1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

(بزرگان دین کے حوالے)

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ فروری 27, 2015

  1. ‏ فروری 27, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (بزرگان دین کے حوالے)
    اس کے بعد حضرت شیخ ابن عربیؒ، حضرت امام ربانی مجدد الف ثانیؒ اور مولانا رومؒ کی کتابوں کے حوالوں سے یہ بیان کیاگیا ہے کہ ان کے نزدیک بھی یہ پایا جاتا ہے کہ تمام اقسام وحی کی جو قرآن میں مذکور ہیں خدا کے بندوں اولیاء اﷲ سب میں پائی جاتی ہیں اور وحی جو نبی میں ہے وہ خاص ہے اور شریعت والی وحی ہے اور کہ جو وحی انبیاء علیہم السلام کو ہوتی ہے۔ وہ اس امت کے بعض کامل افراد کو بھی ہوتی ہے اور جیسا کہ مولانا رومؒ نے کہا ہے ہوتی تو وہ وحی حق ہے۔ لیکن صوفیائے عام لوگوں سے پردہ کرنے کی خاطر اسے وحی دل میں کہہ دیتے ہیں اور کہ جن طریق سے انبیاء علیہم السلام کو وحی الہام ہوتا ہے انہیں طرق سے اولیاء اﷲ کو ہوتا ہے۔ اگرچہ اصطلاحاً ان کا نام رکھنے میں فرق کیاگیا ہے اور یہ علماء کی اپنی اصطلاح ہے اور اصطلاح فرق مراتب کے لحاظ سے قرار پاگئی ہے کہ انبیاء کی وحی کو وحی اور اولیاء کی وحی کو الہام کہتے ہیں اور کہ ولی پر بھی وحی بواسطہ ملک ہوتی ہے اور مدعیہ کے اعتقاد کے مطابق عیسیٰ کے نزول پر ان پر وحی نازل ہوگی اور اس کے متعلق علماء کا قول ہے کہ وہ حضرت جبرائیل علیہ السلام کی زبان پر ہوگی اس 2201کے آگے یہ کہاگیا ہے کہ مرزا صاحب کی کتب سے جو یہ دکھلایا گیا ہے کہ وہ بھی آنحضرتﷺ کے بعد سلسلہ وحی کو منقطع مانتے ہیں تو وہاں ان کی مراد وحی شریعت سے ہے نہ کہ دوسری وحی سے جسے وہ جاری سمجھتے ہیں ان تصریحات سے یہ نتیجہ اخذ کیاگیا ہے کہ آنحضرتﷺ کے بعد ایسی وحی کہ جس میں نئے اوامر ونواہی نہ ہوں جاری ہے اور جن علماء نے یہ کہا ہے کہ آپﷺ کے بعد وحی اور الہام کا سلسلہ بند ہے تو اس سے مراد ایسی وحی ہے جو شریعت محمدیہ کے مخالف نئے اوامر ونواہی پر مشتمل ہو۔ نہ مطلق وحی جس کا امت محمدیہ میں باقی رہنا قرآن مجید، حدیث وبزرگان دین کے اقوال سے ثابت ہے۔ اس کے آگے پھر دوسرا ہیڈنگ شروع ہو جاتا ہے۔ اس کے تحت میں اس بحث کا جواب درج کیا جاتا ہے۔
    مدعیہ کی طرف سے جس وحی کے متعلق یہ کہاگیا ہے کہ اس کا ادّعا کفر ہے۔ اس سے مراد وحی نبوت سے ہی ہے۔ فریق مدعیہ کے نزدیک وحی کا لفظ صرف انبیاء کے لئے ہی مختص ہے اور وہ اس امر کے قائل نہیں کہ جو وحی نبی کی ہوتی ہے وہ غیرانبیاء کو بھی ہوسکتی ہے۔ اس لئے اب مدعا علیہ کے بحث سے ہی یہ طے کرنا ہے کہ آیا اس قسم کی وحی جو انبیاء کو ہوتی ہے غیرانبیاء کو بھی ہوسکتی ہے یا نہ۔ اس کے متعلق جن آیات قرآنی کا حوالہ مدعا علیہ کی طرف سے پیش کیاگیا ہے۔ ان کے ظاہری الفاظ سے یہ پایا جاتا ہے کہ حضرت ام موسیٰ پر وحی ہوئی۔ حضرت مریم پر فرشتے اترے، اور ذوالقرنین سے اﷲتعالیٰ نے کلام فرمایا۔ لیکن اگر یہ نتیجہ محض ان الفاظ ’’اوحینا قالت الملائکۃ‘‘ اور ’’قلنا‘‘ کے استعمال سے اخذ کیا جاتا ہے تو یہ درست نہیں۔ کیونکہ وحی کا لفظ قرآن مجید میں نہ صرف ذوی العقول کی بابت استعمال فرمایا گیا ہے۔ بلکہ غیرذوی العقول کی بابت بھی جیسا کہ سورۂ نحل میں ہے کہ شہد کی مکھی کو وحی کی گئی۔ یہاں میرے خیال میں مدعا علیہ کے نزدیک بھی وحی سے مراد وہ وحی نہیں ہوسکتی جو انبیاء کو ہوتی ہے۔ یہاں یقینا اس کے کوئی اور معنی بمثل فطرت میں داخل کرنا یا اسے سوجھانا کئے جائیں گے۔ اس طرح قرآن مجید میں وحی کا لفظ اور بھی کئی مقامات پر استعمال ہوا ہے۔ جس کے سیاق وسباق سے یہ نتیجہ اخذ نہیں ہوتا کہ وہاں اس لفظ 2202سے مراد اس قسم کی وحی ہے جو انبیاء کو ہوتی ہے اور غالباً اس شبہ کو زائل کرنے کے لئے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے متعلق قرآن مجید میں بتصریح یہ فرمایا گیا کہ ہم نے تیری طرف اس قسم کی وحی بھیجی ہے جیسا کہ حضرت نوح، ابراہیم، اسحق، اسماعیل، یعقوب (علیہم السلام) اور ان کی اولاد کی طرف بھیجی گئی۔ سورۂ نساء پارہ۶، رکوع نمبر۳ آیت ’’انا اوحینا الیک کما اوحینا الیٰ نوح… زبوراً‘‘ اس لئے ان مواقعات پر جہاں کہ لفظ وحی کے استعمال سے وحی نبوت کے معنی اخذ نہیں ہوسکتے۔ اس لفظ سے مراد جیسا کہ علماء نے لی ہے القاء کرنا یا دل میں ڈالنا ہی لی جائے گی۔ اسی طرح قرآن مجید میں ایک اور جگہ ہے ’’وان الشیٰطین لیوحون الیٰ اولیاء ہم‘‘ تو کیایہاں بھی لفظ وحی کے استعمال سے وحی انبیاء لی جاسکے گی۔
    قرآن مجید میں اس قسم کے اور بھی کئی الفاظ ہیں کہ جن کے ظاہری معنی مراد نہیں لئے گئے۔ مثلاً فتنہ کا لفظ جس کے معنی عام طور پر آزمائش کے لئے گئے ہیں اس طرح اس کی سند بیان نہیں کی گئی کہ فرشتے ہر حال میں ذات باری کی طرف سے ہی بحیثیت رسول اترتے اور کلام کرتے رہے۔ ممکن ہے کہ نیک آدمیوں پر ان کا اترنا عام انتظام کائنات کے سلسلہ میں ہو یا روحانی ترقی کے مدارج میں داخل ہو۔ اس لئے حضرت مریم پر فرشتوں کے اترنے سے یہ نتیجہ لازمی طور پر برآمد نہیں ہوتا کہ اﷲتعالیٰ غیر انبیاء سے اس طریق پر کلام کرتا ہے۔ جیسا کہ انبیاء کے ساتھ، باقی رہی وہ آیت جو ذوالقرنین کے متعلق ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ بعض کے نزدیک وہ نبی تھے۔ اگر نبی تھے تو انہیں وحی نبوت ہوئی ہوگی اور اگر نبی نہ تھے تو ان کے متعلق محض لفظ قال کا استعمال عمومیت کے طور پر یہ نتیجہ اخذ کرنے کے لئے کافی نہیں کہ غیر انبیاء کے ساتھ بھی اﷲ تعالیٰ ہم کلام ہو سکتا ہے۔ علاوہ ازیں اگر یہ مان بھی لیا جاوے کہ حضرت ام موسیٰ اور حضرت مریم کو ایسی ہی وحی ہوئی جیسا کہ انبیاء کو ہوتی ہے تو اس سے لازمی طور پر یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ ایسی وحی ہر غیرانبیاء کو ہوسکتی ہے۔ کیونکہ یہ بیبیاں پیغمبروں کی مائیں تھیں اور ان ہر دو پیغمبروں کے متعلق یہ خطرہ تھا کہ انہیں پیدا ہونے کے بعد ہلاک نہ کر دیا جاوے۔ اس لئے ان کی ماؤں کو تسکین دینے 2203کے لئے اگر اﷲتعالیٰ نے اپنی ہم کلامی سے مشرف فرمادیا ہو تو کوئی عجب نہیں۔ اس کے ساتھ ہی پھر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ یہ واقعات حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعثت سے قبل کے ہیں۔ ممکن ہے کہ خاص حالات کے تحت خاص خاص اشخاص کے ساتھ ہم کلام ہونا مشیت ایزدی سے ضروری سمجھا گیا ہو اور ا س کی تائید خود مدعا علیہ کی اپنی بحث سے ہوتی ہے۔ جیسا کہ وہ کہتا ہے کہ آنحضرتa نے فرمایا ہے کہ بنی اسرائیل میں ایسے لوگ ہوئے ہیں کہ باوجود یہ کہ وہ نبی نہ تھے اﷲتعالیٰ ان سے کلام کرتا تھا۔ چنانچہ ذوالقرنین بھی اسی ذیل میں داخل سمجھے جاسکتے ہیں۔ لیکن اس کے بعد جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ میرے بعد نبوت میں سے سوائے مبشرات کے اور کچھ باقی نہیں تو پھر کیونکر کہا جاسکتا ہے کہ غیر انبیاء کو بھی وہی وحی ہوتی ہے جو انبیاء کو ہوتی ہے۔ اس حدیث کو فریق مدعا علیہ نے صحیح تسلیم کیا ہے۔ لیکن اس کی یہ تاویل کی ہے کہ یہ عام اشخاص کے متعلق ہے۔ خواص کے لئے نہیں اگر خواص اس سے مستثنیٰ تھے تو کوئی وجہ نہ تھی کہ رسول اﷲa اس کی تصریح نہ فرمادیتے۔ یہ حدیث حضرت عائشہؓ سے بھی روایت کی گئی ہے۔
    باقی رہے صوفیائے کرام کے اقوال اور تحریریں، ان کے متعلق ایک جواب تو اوپر سید انور شاہ صاحب کے بیان کے حوالہ سے دیاجاچکا ہے کہ انہوں نے ان اشخاص کو جو ان کی اصطلاحات سے واقف نہ ہوں، اپنی کتابوں میں نظر کرنے سے منع فرمایا اور اس کا دوسرا جواب بھی شاہ صاحب مذکور کے الفاظ میں نقل کیاجاتا ہے۔
    وہ کہتے ہیں کہ صوفیائے کرام نے نبوۃ کوبمعنی لغوی لے کر مقسم بنایا اور اس کی تفسیر خدا سے اطلاع پانا۔ دوسرے کو اطلاع دینا کی، اور اس کے نیچے انبیاء علیہم السلام اور اولیاء کرام دونوں کو داخل کیا اور نبوت کو دو قسم کر دیا۔ نبوت شرعی اور نبوت غیر شرعی، نبوت کے نیچے وحی اور رسل دونوں درج کر دئیے اور اب ان کے لئے نبوت غیر شرعی اولیاء کے کشف اور الہام کے لئے نکھر گیا اور مخصوص ہوگیا۔ صوفیائے کرام کی تصریح ہے کہ کشف کے ذریعہ مستحب کا درجہ بھی ثابت نہیں ہوتا۔ صرف اسرار معارف، مکاشف اس کا دائرہ ہیں اور تصریح فرماتے ہیں کہ ہمارا کشف دوسرے پر 2204حجت نہیں۔ ہمارا کشف ہمارے لئے ہے۔ گواہ مذکور نے کشف، الہام اور وحی کی یہ تعریف بیان کی ہے کہ کشف اسے کہتے ہیں کہ کوئی پیرایہ آنکھوں سے دکھلایا جس کی مراد کشف والا خود نکالے۔ دل میں کچھ مضمون ڈال دیا اور سمجھا دیا جاوے یہ الہام ہے۔
