1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

برق آسمانی برفرق قادیانی

محمدابوبکرصدیق نے 'برق آسمانی برفرق قادیانی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اگست 12, 2015

لڑی کی کیفیت :
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
  1. ‏ اگست 12, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    تعارف
    برق آسمانی برفرق قادیانی

    ہمارے قابل احترام بزرگ جناب ابوعبیدہ نظام الدین مبلغ اسلام نے یہ کتاب مرتب فرمائی ۔اس کی خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے مرزا قادیانی ملعون کی ایک کتاب لی ۔اس میں جتنے جھوٹ تھے ان کو جمع کردیا۔پھردوسری کتاب سے، اسی طرح وہ اس کے تین حصے شائع کرنا چاہتے تھے۔ایک حصہ جوزیرنظر ہے۔شائع کر دیا۔غالبًاباقی دو حصے شائع نہ ہوسکے ۔کوشش بسیارکے باوجود باقی دو حصوں کے مسودے بھی دستیاب نہ ہوسکے۔فعل الحکیم لایخلوا عن الحکمۃ سے سہارا لیے بغیر چارہ نہیں ۔اس حصہ میں مرزاملعون کے دو سوجھوٹ جمع کیے ہیں۔احتساب قادیانیت کی اس جلد میں شامل کرنے کی سعادت حاصل کررہے ہیں۔ فلحمدللہ اولاًوآخراً! (مرتب)
  2. ‏ اگست 12, 2015 #2
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    پہلے مجھے پڑھئے

    حضرات ناظرین! اﷲتعالیٰ گواہ ہے کہ مجھے جناب مرزاغلام احمد رئیس قادیانی آنجہانی سے کوئی ذاتی عناد نہیں۔ بلکہ ان کی جماعت کو دھوکہ خوردہ سمجھ کر ان سے مجھے دلی ہمدردی ہے اور دل سے چاہتا ہوں کہ اﷲتعالیٰ مقلب القلوب ان سادہ لوح لوگوں کو دوبارہ قبول حق کی توفیق عطا فرمائے۔ میری علمی جدوجہد کا مقصد وحید صرف تبلیغ حق ہے اور بس۔
    مرزاقادیانی نے ۸۲۔۱۸۸۰ء میں براہین احمدیہ کی تصنیف کے زمانہ میں مجددیت کا دعویٰ کیا۔ ۱۸۹۲ء میں دعویٰ مسیح موعود اور مہدی معہود کا بھی اعلان کر دیا۔ ۱۹۰۱ء میں مستقل نبوت کا دعویٰ بھی مشتہر کر دیا اور بہت سے دعاوی آپ کی تصنیفات میںموجود ہیں۔ جن سب کا منشاء قریباً ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ آپ مامور من اﷲ سچے ملہم تھے۔ آپ کی وحی کا مرتبہ وہی ہے جو توریت، زبور، انجیل اور قرآن شریف کا ہے۔
    اس کے برخلاف ہم مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ مرزاقادیانی اپنے تمام دعاوی میں جھوٹے تھے۔ آپ کی وحی بھی رحمانی نہ تھی۔ بلکہ وہ شیطانی تھی۔ ہر ایک آدمی کا حق ہے کہ وہ حق کی تبلیغ کرے۔ لہٰذا میں نے بھی ضروری سمجھا کہ مرزاقادیانی کی الہامی حیثیت کو جانچوں۔ چنانچہ میرا معیار وہ ہے جو اوّل خدا نے تعلیم کیا ہے۔ دوم رسول پاکﷺ نے مقرر فرمایا ہے۔ تیسرے خود مرزاقادیانی نے اس کا اعلان کیا ہے۔
    معیار از قرآن شریف:
    ’’ہل انبئکم علی من تنزل الشیطین تنزل علی کل افاک اثیم (الشعراء:۱۲۱،۱۲۲)‘‘
    {کیا ہم تم کو بتائیں کہ شیطانی وحی کن لوگوں کو ہوتی ہے۔ (سنو اور یاد رکھو) شیطانی وحی ان لوگوں کو ہوتی ہے۔ جو بہت جھوٹ بولنے والے افتراء باندھنے والے گنہگار ہوتے ہیں۔}
    میعار از حدیث:
    ’’سیکون فی امتی کذابون ثلاثون کلہم یزعم انہ نبی وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی‘‘
    (ابوداؤد ج۲ ص۱۲۷، باب ذکر الفتن ودلائلہا، ترمذی ج۲ ص۴۵، باب لا تقوم الساعۃ حتی یخرج کذابون)
    ’’یعنی میری امت میں سے تیس ایسے آدمی ہوں گے جو بیشمار جھوٹ بولنے والے اور زبردست فریب دینے والے ہوں گے۔ ان میں سے ہر ایک اپنے آپ کو نبی سمجھے گا۔ حالانکہ میں نبیوں کے ختم کرنے والا ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہوگا۔‘‘ ان دونوں معیاروں سے ثابت ہوا کہ جہاں سچے نبی اور ملہم ہوتے رہے ہیں وہاں جھوٹوں کا سلسلہ بھی جاری رہا ہے۔ بلکہ جھوٹے ملہمین اور نبیوں کا سلسلہ قائم ہے۔ جھوٹے نبیوں کی پہچان قرآن اور حدیث میں یہ بتلائی گئی ہے کہ وہ زبردست جھوٹ بولنے والے اور سخت فریب دینے والے ہوں گے۔
    خدا اور اس کے رسول کے اس زبردست انتباہ کے بعد ہمارا فرض ہے کہ جب کبھی کوئی شخص دعویٰ الہام یا وحی کا کرے۔ ان دونوں معیاروں پر اس کو پرکھیں۔ میں نے اسی معیار کے مطابق مرزاقادیانی کی جانچ پڑتال شروع کی اور آج ان کی اپنی تصنیفات سے ان کے جھوٹوں کی پہلی قسط پیش کرتا ہوں۔ جن کی تعداد دو صد (۲۰۰) ہے۔ مگر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ پہلے جھوٹے آدمی کے متعلق مرزاقادیانی کا فتویٰ بھی درج کردیا جائے۔
  3. ‏ اگست 12, 2015 #3
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    جھوٹے کے متعلق مرزا غلام قادیانی کے اقوال

