کرلیں، کیا پھر بھی اس کی آزادی ہوگی؟ کیا پھر بھی آپ کو آزادی ہوگی کہ جو چاہے کریں؟)
    Mirza Nasir Ahmad: To express our faith.
    (مرزا ناصر احمد: اپنے عقیدے کے اظہار کے لئے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: To express, to propagate?
    (جناب یحییٰ بختیار: اظہار کے لئے، تبلیغ کے لئے)
    Mirza Nasir Ahmad: To express our faith.
    (مرزا ناصر احمد: اپنے عقیدے کے اظہار کے لئے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, practice, I will say, use the word practice.
    (جناب یحییٰ بختیار: نہیں! عمل کرنے کے لئے، میں کہوں گا کہ عمل کرنے کا لفظ استعمال کریں)
    مرزا ناصر احمد: ۲۸۶۷ جادلہم بالتی ہی احسن
    اس قرآنی ہدایت کے مطابق جو ہوگا اس سے کوئی خرابی نہیں پیدا ہوگی۔ یہ سارا کچھ اصل میں یہ ہے… اگر مجھے اجازت دیں… کہ جو قرآن کریم نے وہ راہیں متعین کی ہیں جن راہوں پر اگر 27ہم چلیں تو کوئی فتنہ فساد پیدا نہیں ہوگا اور قرآن کریم ایسا عظیم مذہب ہے اور فتنہ وفساد کے اتنا سخت خلاف ہے کہ ہم نے کسی اور مذہب میں اس قسم کی باتیں نہیں دیکھیں۔
    ۲۸۷۰ ان اﷲ لایحب المفسدین
    بہت سی آیات میں یہ ہے۔ قرآن کریم یہ کہتا ہے کہ اپنے خیالات کا اظہار دوسرے کی محبت کے جذبے میں کرو۔ اس کو دکھ دینے کے لئے یا اس کے اوپر ضرب لگانے کے لئے یا اس کو حقیر قرار دینے کے لئے اپنے دل میں بھی نہ سمجھو کسی کو حقیر۔ اور ایک پیار کے جذبے سے جو بات کہی جائے گی اسی سے فتنہ نہیں پیدا ہوگا یا کم ازکم اس فتنے کی ذمہ داری اس شخص پر نہیں ڈالی جاسکے گی جو پیار اور محبت کے ساتھ اور بے لوث خدمت کے جذبے میں اپنے …
    Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, if I follow the Holy Quran strictly, in any part of the world, you think, I will not commit any offence?
    (جناب یحییٰ بختیار: جناب! آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر میں قرآن مجید پر سختی سے عمل پیرا ہوں تو میں دنیا میں کہیں بھی کسی جرم کا ارتکاب نہیں کروں گا؟)
    Mirza Nasir Ahmad: I should not.
    (مرزاناصر احمد: میں نہیں کروں گا)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Supposing I want to marry two/three wives in America ....
    (جناب یحییٰ بختیار: فرض کریں اگر میں امریکہ میں دو؍تین شادیاں کرنا چاہتا ہوں)
    Mirza Nasir Ahmad: No, I ....
    (مرزا ناصر احمد: نہیں! میں…)
    Mr. Yahya Bakhtiar: I am just asking you. Will they arrest me or not?
    (جناب یحییٰ بختیار: میں صرف آپ سے پوچھ رہا ہوں۔ کیا وہ مجھے گرفتار کریں گے یا نہیں؟)
    Mirza Nasir Ahmad: It is not compulsory.
    (مرزاناصراحمد: یہ لازمی نہیں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: To have many wives?
    (جناب یحییٰ بختیار: کئی بیویاں رکھنا؟)
    Mirza Nasir Ahmad: It is not compulsory.
    (مرزاناصراحمد: یہ لازمی نہیں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: But I will give you another instance, Sir. You are a highly educated person. You know there is a Church call Mormon Church?
    (جناب یحییٰ بختیار: مگر جناب! میں آپ کو ایک اور مثال دوں گا۔ آپ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص ہیں۔ آپ کو معلوم ہے کہ ایک چرچ ہے جس کا نام مارمن چرچ ہے)
    28Mirza Nasir Ahmad: Yes, I know .......
    (مرزاناصر احمد: ہاں! میں جانتا ہوں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: And under their religion, their Chrisianity or their sect, ....
    (جناب یحییٰ بختیار: اور ان کے مذہب میں، ان کی عیسائیت میں یا ان کے فرقہ میں)
    Mirza Nasir Ahmad: They can have not ....
    (مرزاناصراحمد: وہ نہیں کرسکتے…)
    Mr. Yahya Bakhtiar: .... it is not only permissible....
    (جناب یحییٰ بختیار: …یہ نہ صرف جائز ہے…)
    مرزاناصراحمد: ہوں۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: .... but obilgatory for a person, if the circumstances permit, to practice polygamy.
    (جناب یحییٰ بختیار: …بلکہ اگر حالات اجازت دیں تو ایک شخص پر تعدد ازواج لازمی ہے)
    مرزاناصراحمد: لیکن ہمارے یہاں…
    Mr. Yahya Bakhtiar: Now, that is the freedom of religion. Will they allow him in America to marry?
    (جناب یحییٰ بختیار: یہ ہے مذہبی آزادی! کیا امریکہ میں وہ اس کو شادی کی اجازت دیں گے؟)
    Mirza Nasir Ahmad: If they don't allow it, they shouldn't do it or leave America.
    (مرزاناصر احمد: اگر وہ اس کی اجازت نہیں دیتے تو وہ شادی نہ کریں یا پھر امریکہ چھوڑ دیں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, but that is part of my faith; I am a Mormon Christian, it is a part of my faith; I want to practise my religion. Why should the American State, which bows for freedom of religion, interfere and put me in jail?
    (جناب یحییٰ بختیار: مگر یہ میرے مذہب کا حصہ ہے، میں ایک مارمن عیسائی ہوں، یہ میرے مذہب کا حصہ ہے، میں اپنے مذہب پر عمل کرنا چاہتا ہوں۔ تو امریکی ریاست، جو کہ مذہبی آزادی کو تسلیم کرتی ہے، کیوں میرے مذہب میں مداخلت کرے اور مجھے جیل میں ڈالے؟)
    مرزاناصر احمد: یہاں ایک نیا سوال یہ پیدا ہوگیا کہ جس وقت انسان کا مذہبی عقیدہ قانون وقت ہی کے ساتھ متصادم ہو جائے تو پھر کیا راستہ اختیار کرنا چاہئے۔ یہ ایک نیا سوال آگیا نا اب۔

اس صفحے کی تشہیر