    خدا نے پیغام بھیجا۔ اپنے ضابطہ کا وہ وحی ہے۔ وحی قطعی ہے اور کشف والہام ظنی ہیں۔ بنی نوع آدم میں وحی پیغمبروں کے ساتھ مخصوص ہے۔ غیروں کے لئے کشف یا الہام ہے یا معنوی وحی ہو سکتی ہے، شرعی نہیں۔
    وحی کے شرعی یا غیرشرعی ہونے کی جو تفریق مدعا علیہ کی طرف سے کی گئی ہے۔ اس کی تائید میں اس نے سوائے اقوال بزرگان کے اور کوئی سند پیش نہیں کی اور ان اقوال کی گومدعیہ کی طرف سے توجیہ اور تشریح کی گئی ہے اور یہ دکھلایا گیا ہے کہ ان بزرگان کی ان اقوال سے کیا مراد ہے اور ان کے دیگر صریح اقوال پیش کئے گئے ہیں کہ جن میں وہ رسول اﷲﷺ کو خاتم النّبیین بمعنی آخری نبی تسلیم کرتے ہیں اور آپﷺ کے بعد کسی اور نبی کا آنا ممکن نہیں سمجھتے۔ لیکن ان پر اس لئے بحث کی ضرورت نہیں کہ وہ قرآن مجید اور احادیث کے مقابلہ میں کوئی حجت نہیں ہوسکتے اور مدعا علیہ کی طرف سے جو اعتراض مدعیہ پر عائد کیاگیا تھا کہ اس نے وجوہات تکفیر کے ضروریات دین ہونے کے متعلق قرآن یا حدیث سے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا وہ بدرجہ اولیٰ خود مدعا علیہ پر وارد ہوتا ہے کہ اس نے شرعی اور غیر شرعی وحی کی جو تقسیم کی ہے اس کے متعلق کوئی ثبوت قرآن واحادیث سے پیش نہیں کیا۔ محض قیاسات سے ہی یہ کہاگیا کہ جس آیت کا حوالہ مدعیہ کی طرف سے دیاگیا ہے۔ اس میں آئندہ وحی کا ذکر نہیں، وہ شریعت والی وحی کے انقطاع پر دلالت کرتی ہے۔
    مدعیہ کی طرف سے درست طور پر یہ کہاگیا ہے کہ صوفیائے کرام نے نبوت کی جو قسمیں بیان کی ہیں وہ ان کی اپنی قائم کردہ اصطلاحات کے مطابق ہیں۔ اس لئے ان کی قائم کردہ اصطلاحات کو عام امت کے مقابلہ میں حجت قرار دینا درست نہیں ہے۔ مسیح موعود پر وحی کا ہونا مستثنیات سے ہے۔ جس کی استثناء خود حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کر دی اس سے وحی نبوت کے اجراء کا عمومیت کے ساتھ نتیجہ نکالنا ایک غلطی ہے۔
    2205آیت ’’وما کان لبشر… الخ!‘‘ میں بشر کے لفظ کے متعلق مدعیہ کی طرف سے کہاگیا ہے کہ’’مراد انبیاء علیہم السلام سے ہے۔‘‘ لیکن اگر عام بشر بھی مراد لئے جاویں تو اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ خدا بالعموم آدمیوں سے کلام کرتا رہتا ہے۔ بلکہ اس میں اﷲتعالیٰ نے اپنے بندوں کے ساتھ ہم کلام ہونے کے طریق بتلائے ہیں۔ باقی کلام کا کرنا یا نہ کرنا اس کی اپنی مشیت پر منحصر ہے۔ لہٰذا گواہان مدعیہ نے یہ درست کہا ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد وحی نبوت جاری ہوتی تو قرآن مجید میں ضرور اس کی صراحت فرمادی جاتی۔ کیونکہ اس پر امت کی فلاح کا دارومدار تھا۔ باقی مولانا روم کی کتاب مثنوی کے حوالے سے جو یہ بیان کیاگیا ہے کہ وہ لکھتے ہیں کہ اولیاء کو جو وحی ہوتی ہے وہ دراصل وحی حق ہوتی ہے اور اولیاء عام لوگوں سے پردہ کرنے کی خاطر اسے وحی دل کہہ دیا کرتے ہیں۔ یہ ان کے شاعرانہ خیالات ہیں، اور شاعر کی نیت میں جیسا کہ سید انور شاہ صاحب گواہ مدعیہ نے کہا ہے۔ منوانا اس کا عالم کو منظور نہیں ہوتا اور پھر جہاں انہوں نے وحی حق کے الفاظ لکھے ہیں ان کے ساتھ ہی واﷲ اعلم بالصواب کا جملہ بھی موجود ہے۔ اس سے ان کے مفہوم کا خود اندازہ لگایاجاسکتا ہے۔ پارہ نمبر۹، رکوع نمبر۸ اور پارہ۱۶، رکوع نمبر۱۳ کی آیات محولہ بالا سے بھی یہ استدلال درست نہیں کیاگیا کہ آنحضرتa کے بعد غیرشریعت والی وحی ہوسکتی ہے۔ کیونکہ اوّل تو آیات اس زمانہ اور ان حالات سے تعلق رکھتی ہیں جو نزول قرآن کے وقت موجود تھے اور ان میں ان لوگوں کو خطاب ہے جو عبادت الٰہی سے ناآشنا اور غافل ہوں اور اب رسول اﷲa کی تعلیم کے بعد کسی ادنیٰ سے ادنیٰ مسلمان کا بھی یہ عقیدہ نہیں ہوسکتا کہ خداتعالیٰ سمیع، بصیر اور علیم نہیں۔ باقی رہا اس کا آدمیوں سے کلام کرنا وہ اس کی مشیت پر منحصر ہے۔ اسے کسی کی آہ وبکا، فریاد فغاں سے کلام کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ دنیاوی عاشق ومعشوق کی مثال عشق الٰہی پر نہایت ہی نازیبا طریق پر عائد کی گئی۔ تاہم اس مثال کو بھی اگر مدنظر رکھا جاوے تو رسول اﷲa کی تعلیم ایسی ناقص نہیں کہ عاشقان الٰہی اگر فی الحقیقت وہ پورے معنوں میں عاشقان الٰہی بن چکے ہیں۔ خداوند تعالیٰ کے دروازہ سے نا امید ہوکر لوٹیں۔ یا نعوذ باﷲ 2206یہ تصور کریں کہ ان کا محبوب مرچکا یا انہیں دھوکا دیا گیا۔ دنیاوی معشوق بھی اگر اپنے عاشق کی آہ وبکا سن کر اندر سے اسے کوئی تحفہ بھیج دے یا اس کی بات کو سن کر اس کا کوئی کام سرانجام کر دے تو باوجود اس کے کہ وہ اس سے ہم کلام نہ ہو یا اپنا دیدار نہ کرائے۔ اس کا عاشق ضرور سمجھ لے گا کہ اس کا معشوق زندہ ہے اور اس سے محبت کرتا ہے۔ دنیا میں عاشقان الٰہی کی تعداد حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد آج تک کوئی تھوڑی نہیں سمجھی جاسکتی اور ویسے تو ایسے عشاق نہ صرف مذہب اسلام میں بلکہ ہر مذہب میں سینکڑوں کی تعداد میں پائے جائیں گے۔ اگر اﷲتعالیٰ کے ہم کلام ہونے کا ذریعہ اس کے عشاق کے دل کی تڑپ ہی قرار دی جاوے تو ضرور ہے کہ اﷲتعالیٰ نے اس عرصہ میں ہر ایک عاشق سے نہ سہی سوویں ہزارویں سے سہی۔ دس پندرہ بیس سال کے بعد نہ سہی، سو ہزار سال کے بعد سہی کسی نہ کسی ایک سے تو ہم کلامی فرمائی ہوتی؟ نہ یہ کہ تیرہ سو سال تک یک دم خاموشی اختیار کئے رکھنے کے بعد صرف ایک شخص سے ہم کلام ہونا منظور فرمایا گیا اور وہ بھی زیادہ تر پرانی تیرہ سو سال والی زبان میں گویا اب اس کے پاس الفاظ اور معانی کا ذخیرہ ختم ہوچکا ہے۔ اگر نعوذ باﷲ خدا کے پاس ہم کلامی کے لئے نہ کوئی اور نیا مواد ہے اور نہ نئے الفاظ۔ تو پھر بیچارے مولویوں کا کیا قصور ہے کہ انہیں پرانی لکیر کا فقیر قرار دیا جاکر کوسا جاتا ہے۔ کیونکہ انہوں نے خدا کے اس پرانے کلام کی تعبیر وہی کرنی ہے جو پہلے سے ہوتی آئی ہے۔
    اگر عشاق کی تسلی محض گفتگو سے ہوتی اور وجود باری تعالیٰ کے علم کا ذریعہ بھی یہی ہوتا کہ جب کبھی اس کا کوئی عاشق بیقراری کی حالت میں آہ وبکا کرتا ہوا اس کے دروازہ پر پہنچے تو اسی کے لئے فوراً دروازہ کھل جائے۔ تو اسلام صفحۂ ہستی سے کبھی کانابود ہوچکا ہوتا۔ کیونکہ تیرہ سو سال کا زمانہ ایسا نہیں کہ عشاق نعوذ باﷲ خداوند تعالیٰ کی اس بے اعتنائی کو دیکھ کر اس کے دروازہ پر پڑے رہتے۔ بلکہ بقول گواہ مدعا علیہ عرصہ سے ناامید ہوکر لوٹ چکے ہوتے اور پھر اس کی کیا گارنٹی ہے کہ اﷲتعالیٰ صرف ان عشاق سے ہی گفتگو کرتا ہے کہ جو مذہب اسلام سے تعلق رکھتے ہوں اور دوسرے سے نہیں کرتا۔ علاوہ ازیں عشاق کی تسلی محض گفتگو سے نہیں ہوا کرتی۔ بلکہ 2207جیسا کہ مدعا علیہ کے گواہ نے بھی ظاہر کیا ہے۔ دیدار یاران کا مطمع نظر ہوتا ہے۔ اس لئے ممکن ہے کہ عشاق جب گفتگوئے یار سے بہرہ اندوز ہوں تو پھرکبھی اپنے عشق کی مستی میں قوم موسیٰ کی طرح ’’ارنا اﷲ جہرۃ‘‘ کی رٹ لگانی شروع کر دیں اور بجائے اس کے کہ دیداریار سے لذت اندوز ہوں۔ اپنا بیڑہ بھی غرق کر بیٹھیں۔ شک نہیں کہ حقیقی عشاق کے دلوں میں ضرور اپنے محبوب کے متعلق ایک تڑپ ہوتی ہے۔ اس تڑپ کے فرو کرنے کا علاج یہ نہیں کہ محبوب سے ضرور ہم کلامی ہو۔ ’’باری عزاسمہ‘‘ نے اپنے عشاق کی تڑپ فرو کرنے کا علاج خود ہی اپنے زندہ کلام قرآن پاک میں یہ فرمایا ہے۔ ’’الا بذکر اﷲ تطمئن القلوب‘‘ یعنی خدا کی یاد سے دل مطمئن ہوتے ہیں اور زیادہ اضطراب پیدا ہونے کی صورت میں فرمایا۔ ’’واذا سالک عبادی عنی فانی قریب… الخ!‘‘
    گواہ مدعا علیہ نے اس آیت کو بقاء وحی پر دلیل پکڑا ہے۔ لیکن وحی سے مراد اگر اس قسم کی استجابت لی جاوے جو اس آیت میں مذکور ہے۔ تو پھر خداوند تعالیٰ کا ہر فرد بشر کے ساتھ کلام کرنا ممکن ہوسکتا ہے اور ہر شخص محل وحی بھی بن سکتا ہے۔ اس قسم کے استدلال اختیار کرنے سے مذہب کی کوئی عظمت ووقعت ظاہر نہیں ہوسکتی اور نہ اس کی کوئی حقیقت منکشف کی جاسکتی ہے۔ گواہ مدعا علیہ نے بیان کیا ہے کہ خدا کا کلام نہ کرنا غضب اور ناراضگی کی علامت ہے تو کیا اس سے سمجھا جائے گا کہ جن لوگوں سے پہلے خداوند تعالیٰ نے کلام نہیں کی۔ کیا ان سب پر خداوند تعالیٰ ناراض رہا ہے اور وہ مورد عتاب الٰہی ہیں۔ استغفراﷲ!
    • Like Like x 1

اس صفحے کی تشہیر