    ۱… ’’جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر دوسری باتوں میں بھی اس پر کوئی اعتبار نہیں۔‘‘
    (چشمہ معرفت ص۲۲۲، خزائن ج۲۲ ص۲۳۱)
    ۲… ’’ظاہر ہے کہ ایک دل سے دو متناقض باتیں نہیں نکل سکتیں۔ کیونکہ ایسے طریق سے یا تو انسان پاگل کہلاتا ہے یا منافق۔‘‘
    (ست بچن ص۳۱، خزائن ج۱۰ ص۱۴۳)
    ۳… ’’(دنیا دار) وہ اپنا معبود اور مشکل کشا جھوٹ کی نجاست کو سمجھتے ہیں۔ اس لئے خداتعالیٰ نے جھوٹ کو بتوں کی نجاست کے ساتھ وابستہ کر کے قرآن کریم میں بیان کیا ہے۔‘‘
    (الحکم ج۱ ش۱۳ ص۵، مورخہ ۱۷؍اپریل ۱۹۰۵ء)
    ۴… ’’جھوٹ بولنے سے بدتر دنیا میں کوئی کام نہیں۔‘‘
    (تتمہ حقیقت الوحی ص۲۶، خزائن ج۲۲ ص۴۵۹)
    ۵… ’’جھوٹے ہیں کتوں کی طرح جھوٹ کا مردار کھا رہے ہیں۔‘‘
    (ضمیمہ انجام آتھم ص۲۵، خزائن ج۱۱ ص۳۰۹)
    مرزاقادیانی کے جھوٹ کئی قسم کے ہیں۔
    (۱)خدا پر افتراء باندھا ہے۔
    (۲)رسول کریمﷺ پر جھوٹ باندھا ہے۔
    (۳)بزرگان دین پر جھوٹ باندھا ہے۔
    (۴)واقعات کے بیان کرنے میں دیانت سے کام نہیں لیا۔
    (۵)ایک ہی مضمون کے متعلق سخت تناقض کا ارتکاب کیا ہے۔
    مرزاقادیانی کے جھوٹ میں نے اس دفعہ کتاب وار درج کئے ہیں۔ تاکہ دیکھنے والوں کو ایک ہی وقت میں بہت سی کتابیں منگوانے کی ضرورت نہ پڑے۔ دوسرے ناظرین باتمکین اندازہ لگا سکیں کہ ہر ایک کتاب میں مرزاقادیانی نے کس قدر جھوٹوں کا ارتکاب کیا ہے؟
  4. ‏ اگست 12, 2015 #4
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    معذرت

    ۱… میں اپنے محدود معلومات کی بناء پر مرزاقادیانی کے سارے کذبات پر احاطہ نہیں کر سکا۔ اگر کوئی عالم اس کام کو اپنے ہاتھ میں لیتا تو واﷲ اعلم ہزارہا جھوٹ ثابت کر دیتا۔
    ۲… طبع اوّل میں بہت جلدی سے کام لیاگیا ہے۔ بہت سی اغلاط لفظی ومعنوی کا اندیشہ ہے۔ لہٰذا عرض ہے کہ جس صاحب کو کوئی غلطی معلوم ہو وہ ازراہ تلطف خاکسار مؤلف کو مطلع کر کے مشکور فرمادیں۔ شکریہ کے ساتھ اصلاح قبول کر لی جائے گی۔ ’’وما توفیقی الا باﷲ‘‘
    نوٹ: سب سے پہلے ’’ازالہ اوہام‘‘ کے جھوٹ ترتیب وار نقل کرتا ہوں۔
  5. ‏ اگست 12, 2015 #5
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    کذبات مرزا ’’ازالہ اوہام‘‘ 1 (مسیح علیہ السلام کے معجزات)

    ۱… ’’مسیح کے معجزات اور پیش گوئیوں پر جس قدر اعتراض اور شکوک پیدا ہوتے ہیں۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ کسی اور نبی کے خوارق یا پیش خبریوں میں کبھی ایسے شبہات پیدا ہوئے ہوں۔‘‘

    (ازالہ اوہام ص۶،۷، خزائن ج۳ ص۱۰۶)
    ابوعبیدہ: صریح جھوٹ! حضرت مسیح علیہ السلام کے معجزات میں کوئی شکوک اور اعتراض پیدا نہیں ہوتے۔ ہاں شیطان طبع لوگوں کو ایسا معلوم ہوتو ہو۔ ورنہ اﷲتعالیٰ تو فرماتے ہیں۔ ’’واذ کففت بنی اسرائیل عنک اذ جئتہم بالبینت فقال الذین کفروا منہم ان ہذا الا سحر مبین (مائدہ:۱۱۰)‘‘ {اور یاد کر اے عیسیٰ علیہ السلام جب کہ میں نے بنی اسرائیل کو تم سے (یعنی تمہارے قتل واہلاک سے) باز رکھا۔ جب تم ان کے پاس نبوت کی دلیلیں (معجزات) لے کر آئے تھے۔ پھر ان میں جو کافر تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ یہ معجزات بجز کھلے جادو کے اور کچھ بھی نہیں۔}
    اب خدا کے بیان کے بالمقابل مرزاقادیانی کے بیان کو سوائے مرید ان بااخلاص کے اور کون تسلیم کر سکتا ہے؟
  6. ‏ اگست 12, 2015 #6
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    کذبات مرزا ’’ازالہ اوہام‘‘ 2 ( مسیحؑ معجزہ نہیں دکھا سکتے)

    ۲… ’’اس مقام میں زیادہ تر تعجب یہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام معجزہ نمائی سے صاف انکار کر کے کہتے ہیں کہ میں ہرگز کوئی معجزہ دکھا نہیں سکتا۔ مگر پھر بھی عوام ایک انبار معجزات کا ان کی طرف منسوب کر رہے ہیں۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۸، خزائن ج۳ ص۱۰۶)
    ابوعبیدہ: قرآن شریف میں خود حضرت مسیح علیہ السلام کا قول اﷲتعالیٰ نقل فرماتے ہیں۔ ’’انی قد جئتکم بآیۃ من ربکم انی اخلق لکم من الطین کھیئۃ الطیر فانفخ فیہ فیکون طیراً باذن اﷲ وابری الاکمہ والابرص واحیی الموتیٰ باذن اﷲ وانبئکم بما تأکلون وما تدخرون فی بیوتکم ان فی ذلک لاٰیۃ لکم ان کنتم مؤمنین (آل عمران:۴۹)‘‘
    {فرمایا حضرت مسیح علیہ السلام نے اے لوگو میں تمہارے رب کی طرف سے اپنی سچائی پر نشانیاں لے کر آیا ہوں اور وہ یہ ہیں۔ (۱)میں تمہارے واسطے مٹی سے پرندہ کی شکل بناتا ہوں۔ پھر اس میں پھونک مارتا ہوں۔ پس وہ اﷲتعالیٰ کے حکم سے جاندار پرند بن جاتا ہے۔ (۲)اور مادر زاد اندھوں اور برص والوں کو اچھا کرتا ہوں۔ (۳)اور مردوں کو خدا کے حکم کے ساتھ زندہ کرتا ہوں۔ (۴)اور میں تمہیں بتاتا ہوں جو کچھ کہ تم کھاتے ہو اور جمع کرتے ہو اپنے گھروں میں۔}
    پس مرزاقادیانی کا دعویٰ دروغ محض ثابت ہوا۔
  7. ‏ اگست 12, 2015 #7
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    کذبات مرزا ’’ازالہ اوہام‘‘ 3 ( عنقریب ہندہ نظر نہیں آئے گا)

    ۳… ’’عنقریب وہ زمانہ آنے والا ہے کہ تم نظر اٹھا کر دیکھو گے کہ کوئی ہندو دکھائی دے۔ مگر ان پڑھوں لکھوں میں سے ایک ہندو بھی تمہیں دکھائی نہ دے گا۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۳۲، خزائن ج۳ ص۱۱۹)
    ابوعبیدہ: اے قادیانی دوستو! اس عبارت کی اور اس میں کے ’’عنقریب‘‘ کی کیا تاویل کرو گے۔ کیا اب ہندوستان میں کوئی کافر نہیں؟ ہندو مسلمان کیا ہوتے۔ بلکہ کئی مسلمان اچھے بھلے خدا اور اس کے رسول کے ماننے والے مرزاقادیانی کی بھینٹ چڑھ گئے۔ ’’انا ﷲ وانا الیہ راجعون‘‘
  8. ‏ اگست 12, 2015 #8
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    کذبات مرزا ’’ازالہ اوہام‘‘ 4 ( مسیح موعود میں ہی ہوں)

    ۴… ’’اب جو امر خداتعالیٰ نے میرے پر منکشف کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ وہ مسیح موعود میں ہی ہوں۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۳۹، خزائن ج۳ ص۱۲۲)
    پھر ’’میرے پر خاص اپنے الہام سے ظاہر کیا کہ مسیح ابن مریم فوت ہوچکا ہے۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۵۶۱، خزائن ج۳ ص۴۰۲)
    ب… الہام مرزاقادیانی ’’ھو الذی ارسل رسولہ بالہدیٰ ودین الحق لیظہرہ علی دین کلہ‘‘ یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح علیہ السلام کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیاگیا ہے۔ وہ غلبہ مسیح علیہ السلام کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔ لیکن اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے۔ (کس کی طرف سے؟ ابوعبیدہ) کہ یہ خاکسار… مسیح علیہ السلام کی پہلی زندگی کا نمونہ ہے۔
    (براہین احمدیہ ص۴۹۸،۴۹۹، خزائن ج۱ ص۵۹۳)
    ابوعبیدہ: دونوں الہاموں میں سے ایک ضرور جھوٹ ہے۔ کیونکہ ایک کہتا ہے۔ مسیح موعود مرزاقادیانی ہیں۔ دوسرا کہتا ہے مسیح موعود حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔
  9. ‏ اگست 12, 2015 #9
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    کذبات مرزا ’’ازالہ اوہام‘‘ 5 ( قرآن سے ثابت نہیں کہ مسیحؑ جسم کے ساتھ آسمان پر اٹھائے گئے)

    ۵… ’’قرآن شریف کے کسی مقام سے ثابت نہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام اسی خاکی جسم کے ساتھ آسمان پر اٹھائے گئے۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۴۶، خزائن ج۱۲۵)
    ابوعبیدہ: صریح جھوٹ! قرآن شریف میں صریح اعلان ہے کہ خدا نے حضرت مسیح علیہ السلام کو زندہ بجسد عنصری آسمان پر اٹھا لیا۔ مثلاً:
    ۱… ’’انی متوفیک ورافعک الیّٰ (آل عمران:۵۵)‘‘
    {یعنی اے عیسیٰ علیہ السلام میں تمہاری عمر پوری کر کے تمہیں طبعی موت دوں گا۔ (اور سردست یہودیوں کے ہاتھ سے بچانے کے لئے) تمہیں آسمان پر اٹھانے والا ہوں۔}
    نوٹ: جب ’’توفی‘‘ کے بعد ’’رفع‘‘ کا لفظ آئے تو اس وقت ’’رفع‘‘ کے معنی یقینا رفع جسمانی کے آتے ہیں۔ اگر کوئی قادیانی اس کے خلاف کوئی مثال قرآن، حدیث یا اشعار عرب سے دکھائے تو اس کو یک صد روپیہ انعام خاص دیا جائے گا۔
    ۲… ’’وما قتلوہ یقیناً بل رفعہ اﷲ الیہ (نساء:۱۵۷،۱۵۸)‘‘
    یہاں بھی ان کے رفع جسمانی ہی کا ذکر ہے۔
    چیلنج

    ہر صدی کے سر پر ایک مجدد کا آنا قادیانی ہمیشہ ذکر کیا کرتے ہیں۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ ان تمام مجددین نے جن کو قادیانیوں نے اپنی کتاب (عسل مصفیٰ ص۱۶۳) میں سچے مجدد تسلیم کیاہے۔ ان ہر دو جگہوں میں ’’رفع‘‘ کے معنی جسم سمیت اٹھانا ہی کئے ہیں۔ پس مرزاقادیانی کا جھوٹ ظاہر ہے۔
  10. ‏ اگست 12, 2015 #10
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    کذبات مرزا ’’ازالہ اوہام‘‘ 6 ( مسیحؑ کے آسمان پر اٹھانے جانے پر اعتراض)

    ۶… ’’اگر فرض کیا جائے کہ حضرت مسیح علیہ السلام جسم خاکی کے ساتھ آسمان پر گئے ہیں تو ظاہر ہے کہ وہ ہر وقت اوپر کی سمت میں ہی نہیں رہ سکتے۔ بلکہ کبھی اوپر کی طرف ہوں گے۔ کبھی زمین کے نیچے آجائیں گے… پس ایسی مصیبت ان کے لئے روا رکھنا کس درجہ کی بے ادبی میں داخل ہے۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۴۸،۴۹، خزائن ج۳ ص۱۲۷)
    ابوعبیدہ: یہ مرزاقادیانی کا صریح جھوٹ اور دھوکہ ہے۔ زمین کے چاروں طرف اوپر ہی ہے۔ اس واسطے حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہمیشہ زمین کی اوپر کی سمت ہی میں رہیں گے۔ مرزاقادیانی جب جغرافیہ سے اپ کو مس نہیں تو پھر کیوں خواہ مخواہ دخل در معقولات دیتے ہو؟
لڑی کی کیفیت :
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

اس صفحے کی تشہیر